Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • صدر آصف علی زرداری سے قطر میں عراقی ہم منصب کی ملاقات

    صدر آصف علی زرداری سے قطر میں عراقی ہم منصب کی ملاقات

    صدر آصف علی زرداری سے قطر میں عراقی ہم منصب عبداللطیف جمال رشید نے ملاقات کی، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا جبکہ بزنس ٹو بزنس روابط اور ویزا سہولتوں میں اضافے پر گفتگو ہوئی۔

    قطر کے دارالحکومت دوحا میں صدر آصف زرداری سے عراقی ہم منصب عبداللطیف جمال رشید نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور عراق کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔پاکستان اور عراقی رہنماؤں کی ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا جبکہ بزنس ٹو بزنس روابط اور ویزا سہولتوں میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستانی زائرین کیلئے عراقی حکومت کے تعاون کو سراہا۔ ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔

  • سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،افغان بارڈرسیکورٹی فورس کے اہلکار سمیت 3 خوارج ہلاک

    سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،افغان بارڈرسیکورٹی فورس کے اہلکار سمیت 3 خوارج ہلاک

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں 2 مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے افغان بارڈر سکیورٹی فورس کے فعال پولیس اہلکار سمیت 3 خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 2 نومبر کو سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں دو کارروائیاں کیں جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ایک کارروائی خوارجیوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی شمالی وزیرستان میں ایشام کے سامنے علاقے میں کی گئی، خوارج سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے، فورسز نے خوارجیوں کے گروہ کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، کارروائی میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے دو کارندے ہلاک ہوئے، مارا گیا ایک خارجی قاسم افغان افغان بارڈر پولیس کا فعال اہلکار تھا جبکہ ٹانک میں ہلاک کیا گیا اکرام الدین عرف ابو دجانہ بھی افغان دہشتگرد تھا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنائے، بارہا مطالبہ کیا افغان سرزمین خوارج اور سہولت کار پاکستان کے خلاف استعمال نہ کریں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشتگردی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی

  • قلات،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 دہشتگرد جہنم واصل

    قلات،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،4 دہشتگرد جہنم واصل

    قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس آپریشن میں 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یکم نومبر کی رات سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلات میں بھارتی پراکسی یافتہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا،سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس دوران 4 دہشتگرد مارے گئے، یہ دہشتگرد متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے جب کہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، دہشتگردوں کے خاتمےکے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد دہشتگردی مہم جاری رکھیں گے تاکہ بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کا ناسور مکمل ختم کیا جاسکے

  • بلوچستان،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

    بلوچستان،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

    ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں کئی اہم واقعات پیش آئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، جبکہ کچھ واقعات میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی زخمی یا شہید ہوئے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق جھاؤ کے علاقے میں پاکستانی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیموں نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کا اہم کمانڈر عبدالخالق عرف وادو خفیہ آپریشن کے دوران مارا گیا۔ وہ ایران سرحد کے قریب ایک قصبے میں مقیم تھا اور تنظیم کی اسلحہ و منشیات کی سپلائی چین کا نگران تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ عبدالخالق کی ہلاکت سے بی ایل اے کے مالیاتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    موسیٰ خیل کے علاقے رارا شام میں سیکیورٹی فورسز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران دو دہشت گرد کمانڈر، اصغر خان اور فیروز خان، ہلاک ہو گئے۔دونوں افراد علاقے میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے، جن میں 26 اگست 2024 کا وہ سانحہ بھی شامل ہے جس میں 23 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا تھا۔

    وسطی کرم کے گاؤں جدرا خرکی میں دہشت گردوں کی فائر کی گئی مارٹر گولہ باری سے ایک شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں اس نوعیت کے حملے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ضلع پولیس افسر (DPO) بنوں وقار احمد خان کے قافلے پر مامش خیل کے مقام پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ڈی پی او محفوظ رہے۔

    مقامی عمائدین کی کوششوں سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے کمر خیل کے علاقے سے انخلا پر آمادگی ظاہر کر دی۔ذرائع کے مطابق عمائدین نے شدت پسندوں کو 4 اگست کے اس تحریری معاہدے کی یاد دہانی کرائی جس میں شہری علاقوں کے استعمال سے اجتناب پر اتفاق ہوا تھا۔گزشتہ جھڑپوں میں کئی شہری جاں بحق اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ شدت پسندوں نے چند روز میں علاقے سے نکلنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ہووید کے علاقے سے چند روز قبل اغوا کیے گئے اسپیشل برانچ اہلکار شفیع اللہ خان کو مقامی عمائدین کی کوششوں سے بازیاب کرا لیا گیا۔ذرائع کے مطابق مقامی امن کمیٹی نے شدت پسندوں کے کمانڈر کے رشتہ داروں کو حراست میں لینے کے بعد جرگہ کے ذریعے رہائی ممکن بنائی۔

    بوشیرا کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سعیداللہ نامی شخص شدید زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق دھماکہ کھیتوں میں نصب دیسی ساختہ بارودی مواد سے ہوا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔سفید قبر کے علاقے میں 18 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اُس کے داماد نے قتل کر دیا۔متوفیہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے غیرت کے نام پر قتل کا اعتراف خود فون پر کیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ملزم فرار ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں تخت نصرتی کے علاقے مدکی روڈ پر ایک دہشت گرد مارا گیا۔
    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد گاڑیوں کو روک کر تلاشی لے رہے تھے جب فورسز کے پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔مارے گئے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے، جبکہ اسلحہ و بارود برآمد ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔مارے جانے والوں میں ایک افغان شہری قاسم شامل ہے جو سابق افغان بارڈر پولیس اہلکار تھا۔کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    طورخم سرحد تیسرے روز بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھلی رہی۔گزشتہ تین روز میں 19 ہزار 343 افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔انتظامیہ نے واپسی کے عمل کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران داعش خراسان کے اہم کمانڈر ضیاء الدین عرف ابراہیم ادریس کو ہلاک کر دیا گیا۔وہ تحریک انصاف کے رہنما ریحان زیب اور عوامی نیشنل پارٹی کے مولانا خان زیب سمیت متعدد اہم شخصیات کے قتل میں ملوث تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضیاء الدین افغانستان میں قید تھا اور طالبان کی حکومت کے بعد رہا ہو کر 2023 میں پاکستان آیا تھا تاکہ داعش خراسان کا نیٹ ورک دوبارہ منظم کر سکے۔حکام کے مطابق اس کی ہلاکت سے تنظیم کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

  • ٹی ٹی پی باز نہ آئی، نام بدل کر دہشتگردی کی کاروائیاں شروع

    ٹی ٹی پی باز نہ آئی، نام بدل کر دہشتگردی کی کاروائیاں شروع

    تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے افغان طالبان کے دباؤ کے بعد اپنے بعض روایتی نام چھوڑ کر مختلف نئے ناموں کے تحت کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کے پیچھے ترکی میں طے پانے والے کسی معاہدے اور افغان طالبان کی جانب سے دھرائے جانے والے سیاسی و عسکری اثر و رسوخ کا ہاتھ ہے۔

    گزشتہ روز پشاور کے نواحی علاقے جنا کوڑ میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری "تحریکِ طالبان لبیک فورس” نے قبول کی ہے، اور اس کا ترجمان غازی ممتاز قادری نامزد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیکورٹی حکام نے ابھی تک اس دعوے کی آزادانہ تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔جس ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھی بعد ازاں اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا،

    باخبر ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی صف بندی اور شناخت چھپانے کے لیے مختلف نام استعمال کر رہی ہے تاکہ افغان طالبان کے دباؤ، بین الاقوامی نظرِ عامہ اور سکیورٹی اداروں کی توجہ سے بچا جا سکے۔دوسری جانب تحریک لبیک کو تنظیم بنانا اور ممتاز قادری مرحوم کے نام پر ترجمان بنانا تحریک لبیک کے کارکنوں کو ورغلانے کی کوشش ہےتاکہ وہ بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ شامل ہوکر حملے شروع کر دیں،جبکہ باقی تنظیموں کے نام بیت المقدس وغیرہ پر رکھنے کا مقصد ہے کہ جن لوگوں کو فلسطین یا غزہ سے ہمدردی ہے اور وہ وہاں پر اسرائیل کے خلاف مزاحمت چاہتے ہیں وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے اور اسرائیل کی بجائے پاکستان کے خلاف جنگ شروع کردے ، ماضی میں ٹی ٹی پی نے مختلف نام اختیار کیے جانے کی تاریخ موجود ہے، انصار الشریعہ، انصار الجہاد، جیش المہدی، جیش بیت المقدس، جیش الافغان، وغیرہ اور اب اسی طرزِ عمل کے تحت نئے نام اپنائے جا رہے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے نام رکھنے سے وہ دنیا کی سطح پر براہِ راست شناخت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور افغان طالبان کے دباؤ کے اثرات سے بھی کچھ حد تک بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ تاہم، یہ ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس طریقِ کار سے اندرونی انتشار، فرقہ وارانہ فسادات اور بیرونی مداخلت کے بہانے بڑھ سکتے ہیں۔

    تجزیہ نگاروں اور سکیورٹی مبصرین کے مطابق ناموں کی تبدیلی کے ذریعے کارروائیوں کی شناخت چھپانے کی کوشش سے دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کو منطقی و نظریاتی لیبل دے کر مقامی بھرتی اور حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔نئی تنظیمی صف بندی سے علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور اندرونی سکیورٹی چیلنج بڑھے گا۔ماہرین سفارش کرتے ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے حملوں کی شفاف اور فوری تفتیش کریں اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کریں۔سوشل میڈیا اور اطلاعاتی ذرائع پر گردش کرنے والے دعوؤں کی صداقت کی جانچ کرائیں تاکہ غلط معلومات و پروپیگنڈے کو بروقت روکا جا سکے۔مقامی کمیونیٹیز اور مذہبی قائدین کے ساتھ رابطے مضبوط کیے جائیں تاکہ تشدد کے بیانیے کی روک تھام ممکن ہو۔

  • پاکستان ،روس،چین جوہری تجربات کر رہے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    پاکستان ،روس،چین جوہری تجربات کر رہے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو جوہری ہتھیاروں کے تجربات کر رہے ہیں۔ روس، چین، شمالی کوریا اور پاکستان اس وقت فعال طور پر ایٹمی تجربات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا امریکہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی آزمائش دوبارہ شروع کرے۔

    ٹرمپ نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جب ان سے امریکہ کی جانب سے تین دہائیوں بعد ممکنہ طور پر ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق سوال کیا گیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ“روس تجربات کر رہا ہے، چین تجربات کر رہا ہے لیکن ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ ہم ایک کھلا معاشرہ ہیں، ہمیں بات کرنی پڑتی ہے کیونکہ ہمارے یہاں صحافی سوال کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک زیرِ زمین تجربات کرتے ہیں، جہاں کسی کو کچھ پتا نہیں چلتا، صرف ہلکی سی لرزش محسوس ہوتی ہے۔”

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ،“ہمیں بھی تجربات کرنا ہوں گے کیونکہ وہ (دوسرے ممالک) کر رہے ہیں۔ شمالی کوریا تجربات کر رہا ہے، پاکستان بھی تجربات کر رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کہاں کر رہے ہیں، لیکن یہ ہورہا ہے۔” ٹرمپ نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو مجبوراً ایٹمی تجربات کرنے کی طرف جانا پڑے گا تاکہ دفاعی توازن برقرار رکھا جا سکے۔ان کے مطابق روس نے حال ہی میں جدید ایٹمی صلاحیت والے ہتھیاروں، بشمول "پوسائیڈن” انڈر واٹر ڈرون، کے تجربات کیے ہیں، جبکہ شمالی کوریا مسلسل ایٹمی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا “اگر آپ دیکھیں تو شمالی کوریا ہر وقت تجربات کر رہا ہے، روس بھی اعلان کر چکا ہے، اور دوسرے ممالک بھی یہی کر رہے ہیں۔ ہم واحد ملک ہیں جو تجربات نہیں کرتا، اور میں نہیں چاہتا کہ امریکہ واحد ملک ہو جو تجربات نہ کرے۔”

    ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ان کے مطابق،“ہمارے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ ہم دنیا کو 150 مرتبہ تباہ کرسکتے ہیں۔ روس کے پاس بھی بہت ہیں، چین کے پاس بھی کافی ہیں، لیکن ہمارے پاس سب سے زیادہ ہیں۔”انہوں نے کہا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ایٹمی تخفیف کے حوالے سے بات چیت بھی کی ہے، تاہم ابھی تک کسی عملی پیشرفت کا امکان نہیں۔

    دوسری جانب، امریکی توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ تجربات میں فی الحال ایٹمی دھماکے شامل نہیں ہوں گے۔ان کے مطابق “جو تجربات کیے جائیں گے وہ نظامی نوعیت کے ہیں، یعنی ان میں جوہری دھماکے شامل نہیں ہوں گے۔ انہیں نان-کریٹیکل ایکسپلوزنز کہا جاتا ہے، جن میں جوہری مادّے کو نہیں پھاڑا جاتا بلکہ باقی اجزا کی جانچ کی جاتی ہے۔”کرس رائٹ کا کہنا تھا کہ ان تجربات کا مقصد نئے نظاموں کی فعالیت کو یقینی بنانا اور آئندہ نسل کے جوہری ہتھیاروں کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے دفاعی حلقوں میں نئے سرد جنگی ماحول اور روس و چین کی بڑھتی ایٹمی سرگرمیوں پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق، اگر امریکہ واقعی ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرتا ہے تو عالمی سطح پر ایک نئی ایٹمی دوڑ کا آغاز ہوسکتا ہے، جو عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے امریکی فوج کو فوری طور پر جوہری ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ کا حکم دیا تھا،سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے محکمہ جنگ کو ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ کا حکم دے دیا ہے اور یہ عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا،صدر ٹرمپ نے لکھاکہ امریکا کو ان ممالک کے مقابلے میں برابر کی سطح پر ہونا چاہیے جو یہ پروگرام رکھتے ہیں۔

  • اے این پی ،پی ٹی آئی رہنماؤں کے قتل میں ملوث دہشتگرد ہلاک

    اے این پی ،پی ٹی آئی رہنماؤں کے قتل میں ملوث دہشتگرد ہلاک

    باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما کے قتل میں ملوث دہشتگرد مارا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں کوثر کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشتگرد ضیاءالدین عرف ابراہیم ادریس مارا گیا، دہشتگرد ضیاءالدین متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز میں ملوث تھا،دہشتگرد پی ٹی آئی رہنما ریحان زیب، اے این پی کےمولانا خان زیب، ڈپٹی کمشنر ناوگئی اور جے یو آئی کے ارکان کے قتل میں بھی شامل تھا۔ مارے گئے دہشت گرد نے متعدد پولیس اہلکاروں کو بھی قتل کیا، دہشت گرد ضیاء الدین طالبان کے کابل پر قبضے سے قبل افغان جیل میں قید تھا، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشتگرد ضیاء الدین کو رہا کر دیا گیا تھا،دہشت گرد ضیاء الدین 2023 میں افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا تھا، دہشتگرد ضیاءالدین کی ہلاکت سے داعش خراسان کےنیٹ ورک کو بڑا دھچکا لگا۔

  • فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی،دہشتگردوں سے کوئی بات  نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    فوج سیاست میں نہیں الجھنا چاہتی،دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    غزہ امن فوج کافیصلہ حکومت اورپارلیمنٹ کرےگی،ترجمان پاک فوج
    ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چودھری نے صحافیوں سےغیررسمی گفتگو میں کہا ہے کہ غزہ امن فوج کافیصلہ حکومت اورپارلیمنٹ کرےگی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں،عوام کی حفاظت کیلئےتیارہے،پاکستان پالیسی بنانےمیں خودمختارہے،فتنہ الخوارج کےخلاف آپریشن میں1667دہشت گردمارےگئے،فوج سیاست میں نہیں الجھناچاہتی،فوج کوسیاست سے دوررکھاجائے،جرائم پیشہ اوردہشت گردگروپ ملک میں جرائم،سمگلنگ روکنےمیں رکاوٹ ہیں،میں پبلک سرونٹ ہوں کسی پر الزام نہیں لگا سکتا، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے چیف منسٹر ہیں، بس اتنا ہی کہوں گا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی خبریں تخیلاتی ہیں، اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوا تو حکومت کا دائرہ اختیار ہے،گورنرراج سےمتعلق فیصلےکااختیارحکومت کےپاس ہے،افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں،دہشت گردی کاخاتمہ اہم ہے،افغانستان میں منشیات سمگلرزکی افغان سیاست میں مداخلت ہے،افغانستان سےبڑے پیمانےپرمنشیات پاکستان سمگل کی جارہی ہے،افغانستان کیلئےمحبت جاگ رہی ہےتو آپ وہیں چلےجائیں،دہشت گرد عشرکےنام پرٹیکس لیتےہیں،زیادہ ترآپریشن بلوچستان میں ہوئے،حالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران206افغان طالبان مارےگئے،حالیہ پاک افغان کشیدگی کےدوران112فتنہ الخوارج ہلاک ہوئے،ٹی ٹی پی نےافغان طالبان کےامیرکےنام پربیعت کی،ٹی ٹی پی افغان طالبان کی شاخ ہے،بھارت گہرےسمندرمیں ایک اورفالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہاہے،بھارت نے زمین،سمندراورفضامیں جوکچھ کرناہےکرے،بھارت جان لے،اس بارجواب پہلےسےزیادہ شدیدہوگا،اس سال62ہزار113آپریشن کیے،582فوجی جوان شہیدہوئے،مدارس کی تعداد2014میں48ہزار،اب ایک لاکھ سےزائدہے،افغانستان میں ہمارارسپانس سوئفٹ ہے،کوشش کی افغانستان کےساتھ معاملات طے ہوں،پاکستان کاون پوائنٹ ایجنڈاہے،افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو،رواں سال62113آپریشن کیے،زیادہ تربلوچستان میں ہوئے ،پاکستان نے امریکا کو اپنی سرزمین سے افغانستان پر حملوں کی کوئی اجازت نہیں دی، ایسی خبریں افغانستان کا پراپیگنڈا ہے، امریکی ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں حملے کا الزام جھوٹا ہے، نہ ہمارا امریکا کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہےکہ امریکا پاکستان سے ڈرون کے ذریعے افغانستان میں کارروائی کرے، افغان میڈیا بھارتی میڈیا کے ساتھ مل کر فیک ویڈیوز پھیلا رہا ہے۔

    دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی سے متعلق سال 2025 کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی گئی، جس میں ملک بھر میں ہونے والے آپریشنز، دہشت گردانہ حملوں، اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے دوران ملک بھر میں کل 62 ہزار 113 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ اوسطاً روزانہ 208 آپریشنز انجام دیے گئے، جن کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں سال بھر میں 4373 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز کی بہادرانہ کارروائیوں کے دوران 1667 دہشت گرد مارے گئے۔تاہم، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں قوم کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، مختلف کارروائیوں اور حملوں میں 1073 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا جن میں پاک فوج کے 584 جوان و افسران،دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) کے 133 اہلکار، اور356 عام شہری شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 514 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں میں 77 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ان واقعات میں مجموعی طور پر 198 افراد متاثر ہوئے، جن میں 36 فوجی و ایف سی اہلکار شہید،138 زخمی،پولیس کا 1 اہلکار شہید اور 2 زخمی،جبکہ 12 عام شہری شہید اور 11 زخمی ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے عزم، قربانیوں اور بروقت کارروائیوں کے باعث دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے، تاہم مکمل امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق، 2025 کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے اور قربانیوں کا یہ سلسلہ ملک و قوم کے امن کے لیے جاری رہے گا۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری،اہم نکات،پی ٹی آئی کا ردعمل بھی آ گیا

    27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری،اہم نکات،پی ٹی آئی کا ردعمل بھی آ گیا

    حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری کرلی، اہم نکات سامنے آگئے۔

    رپورٹ کے مطابق ملک میں آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس کے چیف جسٹس ہی سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہوں گے، ججز ٹرانسفر میں چیف جسٹس کی اجازت اور متعلقہ جج کی رضامندی کی شق ختم کرنے کی تجویز ہے، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا طریقۂ کار بھی تبدیل کیا جائے گا۔ترامیم میں این ایف سی ایوارڈز کے حوالے سے تبدیلیاں بھی شامل ہیں، این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بھی تجویز ہے، ایگزیکٹو مجسٹریٹ سمیت اہم تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق تعلیم اور محکمہ پاپولیشن ویلفیئر واپس وفاق کے پاس چلے جائیں گے، 27ویں ترمیم میں فوج کی کمانڈ کے حوالے سے ترمیم بھی شامل ہے، حکومت مجوزہ ترامیم منظور کرانے کیلئے اتحادیوں کو اعتماد میں لے گی، اتفاق رائے ہونے پر حکومت آئینی ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ریاستی ایوانوں سے ایک بار پھر ایک نئی آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ابھی 26ویں آئینی ترمیم کے زخم تازہ ہیں اور اب 27ویں آئینی ترمیم کی بات کی جا رہی ہے۔ 1973ء کا آئین پاکستان کا متفقہ آئین ہے، جسے ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود سمیت تمام سیاسی قیادت نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ یہ آئین ریاست کی تمام اکائیوں کو ایک خوبصورت بندھن میں جوڑے رکھتا تھا۔ بدقسمتی سے اب بھٹو صاحب کے جانشین اور اُن کی اپنی جماعت اسی آئین کے چہرے کو مسخ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔موجودہ پارلیمان فارم 47 کی پیداوار ہے، جسے اس نوعیت کی بڑی آئینی ترمیم کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ ملک کی تمام جمہور پسند قوتوں کو اس ناجائز ترمیم کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ سب کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا اور یہ نظام اپنی بنیادوں سمیت زمین بوس ہو جائے گا۔

    علاوہ ازیں 27 ویں آئینی ترمیم کےلئے حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس رواں ہفتے بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا،سینیٹ کا اجلاس کل اور قومی اسمبلی کا اجلاس پرسوں بلانے کےلئے سمری وزیر اعظم کو ارسال کردی گئی ہے،

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے باضابطہ ڈرافٹ پر اب تک کوئی کام شروع نہیں ہوا لیکن وقتاً فوقتاً اس پر بات چیت ضرور ہوتی رہتی ہے، آرٹیکل 243 میں ترمیم کا مقصد معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تحفظ دینا ہے، دہشت گردی اور انتہا پسندی سمیت دیگر اہم مسائل سے متعلق آگہی کے لیے مرکزی تعلیمی نصاب ہونا ضروری ہے،ہ آئینی عدالتوں کا قیام 26ویں ترمیم کا بھی حصہ تھا اب بھی اس پر بات ہوئی ہے، آبادی پر کنٹرول کے لیے بھی مرکزی سوچ کا ہونا بہت اہم ہے۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم،ن لیگی وفد نے حمایت مانگی،اجلاس بلا لیا ہے،بلاول

    27 ویں آئینی ترمیم،ن لیگی وفد نے حمایت مانگی،اجلاس بلا لیا ہے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں ن لیگ کا وفدصدرمملکت اور مجھ سے ملنے آیا تھا، ن لیگی وفد نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام اور ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی ،ججز کے تبادلے کا اختیار،این ایف سی میں صوبائی حصے کے تحفظ کا خاتمہ، آرٹیکل 243 میں ترمیم کے نکات ،تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کی وفاق کو واپسی ،الیکشن کمیشن کی تقرری پر جاری تعطل ختم کرنا بھی شامل ہے ، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6 نومبر کو طلب کیاگیا ہے،صدرآصف علی زرداری کی دوحہ سے واپسی پر اجلاس ہوگا، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائےگا،