گیلپ گلوبل کی رپورٹ کےمطابق پاکستان جنوب ایشیائی خطے کا محفوظ ترین ملک ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گیلپ گلوبل کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق جنوب ایشیائی خطے میں پاکستان اور سری لنکا محفوظ ترین ملک ہیں۔امن و امان انڈیکس پر پاکستان اور سری لنکا کی ریٹنگ 84 انڈیکس ہے۔ مجموعی طور پر دنیا بھر میں امن و امان انڈیکس میں پاکستان کا نمبر بھارت سے 16 درجے بہتر ہےپاکستان انڈیکس میں 40ویں نمبر پر ہے جبکہ پڑوسی ملک بھارت کا نمبر 56 ہے-
متحدہ عرب امارات کو لوگوں کے رات کوپیدل چلنے کے حوالے سے دنیا کا محفوظ ترین ملک قراردیا گیا ہے گیلپ گلوبل لااینڈ آرڈر(امن وامان) 2021 کی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کا95 فی صد سکوررہا ہے اور اس کو رات کوبہ حفاظت چلنے کے لیے نمبرایک ملک قرار دیا گیا ہے۔اس اشاریے میں ناروے دوسرے نمبر پر رہا ہے۔اس نے 93 فی صد سکورکیا۔
یواے ای کے نائب صدر اور حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ’’اگر کوئی عورت دن یا رات کے کسی بھی گھنٹے میں بلاخوف وخطر کسی جگہ اکیلی گھومتی پھرتی ہے تو جان لیں کہ وہ امارات میں ہے۔‘‘
متحدہ عرب امارات امن و امان کےاعلیٰ ترین انڈیکس میں بھی دوسرے نمبرپررہا اوراسے ناروے کے بعد دنیا کا دوسرا محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔اس اشاریے میں ان دونوں ملکوں نے بالترتیب 93 اور94 پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔
امن وامان انڈیکس میں سب سے زیادہ سکور حاصل کرنے والے سرفہرست پانچ ممالک یہ ہیں: ناروے (94 فی صد)، متحدہ عرب امارات (93 فی صد)، چین (93 فی صد)، سوئٹزرلینڈ (93 فی صد) اور فن لینڈ (92 فی صد)۔
رپورٹ کے مطابق جہاں تک تنہا چلنے والے افراد کے لیے پانچ محفوظ ترین ممالک کا تعلق ہے، تو سرفہرست جو ممالک ہیں ان میں متحدہ عرب امارات (95 فی صد)، ناروے (93 فی صد)، چین (91 فی صد)، سلووینیا (91 فی صد) اور تائیوان (89 فی صد)۔
لاہور:صحافت میں عقیدہ ختم نبوت کے ترجمان :سینئر صحافی مبشرلقمان:علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کے خصوصی مہمان ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئر صحافی ، معروف تجزیہ نگار اور ختم نبوت ﷺ کی تحریک کے صحافت کے میدان میں ترجمان کی حیثیت سے جانے والی معروف شخصیت مبشرلقمان نے آج تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تقریب میں شرکت کی
معتبر ذرائع کے مطابق سنیئر تجزیہ نگار معروف صحافی مبشرلقمان جب علامہ خادم حسین رضوی کے پہلے سالانہ عرس کی تقریب میں شرکت کے لیے وہاں پہنچے تولبیک شوریٰ کی قیادت نے ان کا بھرپوراستقبال کیا اوران کی آمد کوان کوخوش آمدید بھی کہا
ذرائع کے مطابق تقریب میں شرکت کی غرض سے جب مبشرلقمان یتیم خانہ لاہورمیں جاری عرس کی تقریب میں شرکت کے لیے وہاں پہنچے توعلامہ خادم حسین رضوی کے چھوٹے صاحبزادے انس رضوی نے مبشرلقمان کی آمد کوسعادت قراردیتے ہوئے کہا کہ آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے پہلے عرس کی تقریبات دوسرے روز بھی جاری ہیں، ہزاروں شرکاء یتیم خانہ چوک پہنچ چکے ہیں، گزشتہ روز علامہ خادم حسین رضوی کی قبر پر قرآن خوانی کی گئی،
ذرائع کے مطابق آج عرس کی تقریب سے مختلف علماء کرام خطاب کریں گے، حافظ سعد رضوی کا بھی خطاب متوقع ہے شیڈول کے مطابق آج دوسری نشست عشاء کی نماز کے فورا بعد شروع ہو گی اور ۱۱ بجے تک جاری رہے گی ۔
دوسری نشست میں مفتی منیب الرحمن ، علامہ اجمل رضا قادری ، اوریا مقبول جان سمیت ملک و بیرون ملک سے علماء و مشائخ صحافی و دانشور حضرات شرکت فرمائیں گے ۔ عرس میں ایک مرکزی سٹیج مین روڈ پر تیار کیا گیا ہے ،تحریک لبیک کے کارکنان ہی سیکورٹی پر مامور ہیں، شرکاء کو تلاشی بھی لی جا رہی ہے، عرس کے شرکاء منظم انداز میں موجود ہیں
یہ بھی یاد رہے کہ سنیئرصحافی پچھلے کئی سالوں سے ختم نبوت ﷺ اورحرمت رسول ﷺ کی تحریکوں کو اپنے پلیٹ فارم سے بڑے پرجوش انداز سے بیان کرتے ہوئے نظرآئے ہیں
خصوصا تحریک لبیک کے حرمت رسول ﷺ کے معاملے پرانہوں نے ہرقسم کے خطرات کی پرواہ کیے بغیرتحریک لیبک کے حرمت رسول ﷺ معاملے کوجس طرح پاکستانی حکمرانوں اور عالمی برادری کے سامنے بیان کیا ہے یہ کسی خطرے سے خالی نہیں تھا لیکن انہوں نے تمام تر دنیاوی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وقت تحریک لبیک کے اس مشن کا ساتھ دیا جب تحریک لبیک کا ہرکوئی ساتھ چھوڑ گیا، یہی وجہ سے کہ آج علامہ خادم حسین رضوی کے سالانہ عرس میں ان کوخصوصی مہمان کی حیچیت سے مدعو کیا گیا ہے
اسلام آباد:پاکستان نے ممکنہ تابکاری موادضبط کرنے کا بھارتی میڈیا کا دعویٰ مسترد کر دیا:عالمی سازش کی بدبوآنے لگی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے کمرشل شیپنگ کنٹینرز سے بھارت کے مندرہ بندرگاہ پر بھارتی پورٹ حکام کی جانب سے ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی بارے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کومستردکرتے ہوئے اسے خلاف حقیقت،بے بنیاد، مضحکہ خیز اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوبدنام اوربین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی روایتی چال بازی کاحصہ قراردیا ہے۔
دفترخارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے کراچی کی بندرگاہ سے شنگھائی جانے والے کمرشل شیپنگ کنٹینرز سے بھارت کے مندرہ بندرگاہ پر بھارتی پورٹ حکام کی جانب سے” ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی“ بارے بھارتی میڈیا کی رپورٹس کونوٹ کیاہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس حوالہ سے کراچی نیوکلئیرپاورپلانٹ کے حکام نے مطلع کیا ہے کہ یہ چین واپس کئے جانیوالے وہ خالی کنٹینرز تھے جسے پہلے کے ٹو اورکے تھری نیوکلئیرپاورپلانٹس کیلئے ایندھن کی فراہمی کیلئے استعمال میں لایا گیاتھا ، کے ٹو اورکے تھری نیوکلئیرپاورپلانٹس میں جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کے تحت ایندھن کا استعمال کیاجاتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کنٹینرز خالی تھے اورکارگو کو شیپنگ کی دستاویزات میں بجاطورپر اسے ”غیرخطرناک وغیرمضر“ قراردیا گیاتھا۔ترجمان نے کہاکہ بھارتی میڈیا کی ”ممکنہ تابکارمواد کی ضبطگی“ بارے رپورٹس خلاف حقیقت،بے بنیاد، مضحکہ خیز اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کوبدنام اوربین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کی روایتی چال بازی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ بھارتی میڈیا کی فیک رپورٹس کسٹم سے متعلق ضابطہ جاتی امورکو آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کی طرف موڑنے کی بدنیتی پرمبنی کوشش ہے تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق پاکستان کوبدنام کیا جاسکے۔
دوسری طرف اہم حلقوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے یہ شرارت کسی بڑے کھیل کا حصہ لگتی ہے جس کے لیے پاکستان کومحتاط ہونا پڑے گا ،ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہےکہ وہ اس بھارتی الزام تراشی میں کسی بڑی سازش کی بومحسوس کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ پاکستان کوہرقسم کی سازش سے محفوظ رکھے
کسی بھی غیر جمہوری سیٹ اپ کوقبو ل نہیں کریں گے ،چیف جسٹس گلزار احمد
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں پاکستان کی معروف قانوندان عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے تقریب منعقد ہوئی،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نہ کسی نے ڈکٹیٹ کیا نہ ہی ڈکٹیشن لی کبھی کسی کے کہنے پر فیصلے نہیں کئے، میری عدالت لوگوں کو انصاف دیتی ہے، عدالتوں کے فیصلے پڑھیں، دیکھیں کیا ہو رہا ہے، کس قدر آزادی کے تحت عدالتیں کام کر رہی ہیں اور قانون کی پیروی کر رہی ہیں ،اداروں کے دباؤ میں آ کر کبھی فیصلے نہیں کئے،دنیا میں بھی غلط فیصلے آتے ہیں، صحیح بھی، ہر ایک کا اپنا اوپینین ہے، سب کی رائے کا احترام ہے، آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی ہمیں روکنے کی، ہماری عدالت جو فیصلہ کرنا چاہے فری ہے،اور فیصلے کرتی ہے ،لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ کریں، غلط باتیں نہ بتائیں، اداروں کے اوپر سے لوگون کا بھروسہ نہ اٹھائیں، میں کہنا چاہتا ہوں یہ ملک پاکستان یہ ہمارے لئے قائم و دائم ہے اور رہے گا،اس میں قانون کی حکمرانی ہے، جس طرج ہم کام کررہے ہیں کرتے رہیں گے، قانون کی حکمرانی ہی رہے گی، کسی بھی غیر جمہوری سیٹ اپ کوقبو ل نہیں کریں گے ،چھوڑ دیں گے،
تقریب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ججز پرانصاف کی فراہمی کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،ججز حلف کی خلاف ورزی نہیں کرتے جو جج آزاد ہو وہ پریشر میں آنے کا جواز نہیں لے سکتا ،ہم ایک حلف کے پابند ہیں،میڈیا آزاد ہو تو عدلیہ آزاد ہوتی ہے،طے کر چکا ہوں کہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے،کئی عدالتی فیصلے ماضی کا حصہ ہیں جنہیں مٹایا نہیں جا سکتا،ہم اپنا سر ریت میں نہیں چھپا سکتے،غلطیاں تسلیم کرنی چاہیے،
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیرسے کئی بارملاقات کا موقع ملا،عدلیہ کا معاشرے میں اہم کردارہے،آئین میں بنیادی حقوق کا تحفظ دیا گیا عدلیہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے ،
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق کا تحفظ دیا گیا ،مذہب کہتا ہے لوگوں سے باتیں نہیں چھپانی چاہیے ،قائداعظم نے کہا تھا جمہوریت مانگی نہیں جاتی یہ لوگوں کا حق ہے ،ہراسانی حقوق پر بات کی جاسکتی ہے، آئین انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے،حضرت محمدﷺ پر پہلی وحی میں اقرا کا حکم دیا گیا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور چین کے دفاعی یونٹس پر سائبر حملے کرنے والا بھارتی گروہ بے نقاب ہو گیا ہے
بھارتی ہیکرز نے چین اور پاکستان کی ویب سائٹس ہیک کرنے کی کوشش کی ہے خبر رساں ادارے کے مطابق چین پاکستان کے دفاعی اور سرکاری اداروں کے ویب سائٹس ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ،بھارتی ہیکرز کی ٹیم بھارتی دار الحکومت نئی دہلی سے کام کر رہی ہے بھارتی ہیکرز نے ویب سائٹس ہیک کرتے ہوئے ود کو خفیہ رکھنے کی کوشش نہیں کی ہیکرز اس بے دھڑک طریقے سے حملہ آور ہو رہے ہیں جیسے انہیں کسی کا خوف نا ہو،جنوبی ایشیا میں یہ ہیکرز کی ٹیم نشانے بناتی ہے، چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں رپورٹ شائع ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ ہیکرز کی یہ ٹیم نئی ہے، اسلئے اسکی سرگرمیوں کی نشاندہی ہو گئی ہے،
قبل ازیں مائیکروسافٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا چین نہیں،بھارتی آئی ٹی سروس فرموں کو ایرانی ہیکرز سے سائبر سیکورٹی کے خطرے کا سامنا ہے۔ ایرانی ہیکرز ہندوستانی آئی ٹی سروس فرموں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پچھلے کچھ مہینوں میں حملوں کی تعدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل مائیکروسافٹ نے چینی ہیکرز کی جانب سے بھارت کو نشانہ بنانے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
مائیکروسافٹ نے ایک بلاگ میں بتایا کہ جولائی 2021 سے پہلے ایرانی ہیکرز کی ہندوستان کو نشانہ بنانے کی "نسبتاً بہت کم” تاریخ تھی، تاہم اس کے بعد سے یہ حملے بڑھ رہے ہیں۔ جیسے جیسے بھارت اور دیگر ممالک آئی ٹی میں آگے جا رہے ہیں،انکے خلاف ہیکرز متحرک ہو جاتے ہیں، مائیکروسافٹ کے مطابق، اس نے 2020 میں جاری کردہ 48 اطلاعات کے مقابلے میں اس سال ایرانی حملوں کے جواب میں عالمی سطح پر 40 سے زیادہ آئی ٹی فرموں کو 1,600 سے زیادہ اطلاعات جاری کی ہیں۔ اور مائیکروسافٹ نے اپنے انٹرپرائز صارفین کو ان ہیکرز کے لیے 1,788 قومی ریاستی اطلاعات جاری کر چکا ہے ۔ ان انٹرپرائز صارفین میں سے تقریباً 80 فیصد آئی ٹی کمپنیاں تھیں۔
اگرچہ ان میں سے زیادہ تر حملوں کا مقصد ہندوستان میں واقع آئی ٹی سروس کمپنیاں ہیں، ایرانی ہیکرز نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں قائم کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
نوجوت سنگھ سدھو کا عمران خان کو بھائی کہنا بی جے پی سے برداشت نہ ہوا ،
بھارتی میڈیا بھی کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو کے پیچھے پڑھ گیا ،بی جے پی ترجمان سمبت پترا کا کہنا ہے کہ پنجاب نوجوت سنگھ سدھو سے بہتر کا مستحق ہے،عمران خان کو بھائی کہنا بھارت اور عوام کے لیےتشویشناک ہے،سرحدی ریاستی قیادت کو بولنے سے پہلے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے بی جے پے کے رہنما امت مالویا نے سدھو کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا
قبل ازیں نوجوت سنگھ سدھو واپس بھارت روانہ ہوئے، نوجوت سنگھ سدھو نے ایک گھنٹہ 40 منٹ پاکستان میں گزارا ،بھارتی کانگریس کے رہنما اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا ہے کہ عمران خان میرا بڑا بھائی ہے ،عمران خان سمجھدار انسان ہیں، جنہوں نے مثبت اقدامات کیے ، نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ یورپین ممالک نے جنگ کے بعد اپنی کرنسی ایک کر دی،آج یورو دنیا کی مضبوط ترین کرنسی میں سے ایک ہے،شاہراہ ریشم 34 ممالک کو جاتا ہے اور تجارت کا بڑا راستہ ہے،پاکستان اور بھارت کے درمیان 2019 تک آپسی تجارت بحال رہی ایک وقت تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس بھی چلتی تھی عمران خان اور مودی سے گزارش ہے کہ تمام راستے کھول دیئے جائیں، میری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ آزادانہ طو پر آ جا سکیں انقلابی وزیر اعظم خطے کی قسمت بدل سکتے ہیں ہمیں دوریاں ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے پاکستان سے بڑی مارکیٹ کہیں نہیں تجارت سے پاکستان اور بھارت کو فائدہ ہوگا،
قبل ازیں بھارتی کانگریس کے رہنما اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو بابا گرو نانک کی 552ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے کرتارپور پہنچ گئے۔باغی ٹی وی : واضح رہے کہ سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا جی گرونانک کے 552ویں جنم دن کی تقریبات جا ری ہیں جس میں بھارت سمیت دوسرے ممالک سے بھی سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جا رہی ہے بھارت سے 3000 ہزار سکھ یاتریوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے ویزے جاری کئے گئے ہیں کرتار پور میں بابا گرو نانک کی سالگرہ کی تقریبات پر سکھ برادری کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی جا رہی ہے-
نوجوت سنگھ سدھو کے ہمراہ سکھ برادری کا وفد بھی کرتار پور پہنچا ہے کرتار پور پہنچنے پر نوجوت سنگھ سدھو اور سکھ برادری کے وفد کا زبردست استقبال کیا گیا اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے سدھو کا استقبال کرتارپور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ اور پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردارامیرسنگھ، رمیش سنگھ اروڑہ ایم پی اے نے کیا-
سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کرتارپور میں مذہبی رسومات اداکریں گے نوجوت سنگھ سدھو کا 2019میں کرتارپور کے افتتاح کے بعد یہ دوسرا دورہ ہےسدھو نے 2019 کے آخر میں کرتارپور کا دورہ کیا تھا جب وزیراعظم عمران خان نے انہیں باضابطہ طور پر مدعو کیا تھا۔
قبل ازیں بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پنجاب چرن جیت سنگھ وفد کے ساتھ آئے تھے –
واضح رہے کہ بھارت نے 16 مارچ 2020 سے کرتارپور راہداری کورونا وائرس کے باعث بند کی تھی جسے 18 ماہ بعد سکھ برادری کے مطالبے پر کھول دیاگیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سکھ یاتریوں سہولت فراہم کرنے کے لیے نومبر 2019 میں گرو نانک کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر ویزا فری کرتارپور صاحب کوریڈور کے تاریخی افتتاح سمیت متعدد اقدامات اٹھائے ہیں نیا تعمیر شدہ گوردوارا کرتارپور صاحب کمپلیکس پاکستان کے عوام اور اس کی قیادت کی طرف سے بھارت اور دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے تحفہ ہے۔
تحریک انصاف کی اہم شخصیت خادم رضوی کے عرس میں پہنچ گئی،سعد رضوی سے ملاقات
پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی تحریک لبیک کے سربرہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی سے ملاقات ہوئی ہے
سینیٹر اعجاز چوہدری تحریک لبیک کے مرکز پہنچے اور انہوں نے حافظ سعد رضوی سے ملاقات کی،اس موقع پر سینیٹر اعجاز چوہدری نے حافظ سعد رضوی کو رہائی پر مبارکباد دی اور پھولوں کے گلدستے پیش کئے، سعد رضوی نے سینیٹر اعجاز چوہدری کا شکریہ ادا کیا،
واضح رہے کہ اعجاز چودھری نے کہا تھا کہ سعد رضوی کی رہائی پر مبارکباد دینے جاؤں گا، انہوں نے آج وعدہ پورا کر دیا ہے اور پھولوں کے گلدستے لے کر مبارکباد دینے پہنچے ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے پہلے عرس کی تقریبات دوسرے روز بھی جاری ہیں، ہزاروں شرکاء یتیم خانہ چوک پہنچ چکے ہیں، گزشتہ روز علامہ خادم حسین رضوی کی قبر پر قرآن خوانی کی گئی،آج عرس کی تقریب سے مختلف علماء کرام خطاب کریں گے، حافظ سعد رضوی کا بھی خطاب متوقع ہے شیڈول کے مطابق آج دوسری نشست عشاء کی نماز کے فورا بعد شروع ہو گی اور ۱۱ بجے تک جاری رہے گی ۔ دوسری نشست میں مفتی منیب الرحمن ، علامہ اجمل رضا قادری ، اوریا مقبول جان سمیت ملک و بیرون ملک سے علماء و مشائخ صحافی و دانشور حضرات شرکت فرمائیں گے ۔ عرس میں ایک مرکزی سٹیج مین روڈ پر تیار کیا گیا ہے ،تحریک لبیک کے کارکنان ہی سیکورٹی پر مامور ہیں، شرکاء کو تلاشی بھی لی جا رہی ہے، عرس کے شرکاء منظم انداز میں موجود ہیں، آج پہلی نشست میں شوریٰ کے خطابات ہوئے،کل تیسرے روز بھی اہم خطابات ہوں گے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ باتیں کام اور کام زیادہ ہو گا رہائی کے بعد جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے حافظ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کی سب کو سمجھ آ گئی ہے، ہمارے کارکنان عشق رسول میں ڈوبے ہوئے ہیں، میں لبیک کے کارکنان کے جذبے اور ہمت، حوصلے کو داد دیتا ہوں، ہمارا کوئی مفاد نہیں، ہم ختم نبوت کی تحریک چلا رہے ہیں، اس تحریک کو روکنے کی تمام سازشیں ناکام ہوئی ہیں ،زمانہ بدلا ہے باقی کچھ نہیں بدلا،اگر عمل میں اخلاص ہو تو پھر قبولیت میں کوئی چیز مانع نہیں، نہ دن ،نہ رات دیکھنے والے چلے ہی جاتے ہیں منزل کی جانب اور اسلام کے جھنڈے گاڑھتے ہیں
حافظ سعد رضوی کی اقتدا میں ہزاروں افراد نے نماز جمعہ ادا کی، اس موقع پر ٹریفک کو بند کیا گیا تھا، شہریوں نے سڑک پر بھی نماز جمعہ ادا کی، سڑک پر بڑی سکریںیں نصب کی گئی تھیں
تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تقریبات کا گزشتہ روز لاہور میں آغاز ہوا،حافظ سعد رضوی نے شوریٰ کے ہمراہ علامہ خادم رضوی کی قبر پر چادر پوشی کی، مجلس شوریٰ کے رکن علامہ محمد شفیق امینی، پیر سید ظہیر الحسن شاہ، قاضی محمود اعوان، علامہ غلام عباس فیضی، مولانا فاروق الحسن قادری، علامہ غلام غوث بغدادی، پیر سید عنایت الحق شاہ بھی موجود تھے۔ خصوصی دعا رکن شوریٰ و سرپرست اعلیٰ ٹی ایل پی قاضی محمود اعوان نے کی۔ کارکنان کی بڑی تعداد مرکز جامع مسجد رحمۃ للعالمین کے اندر اور باہر موجود تھی۔ علامہ سعد حسین رضوی کا استقبال کارکنوں نے لبیک یا رسول اللہ کے نعروں اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے کیا۔ سربراہ تحریک کو کارکنوں کی بڑی تعداد نے گھیر لیا اور بغلگیر ہوئے لاہور کے داخلی راستوں پر رینجرز کی بھاری نفری موجود ہے حافظ سعد حسین رضوی گزشتہ روز جیل سے رہا ہوئے ، تحریک لبیک کے کارکنان کی بڑی تعداد یتیم خانہ چوک مرکز میں موجود ہے،ملک بھر سے تحریک لبیک کے کارکنان لاہور پہنچ رہے ہیں
سٹی ٹریفک پولیس نے تین روزہ تقریبات کےلئے ٹریفک پلان جاری کردیا، سی ٹی او لاہور منتظر مہدی کی ایمبولینسوں کےلئے راستہ کلئیر رکھنے کی ہدایت کی، ایس پی آصف صدیق تمام تر ٹریفک انتظامات کی سپرویژن کریں گے،
مین ڈائیورشن پوائنٹ
-1 ڈائیورشن سمن آباد چوک جانب یتم خانہ چوک،
-2 شاہ فرید چوک جانب سبزہ زار چوک ڈائیورشن
-3 ڈائیورشن سٹی اڈہ/رہبر اڈہ
-4 ڈائیورشن رحیم سٹور
-5 ڈائیورشن بجلی گھر چوک
(بس، کوسٹرز، مزدا، ویگن وغیرہ)نمبر1: جی ٹی روڈ شاہدرہ کی طرف سے آنے والی ہیوی ٹریفک کو براستہ رنگ روڈبابوصابو چوک سے شیل کٹ، چھوٹاR/O بابو صابو لیاقت چوک، سبزہ زار اسٹیڈیم کی طرف بھجوایا جائے گا۔
نمبر2:
ساہیوال، اوکارہ، ملتان روڈ اور رائیونڈ کی طرف سے آنے والی ہیوی ٹریفک کو ٹھوکرنیاز بیگ انٹرچینج سے بذریعہ موٹروے بابو صابو چوک سے شیل کٹ، چھوٹا R/O بابو صابو لیاقت چوک، سبزہزاراسٹیڈیم کی طرف بھجوایا جائے گا۔
دوسری جانب 19 سے 21 نومبر تک خادم حسین رضوی صاحب کے عرس کی وجہ سے تقریباً ایک کلو میٹر کے ایریا میں سکول و کالج مارکیٹ وغیرہ سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے بند رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے
ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ نے ڈی آئی جی آپریشنز کے ہمراہ مولانا خادم حسین رضوی کے پہلے عرس مبارک کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے مرکز جامعہ مسجد رحمتہ للعالمین اور ملحقہ علاقوں کا دورہ کیا، عرس منتظمین نے ڈی سی لاہور کو تفصیلی بریفنگ دی
علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تقریبات پہلے روز مسجد اور مزار شریف کے اندر ہونگی جبکہ دوسرے اور تیسرے روز باقاعدہ چوک یتیم خانہ سے سکیم موڑ تک روڈ بند ہوگا،سٹیج سکیم موڑ چوک میں لگایا جائے گا اور ٹی ایل پی کی مرکزی شوری اپنی تحریک کے بانی کو خراج عقیدت پیش کرے گی۔
چینی سرمایہ کاروں کو سہولیات دی جائیں،وزیراعظم کی ہدایت
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں کاروبار ،سرمایہ کاری اوردیگرامور پر تبادلہ خیال کیا گیا،حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، شہباز گل، خالد منصور ملاقات میں موجود تھے ،وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چینی تاجر گلاس، سیرامک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں،چینی موبائل ساز کمپنی پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹ لگارہی ہے چینی کمپنی کی جانب سے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کیا جا رہا ہے،
وزیراعظم نے معروف چینی کاروباری وفد کاخیرمقدم کیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کےساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے بہت اہمیت دیتا ہے دونوں ممالک کے عوام کے کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانااولین ترجیح ہے، ہماری حکومت چینی سرمایہ کاروں کوہرممکن سہولت کی فراہمی کواولین ترجیح دے گی،چینی کمپنیاں پاکستان میں اپنے علاقائی دفاتر قائم کریں،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں ،خصوصی اقتصادی زونز میں دلچسپی رکھنے والے چینی سرمایہ کاروں کے مشکور ہیں پاکستان اور چین کے درمیان عوامی رابطوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستان اور چین آئندہ نسلوں تک ایک دوسرے سے جڑے رہیں گے ترجیحی بنیادوں پر پاکستان میں چینی کاروباری اداروں کی حمایت کریں گے،وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ پاکستان میں صنعتیں لگانے والے چینی سرمایہ کاروں کو سہولیات دی جائیں سڑکوں اور یوٹیلیٹی سہولیات کی فراہمی سے متعلق مسائل کو حل کیا جائے,
قبل ازیں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پاکستان میں مقیم چینی کمپنیوں کے اجلاس کی میزبانی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقعوں سے آگاہ کرنے میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے ،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سی پیک تیز رفتاراور معیاری ترقی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے پاکستان مستقبل میں بھی چینی کمپنیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا. اس اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک امور خالد منصور اور وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے کی تھی
نورمقدم قتل کیس،تفتیشی افسر پر ظاہر جعفر سے ملی بھگت کا الزام ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی
ملزم تھراپی ورکس کی ظاہر جعفر اور تفتیشی افسرکے خلاف درخواست خارج کر دی گئی ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے پرائیویٹ کمپلینٹ پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،نور مقدم قتل کے مرکزی کیس کی سماعت 24 نومبر کو ہو گی تھراپی ورکس کا ملازم امجد نور مقدم کے قتل کے روز زخمی ہوا تھا امجد نے کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے تفتیشی افسر پر ظاہر جعفر سے ملی بھگت کا الزام لگایا تھا ملزم امجدکی درخواست میں تفتیشی افسر پر ثبوت مٹانے اور ظاہر جعفر کو فائدہ پہنچانے کا الزام تھا
قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر نے ایک مرتبہ پھر قانونی نمائندگی کے حصول کے لیے وکالت نامے پر دستخط سے انکار کردیا ہے اور ان کا اصرار ہے کہ انہیں اپنی پسند کا وکیل چاہیے، گزشتہ سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے وکیل ملک امجد کو ملزم سے وکالت نامہ پر دستخط کرانے کا حکم دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظاہر اس سے قبل عدالت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سرکاری وکیل کی خدمات بھی لینے سے انکار کر چکے۔ جج کی ہدایات کے باوجود ظاہر جعفر نے وکالت نامے پر دستخط نہ کیے اور ملک امجد کو اپنا وکیل تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ ملزم نے کہا کہ یہ میرے وکیل نہیں، میں وکالت نامے پر دستخط نہیں کروں گا، میرے وکیل بابر ہیں جو بیرسٹر ہیں اور وہ آرہے ہیں ظاہرجعفر کے انکار پر جج نے ریمارکس دیئے کہ مرکزی ملزم کے وکیل موجود نہیں ہیں، ملزم نے کہہ دیا ہے وہ وکالت نامے پر دستخط نہیں کریں گے، اب جیل ہی سے دستخط کروائیں گے
@MumtaazAwan
واضح رہے کہ سابق سفیر کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم نے بیٹی کے قتل کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے رات کو تھانہ کوہسار سے کال آئی کہ نور مقدم کا قتل ہو گیا ہے اور جب میں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو میری بیٹی کا گلا کٹا ہوا تھا نور مقدم کا قاتل ملزم ظاہر جعفر اسکے والدین اور دیگر ملزمان اڈیالہ جیل میں قید ہیں امریکی سفارتخانے نے نور کے قاتل سے بات کی ہے
پاکستان کے سابق سفیر شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد شوکت علی مقدم کی مدعیت میں قتل کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،
اسلام آباد: متحدہ عرب امارات میں قائم ایک تجارتی اور سرمایہ کاری فرم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور ایک نجی بینک کے خلاف تقریباً 74 ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے جس نے مبینہ طور پر 9 سال قبل اپنے بینک اکاؤنٹس کو غیر قانونی طور پر منجمد کیا تھا۔
باغی ٹی وی : ٹریبیون ایکسپریس کے مطابق انرجی گلوبل انٹرنیشنل ایف زیڈ ای نے دسمبر 2012 میں بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے اور غیر قانونی طور پر غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹ کو روپے کے اکاؤنٹ میں تبدیل کرنے کی "غیر قانونی” کارروائی کی وجہ سے مرکزی بینک کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔
عدالتی درخواست کے مطابق، فنڈز جاری نہ کرنے پر سندھ ہائی کورٹ (SHC) میں دائر مقدمے میں نجی کمرشل بینک کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
ایس ایچ سی نے ایس بی پی اور بینک اسلامی کے نمائندوں کو ہرجانے کے دعوے کا جواب دینے کے لیے اگلے سال 15 فروری کو عدالت کے ایڈیشنل رجسٹرار کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا ہے، عدالتی دستاویزات میں دکھایا گیا ہے۔
اکاؤنٹس اصل میں ناکارہ KASB بینک کے ذریعے چلائے گئے تھے، لیکن مئی 2015 میں بینک اسلامی کے ساتھ merger کے بعد، اس کے تمام اثاثے، واجبات اور اکاؤنٹس بینک اسلامی کو منتقل کر دیے گئے۔
انرجی گلوبل کو شارجہ، متحدہ عرب امارات کے قوانین کے تحت شامل کیا گیا ہے، لیکن اس کے سرمایہ کار ایرانی نژاد ہیں۔
دسمبر 2012 میں، مرکزی بینک نے کمپنی کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے – امریکہ کی جانب سے کمپنی پر پابندیاں لگانے سے چھ ماہ قبل اور اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستانی قوانین امریکی پابندیوں کو قبول نہیں کرتے۔
عدالتی فائلنگ میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کی کارروائی دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جاری کیے گئے سرکلرز کے خلاف تھی۔ بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے پہلے کمپنی کو کبھی مطلع نہیں کیا گیا تھا۔
انرجی گلوبل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مرکزی بینک کے اس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور انہیں روپے کے اکاؤنٹس میں تبدیل کرنے کے ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ اس نے بینک اکاؤنٹس کو غیر منجمد کرنے اور روکے ہوئے بیلنس کو جاری کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم کمپنی نے یہ استدعا کی ہے کہ ناکارہ KASB بینک کو مرکزی بینک نے اپنے چار بینک اکاؤنٹس کو بینک اسلامی میں منتقل کرنے اور پھر انہیں اسپیشل کنورٹیبل روپی اکاؤنٹس (SCRA) میں تبدیل کرنے کے لیے "مجبور” کیا تھا۔
کمپنی نے یورو اور جاپانی ین کرنسیوں میں کام کرنے کے لیے ایک بینک اکاؤنٹ کھولا تھا۔
تاہم مرکزی بینک نے یہ کارروائی امریکہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ کنٹرول (OFAC) کے خط کی بنیاد پر کی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ نہ تو کمپنی امریکی کرنسی میں لین دین کر رہی تھی اور نہ ہی اسے منفی کارروائی کے وقت اقوام متحدہ یا امریکہ کی طرف سے کسی قسم کی پابندیوں کا سامنا تھا۔
اکاؤنٹس منجمد کرنے کے وقت، کے اے ایس بی بینک نے یورو اور ین کی مروجہ شرحوں پر 19.6 بلین روپے کا بیلنس شمار کیا تھا۔
کمپنی نے پچھلے پانچ سالوں میں اپنے 19.6 بلین روپے کے فنڈز پر 33.4 بلین روپے کے منافع کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس نے گزشتہ نو سالوں میں کاروبار کرنے کے مواقع ضائع ہونے پر 10.8 بلین روپے کے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
1.2 بلین روپے کی مزید رقم کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکی میں پاکستانی بینک کی جانب سے ترکی کے بینک کے ساتھ نامکمل لین دین کی وجہ سے رقوم منجمد ہونے سے ہونے والے نقصانات ہیں۔
اس سے مجموعی طور پر 52.9 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
عدالتی فائلنگ کے مطابق، کمپنی نے مزید 21 ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جس سے کل دعویٰ 73.7 ارب روپے ہو گیا ہے۔
"منجمد صرف اس صورت میں کیا جانا چاہئے تھا جب مدعی (کمپنی) کے ذریعہ کسی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ اکاؤنٹ قانونی طور پر کھولا گیا تھا، چلایا گیا تھا اور تمام لین دین مناسب بینکنگ لین دین کے ذریعے مدعا علیہ (SBP) کے علم کے مطابق تھا اور کبھی اعتراض نہیں کیا گیا، "فرم نے دعویٰ کیا۔
متحدہ عرب امارات کی فرم کے ایرانی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے ذریعے بینک اسلامی سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن بینک نے فرم کو اکاؤنٹ کی مکمل اسٹیٹمنٹ نہیں دی۔
انرجی گلوبل نے بھی گزشتہ سال دسمبر میں اور اس سال جنوری میں دوبارہ اسٹیٹ بینک کے گورنر کو خط لکھ کر کمپنی کو اپنی رقم استعمال کرنے کی اجازت دینے اور مئی 2015 سے فنڈز پر حاصل ہونے والے منافع کو اس کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کے لیے مداخلت کرنے پر زور دیا۔ فرم کا یہ بھی خیال ہے کہ اسے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدوں کے تحت تحفظ حاصل ہے جن پر پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ دستخط کیے ہیں اور اس کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔