پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 32 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 28 اور 29 جولائی کی درمیانی شب ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 24 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے، جنہیں تحویل میں لے لیا گیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے ایک الگ کارروائی کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی بھی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ دونوں علاقوں میں دہشت گردوں کے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر عناصر کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردی کی ہر شکل اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔
Category: اہم خبریں
-

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک
-

گنگی خیل چیک پوسٹ کے قریب خودکش گاڑی کے ذریعے حملے کی کوشش ناکام
جنوبی وزیرستان لوئر ،وانا اور اعظم ورسک کے درمیان گنگی خیل چیک پوسٹ کے قریب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کی خودکش گاڑی کے ذریعے حملے کی کوشش ناکام بنا دی
فتنہ الخوارج نے پوسٹ کو خودکش گاڑی کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔سیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں اب تک 3 خوارج ہلاک ہونے کی اطلاع ہے،حملے کے وقت چیک پوسٹ پر موجود عام شہری بھی سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے باعث محفوظ رہے۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
-

آپریشن العزم،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری،13 دہشتگرد جہنم واصل
سکیورٹی فورسز کی آپریشن العزم کے تحت کارروائیوں میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہوگئی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن العزم کے تحت بلوچستان میں مؤثر کارروائیاں جاری ہیں جہاں مستونگ کے علاقےکھڈ کوچہ میں فورسز کی کامیاب کارروائی میں مزید دہشتگرد مارے گئے جس سے آپریشن العزم میں اب تک ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 13 ہوگئی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا جب کہ آپریشن میں اسلحہ، بارود اور آئی ای ڈی تیار کرنے کا مواد بھی برآمد ہوا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ بلوچستان میں دہشتگردی کےخاتمے اور امن و امان کے قیام تک فورسز کی کاروائیاں جاری رہیں گی۔
-

اسحاق ڈار کی ازبکستان، تاجکستان، قازقستان اور بیلاروس کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر ازبکستان، تاجکستان، قازقستان اور بیلاروس کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور امن و استحکام کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، توانائی، ثقافت اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں صدر شوکت مرزایوف کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ ازبک وزیر خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سمیت علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطوں اور علاقائی و کثیرالجہتی فورمز پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اسی اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور تاجکستان نے اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط، ثقافتی تبادلوں اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔ تاجکستان نے خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
محمد اسحاق ڈار نے قازقستان کے وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور قازقستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک نے صدر قاسم جومارت توقایف کے دورۂ پاکستان کے دوران طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ قازق وزیر خارجہ نے علاقائی امن اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کو قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
علاوہ ازیں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریژینکوف سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پاکستان۔بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس 11 اور 12 اگست کو اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تصدیق کی گئی، جبکہ جامع تعاون کے روڈ میپ 2025 تا 2027 پر مؤثر عمل درآمد کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔بیلاروس کے وزیر خارجہ نے امریکا۔ایران صورتحال میں پاکستان کے تعمیری اور متوازن سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر ہونے والی ان ملاقاتوں نے وسطی ایشیائی ممالک اور بیلاروس کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اقتصادی تعاون کے فروغ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو نئی تقویت فراہم کی ہے۔
-

بھارت میں جین زی تحریک مودی سرکارکیلئے بڑا سیاسی امتحان بن گئی
بھارت میں جین زی تحریک مودی سرکارکیلئے بڑا سیاسی امتحان بن گئی
نوجوانوں کی تحریک نے مودی سرکار کی انتظامی نااہلی کو دنیا بھر کے سامنے عیاں کردیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپر لیکس اور امتحانی بدانتظامی بی جے پی کمزور حکومتی گرفت کونمایاں کررہی ہے،مودی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے،مودی حکومت میں پرچے لیک ہونے سے ساڑھے7 کروڑ طلبہ سخت متاثر ہوئے ہیں،بی جے پی کا بارہ سالہ سوشل میڈیا کنٹرول اب مودی مخالف نوجوانوں کی آواز میں بدل رہا ہے،مودی نواز میڈیا میں نظرانداز کیے جانے پرنوجوانوں نےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کر لیا، گودی میڈیا مودی حکومت کی حمایت جبکہ نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز کر رہا ہے،
-

تحریک آزادی سے خوفزدہ مودی سرکارایک بارپھرمعصوم کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی
تحریک آزادی سے خوفزدہ مودی سرکارایک بارپھرمعصوم کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی
مودی سرکار کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کیلئے ظلم وجبرکی ہرحد عبورکررہی ہے،بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں پولیس اہلکار کے قتل کے بعد ہزاروں کشمیریوں کوزیرِ حراست لے لیا، مودی سرکار نے املاک کو بھی گرانا شروع کردیا،ضلع اننت ناگ میں کریک ڈاؤن، جموں وکشمیر میں سیاسی تنازع شدت اختیارکرگیا، قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں 2 رہائشی مکانات کو دھماکے سے اڑا دیا،بھارتی فورسز نے بڑے پیمانے پر چھاپوں میں تقریباً 3500 کشمیریوں کو گرفتار کر لیا، ترک نیوز ایجنسی ٹی آرٹی نے بھی قابض فورسزکیجانب سے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے،وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کشمیریوں کی گرفتاریوں پرغم وغصے کااظہار کیا اور کہا کہ ہم نے پہلگام حملے کے بعد بھی بھارت سرکارکی طرف سے ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی، سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری اور گھروں کی مسماری کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ے کہ بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور جبر میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے،مودی حکومت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام ثابت ہورہی ہے
-

ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملہ، 12 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار شہید
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دہشت گردوں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکہ ہوا اور چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
اس حملے میں وطن کے 15 بہادر سپوت شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 12 جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کا خاتمہ کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ شہداء کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ -

مستونگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 4 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ و گولہ بارود برآمد
کوئٹہ: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن العزم کے تحت ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کرتے ہوئے ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دہشت گردوں کے زیر استعمال موٹر سائیکلیں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے، جبکہ متعدد دیگر دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی سہولت کاری میں مبینہ طور پر ملوث متعدد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جن سے مزید تفتیش جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل نگرانی برقرار رکھی گئی ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی گئی ہے، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن و امان کے قیام تک ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اور بھرپور کارروائیاں جاری ہیں اور ریاست دشمن عناصر کے عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ "فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کے امن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔”وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کامیاب کارروائی پر مبارکباد
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے دہشت گردوں کو ہلاک کرکے ان کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کے تعاون سے امن دشمن عناصر کی ہر سازش ناکام بنائی جائے گی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ "بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔” انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔ -

حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت تاریخی کردار ادا کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کرکے قومی وحدت کو مضبوط بنایا، بلوچستان کی محب وطن قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور شریک رہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلے اور دشوار جغرافیہ ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق میں نمایاں اضافہ کیا گیا، اس فیصلے میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا، جبکہ پنجاب نے رضاکارانہ طور پر سالانہ 11 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا اور 2010 سے اب تک تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور بھائی چارے کا تقاضا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی صوبے کے جائز مطالبات پورے کرنے کو ترجیح دی ہے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 75 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے تقریباً 50 ارب روپے فراہم کیے، تاکہ کسانوں کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے،بلوچستان کی ترقی کےلیے وفاقی حکومت کوئی کمی نہیں چھوڑے گی-
وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک ایم-25 شاہراہ، جسے ماضی میں مسلسل حادثات کے باعث “خونی سڑک” کہا جاتا تھا، اسے جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تقریباً 300 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ سے دو برس میں یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ ترقی، تجارت اور امن کی علامت بن جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اگر صرف ایک یا دو صوبے ترقی کریں اور د یگر پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر حصے کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
وزیراعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عبدالقادر اور ان کے ساتھی اہلکار سمیت دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افواجِ پاکستان کے افسران و جوا ن شامل ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک پاکستان دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا چکا تھا، لیکن بعد ازاں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشت گرد عناصر کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہےپاکستان نے بارہا افغان عبو ری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد موجود ہے اور خطے میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے، مگر پاکستان کے دشمن ان کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہے انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے قومی اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور انتھک محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ چاروں صوبوں اور 24 کروڑ عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔
-

وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ،سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں-
وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں-
انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعر یف کی اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔