لاہور:موسم سرما کی چُھٹیوں کا اعلان:اساتذہ اورطالب علم خوش:والدین پریشان ،اطلاعات کے مطابق تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے فیڈرل سیکرٹری ایجوکیشن ناہید درانی نے اجلاس کی صدارت کی, کانفرنس میں تمام صوبوں کے سیکرٹری ایجوکیشن شریک ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق سکولوں میں تعطیلات کے حوالے سے والدین، بچے اور اساتذہ سب ہی پریشانی کا شکار تھے۔ اجلاس میں صوبائی وزرائے تعلیم شریک نہیں تھے جبکہ تمام صوبوں کے سیکرٹری تعلیم نے شرکت کی۔ اجلاس میں 2 تجاویز دی گئی، پہلی تجویز میں 20 دسمبر سے 15 جنوری تک اسکولز بند رکھنے جبکہ دوسری تجویز میں 25 دسمبر سے 20 جنوری تک سکولوں کو بند رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
Federal and provincial secretaries met today. The agreed proposal was that winter holidays should be from Dec 25 to Jan 4. Further notifications will be from the concerned governments
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کے وفاقی اور صوبائی سکریٹریز کی آج ملاقات ہوئی، موسم سرما کی چھٹیاں 25 دسمبر سے 4 جنوری تک کی تجویزپر اتفاق ہوا ہے جبکہ نوٹیفکیشن صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیاں 20 دسمبر سے یکم جنوری تک کرنے کا اعلان کر دیا ہے ، محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ میں تعلیمی ادارے اسکول و کالجز 20 دسمبر سے یکم جنوری تک بند رہیں گے اور 3جنوری کو تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔
محمد بن سلمان کا نیا کارنامہ، سعودی عرب میں انقلاب آ گیا، سلمان خان کے ٹھمکے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سعودی عرب سوشل میڈیا پر کافی ٹرینڈ کر رہا ہے ہر ایک چینل اور ویب سائیٹ پر سعودی عرب سے متعلق دو خبریں بھی خوب گردش کر رہی ہیں۔ ان میں ایک خبر تو حال ہی میں ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں اور دوسری خبر تبلیغی جماعت پر لگنے والی پابندی ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ایک تیسری خبر بھی ہے جس پر ابھی زیادہ بات نہیں کی جا رہی اور وہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی رہنما سید ابوالاعلی مودودی سمیت دیگر کئی مصنفین کی کتابیں سعودی حکومت نے لائبریریوں سے ہٹانے کی ہدایت کر دی ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن ان دنوں خبروں کے حوالے سے یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر ہے کہ لوگ اتنا حیران کیوں ہیں۔ سوشل میڈیا پر اتنا واویلا کیوں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب میں یہ حالات کوئی ایک مہینے، ایک ہفتے، ایک دن یا ایک رات میں تو پیدا نہیں ہوئے ہیں جو کہ آپ سب اتنا پریشان ہیں۔یہ سب تو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا حصہ ہے۔ اور جب سے وہ ولی عہد بنے تھے اس طرح کی تبدیلیاں تو تب سے ہی آہستہ آہستہ سعودی ماحول کو حصہ بننا شروع ہو گئیں تھیں اور ابھی اور بہت سی تبدیلیاں ہیں جو کہ آنے والے وقت میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے سعودیہ عرب کو بالکل بدل دیا جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب جو کبھی مکہ، مدینہ اور اپنی اسلامی روایات کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا آنے والے چند سالوں میں سعودی عرب اپنی Modernizationاور ترقی کی وجہ سے پہچانا جائے گا۔معاملہ کچھ یوں ہے کہ جمعہ کے روز سعودی عرب کی ایک بڑی جامع مسجد میں ایک خطبہ دیا گیا۔ جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ۔۔۔سعودی عرب کا ملک ایک ہی جماعت اور راستے پر چل رہا تھا کہ باہر سے کچھ جماعتیں آئیں، اس ایک جماعت اور ایک مذہب پر چلنے والے لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔ ان معروف جماعتوں میں سے ایک تبلیغی جماعت بھی ہے جو اپنے آپ کو اس ملک میں احباب کے نام سے پکارتے ہیں۔اس جماعت کی اصل ہند یعنی برصغیر میں ہے۔ جماعت تبلیغ پیغمبر اسلام کے کئی طریقوں کے مخالف چلتے ہیں۔ یہ جماعت بغیر علم کے دعوت کے لیے نکلتی ہے۔ یہ اللہ اور پیغمبر اسلام کے طریقے کے برخلاف ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس سے دہشت گرد گروپ بھی پیدا ہوئے۔ ان کے ساتھ چلنے والے لوگ علم کی کمی کا شکار ہو کر تکفیری جماعتوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے دہشت گرد جماعتوں کے لوگ جو کہ سعودی عرب کی جیلوں میں بند ہیں، ان کے بارے میں تفتیش کی گئی تو پتا چلا کہ یہ پہلے تبلیغی جماعت میں شامل تھے۔ اس ملک یعنی سعودی عرب کی فتوی دینے والی کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ اس جماعت یعنی تبلیغی جماعت یا احباب کے ساتھ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ یہ جماعت اور اس جیسی جماعتیں ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیں گی۔ یہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔یہ الفاظ ایک خطبے کے ہیں جو کہ سعودی عرب ی جامع مسجد میں دیا گیا لیکن میں آپ کو بتاوں کہ باقی تمام مسجدوں میں بھی تقریبا یہ ہی بات کی گئی کیونکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی طرف سے ہدایات جاری کی جاتی ہیں اور اسی کے مطابق جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔اور یہ بات صرف مساجد میں دئیے جانے والے خطبات میں ہی نہیں کی گئی بلکہ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر شیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز نے اپنی ایک ٹویٹ میں بھی سعودی عرب میں جمعے کے خطبے میں تبلیغی جماعت کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعتوں سے سعودی حکام کبھی بھی بہت زیادہ خوش نہیں تھے لیکن اب ان پر اس طرح کی پابندی لگانا یا ان کو دہشت گردوں کے ساتھ ملانے کی ابت اس لئے کی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب کے اندر بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کی ایک مثال حالیہ ہونے والے میوزیکل کانسرٹس ہیں تو ان حالات میں محمد بن سلمان یہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب میں کوئی ایسی تنظیم یا جماعت ہو جو کہ ان کی پالیسیوں پر تنقید یا مخالفت کی وجہ بن سکے۔اور جہاں تک کانسرٹس کی بات ہے تو سعودی عرب میں سلمان خان کے کنسرٹ پر جو لوگ شور مچا رہے ہیں ان کو میں بتا دوں کہ سلمان خان کے کنسرٹ سے چند دن پہلے چھ دسمبر کو وہاں Famous international singer Justin bieberکا بھی کنسرٹ ہوا تھا۔ جس میں اس کی مسز مشہور ماڈل Hailey Bieberبھی اس کے ساتھ تھیں۔ جس میں تقریبا ستر ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔Justin beiberکے بعد اب سلمان خان کا کنسرٹ ہوا جس میں شلپا شیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور کئی دوسرے فنکاروں نے بھی پرفارم کیا تھا۔ اور سلمان خان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خاص فرمائش اور دعوت پر ریاض میں پرفارم کرنے کے لئے آئے تھے۔ ان کے اس ٹور کو دبنگ ٹور کا نام دیا گیا۔اور اس کنسرٹ میں 80,000لوگوں نے شرکت کی۔ سوشل میڈیا پر بھی اس وقت اس کنسرٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ کنسرٹ سے پہلے سلمان خان کو اعزاز دینے کے لیے اس کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا تھا جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔اور اس سب کو نام دیا گیا ہے روشن خیالی کا۔۔ اس طرح کے ایونٹس منعقد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سعودی عرب روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور تبلیغی جماعت پر جو پابندی لگائی گئی وہ بھی اسی تمام کاروائی کا حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف Justin beiberکا کانسرٹ ہو رہا تھا دوسری طرف اسی دن ہی تبلیغی جماعتوں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگایا جا رہا تھا۔اور ان تبلیغی جماعتوں کی مخالفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں داخلے اور کام کے لئے جو اجازت نامہ دیا جاتا ہے جس کو ویزا یا اقامہ کہتے ہیں تو اس میں دعوت و تبلیغ کی کوئی کیٹیگری ہی نہیں ہے یعنی سعودی عرب میں دعوت و تبلیغ کے لیے داخلے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کوئی ویزہ یا اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔اور اگر کوئی انسان سعودی عرب جا کر اپنے اقامے یا ویزا میں دیے گئے کسی بھی کام سے ہٹ کر کچھ اور کرتا ہے تو یہ قانونی طور پر جرم ہے اس انسان کو فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔اور تبلیغ تو دور کی بات ہے اب تو اسلامک اسکالرز کی کتابوں پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کئے ہیں کہ اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالااعلی مودودی مصری عالم دین یوسف القرضاوی سمیت دیگر کئی مصنفین کی 80 کتابیں لائبریریوں سے فوری ہٹائی جائیں۔ اور تمام ادارے اپنی لائبریریوں سے یہ کتابیں ہٹا کر دو ہفتوں کے اندر رپورٹ بھی جمع کروائیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان بظاہر تو اس تمام معاملے کو روشن خیالی کا نام دے رہے ہیں لیکن میں آپ کو بتاوں کہ ان تمام فیصلوں کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ایک وجہ تو امریکہ اور انڈیا کے ساتھ گہری دوستی اور رابطے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ تبلیغی جماعت پر پابندی کا سلسلہ انڈیا سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ سال کرونا کی آڑ لیکر مودی سرکار نے تبلیغی جماعت پر پابندی لگائی تھی۔ حالانکہ کمبھ کا میلہ جس میں کروڑوں لوگ شرکت کرتے ہیں اس پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی لیکن تبلیغی جماعت والوں پر پابندی بھی لگائی گئی ان کے لوگوں کو مارا پیٹا بھی گیا تھا جیل میں بھی ڈال دیا گیا تھا۔ اور اب یہی کچھ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہےاس کے علاوہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسی سال مئی میں انڈین میڈیا میں اس بات پر خوب جشن منایا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے مودی سرکار کی محبت میں رامائن اور مہا بھارت کے علاوہ یوگا اور آیوروید جیسے ہندوستانی ثقافتی عناصر کو اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کو سعودی عرب کے دورے پر بلا کر شاہی محل میں سعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ تبلیغی جماعت کے حوالے سے میں آپ کو بتاوں کہ تبلیغی جماعت کا کوئی بھی کام خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ لوگ نہ تو سیاست میں ملوث ہوتے اور نہ ہی اس جماعت کے لوگ کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کے کارکن یا رہنما ہوتے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سیاسی، معاشی یا معاشرتی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ ہر ایک کو اپنی صفوں میں قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف اسلام کے معاملات کی بات کرتے ہیں جس میں لوگوں کو کلمہ، نماز، عربی میں دعائیں اور قران سکھانا شامل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، انڈیا، افریقہ اور یہاں کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی پچھلے چند برسوں میں تبلیغی جماعت بہت مقبول ہوئی ہے۔ اور انڈیا کی محبت کے علاوہ جو دوسری بڑی وجہ ہے وہ پیسہ ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنا نیوم سٹی بنانے کے لئے بہت پیسے کی ضرورت ہے اور اس کو اب نظر آ رہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت جس طرح سے فروغ پا رہی ہے تو مستقبل میں سعودی عرب کی تیل کی صنعت بری طرح متاثر ہونے والی ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے محمد بن سلمان چاہتا ہے کہ آنے والے سالوں میں اپنی تجارت اور معیشت کا انحصار تیل کے علاوہ دیگر ذرائع پر کریں۔ ویژن 2030 کے تحت اگلے آٹھ سالوں میں سعودی عرب کو معاشی اور تجارتی مرکز بنا دیا جائے۔ ریاض میں بھی اب نائٹ کلب، سینما ہال اور ریستوران کھول کر انہیں ٹوکیو، لندن اور نیویارک کے برابر کھڑا کیا جائے۔ اس طرح کے کنسرٹ کروا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوب پیسہ کمایا جائے۔اس لئے اب آپ کو آنے والے دنوں میں سعودی عرب کے حوالے سے ایسی خبریں خوب سننے کو ملا کریں گی اس لئے ان پر حیران ہونا چھوڑ دیں۔ مکہ اور مدینہ سے جو بحیثیت مسلمان ہماری عقیدت ہے اس کو الگ رکھیں اور سعودی حکومت کے معاملات کو الگ کیونکہ اب ان کا مقصد اسلامی تعلیمات اور روایات کی پاسداری کرنا نہیں بلکہ صرف اور صرف پیسہ کمانا اور انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک کے ساتھ اپنی دوستیاں بنھانا ہے۔
سعودی عرب میں حر مین شریفین انتظامیہ نےحجر اسود ورچوئل انیشیٹیو کاافتتاح کر دیا۔
باغی ٹی وی : عر ب میڈیا کے مطابق اب گھر بیٹھ کر ورچوئل ٹیکنالوجی کی مدد سے حجر اسود کو دیکھنا، محسوس کرنا اور بوسہ دینا ممکن ہوگا وی آر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تجربات کی مدد سے اب حجر اسود کو نہ صرف ورچوئلی دیکھا جا سکے گا بلکہ بوسہ دینے اور محسوس کرنے کے لیے حقیقی منظر جیسا ماحول بھی فراہم کیا جائے گا۔
During his inauguration of the "Virtual Black Stone Initiative",
President Sudais : “We have great religious and historical sites that we must digitize and communicate to everyone through the means of latest technologies” pic.twitter.com/bCsaobGGzf
حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ ڈاکٹرعبدالرحمن السدیس کا کہنا ہے کہ آنکھ، کان، ناک اوراحساس کے ساتھ ورچوئل طریقے سے حجر اسود کو دیکھنے کے لیے حقیقی ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حجر اسود کو دیکھنے والے خود کو اپنے پورے وجود کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے محسوس کریں ہم چاہتےہیں زیادہ سے زیادہ لوگ حجر اسود کو چھونے اور دیکھنے کا خواب پورا کر سکیں۔
Clarification: This initiative will be a part of an exhibition at the 'Exhibition Of The Two Holy Mosques Architecture' in Makkah and has nothing to with 'replacement' with the actual thing. https://t.co/rFiDgqWmo4
ان کا کہنا تھا کہ یہ فرضی منظر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کچھ اس طرح سے پیش کیا جائے گا کہ اس پر حقیقت کا گمان ہو حجر اسود اور اس کے اطراف کے مناظر ورچوئل سسٹم سے ممکن بنائے جارہے ہیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق حرمین شریفین کے امور کے اعلی نگراں شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے مسجد حرام میں سعودی ہلال احمر کے منصوبوں کے افتتاح میں شرکت کی۔ ان میں حرکت قلب کو دوبارہ جاری کرنے کے لیے استعمال ہونے والا Cardiopulmonary resuscitation equipment شامل ہے۔
شیخ السدیس نے مسجد حرام میں آنے والوں کے واسطے طبی خدمات سے متعلق مختلف نوعیت کے منصوبوں کو سراہا۔ انہوں نے مملکت کی دانش مند قیادت کی امنگوں کی تکمیل کے سلسلے میں جدید ترین ٹکنالوجی وسائل کے استعمال کو خوش آئند قرار دیا۔
مذکورہ آلے کو استعمال کرنے کے لیے مسجد حرام میں متعلقہ اہل کاروں کے علاوہ معاشرے کے افراد کو بھی تربیت فراہم کی جائے گی۔ یہ آلہ صوتی ہدایات یا اسکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجیٹل ہدایات کے ذریعے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
کیا قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرہ آگے چل سکتا ہےِ سپریم کورٹ
سپریم کورٹ میں سیکڈ ایمپلائز ایکٹ کالعدم قرار دینے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی
وفاقی حکومت اور برطرف ملازمین کی نظرثانی اپیلوں پر سماعت ہوئی آئی بی کے وکیل رضا ربانی نے دلائل دیئے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قطع نظر حقائق کے ہر مقدمہ دوسرے سے مختلف ہے،آرٹیکل 25 کو بھی دیکھنا ہے کیا بھرتیوں کا عمل شفاف تھا،کیا تقرریوں کیلیے تمام قانونی تقاضے پورے ہوئے،تقرریوں کا معاملہ بھی پبلک فنڈز کے استعمال سے جڑا ہے، حکومت کل تک قانون کی مخالف آج حمایت کر رہی ہے، اٹارنی جنرل کا کہنا ہے 2010 ہوتا تو قانون کا دفاع نہ کرتا،بہتر نہیں اگر ملازمین کو ریلیف دینا تو پارلیمنٹ دیں،ایکٹ کے بعد ملازمین نے دس سال نوکری کی،حکومت کی ذمہ داری ہے تقرری میں شفافیت کو مد نظر رکھے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ تجاویز کے معاملہ پر وزیر اعظم سے ملاقات نہیں ہو سکی،وزیر اعظم کیساتھ تجاویز پر بات کرکے دلائل دونگا،
وکیل رضا ربانی نے کہا کہ 1947 سے اشرافیہ نے سول ملٹری کے مفادات کا دفاع کیا ہے،ذوالفقار بھٹو کی حکومت کو غیر آئینی طریقہ سے ہٹایا گیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بہتر ہوگا سیاسی کی بجائے قانونی نوعیت کے پہلووں پر بات کریں،مارشل لاء آرڈر کوئی قانون نہیں ہوتا،قانون پارلیمنٹ بناتی ہے، ہو سکتا ہے آپکا نقطہ درست ہے ملازمین کو سیاسی نشانہ بنایا گیا،کیا قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرہ آگے چل سکتا ہے،1999 میں نکالے کنٹریکٹ ملازمین کو 2010 کے ایکٹ کے ذریعے بحال اور مستقل کر دیا گیا،وکیل رضا ربانی نے کہا کہ بلا شبہ معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر نہیں چل سکتا،جن حالات میں ایکٹ آیا اسے بھی ذہن میں رکھا جائے،سابق صدر کا عدلیہ میں آرٹیکل 6 کا ٹرائل ہوا، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ملازمین کی بحالی کا قانون کوئی فرینچ انقلاب نہیں،سیاسی باتوں کی بجائے آئینی قانونی پہلووں پر معاونت کریں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا کل دوبارہ کوئی ایسا قانون آجائے گا؟ سال 1993-96 تک بھرتیاں مستقل بنیادوں پر کیوں نہیں کی گئیں،سب غلطیاں اس وقت کی حکومت کی ہیں،عارضی طور جن لوگوں کو بھرتی کیا جائے ان کیساتھ مستقبل میں یہی ہوتا ہے، ریاست اور عوام کے پیسے سے 2010 میں اپنی غلطی کا داغ دھونے کی کوشش کی گئی،ملک میں ہر طرف ایلیٹ کا قبضہ ہے،ایلیٹ شخصیات کا نہیں بلکہ پورے طبقے کا نام ہے،لوگ اپنا پیسہ بیرون ملک لے جا کر چھپا دیتے ہیں،رضا ربانی صاحب کیا آپ نے کبھی اس پر بات کی ہے؟ عدالت سیاسی نہیں قانونی پہلو پر بات کرے گی،آپ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھا سکتے تھے،دو غلط کام مل کر ایک درست کام نہیں بن سکتے،ملازمین سے ہمدردی ہمیں بھی ہے لیکن قانون کے پابند ہیں، جو کام 1993 میں کرنا چاہیے تھا وہ 2010 میں کیا گیا، بارہ سال جو لوگ کچھ اور کام کرتے رہے اہلیت جانے بغیر انہیں مستقل کیا گیا،ملازمین کو اگر پنشن اور مراعات دی جاتی ہیں وہ بھی معیشت پر بڑا بوجھ ہوسکتا ہے،ریاست کو غریبوں کا بوجھ اٹھانا چاہیے،ریاست اگر غریبوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تو امیر جو کر رہے ہیں کیا وہ درست ہے؟ ربانی صاحب آج پارلیمان موجود ہے اس کے ذریعے جمہوریت لائیں،سیاسی چوائسز پارلیمنٹ کی ہو سکتی ہیں ہماری نہیں، اٹارنی جنرل ہدایات لے کر آگاہ کریں کہ ملازمین کے لیے پارلیمنٹ کیا اقدامات کر سکتی ہے؟ کل کیس کو نمٹا دیں گے،
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی ،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ عدالت نظر ثانی درخواستوں کو منظور یا مسترد کرے ،دیگر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلیے دس رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جائے یہ واحد مقدمہ ہے جس میں کوئی مخالف فریق ہی نہیں ہے،سپریم کورٹ نے سولہ ہزار برطرف ملازمین کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی عدالت نے اٹارنی جنرل کو کل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی
سیالکوٹ واقعے پر وزیراعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے
وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعے پر پارلیمان میں بحث کرانے کا فیصلہ کرلیا وزیراعظم کی ہدایت پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس طلب کرلئے گئے ہیں چیئرمین سینیٹ سے مشیرپارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے مشاورت کی 20 دسمبرکو سینیٹ اور 22دسمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے مشیرپارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے ایوانوں میں سانحہ سیالکوٹ پربحث کرائی جائے،
دوسری جانب سانحہ سیالکوٹ کی تفتیش تاحال جاری ہے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے، ترجمان پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز کے فرانزک ٹیسٹ کے لئے ڈی وی آرز واقعے کے تیسرے روز ہی فرانزک لیب میں بھجوا دیے گئے تھے۔سیالکوٹ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی وی آرز میں 160 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج موجود ہے، پولیس نے واقع میں ملوث مزید اٹھارہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے
قبل ازیں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے وفد نے سیالکوٹ سانحہ میں ہلاک ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان سے ملاقات کی۔ملاقات میں ملک عدنان کو بہادری و شجاعت پر خراج تحسین پیش کیااور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا
قبل ازیں ضلع کونسل نارووال اور بلدیہ نارووال کے زیر اہتمام نارووال میں “رحمت العالمین صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم امن کانفرنس” منعقد ہوئی جس میں مقامی مذہبی و سیاسی قائدین نے شرکت کی اور سانحہ سیالکوٹ کی پرزور مذمت کی اور اسلام کے امن و انصاف کے پیغام سے یکجہتی کا اظہار کیا-
واضح رہے کہ توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہانایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے
وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ اجلاس شروع ،کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا
باغی ٹی وی : کابینہ اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا پر غور کرے گی کابینہ اجلاس میں انٹرنیشنل این جی اوز کےلئے ویزا پالیسی پیش ہوگی،وزارت داخلہ کی جانب سے انٹرنیشنل این جی اوز کےلئے ویزا پالیسی پر بریفنگ دی جائے گی،کابینہ اجلاس میں شوگر سیکٹر میں اصلاحات پر بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش ہوگی
افغانستان سے متعلق ویزا پالیسی میں تبدیلی سے متعلق وزارت داخلہ کی سمری پیش ہوگی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانوں اور غیرملکی شہریوں کے تیسرے ملک انخلاء کے فیز 2 پر سمری کابینہ میں پیش ہوگی غیرملکی این جی اوز کےلئے افغانستان میں ریلیف کاموں کےلئے مجوزہ میکنزم پیش ہوگا-
کابینہ میں ،10،50،100 اور 1000 روپے کے پرانے نوٹوں کی تبدیلی کےلئے وقت بڑھانے کا فیصلہ ہوگاپاکستان اور تاجکستان کے درمیان نئے ائیر روٹ کے معاہدہ کی منظوری کابینہ ایجنڈا میں شامل قازقستان کی ائیرلائن ایس سی اے ٹی کے ساتھ معاہدہ کی منظوری کابینہ ایجنڈا میں شامل ہے-
پاکستان اور عراق کےدرمیان ائیر سروس معاہدہ میں کوڈ شئیرنگ کی شق شامل کرنے کی منظوری کابینہ دے گی،صنعت و پیدوار سے متعلق کابینہ کے فیصلے پر رپورٹ پیش ہوگی،چینی آئل کمپنی چائنہ زینیویا کے 33اعشاریہ 50 فیصد ورکنگ انٹرسٹ اور آپریٹرشپ پاکستان پٹرولیم لیمیٹڈ کو منتقل کرنے کی منظوری دی جائے گی اوگرا کی سالانہ رپورٹس سال 2019-20 کابینہ میں پیش ہوگی-
کابینہ کمیٹی ادارہ جاتی اصلاحات کے 24 نومبر کے فیصلوں کی توثیق ایجنڈا میں شامل ہے کابینہ کمیٹی توانائی کے 2 دسمبر کے فیصلوں کی توثیق ایجنڈا میں شامل ہے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے10 دسمبر کے فیصلوں کی توثیق بھی ایجنڈا میں شامل ہے-
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پر غور کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے-
باغی ٹی وی : او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں کچھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کو بھی مدعو کیا جارہا ہے-
انہوں نے جاری بیان میں کہا کہ اس غیر معمولی اجلاس کا مقصد، افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر غور و خوض کرنا اور موثر لائحہ عمل طے کرنا ہے، اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت افغانستان کے 38 ملین افراد میں سے 50 فیصد کو بھوک کے سنگین بحران کا سامنا ہے اور یہ صورتحال روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سردیوں کی آمد نے افغانستان کی صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، اگر اس صورت حال پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، افغانستان او آئی سی کے بانی اراکین میں شامل ہے، امت مسلمہ کا حصہ ہونے کے ناطے، ہم افغانستان کے لوگوں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کے برادرانہ بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں، او آئی سی نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کی حمایت کی ہے، آج پہلے سے کہیں زیادہ افغان عوام کو او آئی سی سمیت عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے تاہم پاکستان اس ضمن میں مسلسل اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 3.2 ملین بچے شدید غذائی قلت کے خطرات سے دوچار ہیں، یو این او سی ایچ اے کے مطابق، جنوری اور ستمبر 2021 کے درمیان 665,000 نئے افراد افغانستان کے اندر بے گھر ہوئے ہیں، قبل ازیں، افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے 2.9 ملین افراد اس کے علاوہ ہیں تاہم پاکستان اپنے محدود وسائل کے باوجود، پچھلی کئی دہائیوں سے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے عالمی رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر رابطے ہوئے ہیں، میں خود، علاقائی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل کی ترویج کیلئے افغانستان کے قریبی پڑوسی ممالک ایران، تاجکستان، کرغزستان اور ترکمانستان کا دورہ کرچکا ہوں، پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے افغانستان کے 6 پڑوسی ممالک کا پلیٹ فارم تشکیل پاچکا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں شرکت اور ٹرائیکا پلس اجلاس کی میزبانی بھی انہی سفارتی کاوشوں کا تسلسل ہے، افغانستان کی صورتحال پر عالمی برادری کو تشویش ہے، مسلم امہ کی اجتماعی آواز کے طور پر OIC انسانی بحران پر قابو پانے میں ہمارے افغان بھائیوں کی مدد کرسکتی ہے، او آئی سی کی قیادت دیگر بین الاقوامی اداروں کو آگے آنے اور افغان عوام کی مدد کیلئے ہاتھ بڑھانے کی ترغیب دینے میں موثر ثابت ہو سکتی ہے، افغانستان میں انسانی بحران کے خاتمے کے ذریعے معاشی استحکام کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کی مسلسل معاونت ناگزیر ہے، اس پس منظر میں 19 دسمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والا او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات پر غور و خوض کا موزوں موقع فراہم کرے گا۔
نام”محمد” 2021 میں برطانیہ میں لڑکوں کا سب سے مقبول نام بن گیا ہے۔
باغی ٹی وی : رواں برس امریکا میں نومولود بچوں کے رکھے جانے والے 10 مقبول ناموں کی فہرست سامنے آگئی جس میں نام ‘محمد’ بھی پہلی بار جگہ بنانے میں کامیاب رہا بے بی سینٹر نامی ویب سائٹ کی ناموں کے حوالے سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ مں یہ بات بتائی گئی۔
تازہ ترین مردم شماری کے مطابق برطانیہ میں 3.3 ملین سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور پورے ملک کے 18% کے مقابلے برطانیہ میں نصف مسلمان غربت کی زندگی گزار رہے ہیں گزشتہ سال محمد نام لڑکوں میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا نام شمار کیا گیا تھا اور اس سال بھی یہ نام 28ویں نمبر پر موجود ہے-
ڈیٹا کے مطابق رواں سال امریکا میں بچوں کے سب سے زیادہ رکھے جانے والے دس ناموں میں دو عربی نام محمد اور عالیہ بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں سال امریکا میں صوفیہ نام سب سے زیادہ مقبول ثابت ہوا، جبکہ لڑکوں میں لیام نام ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا محمد اور عالیہ ناموں نے اس فہرست میں جگہ بنانے کے لیے میسن اور لیلہ ناموں کو پیچھے چھوڑا۔
امریکا میں لڑکوں کے رکھے جانے والے مزید مقبول ناموں میں جیکشن، نوح، ایڈن اور گریسن شامل ہیں جبکہ لڑکیوں کے لیے اولیویا، ایما، ایوا اور ایریا جیسے نام مقبول رہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق محمد نام دنیا بھر میں بچوں کا رکھا جانے والا سب سے مقبول ترین نام ثابت ہوا بےبی سینٹر کی ایڈیٹر لنڈا مورے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مسلمان گھرانے عموماً پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے نام پر اپنے بیٹوں کا نام رکھتے ہیں۔
امریکا کی سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کےڈیٹا کے مطابق سال 2000 میں نام ‘محمد’ 620 نمبر پر تھا جبکہ 2018 تک یہ 345 پر آگیا اس کے علاوہ امریکا میں نام ‘محمد’ کے لیے رائج مختلف حروف تحجی کو ایک کر دیا جائےتو یہ تعداد اور بڑھ جائے گی۔
خیال رہے کہ محمد نام کو برطانیہ میں بھی لڑکوں کا سب سے مقبول ترین نام قرار دیا گیا اور یہ اعزاز اس نے مسلسل تیسرے سال حاصل کیا تھا برطانیہ میں محمد نام 2017 سے مقبول ترین یا سرفہرست پوزیشن پر ہے جبکہ 2014 اور 2015 میں بھی یہ سرفہرست رہا تھا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا۔
باغی ٹی وی : ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سی او اے ایس کو فارمیشن کے آپریشنل معاملات، صوبے خصوصاً کراچی کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی سی او اے ایس کو کراچی ٹرانسفارمیشن پلان (کے ٹی پی) پر عمل درآمد میں سول انتظامیہ کی تشکیل کے تعاون کے بارے میں بھی بریف کیا گیا جس میں ایف ڈبلیو او، این ایل سی اور این ڈی ایم اے کی کراچی میں شہری سیلاب سے تحفظ اور متعلقہ شہری سہولیات کی بہتری کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر میں بہتری کے لیے کوششیں شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سی او اے ایس نے کور کی آپریشنل تیاریوں اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سی او اے ایس نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے فارمیشن اور پاکستان رینجرز سندھ کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا سی او اے ایس نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے نفاذ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہم آہنگی کی کوششوں کو سراہا۔
بعد ازاں سی او اے ایس نے ہیڈ کوارٹرز سندھ پولیس کا دورہ کیا آمد پر سی او اے ایس نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی سی او اے ایس نے صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کو یقینی بنانے میں سندھ پولیس کے اہم کردار کو سراہا اور سندھ پولیس شہدا کے اہل خانہ سے بھی بات کی اور ان کی قربانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ سی او اے ایس نے انہیں پاک فوج کی ہرممکن حمایت کا یقین دلایا۔
پاکستان کےخلاف بیان دینے والے پیپلزپارٹی کو کیسے لیکچر دے سکتے ہیں،بلاول
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ عوام پیپلزپارٹی کی طرف دیکھ رہی ہے،
بلاول زرداری نے کہا ہے کہ یہ لوگ غریب سے چھت چھین رہے ہیں،ملک کے غریب عوام کے مسائل پیپلزپارٹی ہی حل کر سکتی ہے،عوام جانتے ہیں کہ مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے 5 مرلہ اسکیم کی منظوری دی،شہید بے نظیر بھٹو نے 7مرلہ اسکیم دی،پاکستان کے خلاف بیان دینے والے پیپلزپارٹی کو کیسے لیکچر دے سکتے ہیں،آج پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو سچ بولتی ہے،ہم پر تنقید کرے لیکن عوام کے سامنے سچ لایا جائے،اپوزیشن خوفزدہ ہے ،انہیں پتہ ہے نہ بلا چلے گا نہ پتنگ ،چلے گا صرف تیر ،سندھ حکومت نے سب سے زیادہ اختیارلوکل گورنمنٹ ایکٹ میں دیاہم عوام کے 100فیصد مفت علاج پر یقین رکھتے ہیں،ہیلتھ کارڈ ان چیزوں کو کور ہی نہیں کرتا،جب سے پیدا ہوا ہوں کراچی پر دہشت گرد مسلط رہے ،سندھ کے بلدیاتی قانون کو کالا کہنے والوں کا منہ کالا ہوگا،الطاف حسین کی سیاست پر عوام نے فل اسٹاپ لگا دیا ہے،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس شہر کی ترقی کے لیے کام کریں،کراچی میں پیدا ہوا ہوں پیدائش سے کراچی پر دہشتگردوں کی جماعت کا قبضہ دیکھا، یہ پاکستان مردہ باد اور ہم پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے ہیں، سندھ کے بلدیاتی قانون کو کالا قانون کہنے والے کا منہ کالا ہوجائے گا،پنجاب،پختونخوا، اسلام آباد کے قوانین ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔دس لاکھ کا ہیلتھ کارڈ ایک دن کی اوپن ہارٹ سرجری کا خرچ پورا نہیں کرسکتا، عمران سرکاری ہسپتالوں کاپیسہ اُٹھا کےاپنے پرائیوٹ سیکٹر کے لوگوں کو دے رہا ہے۔سندھ میں علاج مُفت ہے پنجاب کا ایک اسپتال سندھ کے اسپتالوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا مراد علی شاہ کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جارہا ہے جائز تنقید برادشت کرسکتے ہیں،عمران خان نے کراچی میں نامکمل منصوبے کا افتتاح کیا،سندھ میں مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ ہورہا ہے،کے سی آر کا سرکلرریلوے کراچی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا،کراچی میں جنوری میں نئی انٹرا اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ چلے گی ہم عوام کے100فیصد مفت علاج پر یقین رکھتے ہیں ہم عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے کراچی سرکلر ریلوے پرپورے ملک کو کام کرنا چاہیے،پیپلزپارٹی وہاں بھی مضبوط ہوگی جہاں کبھی مضبوط نہیں تھی،لسانیت کی بنیاد پرسیاست کو عوام نے مستردکردیا،عمران سرکاری اسپتالوں سے پیسہ لےکرپرائیوٹ اسپتالوں کو دے رہے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ مسلم لیگ ن سندھ میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کریگی،
قبل ازیں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں بلاول ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا. چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سندھ کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو اور سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ موجود تھے ، اجلاس میں شیری رحمان، رضا ربانی، شازیہ مری، سعید غنی، وقار مہدی، سلیم مانڈوی والا، تاج حیدر، قادر پٹیل اور شاہدہ رحمانی شریک تھے ، مرتضی وہاب، شہلا رضا، عاجز دھامراہ، مسرور احسن، نجمی عالم، اقبال ساندھ، ساجد جوکھیو، لیاقت آسکانی اور علی احمد جان بھی اجلاس میں موجود تھے .اجلاس میں سلمان عبداللہ مراد، آصف خان، سمیتا افضل، تحسین عابدی، ایس ایم نقی اور مولانا تنویر الحق تھانوی شریک تھے طاہر مشہدی، سلیم بندھانی، مرزا خلیل، وقار شاہ اور سردار عزیز بھی اجلاس میں موجود تھے
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سندھ میں بلدیاتی نظام کے قانون کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کے بلدیاتی نظام میں بلدیاتی نمائندوں کو مالیاتی اختیارات دئیے گئے ہیں، سندھ کے بلدیاتی نظام میں عوامی نمائندوں کے انتظامی اختیارات میں بھی مزید توسیع دی گئی ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت مختلف اداروں کو بلدیاتی نمائندوں کے سامنے جوابدہ بنایا گیا ہے، شعبہ صحت، شعبہ تعلیم، امن و عامہ کے شعبے کو بھی بلدیاتی نمائندوں کے سامنے جوابدہ بنایا گیا ہے، کراچی: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے شرکاء نے سندھ کے بلدیاتی نظام کو سراہا،اجلاس کے شرکاء نے اتفاق کیا کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے ساتھ عوامی نمائندوں کو مزید اختیارات دینا خوش آئند ہے، ا سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد براہ راست عوامی مسائل کے حل کی رفتار میں اضافہ ہوگا،