Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج

    برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج

    برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج،قوم کا سرفخر سے بلند ہو گیا

    امریکہ ایران جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے،خلیجی جنگ میں بہترین سفارتکاری سے پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار سفارتی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے ،برطانوی ایم پی محمد افضل نے پارلیمنٹ سے خطاب میں پاکستانی ثالثی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرانے میں پاکستان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے،تمام دنیا وزیراعظم پاکستان،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی مخلصانہ کوششوں پرانکی شکرگزار ہے، برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر نے ایم پی محمد افضل کے خطاب کی تائید میں امن کی کوششوں پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا

    عالمی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں بے پناہ پیچیدگیوں کے باوجود پاکستان ایک انتہائی اہم ،مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے شاندار سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو تباہ کن جنگ کے شعلوں سے بچایا

  • سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    خطہ کے امن میں پاکستان کا کلیدی کردار، سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف ہیں

    مودی کی اسرائیل نواز جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر عدم اعتماد اور انتہا پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ،بھارت کے سابق فوجی افسر بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے گُن گانے لگے ،بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور کے مطابق؛پاکستان کے ثالثی کے کردار میں فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے اہم کردار ادا کیا،پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار مؤقف قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد جیتا، پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نے لبنان حملے پر بھی بھرپور انداز میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی،بہترین اور متوازن حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب اور چین کیساتھ بھی بہترین تعلقات میں مدد فراہم کر رہی ہے،

    عالمی ماہرین کے مطابق گودی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے باوجود سابق بھارتی فوجی افسر نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کیا،بھارت کے فوجی افسران کی پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کا اعتراف مودی کے خود ساختہ دعوؤں پر طمانچہ ہے

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد مذاکرات،پہلامرحلہ ختم،امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ

    اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دونوں وفود نے زیرِ بحث امور سے متعلق تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اب “ماہرین کی سطح” میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی، عسکری، قانونی اور جوہری معاملات پر خصوصی کمیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں۔بیان کے مطابق مذاکرات کا مقصد اب تکنیکی نکات کو حتمی شکل دینا ہے

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل، اہم معاملات پر پیشرفت کی اطلاعات ہیں،پہلا مرحلہ دو گھنٹے جاری رہا، کھانے کا وقفہ ہوا، دوبارہ پھر مذاکرات شروع ہوئے، دونوں فریقین نے انتہائی سخت مطالبات سے آغاز کیا، کئی اہم معاملات میں پیشرفت ہوئی، لبنان جنگ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت میں مثبت اشارے ملے،

    ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والے ایرانی وفد میں مجموعی طور پر 71 افراد شامل ہیں، جن میں اعلیٰ مذاکرات کار، جوہری ماہرین، قانونی مشیران، میڈیا نمائندگان اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد بھی متعلقہ شعبوں کے مکمل ماہرین کے ساتھ پاکستان پہنچا ہے، جبکہ واشنگٹن سے مزید ماہرین بھی آن لائن اور سفارتی سطح پر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیراڈ کشنر بھی موجود ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق نائب صدر کے قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے خصوصی مشیر مائیکل وینس بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ سہ فریقی مذاکرات امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان آمنے سامنے جاری ہیں، جہاں پاکستان ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مذاکراتی عمل میں موجود ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اس عمل کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مذاکرات اتوار تک بھی جاسکتے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے اور دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے، اقتصادی پابندیوں کے معاملات حل ہونے اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

  • اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں،جہاں دونوں ممالک آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔

    اب تک دو بار رسمی بات چیت ہو چکی ہے پہلی بار کے دوران، امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں تاہم، دوسرے مرحلے میں، امریکی اور ایرانی وفود نے ایف ایم کی موجودگی میں براہ راست بات چیت کی،فی الحال، ایک ورکنگ ڈنر جاری ہے عشائیہ کے بعد، تیسرا تیسرا ٹیک مباحثہ شروع ہونے والا ہے، جس میں دوسرے درجے کے وفود بہتر طریقوں پر غور و خوض کریں گے،اب تک، بات چیت کا مجموعی لہجہ اور نتیجہ مثبت رہا ہے،تاہم، آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک تعطل برقرار ہے، کیونکہ ایرانی فریق اپنے موقف پر ثابت قدم ہے، اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے مشترکہ کنٹرول کے لیے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے یا اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

    اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جہاں فریقین نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرا ت کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور اب 11 سال بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد میں ممکنہ پاک، ایران اور امریکا سفارتی رابطوں کے دوران ایران نے اپنی تجاویز اور اہم شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد نے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شرکت کو سراہا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے اپنے مؤقف سے پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف کو آگاہ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، اور ایرانی وفد، جس کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، نے الگ الگ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تاہم تاحال اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی سرخ لکیروں میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور خطے بھر میں جنگ بندی شامل ہیں۔ ان نکات کو ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ٹرائیگر پر انگلی رکھ کر مذاکرات کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اعتماد کے فقدان سے پوری طرح آگاہ ہے، اسی لیے ایرانی سفارتی ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ اس عمل میں داخل ہو رہی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات

    اسلام آباد میں آج اہم امن مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکی نائب صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی امریکی نائب صدر کے ہمراہ تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں وفود کے تعمیری انداز میں مذاکرات کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔انہوں نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان کا تعمیری مذاکرات اور دیرپا حل کیلئے سہولت کاری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

    اسلام آباد: ایران کے بعد امریکا کا اعلیٰ سطحی وفد بھی اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے، جسے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی توجہ کا مرکز بننے والے ان مذاکرات سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کی سفارتی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔ وفد میں امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جو اہم سفارتی اور تزویراتی معاملات پر مشاورت کریں گے۔امریکی وفد کے نور خان ایئربیس پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مہمان وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ حکام اور سفارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان تعمیری مذاکرات، اعتماد سازی اور دیرپا حل کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کا داعی رہا ہے۔استقبالی تقریب کے بعد نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے امریکی وفد کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے مذاکراتی عمل میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت خطے اور دنیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔

    سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق ایک ہی پلیٹ فارم پر ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود کی موجودگی پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے عالمی کردار، اعتماد اور ثالثی صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد ٹاکس کے دوران سیزفائر، علاقائی کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی کے اقدامات اور مستقبل کے مذاکراتی فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اگر ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

  • تاریخ رقم،مذاکرات کیلئے امریکی نائب صدر اسلام آباد پہنچ گئے

    تاریخ رقم،مذاکرات کیلئے امریکی نائب صدر اسلام آباد پہنچ گئے

    امریکا،ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے۔
    امریکی نائب صدر کی آمد کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ہی “اسلام آباد مذاکرات” کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر کا طیارہ جیسے ہی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا، تو ان کے استقبال کے لیے پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل سید عاصم منیرموجود تھے،امریکی سفیر بھی اس موقع پر موجود تھیں،وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے

    امریکی وفد کی آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ پاک فضائیہ کے جدید جیٹ طیاروں نے امریکی نائب صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی حفاظتی حصار میں لے لیا، جو اس دورے کی حساسیت اور اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

    پاکستان، امریکی نائب صدر اور ان کے وفد کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ مذاکرات خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، عالمی اقتصادی دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔ پاکستان ایک “ایماندار ثالث” کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی مشترکہ نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔“اسلام آباد مذاکرات” کو عالمی سطح پر بھی غیر معمولی توجہ حاصل ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں پائیدار امن اور ایک نئے سفارتی دور کی بنیاد رکھے گی۔پاکستان نے ایک بار پھر اپنی روایتی مہمان نوازی اور امن کے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔

    پاکستان میں ایران امریکا مذاکرات کے لیے آنے والے امریکی وفد میں جے ڈی وینس کے علاوہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں،

    پاکستان روانگی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین ہے کہ مذاکرات مثبت ہوں گے،انہوں نے کہا کہ ایران نیک نیتی دکھائے تو امریکا بھی تیار ہے، ایران نے کھیلنے کی کوشش کی تو اسے قبول نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ ایران کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا سے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے،ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔