Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پی ڈی ایم کا حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج  کرنے کا فیصلہ‏

    پی ڈی ایم کا حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ‏

    پی ڈی ایم کے اجلاس کا اعلامیہ جاری‏ کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : اعلامیے کے مطابق لانگ مارچ کی تاریخ کیلئے پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کو تجاویز کی تیاری کی ہدایت‏ کی ہے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اپوزیشن نے حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ‏ کیا ہے –

    جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی، کامران مرتضی، عطاءاللہ تارڑ کو قانونی تجاویز کی تیاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ‏22نومبر کو پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے-

    23نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی جائے گی‏ کوئٹہ اور پشاور میں پی ڈی ایم کےجلسے منعقد کرنے کی منظوری دی گئی-

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ عوام کے ساتھ اس ظلم کا ذمہ دار وزیراعظم ہے،حکومت مہنگائی کی تلوار سے عوام کو روز قتل کر رہی ہےمہنگی چینی بھی انتہائی غیرمعیاری ہے-

    پی ڈی ایم اعلامیہ‏ کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتے ہیں مہنگی ہونے کے باوجود ملک میں گیس بحران نےعوام اور صنعتی شعبے کی نیندیں اڑا دیں‏ سردیوں کی آمد سے قبل ہی عوام ایک نئی اذیت میں مبتلا ہوگئے-

    3سال میں حکومت عوام کو راشن کارڈ اور 3 وقت گیس کی فراہمی کی بھیک پر لے آئی ، کرپٹ ، نااہل اور ووٹ چور حکومت نے عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے-

    واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ورچوئل اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں کے رہنماؤں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ جن رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی ان میں میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، آفتاب احمد خان شیرپاؤ، حافظ عبدالکریم، اختر مینگل، اویس نورانی، محمود خان اچکزئی، حافظ حمد اللہ، احسن اقبال، سردار اختر جان اور میر کبیر شامل تھے۔

  • ن لیگ عدالتوں پراثراندازہونےکی تاریخ رکھتی ہے،مگراب ایسا انہیں چلے گا:یہ خود پھنسیں گے، وزیراعظم

    ن لیگ عدالتوں پراثراندازہونےکی تاریخ رکھتی ہے،مگراب ایسا انہیں چلے گا:یہ خود پھنسیں گے، وزیراعظم

    اسلام آباد:ن لیگ عدالتوں پر اثرانداز ہونے سے متعلق تاریخ رکھتی ہے،مگراب ایسا انہیں چلے گا: یہ خود پھنسیں گے، وزیراعظم کے بیان نے ن لیگ کے کالے کرتوں کوایک بارپھربےنقاب کرنے کا اشارہ دے دیا ،گلگت بلتستان کی سپریم ایپلٹ کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم کے انکشافات کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عدالتوں پر اثرانداز ہونے سے متعلق تاریخ رکھتی ہےاور انہوں نے ہمیشہ ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں گلگت بلتستان کے سابق جج کے بیان حلفی کے معاملے پر غور کیا گیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر اورسینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے معاملے کے قانونی نکات پر بریفنگ دی۔

    شہزاد اکبر نے بریفنگ میں بتایا کہ بظاہر لگتا ہے اس پلان کے پیچھے مسلم لیگ ن ہے، بیان حلفی کا مقصد مسلم لیگ ن کے قائدین کے خلاف کیسز کو متنازع بنانا ہے۔بیرسٹرعلی ظفرکا بریفنگ میں کہنا تھاکہ عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے پر توہین عدالت بنتی ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ ن عدالتوں پر اثرانداز ہونے کے بارے میں اپنی تاریخ رکھتی ہے اور ن لیگ نے ہمیشہ ریاستی اداروں پر حملہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ سیاسی مافیا اپنے کیسز سے بچنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے، ن لیگ اس معاملے میں خود پھنسے گی، معاملہ عدالت میں ہے وہی اسے دیکھے گی۔

    اتحادیوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ اتحادیوں کے تحفظات جلد دور ہو جائیں گے، اتحادی ہماری فیملی کی طرح ہیں۔

    دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ن لیگ قیادت کو بتایا گیا ہے کہ ایسے الزامات سے ن لیگ کوفائدہ ہونے کی بجائے نقصان پہنچ سکتا ہے اوراگریہ چیز ثابت نہ کرسکےتو ن لیگ کی سیاسی موت کےساتھ عدالتی موت بھی ہے اور اگراس حد تک کوئی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا توپھراس سے حکومت یا سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکوکوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا کیوں کہ بحیثیت ایک چیف جسٹس کے وہ کسی بھی کیس کے قانونی پہلووں پررائے دے سکتے ہیں

  • روسی-ایس400 ڈیفنس سسٹم حاصل کرنےکےبعد بھارتی آرمی چیف جدید خطرناک اسلحہ لینے اسرائیل پہنچ گئے

    روسی-ایس400 ڈیفنس سسٹم حاصل کرنےکےبعد بھارتی آرمی چیف جدید خطرناک اسلحہ لینے اسرائیل پہنچ گئے

    نئی دہلی :روسی- ایس 400 ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کے بعد بھارتی فوج آرمی چیف جدید خطرناک اسلحہ لینے اسرائیل پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق روس سے دنیا کا خطرناک ترین ایس 400 ڈیفنس سسٹم لینے کے بعد بھارتی آرمی چیف اسرائیل پہنچ گئے ہیں ، اچانک بہت بڑی تبدیلی اور حالات کے تناظر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ خطے میں خطرناک دوڑ شروع ہوچکی ہے

    ادھر بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ اور ہماچل پردیش میں چینی فوج کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل ایم ایم نروانے صیہونی ریاست سے مدد اور مشورہ لینے کے لیے پانچ روزہ دورے پر اسرائیل روانہ ہو گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آرمی چیف کا یہ دورہ اسرائیل کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کے لئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور سیکرٹری دفاع اجے کمار کے دوروں کے چند ہفتوں بعد ہورہا ہے۔

    سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ جنرل نروانے دونوں ممالک کے درمیان مجموعی فوجی تعاون کو فروغ دینے کے بارے میں اسرائیل کے اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کریں گے۔بھارت اور اسرائیل نے منگل کو ڈرون، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات مشترکہ طور پر تیار کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    بھارت اسرائیل کے ملٹری ہارڈ ویئر کا بڑا خریدار رہا ہے۔ اسرائیل گزشتہ چند سالوں سے بھارت کو مختلف ہتھیاروں کے نظام، میزائل اور بغیر پائلٹ کے جہاز فراہم کر رہا ہے لیکن یہ لین دین زیادہ تر پردے کے پیچھے ہی رہ جاتاہے۔

  • بھائی کی فوتگی پررانا شمیم کے پاس عدالت کے لئے وقت نہیں مگر لندن جانے کا وقت ہے   اٹارنی جنرل

    بھائی کی فوتگی پررانا شمیم کے پاس عدالت کے لئے وقت نہیں مگر لندن جانے کا وقت ہے اٹارنی جنرل

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر لگائے گئے الزامات پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی سماعت چیف جسٹس اظہرللہ نے کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ وکیل صاحب نے بتایا کہ 6 نومبر کو سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے بھائی وفات پا گئے مگر اس کے بعد وہ لندن گئےبھائی کے فوتگی کے بعد لندن جا کر 10 تاریخ کو بیان حلفی بنایا-

    اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ بھائی کی فوتگی کے لئے عدالت کے لئے وقت نہیں مگر لندن جانے کا وقت ہے،کل سے تمام میڈیا پر صرف ایک ہی ایشو چل رہا ہے یہ کوئی عام معاملہ نہیں اسکے بہت سنجیدہ نتائج ہوں گے-

    عدالت نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت میں وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں-

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، صحافی انصار عباسی کیخلاف توہین عدالت کیس کی ازخود سماعت میں چیف ایڈیٹر دی نیوز میر شکیل الرحمان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچےاسلام آباد ہائیکورٹ میں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ،اخبار کے چیف ایڈیٹر، ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور رپورٹر بھی پیش ہوئے جبکہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت سے غیر حاضر رہے رانا شمیم کے بیٹے والد کی جگہ عدالت میں پیش ہوئے نئے والد کی غیر خاضری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ والد رات اسلام آباد پہنچے، طبعیت ٹھیک نہیں ہے-

    رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے عدالتی عملے سے کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگ لی کہا ہم ایک ویڈیو عدالت میں چلانا چاہتے ہیں، لیپ ٹاپ لا سکتے ہیں؟ جس پر عدالتی عملے نے کہا کہ جج صاحب کی اجازت سے لیپ ٹاپ لا سکتے ہیں-

    دوارن سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا رانا شمیم عدالت میں پیش ہوئے ہیں ؟ جس پر رانا شمیم کے وکیل نے کہا کہ رانا شمیم کے بھائی کا انتقال ہوا ہے، انہیں پیش ہونے کیلئے وقت دیا جائے امریکہ میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے گئے تھے رات کو ہی واپس آئے ہیں-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟ رانا شمیم کے وکیل نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیں جواب جمع کرائیں گےعدالت نے حکم دیا کہ سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کو زاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوگا۔

    وکیل رانا شمیم نے دعخواست کی سینیٹر فیصل واڈا کو اس کیس میں توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بے شک درخواست دائر کریں مگر اس کیس میں کسی کو شامل نہیں کریں گے-

    دوران سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر مجھے اپنے ججز پر اعتماد نہ ہوتا تو یہ توہین عدالت کی کارروائی نہ کرتا، انہوں نے کہا کہ اس عدالت نے کہا کہ ججز کا احتساب ہونا چاہیے اور ان پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے-

    چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ‏میرشکیل صاحب آپ سامنے روسٹرم پر آجائیں عدالت نے آپ کو نہ چاہتے ہوئے بلایا چیف جسٹس اطہر من اللہ نے میر شکیل الرحمن سے استفسار کیا کہ آپ ایک لیڈنگ میڈیا آرگنائزیشن کے مالک ہیں اگر کوئی اپنا بیان حلفی نوٹرائز کراتا ہے تو آپ اسکو اخبار کی لیڈ بنا دینگے؟اگر لوگوں کا اعتماد عدالت پر ختم ہو جائے تو افراتفری پھیلتی ہے، اور آپ نے یہ کیا کیا ہے؟کیا عدالت میں کوئی شخص میرے ججز پر الزام عائد کر سکتا ہے کہ وہ کسی سے ہدایات لیتے ہیں؟ کیا لوگوں کا عدالتوں سے اعتماد اٹھایا جا رہا ہے؟-

    چیف جسٹس نے انصار عباسی سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پوچھا کہ یہ بیان حلفی برطانیہ میں نوٹرائز ہوا؟ آپ انویسٹی گیٹو صحافی ہیں اور میں آپکا احترام کرتا ہوں جس بینچ نے سماعت کی وہ کس نے بنوایا تھا؟ چیف جسٹس نے انصار عباسی سے سوال کیا-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ کو سائلین کیلئے قابل احتساب سمجھتا ہوں احتساب عدالت نے 6 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی تھی، 16جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی میں اور جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر ملک سے باہر تھے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی تھی،دونوں ججز ملک بھر کے قابل احترام ججز ہیں، آپ ہائیکورٹ سے پوچھ لیتے کہ کونسا بینچ اس وقت کیس کی سماعت کر رہا تھا-

    انہوں نے استفسار کیا کہ آپ نے خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا کیس الیکشن سے پہلے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست کی تھی؟ خواجہ حارث پیشہ ور وکیل ہیں انہیں معلوم تھا کہ یہ طریقہ کار نہیں ہوتا،کسی وکیل سے پوچھ لیں، ایک دن اپیل دائر ہو اور سزا معطل ہو جائے یہ نہیں ہوتا،ایک سال کیلئے ڈویژن بینچ تھے جنہوں نے اس ہائیکورٹ کو چلایاجج کے نام کی جگہ خالی چھوڑ کر آپ نے ساری ہائیکورٹ پر الزام عائد کر دیا-

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ہائیکورٹ سے لوگوں کا اعتماد اٹھانے کیلئے سازشیں شروع ہو گئیں،میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسی بات کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ کر دیدوں گا،چیف جسٹس ایک چیف جسٹس کے سامنے ایسی بات کرے اور وہ 3سال خاموش رہے،اچانک سے ایک پراسرار حلف نامہ آ جائے اور ایک بڑے اخبار میں شائع ہو جائے ملک کے بڑے اخبار نے فرنٹ پیج پر ایسی سٹوری کی جس سے عوام کا اعتماد اٹھاتا ہے، ہم پر تنقید کرے مگر لوگوں کا اعتماد عدالتوں پر بحال ہونے دے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ یعنی ایک آزاد عدلیہ کا معاملہ ہے،انہوں نے چیف ایڈیٹر کو دی نیوز کی ہیڈ لائن پڑھنے کی ہدایت کی جس پر چیف ایڈیٹر جنگ نے کہا کہ میری عینک کئی رہ گئی ہے،جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ انصار عباسی آپ پڑھیں، جس پر انہوں نے کہا کہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پہلے آپ ہیڈ لائن پڑھیں-

    انصار عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ اب کیا کہیں گے، جو نقصان کرنا تھا وہ آپ کر چکے انصار عباسی نے کہا کہ اس پر ضرور کاروائی کریں کیوں کہ یہ بہت ہی سنگین مسئلہ ہے-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اہم ترین عہدہ رکھنے والا شخص 3 سال بعد ایسا بیان حلفی کیسے دے سکتا ہے؟افواہیں ہیں کہ وہ بیان حلفی جعلی ہے اگر وہ جعلی ہوتا ہے تو پھر شائع کرنے والے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟

    چیف جسٹس نے عامر غوری سے استفسار کیا کہ ایڈیٹر کی حیثیت سے آپکی پالیسی اس خبر کو چھاپنے کی اجازت دیتی ہے ؟ جس پر عامر غوری نے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی دستاویزات ہو تو آپ سٹوری کرسکتے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ کونسے دستاویزات؟ جو کسی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں آپ سوچتے ہیں کہ آپ کا کام صرف ایک میسنجر کا ہے۔دی نیوز انٹرنیشنل اور سوشل میڈیا میں کیا فرق بچا ؟پورے سال سے دو بنچز ہی کام کرتے رہے، تب کس نے بنچ بنایا۔

    عدالت نے تمام فریقین کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دنوں کے اندر جواب طلب کر لیا اور تمام فریقین کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور عدالت نے کیس کی سماعت 26 نومبر تک کے لئے ملتوی کردی-

    نواز شریف اور مریم نواز کے متعلق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے انکشافات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیا ہے۔
    اخبار کے ایڈیٹرانچیف، ایڈیٹر اور رپورٹر کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے-

    عدالتی حکمنامے کے مطابق خبرزیر التوا کیس سے متعلق ہے، عدالت سے باہر کسی قسم کا ٹرائل عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے، فریقین بتائیں کہ کیوں نہ ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

    واضح رہے کہ جنگ اخبار کی آج شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا ایم شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ’وہ اس واقعہ کے گواہ ہیں جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریٹائرڈ جسٹس رانا شمیم کے بیان کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ ثاقب نثار نے ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے جنگ اخبار کی خبر کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا۔

    سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کا کہنا ہے کہ انصارعباسی سےکی گئی باتوں پرقائم ہوں سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکے پاس میری توسیع کا اختیار ہی نہیں جی بی اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس سپریم کورٹ پاکستان کے ماتحت نہیں جی بی اور آزاد کشمیرکی سپریم کورٹس کے چیف جج کوتوسیع دینے کا اختیار وزیراعظم کا ہے۔

    صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نوازشریف اورمریم کونشانہ بنانےکےپس پردہ سازش بےنقاب ہوگئی۔

    اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق خبر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف اورمریم کونشانہ بنانےکےپس پردہ سازش بےنقاب ہوگئی-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کاسچائی منکشف کرنےکااپناطریقہ ہے خبرعوامی عدالت میں نواز شریف اور مریم کی بےگناہی کاایک اورثبوت ہےالحمدللہ!

    وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق خبر کو لطیفہ اور معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے پروپیگنڈا قرار دے دیا۔

    معاون خصوصی شہباز گل نے خبر پر رد عمل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ نااہل لیگ کو خبروں میں رہنے کیلئے روز کسی پروپیگنڈے کی ضرورت ہوتی ہے جسٹس قیوم کو فون پر فیصلے لکھوانے والوں کی اخلاقی پستی ملاحظہ کیجیئے قوم کو سرٹیفائیڈ جھوٹوں سے سچائی کی امید نہیں-

    معاون خصوصی شہبازگل کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپنے کا وقت ہوا چاہتا ہے سستے پولیٹیکل سٹنٹ سے منی لانڈرنگ اور کرپشن جیسے داغ نہیں دھوپائیں گے پاکستان کو لوٹنے والے دنیا میں مقام عبرت بنیں گے-


    فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا کہ انصار عباسی صاحب کی ایک حیرت انگیز اسٹوری نظر سے گزری جس میں ایک گلگت کے جج صاحب فرماتے ہیں کہ جب وہ ثاقب نثار صاحب کے پاس چائے پینے بیٹھے تو جج صاحب نے فون پر ہائیکورٹ کے جج کو کہا کہ نواز شریف کی ضمانت الیکشنوں سے پہلے نہیں لینی!


    انہوں نے مزید لکھا کہ کیسےکیسے لطیفے اس ملک میں نواز شریف کو مظلوم ثابت کرانے کی مہم چلا رہے ہیں، اندازہ لگائیں کے آپ کسی جج کے پاس چائے پینے جائیں وہ آگے سے فون ملا کر بیٹھا ہے کہ آپ کے سامنے ہی ایسی ہدایات جاری کرے کہ کسی ملزم کی ضمانت لینی ہے یا نہیں لینی!ملزم بھی کوئی عام آدمی نہیں ملک کاوزیر اعظم-


    فواد چوہدری نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنےکی بجائے یہ بتا دیں نواز شریف نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس جو بعد میں مریم نواز کی ملکیت میں دے دئیے گئے ان کے پیسے کہاں سےآئے؟ مریم نے کہا میری لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں اب اربوں کی جائیداد سامنے آ چکی جواب اس کا دیں-

    دوسری جانب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہائی نہ دینے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے-

    پاکستان کے سینئیر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی چیف جسٹس(ر) ثاقب نثار نے میڈیا پر چلنے والی خبروں کی تردید کی ہے-


    انہوں نے بتایا کہ میری ثاقب نثار صاحب سے تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی۔ وہ انصار عباسی کے دعووں میں کسی بھی سچائی کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ تاہم انصار صاحب اب اتنے سالوں کے بعد ایوان فیلڈ اپارٹمنٹس کے پیچھے اصل حقیقت کا پتہ لگا سکتے ہیں اگر دیگر زمینیں اور جائیداد نہیں تو؟

    نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہائی نہ دینے سے متعلق خبر کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا ایم شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے گواہ ہیں جب اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو حکم دیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔


    رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کا یہ بیان اوتھ کمشنر کے روبرو 10 نومبر 2021ء کو دیا گیا ہے۔ نوٹرائزڈ حلف نامے پر سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دستخط اور ان کے شناختی کارڈ کی نقل منسلک ہے۔

    تاہم اب سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جو خبر چھپی ہے وہ بے بنیاد ہے میں نے کسی کے لئے کوئی سفارش نہیں کی تھی ۔

    ہم نیوز کے مطابق سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ یہ خبر حقائق کے منافی ہے رانا شمیم عہدے پر توسیع مانگ رہے تھے جو میں نے نہیں دی رانا شمیم چاہتے تھے کہ ان کو بطور چیف جسٹس عہدے پر توسیع دی جائے ان کی توسیع قانون کے مطابق نہیں بنتی تھی۔

  • رمیش کمار پر قاتلانہ حملہ، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی

    رمیش کمار پر قاتلانہ حملہ، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی

    رمیش کمار پر قاتلانہ حملہ، سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی
    سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی غیر قانونی فروخت کا نوٹس لے لیا سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو فوری طلب کر لیا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے ساری جائیدادیں فروخت کر دی ہیں، کس قانون کے تحت متروکہ وقف املاک کی پراپرٹی فروخت کی گئی؟متروکہ املاک کو فروخت کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، لاکھوں کے حساب سے یہ جائیدادیں فروخت کر کے کھا گئے ہیں، اسطرح تو املاک بورڈ کو بنانے کا مقصد فوت ہوگیا،متروکہ املاک وقف بورڈ اپنی ذ مہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگیا،

    ڈی جی ایف آئی اےعدالتی حکم پر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،چیئرمین متروکہ وقف املاک اور ڈی جی ایف آئی سے تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں .چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متروکہ وقف املاک کے افسران نے اقلیتی پراپرٹیز کو ذاتی ملکیت بنایا ہوا ہے،دوران سماعت پیٹرن ان چیف ہندو کونسل رمیش کمار کا اپنے اوپر ہوئے حملے کا تذکرہ کیا، رمیش کمار نے عدالت میں کہا کہ کراچی میں مجھ پر حملہ کیاگیا ، عدالت نوٹس لے، سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ سے رمیش کمار پر حملے کی رپورٹ طلب کرلی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ آئی جی سندھ کل تک رمیش کمار پر حملے کی رپورٹ جمع کرائیں ،آئی جی سندھ یقینی بنائیں کہ مستقبل میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں کرک مندر ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی ،ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ کرک مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے ،حملہ کرنے والوں نے 31 لاکھ 77 ہزارروپے کی رقم ادا کردی ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا سے استفسار کیا کہ ریکور کیا گیا پیسہ کہاں جمع کرایا گیا؟ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں جواب دیا کہ ریکور کی گئی رقم خزانے میں جمع کرائی گئی، عدالت نے حکم دیا کہ کرک مندر کے اطراف پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے پائپ لائن بچھائی جائے، کرک مندر کے علاقے میں نکاسی آب کے لیے سیوریج سسٹم فراہم کیا جائےعلاقے میں صفائی ستھرائی، نکاسی آب کا پانی کھڑا نہ ہو یقینی بنایا جائے،

    خیبر پختوںخواہ کے علاقے کرک میں مشتعل افراد نے ہندوؤں کے ایک مندر کو جلا کر مسمار کر دیا،کرک کے علاقے ٹیری میں قائم قدیم ترین ہندو مندر میں توسیعی کام جاری تھا کہ سینکڑوں مشتعل افراد وہاں پہنچے اور مندر کو آگ لگادی، جس کے بعد عمارت کے زیادہ تر حصے کو بھی مسمار کردیا گیا، مشتعل افراد کئی گھنٹوں تک مندر کے اطراف موجود رہے۔اس موقع پر مقامی پولیس بھی موجود تھی لیکن پولیس نے کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا،پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ,ہندو رہنما روہت کمار ایڈووکیٹ نے الزام لگایا کہ علاقہ مکینوں نے امن معاہدے اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مندر کو مسمار کیا ہے۔

     

    قادیانی آئین کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کا مسلسل ارتکاب کر رہے ہیں، حافظ عاکف سعید

    مندر کی تعمیر کے خلاف مزید دو درخواستیں، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تاریخی ہندو مندر مسماری کا معاملہ،ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں پر مقدمہ درج،گرفتاریاں شروع

    مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو ملی سزا

    اقلیتوں کے حقوق،سپریم کورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    مندر حملہ کیس، متعلقہ ایس ایچ او کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ چیف جسٹس

  • سعودی سفارت کار کا قتل، نئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل

    سعودی سفارت کار کا قتل، نئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی سفارت کار کا قتل، نئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی

    ٹیم سعودی عرب کی درخواست پر حکومت کے احکامات پر تشکیل دی گئی نئی درخواست سعودی حکومت کی جانب سے کچھ اہم معلومات پر کی گئی ،ایس آئی ٹی ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد کی سربراہی میں قائم کی گئی ،دیگر اراکین میں سی ٹی ڈی افسران، آئی ایس آئی، آئی بی اور رینجرز افسران شامل ہیں، ٹیم کا پہلا اجلاس کل سی ٹی ڈی میں ہوگا

    سعودی سفارت کار حسن قہتانی کو 2011 میں ڈیفینس میں قتل کردیا گیا تھا اس ہائی پروفائل قتل کیس کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی ٹیم بنائی گئی تھی اس ٹیم کا آخری اجلاس 2019 میں ہوا تھا اس کیس میں کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں تھی

    سعودی عرب اور اسرائیل کا نیا کھیل، سنئے اہم انکشافات مبشرلقمان کی زبانی

    کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ، خوف کا شکار، سنئے اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ سلمان کی طبیعت بگڑ گئی،سعودی عرب خطرناک راستے پر،اہم انکشافات ،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    محمد بن سلمان نے سابق جاسوس کے قتل کیلئے اپنا قاتل سکواڈ کینیڈا بھیجا

    سعودی حکمرانوں کو خط کا جواب وزیراعظم کو کیسے ملا؟ سب حیران

    سعودی سفیر اسلام آباد میں متحرک، حکومت کو بڑی پیشکش کر دی

    اسی سلسلہ میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عزت مآب نواف سعید آلمالکی نے ملاقات کی تھی ملاقات میں پاکستان؛ سعودی عرب تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی ،ملاقات میں کراچی میں 2011 میں سعودی سفارتکار کی ہلاکت سے متعلق ملزمان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سعودی سفارتکار کی پاکستان میں ہلاکت دہشت گردی کی بد ترین کاروائی تھی ۔ واقعے کا بظاہرمقصد پاکستان سعودیہ عرب تعلقات کو خراب کرنا تھا ۔ دہشت گردی کے واقعے میں ملوث ملزمان قانون سے بچ نہیں سکیں گے۔ملزمان کو قرار واقعی سزا دینگے۔

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ پاک سعودی تعلقات خراب کرنے کی کوئی بھی مذموم کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات باہمی بھائی چارے اور محبت پر مبنی ہیں۔دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہے۔وزیر داخلہ نے خادمین حرمین شریفین کے لئے نیک تمناؤں کااظہار کیا،

  • بھارت کوروسی ایس-400 ایئرڈیفنس میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ مل گئی :پاکستان اور چین کی سلامتی کوخطرات

    بھارت کوروسی ایس-400 ایئرڈیفنس میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ مل گئی :پاکستان اور چین کی سلامتی کوخطرات

    نئی دہلی:بھارت کوروسی ایس-400 ایئرڈیفنس میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ مل گئی :پاکستان اور چین پردباوبڑھ گیا،امریکہ بھی محتاط ،اطلاعات کے مطابق روس نے بھارت کو ایس-400 ایئرڈیفنس میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کردی جبکہ امریکا کی جانب سے بھارت پر پابندی کے خطرات موجود ہیں۔

    ذرائع کے مطابق روس کی ملیٹری کوآپریشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری شوگایوف نے بتایا کہ روس نے بھارت کے لیے میزائل سسٹم کی فراہمی شروع کردی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکا کے 2017 کے قانون کے تحت بھارت پر روس سے میزائل نظام خریدنے پر پابندی کے خطرات اور تحفظات ہیں کیونکہ مذکورہ قانون کا مقصد ممالک کو روسی ملیٹری ہتھیاروں کی خریداری سے روکنا ہے۔

    اس حوالے سے یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ انٹرفیکس نے دبئی میں ایرواسپیس ٹریڈ شو میں موجود دیمتری شگایوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پہلی کھیپ شروع کی گئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ایس-400 نظام کا پہلا یونٹ بھارت میں رواں برس کے آخر میں پہنچے گا۔

    بھارت اور روس کے درمیان 5.5 ارب ڈالر مالیٹ کے ایئرمیزائل نظام کا معاہدہ 2018 میں طے پاگیا تھا، جس کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ہے کہ اس کو چین سےخطرات ہیں اور دفاع کی ضرورت ہے۔

    بھارت کو امریکا کی جانب سے کاؤنٹرنگ امریکاز ایڈورسیریز تھرو سینگشنز ایکٹ (کاسٹا) کے تحت پابندیوں کا سامنا ہے، جس کے تحت روس کو جنوبی کوریا اور ایران کے ساتھ مخالف قرار دیا گیا۔روس کو یوکرین کے خلاف کارروائی، 2016 میں امریکی انتخابات میں مداخلت اور شام کی مدد کرنے پر اس قانون کے تحت مخالف ملک میں شامل کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارت کا کہنا تھا کہ اس کا امریکا اور روس دونوں کے اسٹریٹجک شراکت داری ہے جبکہ واشنگٹن نے نئی دہلی کو باور کرایا تھا کہ کاسٹا سے استثنیٰ ملنا ممکن نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکا نے کاسٹا کے تحت روس سے ایس-400 میزائل نظٓم حاصل کرنے والے نیٹو اتحادی ترکی پر پابندیاں عائد کی تھیں۔امریکا نے ترکی کے دفاعی نظام اور دفاعی صنعتوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔

    ترکی سے ایف-35 فائی اسٹیلتھ جنگی طیاروں کا معاہدہ بھی ختم کردیا، جو مریکا کے دفاعی نظام میں جدید ترین جنگی طیارے ہیں، ان کا استعمال نیٹو اراکین اور امریکا کے دوسرے اتحادی استعمال کرتے ہیں۔روس نے کہا تھا کہ ترکی کو جنگی طیاروں میں لانے کے لےی مدد کی پیش کش کی تھی لیکن تاحال حتمی طور پر کوئی معاہدہ طےنہیں پایا۔

  • پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کا اتحاد”پی ڈی ایم”غم میں‌ ڈوب گیا

    پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کا اتحاد”پی ڈی ایم”غم میں‌ ڈوب گیا

    اسلام آباد :پاکستان کی حزب مخالف جماعتوں کا اتحاد”پی ڈی ایم”غم میں‌ ڈوب گیا،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندرپار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر اتحادی ‏جماعت ق لیگ کے تحفظات دور کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف نے حکومتی اتحادی ق لیگ کو منا لیا ہے اور اب اہم قانون سازی ‏میں ق لیگ حکومت کاساتھ دےگی۔

    ادھرمعتبر ذرائع نے یہ خبردی ہے کہ ان اطلاعات کے بعد کہ پاکستان مسلم لیگ نے اپنی اتحادی جماعت کے ساتھ انتخابی اصلاحات میں‌ بھرپورتعاون کا یقین دلایا ہے ، پی ڈی ایم اتحاد یہ خبرسنتے ہی اپنے حواس کھو بیٹھا اورعمران خان کے خلاف جاری کوششوں کو بہت بڑا دھچکا قراردیا

    الیکٹرانک ووٹنگ میشن اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینےکیلئےقانون سازی ہونی ہے مشترکہ اجلاس ‏میں انتخابی اصلاحات سےمتعلق اہم قانون سازی ہونی ہے۔

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس منگل یا بدھ کو ہونےکا امکان ہے۔

    حکومتی اتحادیوں ایم کیوایم اورق لیگ نے ای وی ایم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ووٹ دینے سے انکار کر دیا ‏تھا جبکہ وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دونوں اتحادیوں نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

    وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا کہ انتخابی اصلاحات ملک ‏کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کررہے ہیں کہ اتفاق رائے پیدا ہو، پارلیمان کے مشترکہ اجلاس ‏کو اس مقصد کے لیے موخر کیا جارہا ہے۔

  • ریسکیو 1122 پر فیک کال کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ

    ریسکیو 1122 پر فیک کال کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ آئند ہیلپ لائن 1122 پر رانگ کال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر احتشام واہلہ کے زیر صدارت اہم اجلاس سینٹرل ریسیکو اسٹیشن میں منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ جس میں ایمرجنسی آفیسر آپریشنز غلام شبیر (آپریشنز) سمیت تمام افسران نے شرکت کی ۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام واہلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ آئند ہیلپ لائن 1122 پر رانگ کال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاۓ گی۔ واضح رہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 کے مطابق ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر جھوٹی کال کرنے والے شخص کو 6 ماہ قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانہ بھی ہوسکتا ہے ۔انکا مزید کہنا تھا کہ غیر ضروری کالز کی وجہ سے کنٹرول روم آپریٹرز پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور مستحق افراد کو ایمرجنسی کی صورت میں کنٹرول روم سے رابطہ کرنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ریسکیو فیصل آباد کو روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزار کے قریب مجموعی کالز موصول ہوتی ہیں جن میں سے ایمرجنسی کی کال صرف 300 ہیں. عوام کو چاہئے کہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر کال کریں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

  • سندھ حکومت کا صوبے میں 5 ہزار اسکول ختم کرنےکا اعلان:ذمہ دارعمران خان ؟

    سندھ حکومت کا صوبے میں 5 ہزار اسکول ختم کرنےکا اعلان:ذمہ دارعمران خان ؟

    کراچی :سندھ حکومت کا صوبے میں 5 ہزار اسکول ختم کرنےکا اعلان:ذمہ دارعمران خان ؟،اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں 5 ہزار اسکول ختم کرنےکا اعلان کردیا۔

    حیدر آباد میں میڈیا سے خطاب میں صوبائی وزیر تعلیم وثقافت سید سردار شاہ نے اسکولوں کو ختم کرنےکی منطق یہ بتائی کہ اسکولوں کی تعداد کم کرکے سہولتیں بڑھا رہے ہیں۔

    سردار شاہ کا کہنا تھا کہ بند کیے جانے والے اسکولوں کی عمارتیں حکومت کے حوالے کردیں گے ، ان عمارتوں میں چاہے جانوروں کے اسپتال، ڈسپنسری یا کمیونٹی ہال بنیں ، انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان اسکولوں کی حالت زار پہلے ہی بہت خراب تھی اورپی پی دورحکومت کی یہ ایک اعلیٰ خوبی رہی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اسکولوں میں بوگس پڑھانے والوں کوکئی دہائیوں سے تنخواہیں اور دیگر مراعات دی جاتی رہی ہیں‌

     

     

    دوسری طرف سوشل میڈیا پراہل علم اورغیرجانبردارحلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ باب الاسلام سندھ جس میں کبھی علم کی روشنی کی کرنیں پھوٹ کردنیا بھر میں پھیلتی تھیں آج اس باب الاسلام سندھ میں علم کوتالے لگا دیئے گئے ہیں‌

    بعض نے سندھ حکومت اورخصوصا بلاول سے سوال کیا ہےکہ مان لیا مہنگائی بڑھنے کا ذمہ دارحکومت کو قراردیا جارہا ہے لیکن یہ تو بتائیں کہ کیا سندھ میں علم کے ان چراغوں کوبجھانے کا ذمہ دار بھی عمران خان ہے ؟

    بعض نے تو یہ بھی کہا کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہ کہنا پڑرہا ہے کہ سندھ حکومت نیا سکول بنانے کی بجائے ایک نہیں پانچ ہزار سے زائد اسکولوں کو بند کررہی ہے ، اتنی بڑی ناکامی کی جوڈیشیل انکوائری ہونی چاہیے

    بعض نے لکھا ہے کہ اس اعلان کے بعد اب بلاول کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف احتجاجی کال پرشرم سے ڈوب مرنا چاہیے ،اب اس کے بعد کوئی ایسے الفاظ نہیں کہ جن سے سندھ حکومت کی ڈھٹائی کوبے نقاب کیا جاسکے

     

    بعض نے یہ لکھا ہے کہ آج پتہ چل گیا کہ اقرارالحسن نے حقیقت بیان کی تھی جسے سعید غنی نے درحقیقت اپنی شکست سمجھتے ہوئے جھٹلانے کی کوشش کی لیکن آج سندھ حکومت کے اس اعلان کے بعد کہ صوبے میں 5ہزارسکول بند کیے جارہے ہیں سندھ حکومت نے اقرار الحسن کے دعوے کا اقرارکرلیا ہے اوریہ ماننا پڑے گا کہ اقرارمبالغہ آرائی نہیں کرتا