Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان ،سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کاروائیاں

    خیبر پختونخوا،بلوچستان ،سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کاروائیاں

    خیبر ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی عمائدین کے درمیان ایک اہم جرگہ منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں فریقین نے امن و استحکام کے قیام اور اسمگلنگ سمیت غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا اظہار کیا۔ جرگہ کے شرکاء نے فیصلہ کیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں دیرپا امن اور معاشی ترقی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

    خیبر کے علاقے بڑہ اکاخیل میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں نے اچانک حملہ کر دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں تین اہلکار شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاوید شہید ہوگئے۔ پولیس کے مطابق شہید اہلکار ڈیوٹی مکمل کر کے کھوجڑی چیک پوسٹ سے گھر واپس جا رہے تھے جب حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک کے علاقے کزا پانگا غوندک میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والا اہم دہشت گرد حبیب الرحمان مارا گیا جبکہ اس کے تین ساتھی زخمی ہوئے۔ مارا گیا دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث تھا۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید کارروائی جاری ہے۔

    پشاور کے علاقے پہاڑی پورہ میں موٹر سائیکل سوار دو ڈاکوؤں نے میڈیسن کمپنی کی گاڑی سے 62 لاکھ 40 ہزار روپے چھین لیے۔ پولیس کے مطابق ایک ڈاکو نے موٹر سائیکل گاڑی کے آگے روک دی جبکہ دوسرے نے مینیجر کو اسلحے کے زور پر کیش بیگ چھین لیا۔ واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    بلوچستان کے علاقے زہری میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے شدت پسند تنظیم "فتنہ الہندستان” کے قبضے سے علاقہ واپس لے لیا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے اور قومی پرچم لہرا کر ریاستی رٹ بحال کر دی گئی۔ حکام کے مطابق علاقے میں مکمل امن بحال ہو چکا ہے اور مقامی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں نامعلوم حملہ آوروں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔ اہلکار موٹر سائیکلوں پر فوجی قافلے کی سیکیورٹی کے لیے جا رہے تھے۔ دہشت گردوں نے بھاری فائرنگ کے بعد اسلحہ اور سامان چھین کر فرار ہو گئے۔ شدت پسند گروہ "فتنہ الہندستان” نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اس کی تصدیق کسی آزاد ذریعے سے نہیں ہو سکی۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن سرحد پر افغان پناہ گزینوں کی منظم اور باعزت وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 لاکھ 14 ہزار 384 افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جبکہ روزانہ 3 سے 4 ہزار افراد وطن لوٹ رہے ہیں۔ فرنٹیئر کور بلوچستان اور سول انتظامیہ نے سرحد پر رہائش اور خوراک کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ بغیر پاسپورٹ اور ویزہ کے پاکستان میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے علاقے ریکو روگان میں سیکیورٹی فورسز پر مسلح حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد اہلکاروں سے اسلحہ اور سازوسامان چھین کر فرار ہو گئے۔ کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گواہرام بلوچ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

  • پاکستان کا غزہ میں امن فوج بھیجنے کا کوئی معاہدہ نہیں: وزارت اطلاعات

    پاکستان کا غزہ میں امن فوج بھیجنے کا کوئی معاہدہ نہیں: وزارت اطلاعات

    وزارتِ اطلاعات نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے ساتھ غزہ میں امن فوج کے طور پر اپنے دستے بھیجنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

    ترجمان وزارت اطلاعات نے بیان میں واضح کیا کہ یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ہے، پاکستان کی قیادت اور مذکورہ اداروں کے درمیان کسی قسم کی بات چیت یا معاہدہ نہیں ہوا۔واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدے میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی تجویز شامل ہے، جس میں مسلم اکثریتی ممالک کے فوجیوں کی شمولیت متوقع ہے۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان 20 ہزار فوجی غزہ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے اور آرمی چیف عاصم منیر نے سی آئی اے اور موساد حکام سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں، تاہم پاکستان نے ان تمام رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے

    سندھ کی خواتین کے لیے اسکوٹی پروگرام اور پنک ای وی ٹیکسی سروس کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا میئر کراچی کے حمایت یافتہ ارکان سے لاتعلقی کا اعلان

    پی ٹی آئی آزاد کشمیر کا منحرف ارکان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

  • پاکستانی میزائل تجربات: دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جوہری توازن برقرار رکھنے کی کوشش

    پاکستانی میزائل تجربات: دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور جوہری توازن برقرار رکھنے کی کوشش

    پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور مؤثر جوہری توازن برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقسام کے میزائلوں کے کامیاب تجربات کیے ہیں، جن میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے کروز اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔

    فتح-4 کروز میزائل
    30 ستمبر کو پاک فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس کی رینج 750 کلومیٹر ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ جدید ایویونکس اور نیوی گیشنل نظام سے لیس میزائل دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    زمین سے زمین پر مار کرنے والا فتح میزائل
    5 مئی کو پاکستان نے فتح سیریز کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے گائیڈڈ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا، جس کی رینج 120 کلومیٹر ہے۔یہ تجربہ فوجی مشق "ایکس انڈس” کے دوران کیا گیا، جس کا مقصد افواج کی عملی تیاری اور میزائل کے تکنیکی پہلوؤں کی تصدیق تھا۔
    ابدالی بیلسٹک میزائل
    اسی سال مئی میں پاکستان نے سطح سے سطح پر مار کرنے والے ابدالی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جس کی رینج 450 کلومیٹر ہے۔یہ تجربہ بھی مشق "ایکس انڈس” کے دوران کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق تجربے کا مقصد افواج کی تیاری اور میزائل کے جدید نیوی گیشنل نظام و بہتر حرکت کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔
    پاک بحریہ کا بیلسٹک میزائل تجربہ
    گزشتہ سال نومبر میں پاک بحریہ نے 350 کلومیٹر رینج والے مقامی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل خشکی اور سمندر، دونوں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جدید نیوی گیشنل ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
    شاہین ٹو میزائل
    گزشتہ سال اگست میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے شاہین ٹو میزائل کا تجربہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس تربیتی لانچ کا مقصد ٹروپس کی تربیت اور مختلف تکنیکی پہلوؤں کی جانچ تھا۔
    راکٹ فورس کمانڈ کا قیام
    پاکستان آرمی نے اگست میں "راکٹ فورس کمانڈ” قائم کی تاکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔یہ کمانڈ بیلسٹک، کروز اور ممکنہ طور پر ہائپر سونک میزائلوں کے آپریشن کی ذمہ دار ہوگی۔بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور مالی سال 2025-26 کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ فورس پاکستان کی روایتی جنگی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹی20 میں ٹاس جیت کر فیلڈنگ

  • بھارتی جریدے کا 20 ہزار پاکستانی فوجی غزہ بھیجنے کا  من گھڑت دعویٰ

    بھارتی جریدے کا 20 ہزار پاکستانی فوجی غزہ بھیجنے کا من گھڑت دعویٰ

    بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے 20 ہزار فوجیوں کو غزہ بھیجنے کے مبینہ منصوبے سے متعلق دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع نے اس بھارتی جریدے کی رپورٹ کو ’’من گھڑت، گمراہ کن اور پروپیگنڈے پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی رپورٹ میں جسے ’’انٹیلی جنس لیک‘‘ قرار دیا گیا تھا، وہ دراصل من گھڑت معلومات پر مبنی ہے اور اس کا کسی سرکاری یا عسکری سطح پر کوئی وجود نہیں۔ ذرائع نے واضح کیا کہ نہ تو پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور نہ ہی دفترِ خارجہ کی جانب سے غزہ میں کسی فوجی مشن، تعیناتی یا امن فورس سے متعلق کوئی اعلان، تائید یا اشارہ دیا گیا ہے۔

    ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت میں مؤقف ہمیشہ سے ’’واضح، اصولی اور غیر متزلزل‘‘ رہا ہے، جو کسی بھی وقتی سیاسی یا علاقائی مصلحت سے مشروط نہیں۔ پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھی بھارتی رپورٹ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، نہ ہی کسی سطح پر اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کے ساتھ فوجی تعیناتی یا تعاون پر کوئی بات ہوئی۔ بھارتی میڈیا کی یہ خبر پاکستان کے خلاف منفی تاثر پھیلانے اور فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ ایسے پروپیگنڈے کا مقصد صرف خطے میں انتشار اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔‘‘ماہرینِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کا یہ دعویٰ دراصل جنوبی ایشیا میں پاکستان مخالف بیانیہ مضبوط کرنے کی مہم کا حصہ ہے، جو ہر بین الاقوامی انسانی بحران میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

  • آئین کی بیخ کنی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سزا یافتہ سے مشاورت کا مطالبہ،جمہوری روایات کا جنازہ

    آئین کی بیخ کنی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سزا یافتہ سے مشاورت کا مطالبہ،جمہوری روایات کا جنازہ

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی اُمور چلانے سے قبل ایک سزا یافتہ قیدی سے مشاورت کے مطالبے نے سنگین آئینی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کا یہ اقدام نہ صرف آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اُن کے عہدے کے حلف سے بھی متصادم ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئین کے آرٹیکل 130(5) اور تیسرے شیڈول کے تحت یہ حلف اٹھایا کہ وہ ’’دیانتداری، وفاداری اور آئین و قانون کے مطابق‘‘ صوبے کے اُمور چلائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سزا یافتہ اور نااہل شخص سے صوبائی پالیسیوں یا فیصلوں کے حوالے سے مشاورت کرنا، اس حلف کی براہِ راست خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    آئین کے مطابق وزیراعلیٰ کو صوبے کے انتظامی معاملات میں مکمل خودمختاری حاصل ہے۔ کسی بھی بیرونی یا نااہل فرد سے رہنمائی لینا یا اُس کے احکامات پر عمل درآمد کرنا صوبائی خودمختاری اور آئینی دائرہ کار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ طرزِ عمل آئینی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعدد فیصلوں میں یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ یا پارلیمانی اُمور کا کنٹرولر نہیں بن سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق، ایسی نااہلی سیاسی قیادت کے تمام عہدوں پر لاگو ہوتی ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ عمران خان کی 2022 کی نااہلی اُنہیں 2027 تک کسی بھی سیاسی یا تنظیمی عہدے کے اہل نہیں بناتی۔ نہ آئینِ پاکستان اور نہ ہی کوئی صوبائی قانون وزیراعلیٰ کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی سیاسی رہنما، بالخصوص ایک سزا یافتہ اور نااہل شخص، سے مشورہ کرے۔ ایسا مطالبہ آئینی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے غلط ہے۔

    خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک نہایت اہم اور حساس صوبہ ہے۔ اس کی انتظامیہ کو ذاتی وفاداریوں یا سیاسی احکامات کی زنجیروں میں جکڑنا نہ صرف قانون و حکمرانی کی توہین ہے بلکہ ریاستی اداروں کے اختیار کو بھی چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ کسی سزا یافتہ یا نااہل شخص کے احکامات پر عمل درآمد کرنا ’’ریاستی اداروں کی بلیک میلنگ‘‘ کے مترادف ہے اور یہ طرزِ عمل آئین، قانون اور جمہوری روایات تینوں کے خلاف ہے۔

    سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر، آئینِ پاکستان ہر وزیراعلیٰ کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل خودمختاری اور قانونی تقاضوں کے تحت ادا کرے۔ کسی بھی نااہل یا سزا یافتہ شخص سے رہنمائی لینا نہ صرف غیر آئینی بلکہ جمہوری اقدار کی نفی کے مترادف ہے۔

  • فیلڈ مارشل  سید عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےمصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ کیا ہے،

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم عرب ممالک کا دورہ کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال ہے،مصر، اردن اور سعودی قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے،فیلڈ مارشل کے ان اہم دوروں میں انسداد دہشت گردی، دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس اشتراک پر اہم بات چیت کی گئی ،فیلڈ مارشل کا دورہ مسلم ممالک کے مابین عسکری اتحاد اور یکجہتی کی مضبوط علامت ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ان دورں سے پاکستان کا خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے لیے کلیدی کردار اجاگر ہوا ہے، آرمی چیف کی فعال عسکری سفارتکاری پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کا باعث ہے،معرکہ حق کے بعد کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت پاکستان عالمی افق پر اپنے مضبوط اور با وقار تشخص کے ساتھ ابھر رہا ہے

  • افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاک افغانستان مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

    افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاک افغانستان مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

    ترکی میں ہونے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات افغان وفد کے غیرتعاون اور دفاعی رویّے کے باعث کسی پیش رفت تک نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات کے دوران افغان وفد کے بعض ارکان نے اشتعال انگیز گفتگو کی، براہِ راست سوالات سے گریز کیا اور کئی مواقع پر نامناسب زبان استعمال کی۔ذرائع نے بتایا کہ قطری اور ترک ثالث بھی افغان وفد کے رویے پر حیران رہ گئے اور انھوں نے بالواسطہ طور پر اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ ایک ایسا فریق جس سے مثبت اور تعمیری رویہ کی توقع تھی، اس نے مکمل طور پر غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق زیادہ تر نکات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم ایک اہم سیکیورٹی معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔ افغان وفد بار بار پاکستان کے بنیادی مطالبے ، یعنی افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر، قابلِ تصدیق اقدامات سے گریز کرتا رہا۔ان کے جوابات غیر واضح اور قانونی موشگافیوں پر مبنی تھے، نہ کہ عملی اقدامات پر۔

    ایک باخبر پاکستانی ذریعے نے بتایا “افغان وفد نے بارہا ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات سے گریز کیا۔ ان کی مبہم یقین دہانیاں اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکار نے مذاکرات کو نقصان پہنچایا۔”ذرائع کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار نقل و حرکت کے شواہد پیش کیے، مگر افغان نمائندوں نے ان شواہد پر سوال اٹھانے کی بجائے بحث کو سیاسی اور طریقۂ کار کے معاملات کی طرف موڑ دیا۔مذاکرات کے دوران افغان وفد مسلسل کابل سے رابطے میں رہا، جس نے مذاکراتی عمل کو غیر مستحکم کیا اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔

    جب پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، تو افغان وفد نے یہ کہہ کر ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا کہ “یہ گروہ ہمارے مؤثر کنٹرول میں نہیں”۔یہ مؤقف ترک اور قطری ثالثوں کے لیے غیرمتوقع تھا جنہوں نے امید کی تھی کہ افغانستان باہمی تعاون پر آمادہ ہوگا۔

    پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے جاری رہے تو پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔یہ انتباہ ایک سنجیدہ مگر متناسب ردعمل کے طور پر دیا گیا، جس کا مقصد صرف اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    افغان وفد نے تجویز دی کہ اگر افغانستان کچھ یقین دہانیاں دیتا ہے تو پاکستان بھی افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنے اور کسی تیسرے ملک کو اپنے فضائی راستے افغانستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کی ضمانت دے۔اسلام آباد نے وضاحت کی کہ ایسے معاملات، خصوصاً تیسرے ملک کی یکطرفہ کارروائیوں پر، پاکستان ضمانت نہیں دے سکتا ، اور نہ ہی پاکستان اس دہشت گردی کا ذمہ دار بن سکتا ہے جو افغان سرزمین سے شروع ہوتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جب افغان وفد نے فضائی حدود کے مسئلے کو اٹھایا تو پاکستانی وفد کے سربراہ جنرل شہاب اسلم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری اسی ملک کی ہے جس کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔”جنرل شہاب نے زور دیا کہ پاکستان نے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جن میں سرحد پار نقل و حرکت، اڈوں اور کمانڈ روابط کی تفصیلات شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان محض زبانی یقین دہانیوں کے بجائے زمینی اقدامات چاہتا ہے۔

    ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق مذاکرات 27 اور 28 اکتوبر کی درمیانی شب 18 گھنٹے جاری رہے۔ تین مرتبہ معاہدے کا مسودہ دونوں فریقین نے منظور کیا، مگر ہر بار افغان وفد نے کابل سے فون پر ہدایات لینے کے بعد معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ذرائع کے مطابق تیسری مرتبہ جب معاہدہ طے پایا تو جنرل شہاب نے افغان وفد سے پوچھا “اسلام میں کہا گیا ہے کہ جو بات تین مرتبہ کہی یا مانی جائے، وہ حتمی تصور ہوتی ہے۔ کیا اب یہ حتمی ہے؟”افغان وفد نے جواب دیا: “جی، ہم اتفاق کرتے ہیں۔”لیکن دستخط سے چند لمحے قبل، کابل سے فون آنے کے بعد افغان وفد دوبارہ پیچھے ہٹ گیا۔یہ منظر دیکھ کر قطری اور ترک ثالثوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا “اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور معاف فرمائے۔”

    ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے تقریباً ایک ہفتے بعد شروع ہوئے اور تین دن جاری رہے ،پہلے دن 19 گھنٹے، دوسرے دن 11 گھنٹے، اور تیسرے دن 18 گھنٹے۔پاکستان کا اصولی مؤقف یہی رہا کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی سرپرستی ختم کریں اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔مذاکرات کے دوران کئی مواقع پر افغان وفد نے پاکستانی دلائل سے اتفاق کیا، مگر ہر بار کابل کی ہدایت ملنے کے بعد وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا۔یہ طرزِعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل رکاوٹ افغان دارالحکومت سے آنے والی ہدایات اور رویے میں ہے۔

    اس کے باوجود پاکستان نے ترکی اور قطر کی درخواست پر مذاکرات کا سلسلہ مزید جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔
    یہ پاکستان کی سنجیدگی، استقامت اور خطے کے امن کے لیے خلوصِ نیت کا واضح ثبوت ہے۔اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے افغانستان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، تاکہ کسی بھی قسم کا خطرہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے جو عالمی امن کے لیے چیلنج بن جائے۔

  • مذاکرات کی ناکامی،طالبان کی دھڑے بندی،مالی مفادات رکاوٹ

    مذاکرات کی ناکامی،طالبان کی دھڑے بندی،مالی مفادات رکاوٹ

    استنبول میں ہونے والے پاکستان اور افغان عبوری حکومت کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بظاہر یہ تاثر دیا گیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل سفارتی وجوہات کی بنا پر پیدا ہوا، مگر درحقیقت اس ناکامی کے پس پردہ کہانی بالکل مختلف ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کا اصل سبب افغان حکومت کے اندرونی دھڑے، مالی مفادات اور پسِ پردہ طاقت کی کشمکش تھی، نہ کہ پاکستان کی کوئی سفارتی غلطی۔

    ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے پہلے ہی سیشن سے یہ واضح ہوگیا تھا کہ افغان وفد کسی ایک مؤقف پر متحد نہیں۔وفد کے اندر تین بڑے گروہ قندھار، کابل اور خوست اپنی اپنی ہدایات کے مطابق بات کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کو مختلف داخلی قوتوں کی جانب سے الگ الگ پیغامات دیے جا رہے تھے، جس کے باعث وفد میں ہم آہنگی کا فقدان نمایاں تھا۔مذاکرات اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے جب فریقین نے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق تحریری ضمانتوں پر بات شروع کی۔ذرائع کے مطابق قندھار دھڑے نے خاموشی سے اس تجویز پر رضامندی کا عندیہ دے دیا تھا، مگر وقفے کے دوران کابل گروپ نے اچانک ایک نئی اور غیر متفقہ شرط پیش کردی جب تک امریکہ اس معاہدے میں بطور باضابطہ ضامن شامل نہیں ہوتا، کوئی بھی معاہدہ دستخط نہیں کیا جائے گا

    یہ مطالبہ نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ مذاکراتی ایجنڈے میں شامل بھی نہیں تھا۔ اس اچانک تبدیلی نے ترکی اور قطر کے ثالثوں کو حیران کردیا۔ افغان سوشل میڈیا پر اس دوران امریکی ڈرونز کی سرگرمیوں کی خبریں چلنے لگیں، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ مطالبہ محض سکیورٹی کے لیے نہیں بلکہ مالی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق کابل گروپ دراصل ان مذاکرات کو سکیورٹی فریم ورک سے ہٹا کر ایک مالیاتی معاہدے میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر امریکہ کو شامل کیا جائے تو طالبان حکومت “امریکی تعاون” کا دعویٰ کرسکے،واشنگٹن کے ذریعے “معاشی امداد” کی راہیں دوبارہ کھل سکیں،اور داخلی دھڑوں پر دباؤ کم کیا جا سکے

    دوسرے الفاظ میں افغان حکومت کے بعض دھڑے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو ایک مالی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے تھے تاکہ ڈالر کی ترسیل دوبارہ شروع ہوسکے۔

    مذاکرات کے دوران افغان وفد کی بدنظمی سب کے سامنے آشکار ہوگئی۔عینی شاہدین کے مطابق ایک نمائندہ ہاتھ سے لکھے چِٹ پر باہر بیٹھے شخص سے ہدایات لے رہا تھا، جبکہ دوسرا بار بار فون کالز کے لیے کمرہ چھوڑ کر جا رہا تھا۔ان کالز کے بعد پہلے سے طے شدہ نکات اچانک “زیرِ نظرِ ثانی” قرار دیے گئےمتصدیق شدہ شقوں کو دوبارہ “کھولا” گیا،اور مذاکرات کی رفتار جان بوجھ کر سست کر دی گئی،ثالثوں کے مطابق یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا تاکہ بیرونی عناصر، خصوصاً بھارت کو وقت دے کر عمل میں شامل کیا جا سکے۔

    قطری اور ترک ثالثوں نے نجی طور پر تین نکات پر اتفاق کیا ،پاکستان کے مطالبات مکمل طور پر جائز اور عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق ہیں۔افغان وفد کی رکاوٹ کسی پالیسی یا اصولی مسئلے کی نہیں بلکہ اندرونی غیر یقینی کی وجہ سے ہے۔کابل دھڑا جان بوجھ کر معاملے کو واشنگٹن کی جانب موڑنا چاہتا ہے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

    استنبول مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں ،افغان حکومت کے اندر اختلافات اور دھڑے بندی،کابل گروپ کی کوشش کہ امریکہ کو شامل کرکے ڈالر کی آمد دوبارہ شروع کی جائے،اور طالبان کا ٹی ٹی پی کو بطور “سیاسی کرنسی” استعمال کرنے کا فیصلہ

    ماہرین کے مطابق جب تک کابل انتظامیہ اپنے اندرونی اختلافات ختم نہیں کرتی، اور دہشت گردی کو سیاسی یا مالی مفاد کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بند نہیں کرتی، اس وقت تک پاکستان یا کسی بھی ثالث کے لیے کوئی حقیقی پیش رفت ممکن نہیں

  • پاک افغان مذاکرات،افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاکستان کی آخری کوشش جاری

    پاک افغان مذاکرات،افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاکستان کی آخری کوشش جاری

    استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ. تیسرے دن مذاکرات 18 گھنٹے تک جاری رہے۔

    18 گھنٹوں کے دوران افغان طالبان کے وفد نے متعدد بار پاکستان کے خوارج (TTP) اور دہشت گردی کہ خلاف مصدق اور یقینی کاروائی کے منطقی اور جائز مطالبے سے اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق میزبانوں کی موجودگی میں بھی افغان وفد نے اس مرکزی مسئلے کو تسلیم کیا۔ تاہم ہر مرتبہ کابل سے ملنے والی ہدایات کے باعث افغان طالبان کے وفد کا مؤقف بدل جاتا۔مذاکرات کے دوران کابل سے ملنے والے غیر منطقی اور نا جائز مشورے ہی بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے ذمہ دار ہیں۔تاہم پاکستان اور میزبان انتہائی مدبرانہ اور سنجیدہ طریقے سے اب بھی ان پیچیدہ معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں۔اب بھی ایک آخری کوشش جاری ہے کے باوجود طالبان کی ہٹ دھرمی کسی طرح اس معاملے کو منطق اور بات چیت سے حل کر لیا جائے اور مذاکرات ایک آخری دور کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    ترکی میں ہونے والے مذاکراتی عمل سے افغانستان کی ممکنہ دستبرداری کی اصل وجہ اب واضح ہو گئی ہے، افغان مذاکراتی وفد تو مطالبات مان رہا ہے لیکن، طالبان کے اندر موجود قندھار، کابل اور خوست کی گروہ بندی کی وجہ سے بات کسی طرف مکمل نہیں ہورہی. کسی نقطے پر قندھاری گروپ رضامند ہو جاتا ہے تو کابلی گروپ کے اختلافات سامنے آجاتے ہیں. زمینی حقائق اور رابطوں کی پیچیدگی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ افغان حکومت کے مختلف گروہ بھارت سے رابطہ میں ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے ہدایات لے رہے ہیں.ثالث ممالک اور انکی طرف سے مذاکراتی کمیٹی میں شامل عہدیداران کا بھی اتفاق ہے کہ پاکستان کے مطالبات نا صرف جائز ہیں بلکہ خطے میں امن و امان اور ترقی کے لئے پاکستان کا موقف دُرست ہے.

  • بھارت میں داعش سر اٹھانے لگی،سیکورٹی ادارے پریشان

    بھارت میں داعش سر اٹھانے لگی،سیکورٹی ادارے پریشان

    پونے میں سافٹ ویئر انجینئر کی گرفتاری: القاعدہ اور داعش سے مبینہ روابط بے نقاب، مہاراشٹر اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی

    مہاراشٹر کے اینٹی ٹیررازم اسکواڈ نے پیر کے روز ایک اہم کارروائی کے دوران پونے سے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو گرفتار کرلیا ہے، جس پر القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے روابط رکھنے کا الزام ہے۔ گرفتار شخص کی شناخت زبیر ہنگارےکر کے نام سے ہوئی ہے۔

    اے ٹی ایس کے مطابق ملزم گزشتہ ایک ماہ سے ان کی نگرانی میں تھا اور اسے پونے کے کوندھوا علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں خصوصی عدالت نے اسے 4 نومبر تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔پولیس کے مطابق زبیر ہنگارےکر پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے اور مہاراشٹر سمیت دیگر شہروں میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔تحقیقات کے دوران پولیس نے اس کے گھر سے ایسے مواد اور ڈیجیٹل دستاویزات برآمد کی ہیں جنہیں شدت پسند نظریات کی تبلیغ اور نوجوانوں کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

    اسی کیس سے متعلق کارروائی میں 27 اکتوبر کو پونے ریلوے اسٹیشن پر چنئی ایکسپریس سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 9 اکتوبر کو اے ٹی ایس نے پونے کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے، جہاں سے الیکٹرانک آلات، دستاویزات اور دیگر شواہد برآمد کیے گئے جو علاقے میں ایک وسیع دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

    پونے کی یہ کارروائی حال ہی میں دہلی کے صادق نگر سے محمد عدنان خان عرف ابو محارب (19 سال) اور بھوپال سے عدنان خان عرف ابو محمد (20 سال) کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے۔یہ دونوں نوجوان مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے آن لائن ونگ سے وابستہ تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں کی آن لائن ذہن سازی (ریڈیکلائزیشن) شام میں موجود ایک ہینڈلر کے ذریعے کی گئی تھی۔

    تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان شام میں موجود داعش کے ایک رکن کو رپورٹ کرتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش نے شام میں دوبارہ منظم ہوکر اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔اطلاعات کے مطابق 2025 میں داعش کے 115 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 72 حملوں کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔

    انٹیلی جنس بیورو (IB) کے افسران کے مطابق، داعش نے اپنی آن لائن موجودگی کو از سرِ نو منظم کیا ہے اور ہندوستان میں اس کی سرگرمیاں شام سے چلائی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گروپ سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس اور ویب فورمز کے ذریعے بھارتی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔