Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    پاکستان واحد ثالث،مذاکرات کا اگلا دورممکنہ طور پر اسلام آبادمیں ،وائیٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دوسرا دور دوبارہ اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی چیز حتمی نہیں، اور جب تک وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے اس وقت تک کسی فیصلے کو یقینی نہ سمجھا جائے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ ایک ممکنہ معاہدے کے امکانات کے حوالے سے پُرامید ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر امریکی وفد ایران کے ساتھ اگلے مرحلے کے مذاکرات کے لیے روانہ ہوتا ہے تو اس کا امکان ہے کہ وہ دوبارہ اسلام آباد ہی جائے، جہاں گزشتہ ہفتے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی حکام سے مذاکرات کی قیادت کی تھی،ایران، امریکا جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔

    پریس سیکریٹری نے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں درست نہیں ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت امریکا مکمل طور پر مذاکراتی عمل میں مصروف ہے۔

    ذرائع کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کا آپشن اب بھی موجود ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کی خواہاں ہے۔

  • عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات،ایران آمد پر خیرمقدم

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کروانے کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں ان کا اعلیٰ سطحی استقبال کیا گیا۔

    تہران آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے وفد کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور امریکہ ایران مذاکراتی عمل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو تہران آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات گہرے، تاریخی اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شاندار میزبانی اور مثبت کردار قابلِ تحسین ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط روابط دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مشترکہ کوششوں سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

    مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاک ایران تعلقات کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں بھی ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

  • ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

    ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کیا، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔حکام کے مطابق ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری،2 بچوں سمیت تین  افراد شہید

    افغان طالبان کی باجوڑ میں سول آبادی پر گولہ باری،2 بچوں سمیت تین افراد شہید

    بھارتی حمایت یافتہ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر باجوڑ کے مقام پر پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 3 افراد شہید ہوگئے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی حمایت یافتہ افغان طالبان نے سول آبادی پر بلا اشتعال جارحیت کی، یہ بلااشتعال جارحیت باجوڑ کے سرحدی علاقے کٹ کوٹ کے گاؤں ملک شاہین میں کی گئی،سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری میں 2 بچوں سمیت 3 افراد شہید اور 3 افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا،سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلا اشتعال گولہ باری میں ایک ہی گھر سےخاتون اور 2بچوں سمیت 3افراد شہید ہوئے،افغان طالبان کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان داخل کرانے کی کوشش کر رہے تھے جو پاک فوج کی بروقت کارروائی کی وجہ سے فتنہ الخوارج کی در اندازی کی کوشش ناکام بنادی گئی، اس ناکامی سے مایوس افغان طالبان نے آج کٹ کوٹ میں پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنایا،پاک فوج کی جانب سے جوابی کارروائی جاری ہے اور باجوڑ سے ملحقہ تمام افغان طالبان پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، افغان طالبان کا بھاری جانی نقصان ہوا۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    امریکا ،ایران مذاکرات، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    چیف آف آرمی اسٹاف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ وفد بھی تہران پہنچا۔ فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران جاری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے،تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دیگر ایرانی حکام کے ہمراہ فیلڈ مارشل اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

    اس سے پہلے ایرانی وزارت کارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا تھا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے تسلسل میں ایران آج پاکستانی وفد کی میزبانی کرے گا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔ کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گورنر جدہ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف آج سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا سرکاری دورہ کریں گے۔

  • ایران کی پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق

    ایران کی پاکستان کے ذریعے امریکا سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا محور مکمل جنگ بندی ہوگا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں اور جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دونوں جانب متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوچکا ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں کئی اہم نکات زیر بحث آئے، جن میں مکمل جنگ بندی، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے جیسے معاملات شامل تھے۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی آئندہ سفارتی پیش رفت کو صرف اس صورت میں آگے بڑھائے گا جب اس کا مقصد مستقل اور مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا ہو۔

  • ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ کا مزاکرات کیلئے پاکستان آنے کا اشارہ

    ایران کے بعد امریکا کی ترجیح بھی پاکستان بن گیا، ٹرمپ کا مزاکرات کیلئے پاکستان آنے کا اشارہ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار د یتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہی مؤثر قیادت مذاکرات کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق نیو یارک پوسٹ کے نمائندے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو دن میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور امریکا مذاکرات کے لیے پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک موزوں اور قابل اعتماد مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
    ‎ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کا انتخاب اس لیے بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں کی قیادت مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی نے امریکا کو دوبارہ پاکستان میں مذاکرات پر غور کرنے پر آمادہ کیا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہونے کا امکان ہے اور وہ خود بھی اس میں شرکت کے لیے پاکستان آ سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات پاکستان میں ہوتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی اور پاکستان کا عالمی سطح پر کردار مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اگر یہ عمل جاری رہا تو مستقبل میں کسی بڑے معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

  • امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری

    امریکا ،ایران مذاکرات کا نیا دور،اسلام آباد میں کوئی تیاری نہیں،پیغامات کا تبادلہ جاری

    اسلام آباد: پاکستانی حکام نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس ہفتے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے لیے ابھی تک کوئی باضابطہ تیاری شروع نہیں کی گئی، تاہم ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق پہلے دور کے مذاکرات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز براہِ راست مذاکرات ہوئے تھے، جو جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد منعقد کیے گئے۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے تھے۔ یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی، تاہم دونوں ممالک کے وفود نے جمعہ سے اتوار تک کے دن ممکنہ ملاقات کے لیے خالی رکھے ہیں، جبکہ پاکستان دونوں فریقین سے آئندہ مذاکرات کے وقت کے تعین پر رابطے میں ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ اور وزارت اطلاعات نے اس ہفتے نئے مذاکرات کے امکان سے متعلق سوالات کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "مذاکرات کے آئندہ ادوار کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال کچھ بھی باضابطہ نہیں۔”ایک اور ایرانی ذریعے کے مطابق گزشتہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ایرانی سفارت خانے کے پریس سیکشن نے بھی تحریری سوالات کے جواب میں کہا کہ انہیں اس وقت تک کسی نئے مذاکرات کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اس وقت ایسی کوئی غیر معمولی سیکیورٹی یا انتظامی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہیں جو کسی بڑے سفارتی اجلاس کی نشاندہی کریں۔ایک پاکستانی اہلکار، جو گزشتہ مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات سے واقف تھے، نے کہا "کیا آپ کو کہیں تیاری نظر آ رہی ہے؟ اس وقت سب کچھ صرف سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔”دفتر خارجہ کے ایک دوسرے اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ کسی نئے مذاکرات کے مقام یا تاریخ کی ابھی تک توثیق نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اگر تاریخ اور مقام طے پا جاتے تو انتظامات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ اطلاع دی جاتی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے دوران اسلام آباد میں مقامی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا، شہر کو عملاً لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا، اہم علاقوں میں نقل و حرکت محدود تھی اور فوج، رینجرز اور پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی تھی۔میڈیا نمائندگان کے لیے خصوصی میڈیا سینٹر بھی قائم کیا گیا تھا، جہاں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو حکومتی سیکیورٹی میں مقامِ مذاکرات تک لے جایا گیا، جبکہ اہم شاہراہیں بند رکھی گئی تھیں۔حکام کے مطابق اگر اس جمعے تک نئے مذاکرات متوقع ہوتے تو اس نوعیت کے اقدامات پہلے سے نظر آنا شروع ہو جاتے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر نیا دور طے پاتا بھی ہے تو یا تو اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے یا پھر اچانک مختصر نوٹس پر انعقاد ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے، مگر کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔اہم اختلافی نکات میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول شامل تھا، جو عالمی تیل تجارت کا نہایت اہم راستہ ہے۔ ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے پر مؤثر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ امریکا اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے پُرعزم ہے۔امریکا نے ایران کی یورینیم افزودگی محدود یا مکمل طور پر روکنے کی تجاویز پیش کیں، جبکہ ایران نے اپنے جوہری حقوق تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ گزشتہ منگل کو اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے دائرہ کار پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ ایران چاہتا تھا کہ جنگ بندی میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہوں، مگر امریکا نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس سے وسیع تر امن معاہدے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئیں

  • پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔سربراہ پاک بحریہ

    پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔سربراہ پاک بحریہ

    سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کا ملک کی بحری سرحدوں کے دفاع میں اہم کردار ہے، معرکہ حق میں پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو جارحیت سے باز رکھا، پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔

    پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب جاری ہے، جس کے مہمان خصوصی چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف تھے، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی تقریب میں شریک ہیں۔مہمان خصوصی نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے پریڈ کا معائنہ کیا، اس موقع پر قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ایڈمرل نوید اشرف نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اصغر خان اکیڈمی سے پاس آؤٹ کیڈٹس کی خدمت کی ایک تاریخ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان ایئرفورس نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، پاک فضائیہ نے سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔نیول چیف نے کہا کہ پاک بحریہ کا ملک کی بحری سرحدوں کے دفاع میں اہم کردار ہے، معرکہ حق میں پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو جارحیت سے باز رکھا، پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔

    ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس مضبوط فورس ہے، پاکستان کی کوششوں سے خطے میں جنگ بندی ممکن ہوئی، قوم کی حمایت سے افواج پاکستان دہشتگردی کا کامیابی سے مقابلہ کررہی ہیں۔

  • جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے مثال میزبان قراردیا

    جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے مثال میزبان قراردیا

    امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نےوزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیڈ مارشل عاصم منیر کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے

    وطن واپسی پر نائب صدر جے ڈی وینس نے فوکس نیوز سے خصوصی گفتگو میں جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بے مثال میزبان قرار دیا اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حقیقی سٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کیا، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں بہترین کردار ادا کیا، ، امریکہ اور ایران نے اس سے پہلے طویل عرصے تک ایسے سنجیدہ مذاکرات نہیں کیے تھے،

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے