Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں، کارروائیوں، اور حملوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک، جبکہ کئی شہری جاں بحق یا زخمی ہو گئے۔ مختلف علاقوں میں کارروائیاں اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔

    ٹانک کے علاقے مل لزئی میں سیکیورٹی فورسز اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ باقی مفرور عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔اسی ضلع میں مل لزئی پولیس حدود کے علاقے لکی مچن خیل میں ٹی ٹی پی کے شاہین گروپ کے دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے ایک کم عمر لڑکے، محمد وسیم (عمر تقریباً 15 سال) کو قتل کر دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتول کے والد، ریٹائرڈ صوبیدار پستہ جان، اور کزن گل زمان کو بھی اسی گروپ نے پہلے قتل کیا تھا۔ واقعے پر عوام میں خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے حافظ گل بہادر گروپ کے اہم کمانڈر بسم اللہ عرف فتح اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔ بسم اللہ کا تعلق زوی سیدگئی کے مسماخیل گاؤں سے تھا۔ وہ اپنے والد امیر داد خان عرف سکراوتی کی ہلاکت کے بعد گروپ کی قیادت کر رہا تھا۔ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں نصرت اللہ، انتقامی، اور محمد جان لمسی شامل ہیں، جو "فتح یونٹ” کے پرانے ارکان تھے۔دوسری جانب میرعلی، دتہ خیل، اور حسن خیل میں علیحدہ کارروائیوں کے دوران ٹی ٹی پی کے ظہیر گروپ کے تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ اسی علاقے میں حنیف اللہ عرف اسد گروپ کے ٹھکانے پر کارروائی میں چار دہشت گرد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔

    ماموند تنگئی گڈیگل (تحصیل باجوڑ) میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران 13 دہشت گردوں کو ہلاک اور 40 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔خیروخیل پکہ میں مقامی باشندوں اور دہشت گردوں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دہشت گردوں نے بھاری اسلحہ استعمال کیا۔ دو شہری، اسد خان اور کامران، زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔تحصیل صفی کے علاقے کُرر (کریر) میں دہشت گردوں نے ایک شہری ناہید شاہ ولد واصل کو قتل کر دیا۔ وہ ایک ماہ قبل بنوں بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ واقعے پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    پشاور کے علاقے حسن خیل میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے عسکری ونگ نے سنائپر حملہ کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تنظیم نے اپنی دہشت گرد کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت اور نگرانی بڑھا دی ہے۔

    بلوچستان: متعدد دہشت گرد حملے اور پرتشدد واقعات
    اورماڑہ میں فوجی قافلے کی ایک گاڑی IED دھماکے کا نشانہ بنی، جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ تمپ میں نامعلوم مسلح افراد نے عبدالرحمن ولد طارق نور کو گولیاں مار کر قتل کر دیا، جبکہ بلیدہ (کچ) میں ایک افسوسناک واقعے میں چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جو ایک ہفتہ قبل پکنک پر گئے تھے۔چمن اور طورخم بارڈر پر افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ چمن سے ایک دن میں 10,700 افغان شہری واپس گئے، جبکہ طورخم سے 7,935 افغان افغانستان لوٹ گئے۔ واپسی کے عمل کے دوران پولیس اہلکاروں کے غیر اخلاقی رویے اور مبینہ بھتہ خوری کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ بارہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اغوا شدہ شہری جمشید ولد غیرت خان کو بازیاب کرا لیا۔ کارروائی کے دوران دو پولیس اہلکار میر گل اور طیب خان کو گرفتار کیا گیا جبکہ حیدر فرار ہو گیا۔ ڈی پی او خیبر رائے مظہر اقبال نے کہا کہ "وردی میں چھپے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں”۔تراہ وادی میں اغوا شدہ پولیس اہلکار واحد گل کو عوامی احتجاج کے بعد دہشت گردوں نے رہا کر دیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔

    ایک نئے عسکری گروہ "انصار الجہاد” نے کرم، باجوڑ، اور دیر میں تین حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ گروپ کے ترجمان عبداللہ انصاری نے بیان میں مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے چوکس ہیں۔کرم ضلع میں کاظم گروپ کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں درجنوں کارروائیاں کرتے ہوئے کئی اہم دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ حکام کے مطابق، حالیہ آپریشنز کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ اور امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

  • اعجازملاح کی گرفتاری،مزید حقائق منظر عام پر آ گئے

    اعجازملاح کی گرفتاری،مزید حقائق منظر عام پر آ گئے

    آپریشن سندور کی ناکامی اور عالمی سطح پر پاکستان کے ہاتھوں رسوائی کے بعد سے بھارت نے مسلسل پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم مہم شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک ناکامُ کوشش کو ہماری مستعد سیکیورٹی ایجنسیز نے بے نقاب کیا ہے۔

    اس کوشش میں انڈین انٹیلیجنس ایجنسی نے ایک پاکستانی مچھیرے کو پاکستان رینجرز، نیوی اور آرمی کی وردیاں اور دیگر سامان خرید کر بھارت بھیجنے کا ٹاسک سونپا، تاہم ہماری سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے بھارت کے اس منصوبہ بندی کا سراغ لگا لیا۔ اور مجرم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔پاکستانی سیکورٹی ایجنسیاں گہرے سمندری پانیوں میں بھارتی ایجنسیوں کی مشکوک حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں سکیورٹی اداروں نے مسلسل نگرانی کے بعد ایک بظاہر عام سے مچھیرے سے مسلح افواج کی وردیاں اور مشکوک سامان برآمد کیا ہے۔ یہ شخص کچھ عرصہ سے مختلف دوکانوں سے پاکستانی افواج کے استعمال کی چیزوں کا پوچھ گچھ کرنے کی وجہ سے ہماری نظروں میں تھا، مشکوک سرگرمیوں کی تصدیق کے بعد ایک مشترکہ انٹیلیجنس آپریشن میں اس شخص کو فوجی وردیوں اور دیگر سامان سمیت اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا، جب وہ کشتی کے ذریعے اس سامان کو بھارت سمگل کرنا چاہ رہا تھا۔

    گرفتاری کے بعد ملزم سے اس کے مقاصد، روابط اور ممکنہ جاسوسی نیٹ ورک کے بارے میں تفصیلی تفتیش کی گئی۔ اور اس کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے کے بعد مندرجہ زیل حقائق سامنے آئے،اعجاز ملاح نے بتایا کہ وہ ایک غریب مچھیرا ہے جو گہرے پانی میں جا کر مچھلی پکڑتاتھا- وہ بھارتی خفیہ ایجنسی کےلالچ کی بھینٹ چڑھ گیا،ستمبر۲۰۲۵ میں بھارتی کوسٹ گارڈ نے اسے گہرے پانیوں میں مچھلی کا شکار کرتے ہوئے گرفتار کیا، بعد ازاں اُسے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جہاں بھارتی انٹلیجنس کے اہلکاروں نے اس سے ملاقات کی اوراسے بتایا کہ اسے بھارت میں دو سے تین سال قید کی سزا بھگتنی پڑے گی، بھارتی اہلکاروں نے پیشکش کی کہ اگر وہ پاکستان کے اندر ان کے لیے کام کرے تو اسے رہا کیا جا سکتا ہے، جس پر اس نے لالچ اور دھمکیوں میں رضامندی ظاہر کی، انہوں نے اسے کچھ سامان فراہم کرنے کی ہدایت کی جو اسے پاکستان جا کر جمع کرنا تھا اور بعد ازاں کشتی کے ذریعے بھارت پہنچانا تھا،

    پاکستان نے اس مچھیرے کی اپنے ہینڈلر سے کی گئی وائس چیٹ بھی حاصل کر لی ہے۔ جس میں اسکو چھ پاکستانی مسلح افواج کی مخصوص ناپ کی وردیاں (آرمی، نیوی اور سندھ رینجرز)، نام کی پٹیاں (جن پر مخصوص نام: عبید، حیدر، سہیل، ادریس، صمد اور ندیم لکھے ہوں)، تین زونگ موبائل سم کارڈ (جن کا بلینک خریداری انوائس کراچی کی دکان کے ساتھ ہوں)، سگریٹ کے پیکٹ، ماچس، لائٹر اور پاکستانی کرنسی کے 100 اور 50 کے نوٹ فراہم کرنے کو کہا،اعجاز نے کراچی کی مختلف دوکانوں سے مطلوبہ سامان کا انتظام کیا، جس کی تصویریں اس نے بھارتی انٹلیجنس کو بھیجیں، اعجاز کو 95 ہزار روپے سامان کی تصاویر بھجوانے کے عوض ادا کیے گئے، جبکہ بقیہ رقم سامان کی کامیاب ترسیل کے بعد ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا،‏اکتوبر کے آغاز میں، وہ مبینہ طور پر مذکورہ سامان بھارت پہنچانے کے لیے سمندر کی سمت روانہ ہوا، تاہم پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔

    بھارتی سیاسی قیادت پاکستان دشمنی میں اندھی ہو چکی ہے۔ اور آپریشن سندور کی شکست کو بہار کے ریاستی انتخابات سے عین پہلے ایک فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے بدلنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ میڈ ان پاکستان اشیاء سگریٹ ، لائٹرز ، اور کرنسی کسی ایسے جعلی مقابلے میں استعمال کرنے کا امکان ہے جس کے بعد یہ پرواپیگنڈہ کیا جا سکے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد میں براہ راست ملوث ہے،پاکستان نیوی اور سندھ رینجرز کی مخصوص وردیوں کی طلب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جعلی کارروائی ممکنہ طور پر بھارتی ریاست گجرات کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کچھ یا بھوج میں انجام دینے کا منصوبہ ہے۔ اور اس سازش کو بھارت کی اسے علاقے میں ہونے والی جنگی مشقوں سے جوڑا جائے، ان حاصل کردہ فوجی وردیوں اور دیگر سامان سے پاکستانی فوج کے حاضر سروس اہلکاروں کی گرفتاری کا جھوٹا ڈرامہ بھی کیا جاسکتا ہے، زونگ سم کارڈز اس لیے شامل کیے گئے تاکہ مبینہ آپریٹرز یا آپریشن کی فنڈنگ اور مواصلاتی رابطے چینی عناصر سے منسوب کیے جا سکیں۔

    پاکستان اس گھناؤنے بھارتی آپریشن کے تمام شواہد اپنے بین الاقوامی دوستوں کے سامنے بھی پیش کر رہا ہے تاکہ بھارت کا مذموم چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جا سکے۔

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز

    خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں، آپریشنز اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں کئی اہم دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جب کہ بلوچستان میں بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں پر ریاستی ردعمل جاری ہے۔

    لوئر ماموند، باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو افغان جنگجو، عبدالواحد عرف ابو عبیدہ اور احمد بلال عرف زید ہلاک ہوگئے۔ دونوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا کے گاؤں زرگون بار سے تھا۔ جھڑپ میں دیگر شدت پسند بھی زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سرحد پار سے سرگرم گروہوں کی نقل و حرکت کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ تھی۔

    پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر واقع کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے تھانے میں صبح 7:56 پر زوردار دھماکہ ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اسلحہ خانے میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی، جس سے متعدد دھماکے ہوئے۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف رہیں۔ حکام نے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    پشاور کے علاقے میرا کچوری میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والے مقابلے میں چار جرائم پیشہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان فرنٹیئر کور یا پولیس اہلکاروں کا روپ دھار کر شہریوں کو لوٹتے تھے اور گزشتہ دو دہائیوں سے راولپنڈی، نوشہرہ اور پشاور میں سرگرم تھے۔ جائے وقوعہ سے بھاری اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد کرلیا گیا۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے گلبہادر گروپ کے مطلوب کمانڈر "بسم اللہ” کو ہلاک کردیا۔ ذرائع کے مطابق کمانڈر بسم اللہ متعدد دہشت گرد کارروائیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تھا۔ اس آپریشن سے علاقے میں شدت پسند نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    ٹانک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا انتہائی مطلوب دہشت گرد عمر خالد مدخیل مارا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی ہلاکت کی تصدیق خود ٹی ٹی پی نے بھی کردی ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔

    ضلع مہمند کی تحصیل عمبر کے علاقے رمبت میں حالیہ کارروائی میں ہلاک ہونے والے چار غیر ملکی شدت پسندوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تین افغان شہری داعش (خوارج) نیٹ ورک سے منسلک تھے۔ شناخت شدہ افراد میں رحمت منصور، محمد فیروز، حافظ عمر اور مجاہد اللہ شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق افغانستان کے ننگرہار اور خوگیانی علاقوں سے تھا۔

    جنوبی اضلاع میں شدت پسندوں کے خلاف عوامی ردِعمل میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ مقامی برادریاں شدت پسندوں کے گھروں کو نذرِ آتش کر رہی ہیں اور بعض مقامات پر دہشت گردوں کے خاندانوں کو دباؤ میں لانے کے لیے خود کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ عوامی مزاحمت دہشت گردوں کے اثر و رسوخ کے خاتمے میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

    سوشل میڈیا پر رپورٹس کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی اعلیٰ قیادت، جس میں نور ولی محسود اور ملا خراسانی شامل ہیں، نے تنظیمی سطح پر تین نکاتی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں پاکستان میں کارروائیاں روکنے، گروہوں کو تقسیم کر کے افغانستان واپس جانے اور مقامی حملے معطل کرنے کے احکامات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوئیں تو یہ پاکستان و افغانستان دونوں کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

    طورخم سرحد کو 21 دن بعد افغان شہریوں کی واپسی کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق تجارتی سرگرمیاں اور ویزا ہولڈرز کی عام آمد و رفت بدستور معطل رہے گی، تاہم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو سہولت دینے کے لیے راستہ کھولا گیا ہے۔

    بلوچستان کے ضلع کچھی میں بلوچ ریپبلکن آرمی (BRA) نے مبینہ طور پر فوجی قافلے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم سیکیورٹی حکام کی جانب سے ابھی تک اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ دوسری جانب قلات کے علاقے جوہان میں سیکیورٹی فورسز نے 100 کلوگرام وزنی بارودی مواد (IED) کامیابی سے ناکارہ بنا دیا، جب کہ منگچر میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگا دی اور ڈرائیور کو اغوا کرلیا۔

    حالیہ کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ساتھ ہی، عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مزاحمت شدت پسندوں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے لیے افغانستان کی حکومت کو بھی اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

  • سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، متعدد دہشت گرد ہلاک

    ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی، سیکیورٹی آپریشنز اور تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں کئی دہشت گرد مارے گئے، ایک لیویز اہلکار شہید ہوا جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی اداروں نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک، گرفتار اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاقے تختِ خیل نذر دینو میں شدت پسندوں نے ایک ٹیلیفون ایکسچینج کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا۔ دھماکے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں،بنوں کے علاقے ہوید بازار سے ایک پولیس افسر کو شدت پسندوں نے اغوا کر لیا۔ مقامی افراد نے ردِعمل کے طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے ایک مقامی کمانڈر کے والد اور بھائی کو پکڑ کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مغوی پولیس افسر کی بازیابی تک دونوں افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    رُمبٹ علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو افغان شہری شامل ہیں جن کی شناخت عبدالستارر عرف علی اور ظفر خان عرف زبیر (سکینہ غزنی) کے نام سے ہوئی، جبکہ تیسرا دہشت گرد اسداللہ مقامی رہائشی تھا۔تیراہ وادی میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔میاں برانگولہ علاقے میں ایک لیکچرار کو ان کے گھر میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

    حکومتی ہدایت پر بنوں تا میرانشاہ روڈ پر یکم اور 2 نومبر کو صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا۔ یہ اقدام سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت اور آپریشنز کے پیشِ نظر اٹھایا گیا۔ہوید تھانے کی حدود سے اسپیشل برانچ کے افسر شفیع اللہ خان کو شدت پسندوں نے اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق افسر ڈیوٹی پر جاتے ہوئے راستے میں اغوا ہوئے۔ یاد رہے کہ دو ماہ قبل واپڈا کے پانچ ملازمین کو بھی اسی علاقے سے اغوا کیا گیا تھا، جن کے بدلے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    کلی ملک رسول بخش سمالانی کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے علی مردان پر فائرنگ کی، جو پروفیسر محمد اشرف حسنی کے بھائی ہیں۔ علی مردان کو چار گولیاں لگیں، جنہیں پرنس فہد اسپتال دالبندین منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔کوہلو-رخنی شاہراہ پر تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک لیویز اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق شہید اہلکاروں نے حملہ آوروں کے خلاف سخت مزاحمت کی۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔ہرنائی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کمانڈر سیف اللہ سمیت پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیف اللہ IED بنانے اور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کے جنگجوؤں کو تربیت دینے میں ملوث تھا۔لورا لائی کے پہاڑی علاقوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندستان (BLA) کے آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔ فورسز نے علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے آپریشن کو وسعت دے دی ہے۔پنجگور میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کمانڈر قاسم کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران اس نے انکشاف کیا کہ اس کے بھتیجے اور بھانجی بھی تنظیم میں شامل ہیں اور مختلف حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔مورگند اور شیخری کے علاقوں میں فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ کیا، جس میں چھ اہلکار شہید ہوئے جبکہ دو فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے آپریشنز میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں،

  • دنیا کی بااثر مسلم شخصیات کی فہرست جاری، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل

    دنیا کی بااثر مسلم شخصیات کی فہرست جاری، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل

    رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے دنیا کے 500 سو بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیرسمیت پاکستان کی کئی معروف شخصیات شامل ہیں۔

    رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے 2026ء کی فہرست میں خدمتِ خلق، ٹیکنالوجی، سیاست، مذہبی معاملات، آرٹ اینڈ کلچر اور،میڈیا سائنس سمیت مختلف 13 شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پانچ سو بااثر مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے۔پاکستان میں شامل معروف بااثر مسلم شخصیات میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر ،وزیر اعظم شہباز شریف ،جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان ،معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی،صحافی اور میڈیا ہاؤس کے سربراہ سلمان اقبال سمیت دیگر شامل ہیں۔

    مفتی تقی عثمانی معروف پاکستانی عالم دین ہیں ۔وہ جاری کردہ رپورٹ میں ٹاپ 50 میں سے دوسرے نمبر پر شامل ہیں،معروف عالم دین مولانا طارق جمیل اور مولانا الیاس قادری سربراہ دعوت اسلامی بھی ٹاپ 50 میں شامل ہیں۔مسلم سکالرز کی کی فہرست میں پاکستان سے الہدیٰ انٹرنیشنل کی سربراہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی ،پروفیسر احمد اکبر صلاح الدین جو کہ اس وقت واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی میں ابن خلدون چیئر آف اسلامک سٹڈیز کے صدر نشین ہیں ،ڈاکٹر طاہر القادری جو کہ عوامی تحریک اور منہاج القران کے سربراہ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کئی کتابوں کے مصنف اور تعلیمی اداروں کے بانی ہیں شامل ہیں ۔ مذہبی امور کے ماہرین میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان ،ساجد علی نقوی شامل ہیں ۔مبلغین اور روحانی شخصیات میں طیبہ خانم بخاری اور جاوید احمد غامدی شامل ہیں۔خدمت خلق میں پاکستانی شخصیات میں سے ماہر طب ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی شامل ہیں۔سوشل ایشوز میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیات میں منیبہ مزاری ،ملالہ یوسفزئی شامل ہیں ۔سائنس و ٹیکنالوجی میں پروفیسر عطاء الرحمان،ڈاکٹر عمر سیف اور عرفان صدیقی شامل ہیں ۔آرٹس اینڈ کلچر میں نعت خوان صدیق اسماعیل ،شرمین عبید،عابدہ پروین ،نعت خان اویس رضا خان قادری اور نوحہ خواں سید ندیم رضا شامل ہیں ۔میڈیا انڈسٹری سے پاکستانی شخصیات میں حامد میر ،میر شکیل الرحمان اور سلمان اقبال شامل ہیں۔

    رپورٹ:خنیس الرحمان

  • کسی بھی بیرونی جارحیت  کا جواب سخت اور شدید ہوگا،ترجمان پاک فوج

    کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایبٹ آباد میں مختلف جامعات کے اساتذہ اورطلبا سے نشست کے دوران خصوصی گفتگو ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ خصوصی نشست میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ پاک افغان کشیدگی ، ملکی سیکیورٹی صورتحال، معرکہ حق سمیت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان نے دہشتگردی اور فتنہ الخوارج کیخلاف موثر اقدامات کئے ہیں،پاک فوج دفاع وطن کیلئے پرعزم ہے کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا،

    اساتذہ اور طلبا کی جانب سے شہداء اور غازیان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا،وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی ڈاکٹر اکرام اللہ خان کا کہنا تھا کہ وطن سے محبت کا صحیح استعارہ پاک فوج ہے، پاک فوج ہمیشہ محاذِ اول پر ہوتی ہے اور ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،اساتذہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کے ذہنوں کو گمراہ کرنے کے لیے دشمن عناصر کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں،ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو درست اور مصدقہ معلومات فراہم کریں، طلبا کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں جہاں افواجِ پاکستان جیسے ادارے نوجوانوں کو حوصلہ اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں،آج ہمیں سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط افواہوں کے بارے میں درست معلومات حاصل ہوئیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کے جوابات نے ہمارے ذہنوں سے ملکی اور صوبائی حالات سمیت افواج پاکستان کے حوالے سے ابہام دور کئے،

  • پاک افغان جنگ بندی،  مشترکہ اعلامیہ خوش آئند ، افغانستان  سے وعدہ پورا کرنے کی توقع

    پاک افغان جنگ بندی، مشترکہ اعلامیہ خوش آئند ، افغانستان سے وعدہ پورا کرنے کی توقع

    پاکستان نے استنبول (ترکی) میں اور دوحہ (قطر) کی ثالثی سے طے پانے والے عارضی سمجھوتے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحدی امن کا مقصد اہم ہے مگر یہ کہ یہ جنگ بندی نہ تو لازمی طور پر غیر محدود ہے اور نہ ہی بلاشرط۔

    اس عارضی سمجھوتے کا واحد حقیقی امتحان یہ ہوگا کہ کیا افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے گا اور کیا وہ “فتنہ الخوارج” (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد عناصر بشمول “فتنہ الہندوستان” (بی ایل اے) کے خلاف واضح، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات اٹھائے گا۔

    بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
    پاکستان نے استنبول میں ثالثی کے ذریعے حاصل ہونے والے عبوری فہم و تفاهم کو سراہا۔
    پاکستان امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے مگر اس جنگ بندی کو غیرمشروط یا دائمی نہیں سمجھتا۔
    جنگ بندی کے تسلسل کا واحد معیار یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور مطلوبہ کارروائیاں انجام دے۔
    پاکستان شواہدِ عمل کا منتظر ہے ، مثلاً دہشت گردوں کے ٹھکانے مٹانا، لاجسٹک چینلز کو تباہ کرنا، قیادت کی گرفتاریاں یا مقدمات، اور متفقہ نگرانی و توثیق کے میکانزم کے ذریعے شفاف رپورٹنگ۔
    اگر افغانستان متفقہ اقدامات کا قابلِ تصدیق ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا یا افواج افغان سرزمین سے حملے جاری رکھیں، تو پاکستان جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھے گا اور اپنی خارجہ و داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام اختیارات محفوظ رکھے گا۔
    ثالثین کے زیرِ نگرانی قائم کردہ مانیٹرنگ اینڈ ویریفیکیشن میکانزم ہی وہ غیرجانبدار ذریعہ ہو گا جو افغان طرف کی پابندی کا تعین کرے گا۔
    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس مرحلے میں داخل ہوا ہے مگر حقیقت پسندی کے ساتھ.ماضی کے بار بار ہونے والے سرحدی واقعات نے عملی نفاذ کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے، نہ کہ محض رسمی وعدوں کو۔
    افغانستان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ انتظام ایک مشروط وقفۂ جنگ ہے .جس کا دارومدار افغان فریق کی زد پر ذمہ داری دکھانے پر ہے۔ ذمے داری پوری نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو دیگر اقدامات اختیار کرنے پڑیں گے۔
    حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج اس بات میں متحد ہیں کہ امن ہماری ترجیح ہے مگر ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ ناقابلِ مذاکرات ہے۔

    ادھر دفاعی حلقوں نے بھی زور دیا کہ مانیٹرنگ میکانزم کی شفافیت اور میثاقِ عمل کی بروقت تکمیل امن کے تسلسل کے لیے لازمی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ ثالثانہ ثالثی ایک مثبت قدم ہے، مگر فریقین کی جانب سے عملی اقدامات اور باہمی اعتماد کی تعمیر ہی طویل المدتی امن کی کنجی ثابت ہوں گے۔

    پاکستان کے باضابطہ مؤقف کے مطابق یہ عارضی فریم ورک ایک موقع فراہم کرتا ہے مگر اس موقع کا دارومدار افغان حکام کی جانب سے قابلِ تصدیق پیش رفت اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کاروائی پر ہے۔

  • پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق

    پاکستان اور افغان طالبان جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق

    ترک وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور 6 نومبر کو استنبول میں منعقد ہوگا۔ترک وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور قطر کے نمائندوں نے 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں اہم اجلاس منعقد کیے، جن میں سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔اعلامیہ کے مطابق تمام فریقین اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ نگرانی اور تصدیقی نظام (Monitoring & Verification Mechanism) قائم کیا جائے گا تاکہ جنگ بندی کے عمل کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جاسکے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فریقین نے مذاکرات کے تسلسل اور امن عمل کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ ترکیہ اور قطر نے سہولت کار کے طور پر کردار جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی.

    خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ تشکیل، ارکان آج حلف اٹھائیں گے

    مولانا فضل الرحمان کی دہشتگردوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت

    اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 16 ملین ڈالر کا اضافہ

  • فیلڈ مارشل عاصم منیرکا دورہ پشاور، قبائلی عمائدین سے ملاقات،دہشت گردی کیخلاف دوٹوک پیغام

    فیلڈ مارشل عاصم منیرکا دورہ پشاور، قبائلی عمائدین سے ملاقات،دہشت گردی کیخلاف دوٹوک پیغام

    چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، نے آج پشاور کا دورہ کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران آرمی چیف نے قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے تفصیلی ملاقات کی اور بعد ازاں ہیڈکوارٹر 11 کور میں سیکیورٹی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کے لیے جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز پر بریفنگ لی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عوام کے عزم، حوصلے اور دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے حالیہ پاک افغان کشیدگی کے دوران قبائلی عوام کی غیر مشروط حمایت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ یکجہتی کو سراہا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک، بشمول افغانستان، کے ساتھ امن چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کئی سفارتی اور معاشی اقدامات کیے، لیکن بدقسمتی سے افغان طالبان حکومت نے بھارت کی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند ے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی بلکہ ان کی مختلف طریقوں سے مدد کی۔

    آرمی چیف نے قبائلی عمائدین کو یقین دلایا کہ پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا، کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔

    قبائلی عمائدین نے آرمی چیف کی کھلی اور حقیقت پر مبنی گفتگو کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پاکستان میں امن و استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کی گمراہ کن سوچ کو قبائلی عوام نے ہمیشہ رد کیا ہے اور مستقبل میں بھی اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔قبل ازیں پشاور پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کمانڈر پشاور کور نے کیا۔

  • وزیراعظم  کا ماضی میں سیلز ٹیکس میں کیے گئے فراڈ پر اظہار برہمی،رپورٹ طلب

    وزیراعظم کا ماضی میں سیلز ٹیکس میں کیے گئے فراڈ پر اظہار برہمی،رپورٹ طلب

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کو واشنگٹن میں منعقدہ سالانہ ورلڈ بینک کانفرنس میں ایف بی آر کی شمولیت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا،وزیراعظم نے عالمی کانفرنس میں ایف بی آر اصلاحات کی کیس سٹڈی کی پزیرائی پر ایف بی ار کی ٹیم کی تعریف کی، وزیراعظم کو ایف بی آر بالخصوص پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں جاری اصلاحات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرال کی موجودہ نافذ العمل اصلاحات میں آڈٹ والٹ، ڈیٹابیس پروٹیکشن وال، سیکیورٹی آپریشن سینٹر، ڈیٹابیس کی مستقل نگرانی اور دیگر متعدد محفوظ ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں، موجودہ ڈیجیٹل نظام میں صلاحیت موجود ہے کہ معلومات میں تبدیلی سے صارف کا آئی پی ایڈریس بھی سسٹم میں درج ہو جائے گا اور ٹیکس فراڈ ممکن نہیں ہو گا،اجلاس میں 2018-2019 میں شروع ہونے والے سیلز ٹیکس فراڈ کے حوالے سے تشکیل کردہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے پرال کے متروک نظام کی وجہ سے کیے گئے سیلز ٹیکس فراڈ کے حوالے سے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی

    وزیراعظم نے 2018 سے شروع ہونے والے اس سیلز ٹیکس فراڈ کا نوٹس لیا تھا اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی تھی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرال میں سیلز ٹیکس فراڈ متروک ڈیجیٹل نظام، نظام میں نگرانی کی عدم موجودگی اور پرال کی ڈیٹابیس محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا،نظام کی خامیوں کے تدارک کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کردی گئی ہیں جو کہ مجموعی اصلاحات کا حصہ ہیں،

    وزیراعظم نے ماضی میں سیلز ٹیکس میں کیے گئے فراڈ پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ پرال کے نظام کا بین الاقوامی کنسلٹینسی فرم سے فارنزک آڈٹ کروایا جائے.وزیراعظم نے سیلز ٹیکس فراڈ کرنے والے اداروں، کمپنیوں اور افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی 3 ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرے،وزیراعظم نے آئندہ تحقیقاتی رپورٹ میں شناخت ہونے والے مجرمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی،اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی ار اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے