Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • نورولی محسود کا دست راست ،ٹی ٹی پی کا نائب امیر قاری امجد جہنم واصل

    نورولی محسود کا دست راست ،ٹی ٹی پی کا نائب امیر قاری امجد جہنم واصل

    باجوڑ: پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب ایک انتہائی اہم اور خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP/FAK) کے نائب امیر قاری امجد عرف مفتی حضرت / مفتی مزاحم کو ہلاک کر دیا۔

    قاری امجد تنظیمی لحاظ سے نائب امیر اور نمبر 2 حیثیت رکھتا تھا اور مفتی نور ولی محسود کے براہِ راست ماتحت تھا۔ وہ پاکستان کے شمالی اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا مرکزی منصوبہ ساز اور عملی رہنما سمجھا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب باجوڑ کے علاقے میں ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی۔دہشت گردوں کے گروہ کی نقل و حرکت کو بروقت ٹریک کیا گیا اور نشاندہی کے بعد فورسز نے انتہائی مہارت اور درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے قاری امجد سمیت اس کے تین ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔

    یہ کارروائی پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

    قاری امجد کون تھا؟
    قاری امجد، جسے مفتی حضرت یا مفتی مزاحم کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی شورٰی کا مرکزی رکن اور نائب امیر تھا۔امریکہ نے اسے 2022 میں “خصوصی عالمی دہشت گرد” (Specially Designated Global Terrorist) قرار دیا تھا، کیونکہ وہ پاکستان کے اندر کئی دہشت گرد حملوں کا منصوبہ ساز اور نگران تھا۔وہ دھماکہ خیز مواد، ڈرون (کواڈ کاپٹر) ٹیموں اور خودکش بمباروں کی تربیت براہِ راست دیکھتا تھا۔ قاری امجد نے دہشت گردی کے نئے ہتھکنڈے متعارف کرائے، جن میں ڈرون کے ذریعے سرحدی چوکیوں پر بم گرانا شامل تھا۔

    دہشت گردانہ سرگرمیاں
    خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا میں متعدد خودکش دھماکوں اور آئی ای ڈی حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔لڑکیوں کے اسکولوں کی تباہی اس کے نظریاتی شدت پسندی کی علامت بن گئی تھی۔سرحدی علاقوں میں ڈرون کے ذریعے بم حملے کرنے والی ٹیموں کی قیادت کرتا تھا۔پاکستانی سیکیورٹی قافلوں اور چوکیوں پر گھات لگا کر حملوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔نئی بھرتی شدہ دہشت گردوں کو دراندازی، بارودی سرنگوں کے استعمال اور گھات لگا کر حملے کرنے کی تربیت دیتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق، قاری امجد دو ہفتے قبل مفتی نور ولی محسود کے براہِ راست احکامات پر باجوڑ پہنچا تھا، جہاں اس کی سرگرمیوں پر پاکستانی انٹیلی جنس ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ بالآخر اسے ایک ٹارگٹڈ آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا۔

    قاری امجد کی ہلاکت کو سیکیورٹی ماہرین ایک فیصلہ کن کامیابی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس کی ہلاکت سے TTP کی کمانڈ اینڈ کنٹرول چین کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ باجوڑ، سوات اور شمالی وزیرستان کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری کا نظام متاثر ہوا ہے۔ پاکستان کے خفیہ اداروں کے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور پیشگی کارروائیوں کے سلسلے میں یہ ایک نمایاں کامیابی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی “زیرو ٹالرینس” پالیسی کی واضح عکاسی کرتا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت سے جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق “پاکستان کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دی جائے گی۔ قومی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ بننے والے تمام عناصر کا انجام ایک ہی ہے ، مکمل خاتمہ۔”

    قاری امجد کی ہلاکت نہ صرف TTP کی اعلیٰ قیادت کے لیے بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ پاکستان کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھی واضح ثبوت ہے۔ماہرین کے مطابق، اس کارروائی کے بعد TTP کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران میں اضافہ متوقع ہے۔

  • سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام ،انتہائی مطلوب کمانڈر امجد سمیت چار جہنم واصل

    سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام ،انتہائی مطلوب کمانڈر امجد سمیت چار جہنم واصل

    29/30 اکتوبر 2025 کی شب، پاک افغان سرحد کے قریب ایک مسلح گروہ کی حرکت سیکورٹی فورسز نے محسوس کر کے بروقت کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دراندازی کی کوشش کو موثر طریقے سے ناکام بنایا گیا اور چار خوارج مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں اس گروہ کا اہم کمانڈر امجد عرف مزاہم بھی شامل ہے جو ‘فِتْنَہِ الخوارج’ کے رہبَرِی شُورَا کا سرِ فہرست رُکن بتایا جاتا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے حساس انٹیلی جنس پر مبنی معلومات کی بنیاد پر علاقے میں چوکیوں اور کمینوں کا اہتمام کیا ہوا تھا، جس کے باعث خوارج کی دراندازی کی کوشش کو بروقت نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی عین نشانے بازی اور پروفیشنل انداز میں انجام پائی جس سے حملہ آوروں کے ٹھکانے تباہ ہوئے اور چار دہشت گرد مارے گئے۔

    مارے جانے والے کمانڈرز میں ‘کمانڈر امجد’ بھی شامل ہے جو مقامی سیکیورٹی اداروں کے لحاظ سے ہائی ویلیو ٹارگٹ تھا۔ امجد کو فِتْنَہ الخوارج کا نائب اور نور ولی کا دستِ راست بتایا جاتا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس پر پانچ ملین پاکستانی روپے کا سرِ انعام مقرر کیا ہوا تھا، کیونکہ وہ طویل عرصے سے افغان سرزمین میں مقیم رہ کر پاکستان کے اندر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور حمایت میں ملوث رہا۔

    فِتْنَہ الخوارج کی قیادت جو افغانستان میں بسر کر رہی ہے، وہ سرحدی دراندازیوں کا منصوبہ بندی کر کے اپنے خوارج کی حوصلہ افزائی اور بااثر دکھانے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر اس سے پہلے کی سیکورٹی آپریشنز کی وجہ سے ان کے مورال میں کمی آئی تھی۔ بیان میں عبوری افغانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر ایسی تنظیموں کے ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے تا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی سازشیں رکی جائیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بقیہ خوارج کو ہٹایا جا سکے۔ اس حوالہ سے حکومت اور فورسز نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ "عزمِ استحکام” کے تحت وفاقی اپیکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کے منظور کردہ وژن کے مطابق برمحل اور مستقل کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے خاتمہ کو ممکن بنایا جا سکے۔

    حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک سیکیورٹی فورسز اپنے سرحدی دفاع کے عزم میں ثابت قدم ہیں اور قومی حدود کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ سیکیورٹی ذرائع نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ بھی مقامی فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھیں اور مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • ترکیہ کی خواہش،پاکستان افغانستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات پر رضامند

    ترکیہ کی خواہش،پاکستان افغانستان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات پر رضامند

    استنبول: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی۔

    ذرائع کے مطابق افغانستان سے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے پر پاکستانی وفد نے آج واپس آنا تھا تاہم ترکیہ کے حکام نے پاکستانی وفد سے رکنے کی درخواست کی تھی جس پر پاکستانی وفد استنبول میں ہی موجود تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان حکام نے بھی مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سطح پر رابطے کیے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ بحال ہورہے ہیں،ذرائع کے مطابق ترکیہ چاہتا ہے کہ اس کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں،ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وفد جو واپس روانہ ہونے والا تھا وہ اب استنبول میں مزید قیام کرے گا اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ جاری رکھ کر امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات پاکستان کے اُسی مرکزی مطالبے پرہوں گے کہ افغانستان دہشتگردوں کے خلاف واضح،قابلِ تصدیق اور مؤثر کاروائی کرے،ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہےکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو،ذرائع نے مزید بتایا کہ افغانستان سے مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد میں وہی حکام شریک ہوں گے جو پہلے مذاکرات میں شامل رہے۔

    واضح رہےکہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں،19 اکتوبر کو قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر میں توسیع بھی کی گئی۔

  • بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 18 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 18 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 18 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقعات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 28 اور 29 اکتوبر کو بلوچستان میں 2 الگ الگ کارروائیوں میں 18 دہشتگرد ہلاک ہوئے، کوئٹہ کے علاقے چلتن میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیاگیا جس دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سرپرستی یافتہ 14 دہشتگرد ہلاک ہوئے، ایک اورانٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیچ کے علاقے بلیدہ میں کیا گیا جہاں دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کرتے ہوئے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا، مارے گئے دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد کیا گیا جب کہ دہشتگرد مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ کسی بھی بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد کو انجام تک پہنچانے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشنزجاری ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنےوالےادارے ’عزم استحکام‘ کے تحت انسدادِدہشتگردی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملک سے غیرملکی سرپرستی و حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

  • پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، ایڈمرل نوید اشرف

    پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، ایڈمرل نوید اشرف

    چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ علاقائی امن و استحکام اور بحری سلامتی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور سمندری سرحدوں کے ہر انچ کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    اسلام آباد میں نیول ہیڈ کوارٹرز میں پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت ایڈمرل نوید اشرف نے کی۔مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نیول چیف نے روایتی اور غیر روایتی بحری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جنگی تیاری برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فورم میں آپریشنل تیاریوں، جاری منصوبوں اور آئندہ سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جب کہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کی تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ میری ٹائم ایکسپو پاکستان کی بحری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس پاک بحریہ کا اعلیٰ سطحی فیصلہ ساز فورم ہے.

    کرم میں 7 مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک، کیپٹن نعمان سمیت 6 جوان شہید

    جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری، 100 سے زائد فلسطینی شہید

    نئی دہلی میں مصنوعی بارش کا تجربہ ناکام، کروڑ وں روپے ضائع

  • کرم میں  7 مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک، کیپٹن نعمان سمیت 6 جوان شہید

    کرم میں 7 مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک، کیپٹن نعمان سمیت 6 جوان شہید

    سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں فتنہ الخوارج کے مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشتگرد ہلاک کر دیے، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن نعمان سلیم سمیت 6 جوان شہید ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ یہ آپریشن خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کیا گیا اور فورسز نے مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 7 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران دشمن فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن نعمان سلیم اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ جام شہادت نوش کر گئے۔ شہید ہونے والے دیگر جوانوں میں حوالدار امجد علی، نائیک وقاص احمد، سپاہی اعجاز علی، سپاہی محمد ولید اور سپاہی محمد شہباز شامل ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں مزید کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد کو ہلاک کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے تحت وژنِ "عزمِ استحکام” کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرونی مدد یافتہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی مہم تیز رفتار طریقے سے جاری رکھیں گے

    جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری، 100 سے زائد فلسطینی شہید

    نئی دہلی میں مصنوعی بارش کا تجربہ ناکام، کروڑ وں روپے ضائع

    حیدرآباد میں ڈینگی کے مزید 201 کیسز، اموات میں اضافہ

  • بھارت کی ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ، نیلم میں بلا اشتعال فائرنگ

    بھارت کی ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ، نیلم میں بلا اشتعال فائرنگ

    لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی جانب سے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارتی فوج نے جورا سیکٹر، وادیٔ نیلم کے علاقے میں بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے رات گئے جورا سیکٹر میں اچانک فائرنگ شروع کی، جس میں مارٹر گولوں اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کیا گیا۔ بھارتی گولہ باری کا ہدف مقامی آبادی اور رہائشی مکانات تھے، تاہم پاک فوج کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کی اشتعال انگیزی کا جواب انتہائی پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کے ساتھ دیا، جس کے نتیجے میں بھارتی چوکیوں پر خاموشی طاری ہو گئی اور دشمن کی توپیں بند ہو گئیں۔

    بھارت جانب سے بارہاسیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔پاکستان ہمیشہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔

  • منبر رسولؐ پر کھڑے ہوکر مارو جلا دوکی بات کرنا کیا درست عمل ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

    منبر رسولؐ پر کھڑے ہوکر مارو جلا دوکی بات کرنا کیا درست عمل ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اتحادبین المسلمین کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی درخواست پر تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے علماء و مشائخ کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے حکومت پنجاب کے اصولی موقف کی بھرپور حمایت کر دی۔ اس موقع پر علماء کرام اور مشائخ نے قیام امن کے لئے حکومت کی کاوشوں کی تائید کی۔اجلاس میں سیل ہونے والی مساجدکا انتظام تنظیم المدارس اہل سنت کے سپرد کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بے گناہ ثابت ہونے والے افراد کی فوری رہائی کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے حکام کوبے گناہ افراد کو خودباعزت طریقے سے گھر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ مذہبی علامات اور مقدس ناموں والے پوسٹرو بینرزکی تکریم برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔مساجد کے آئمہ کرام کیلئے 25ہزار ر وپے وظیفہ مقررکرنے پر اتفاق کیاگیا۔ اجلاس میں مساجد میں اذان اور خطبہ کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ علماء کرام سے رابطوں کے لئے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر کوفوکل پرسن مقرر کردیا گیا۔بریفنگ میں بتایاگیا کہ بے گناہ افراد کی رہائی کے لئے 15 پر رپورٹ کی جاسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے اجلاس سے فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی کریم ؐ کی سنت پر عمل کرنے والے نامور اور جید علماء کرام امت مسلمہ کا ضمیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ا حکامات اور نبی کریمؐ کی سنت کی روشنی میں رہنمائی کے لئے علماء کرام سے رجوع کیا جاتا ہے۔دین کا صحیح راستہ دکھا کر آسانی پیدا کرنے والے علماء ہمارا فخر ہیں۔ریاست، عوام اور ہم سب علماء کرام کو رہنما مانتے ہیں۔ اللہ اور نبی کریم ؐ کو ماننے والوں کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت کا احساس تکلیف دہ ہیں۔ خود جماعتوں کو نیچے دکھانے اور ضرر پہنچانے کے لئے شرپسند ٹولے تشکیل دیئے گئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ سوچنے کی بات ہے کہ ریاست کو ایکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ مذہبی جماعتوں میں نیک لوگ ہیں جو دین کا راستہ دکھاتے ہیں لیکن املاک کو نقصان پہنچانے اوربے گناہوں کی جان لینے والے کون ہیں؟۔ روزمرہ زندگی میں خلل نہ آنے دینا، عوام کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ر وزگار اور دیگر امور کے لئے آنے جانے والوں کا راستہ روکنا اور کاروبار زندگی معطل کرنا کیا درست ہے؟۔ شرپسند کفر اسلام کی جنگ بنا کر فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ رحمتہ ا للعالمینؐ کا نام لیکر حکم دینا پولیس والوں کو چھوڑنا نہیں یہ کیسا فعل ہے۔ سچے عاشقان رسولؐ نبی کریم کا نام سنیں تو فرط محبت سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ عشق رسولؐ کا دعوی کرنے والوں کے ہاتھ میں بندوق اورکیلوں والے ڈنڈے کس نے تھمائے۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر عوام اور املاک کی حفاظت کرنے والوں کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں توڑنے والے کون لوگ ہیں؟۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ منبر رسولؐ پر کھڑے ہوکر مارو جلا دوکی بات کرنا کیا درست عمل ہے؟۔ نبی کریمؐ نے تو راستے سے پتھر ہٹانے کا حکم دیا یہاں سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ عشق رسولؐ کا دعوی ہے لیکن عمل احکامات نبویؐ کے منافی ہوتے ہیں۔ نبی کریم ؐنے فرمایا کہ روزقیامت حق پر ہونے والے غیر مسلم کا خود وکیل بنوں گا۔ حرم پاک میں احرام کی حالت میں لبیک کی تکرار دل کو چھو لیتی ہے۔ علماء کرام سے ہاتھ جوڑ کر عوام کی درست سمت میں رہنمائی کی درخواست کرتی ہوں۔ غزہ کے لئے توانا آوازنہ بننے کا شکوہ خود سے بھی ہے۔ غزہ کے مسلمانوں پر روز قیامت گزرتی رہی، معاہدہ ہوا تو غزہ والوں نے خوشی منائی اور دنیا نے شکر ادا کیا۔ غزہ معاہدے پر فلسطینی خوشیاں منارہے تھے اور یہاں اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان ہورہا تھا۔ ایک بار بھی شرپسند جماعت والوں کی زبان سے فلسطین کی حمایت میں ایک لفظ تک نہیں سنا گیا۔ فلسطین کے حق کی بجائے پولیس والوں کو مارنے کے اعلان کیے جارہے تھے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ صفائی سنت ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی، صفائی کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ستھرا پنجاب کی گاڑیاں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے خریدی گئیں،جلانے سے کس کا نقصان ہوا۔ سفارتخانے پر چڑھائی کرنے کے لئے اعلانات کیے گئے۔ اپنے ملک میں سفارتی عملے کی حفاظت ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ مختلف واقعات ہوتے رہے لیکن میں نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔ غریب ریڑھی والے کو سلام نہ کرنے پر مارا گیا، ویڈیو دیکھ کر تکلیف ہوئی۔ مذہبی گھرانے سے تعلق ہے،عید میلاد النبیؐ پر ہمیشہ گھر کو سجایا جاتا ہے۔دادا کے دور میں گھرکے سامنے سے گزرنے والے جلوس پر پھول نچھاور اور مٹھائی تقسیم کی جاتی تھی۔لوگوں کو دین کی صحیح روح سے آگاہ کرنا علما کرام کا فرض ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جان و مال اور عزت آبرو اور املاک کی حفاظت ریاست کا فرض ہے۔ ریڈ کے دوران ایسا جدید اسلحہ برآمد ہوا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ریڈ میں برآمد ہونے والا اسلحہ ریاست کے خلاف اور پولیس والوں کے سینے پر چلانے کے لئے استعمال ہونا تھا۔ شہید ہونے والے انسپکٹر کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،قتل کی محض مذمت کافی نہیں۔ سچ کہنا چاہیے، درمیانی بات سے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں۔ وقت آگیا ہے فتنہ کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ فتنے سراٹھائے تو ملک و قوم کی تباہی شروع ہوجاتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جو سیاسی یا مذہبی جماعت ہتھیار اٹھاتی ہے تو سیاسی یا مذہبی جماعت نہیں رہتی۔ پی ٹی آئی کی سیاست سب برداشت کرتے رہے،ر یاست کے خلاف اسلحہ اٹھایا تو پکڑے گئے۔ مشکل وقت ہم نے بھی دیکھا مگر ہتھیار نہیں اٹھایا بلکہ صبر کیا۔ انڈیا نے حملہ کیا تو فوج نے مقابلہ کرکے شکست دی، اسی فوج پر حملہ کیا گیا۔ملک وقوم حساس دور سے گزررہے ہیں، علماء کرام کی مدد کی ضرورت ہے۔ قوم کی حفاظت کرتے ہوئے جان دینے والوں کے بچوں اور اہل خانہ کو کیا جوابدیں؟۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ محرم الحرام میں مجالس اور جلسوں کے دوران عرق گلاب کا چھڑکاؤ کیا گیا، سبیلیں اور لنگر پیش کیے گئے۔ عید میلاد النبیؐ پر ہر شہر اور گاؤں کو سجایا گیا، مٹھائی تقسیم کی گئی۔ کون شہید ہے کون ظالم فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے، اسلام کا سرٹیفکیٹ ہم نے جاری نہیں کرنے۔ قانون کا اطلاق مرد و خواتین پر برابر ہوتا ہے، کوئی تفریق نہیں۔2 دفعہ بے گناہی کی جیل کاٹ کر آئی۔ عورت کو ڈھال بنانا اورمسجد میں ہتھیار چھپانے والے کیسے مسلمان ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین ریڈ لائن ہیں کوئی بھی ظلم ہو تو قانون فوراً حرکت میں آتا ہے۔ گرین بسوں میں خواتین کے الگ کمپارٹمنٹ اور سی سی ٹی وی سے ہراسمنٹ کے واقعات میں کمی آئی۔ مخالف کی بیٹی کے ساتھ بھی ظلم نہیں چاہتی، چاہئے وہ میرا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ کسی بے گناہ کو اٹھا لیا گیا تو اسے عزت سے گھر چھوڑ کر آئیں۔ اگر کوئی جرم میں ملوث ہے تو اسے پکڑا جائے، چادر اور چار دیواری کا تقدس ضروری ہے۔ عوام کی خدمت، انصاف اور حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں۔ تصادم سے گریز کرنے کی پالیسی اپنائی۔ فتنہ وفساد روکنا ریاست کا فرض ہے ورنہ یہ آگ ہر گھر تک پہنچے گی۔ ڈیوٹی پر جانے والوں کی ہڈیاں توڑنے کے اعلان کا جواب کون دے گا۔ کروڑوں روپے اور ہتھیار برآمد ہوئے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔دین کا نام استعمال کرکے اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا کیا درست ہے؟

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اڈیالہ میں بیٹھا ہوا شخص 400، 600 لوگ جاں بحق ہونے کا ٹویٹ کرتا ہے۔دو سال سے جیل میں ہے پھر بھی فتنہ انگیزی سے باز نہیں آتا۔سینکڑوں لوگوں کے جاں بحق ہونے کا جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اگر سچ تھا تو لاشیں کہاں ہیں۔ ہزاروں زخمی ہوئے تو کن ہسپتالوں سے علاج کرایا گیا۔ زخمی اور قتل ہونے والے کی ویڈیو نہیں بنی بلکہ چھاپوں اوربرآمدگیوں کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ پولیس انسپکٹر کو شہید کیا گیا تو جنازہ پڑھا گیا سب نے دیکھا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اس نہج پر معاملات کو کیوں لایاگیا کہ والدین اولاد، بیویاں شوہر، اور بچے باپ سے محروم ہوگئے۔ اتنی بڑی تعداد برآمد ہونے والا اسلحہ دیکھ کر سب حیران تھے۔ اڈیالہ میں بیٹھے شخص کے دور میں مسجد میں گھس کر لوگوں کو مارا گیا۔ احسن اقبال صاحب کو گولی ماری گئی اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔سکیورٹی والوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر شرانگیز بیانات دیئے جارہے ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ علماء کرام فساد اور فتنے کو سپورٹ نہیں کرتے لیکن نام استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا یجنڈا مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ کا گھر عبادت اور تبلیغ دین کی بجائے دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ پولیس کے خلاف متحد ہونے اور تشدد کرنے کے بینرز آویزاں کیے جارہے ہیں۔ مسجد کا منبر اور مائیک اشتعال انگیزی کے لئے استعمال ہورہا ہے اس سے زیادہ مسجد کے تقدس کی پامالی کیا ہوگی۔ مساجد اور مدارس کو مفتی منیب الرحمان کے ادارے کے سپرد کیا جارہا ہے۔ امام مسجد سب سے معتبر شخص ہوتا ہے مگر غریب عوام سے چندہ لیکر تنخواہ دی جاتی ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 65ہزار مساجد کے آئمہ کے لئے وظیفہ مقرر کرہے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے آئمہ کرام کے لئے 15ہزار کی بجائے 25 ہزار وظیفہ مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت آئمہ کرام کی معاونت کریگی تاکہ عوام کے چندے پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ عام لوگ جھانسے میں آجاتے ہیں صحیح راستے پر لانے کی کوشش کرنا علماء کرام کا فرض ہے۔ اپیل کرتی ہوں کہ امن وامان کے قیام کی کوشش کے لئے علماء کرام حکومت کا دست وبازو بنیں۔ بے گناہ ثابت ہونے پر سینکڑوں لوگوں کو رہاکیا گیا۔

    تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے سربراہ مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات امن وسکون اور سلامتی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر اور خطبے پر پابندی نہیں لیکن قانون شکنی پر معین طریقے سے کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ شرپسندوں کو کسی صورت ریلیف نہیں ملنا چاہیے۔ روڈ بلاک اور املاک کو نقصان پر سخت ردعمل ضروری ہے، ہارڈ سٹیٹ کا تاثر دیئے بغیر معاملات نہیں چل سکتے۔

    صاحبزادہ اسد عبید نے کہا کہ پاکستان ہم نے بنایا حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، انتشار پسند آلہ کار بنے ہیں۔ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے شر سے محفوظ رکھے۔ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ مکار دشمن فکری یکجہتی کو پار ہ پارہ کرنے کی ناکام کوشش کررہا ہے، دامے، درمے سخنے حکومت کے ساتھ ہیں۔ سی سی ڈی مجرموں سے جس طرح نمٹ رہی ہے مائیں بہنیں اور بیٹیاں دعا ئیں دیتی ہیں۔صفائی کے لئے ستھرا پنجاب اور ٹرانسپورٹ کے لئے گرین بس بہترین پراجیکٹ ہیں۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت زبردست فائٹر  ہیں،ٹرمپ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت زبردست فائٹر ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ ماشل عاصم منیر کو زبردست فائٹر قرار دیا ہے۔

    جنوبی کوریا میں اپیک سی ای او سمٹ کے ظہرانے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہت اچھے آدمی ہیں جب کہ فیلڈ مارشل بہت زبردست فائٹر ہیں،امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت آپس میں لڑائی پر اتر آئے تھے اور جنگ میں 7 طیارے مار گرائے گئے، یہ بہت بڑی بات تھی کیونکہ یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں،ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ میں اپنے اثرو رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وزیراعظم مودی کو فون کرکے کہا آپ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کر سکتے، مودی سے کہا تم پاکستان کے ساتھ جنگ کر رہے ہو، ہم معاہدہ نہیں کریں گے، پاکستان کوبھی فون پرکہا کہ آپ کے ساتھ بھی تجارت نہیں کریں گےکیونکہ تم بھارت سےلڑ رہے ہو،دو دن میں دونوں ممالک نے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے اور لڑائی بند کر دی، کیا یہ حیرت انگیز نہیں کیا بائیڈن ایسا کرسکتے تھے ، مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ ہم نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا لیں۔

    ٹرمپ کے مطابق میں نے کہا اگر جنگ نہیں روکی تو پاکستان اور بھارت پر 250 فیصد ٹیکس لگا دوں گا، 250 فیصد ٹیکس کا مطلب ہے کہ تم کبھی کاروبار نہیں کر سکو گے، اس کے بعد صرف 48 گھنٹوں میں کوئی جنگ نہیں رہی،

  • بھارتی پروپیگنڈا مشینری  اپنی پراکسی فتنہ الخوارج کی سپورٹ میں کھل کر سامنے آ گئی

    بھارتی پروپیگنڈا مشینری اپنی پراکسی فتنہ الخوارج کی سپورٹ میں کھل کر سامنے آ گئی

    بھارتی پروپیگنڈا مشینری اپنی پراکسی فتنہ الخوارج کی سپورٹ میں کھل کر سامنے آ گئی

    بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس خطے میں عدم استحکام کیلئے دہشت گردوں کے زہریلے بیانیے کے فروغ میں مصروف ہیں،پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کیخلاف بھارتی اور افغان اکاؤنٹس کی جانب سے جھوٹ پھیلانے کی مذموم سازش کا پردہ چاک کر دیا گیا،ہندوستانی پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے میڈیاونگ "اوسینٹ ٹی وی” کا حوالہ دیتے ہوئے جھوٹا دعویٰ کیا،ہندوستانی پروپیگنڈا اکاؤنٹس نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ پاک فوج کے کچھ فوجیوں نے طالبان میں شمولیت اختیار کی،جھوٹے دعوے کے برعکس پاکستانی فوجیوں کی جانب سے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی کہیں رپورٹ ہوا

    فتنہ الخوارج کی سپورٹ میں ہندوستانی پروپیگنڈا اکاؤنٹس کا دعویٰ من گھڑت اور مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے ہے،پاکستان کیخلاف بھارتی اور افغان اکاؤنٹس سے منسلک پروپیگنڈا نیٹ ورکس نے منظم مہم چلانے کی کوشش کی ،بھارتی پروپیگنڈا مشینری تخریب کار مودی کی ایماء پر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے میں مصروف عمل ہے