Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کمزور دل حضرات مت دیکھیں،آڈیو کے بعد برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ شروع

    کمزور دل حضرات مت دیکھیں،آڈیو کے بعد برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار
    Fitness Trends that Are Shaping This Year accutane australia buy alpha-pharma bodybuilding steroids.
    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے توsuo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے

  • پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرز توقعات کےساتھ        وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان

    پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرز توقعات کےساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان

    اسلام آباد:پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرزاہم توقعات کے ساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے وفد نے ملاقات کی، امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد میں سینیٹرز اینگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارن اور بینجمن ساس شامل تھے، چاروں سینیٹرز سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے رکن ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹرز کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کوقدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط شراکت داری خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے باہمی طور پر مفید اور اہم ہے۔

     

     

    وزیراعظم نے افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی کو روکنے کے لیے افغان عوام کی مدد کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

     

     

    عمران خان نے وفد کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیاں علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • کرپٹ لوگوں کو این آر او…وزیراعظم کا میانوالی میں بڑا اعلان

    کرپٹ لوگوں کو این آر او…وزیراعظم کا میانوالی میں بڑا اعلان

    کرپٹ لوگوں کو این آر او…وزیراعظم کا میانوالی میں بڑا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میانوالی کے کارکنوں کا خاص طور پرمشکورہوں ،

    وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج میں وزیراعظم ہوں تو میانوالی کے کارکنوں کی وجہ سے ہوں،حکومت کے 5سال پورے ہونے کے بعد میانوالی کی ترقی نظر آئے گی،جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا تو میانوالی کے کارکنو ں نے ساتھ دیا،پاکستان کے قبائلی علاقے پیچھے رہ گئے قبائلی علاقوں کے لیے ماضی میں کچھ نہیں کیا گیا ،پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے کام کریں گے میانوالی میں نمل یونیورسٹی اقتدار کےبعد نہیں پہلے سے بن رہی ہے،نمل یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے میں نے پیسے اکھٹے کیے ،میانوالی کے لوگوں کی خدمت کرکے احسان کا بدلہ چکاؤں گا،میانوالی میں 5 سال کے دوران ریکارڈ ترقی ہوگی ،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ کورونا سے دنیا بھر کے ممالک کا متاثر ہونا ہے،اللہ کا شکر ہے پاکستان اب بھی سستا ملک ہے دنیا میں فوڈ سپلائی چین کورونا سے متاثر ہوئی اور مہنگائی ہوگئی مہنگائی کی وجہ سے بنیادی اشیا خورونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں 20 لاکھ کمزور خاندانوں کے لیے بلاسود قرضے دے رہے ہیں،اپنا گھر بنانے کےلیے 27 لاکھ روپے بلاسود قرض فرا ہم کیا جائے گا،ہر خاندان کے پاس صحت کارڈ ہوگا جو10 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت دے گا،پہلی بار بڑی رقم نوجوانوں کی تعلیم اوراسکالرشپس پر خرچ ہورہی ہے حکومت 62 لاکھ لوگوں کو اسکالرشپس دے گی .

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے وعدہ کیا تھا ،پاکستان کبھی کسی غلامی نہیں کرے گا،ہم آزاد ہوکر بھی آزاد فیصلے نہیں کرسکتے تھے پاکستان میں مختلف نظریات کے حامل تمام لوگوں سے بات کرنے کوتیارہیں ،بلوچستان کے ناراض لوگوں سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں کرپشن میں ملوث اورعوام کا پیسہ باہرلے جانے والوں سے ہرگز بات نہیں ہوگی،کرپٹ لوگوں کو این آراو ملے گی نہ ہی ان سے بات ہوگی جب چوری کو گناہ نہیں سمجھا جائے گاوہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکے گا،رسول ﷺ نے فرمایا تھا میری بیٹی بھی چوری کرے گی تو سزا ملے گی جوقوم بڑے ڈاکوؤں سے ڈیل کرتی ہے وہ تباہ ہوجاتی ہے،میری حکومت ملک کا پیسہ چوری کرنے والوں کواین آراونہیں دے گی ،مشکل وقت ہر قوم کی زندگی میں آتا ہے لیکن وہ بہتر اندازسے نمٹتے ہیں ،سولر ٹیوبویلز کوعام کرنے کے لیے اقدامات کریں گے مہنگی بجلی کے معاہدے ہماری حکومت میں آنے سے پہلے ہوئے تھے،وعدہ ہے پاکستان وہ ملک بنے گا جو کسی کے سامنے نہیں جھکے گا، کرپٹ لوگوں کواین آراوملے گا نہ ہی ان سے بات ہوگی.

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

  • سربراہ پاک فضائیہ کا راشد منہاس شہید کی والدہ کی وفات پر افسوس کا اظہار

    سربراہ پاک فضائیہ کا راشد منہاس شہید کی والدہ کی وفات پر افسوس کا اظہار

    سربراہ پاک فضائیہ نے بیگم رشیدہ منہاس کی وفات پر اظہار تعزیت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پائیلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، نشان حیدر، کی والدہ بیگم رشیدہ منہاس کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

    ائیرچیف نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحومہ کے ایصال ثواب اور ان کے خاندان کو یہ دکھ صبر و ہمت سے برداشت کرنے کی توفیق کی دعا کی۔

    واضح رہے کہ پائیلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کی والدہ بیگم رشیدہ منہاس آج انتقال کر گئیں ہیں-

    پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز”نشانِ حیدر” پانے والے راشد منہاس نے پاکستانی جنگی جہاز بھارت لے جانے کا ناپاک منصوبہ ناکام بنادیا تھا اس بے مثال بہادری پر انہیں فوجی اعزاز ’نشان حیدر‘ سے نوازا گیا۔راشد منہاس شہید نشان حیدر 17فروری 1951کو کراچی میں پیدا ہوئے اور وہ نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر ہیں-

    20اگست 1971 کو زیرتربیت پائلٹ کی حیثیت سے راشد منہاس ٹی 33 جیٹ ٹرینر کو اڑانے والے تھے جب بنگالی پائلٹ انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ دوران پرواز مطیع الرحمان نے راشد منہاس کو سر پرضرب لگا کر بے ہوش کیا اور پرواز کا کنٹرول سنبھال کر طیارے کا رخ ہندوستان کی جانب موڑ دیا۔اس وقت جب ہندوستان کا فاصلہ 40 میل رہ گیا تھا، راشد منہاس کو ہوش آیا اور انہوں نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی، اس میں ناکامی کے بعد نوجوان پائلٹ کے پاس اپنے طیارے کو ہندوستان ے جانے سے روکنے کا ایک ہی راستہ رہ گیا تھا اور انہوں نے ہندوستانی سرحد سے محض 32 دور طیارے کو گرا کر اپنی جان پاکستان کے لیے قربان کردی۔

    راشد منہاس کو 21 اگست 1971 کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا اور ان نوجوان پائلٹ کے پورے خاندان سمیت پاک فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے عہدیداران اس موقع پر موجود تھے۔راشد منہاس کو بعد از وفات پاکستان کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز نشان حیدر دینے کا اعلان اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے کیا اور اس طرح وہ اس اعزاز کو پانے والے سے سب سے کم عمر اور پاک فضائیہ کے اب تک واحد رکن بن گئے-

  • جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح  پر پہنچ گئی، پارلیمانی سیکرٹری کامرس

    جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پارلیمانی سیکرٹری کامرس

    حکومت نےپاکستان کی معاشی صورتحال پر اعدادوشمار جاری کر دیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری برائے کامرس عالیہ حمزہ نے معاشی اعشاریوں کی تفصیلات جاری کیں پارلیمانی سیکرٹری برائے کامرس عالیہ حمزہ کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح 315 ارب ڈالر پر پہنچ چکی ہےن لیگ اپنے دور میں 284 ارب ڈالر جی ڈی پی چھوڑ کر گئی۔ جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح 315 ارب ڈالر پر پہنچ چکی ہے۔

    سپریم کورٹ نے ماتحت عدلیہ سندھ میں بھرتیوں کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہترین پالیسوں سے ملکی معیشت میں بہتری آئی وزیراعظم عمران خان نے پہلے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا معیشت، صنعت اور زراعت کا بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ترسیلات زر میں 12 فیصد اضافہ ہوا رواں مالی سال ترسیلات زر کا حجم 10.55 ارب ڈالر تک پہنچ گیا زر مبادلہ کے ذخائر میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    مہنگائی کے باوجود بڑے بڑے سیاسی لوگ پی ٹی آئی میں جانے پرکیوں مجبوراہم وجہ سامنے…

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ کی نسبت رواں سال ایکسپورٹ مصنوعات میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ایکسپورٹ گڈز 12.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ہیں۔

    رواں سال ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ رواں سال ٹیکسٹائل ایکسپورٹس 7.84 ارب ڈالر ہوئیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹس میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیا۔ جولائی تا اکتوبر2022 میں آئی ٹی ایکسپورٹس 830 ملین ڈالر رہیں۔ جولائی تا نومبر2022 میں 2314 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا ہوا۔

    امریکا میں مہنگائی کا 39 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا:پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کی…

    پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں 71 فیصد اضافہ ہوا ٹریکٹرز کی سیلز میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ ڈومیسٹک سیمنٹ کی سیلز میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال کی نسبت رواں سال فرٹیلائزر یوریا کی سیلز 10 فیصد بڑھیں۔

    گزشتہ سال کی نسبت رواں سال پیٹرولیم سیلز میں 22 فیصد اضافہ دیکھا گیا گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کاٹن کی سیلز میں 54 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔لارج ا سکیل مینو فیکچرنگ انڈیکس میں 5 فیصد اضافہ ہوا-

    قرض پر قرض :685 ملین ڈالرزسے کے پی میں‌ بڑے منصوبے شروع کرنے کا پروگرام

    دوسری جانب وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ملک میں ہفتہ واربنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں کمی ہورہی ہے وفاقی وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ ٹماٹرکی قیمت میں 13.37 فیصد، چکن کی قیمت میں 10.59 فیصد اور آلو کی قیمت میں 4.48 فیصد کمی ہوئی ہے اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں 2.96 فیصد، چینی کی قیمت میں 1.03 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.51 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    پنجاب کا سالانہ بجٹ 645ارب روپے کرنے کی منظوری: اگلےسال ترقیاتی کاموں میں100 فیصد…

    وفاقی وزیر مملکت نے دعویٰ کیا ہے کہ آٹے کی قیمت میں 0.46 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0.27 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ انڈوں کی قیمت میں 0.26 فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ پیاز کی قیمت میں 31.99 فیصد اور دال مونگ کی قیمت میں 25.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سعودی عرب میں فلم کی عکسبندی میرے کیرئیر کا اہم موڑ ثابت ہو گا، سلمان خان

    ادھر گزشتہ روز وفاقی ادارہ شماریات نے اپنی ہفتہ وار جائزہ رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیاز، لہسن، دودھ اور دالوں سمیت 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    سلمان خان کے کیرئیر پر ڈاکیومینٹری کی تیاری شروع

  • امریکی کانفرنس میں عدم شرکت،پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا  ،دفتر خارجہ

    امریکی کانفرنس میں عدم شرکت،پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا ،دفتر خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس ضمن میں وزیراعظم کا بیان پاکستان کی طویل مدتی پالیسی کی عکاسی کیلئے کافی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی صدرجوبائیڈن کی دعوت پر بلائی گئی ڈیموکریسی کانفرنس میں پاکستان کی طرف سے شرکت سے انکارکے بعد دفترخارجہ نے جمعہ کو اپنے بیان میں امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی اہمیت کواُجاگر کیا ہے

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اصولی طور پر بلاک پالیٹکس میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس ضمن میں وزیراعظم کا بیان پاکستان کی طویل مدتی پالیسی کی عکاسی کیلئے کافی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس کانفرنس سے الگ رہ کر حتمی طور پر اپنے چین کی طرف جھکاؤکی عکاسی کردی ہے،البتہ ترجمان دفترخارجہ نے اس بات کو بے بنیاد قراردیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان مزار قائد کیوں نہیں گئے؟ اہم انکشاف

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم متعدد معاملات پر امریکا کے ساتھ رابطے میں ہیں،ہم امریکا کے ساتھ شراکت داری کو اہم سمجھتے ہیں،علاقائی اوربین الاقوامی سطح پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے متمنی ہیں جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ اس ضمن میں پہلے ہی وضاحت کرچکی ہے،میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہتا،وزارت خارجہ کا بیان ہی کافی ہے۔

    نجی خبررساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفترخارجہ کی محتاط بیان اور توجیح سے لگتا ہے کہ پاکستان کیلئے یہ فیصلہ کوئی آسان نہیں تھا اگر سرکاری ذرائع پریقین کیا جائے تو چین پاکستان کو اس کانفرنس سے دور رکھنا چاہتا تھا کیونکہ چین کی نظر میں یہ کانفرنس جمہوریت کے بجائے امریکی جیوسٹریٹجک مفادکو آگے بڑھانے کیلئے بلائی گئی تھی۔

    پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چونڈہ کا دورہ، وکٹری شیلڈ مشقوں کا جائزہ

    چین کی ترجمان وزارت خارجہ کا بیان جس میں انہوں نے پاکستان کوحقیقی آئرن برادر قراردینے کے ساتھ اس ضمن میں پاکستان کے دفترخارجہ کا بیان بھی شیئرکیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ پاکستان کے اس کانفرنس میں شرکت کے معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل چین سے اس بارے میں مشاورت کی ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت کے پیچھے صرف چین کا ایک فیکٹر ہی کارفرما نہیں بلکہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صرف چنیدہ لیڈروں نے کانفرنس میں امریکی صدرکو جوائن کرنا تھا،پاکستان سمیت باقی لیڈروں سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف پہلے سے ریکارڈ شدہ اپنے بیانات بھجوا دیں اس کانفرنس میں کسی مباحثے اور معاملات کو زیربحث لانے کی اجازت بھی نہیں تھی لہذا پاکستان نے اس کانفرنس کو مفاد پرستی کا ایک موقع سمجھ کرنے اس میں نہ شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

    کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کومستحکم کرے،یہ سب کے مفاد میں ہے:امن مذاکرات ہی میں بھلائی ہے:افغان حکومت

    اس کانفرنس میں 100سے زائد مدعوتھے،چین اور روس کو نہیں بلایا گیا ،تائیوان جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے مدعوتھا تائیوان کو بلانے پر چین شدید ردعمل کا اظہارکرچکا ہےامریکہ میں چین اور روس کے سفیروں نے ایک مشترکہ مضمون لکھ کر امریکہ پرایسی کانفرنسیں منعقد کرکے دنیا میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا ہےلیکن پاکستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے دوطرفہ تبادلوں کے زاویئے سے نہیں دیکھنا چاہیئے پاکستان اورامریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات معمول کے مطابق جاری ہیں۔

    ابھی حال ہی میں امریکی کانگرس کی خارجہ امورکمیٹی کا ایک وفد گریگوری ڈبلیو میکس کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کرچکا ہے اور سینٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کا وفد سینٹ کنگ کی قیادت میں آج پاکستان پہنچ رہا ہے۔

    پاکستان نےامریکا کی دعوت ٹھکراکرحقیقی بھائی ہونےکا ثبوت دیا،عمران خان بھی فخرہے:…

  • وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کی کراچی پریس کلب کے صحافیوں کے 211 پلاٹوں کی قرعہ اندازی کی تقریب میں شرکت

    وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کی کراچی پریس کلب کے صحافیوں کے 211 پلاٹوں کی قرعہ اندازی کی تقریب میں شرکت

    کراچی : وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کی کراچی پریس کلب کے صحافیوں کے 211 پلاٹوں

    سندھ کے وزیرِ بلدیات، دیہی ترقی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سید ناصر حسین شاہ نے کراچی پریس کلب کے 211 صحافیوں کو پلاٹوں کی دوبارہ قرعہ اندازی کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور 211 اراکین کو ہاکس بے اسکیم میں پلاٹ کے نمبروں کا قرعہ اٹھا کر اعلان کیا۔اس موقع پر اراکین پریس کلب کی بڑی تعداد کے ساتھ صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی ، سیکریٹری رضوان بھٹی ، دیگر کابینہ اراکین اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اسحق کھوڑو بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ بلدیات نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات ہیں کہ صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر کئے جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ کراچی کے صحافیوں کو گلشن اقبال میں پلاٹ دیئے تھے۔ ان کے بعد شہید بی بی نے بھی اس روایت کو پروان چڑھایا اور اب موجودہ قیادت بھی اس طرز عمل پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور سندھ کابینہ صحافیوں کے مسائل کے حل کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔اور اب ہم پیپلز میڈیا سپورٹ پروگرام شروع کررہے ہیں۔ کراچی پریس کلب کی گرانٹ بھی دگنی کرکے 5 کروڑ روپے کردی گئی ہے اور آج وزیرِ اطلاعات سعید غنی یہ چیک بھی پریس کلب کے حوالے کر کے گئے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، ان کے وزراء اور ترجمان سب غلط بیانی کرتے ہیں۔
    یہ لوگ سوائے غلط بیانی کے اور کوئی کام نہیں کرتے۔پاکستان نے 70 سال میں جو قرضے لئے انہوں نے صرف 3 سال میں اتنے قرضے لے لئے۔وفاقی حکومت نے 3 سال میں 25 ہزار ارب کے قرضے کو 45۔ 46 ہزار ارب کردیا۔یہ پاکستان کو سستا ترین ملک قرار دینے کا سفید جھوٹ بول رہے ہیں۔یہ صرف بنگلہ دیش، انڈیا اور پڑوسی ملکوں سے اپنا موازنہ کرلیں تو شرمندگی ہوگی۔2018 میں الیکشن سے پہلے پاکستان کو مہنگا ترین ملک کہتے تھے۔
    یہ اب بتائیں مہنگائی کا کیا عالم ہی ان کی نااہلی سے ڈالر آج 180 روپے کو چھو رہا ہے۔بجلی کی فی یونٹ قیمت آج کس سطح پر ہے اپنا مواخذہ خود کریں وزیراعظم سمیت ان کے وزراء اور ترجمانوں کی فوج سب جھوٹ بولتے ہیں۔وفاقی حکومت میں بیٹھے حکمرانوں نے پاکستان کو تنہا کردیا ہے۔انہوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔موجودہ وزیرِ اعظم کہتا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جاو ں گا تو خودکشی کرلوں گا۔
    پہلے آئی ایم ایف کو چڑیل سمجھتے تھے اور اب مس ورلڈ سمجھتے ہیں۔انہوں نے اسٹیٹ بینک کو بھی ائی ایم ایف پاس گروی رکھ دیا ہے۔پاکستانی قوم اب ان کی نااہلی نالائقی اور عزائم کو سمجھ گئی ہے۔وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر سارے پاکستانی احتجاج کررہے ہیں۔گورنر سندھ، اسمبلی کے پاس کردہ بل کو صرف ایک بار واپس بھیج سکتے ہیں۔اگلی دفعہ ہم پاس کرکے بھیجیں گے تو بل قانونی طور پر پاس ہوجائے گا۔سندھ حکومت ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی کررہی ہے ۔

  • الیکشن کمیشن نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ پرجرمانہ عائد کردیا

    الیکشن کمیشن نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ پرجرمانہ عائد کردیا

    کراچی : الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلاول بھٹو زرداری سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں پر جرمانہ کردیا۔

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لئے بنائے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو 50 ہزار جرمانہ کردیا۔
    الیکشن کمیشن نے بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، سید خورشید شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی، نثار کھوڑو اور رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل پر بھی فی کس 50 ہزار روپے جرمانہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ نگہت اورکزئی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تنبیہ کی گئی ہے۔
    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق کی دوبارہ خلاف ورزی پر کیس الیکشن کمیشن کو بھجوایا جائے گا۔
    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات 19 دسمبر کو ہوں گے۔

  • کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کومستحکم کرے،یہ سب کے مفاد میں ہے:امن مذاکرات ہی میں بھلائی ہے:افغان حکومت

    کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کومستحکم کرے،یہ سب کے مفاد میں ہے:امن مذاکرات ہی میں بھلائی ہے:افغان حکومت

    کابل:کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان کومستحکم کرے،یہ سب کے مفاد میں ہے:امن مذاکرات ہی میں بھلائی ہے:افغان حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو سیدھی سیدھی بات بتادی، اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی ٹی) پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات پر توجہ دے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان طالبان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہماری تحریک کا حصہ نہیں تھی اور کالعدم ٹی ٹی پی پاکستانی حکومت کے ساتھ امن قائم کرنے پر توجہ دیں۔

    سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو اسلامی امارات افغانستان کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم افغانستان میں طالبان کی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک تنظیم کے طور پر اسلامی امارات افغانستان کا حصہ نہیں اور ہمارے اہداف ایک جیسے نہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم کالعدم ٹی ٹی پی کو مشورہ دیں گے کہ وہ اپنے ملک میں امن اور استحکام پر توجہ دیں۔ یہ بہت اہم ہے تاکہ خطے اور پاکستان میں دشمنوں کی مداخلت کے کسی بھی امکان کو ختم کر سکیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اعلان کیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک ماہ کی جنگ بندی پر متفق ہوگئی ہے اور فریقین کے متفق ہونے پر اس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔ جس کے بعد جامع امن معاہدے کی راہ ہموار اور برسوں سے جاری خونریزی ختم ہوتی نظر آنے لگی تھی۔

    افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے گذشتہ ماہ اعتراف کیا تھا کہ افغان طالبان پاکستانی حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔