Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغانستان بھارت مذموم گٹھ جوڑ، پاکستان کیخلاف افغان طالبان کو دی گئی بھارتی ناقص ٹیکنالوجی بھی ناکام

    افغانستان بھارت مذموم گٹھ جوڑ، پاکستان کیخلاف افغان طالبان کو دی گئی بھارتی ناقص ٹیکنالوجی بھی ناکام

    افغانستان بھارت مذموم گٹھ جوڑ، پاکستان کیخلاف افغان طالبان کو دی گئی بھارتی ناقص ٹیکنالوجی بھی ناکام ہو گئی

    شکست خوردہ بھارت کی افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور پاکستان میں ڈرونز حملوں کےعزائم خاک میں مل گئے ، ایک تحقیقاتی رپورٹ نے بھارت کے پاکستان کیخلاف استعمال کیلئے طالبان رجیم کو دئیے گئے ناقص ڈرونز کی قلعی کھول دی ، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق افغانستان افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے جہاں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں ،دہشت گردوں کیلئے محفوظ ماحول بھارتی ریاستی دہشت گردی کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر رہا ہے،دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھی افغان طالبان کی مکمل حمایت اور بھارت کی مالی معاونت حاصل ہے،افغان طالبان رجیم نے جون 2026 میں پاکستان میں ڈرون حملے کا دعویٰ کیا جسے پاک فضائیہ کے دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا،افغان طالبان کی جانب سے حملے میں استعمال یہ یو اے ایس ڈرونز افغانستان میں تیاہ شدہ نہیں بلکہ بھارت کے فراہم کردہ ہیں

    افغانستان نے جون سے جولائی2026 کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 9 ڈرونز حملے کیے،افغان طالبان رجیم کے برآمد شدہ ان ڈرونز کی رینج 50سے270کلومیٹر تک ہے جو5کلو گرام تک کا وزن اٹھا سکتے ہیں ، بھارت کی جانب سے دیئے گئے یہ ڈرونز تکنیکی نوعیت کے لحاظ سے کم درجے کےہیں جن کی صلاحیت بہت محدود ہے ،پاکستان کے پاس ان ڈرونز سے نمٹنے کیلئے مضبوط دفاعی نظام اور سافٹ کل اور ہارڈ کلِ کی صلاحیت موجود ہے جس سے فضا میں ناکارہ بنایا جا سکتا ہے ،

    دفاعی ماہرین کے مطابق؛ بھارت کی طالبان رجیم کو دی گئی ٹیکنالوجی اور ڈرونز ناقص اور محدود صلاحیت کے ہیں جو پاکستان کے مربوط دفاعی نظام کے سامنے ناکارہ ہو چکے ہیں ،پاکستانی ٹیکنالوجی اور بہترین حکمت عملی کے باعث افغان طالبان اور بھارت کی مشترکہ سازشیں بھی ناکام ہو چکی ہیں ، بھارت کی ٹیکنالوجی پہلے بھی معرکہ حق میں فرسودہ ثابت ہو چکی ہے

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، اہم سرغنہ سمیت 5 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کارروائی میں اہم سرغنہ سمیت 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی جانب سے آپریشن ردالفتنۃ 3 کے تحت بلوچستان میں دہشت گردوں کیخلاف مؤثر اور کامیاب کارروائیاں جاری ہیں،تازہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پنجگور کے علاقے سرکینی، چھیدگی میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی، جس میں اہم سرغنہ وزیر ولد جمال سمیت5 دہشت گرد جہنم واصل کردیے گئے۔

    آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے4 موٹر سائیکلیں، مشین گنز اور بھاری اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے پنجگور کےعلاقے سرکینی ،چھیدگی میں دہشت گردوں کی موجود گی کی خفیہ اطلاعات پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا ۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد پنجگور میں مقامی تاجروں اور دیگر شہریوں سے لوٹ مار، بھتہ خوری، اغواء اور دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث تھے ، علاقےمیں فتنۃ الہندوستان کے ممکنہ دیگر دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے ۔

    سیکیورٹی فورسز بلوچستان سے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • پاک سعودی ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا

    پاک سعودی ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا

    پاک سعودی ترکیہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کے مفادات گرداننے لگا

    پاک سعودی ترکیہ تعاون سے پاکستان کیلئے بیش بہا فوائد دیکھ کر بھارت پاکستان کے مفادات کے اعتراف پر مجبور ہوگیا،بھارتی میڈیا نے پاک سعودی ترکیہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے اہم دفاعی معاہدہ قرار دے دیا، بھارتی میڈیا انڈیا ٹوڈے کے مطابق؛دفاعی انضمام، مشترکہ فوجی مشقیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پاکستان کی دفاعی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں،انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ دفاعی پیداوار پاکستان کی جنگی تیاری مزید مضبوط کرسکتی ہے، دفاعی معاہدے سے پاکستان کو ترکیہ کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتیں حاصل کرنے میں آسانی ہوگی، سعودی عرب کی مالی معاونت اور ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی پاکستان کے اہم اسٹریٹجک مفاد میں ہے،

  • اسلامی ممالک کی جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم

    اسلامی ممالک کی جانب سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم

    اسلام آباد: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا اسلامی ممالک اور اہم علاقائی تنظیموں کی جانب سے بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان یہ تاریخی معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا، جس کا مقصد اجتماعی دفاع، سیکیورٹی تعاون اور دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    معاہدے کی تقریب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا گیا ہے۔ معاہدے کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ امن، سلامتی اور استحکام کے خواہاں برادر ممالک کے لیے تعاون کا ایک ذریعہ ہے۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی معاہدے پر تہنیتی پیغام جاری کرتے ہوئے اسے تینوں ممالک کے امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ بنے گا۔

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اہم اسٹریٹجک پیشرفت قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے معاہدے کو سراہتے ہوئے تینوں ممالک کی قیادت کی دانشمندانہ کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے مطابق معاہدہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے عزم اور اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔

    بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا۔ بحرینی وزارت خارجہ نے تینوں برادر ممالک کی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاہدہ علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کے حوالے سے تینوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    یمن نے بھی سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ یمنی حکام کے مطابق معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم اسٹریٹجک سنگِ میل اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے عزم کا مظہر ہے۔ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور باب المندب کی سلامتی کے تناظر میں بھی اس معاہدے کو یمن کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔

    صومالیہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دے گا۔ صومالیہ کے مطابق معاہدہ علاقائی امن، استحکام اور بین الاقوامی سیکیورٹی کے لیے بھی نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔

    مکہ مکرمہ کے امام و خطیب شیخ پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدس شہر مکہ مکرمہ کے ماحول میں اس معاہدے کا طے پانا خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

    اسلامی ممالک کی جانب سے خیرمقدم کے بعد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مسلم دنیا میں دفاعی تعاون، باہمی یکجہتی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • ہنگو،سیکورٹی فورسز کی کاروائی،7 دہشتگرد جہنم واصل،کیپٹن حمزہ شہید

    ہنگو،سیکورٹی فورسز کی کاروائی،7 دہشتگرد جہنم واصل،کیپٹن حمزہ شہید

    ہنگو میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 7 اگست کو بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے کارندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا،ہ آپریشن میں فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، ہلاک خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، دہشت گرد متعدد شہریوں کے قتل میں ملوث تھ، کیپٹن حمزہ نے جوانمردی نے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، کیپٹن حمزہ اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے خوارج کا مسلسل تعاقب کر رہے تھے، علاقے میں کسی بھی دیگر خوارج کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے، دہشت گردی کےخاتمے کے لیے مؤثر انسدادِ دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی، بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں قوم کے تحفظ اور سلامتی کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے ہنگو میں جام شہادت نوش کرنے پر کیپٹن حمزہ اکرم کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری قوم دلیر سپوت کی عظیم قربانی کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتی ہے،پوری قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کی لازوال قربانیوں کی مقروض ہے،صدر نے کیپٹن حمزہ اکرم شہید کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا ہے

  • بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3دہشتگردہلاک،4 زخمی

    بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3دہشتگردہلاک،4 زخمی

    سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کمبیلہ اور عاصم آباد میں آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کمبیلہ اور عاصم آباد میں سرچ اینڈ سینی ٹائزیشن آپریشنز کرکے68 مربع کلو میٹر علاقہ کلیئر کرالیاگیا ہے، کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں سے 2 کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں 4 دہشت گرد زخمی بھی ہوئے، زخمی دہشت گردوں میں سرغنہ شوکت ماما بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 12 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرکے فتنہ الہندوستان کے جھنڈے بھی ہٹا دیئے گئے ہیں۔

  • وفاقی وزیر بحری امور سے پاک بحریہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر بحری امور سے پاک بحریہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری سے پاکستان نیوی کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کی ترقی، قومی خوشحالی اور پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (PIMEC) کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران پاک بحریہ کے وفد نے ملکی بحری شعبے کی استعداد کار بڑھانے اور اس کے معاشی و تجارتی امکانات سے بھرپور استفادے کے حوالے سے مختلف تجاویز وفاقی وزیر کے سامنے پیش کیں۔وفد میں کموڈور اشفاق اختر SI(M)، ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (PMSTP)، کموڈور وسیم منور TI(M)، اسسٹنٹ چیف آف نیول اسٹاف (PMSTP)، اور کیپٹن احمد شبیہ الکبیر PN TI(M)، ڈائریکٹر PIMEC/PMSTP شامل تھے۔وفد نے پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کے فروغ اور اسے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری، بحری تجارت اور میری ٹائم صنعت کے لیے مؤثر پلیٹ فارم بنانے کے حوالے سے بھی اپنی سفارشات پیش کیں۔ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کے وسیع بحری وسائل اور جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میری ٹائم سیکٹر کو ملکی معیشت اور قومی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

  • معاہدہ خطے میں  تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔ترک صدر

    معاہدہ خطے میں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔ترک صدر

    ترکیے کے صدر رجب طیب اردون نے پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر رد عمل دیتے ہوئےکہاکہ یہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔

    ترکیےکے صدر رجب طیب اردوان نے کہا آج سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پر خلوص دعوت پر ہم نے مکہ مکرمہ کا دورہ کیا، دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی ، اس موقع پر ہم نے تینوں ممالک کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پردستخط کیے، اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ ہماری سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا، یہ معاہدہ دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کے فروغ اور دہشت گردی کےخلاف مؤثر تعاون میں اہم کردار ادا کرے گا،یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں بیان کردہ دفاع کے حق کی بھی توثیق کرتا ہے، یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، یہ معاہدہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کی شمولیت کے لیےکھلا ہے،ترکیے بات چیت اور سفارتکاری سے تنازعات اور بحرانوں کو حل کرنے کے اصولی مؤقف پر گامزن رہے گا، اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں معاہدہ ہمارے پورے خطے کے لیے خیر، برکت، امن اور استحکام کا ذریعہ بنے۔

    ادھر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر رد عمل دیتے ہوئےکہاکہ معاہدہ علاقائی امن کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا جس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہونگے۔سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان اور ترکیے کے ساتھ مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مکہ معاہدے کو ترکیے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ مکہ معاہدہ امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ سیاسی عزم کو ظاہر کرتا ہے،معاہدہ علاقائی امن کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا جس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہونگے۔

    یاد رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا

  • وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور محمد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں قصر الصفا پہنچ گئے، جہاں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
    ‎استقبال کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات کا آغاز ہوا، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، دفاعی شراکت داری اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی شریک ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، سیکیورٹی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
    ‎یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان اور سعودی عرب مختلف شعبوں میں اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کرے گی۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں بلیک میل دہشت گرد ارمان بلوچ کا تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان

    فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں بلیک میل دہشت گرد ارمان بلوچ کا تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان

    بلوچستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ افراد کی جانب سے تشدد ترک کرکے ہتھیار ڈالنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے علیحدگی کا سلسلہ جاری ہے، جسے حکام انتہاپسند بیانیے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف عوامی ردِعمل قرار دے رہے ہیں۔

    سابق دہشتگرد ارمان بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ سے وابستگی اور تنظیم سے علیحدگی کے حوالے سے تفصیلات بیان کی ہیں۔ ارمان بلوچ کے مطابق انہیں دہشت گرد عناصر نے جھوٹے وعدوں، دباؤ اور گمراہ کن طریقوں کے ذریعے عسکریت پسندی کی جانب راغب کیا۔ارمان بلوچ نے بتایا کہ وہ ابتدائی طور پر روزگار کی تلاش میں ایک دوست کے ہمراہ ایران گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں نے انہیں اغوا کرکے پہاڑی علاقے میں منتقل کیا۔ وہاں ان کی ملاقات کالعدم بی ایل ایف کے کمانڈر قمر بروہی سے کرائی گئی، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں تنظیم میں شمولیت پر مجبور کیا گیا۔ان کے مطابق وہ تقریباً 6 ماہ تک تنظیم سے وابستہ رہے، اس دوران انہیں دہشتگردی کی تربیت دی گئی اور انہوں نے تمپ اور بلیدہ کے علاقوں میں دو کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    ارمان بلوچ کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہیں احساس ہوا کہ جس راستے پر وہ چل پڑے ہیں وہ غلط ہے، چنانچہ انہوں نے دہشتگردی ترک کرکے واپس گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم جب انہوں نے تنظیم سے علیحدگی کی خواہش ظاہر کی تو انہیں تنظیم کے ارکان کی جانب سے تشدد اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ارمان بلوچ نے اپنے ماضی کے اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے ریاستی اداروں سے معافی کی درخواست بھی کی اور بلوچستان کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی بھرتی مہم اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے خود کو محفوظ رکھیں۔ارمان بلوچ نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے جھوٹے بیانیے، وعدوں اور نعروں کے جال میں نہ پھنسیں، ملک سے وفادار رہیں اور اپنے مستقبل کے لیے پرامن اور ذمہ دار راستہ اختیار کریں۔

    حکام کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں اور دیگر کمزور طبقات کو جھوٹے وعدوں، دھوکے، دباؤ اور ذہنی طور پر متاثر کرنے کے مختلف حربوں کے ذریعے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایسی تنظیموں کا مقصد معاشرے میں بدامنی پیدا کرنا اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔حکومتی اور سکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تشدد ترک کرکے قانونی اور پرامن زندگی اختیار کرنے والے گمراہ افراد کی واپسی کے عمل میں سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم دہشت گردی اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔حکام کے مطابق بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے نوجوانوں کو انتہاپسندانہ پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنے، آگاہی بڑھانے، روزگار اور مثبت مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں امن، تعلیم اور تعمیری سرگرمیوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔