Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ہم حاضرہم قربان :اے وطن پاکستان :دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے 3 جوان وطن پر قربان

    ہم حاضرہم قربان :اے وطن پاکستان :دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے 3 جوان وطن پر قربان

    راولپنڈی:ہم حاضرہم قربان :اے وطن پاکستان :دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے 3 جوان وطن پر قربان ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں دو مختلف واقعات کے دوران دہشتگردوں کیخلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے مزید تین جوان وطن پر قربان ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے علاقے ہوشاب میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ تربت میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران پاک فوج اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران دہشتگردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جبکہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو جوان شہید ہو گئے۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں سپاہی رمضان اور لانس نائیک لیاقت اقبال شامل ہیں، سپاہی رمضان کا تعلق سرگودھا اور لانس نائیک لیاقت اقبال کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں کلیئرنس آپریشن کے دوران دیسی ساختہ بارودی سرنگ پھٹنے سے سپاہی انعام اللہ شہید ہو گئے۔ سپاہی انعام اللہ کا تعلق لکی مروت سے ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فورسزملک دشمن عناصرکوشکست دینے کیلئے پرعزم ہے، بلوچستان میں امن واستحکام اورترقی کاعمل متاثرہونےنہیں دینگے۔

  • مولانا:عوام کوحکومت کے خلاف کھڑا کریں:ہرقسم کی مدد کی جائے گی:نوازشریف کا فضل الرحمن سے رابطہ

    مولانا:عوام کوحکومت کے خلاف کھڑا کریں:ہرقسم کی مدد کی جائے گی:نوازشریف کا فضل الرحمن سے رابطہ

    اسلام آباد: مولانا:عوام کوحکومت کے خلاف کھڑا کریں:ہرقسم کی مدد کی جائے گی:نوازشریف کا فضل الرحمن سے رابطہ ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدمیاں محمد نواز شریف سے رابطہ ہوا، جس میں سابق وزیراعظم نے لانگ مارچ میں بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ پی ڈی ایم کے احتجاجی پلان کو آگے بڑھانے پر بھی دونوں رہنماؤں کا اتفاق ہوا ہے۔مولانا فضل الرحمن کوحوصلہ دیتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ مولانا عوام کوحکومت کے خلاف کھڑا کریں اوراس مشن میں کسی قسم کی سُستی نہ کی جائے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس پرمولانا فضل الرحمن نے نوازشریف کے سیاسی حمایت کے ساتھ ساتھ مالی معاونت کی بھی گزارش کی ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے حکومت کو پارلیمنٹ میں ٹف ٹائم دینے اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پر اطمینان کا اظہارکیا۔

    ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت پر دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا اور مولانا نے لاہور کے جلسے کو لانگ مارچ کی شکل دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔نوازشریف نے اس موقع کہا کہ الیکشن کے وقت تک عوام کو کسی نہ کسی ایشو پرعوام کوحکومت کے خلاف متحرک رکھیں‌ جس کے لیے وہ ہرقسم کی قربانی دینے کےلیے تیار ہیں‌

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم لانگ مارچ بارے جو بھی فیصلہ کرے گی ساتھ دینگے۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مزید وقت دینا عوام اور ملک سے ظلم ہو گا۔

  • ایک ہفتے میں بھارتی فوج افسروں سمیت درجنوں بھارتی فوجی ہلاک

    ایک ہفتے میں بھارتی فوج افسروں سمیت درجنوں بھارتی فوجی ہلاک

    نئی دہلی:ایک ہفتے میں بھارتی فوج افسروں سمیت درجنوں بھارتی فوجی ہلاک ،اطلاعات کے مطابق ایک ہفتے میں بھارتی فوج کو بہت بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس دوران جہاں درجنوں جونیئرفوجی افسران سمیت دیگراہلکار ہلاک ہوئے ہیں وہاں دواعلیٰ بھارتی فوجی افسر بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں

    تازہ واقعہ میں بھارتی ریاست منی پور میں آسام رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر گاڑی پر حملے میں اہلیہ بیٹے اور 3 فوجی اہلکاروں سمیت ہلاک ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست منی پور میں آسام رائفلز یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر اہل خانہ سمیت اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ اچانک گھات لگائے مسلح افراد نے قافلے پر حملہ کردیا۔

    ہلاک ہونے والوں میں کمانڈنگ آفیسر، ان کی اہلیہ اور بیٹے سمیت 3 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں علیحدگی پسند عسکری جماعت پیپلز لبریشن آرمی ایسے حملوں میں ملوث رہی ہے۔

    بھارتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمانڈنگ آفیسر اہل خانہ سمیت اپنی گاڑی میں جارہے تھے جب کہ ان کی حفاظت کے لیے ایک فوجی گاڑی بھی ہمراہ تھی جن میں 3 سیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

    واضح رہے کہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں کئی علیحدگی پسند عسکری جماعتیں متحرک ہیں جن کے ساتھ سیکیورٹی اداروں کی جھڑپیں معمول کی بات ہیں اور مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھی ایک ریاست میں بھارتی فوجی مظالم سے تنگ شہریوں نے بھارتی فوجی قافلے پرحملہ کیا تھا جس میں ایک کرنل ہلاک جبکہ ایک درجن کے قریب دیگرفوجی ہلاک بھی ہوئے تھے

  • ڈاکٹر فاروق ستارکی سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات

    ڈاکٹر فاروق ستارکی سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات

    دبئی: ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے درمیان دبئی میں اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماوں کے درمیان سیاسی خلا کو دور کرنے کے لیے مشاورت کی گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہوئی طویل ملاقات میں سیاسی خلاء کو دور کرنے کے لیے طویل مشاورت کی گئی اور ماضی کے اختلافات بھلا کر آگے بڑھنے پر اتفاق ہوا جبکہ ملاقات میں دیگر رہنماؤں سے مزید رابطے بحال اور تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے دونوں رہنماؤں نے آئندہ ملاقات میں سیاسی حکمت عمل طے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ ہم دونوں جلد دوسری ملاقات کر کے مزید مشاورت بھی کریں گے-

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایم کیو ایم نے سابق گورنر سندھ سمیت دیگر رہنماوں کو ایم کیو ایم میں شمولیت کی دعوت بھی دی تھی اس ضمن میں ایم کیوایم پاکستان کے سینئرڈپٹی کنوینرعامر خان نے ڈاکٹر عشرت العباد کی سیاست میں واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی باتیں قابلِ ستائش ہیں۔

    عامر خان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی صورت میں پہلے سے ایک پلیٹ فارم موجود ہےعامر خان نے سابق گورنر سمیت دیگر رہنماؤں کو شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میں سب کو دعوت دیتا ہوں ایم کیو ایم میں شامل ہوکر اسے مضبوط کریں ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، شمولیت کرنے والوں کو احترام اور عزت کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا اور انہیں دل سے قبول کیا جائے گا۔

  • آرمی چیف سے امریکا، چین اور روس کے نمائندگان خصوصی برائے افغانستان کی ملاقات

    آرمی چیف سے امریکا، چین اور روس کے نمائندگان خصوصی برائے افغانستان کی ملاقات

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکا، چین اور روس کے نمائندگان خصوصی برائے افغانستان نے جی ایچ کیو میں ملاقاتیں کیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں یں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دوطرفہ روابط کی روایت کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے اور طویل المدتی اور کثیر الجہتی پائیدار تعلقات کا خواہاں ہے۔

    انہوں نے انسانی بحران سے بچنے اور افغان عوام کی معاشی ترقی کے لئے مربوط کوششوں کے لیے افغانستان پر عالمی اتحاد کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

    امریکی نمائندہ خصوصی نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لئے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا-

    چین کی وزارت خارجہ کے افغانستان کے امور کے خصوصی ایلچی ایمبیسیڈر یو ژیاونگ نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لئے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا۔

    انہوں نے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اس موقع پر آرمی چیف نے علاقائی استحکام کے حصول کے سلسلے میں پرامن اور خوشحال افغانستان کے لئے کوششوں کو یکجا کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے لئے روسی فیڈریشن کے صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف سے ملاقات کے موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان تمام علاقائی شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ روابط کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور روس کے ساتھ طویل مدتی اور پائیدار کثیر الجہتی تعلقات کا خواہاں ہے۔

    روسی فیڈریشن کے صدر کے خصوصی نمائندے نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا انہوں نے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

  • مشکل وقت ہے گھبرائیں نہیں،اللہ ہماری مدد فرمائیں گے: وزیراعظم عمران خان کا ساتھیوں کو وعظ

    مشکل وقت ہے گھبرائیں نہیں،اللہ ہماری مدد فرمائیں گے: وزیراعظم عمران خان کا ساتھیوں کو وعظ

    اسلام آباد: مشکل وقت ہے گھبرائیں نہیں،اللہ ہماری مدد فرمائیں گے: وزیراعظم عمران خان کا ساتھیوں کو وعظ ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی ٹیم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل وقت ہے گھبرائیں نہیں، مہنگائی پر قابو پا لیں گے۔وزیراعظم عمران خان نےاپنے ساتھیوں کووعظ کرتے ہوئے نصیحت کی کہ صبراور شکرکا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اللہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ہماری ضرور مدد فرمائیں گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، وزیراعظم نے اپوزیشن کے سیاسی معاملات پر گفتگو سے گریز کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران معیشت مہنگائی اور عوامی ریلیف کے اقدامات زیر بحث رہے۔

    وزیراعظم نے ویلفیئر کے حکومتی اقدامات کو عوام تک پہنچانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو آسان الفاظ میں بتائیں کہ حکومت ان کیلئے کیا کر رہی ہے، عام آدمی کا ریلیف اس وقت حکومت کی توجہ کا مرکز ہے۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنی ٹیم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت ہے گھبرائیں نہیں ہم اس پر قابو پا لیں گے۔

    پاک آسٹریلیا میچ سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ گرین شرٹس ٹیم پریشر لینے کے باعث میچ ہاری، پر اعتماد ٹیم جیسے ہی دباو میں گئی تو باؤلنگ غلط ہونے لگی، ٹیم آخر تک پر اعتماد رہتی تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔

    دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی لیکن پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کے سوا دیگر کئی طبقات کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت کورکمیٹی اجلاس کا اہم ایجنڈا ملک میں مہنگائی کا مسئلہ تھا اور اس پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ حکومت مہنگائی کے حوالے سے سے جو اقدامات کررہی ہے اس پر پارٹی کو اعتماد میں لیا گیا۔

  • نوازشریف کےTTPسےمتعلق نظریات:عسکری قیادت   متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان:عرفان صدیقی

    نوازشریف کےTTPسےمتعلق نظریات:عسکری قیادت متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان:عرفان صدیقی

    اسلام آباد :ٹی ٹی پی سے متعلق نوازشریف کے نظریات سےعسکری قیادت متفق نہیں تھی:عمران خان مخلص انسان ہے:اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے معتمد خاص ، اسکرپٹ رائٹر سینیٹر عرفان صدیقی نے بہت گہرے انکشافات کیے ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عرفان صدیقی عمران خان کی شخصیت اور دوٹوک موقف کے بہت ہی زیادہ معترف اور مداح ہیں

    نواز شریف حکومت کے دورِ حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران عسکری قیادت کی جانب سے حکومت کو تعاون نہیں ملا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ نوازشریف کے تحریک طالبان کے متعلق نظریات عسکری قیادت سے متصادم تھے

    عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت بننے کے بعد نواز شریف کام کرتے رہے کہ کس طرح اتفاق رائے پیدا کیا جائے، عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا، اس وقت عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کا حصہ بننے سے انکارکیا تھا۔

    اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہم نےنیک نیتی سےمذاکرات شروع کیے، امید تھی کہ حل نکل آئےگا لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، طالبان شوریٰ خود ہمیں کہتی تھی کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ان کی کمانڈ سے باہر ہیں، ہم نے طالبان شوریٰ سے کہا کہ پھر ایسے لوگوں سے لاتعلقی کا اظہار کریں، مذمت کریں وہ یہ بھی نہیں کرتے تھے ،اس طرح مذاکرات ہچکولے کھاتے رہتے تھے اور بات آگے بڑھ نہیں پاتی تھی۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان سے حکومتی کمیٹی میں اپنا نمائندہ دینے کا کہا تو انہوں نے رستم شاہ مہمند کواپنا نمائندہ مقررکیا۔ عرفان صدیقی نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں عمران خان سمیت تمام پارٹیوں کے سربراہ شریک تھے جس میں اتفاق رائے ہوا کہ ہمیں مار دھاڑ نہیں کرنی، آپریشن نہیں کرنا، اس وقت کے آرمی چیف اور عسکری قیادت نے شرکاء کو بریفنگ دی تھی۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان کا بڑا زور دار مؤقف تھا کہ امن اور بات چیت کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا ہے،عرفان صدیقی کہتےہیں کہ میں عمران خان کے دلیرانہ موقف اور بیانیے سے بہت متاثرہوں ،

    عرفان صدیقی نے بتایا پھرالزام دہرایا کہ طالبان میں سنجیدگی نظر نہیں آئی کیونکہ جہاں سنجیدگی ہوتی ہے وہاں شرطیں نہیں لگائی جاتیں، سنجیدگی ہو تو دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کی جاتی ہے تاکہ بات آگے بڑھے۔

    خیال رہے کہ موجودہ حکومت بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کررہی ہے اور گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر پر اتفاق ہوا ہے۔

  • کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا

    کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا

    کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل پاکستان کو اپنی حکومت میں ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ مگر تبدیلی حکومت کے اقتدار کو تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور عوام ابھی بھی اس ریاست کی تلاش میں ہیں جس میں حق دار کو جلد انصاف مل جائے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی مثال آج جو کچھ سپریم کورٹ میں ہوا ہے اور جو سانحہ آرمی پبلک اسکول کے لواحقین کی دہائیاں ہیں ۔ وہ ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدے پر تو پیپلزپارٹی ، ن لیگ سمیت بہت سوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے ۔ پر جو عدالت کے باہر اے پی ایس شہدا کے والدین نے کہا ہے کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے والی حکومت کون ہیں؟ انہیں صبر نہیں انصاف چاہیے۔ شہدائے اے پی ایس کے والدین کے وکیل امان اللّٰہ نے جو عدالت میں کہا کہ حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ ایک والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بچہ یہ کہتے شہید ہوگیا کہ اس کی ماں دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی۔ مظلوموں کی ان دہائیوں نے دل دہلانے کے ساتھ ساتھ بہت ہی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں ۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ جیسے اپوزیشن ٹی ٹی پی والے معاملے پر حکومت کے خلاف کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ جو کچھ آج عدالت میں ہوا ۔ جو پوائنٹس اٹھائے گئے پھر جو لواحقین نے گفتگو کی۔ کیا اس کے بعد ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ امن معاہدہ کامیاب ہوجائے ۔ کیونکہ دیکھنے کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اتنے پاکستانی بھارت کا مقابلہ کرتے شہید نہیں ہوئے جتنے ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کاروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان جو بنا ۔۔۔ اس کا کیا بنا ؟؟ پر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور اسکے وزراء کو چیزوں کا زیادہ ادارک نہیں ہے ۔ کہ پاکستان کس مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ آج بھی اتنے اہم کیس میں عمران خان کی عدالت پیشی کے دوران فواد چوہدری اور شیخ رشید سیاست کرنے اور شرارت کرنے سے باز نہ آئے ۔ جہاں فواد چوہدری میڈیا کو یہ بتا رہے تھے کہ جب سانحہ ہوا تو اس وقت وزیر اعظم نواز شریف تھے ۔ تو شیخ رشید کی پرانی کیسٹ پھر چل پڑی کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ حالانکہ معاملہ مظلوموں کا انصاف دینے کا تھا ۔ ویسے فواد چوہدری کو یہ تو یاد رہا کہ نوازشریف وزیراعظم تھے یہ بھول گئے وزیر اعلی پرویز خٹک تھے اور پوری پی ٹی آئی ڈی چوک پر ناچ رہی تھی ۔ پھر ان تین سالوں میں عمران خان نے کون سا ایسا تیر چلا لیا ہے جو پانچ سال پورے کر لینے پر عوام نے پھر ان کو ووٹ ڈال دینا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے کل اپوزیشن جماعتوں نےقومی اسمبلی میں مل کر اکثریت کے معاملے میں حکومت کو شکست دے دی تھی جس کے باعث حکومت آئینی ترمیمی بل پیش نہ کرسکی۔ کیونکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد حکومتی اراکین سے زیادہ تھی ۔ اس لیے کاش آج یہ وزیر شہداء کے لواحقین کے لیے دو ہمدردی کے بول ہی بول دیتے ۔ تو زیادہ اچھا تھا ۔ ویسے اس تمام معاملے پر پی ٹی آئی کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آگیا ہے ۔ جب یہ ہی سپریم کورٹ نواز شریف یا یوسف رضا گیلانی کو عدالت بلاتی تھی تو یہ خوب تعریفوں کے پل باندھا کرتے ہیں اب یہ ہی لوگ سوشل میڈیا پر عدالت کو malign کرنے کی کمپین چلا رہے ہیں ۔ کہ وزیراعظم عمران خان کو بلایا کیوں ؟ سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام ترین حکومت عوام پر ایسا عذاب بن گئی ہے کہ ناانصافی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ یہ عالم آچکا ہے کہ لوگ ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اذانیں دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں تو کئی ریکارڈ توڑے ہی تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے انتقامی کاروائیوں، غیر اصولی سیاست، انتخابی دھاندلیوں، قوانین بذریعہ صدارتی آرڈیننس جن میں کئی غیر آئینی اور جموریت کو سبوتاژ کرنے کے نیت یے اس کے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

    کوئی پوچھے کیا ہوا… تو کہنا عمران خان آیا تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی خوبصورتی یہ ہے کہ بطور اپوزیشن جن حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے تھے اقتدار میں آکر ان سے نجات کی بجائے انہی کو من و عن اپنا لیا ہے۔ بلکہ گزشتہ ادوار کے وہ لوگ اپنی کابینہ میں شامل کر لیے جن کو وہ چور ، ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا کہا کرتے تھے ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان روز انصاف کی فراہمی ، کرپشن اور احتساب پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ۔ پر سب جھوٹ ہے اور سب نظر کا دھوکہ ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ خود کیشوں کی تعداد میں ہی اضافہ نہیں ہو رہا دیگر اخلاقی جرائم بھی منہ زور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایک افراتفری کا عالم ہے اور غریب عوام اب چینی جیسی ہر گھر کی روز کی ضرورت سے بھی محروم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر بجٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ مہنگائی نہیں ہوگی مگر بجٹ پاس ہوتے ہی حکومت مہنگائی خود بڑھا دیتی ہے۔ ہمیشہ جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا عام آدمی پر اثر نہیں پڑے گا جب کہ ہر حکومتی جھوٹ کا سب سے پہلا اثر ہی عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں بھی جھوٹ بولا جاتا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں غلط بیانیوں، گمراہ کن دعوؤں سے ملک کو جہنم بنا دیا گیا ہے اور نئے نئے ریکارڈ قائم کرا دیے گئے ہیں۔ غیر ملکی امداد اور قرضے پہلے کی نسبت دگنے ہوچکے ہیں۔ پر ہمیشہ صرف یہ بیچا جاتا ہے کہ ہمارا وزیراعظم جہاں جاتا ہے تقریر اور پرسنلٹی کا جادو سب کو رام کردیتا ہے۔ آخر عوام اس چیز پر کتنا کو خوش ہوں ۔ خان صاحب اپنی اپوزیشن کے دنوں میں جس سونامی کا ورد روزانہ کیا کرتے تھے وہ شاید یہی سونامی تھی ۔ جس میں ایک زرعی ملک جو گندم ۔ چینی ۔ چاول اور کپاس میں مکمل طور پر خود کفیل اور خود مختار تھا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج وہ تمام اجناس بیرون ملک سے امپورٹ کر رہا ہے۔ بمپر فصل ہونے کے باوجود ہم اتنے سخی ہوچکے ہیں کہ اپنی فصلیں اور پیداوار تو افغانستان اسمگل کردیتے ہیں اور خود اپنے لیے زرمبادلہ خرچ کرکے چینی اور گندم بڑی مقدار میں درآمد کررہے ہیں۔ ہمارا دشمن جس قسم کا پاکستان دیکھنا چاہتا تھا ہم نے آج اپنے پاکستان کو اُس مقام پر پہنچادیا ہے۔ ہم نے اپنے تمام بڑے بڑے منصوبے اب گروی رکھنا شروع کردیے ہیں۔ ایئرپورٹ اور موٹروے سمیت بہت سے پروجیکٹ اگر نہ ہوتے تو ہم اپنی کون سی چیز گروی رکھ کے یہ قرضے حاصل کرتے۔ اب صرف نیوکلیئر پروجیکٹ باقی رہ گیا ہے جس پر دشمنوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اللہ وہ دن نہ لائے جس دن قوم صبح جب خواب غفلت والی نیند سے بیدار ہو تو اُسے پتا چلے گا کہ ہمارا یہ اثاثہ بھی گروی رکھ دیا گیا ہے۔۔ اُس وقت ہمارے یہ حکمراں شاید یہی کہتے ہوئے دکھائی دینگے کہ ایسے ایٹم بموں کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے قوم بھوک سے نڈھال ہورہی ہے اور وہ اُس کے کام نہ آئیں۔ روپیہ بنگلہ دیش تو کیا خطہ کے کسی اور کمزور ملک کی کرنسی سے مقابلہ نہیں کر پا رہا ہے ۔ چالیس سالوں سے تباہ حال افغانستان کی کرنسی بھی ہم سے زیادہ مضبوط ہے۔ پٹرول آج بھی وہاں ہم سے کم قیمت پر دستیاب ہے۔ طالبان کو جس حال میں حکومت ملی ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ابھی تک ہم نے اُن کا وہ رونا دھونا نہیں سنا جو ہماری اس حکومت نے ساڑھے تین سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ہر غلطی اور ناکامی کو پچھلی حکومتوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔ ہم نے تو نیب قوانین میں مزید ترمیم کرکے جو تھوڑا بہت اس کا بھرم تھا وہ بھی ختم کردیا ہے ۔ شکریہ تو بنتا ہے اس بات پر کہ اس وقت عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ کیوں کہ یہاں پر جس کا جو دل کررہا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ گلہ کریں تو کس سے اور گریبان پکڑیں تو کس کا۔ صبح و شام چیزوں کے ریٹس مختلف ہیں اور وہ کس ریشو سے بڑھ رہے ہیں اور کیوں بڑھ رہے ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔ قانون سازی اور آرڈیننس سازی میں جو کمالات عمران خان کی حکومت دکھا رہی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو یا نیب چیئرمین کی مدت میں توسیع کا، بلدیاتی الیکشن کا معاملہ ہو، اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ ہو یا نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجنے کا ہر بار نیا کٹا ہی کھولا گیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان مدد لینے دوست ممالک اور قرض کےلیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے جتنے خلاف تھےاب وہ اتنے ہی دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ان کے پاس جاتے ہیں اور ایسا کرنے پر ایسی ایسی وجوہات پیش کرتے ہیں کہ لوگ سر پکڑ لیتے ہیں۔ آج معیشت کو دیکھ لیجئے، مہنگائی کا انڈیکس دیکھ لیجئے، کرپشن کے حوالے سے ملک کی رینکنگ دیکھ لیجئے، ایمانداری کے حوالے سے رپورٹیں پڑھ لیجئے۔ صحت کے حوالے سے دیکھ لیجئے۔ ہر چیز حکومت کامنہ چڑا رہی ہے ۔ ایک جانب ڈینگی کنڑول نہیں ہورہا تو ڈینگی بخار کے لیے جو گولی ہے آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہے۔ میڈیا یہ رپورٹ کرکر کے پاگل ہوگیا ہے ۔ مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ۔ حکومت نے اب مہنگائی کنڑول کرنے کا حل یہ نکالا ہے کہ SPI (Sensitive Price index)کا ہفتہ وار دیٹا ہی بند کر دیا ہے ۔ کہ نہ پتہ چلے گا کہ کتنی مہنگائی بڑھی ہے ۔ نہ کوئی رپورٹ کرے گا ۔ یعنی پھر نہ کوئی حکومت کو برا بھلا کہے گا ۔ پھر حکومت میں جو رتن شامل ہیں ان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کون کس کا ترجمان ہے۔ کیوں کہ ان کے اپنے وزیر اور مشیر اپنی حکومتی پالیسی سے نابلد نظر آتے ہیں اور ہر ایک کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ۔ اب ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں اور بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک یہ نہیں بلکہ گزشتہ حکومتیں چلا رہی ہیں اور وہ صرف ان پر بیانات دینے کا فریضہ سر انجام دینے پر مامور ہیں۔ ہم سب یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ عمران خان نے بائیس سالہ جدوجہد میں سب سمجھ لیا ہے کہ مسائل کیا ہیں اور ان کو حل کیسے کرنا ہے۔ اور یہ سب ہم نے بلاوجہ نہیں سمجھا بلکہ ہمیں بار بار یہ باور کرایا گیا کہ روزانہ ملک میں اتنے ارب کی کرپشن ہوتی ہے جو ان کے آنے سے رک جائے گی۔ یہ بتایا گیا کہ ان کے پاس کام کرنے والی ٹیم بالکل تیار ہے جس میں ایسے قابل اور ایماندار لوگ ہیں۔ جو نہ کسی نے کبھی دیکھے ہوں نہ ان کے بارے کبھی سنا ہوگا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ نوے دنوں میں یہ ہوجائے گا، دو سال میں یہ ہوجائے گا اور پانچ سال بعد نہ جانے ہمارا ملک ترقی کی کون سے زینے پر قدم رکھ چکا ہوگا۔ پر سچ یہ ہے کہ ملک کو اس حال میں پہنچا دیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والا کوئی حکمراں بھی اُسے سنبھال نہ سکے اور پھر قوم کے پاس موجودہ حکمرانوں کے سوا کوئی آپشن باقی نہ رہے۔ ویسے بھی کچھ لوگوں کی نظر میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی متبادل ہی موجود نہیں ہے۔

  • افغانستان پر 8 ممالک کا علاقائی اجلاس بری طرح ناکام:بھارت نامراد اور ناکام ہوگیا

    افغانستان پر 8 ممالک کا علاقائی اجلاس بری طرح ناکام:بھارت نامراد اور ناکام ہوگیا

    نئی دہلی: افغانستان پر 8 ممالک کا علاقائی اجلاس بری طرح ناکام:بھارت نامراد اور ناکام ہوگیا ،اطلاعات کےمطابق بھارت کو افغانستان کی موجودہ صورت حال پر ہونے والے اپنے ہی علاقائی اجلاس میں اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب افغانستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بات کو دیگر فریقین نے مسترد کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت نے افغانستان کی صورت حال پر پڑوسی ممالک کے مشیر قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس کی سربراہی بھارت کے مشیر قومی سلامتی نے کی تھی۔

    اجلاس کے انعقاد سے قبل ہی پاکستان اور چین نے بھارت کی اجلاس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کردیا تھا تاہم روس سمیت ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے مشیران قومی سلامتی نے شرکت کی تھی۔

    ابتدا ہی سے ناکامی کے شکار اس بھارتی اجلاس کا اختتام نہایت مایوس کن رہا، بھارت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ بھارت کے افغانستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بات کو فریقین نے مسترد کردیا۔

    روس نے بھی بھارتی مؤقف کو نہ صرف مسترد کردیا بلکہ اس سے اختلاف کرتے ہوئے اعلامیہ سے الگ بیان بھی جاری کیا۔ ایک اجلاس کے دو بیانات اختلافی مواد کے ساتھ منظر عام پر آنے پر بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    بھارت کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران افغانستان میں دہشت گردی، بنیاد پرستی اور منشیات کی اسمگلنگ سے پیدا ہونے والے خطرات پر خصوصی طور پر توجہ مرکوز رکھی گئی تاہم روس کی جانب سے جاری بیان میں ان چیزوں کا زکر تک نہیں کیا گیا۔

  • حکمران اپنی دھن میں مگن، عوام دن میں تارے دیکھنے پر مجبور

    حکمران اپنی دھن میں مگن، عوام دن میں تارے دیکھنے پر مجبور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسنمبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مشکل وقت میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ کاش وہ ایسا بیان پاکستانی عوام کے بارے بھی دے دیں ۔ کیونکہ ان کی مشکلات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ حالانکہ انھوں نے کپتان کو ووٹ دیا ۔ انہوں نے ان کو وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان کیا ۔ انہوں نے عمران خان کی ہر بات ، ہر دعوے ، ہر وعدے پر یقین کیا ۔ کاش عمران خان اس مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔ پر یہ ایک سیراب محسوس ہوتا ہے ۔ خواب لگتا ہے ۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اردگرد انھیں مافیاز کو اکٹھا کیا ہوا ہے جس سے نجات کے لیے اس عوام نے ملک کی دوبڑی جماعتوں کو پس پشت ڈال کر خیبر سے لے کر کراچی تک تحریک انصاف کو چنا تھا ۔ پر دکھیاری عوام کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پر یاد رکھیں جب یہ عوام عمران خان کے ساتھ ہاتھ کریں تو پھر یہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی انتقام کے آگے تو بڑے بڑے سورما اور ظالم و جابر حکمران ذلیل وخوار ہوچکے ہیں ۔ جس طرح انھوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اس کے بعد عنقریب ایسا ہی حال عمران خان اور ان کی پارٹی کا ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں اس وقت سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ سیاسی محاذ بھی گرم ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کو بلوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ کل تک دبکنے والی اپوزیشن اب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل نے بھی حکومت کو جکڑ لیا ہے۔ ایک مشکل ختم ہوتی نہیں کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ چینی نے تو جان ہی نکال لی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول سب ہی پریشان کر رہے ہیں۔ ایک صفحہ بھی لگتا ہے کہ پھٹ گیا ہے۔ جس کے اپنے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں تو پورے ملک میں کرائم ریٹ بڑھ چکا ہے پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ڈکیتیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ صرف پنجاب ہی نہیں اسلام آباد جیسا سیف سٹی بھی ڈاکوؤں کے نشانے پر ہے۔ یہاں تک کہ چند روز پہلے تو ڈاکوؤں نے سیکیورٹی کمپنی کی وہ گاڑی بھی دن دہاڑے دیدہ دلیری سے لوٹی جو بینکوں میں کیش پہنچاتی تھی ۔ کیونکہ ایک رپورٹ کے مطاطق پاکستان انسانی بہبود یعنی انسانی زندگی کی بہتری میں صرف یمن۔ افغانستان اور شام سے بہتر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری اس حکومت سے درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے غریب پر کچھ رحم کرو، آپ تو عمر بن خطاب کی مثالیں دیتے رہے ہو ۔ پر لگتا ہے کہ اب تو غریب کی صرف اللہ ہی مدد کرے تو کرے حکومت نے تو بھوک سے مار دیا ہے ۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پچھلی حکومتوں کے ادوار میں اگر قرضے لئے جاتے تھے تو قوم کو ترقیاتی منصوبہ جات بھی دکھائی دیتے تھے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ پالیسی ٹھیک تھی یا غلط تھی ۔ مگر حالیہ برسوں میں جو قرضے لئے گئے ہیں، ان کے بدلے میں عوام کو سوائے شدید ترین مہنگائی کے اور کیا ملا؟ تیس ہزار ارب سے سنتالیس ہزار ارب تک قرضوں کو پہنچنا عمران خان کا ہی کارنامہ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سابق حکمرانوں کی کتنی کرپشن کپتان نے پکڑی ؟ اگر ان کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو اخلاقاً انکو کو الزام عائد کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا دوسروں کی عزتوں کو بلاجواز و ثبوت اچھالنا بد اخلاقی کی زمرے میں نہیں آتا؟ جو وہ روز اخلاقیات کے بھاشن قوم کو دیتے ہیں۔ یہ عمران خان کا ہی اپنا فرمان ہے کہ برائی وزیراعظم اور وزیروں سے شروع ہو کر نیچے تک جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے اردگرد کرپٹ ، چور اور دیہاڑی باز ہیں پرعمران خان صادق وامین ہیں ۔ آج جس طرح یہ حکومت اعظم سواتی اور فیصل واڈا والے معاملے میں ننگی ہوکر سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو سارے بھرم ہی ختم کردیے ہیں ۔ واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان کو ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اپنی پارٹی ، اپنے لوگوں کی حکمرانی پسند ہیں ۔ چاہے وہ نہ صادق ہو نہ امین ہو ۔ حالانکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے تیرہ صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا تھا ۔ کہ فیصل واوڈا کا بیان حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے۔ اور جیسے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر حملہ کیا تھا ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ پر عمران خان کو یہ نہ دیکھائی دیا نہ سنائی دیا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بہرحال کپتان کو کسی دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی وہ اپوزیشن کی دھمکیوں یا عوام کی بدعاوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔ وہ تو اپنی دھن کے بندے ہیں۔ جو من میں آئے کر گزرتے ہیں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپوزیشن جتنا بھی احتجاج کر لے کپتان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بے نیازی کا عالم یہ ہے کہ ان کو ملک میں کوئی برائی ۔۔۔ برائی دیکھائی ہی نہیں دیتی ۔ ایسا بے فکر وزیراعظم اور ایسی بے اثرحکومت شاید ہی اس ملک میں پہلے کبھی دیکھی گئی ہو۔ اب جنہیں چور کہا جاتا تھا وہ تو کب کے رخصت ہوگئے ہیں لیکن بجلی اور گیس کے بل پہلے کی نسبت نہ صرف بہت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں بلکہ ان میں اضافے کی رفتا بھی کم نہیں ہورہی۔ یہی عمران خان کہتے تھکتے نہیں تھے کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب وزیراعظم کرپٹ ہو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ دیکھیں حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دو روپے 53پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے۔ جس سے تیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ ستمبر کے لئے ہے جو نومبر کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔ دیکھی جادوگری آپ نے ان کی اعلان اب کیا ہے وصول پچھلے مہینے کےبلوں میں کیا جائے گا ۔ اسی لیے تو دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں مہنگائی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ آج قوم یہ تمام سوال پوچھ رہی ہے۔ ابھی تو مسجدوں کے منبروں سے سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں ۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ چوکوں ، چوراہوں ، تقریبات ہر جگہ ان سے پوچھے جائیں گے ۔ لوگ ان کے گریبان پکڑیں گے ۔ یہ بڑے ہوشیار اور چالاک بنتے ہیں آپ دیکھیں ڈسکہ کی منظم دھاندلی کے جو باقاعدہ ثبوت سامنے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس میں اکیلی فردوس عاشق اعوان ہی ملوث تھی؟ کیا وہ محض تنہا اپنے طور اتنی بڑی بڑی چھلانگیں مار سکتی تھیں ؟ سچ سامنے آنا چاہیے کہ اوپر سے ہدایات جاری کرنے والا تلقین شاہ کون تھا؟ عثمان بزدار ، پنجاب پولیس اور بیوروکریسی کے بغیر یہ ممکن تھا ۔ بالکل نہیں تھا ۔ ڈسکہ میں دھاندلی اس حکومت پر سب سے بڑی چارج شیٹ ہے ۔ کیونکہ عمران خان تو صاف شفاف الیکشن کے سب سے بڑے داعی ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوں تین سال بعد نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نئے پاکستان کا ہر باسی پُرانے پاکستان کی تلاش میں نظرآرہا ہے۔ عوام تو عوام ہوتے ہیں لیکن ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواص کی بھی اپنی ایک الگ سوچ ہوتی ہے اور ہمارے ان خواص کو ملک کی معاشی صورتحال کا پتہ ہوتاہے ۔ وہ حتیٰ الامکان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات جیسے بھی رہیں۔ ان کی ذاتی معیشت ترقی کرتی رہنی چاہیے۔ اس لیے وہ اپنی معیشت کو درست رکھنے کے لیے ملک کی معیشت کو داؤ پرلگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی ضرورت پڑتی ہے عوام کی روز مرہ ضرورت کی کسی چیز پر ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی یوٹیلٹی بل اچانک بڑھ جاتا ہے ۔ لیکن امراء کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ سرکار کے ملازم بلکہ عوام پر لگائے گئے انھی ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کو اپنی تنخواہوں۔ الاونئس اور دیگر مراعات میں استعمال کرکے شاہانہ لائف اسٹائل برقرار رکھتے ہیں اور ان کی موجیں یوں ہی لگی رہتی ہیں ۔ ان کی سج دھج وہی رہتی ہے جوہمیشہ سے تھی لیکن اب یہ سج دھج ملک کی توفیق اور استطاعت سے باہر ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستانی عوام دعا مانگ رہے ہیں کہ کوئی عالم غیب سے آئے اور اس لوٹ مار کو بند کر دے۔ یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جس ملک کے حکمران بیرونی ممالک سے وصول کردہ تحفوں کی تفصیلات بتانے کو قومی راز اورقومی سلامتی گردانتے ہوں۔ سوچیں وہ اور انکے ساتھ کیا فلم ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی ہاتھ روکنے والا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ بڑا ہاتھ مارا جائے اور جہاں تک ضمیر وغیر ہ کا تعلق ہے تو یہ مر چکا ہے۔ اس وقت بالکل واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے پر کم ٹیکس لگائیں ۔ تاکہ وہ اپنی بچت، یا پھر منافع کو اپنے کاروبار میں وسعت پر لگائے۔ اسی لیے اس حکومت نے امیر طبقہ کو کھربوں روپے کی رعائتیں بھی دی ہیں۔ اللہ نہ کرے وہ دن آئے ۔ کہ ہمارا حال لبنان ، وینزویلا یا سوڈان جیسا ہُو۔ پر یہ چل اسی ڈگر ہر رہے ہیں ۔ جہاں افراطِ زر کی شرح سینکڑوں فیصد میں ہے۔ ۔ یہ تو ہماری زراعت میں اتنی جا ن ہے کہ وہ ہمیں پوری طرح ڈوبنے نہیں دے رہی ۔ کھانے پینے کا سامان ملک میں اتنا موجود رہتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی جیسی تیسی چلتی رہتی ہے۔ ورنہ اس حکومت نے کسر کوئی نہیں چھوڑی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل اور کرم ہے کہ یہ ملک کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، ہر آنے والا حکمران اپنا چورن بیچ کر چلا جاتا ہے،کوئی قرض اتارنے اور ملک سنوارنے کی بات کرتا ہے تو کوئی نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کے خوب دکھاتا ہے۔ ایک ہم عوام ہیں جو خواب دیکھے جارہے ہیں۔