Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین  مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    پاکستان ایران اور دیگر ممالک کے مابین مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں امن اور استحکام کے لیے متعدد مواقع پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنے سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دے،صرف اس صورت میں جب طالبان کے فنانسرز ان کی مالی امداد بند کر سکیں اور افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کر سکیں، اگر طالبان کو مالی معاونت فراہم کرنے والے عناصر کو نہ روکا گیا تو دہشت گردی کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے، افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، دہشت گردی کی نہ کوئی جغرافیائی سرحد ہوتی ہے اور نہ ہی اس کا کسی مذہب سے تعلق ہے۔ اگر اسے بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں،

  • بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت نے جدید طیارے بچانے ہیں توپاکستانی پائلٹ تربیت دے سکتے ہیں،مبشر لقمان

    بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک جدید لڑاکا طیارہ Sukhoi Su‑30MKI گر کر تباہ ہونے کی خبر سامنے آئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    حادثہ ریاست کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پیش آیا جہاں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ پائلٹ کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کا یہ قیمتی لڑاکا طیارہ آسام کے پہاڑی علاقے میں پرواز کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم پائلٹ کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران Su-30MKI طیاروں کے حادثات میں اضافہ تشویشناک ہے۔ایک بھارتی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا “آسام کی فضاؤں میں ایک اور دل دہلا دینے والا نقصان… Su-30MKI کاربی آنگلونگ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا ہے، پائلٹ لاپتہ ہے۔ ہمارے قیمتی سخوئی طیاروں کے مسلسل حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔ آخر اس کی ذمہ داری کون لے گا؟”اسی پوسٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی سوال کیا گیا کہ شمال مشرقی بھارت میں تعینات افواج کو بہتر تحفظ اور جدید سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں۔

    اس واقعے پرسینئر صحافی و اینکر ٔپرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھارتی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں زخموں پر نمک پاشی نہیں کرنا چاہتا،لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستانی پائلٹس بھارتی پائلٹس کو تربیت دے سکتے ہیں ،بھارتی جنگ میں تو ہمارا مقابلہ نہیں کر سکیں گے لیکن کم از کم اپنے جدید طیارے بلا وجہ گرنے سے بچا سکیں گے۔

  • آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر جاری آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    یہ آپریشن 26 فروری 2026 کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب بلوچستان کے سرحدی علاقوں قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، نوشکی اور چلتن سیکٹرز میں پاکستان کی فورسز نے بھرپور جوابی فائرنگ کی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف کیلیبر کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سرحد پار موجود ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں اور عسکری پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائیوں کے دوران 3 فزیکل چھاپے مارے گئے،36 فائر ریڈز کی گئیں،ان حملوں کا مقصد دشمن کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں خیبر، کرم اور ملحقہ سیکٹرز میں بھی براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔سکیورٹی فورسز نے طورخم کے قریب دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور سرحد کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ژوب سیکٹر میں واقع تقریباً 32 مربع کلومیٹر کے گدوَانہ انکلیو پر پاکستان فورسز کا مضبوط کنٹرول برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق قریبی دشمن چوکیوں کو خالی کر دیا گیا ہے جبکہ پسپا ہونے والے عناصر کی جانب سے سفید جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    آپریشن کے تازہ مرحلے میں افغانستان کے اندر 35 سے زائد دشمن ٹھکانوں کو مربوط زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ٹی ٹی اے کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ہے۔تصدیق شدہ نقصانات کے مطابق 502 افغان اہلکار ہلاک،710 سے زائد زخمی ہوئے،234 چیک پوسٹیں تباہ،38 پوسٹیں قبضہ میں لی گئی،206 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ ہوئے،56 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل شکست کے باوجود ٹی ٹی اے کے پروپیگنڈا چینلز پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور زیادہ جانی نقصان کے جھوٹے دعوے پھیلا رہے ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال پاکستان کے حق میں ہے اور دشمن کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پر موجود دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

  • 
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ

    
پاکستان نے بگرام میں ہدف حاصل کرلیا، دہشت گردوں کا اسلحہ سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ

    
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے علاقے بگرام میں اپنے اہم ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جہاں دہشت گردوں کے اسلحہ اور گولہ بارود کی سپورٹ سے متعلق انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جارہی ہیں۔
    ذرائع کے مطابق پاکستان اور خصوصاً خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان طالبان رجیم کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق جاری ہے جس کا مقصد افغان عوام نہیں بلکہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں اور کسی بھی مقام پر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جارہا۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ اسٹرائیکس کے دوران ٹی ٹی پی کی مڈ لیول قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ افغان طالبان رجیم کے خلاف اب تک پچاس سے زائد کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
    ‎ذرائع نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بائیس دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ باجوڑ، ترلائی مسجد اور وانا میں ہونے والے حملوں میں افغان طالبان کے عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اب تک افغانستان میں ٹی ٹی پی کی دو سو چھبیس چیک پوسٹیں تباہ کرچکا ہے جبکہ چھتیس چیک پوسٹوں پر قبضہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو اگر مکمل طور پر سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے تو وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں کسی خاص حکومت سے سروکار نہیں بلکہ مقصد صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق تیراہ میں بڑے پیمانے پر کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا بلکہ وہاں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود کارروائیاں جاری ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کی سرپرستی اور افغانستان میں موجود عناصر کا کردار بھی شامل ہے۔
    ‎ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ ایران کے مقابلے میں کم ہونے کے باوجود ملک کی عسکری طاقت عالمی سطح پر مضبوط سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کے چین، روس اور امریکا سمیت کئی اہم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور اس کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رہتا ہے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق بگرام میں کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے اسلحہ سپورٹ کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور پاکستان نے اپنے طے شدہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک دہشت گردی کے خطرات ختم نہیں ہوتے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    "آپریشن غضب للحق” کے تحت پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں کارروائیاں کرتے ہوئے قندھار میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران افغانستان کے 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ متعدد کالعدم تنظیموں کے شدت پسند ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہینوں نے قندھار میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے اپنی بعض تنصیبات میں شدت پسندوں کو پناہ دے رکھی تھی تاکہ انہیں فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طورخم بارڈر کے مقام پر پاک فوج کے ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل کے آبادی والے علاقوں کی سمت مارٹر گولے بھی داغے گئے، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں پاک سیکیورٹی فورسز نے ہیوی گنز کے ذریعے کسٹمز ہاؤس اور مبینہ طور پر افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق شدید گولہ باری کے بعد مخالف فورسز نے پوزیشنیں خالی کر دیں۔ تھانہ آدم خان اور ایک نیا قائم کیا گیا تھانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاکستانی مسلح افواج نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے ساتھ صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اسے “ڈیبیلی ٹیٹنگ پنشمنٹ” کا نام دیا ہے۔

    اس کارروائی کا مقصد کالعدم تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سہولت کاری کو نشانہ بنانا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت 55 سے زائد ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ٹی ٹی اے کی پوسٹوں اور بلوچ لبریشن آرمی ے لیے پناہ گاہوں یا لانچنگ پیڈز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ “فتنہ الہندوستان” کےعناصر سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کے ہتھیار،اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ،راکٹ لانچرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر،ہلکی اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری،مین بیٹل ٹینکس ،مربوط حملوں کے لیے سوارم ڈرونزشامل ہیں،مزید بتایا گیا ہے کہ بعض منتخب مقامات پر زمینی دستے بھی پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ مبینہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق مختلف سرحدی سیکٹرز میں مرحلہ وار کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں وارسالہ سب سیکٹر،ٹی ٹی اے کی پوسٹس 5 تا 9 کو نشانہ بناہا گیا،ژوب، سمبازہ اور گھدوانہ سیکٹرز بشمول بلال پوسٹ نشانہ بنایا گیا،قلعہ سیف اللہ اور پشین سیکٹر (کلیگئی، بیانزئی اور رحیم تھانے)،لوئے بند سیکٹر (کوچی، رحیم، علا جرگہ، تور کچھ اور تروکئی تھانے)،بادینی سیکٹر (تھند، جمعہ خان اور زنجیر تھانے)،او جی جی سیکٹر (خار، سپنگئی، سرزنگل اور یونس تھانے)،چلتن رینجز، ششکہ اور خارا سیکٹر (تھانہ 1، 2 اور 3)،ریاض سیکٹر (پاستا اور سرتاشان تھانہ)،نوشکی اور گردونواح میں حمید قلعہ، ثناء اللہ آغا، شینہ خیل، انی، جانی، ترکاشی، ظلمی، سوالی، غزالی قلعہ اور اوطاق سیکٹرزکو نشانہ بنایا گیا،

    حکام کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہے اور مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک کو منتشر کیا جا سکے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے مبینہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرات کو غیر مؤثر بنا کر سرحدی علاقوں میں ڈیٹرنس (بازدار قوت) بحال نہیں کر دی جاتی۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

  • ‎افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابل قبول: فیلڈ مارشل

    ‎افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابل قبول: فیلڈ مارشل

    ‎چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کریں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہدا کی یادگار پر پھول رکھے اور مادر وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کو مغربی سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور جاری آپریشن غضب للحق کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں سے ملاقات کی اور جاری جھڑپوں کے دوران ان کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور بلند حوصلے کو سراہا۔‎فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استقامت کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کا افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا ناقابل قبول ہے اور اس سے پیدا ہونے والے ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‎انہوں نے پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاری، مربوط کارکردگی اور بلند حوصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس،دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس ہوا

    اجلاس کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی.اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا. شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا. شرکاء نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں. ملک سے دھشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام شرکاء نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا. شرکاء نے پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور انکا شکریہ ادا کیا.

    اجلاس میں چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل، وفاقی وزراء، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ)، رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہیں.

  • ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران کی زیرِ زمین "میزائل سٹی” کی نمائش

    ایران نے ایک وسیع و عریض زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں قطار در قطار میزائل اور ڈرونز دکھائے گئے ہیں۔ یہ مناظر سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے نشر کیے، جسے ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    ویڈیو میں طویل سرنگوں کے اندر شاہد سیریز کے ڈرونز اور مختلف بیلسٹک میزائل نمایاں ہیں، جبکہ پس منظر میں ڈرامائی انداز اپنایا گیا ہے۔ ایک منظر میں مبینہ طور پر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی دیوارگیر تصویر بھی دکھائی گئی ہے۔ سرنگوں کی چھتوں سے ایرانی پرچم آویزاں ہیں اور کچھ مناظر میں ٹرکوں پر نصب شاہد ڈرون لانچرز بھی دکھائے گئے، جن میں ہر ایک پر چار ڈرون نصب تھے۔رپورٹس کے مطابق شاہد ڈرونز کی تیاری پر دسیوں ہزار ڈالر لاگت آتی ہے اور انہیں نسبتاً کم وقت میں تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کی قیمت 40 سے 50 لاکھ ڈالر تک بتائی جاتی ہے، جبکہ تھاڈ (THAAD) بیٹری کی لاگت تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر فی یونٹ ہو سکتی ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کے Stimson Center سے وابستہ سکیورٹی ماہر کرسٹی گریئکو کے تجزیے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایران کے داغے گئے 541 ڈرونز میں سے 92 فیصد مار گرائے۔ اندازوں کے مطابق ایران نے ان ڈرونز پر 1 کروڑ 10 لاکھ سے 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جبکہ دفاعی اخراجات 25 کروڑ 30 لاکھ سے 75 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں ، یعنی دفاع پر حملے سے کئی گنا زیادہ لاگت آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار سے فضائی دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ چند دنوں میں ختم ہو سکتا ہے، کیونکہ انٹرسیپٹرز غیر معمولی تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں۔

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” حاصل کر لیا ہے۔ یہ وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ کشیدگی کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی شدید مندی دیکھی گئی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ پانچویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ ایران اب بھی میزائل داغنے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یروشلم کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2 ہزار ڈرون داغ چکا ہے۔ امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج تقریباً 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں اور ایران کے سینکڑوں میزائل، لانچرز اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک 11 سالہ بچی شیل کے ٹکڑے لگنے سے ہلاک ہوئی۔ امریکی سفارت خانوں اور فوجی اڈوں کے قریب بھی حملوں کی خبریں ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظام برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے طویل المدتی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور سکیورٹی منظرنامے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا  خطے میں امن کیلیے  مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

    وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا خطے میں امن کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

    وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔

    وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔