Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • لوگوں کے ایمان ،عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلےاپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے،مولانا طاہر اشرفی

    لوگوں کے ایمان ،عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلےاپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے،مولانا طاہر اشرفی

    مولانا طاہر اشرفی نے اپ نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ خدا کے لئے لوگوں کے ایمان اور عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلے أپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے-

    باغی ٹی وی : مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ محترم اوریا مقبول جان صاحب نے جو واقعہ بیان کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ جنرل باجوہ کے حق میں بیان کیا جا رہا تھا اور آج جب ان کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے آج بھی غلط ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر چوتھا شخص کہتا ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے مجھے یقین ہے کہ جب کسی مسلمان کو نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے تو اس کی دنیا بھی بدل جاتی ہے اس کی آخرت بھی سنور جاتی ہے وہ چوکوں چوراہوں میں ڈھنڈورا نہیں پیٹتا کی اسے نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ہے پھر کیا جو شخص کہہ رہا ہے کہ اس نے نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اسے کیا ہے پتہ نبی پاک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبصورتی کتنی ہے ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ کیسا ہے ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور کیسا ہے –

    انہوں نے کہا کہ مجھے بہت دکھ ہوا افسوس ہوا میں یہ بات کہنا چاہتاہوں ممکن ہے وزارت خارجہ یا دوسرے طاقتور دوست شاید نہیں برا بھی لگے وہ ناراض ہوں لیکن جب کوئی چیز حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے سامنے آ جائے اس کو واضح کرنا چاہیئے آج سے ڈیڑھ دوسال پہلے کی بات ہے جب بہت پریشر پاکستان کی طرف آ رہا تھا کہ پاکستان میں نامورسالت اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عقیدہ ختم نبوت اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے قوانین کو تبدیل کیا جائے تو پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جنہوں نے یہ بات کہ تھی کہ ہمارے جی ایس پی پلس میں 6 ارب ڈالر کا معاملہ ہے اور باقی بھی تجارت و اقتصادی معاملات ہیں اگر ہماری 600 ارب ڈالر کا بھی معاملہ ہو تو ہم کسی قسم کا کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں اس شخص کو جو ڈنکے کی چوٹ کے اوپر دنیا کویہ کہتا ہو اسے توہین رسالت اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتکب قرار دینا وہ بھی صرف اس بنا پر کہ اس نے کسی سیاسی حکومت کی حمایت نہیں کی یا اسے حکومت میں کھڑا رکھنے کے لئے ساتھ نہیں دیا –

    مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جب وہ آپ کی منشا کے مطابق چل رہے تھے یا آپ کی خواہشات کے مطابق تھے اس وقت یہی خواب ان کے حق میں بیان ہو رہا تھا آج ان کے خلاف بیان ہو رہا ہے خدا کا خوف کریں کیا کر رہے ہیں ؟ کیا پاکستان کی سیاست کی جو احوال ہیں اس میں رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذاللہ کسی کے حق یا مخالفت میں آکر کہیں گے کہ اس کا ساتھ دو اس کا نا ساتھ دو کیا خان صاحب کی حکومت خلافت راشدہ کا دور تھا کیا اس وقت کرپشن نہیں تھا غلط بیانی نہیں تھی جھوٹ نہیں تھا رشوت خوری نہیں تھی سود نہیں تھا اور آج یہ سارا کچھ آ گیا ہے-

    مولانا طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ پسندا ور ناپسند پر بالکل حق حاصل ہے کہ پنی پسند اور ناپسند آپ بالکل کریں لیکن اس کونبی پاک اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب نہ کریں یہ پاک فوج ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ والی فوج ہے اس کا سپہ سالارکلمہ طیبہ پر قائم وطن کا سپہ سالار ہے اور پھر میں‌ذاتی طور پر کچھ چیزیں جانتا ہوں بیان نہیں کر سکتا لیکن کہہ سکتا ہوں جنرل قمر جاوید باجوہ کا نبی پاک اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق ہے محبت ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہے ہمیں تو یہ حق حاصل نہیں ہے ہم ایک پیمانہ پکڑ کر دیکھیں کہ کسے رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنا عشق کتنا پیار تھا –

    انہوں نےآخر میں مولانا اشرف علی تھانوی کا واقعہ بیان کیا کہ جب ان کو آکر بتایا گیا کہ مولانا احمد رضا خان انتقال کر گئے ہیں تو انہوں کہا فاتحہ پڑھیں کسی نے کہا کہ وہ تو ہمیں گستاخ رسول کہتے تھے جس پرمولانا اشرف علی تھانوی نے کہا کہ ممکن ہے ان کے عشق رسول کی انتہا یہ ہو کہ ہم ان کو گستاخ رسول لگتے ہں وہ محبت رسول میں بے انتہا رکھتے ہوں –

    مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ خدا کے لئے لوگوں کے ایمان اور عقیدے اور محبت رسول اللہ کے فیصلے أپنی سیاسی پسند نا پسند کی بنیا دپر نہ کیجیئے-

  • سعودی عرب کیجانب سےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے کنگ عبدالعزیز کا اعزاز

    سعودی عرب کیجانب سےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے کنگ عبدالعزیز کا اعزاز

    جدہ : سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کنگ عبدالعزیز میڈیل سے نوازا-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا جو مملکت کے بانی کے نام پر ہے۔

    پاکستان ایمازون پرتیزی سے ابھرتی مارکیٹوں کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آگیا


    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان کے حکم پر سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مضبوط اور ترقی دینے میں جنرل باجوہ کی نمایاں کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا۔

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور پاکستان کے آرمی چیف نے ملاقات بھی کی جس میں دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فوجی شعبوں اور ان کو ترقی دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی اس کے علاوہ انہوں نے مشترکہ دلچسپی کے کئی مسائل پر بھی بات کی۔

    تقریب میں سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی اور دونوں اطراف کے کئی سینئر حکام موجود تھے۔

    دوسری جانب پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آج جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، سعودی عرب کے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع اور جنرل فیاض بن حمید الرویلی، چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) سعودی مسلح افواج سے ملاقات کی۔

    ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ دفاعی و سیکورٹی تعاون اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سی او اے ایس نے کہا کہ پاکستان مملکت کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسلامی دنیا میں اپنے منفرد مقام کو تسلیم کرتا ہے۔

    دونوں فریقوں نے مشترکہ تربیت، فضائی دفاع، انسداد دہشت گردی اور مواصلات/انفارمیشن ڈومین کے شعبوں میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دوستانہ تعلقات اور بھائی چارے کے گہرے جذبے کو پائیدار اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا، جو خطے میں مسلم امہ کے اتحاد کے حوالے سے اہم ذمہ داری کے حامل اہم کھلاڑی ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ سمیت پرویز مشرف کی عیادت

  • پاکستان ایمازون پرتیزی سے ابھرتی مارکیٹوں کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آگیا

    پاکستان ایمازون پرتیزی سے ابھرتی مارکیٹوں کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آگیا

    آن لائن مارکیٹنگ کے عالمی پلیٹ فارم ایمازون کی جانب سے سیلرز لسٹ میں شامل ہونے کے بعد ایک سال کے اندر اندر پاکستان ایمازون کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی رینکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرچکا ہے۔

    ای کامرس انٹیلی جنس فرم مارکیٹ پلیس پَلس کے مطابق 2022 کے آغاز میں ایمازون کی مارکیٹ پلیس میں شامل ہونےکے بعد سے ہزاروں پاکستانی کاروباریوں نے ایمازون جوائن کرلیا ہے۔

    فروخت کنندگان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کاٹن ٹیکسٹائل کی پیداوار اور ملبوسات کی تیاری ملک کی دو بڑی صنعتوں کے ساتھ برآمدات میں 23 بلین ڈالر لائیں گے۔

    سابق پی ٹی آئی کی زیرقیادت حکومت نے 2019 میں پاکستان کی ای کامرس پالیسی کا اعلان کیا۔ 2020 میں، وفاقی وزارت تجارت نے، SAPM عبدالرزاق داؤد کی سربراہی میں، Amazon کے ساتھ بات چیت شروع کی۔ اس کے نتیجے میں ایمیزون نے 2021 میں پاکستان کو فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل کیا۔

    پاکستان دنیا کے سب سے بڑے ایمیزون بیچنے والے گروپوں کا گھر بھی ہے، ای کامرس از اینبلرز، ایکسٹریم کامرس از سنی علی، اور ای کامرس کامیابی پاکستان۔ یہ گروہ پاکستان کو فروخت کنندگان کی فہرست میں شامل ہونے کی اجازت سے بہت پہلے شروع ہوئے تھے۔

    اس پیشرفت کے ساتھ، ملک بھر کے کاروباری افراد اور چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنیاں اس پلیٹ فارم کی جانب سے پیش کردہ فوائد سے فائدہ اٹھائیں گی، جس سے پاکستان کی برآمدات میں تنوع آئے گا۔ اس سے آمدنی میں اضافہ ہوگا اور میکرو اکنامک آؤٹ لک بہتر ہوگا۔

    مارکیٹ پلیس پَلس کی جانب سے جاری کردہ ایمازون کی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی رینکنگ میں پاکستان کا شمار امریکا اور چین کے بعد تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔

    اسی فہرست میں پاکستان سے بڑی مارکیٹیں برطانیہ چوتھے،ترکی پانچویں، کینیڈا چھٹے اور بھارت کا شمار آٹھویں نمبر پر ہوتا ہے۔

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ سمیت پرویز مشرف کی عیادت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ سمیت پرویز مشرف کی عیادت

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ نے حال ہی میں دبئی میں بیمار سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کی عیادت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ دبئی گئے جہاں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل ر پرویز مشرف سے ملاقات کی.

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور پاک فوج کے اعلیٰ معالجین بھی تھے جبکہ سابق صدر سابق جنرل پرویز مشرف کے اہل خانہ نے بڑی خوشی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ کو خوش آمدید کہا۔

    ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ نے کچھ وقت پرویز مشرف اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کے اپارٹمنٹ میں گزارا جبکہ فوجی ڈاکٹروں نے سابق فوجی حکمران کا معائنہ کیا جنہیں 2018 میں متحدہ عرب امارات میں امائلائیڈوسسں نامی جان لیوا بیماری کی تشخیص ہوئی۔

    زرائع کے مطابق سابق آرمی چیف جنرل ر پرویز مشرف کے اہلخانہ نے ابھی تک انہیں پاکستان واپس لانے کا ذہن نہیں بنایا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں مذکورہ خاندان نے پاکستان میں مناسب علاج کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اس امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

    21 جون کو پرویز مشرف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اہلخانہ کی جانب سے لکھا گیا کہ اس وقت پاکستان میں پرویز مشرف کے لیے دستیاب طبی وسائل موجود نہیں ہیں۔ اہلخانہ نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی ہموار واپسی میں سہولت فراہم کرے گی۔

    جلاوطن پرویز مشرف نے اپنی باقی زندگی پاکستان میں گزارنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے قریبی ساتھیوں نے بعد میں “مقتدر حلقوں” اور سرکاری حکام سے باضابطہ درخواست کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔

  • مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نہ ملک کی قسمت تبدیل ہو گی نہ عمران خان کی الیکشن اگلے سال ہوں گے عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کئے اور پھر عمل نہیں کیا پاکستان اس وجہ سے بلیک لسٹ ہونے لگا تھا۔چین قطر سمیت سب نے امداد کو آئی ایم ایف سے مشروط کر دیا تھا

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو ترکی سے ہاتھ ملانا پڑ گیا حالانکہ جمال خشوگی کے قتل کا الزام تھا ۔ اب معیشت بہتر کرنے کے لیے دونوں مل رہے ہیں۔پاکستان کی حکومت کے لئے بھی مشکل فیصلہ تھا کہ یا مشکل فیصلے کریں یا ڈیفالٹ ہو جائیں اتحادیوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم نے شرائط ماننی ہیں اور دکھانا ہے کہ ذمہ دارانہ ملک ہیں۔ کل ڈالر کم ہوا آج سٹاک مارکیٹ کریش ہوئی جس کی وجہ کچھ اور ہے بتایا یہ جا رہا ہے کہ ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ فارن انویسٹرزجو ہیں جب ڈالر گرا ہے تو انہوں نکالنے کی کوشش کی اسکی وجہ سے بھی ایسا ہوتا ہے کچھ دنوں میں یہ سٹیبل ہو جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ دوبارہ نہیں کر سکے پہلا یہ مکمل نہیں کر سکے تھے، دوسرا اب کر نہیں سکتے، عمران خان نے آج ضمانت بھی کروا لی ہر وہ کام جس کا دعوٰی کرتے ہیں نہیں کروں گا اسکو کر رہا ہے عمران خان۔ اب حکومت پر پریشر کم ہو رہا ہے عمران خان کی سپورٹ بھی کم ہو رہی ہے ۔ عمران خان کے لیے اب کوئی باہر نہیں نکل رہا سب کو پتہ ہے کہ یہ خود بنی گالہ بیٹھا ہے بزدار لاہور سے دھرنے کے لیے نہیں گیا بندے لے کر نہیں گیا وسیم اکرم پلس کی پارٹی کے لوگ خود نہیں نکلے ۔ یہ لمحہ فکریہ ہے انکے لیے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عثمان بزدار کو مارنا کس نے ہے اسکی حیثیت کیا ہے وہ بے ضرر چیز ہے کرپشن کر سکتا ہے دبا کر کی۔ انکو سیکورٹی کیوں چاہئے کیا کیا ہے ان لوگوں نے ۔ ایسے بھی وزیراعلی رہے پنجاب کے جنہوں نے وزیراعلی ہوتے ہوئے سیکورٹی نہیں لی۔ جتنی کرپشن کی اب بزدار عدالت پہنچ گئے ہیں اگر وہ رکشہ پر بھی جائیں گے تو کوئی فون نمبر بھی نہیں پوچھے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی بھی لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں لیکن وہ اسکو جھوٹا سمجھتے ہیں وہ عمران خان ہے ساتھ نہیں نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ہیں۔ لوگ کہتے ہیں عمران کو ہٹانا ہے ہٹا دو ان میں سے کسی کو نہ بناو اب سیاسی نہ بنائیں تو کس کو بنائیں۔ ابھی تک عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ انکی حکومت نے کیا کیا ۔ کوئی کارکردگی تو بتائیں۔کچھ نہ کرتے تو کم از کم کرپشن تو نہ کرتے۔ نفرت کا بیانیہ پھیلایا یے عمران خان نے۔ ہیومن رائٹس کی وائلیشن کی۔ کرونا کا فائدہ ہوا تھا عمران خان کو ۔یہ دیوالیہ دو سال پہلے ہو جانا تھا کرونا کی وجہ سے بچت ہو گئی لون ری سٹرکچر ہو گئے حج اور عمرہ ڈھائی سال بند رہے 12 بلین ڈالر بچے ۔اوورسیز ٹریولنگ رک گئی تھی۔ کرونا میں اچھا کام ایکسپورٹ بڑھانا یہ کارکردگی کہ وجہ سے نہیں اور وجہ سے۔ کارکردگی تھی تو وزیر خزانہ۔چیئرمین ایف بی آئی سیکرٹری خزانہ کیوں بدل دیا عمران خان نے پونے چار سال میں کونسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عوام کے سامنے آئیں۔ اب جو باتیں کر رہے ہیں وہ بھی ان کی دیکھ لیں انکی ذات محدود ہے ۔ یہ عمران خان کا بیان ہے کہ اگر انکو حکومت میں لانا تھا ملک کو نیوکلیر بم مارنا تھا ۔ وہ کہتا ہے کہ میں نہیں تو کوئی نہیں وہ کسی کو اقتدار میں نہیں دیکھ سکتا ۔ ایک طرف اسمبلی سے استعفے دے رہے ہیں تو دوسری طرف ضمنی الیکشن لڑ رہے ہیں تنخواہیں کیوں لے رہے ہیں استعفے دے دئیے ہیں۔

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • تحریک انصاف  نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں خواجہ حارث نے نیب ترامیم کیخلاف آرٹیکل 184/3 کی درخواست تیار کی، تھریک انصاف میں دائر درخواست میں وفاق اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب قانون کے سیکشن 2،4،5، 6،25، 26 ،14،15، 21، 23 میں ترامیم آئین کے منافی ہیں،نیب قانون میں یہ ترامیم آئین آرٹیکل 9، 14، 19اے، 24، 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کا کالعدم قرار دیا جائے،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 21 جون کا کہا تھا کہ نیب ترامیم سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے 26سا ل پہلے کہا تھا جس ملک میں کرپشن ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا،نیب قوانین میں ہونے والی ترامیم بے شرمی سے کی گئیں، جب قانون نہ ہو تو ملک بنانا رپبلک بن جاتے ہیں،قانون اجتماعی ہوتا ہے کوئی اپنی ذاتی فائدہ کیلئے نہیں بنا سکتا،خرم دستگیر نے کہا عمران خان نے سب کو جیل میں ڈال دینا ہے امپورٹڈ حکومت عوام کے لیے اقتدارمیں نہیں آئی،امید ہے عدالت نیب ترامیم کا نوٹس لے گی،

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

  • پیسہ موجود تھا مگر پچھلی حکومت پروجیکٹ کو آگے نہ بڑھا سکی۔ چینی باشندہ

    پیسہ موجود تھا مگر پچھلی حکومت پروجیکٹ کو آگے نہ بڑھا سکی۔ چینی باشندہ

    گزشتہ روز بلوچستان دورہ پر وزیراعظم شہباز شریف کو ایک چینی باشندے نے بتایا کہ : پیسہ موجودہ تھا مگر پھر بھی پچھلی حکومت (تحریک انصاف) پروجیکٹ کو آگے نہ بڑھا سکی۔ اس پر وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے معزرت کرتے ہوئے کہا: یہ بہت بڑا ظلم ہے تو انہوں نے مزید بتایا: فیزبیلٹی تین سال پہلے احسن اقبال کے دور میں مکمل ہوچکی تھی. اس پر وزیراعظم نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ ہم اس کو مکمل کریں گے لیکن آپ اندازہ کریں کہ اس سے بڑی زیادتی اس قوم کے ساتھ اور کیا ہوسکتی ہے؟

    مسلم لیگ (ن)کے رہنماء جواد احمد نے پبلک نیوز کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا : پیسہ موجود تھا، فیزیبلیٹی تین سال پہلے مکمل ہوئی اور احسن اقبال نے اس پراجیکٹ کی بنیاد رکھی لیکن نیازی اور اُس کی نالائق ٹیم سی پیک کے اس اہم پراجیکٹ کو آگے نہ بڑھا سکی۔
    جواد مزید کہتے ہیں: نیازی کے ارسطو اسد عمر اور رزاق داؤد نے سی پیک ککو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
    https://twitter.com/AhmadJawadBTH/status/1540550913156325376
    معروف صحافی سلیم صافی نے چین باشندے کی گفتگوپر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا: چینی دوست کی زبانی سنئے کہ عمران خان نے سی پیک کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا اور اب یہ لوگ ڈرامہ رچا رہے ہیں کہ ان کی حکومت امریکہ نے ختم کی ہے۔
    سلیم صافی نے سوال اٹھایا کہ: سی پیک کا یہ حشر کرکے بھلا امریکہ کی اس سے بڑی خدمت کیا ہوسکتی ہے؟
    انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: افسوس ان لوگوں کی عقل پر ہےجو عمران خان کو امریکہ کا مخالف سمجھتے ہیں۔


    ‏چینی باشندے کی گفتگو پر تحریک انصاف کے ایک کارکن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "جس کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں سولہ ارب روپے آجاتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا:  نہ باپ کو پتہ کہ پیسہ کہاں سے اور کیسے آیا اور نہ ہی بیٹے کو کچھ علم لہذا اسے کتنا افسوس ہو رہا ہے کہ پیسے بھی موجود ہیں اور ہم نے ابھی تک ہڑپ نہیں کیۓ۔

    وہ لکھتے ہیں: کتنے افسوس کی بات ہے، اس سے بڑی زیادتی اس قوم کے ساتھ کیا ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج،وطن کیلئے ارض حرمین سے ایک اور اعزازو فخر لیں گے، طاہر اشرفی

    پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج،وطن کیلئے ارض حرمین سے ایک اور اعزازو فخر لیں گے، طاہر اشرفی

    پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج،وطن کیلئے ارض حرمین سے ایک اور اعزازو فخر لیں گے، طاہر اشرفی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب پہنچے ہیں

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شاء اللہ آج پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج اور وطن کے لئے ارض حرمین شریفین سے ایک اور اعزاز و فخر لیں گے، ہمیں اپنے سپہ سالار اور سپاہ پر فخر ہے.

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت سعودی عرب کے انتہائی اہم دورے پر ہیں، دورے میں انکی سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوں گی، علامہ طاہر اشرفی جو سعودی حکمرانوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب سے ایک اور خوشخبری ملے گی،

    دوسری جانب عرب نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ تیل کی سہولت کو 3.6 بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے،اسلام آباد میں پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ موخر ادائیگیوں کی سہولت کو موجودہ 1.2 بلین ڈالر سے بڑھا کر 3.6 بلین ڈالر کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی معیشت بحران کا شکار ہے، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور 6 بلین ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام کو بحال کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے، ایسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

    قبل ازیں سعودی عرب سرمایہ کاروں کے ایک وفد نے بھی گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور اسلام آباد ،لاہور سمیت کئی شہروں میں پاکستانی صنعتکاروں سے ملاقاتیں کیں وفد میں خوردنی تیل، فوڈ پروسیسنگ، تجارت، تعمیراتی مواد، سیاحت و مہمان نوازی، مینوفیکچرنگ، طبی سامان و آلات ، فنٹیک، فارماسیوٹیکل اور انفراسٹرکچر سروسز سمیت دیگر شعبوں کے نمائندگان شامل تھے۔

    توہین مسجد نبوی،پی ٹی آئی کارکن کو سعودی عدالت نے سزا سنا دی

  • پاکستان کی مسلح افواج ہرخطرےسےنمٹنےکی صلاحیت رکھتی ہیں،شہباز شریف

    پاکستان کی مسلح افواج ہرخطرےسےنمٹنےکی صلاحیت رکھتی ہیں،شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بھی خصوصی شرکت کی-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہبازشریف نے تقریب سے خاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں شرکت باعث فخر ہے ،امیدہے دوست ممالک کےکیڈٹ اپنی افواج میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کریں گے،کمیشن حاصل کرنے والے کیڈیٹس اور شپ مین کے والدین مبارکباد کے مستحق ہیں ،خوشی ہےکہ آج کمشننگ پریڈمیں خواتین کیڈٹس بھی شامل ہیں-

    انہوں نے کہا کہ خواتین کی کمشننگ ملک کی دیگر خواتین کے لیے مشعل راہ ہوگی، پاکستان نیول اکیڈمی دوست ممالک کے کیڈ ٹس کو بہترین تربیت فراہم کر رہی ہے، ہماری افواج جیو اسٹریٹیجک ماحول میں قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیارہیں، تمام مسلح افواج کسی بھی ملک کی جانب سے جارحیت کا بھر پور جواب دینے کے لیے تیار ہیں-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنے والی ایک مضبوط فورس ہے،ملکی دفاع مضبوط بنانےپرقوم کومسلح افواج پرفخرہے،میری ٹائم بارڈرزکی حفاظت میں پاک بحریہ کااہم کردارہے،پاکستان بحریہ ملکی سمندری دفاع میں اہم کردار ادا کررہی ہے،ہمیں مضبوط بحریہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے،پرامن، بقائے باہمی اور ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات پر یقین رکھتے ہیں-

    وزیراعظم نے کہا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،قومی ترقی کےتمام منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنا ہے ،غلطی سے سبق سیکھ کر محنت اورلگن سے اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں،قائداعظم پاکستان کو دنیا کےلیے رول ماڈل کے طور پر چاہتے تھے،پر امن ماحول میں ہی ترقی کا حصول ممکن ہے،پاکستان کی مسلح افواج ہرخطرےسےنمٹنےکی صلاحیت رکھتی ہیں-

    شہباز شریف نے کہا کہ حکومت پاک بحریہ کو تمام ضروری وسائل مہیا کرے گی،پاک بحریہ کے دوست ممالک سے مشترکہ منصوبے اس کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنیں گے،وزیر اعظم نے کہا کہ میری ٹائم مفادات کے تحفظ کے لیے بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اولین ترجیح ہے-

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے ہیں کراچی آمد پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کا استقبال کیا وزیراعظم شہباز شریف اپنے ایک روزہ دورے میں اتحادی جماعت ایم کیو ایم کےوفد سے ملاقات کریں گے جب کہ ان سے (ن) لیگی رہنماؤں کی بھی ملاقات ہوگی وزیر اعظم شہباز شریف سابق صدر آصف زرداری سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت بھی کریں گے۔

  • آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی: مفتاح اسماعیل

    آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی: مفتاح اسماعیل

    لاہور:وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی شبہ نہیں آنیوالے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھے گی، حکومت ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے کوشاں ہے، مشکل وقت میں امیر طبقے پر ٹیکس لگایا گیا ہے، سپر ٹیکس کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، چار سے پانچ ماہ میں حالات بہتر ہوجائیں گے،اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ بھی وقتی ہے، اسی ماہ انڈیکس اوپر جائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد چیزیں بہترہوجائیں گی۔

    ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایگری کلچر انکم پر ٹیکس ہونا چاہیے، پٹرول، ڈیزل پر ایک روپیہ ٹیکس نہیں لے رہے، 120 ارب روپے پٹرول پر نقصان ہو رہا تھا، چند مخصوص کمپنیوں نے پچھلے سالوں میں بہت پیسے کمائے، کار، سگریٹ انڈسٹریز نے بہت پیسہ کمایا ہے، جیولرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، ہم اپنے ٹیکس نیٹ کو بڑھائیں گے، بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے، ہم نے امیر طبقے پر ٹیکس لگایا ہے۔

    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ریٹیلرز کو فکس ٹیکس پر لائیں گے، کیپسٹی کے حساب سے فکس ٹیکس لگائیں گے، دکاندار کو فارم بھرتے ہوئے بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، فکس ٹیکس سے دکانداروں کو آسانی ہوگی، اگر حقیقی خودمختاری چاہتے ہیں تو ہر جگہ جھولی پھیلانے کے بجائے اپنے لوگوں سے ٹیکس لینا چاہیے، پاکستان کے لاکھوں لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں، شہباز شریف کے بیٹوں اور میری فیکٹری کا بھی ٹیکس بڑھا ہے، مشکل وقت ہے ہم نے امیر طبقے پر ٹیکس لگایا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگلے دو، تین ماہ میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، ہم نے انکم پر ٹیکس لگایا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیں، چار سے پانچ ماہ تک حالات بہتر ہوجائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف اور میرے اپنے کاروبار پرٹیکس لگا ہے، فیکٹریز کو گیس کی فراہمی 24 گھنٹے یقینی بنائیں گے، ہماری ترجیح ایکسپورٹ بڑھانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج چین نے 3۔2 ارب ڈالر دیئے ہیں، جولائی کے آخر تک کرنسی پر پریشر ختم ہوجائے گا، آج اسٹاک مارکیٹ گری ہے، یہ وقتی ہے، اسی ماہ کے اندر اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی، سپر ٹیکس لگانے کے علاوہ چارہ نہیں تھا، آئی ایم ایف معاہدے کے بعد چیزیں بہتر ہوجائیں گی، مشکل فیصلوں سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے، ایک سال کے لیے صاحب ثروت لوگوں کو قربانی دینا ہوگی۔

    یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے آج بڑی صنعتوں پر دس فیصد کے حساب سے ’سپر ٹیکس‘ لگانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس اقدام سے اکٹھے ہونے والے پیسوں کو ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    مہنگائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے جو برداشت سے باہر ہوگا،بابر اعوان

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’سپر ٹیکس‘ کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپر ٹیکس چار فیصد کے حساب سے تمام شعبوں پر لگے گا جبکہ 13 صنعتی شعبوں پر چھ فیصد کے حساب سے اضافہ کر کے ان سے دس فیصد کی شرح سے یہ سپر ٹیکس وصول کیا جائے گا جس کے بعد ان پر ٹیکس وصولی کی شرح 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائے گی۔‘

    سپر ٹیکس کیا ہے؟
    حکومت کی جانب سے بڑے صعنتی شعبوں پر سپر ٹیکس لگانے کے اعلان کے بعد یہ سوالات اٹھنے شروع ہوگئے کہ کیا ہے یہ ہی کہا جارہا ہے کہ ’سپر ٹیکس لگ سکتا ہے تاہم ٹیکس لگاتے ہوئے اس کا مقصد بیان نہیں کیا جاتا۔‘

    مہنگائی،غربت اور بیروزگاری،محنت کش بھوک مٹانےتھانہ پہنچ گیا،حوالات رہنے پر اصرار

    ’اس سپر ٹیکس کو لگاتے ہوئے حکومت نے اس کا مقصد بیان کر دیا ہے کہ اس سے اکٹھے ہونے والے پیسے کو غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جو غلط ہے۔‘جب کسی ٹیکس کو لگانے کا مقصد بیان کر دیا جائے تو وہ لیوی ہوتی ہے اور اس کی منظوری پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے حاصل کی جاتی ہے۔‘

    وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے دس فیصد کی شرح سے سپر ٹیکس 13 صعنتی شعبوں پر لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ان شعبوں میں سیمنٹ، بینکنگ، ایوی ایشن انڈسٹری، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، شوگر، بیوریج، سٹیل، تیل و گیس، فرٹیلائزر، سگریٹ، کیمیکل کے شعبے کی انڈسٹریاں شامل ہیں جنھیں دس فیصد کے حساب سے یہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

    پاکستان میں ان شعبوں کے علاوہ دوسرے صعنتی شعبے چار فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور درج بالا پر چار فیصد شرح میں چھ فیصد کی شرح سے اضافہ کر کے ان پر سپر ٹیکس کی صورت میں دس فیصد ٹیکس کی شرح کر دی گئی ہے۔

    پاکستان فیڈریشن آف چمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کے قائم مقام صدر شبیر منشا نے سپر ٹیکس کے فیصلے کو صنعتی شعبے کے لیے ’تباہ کن‘ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ سپر ٹیکس کی زد میں آنے والے شعبوں کی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس لگنے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ جمعے کے روز کریش کر گئی کیونکہ ان کمپنیوں میں سے بڑی تعداد سٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ ہیں۔

    آئیں ہم سب ملکرمہنگائی کے خلاف مارچ کریں:عثمان ڈارکی بلاول اورمریم کودعوت