Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    پاکستان: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، جھڑپوں اور سیکیورٹی کارروائیوں کے متعدد واقعات

    ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی، فائرنگ، ڈرون حملے، بارودی مواد کے دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے متعدد افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    باجوڑ: سیکیورٹی فورسز نے متعدد بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دیں

    باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے جنّت شاہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی جانب سے مختلف مقامات پر نصب متعدد بارودی مواد (IEDs) برآمد کرکے کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایک روز قبل دو نوجوان شہید ہوئے تھے جب وہ دہشت گردوں کے نصب کردہ ایک بارودی آلے کی زد میں آ گئے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارودی مواد بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت سے تمام ڈیوائسز کو تلف کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کو آپریشنز کے ذریعے کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن دہشت گرد فرار ہوتے ہوئے مختلف مقامات پر بارودی سرنگیں اور IEDs نصب کر گئے تھے، جو وقتاً فوقتاً المناک واقعات کا باعث بنتی رہتی ہیں۔پاکستان آرمی قبائلی اضلاع میں وسیع ڈی مائننگ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں اور علاقے میں مکمل امن بحال ہو سکے۔

    باجوڑ: ایم پی اے انور زیب خان کے گھر پر دھماکا، ایک شخص زخمی

    خار کے علاقے رگاگان میں صوبائی اسمبلی کے رکن انور زیب خان کے گھر پر بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق زخمی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایم پی اے انور زیب خان نے تصدیق کی کہ واقعے کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر سی ٹی ڈی نے واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

    شمالی وزیرستان: TTP کمانڈر اندرونی اختلافات کی فائرنگ میں ہلاکڈیرہ اسماعیل خان: سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 شدت پسند ہلاک
    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت نواز تنظیم فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔فورسز نے ایک مصدقہ ٹھکانے پر کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی آپریشن عزمِ استحکام کے تحت کی گئی، جو نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے بعد جاری ہے۔مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت کے علاقے فتح خان خیل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو نامعلوم شدت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا۔اس کی لاش بنوں ضلع کے ہواڈ تھانے کی حدود سے ملی۔واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ٹانک ضلع میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان بائیت اللہ جاں بحق ہو گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور موقع واردات سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔تھانہ حوید کے علاقے شیخ لنڈک میں شدت پسندوں نے ایک کواد کاپٹر ڈرون کے ذریعے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ڈرون سے بم گرنے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار حمید اللہ، اسلم شاہ اور اسماعیل خان زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 18 سالہ مشتبہ شدت پسند ساتھی غلام قادر ولد مراد بخش کو کوسٹل اسپتال کے قریب سے گرفتار کر لیا۔حکام کے مطابق نوجوان کے دہشت گرد گروہوں سے ممکنہ روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔بولان کی تحصیل سنی میں ایک گھر میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے تین بچے جاں بحق جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔دھماکے کے نتیجے میں گھر کی چھت اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے دو رات قبل گھر کے اندر بارودی مواد نصب کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ اٹیک تھا۔

  • ایکس کا نیا فیچر؛ پاکستان مخالف بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

    ایکس کا نیا فیچر؛ پاکستان مخالف بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

    ایکس کے نئے ٹرانسپیرنسی فیچر نے پاکستان مخالف منظم بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور فتنہ الخوارج گروپس کے درمیان واضح روابط سامنے آئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں سے منسلک متعدد ایکس ہینڈلز منظم انداز میں انتہا پسند بیانیہ پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی، ایرانی اور روسی انفلوئنسرز کے نام پر چلنے والے متعدد اکاؤنٹس بھی دراصل بھارت سے آپریٹ ہوتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ایکس کے ٹرانسپیرنسی ٹول کے مطابق افغان دفترِ خارجہ کے ترجمان کا آفیشل ہینڈل بھی بھارت سے چلایا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 90 فیصد پاکستان مخالف آن لائن پروپیگنڈا دشمن ممالک کے ٹرول فارمز سے پیدا ہو رہا ہے۔

    مزید انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے منسلک اکاؤنٹس مسلسل انتہا پسند بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ "آزاد بلوچ تحریک” کے اکاؤنٹس بھی بھارت سے چلائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے

    سوشل میڈیا پر جھوٹی آف لوڈنگ معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی شروع

    بابر اعظم کا ٹی20 میں ناپسندیدہ ریکارڈ برابر

    ہانگ کانگ آگ،ہلاکتیں 83 تک پہنچ گئیں، 300 افراد لاپتہ

  • افغانستان کا تاجکستان میں ڈرون حملہ، 3 چینی شہری ہلاک

    افغانستان کا تاجکستان میں ڈرون حملہ، 3 چینی شہری ہلاک

    افغانستان سے تاجکستان پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں 3 چینی کارکن ہلاک ہو گئے

    چینی میڈیا کے مطابق افغانستان سے ہونے والے حملے میں تاجکستان میں 3 چینی شہری ہلاک ہوگئے، نجی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،افغانستان سے آئے حملہ آوروں نے ڈرون کے ذریعے نجی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنایا جس میں تین چینی باشندے ہلاک ہوئے، اس واقعے کے بعد تاجکستان نے افغانستان سے حملے کو دہشتگردی قرار دیدیا ہے۔چینی میڈیا نے بتایا کہ تاجکستان حکومت نے افغان طالبان رجیم سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چین نے تاجکستان پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    تاجک وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک کے جنوب میں یہ حملہ ہوا ہے، بیان میں بتایا گیا کہ یہ حملہ، آتشیں اسلحہ اور دستی بموں سے لدے ڈرون سے کیا گیا، جس میں چینی شہریت کے تین ملازمین اپنی جان سے گئے۔تاجکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب اس ملک کے صوبہ ختلون پر افغان سرزمین سے مسلح حملے میں تین چینی شہری مارے گئے۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات، کو ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ ہتھیاروں اور گرینیڈ سے لیس ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔بیان کے مطابق اس حملے کا ہدف ’شاہین‘ نامی نجی کمپنی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے طالبان سے کہا ہے کہ وہ سرحدی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں سلامتی کو برقرار رکھنے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے دوشنبہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود، "افغانستان میں مقیم جرائم پیشہ گروہوں” کی تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

    غور طلب ہے کہ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی طالبان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کئی بین الاقوامی تنظیموں اور ممالک کا خیال ہے کہ افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپ وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

    تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ تاجکستان میں سرحد کے قریب چینی کارکنوں پر افغان حملے کے دوران پیش آیا۔ چینی شہری ایک فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور افغان ڈرون اور فائرنگ کے حملے میں ہلاک ہوئے۔چینی میڈیا کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس پر دستی بم اور آتشیں اسلحہ نصب تھا

    افغانستان میں موجود دہشتگردوں سے پاکستان ہی نہیں دیگر پڑوسی بھی محفوظ نہیں ،تاجکستان نے اس سرحد پار دہشتگرد حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے افغان حکام سے فوری اور مؤثر سرحدی سکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

  • پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت بھاگ گیا

    پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، بھارت بھاگ گیا

    پاکستان کی علمی میدان میں بڑی فتح، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے جنرل ایم ایم نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیَم سُوامی اور سچن پائلٹ عین وقت پر دستبردار ہو گئے،

    پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق بھارتی وفد کی اجتماعی پسپائی کے بعد پاکستان کو آکسفورڈ یونین میں بلامقابلہ فتح ملی، آکسفورڈ یونین کے تصدیق شدہ مباحثے سے بھارتی وفد عین وقت پر دستبردارہو گئے، جنرل (ر) زبیر محمود حیات، حنا ربانی کھر سابق وزیر خارجہ اور ڈاکٹر محمد فیصل مباحثے کے لیے لندن موجود، بھارتی وفد حاضری کی ہمت نہ کر سکا، اپنے مصدقہ اسپیکرز کے انکار کے بعد بھارتی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہ تھی، آکسفورڈ یونین میں اعلان شدہ بھارتی پینل کو کم تر متبادل سے بدلنے کی کوشش نے مباحثے کی ساکھ اور توازن کو شدید متاثر کیا، بھارت کے اعلیٰ سطحی مقررین کی دستبرداری اور کم تر متبادل کی پیشکش نے آکسفورڈ یونین اور جامعہ آکسفورڈ دونوں کو سخت خفت سے دوچار کیا، قرارداد یہ تھی کہ بھارت کی پاکستان پالیسی محض عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمت عملی ہے، بھارتی مقررین نے اسی بحث سے راہِ فرار اختیار کی،بھارتی وفد کی دستبرداری نے آکسفورڈ یونین جیسے غیرجانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کی کمزوری بے نقاب کر دی، بھارتی رہنما ٹی وی چینلز پر شور مچاتے ہیں، مگر علمی مباحثے میں دلیل اور جواب دینے سے گھبراتے ہیں،

    پاکستان ہائی کمیشن لندن کے مطابق آکسفورڈ میں طلبہ کی اکثریت بھارتی ہونے کے باوجود بھارتی وفد نے ووٹ کا سامنا کرنے سے انکار کیا، بھارت کی نام نہاد “سیکورٹی پالیسی” آکسفورڈ یونین میں ممکنہ منطقی سوالات کا وزن نہ اٹھا سکی، بھارتی مقررین نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے کے لیے پہلے سے طے شدہ مباحثہ خود ہی سبوتاژ کر دیا، میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا کرنے والے بھارتی تجزیہ کار جب کھلی بحث کا موقع ملا تو غائب ہو گئے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی غیرحاضری مئی 2025 کے بعد سے جاری سفارتی و بیانیاتی ناکامیوں کی تازہ کڑی ہے، چرچل نے کہا تھا “گفتگو جنگ سے بہتر ہے”، بھارت آج ثابت کر رہا ہے کہ وہ نہ گفتگو کے لیے تیار ہے نہ جواب دہی کے لیے، پاکستان نے دلیل، مکالمے اور قانونی مؤقف سے بحث جیتنے کی تیاری کی، بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے، آکسفورڈ یونین میں بھارتی وفد کی عدم شرکت ان کے اپنے عوام کے سامنے بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے، پاکستان نے واضح، مدلل اور پراعتماد مؤقف کی تیاری کر رکھی تھی، جبکہ بھارت نے پسپائی کو ہی حکمت عملی بنایا .

  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم شہبازشریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے۔

    بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان برادر ملک ہیں، ہماری اسٹریٹیجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے، بحرین کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیشرفت ہے، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں تعاون ضروری ہے، بحرین میں پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ شناخت سرحدوں میں نہیں دنیا کے ہر گوشے میں زندہ ہے، بحرین سے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی، بحرین میں اعلیٰ قیادت کا پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر دل سے شکرگزار ہوں، پاکستانی کیمونٹی سے درخواست ہے کہ وہ بحرین کے لیے بھی بہترین سفیر بنیں، بحرین مالیاتی ترقی، انسانی مرکزیت اور جدید معیشت کا روشن نمونہ ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور بھرپور تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان کے پاس افرادی قوت، وسائل، ابھرتی منڈی اور اسٹریٹیجک محل وقوع ہے جب کہ بحرین کے پاس مالیاتی مہارت اور عالمی تجربہ ہے، پاکستان اور بحرین مل کر عظیم کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے، میں بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں، سرمایہ کار پاکستان آئیں، ہمارے ساتھ شراکت داری کریں، بحرینی کاروباری برادری کےساتھ نئی، دیرپا اوربامعنی اقتصادی راہیں کھولنےکیلئےتیار ہیں، ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کیلئے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے اور یہ نوجوان آبادی ایک چیلنج ہے، ایک بڑی نعمت اور موقع بھی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کررہے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ ملکر نئی راہیں کھول سکتے ہیں،پاکستان اور جی سی سی کا فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جو تعلقات کو نئی بلندی دے گا۔

  • بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے

    بھارتی جبر و استبداد کا شکار سکھوں نےپاکستان کیخلاف دہشت گرد مودی کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ،سکھ رہنماؤں نےسکھ فوجیوں سے سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی،سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” کا بھارت کیخلاف سکھوں کی پاک فوج میں کھلی بھرتی کا مطالبہ سامنے آیا ہے،سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شمولیت کی دعوت دینے کی درخواست کر دی

    سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی سندھ پر قبضے کی کھلی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری سکھوں کیلئے خصوصی بھرتی کاراستہ کھولنا ہوگا،پاکستان سکھوں کیلئے بھرتی کا راستہ کھولے تاکہ وہ سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہو سکیں،*سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” نے درخواست دی کہ؛سکھ رضاکاروں کی خصوصی فہرست اور ایک وقف سکھ دفاعی یونٹ کی تشکیل کی جائے،سکھ رضا کاروں کے اس یونٹ کی تعیناتی خاص طور پر سندھ کے دفاع کے لیے کی جائے ،جیسے ہی پاکستان اندراج کاپروٹوکول جاری کرے گا دنیا بھر میں ہزاروں سکھ رضاکار شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ہم اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مضبوط مؤقف رکھتے ہیں ، عالمی قوانین کے تحت فوجیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضمیر یا اخلاقی وجوہات کی بنا پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں،

    دنیا پاکستان کے مضبوط مؤقف اور بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی مکمل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں ،بھارتی جنگی سیاست اور دہشت گردی کے فروغ کے منصوبے کیخلاف دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے

  • جرات کے پیکر اوروفا کے مجاہد کیپٹن ارشاد کی جراتمندانہ داستان

    جرات کے پیکر اوروفا کے مجاہد کیپٹن ارشاد کی جراتمندانہ داستان

    جرات کے پیکر اوروفا کے مجاہد کیپٹن ارشاد کی جراتمندانہ داستان،دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں اور جرات کی داستانیں سنہری حروف سے درج ہیں

    جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے غازی کیپٹن ارشاد کی داستان نے دلوں کو چھو لیا ،پاک فوج کے غازی کیپٹن ارشاد نے اپنی داستان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ؛ پوسٹنگ کے دوران سیاچین، جنوبی وزیرستان، تیرہ اور راجگال میں انتہائی سخت حالات میں ذمہ داریاں نبھائیں،فتنہ الخوارج کے زیرِ اثر خوارجیوں نے حملہ کیا جس کا ہم نے منہ توڑ جواب دیا، اسی دوران اینٹی پرسنل مائن پر میرا پاؤں آگیا اور اس دھماکہ سے میرا ایک پاؤں کٹ گیا،

    کیپٹن ارشاد کے سینئر آفیسر میجر حسیب رضا کا کہنا تھا کہ کیپٹن ارشاد یونٹ کے نہایت ہی نڈر اور ہمیشہ قدم بڑھانے والے آفیسر ہیں،20 مئی 2025 کو ہمیں تیرہ راجگال میں فتنہ الخوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع موصول ہوئی،

    اس کامیاب آپریشن میں دشمن کے مضبوط ٹھکانوں اور پناگاہوں کو تباہ کیا گیا اور چار خارجی بھی مارے گئے،پاک فوج کی ان تمام قربانیوں اور داستانوں کی بدولت سبز ہلالی پرچم آج بھی سر بلند ہے

  • پاکستان و سعودی عرب کی انسدادِ دہشت گردی فوجی مشق البطار-II مکمل

    پاکستان و سعودی عرب کی انسدادِ دہشت گردی فوجی مشق البطار-II مکمل

    پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی مشق البطار-II اٹھارہ سے چھبیس نومبر تک جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوگئیں۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ مشقیں انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں منعقد ہوئیں، جن میں پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور سعودی افواج کی جنگی ٹیموں نے حصہ لیا۔ اختتامی تقریب سعودی شہر تبوک میں ہوئی، جس میں پاکستان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ایس ایس جی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ سعودی عرب کے سینئر عسکری حکام بھی موجود تھے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے جوانوں نے مشقوں کے دوران اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، عملی تربیت اور باہمی ہم آہنگی کا شاندار مظاہرہ کیا۔ البطار-II کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ استعداد کار میں اضافہ تھا، جس میں خاص طور پر گنجان آباد علاقوں میں لڑائی، دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد کے تدارک اور مربوط حربی ڈرلز کی بہتری شامل تھی۔

    فوجی ترجمان کے مطابق یہ مشق پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ، تاریخی اور برادرانہ عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا سبب بنی، جبکہ تمام تربیتی اہداف کامیابی سے حاصل کرلیے گئے، جو علاقائی امن، سلامتی اور مشترکہ دفاعی عزم کی توثیق ہیں

    بھارتی میڈیا پر عمران خان کی موت کی جھوٹی خبریں،مبشر لقمان برس پڑے

    یاسین ملک کیخلاف مقدمات ، پرانے گواہ بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ پیش

  • بھارتی میڈیا پر عمران خان کی موت کی جھوٹی خبریں،مبشر لقمان برس پڑے

    بھارتی میڈیا پر عمران خان کی موت کی جھوٹی خبریں،مبشر لقمان برس پڑے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نےبھارتی میڈیا کے جھوٹ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا

    ایکس پر مبشر لقمان نے ایک پوسٹ میں بھارتی میڈیا کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی موت سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں کو سختی سے مسترد کیا اور اسے بھارت کی روایتی جھوٹی مہم قرار دیا،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارت میں بیٹھ کر چند عناصر عمران خان کی صحت اور زندگی کے بارے میں بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔عمران خان کی موت سے متعلق جعلی خبریں ہمیشہ کی طرح بھارت کی گھڑی ہوئی سازش ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف محض پروپیگنڈہ پھیلانے کا مشن بنا چکا ہے،ایسے عناصر پاکستان کے سیاسی حالات پر جھوٹا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔عام ہندوستانی جو گائے کا پیشاب پیتے ہیں اور اپنے دماغ کو گائے کے گوبر سے ملاتے ہیں وہ صرف سازشی تھیوری بنا سکتے ہیں

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے، فوجی معاملات اور حساس واقعات سے متعلق بھارتی میڈیا کا تاریخی کردار شدید متنازع رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے خلاف بغیر تصدیق کے خبریں جاری کرتی ہے،اپنے بیانیے کے مطابق جھوٹی کہانیاں گھڑتی ہے،بریکنگ نیوز کی دوڑ میں صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے،پاکستان کے اندرونی معاملات کو مسخ شدہ زاویے سے پیش کرتی ہے،

    این ڈی ٹی وی سمیت بھارتی میڈیا کے کچھ حلقے دعویٰ کر رہے تھے کہ عمران خان جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔یہ افواہیں بغیر کسی ثبوت،بغیر کسی سرکاری تصدیق،اور بغیر کسی آزاد ذرائع کےتیزی سے بھارت میں پھیلائی گئیں، جس کا مقصد پاکستان میں سیاسی بے چینی کو بڑھانا تھا۔حالانکہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور سزاکاٹ رہے ہیں.

  • وزیراعظم کی بحرین کے ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم کی بحرین کے ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم پاکستان نے آج منامہ میں بحرین کے ولی عہد، بحرینی افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات کی

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو منامہ میں قصر القضیبیہ پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم نے پرتپاک استقبال پر شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ کا شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں بحرین کی قیادت کو سراہا۔ وزیراعظم نے بحرین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2 سالہ مدت (2026-2027) کے لیے غیر مستقل رکنیت حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور اس دورانیے میں باہمی تعاون مزید مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔ملاقات میں اقتصادی تعاون گفتگو کا مرکز رہا۔ وزیر اعظم نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے امکانات کو اجاگر کیا، جو اس وقت 550 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دو طرفہ تجارت کو تین سالوں کے اندر 1 بلین امریکی ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ اس ہدف کا حصول پاکستان-جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ، جو کہ اپنے حتمی مراحل میں ہے اور حال ہی میں ویزا کی شرائط میں نرمی جیسے اقدامات کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے بحرینی سرمایہ کاروں کو فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی اور معدنیات، صحت، قابل تجدید توانائی اور سیاحت میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کراچی/گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان بندرگاہ سے بندرگاہ تک رابطے بڑھانے کی تجویز بھی دی۔

    وزیراعظم نے 150,000 سے زائد پاکستانی کمیونٹی کے لیے بحرین کی حمایت کو تسلیم کیا اور مزید ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی تصدیق کی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تربیت، اور ڈیجیٹل گورننس میں مزید تعاون کا خیرمقدم کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کی تعمیر اور پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر بحرین کا شکریہ ادا کیا۔

    ملاقات میں دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے تربیت، سائبر سیکیورٹی، دفاعی پیداوار اور معلومات کے تبادلے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے غزہ کی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ کے عوام کے لیے جو کئی دہائیوں سے مصائب کا شکار ہیں، امن و استحکام کا قیام انتہائی خوش آئند ہے، جس کے غزہ کے عوام عرصہ دراز سے منتظر تھے۔ملاقات اس اعتماد کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ بات چیت کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے اور سٹریٹجک، اقتصادی، سیکورٹی اور عوام سے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید بلند کیا جائے گا۔