Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • یہ کس قسم کا الیکشن تھا بدترین دھاندلی کر کے من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟مولانا فضل الرحمان

    یہ کس قسم کا الیکشن تھا بدترین دھاندلی کر کے من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کی حیثیت ختم کرکے انہیں نجی شعبے کو دے رہی ہے۔ جو اسکول تمہارے اپنے انتظام میں چل رہے ہیں، وہ تم سے چلائے نہیں جا رہے اور دوسری طرف دینی مدارس جو مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹر میں اپنے بل بوتے پر بہترین کام کر رہے ہیں، تم انہیں زبردستی سرکاری تحویل میں لانا چاہتے ہو۔

    پشین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت مدارس کی طرف دیکھنے سے پہلے اسکولوں، کالجوں اور وہاں سے فارغ تحصیل بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے اپنی عبرتناک ناکامیاں تو چھپائے۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ مدارس والے فارم پر کریں تاکہ کوئی دہشت گرد مدرسے میں نہ آ جائے۔ کیا دہشت گرد یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز، کالجوں اور اسکولوں سے نہیں پکڑے گئے؟ جب یونیورسٹیوں سے دہشت گرد پکڑے گئے اور وہاں سے لاشیں نکلیں، تب تو تم نے وہاں کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن سارا دباؤ صرف اور صرف دینی مدارس پر ڈالا جا رہا ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ تم دینی مدارس کی خیر خواہی میں یہ اقدامات نہیں کر رہے، بلکہ تم امریکہ اور مغرب کی اندھی پیروی میں یہ سب کچھ کر رہے ہو۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اس پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوئیں اور مختلف لابیوں نے اس پر کام شروع کیا، لیکن الحمدللہ جمیعت علمائے اسلام نے کراچی میں پہلا ملین مارچ کیا اور پھر ملک بھر میں تحریک چلا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تمام سازشوں کو پاکستان میں شکست دے دی۔ ِاسرائیل کے ناپاک وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری اسلامی دنیا کو ایک ہونا ہوگا پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے۔ اصل مسئلہ حکمرانوں کے عزم اور ان کی قوتِ ارادی کا ہے جو کہ انتہائی کمزور ہے؛ ہمارے حکمران کمزور ہیں لیکن پاکستان کمزور نہیں۔ ان حکمرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلامی دنیا کے اتحاد کے لیے آگے بڑھیں گے، عالمی استعمار کے خلاف آواز بنیں گے یا مغرب کے جبر کے خلاف لڑیں گے، بالکل فضول ہے کیونکہ ان سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حساس معاملے پر ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی ہنگامہ برپا ہوا اور پھر مجھے خود سپریم کورٹ میں بلایا گیا۔ ہماری اصولی موقف کی بدولت چند گھنٹوں کے اندر اندر سپریم کورٹ کو اپنا وہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور جس طرح ہم نے عدالت کو کہا اور جس طرح ہم نے لکھوایا، بالکل وہی فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کیا گیا، جو ہماری نظریاتی فتح ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ کون سی عقل ہے اور کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند۔ یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ کہتے ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں دہشتگردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہم سب پاکستانی ہیں، معاملات کو ٹھیک کرو اور اس قوم کے افراد کو مطمئن کرو۔ یہ کس قسم کا الیکشن تھا جہاں بدترین دھاندلی کر کے اپنی من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟ سندھ کی اسمبلی جس طرح بنائی گئی اور پنجاب کی اسمبلی جس طرح وجود میں آئی، یہ ہمارے ملک کے پورے سیاسی نظام کے اوپر ایک بڑا داغ ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو براہ راست مخاطب کرکے کہتا ہوں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کا متفقہ آئین بنا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے اگر اس آئین کو مسخ کیا جا رہا ہے، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں تو آپ بتائیں کہ کیا آپ واقعی ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر چل رہے ہیں؟ آج جب ہم اس اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی کیوں خاموش ہے اور کس بات کی کمزوری دکھا رہی ہے؟ ہم تو صوبوں کے حقوق کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر آپ کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں اور سودے بازی کر رہے ہیں؟ جمیعت اس آئین کی حفاظت آخری دم تک کرے گی۔

  • امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ،امریکی میڈیا

    امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکا کا غیر متوقع مگر اہم اتحادی بن گیا

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2026ء کی امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر ابھرا ہے، جہاں جنگ بندی کی کوششوں اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا، رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ابتدائی جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ اسلام آباد نے 1979ء کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی میزبانی بھی کی،
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہونے کے باعث امریکا اور ایران دونوں کے لیے قابلِ قبول ثالث بن کر سامنے آیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی متعدد بار تعریف بھی کر چکے ہیں،مستقل معاہدے تک پہنچنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے اور اگر پاکستان مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو اسے دوبارہ امریکی دباؤ یا ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • گرفتار دہشت گرد خوارجی کے اعترافی بیان میں انتہائی ہوشربا انکشافات

    گرفتار دہشت گرد خوارجی کے اعترافی بیان میں انتہائی ہوشربا انکشافات

    فتنہ الخوارج کے گرفتار دہشت گرد خوارجی عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انتہائی ہوشربا انکشافات کر دیے

    سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے خوارجی عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے 12 جنوری 2025 کو ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے مطابق اس کے خوارجی مرکز میں 60 سے 70 افغان خوارجی موجود ہیں جبکہ مختلف خوارجی عناصر نے افغانستان اور وزیرستان میں اسلحہ اور راکٹ چلانے کی تربیت حاصل کی۔اعترافی بیان کے مطابق خوارجی نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ پر آئی ای ڈی دھماکے میں بھی ملوث تھا، جس کے نتیجے میں رمضان المبارک کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے

    خوارجی عمر دین نے مزید انکشاف کیا کہ خوارجی تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور مرکز کے اندر اخلاقی بے راہ روی، بدفعلی اور دیگر غیراخلاقی سرگرمیاں عام ہیں جبکہ متعدد خوارجی کمانڈروں نے نوجوان لڑکوں کو بھی اپنے بد فعلی کے لیے اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔خوارجی عمر دین کے مطابق فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود خوارجی کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ یہ گروہ ٹیکس کے نام پر بھتہ خوری، گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور بچوں کے اغوا برائے تاوان جیسی مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے۔گرفتار خوارجی کے اعترافی بیان کے مطابق خارجی کمانڈر نوجوانوں کو شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر ورغلاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں انہیں ہتھیاروں، پیسے اور عیاشی کا لالچ دے کر تنظیم میں شامل کیا جاتا ہے۔

    گرفتار خوارجی نے اعتراف کیا کہ انہیں پروپیگنڈا ویڈیوز کے ذریعے گمراہ کیا گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ یہ راستہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں،گرفتار خوارجی کے اعترافی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ فتنہ الخوارج مذہب کا نام استعمال کرکے نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے جبکہ اس کے اصل مقاصد بدامنی پھیلانا، بھتہ خوری، اغوا، منشیات اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانا ہیں۔

  • 
خیبر پختونخوا میں 4 دہشت گرد ہلاک

    
خیبر پختونخوا میں 4 دہشت گرد ہلاک

    ‎سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں 3 اور 4 جون کی درمیانی شب انجام دی گئیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔
    ‎دوسری کارروائی ضلع مہمند میں کی گئی، جہاں فورسز نے ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو مزید دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ فورسز نے کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ فورسز کا مؤقف ہے کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سپریم کورٹ، نور مقدم کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزا کیخلاف نظرثانی درخواست مسترد،سزا برقرار

    سپریم کورٹ، نور مقدم کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزا کیخلاف نظرثانی درخواست مسترد،سزا برقرار

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت میرے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے تاہم عدالت نے بیماری، علاج اور میڈیکل ریکارڈ سے متعلق تفصیلی شواہد طلب کیے،بینچ نے استفسار کیا کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا، کون سے ڈاکٹرز نے علاج کیا اور وقوعے کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں،عدالت نے لندن کے کلینک سے پیش کیے گئے خط پر بھی سوالات اٹھائے اور دفاعی مؤقف میں تضادات کی نشاندہی کی،عدالت نے کہا کہ یہ عجیب حیرت کی بات ہے مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اسکے لیے خط آگیا، خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ استغاثہ نے مجرم کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کروایا اور ٹرائل کے دوران دباؤ موجود تھا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں نہ میڈیا رپورٹنگ اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں فیصلے کرتی ہیں،وکیل نے عدالت سے دوبارہ ٹرائل کے بجائے سزا میں رعایت دینے کی درخواست کی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق معاملہ پہلے ہی حتمی ہو چکا ہے اور دفاع اس نکتے کو مؤثر انداز میں ثابت نہیں کر سکا،دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا پر نظرِثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا

    سنہ 2022ء میں عدالت نے ظاہر جعفر کو اسلام آباد میں اپنے گھر پر سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے 2021ء کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

  • فتنہ الخوارج  کی جانب سے شہریوں کا بطور انسانی ڈھال استعمال جاری

    فتنہ الخوارج کی جانب سے شہریوں کا بطور انسانی ڈھال استعمال جاری

    بنوں کے علاقے نورنگ خیل میں فتنہ الخوارج نے ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی روش اپناتے ہوئے آبادی کی آڑ میں نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ بچوں اور شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انکو بھی اپنی فائرنگ کا نشانہ بنایا

    ایسا متعدد بار دیکھا جا چکا ہے کہ خوارج ماضی میں بھی عام آبادی، خواتین اور بچوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ سیکورٹی فورسز کو بلیک میل کر کے اپنی جانیں بچا سکیں،اس دوران خوارج نے عام شہریوں کو کسی بھی قسم کا جانی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کیا ،ایسے ہتھکنڈوں کو بعد میں پی ٹی ایم بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈا کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جیسا کہ آج کے واقعے کے بعد بھی دیکھا گیا

    یاد رہے ، کل 2 جون کو بھی بنوں کے علاقے بکا خیل میں خوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے خارجی شاہد عرف کمانڈو کے پی ٹی ایم کے سینئر رہنما عبدالصمد کے ساتھ بہت گہرے روابط تھے اور وہ تو خود بھی پی ٹی ایم کا کارکن تھا، پی ٹی ایم اور فتنہ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جہاں ایک سیاست اور پراپیگنڈے کے لبادے میں چھپا ہوا ہے تو دوسرا بندوق اور بم دھماکوں سے انتشار پھیلاتا ہے،مقامی افراد کو چاہئے کہ اپنے اندر چھپے ہوئے دشمنوں کو پہچانیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کے اپنی نسلوں کو محفوظ بنائیں۔

  • سیکیورٹی فورسز کا دالبندین میں کامیاب آپریشن،بی ایل اے کا اہم کمانڈر جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز کا دالبندین میں کامیاب آپریشن،بی ایل اے کا اہم کمانڈر جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز کا دالبندین کے علاقے لگاپ میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن۔ بی ایل اے کا اہم کمانڈر علی احمد عرف نادر ساتھی سمیت جہنم واصل، جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمدکر لیا گیا

    ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے دالبندین کے علاقے لگاپ میں بلوچ عوام کی لوٹ مار کرنے، بھتہ خوری، قومی املاک پر حملوں، اغواء برائے تاوان، خواتین کے تقدس کی پامالی اور نہتے بلوچوں کی خونریزی میں ملوث فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر علاقے کا محاصرہ کرکے ناکہ بندی کی گئی۔ اس دوران ایک مشکوک موٹر سائیکل پر سوار افراد کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو ان کی جانب سے فائرنگ شروع کر دی گئی۔ جوابی کارروائی میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کا اہم کمانڈر علی احمد عرف نادر اپنے ایک ساتھی سمیت جہنم واصل ہوگیا۔

    کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا،برآمد سامان میں 1 عدد سب مشین گن،4 عدد سب مشین گن میگزین،1 عدد پستول،2 عدد پستول میگزین، سب مشین گن اور پستول کا ایمونیشن، 2 عدد بینڈولیرز، 1 عدد بی ایل اے کا جھنڈا،1 عدد موبائل فون اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل شامل ہیں، برآمد شدہ اسلحہ نہتے بلوچ عوام کی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔حکام کے مطابق دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشنز بدستور جاری ہیں، جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گے

  • وزیراعظم سے  معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات ہوئی. یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی.

    وفد میں میاں محمد منشاء ، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر, شہزاد سلیم، زیلف منیر، عمر سعید، عمر منشاء، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر ، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم, خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔

    وزیراعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور پہچان ہیں. مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں. حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے. پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے.اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کی راہ پر گامزن ہیں ؛ یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے. غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں. بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں. آئندہ بجٹ میں کاروباری برادری کی قابلِ عمل تجاویز کو شامل کیا جائے گا.وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا. ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں. صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کریں گے. نوجوانوں کیلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ انکو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں.

    وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کی سماعت میں بہتری لانے کے حوالےسے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں؛ ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہء کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں. اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے.بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے. موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا. پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی. نیشنل اے-آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے. شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹکیس کی تنصیب سے ریوینیو کی مد میں بہتری آئی.

    وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا. کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اوربہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا. وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا.اپنی گفتگو میں وفد کے ارکان نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہیں. وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا. کاروباری رہنماوں نے صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا. شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو بھی سراہا.

    ملاقات میں کاروباری رہنماؤں نے قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں. کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا. وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء قومی رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ ، مصدق ملک، احد خان چیمہ ، عطاء اللہ تارڑ ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک ، سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف  سےچین کے سفیرکی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سےچین کے سفیرکی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےچین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ سےملاقات کہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور پرتپاک جذبات کا اظہارکرتے ہوئے حالیہ دورۂ کے دوران چینی قیادت کے ساتھ ہونے والی انتہائی مفید، بامقصد اور نتیجہ خیز ملاقاتوں کا ذکر کیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان ’’ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری‘‘ کو مزید مستحکم بنانے کے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلےکے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات و کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کے دورۂ چین کے موقع پر ہانگژو میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس (B2B) سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والی مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MOUS) پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ثمرات جلد از جلد حاصل کیے جا سکیں۔

    وزیراعظم نے دورۂ چین کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے میں چینی سفیر کی گرانقدر خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں اور حکام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دونوں قیادتوں کے طے کردہ فیصلوں کو عملی شکل دینے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں۔

    ملاقات کے دوران قراقرم ہائی وے ری الائنمنٹ منصوبے پر پیش رفت کو تیز کرنے، سکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور دفاعی تعاون کے فروغ، نیز پاکستان کے لیے اقتصادی اور مالی معاونت سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اہم بین الاقوامی پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی۔
    سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے وزیراعظم کوکامیاب دورۂ چین پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنی فولادی اور لازوال برادرانہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے اور تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔

  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے

    نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے

    وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمن، کاظم پیرزادہ بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں گلگت پہنچنے پر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سابق وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، کیپٹن (ر) محمد صفدر اور دیگر پارٹی راہنمائوں نے پارٹی صدر کا استقبال کیا ،محمد نواز شریف پارٹی راہنمائوں اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے والے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے

    قبل ازین سابق وزیر اعظم نواز شریف کو گلگت بلتستان کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت مل گئیمالیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں نواز شریف کو این او سی جاری کیا گیا ہے۔