بینکنگ کورٹ لاہور میں شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی شہباز شریف اور حمزہ شہباز بینکنگ کورٹ لاہور میں پیش ہوئے ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کےلیے مزید مہلت مانگ لی-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے عدالت میں بیان میں کہا،میں اسلام آباد میں تھا آج آپ کی عدالت پیش ہوا ہوں میرے خلاف یہ کیس پہلے ہی نیب دیکھ چکا ہے شوگر مل میں تنخواہ لی ،نہ فائد ہ لیا اور نہ ہی شئیر ہولڈر ہوں میرے اکاونٹ میں دھیلا بھی نہیں آیا۔
میرے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے میرے بچوں کو اربوں کا نقصان ہوا میں نے گنے کی قیمت کم نہیں کی تاکہ کسان کو نقصان نہ ہوا میرے عمل کا حساب ہوگا میں نے کاشت کار کوفائدہ پہنچایا۔
عدالت نے سوال کیا کہ کیایہ ان سب باتوں کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ یہ سب میرے بے نامی دار بنا رہے ہیں میں نے ایتھنول پر 2 روپے ایکسائز ڈیوٹی لگائی، ڈھائی ارب اکٹھے کیے۔ ہم نے جائز ڈیوٹی لگائی، موجودہ حکومت نے یہ ڈیوٹی واپس لے لی اس کے بعد مجھ پر ایسے الزامات لگانا بہت زیادتی ہے۔اگر میں نے کرپشن کرنی تھی تو خاندان کو اربوں روپے کا نقصان کیوں کرواتا۔
عدالت نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ ایف آئی اے سے چالان کا کہا گیا تھا چالان کہاں ہے؟ایف آئی اے نے جواب میں بتایا کہ ملزمان تفتیش کا حصہ نہیں بنے ملزمان نے عبوری ضمانت لی ہوئی ہے جج نے حکم دیا کہ عبوری ضمانت لینے والے ملزمان آج ہی ایف آئی اے کی انویسٹی گیشن جوائن کریں۔
جج نے ایف آئی اے سے سوال کیا کہ کتنے دن میں ایف آئی اے چالان جمع کرائے گا دن بتائیں ایف آئی اے نے عدالت میں جواب دیا کہ انویسٹی گیشن مکمل ہوتے ہی چالان جمع کرا دیں گے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ حتمی تاریخ بتائے ورنہ ایف آئی اے کے متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کریں گے جس پرایف آئی اے نے چالان جمع کرانے کے لیے تین ہفتے کی مہلت مانگ لی۔
عدالت نے ملزمان کو تفتیش کا حصہ بننے کی ہدایت کر دی اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت میں 11 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے کو چالان جمع کرانے کے لیے 3ہفتے کا وقت دے دیا –
فیصل آباد (عثمان صادق) سابق وزیر اعلی پنجاب وپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ نیازی حکومت نے پارلیمنٹ میں روایات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اب تو الیکشن کمیشن نے بھی برملا کہہ دیا ہے الیکٹرانک مشینوں سے انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں ،نیازی سرکار ڈنڈے کے زور پر سیاہ قوانین پاس کروانے کے لیے سلیکٹرز کے پاو¿ں کیوں پکڑ رہی ہے۔ 2023کے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری کی بھتیجی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر،پی پی پی کے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ میڈیا کووار ڈ ینیٹر محمد طاہر شیخ ،ٹکٹ ہولڈر چوہدری عمر دراز آزاد و دیگر جیالوں سے ملاقات کے دوران ملکی صورتحال پر گفتگو کے دوران کیا،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ نیازی پاکستانی قوم کے ساتھ ایک اور گھناو¿نا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔جو کہ تشویش ناک فعل ہے ِبحران خان کی حکومت نے اب قوم کو روٹی پکانے کیلئے گیس بھی دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، تین سالہ کارکردگی کا نچوڑ دن میں صرف تین بار گیس کی فراہمی کا اعلان ہے، یہ موسم سرما عمران خان کی حکومت اور سیاست کی تدفین کا موسم ثابت ہوگا،قوم ہر موسم سرما کو رہتی دنیا تک منحوس حکومت سے نجات کے موسم کے طور پر منائے گی،تبدیلی سرکار کے تمام دعوے اور وعدے پہلے بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے اب بھی قوم کے ساتھ ایک سنگین فراڈ ہو گا، متنازعہ قانون سازی پیپلز پارٹی کو ہر گز قبول نہیں پیپلز پارٹی حکومتی سیاہ قانون سازی کے خلاف ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے گی ۔مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری نے کہا کہ ، اناڑی کو گاڑی پر بٹھائےںگے تو خود بھی مرے گا گاڑی کو بھی تباہ کرے گا ،اگر گاڑی اناڑی نہیںچلا سکتا تو 22 کروڑ عوام کا ملک کیسے چلا سکتا ہے ، قوم پوچھتی ہے کہ تبدیلی لانے والوں کو عمران نیازی کی حکمرانی پسند آئی؟تین ٹائم گیس کی فراہمی کا اعلان بھی دھوکہ ہے، گیس آئے گی ہی نہیں، بجلی، پٹرول اور گیس مہنگی کرنے کے بعد سلیکٹڈ قوم سے سہولتیں بھی چھین رہا ہے، سردیوں میں گیس کی فراہمی سے انکار کرنے والی حکومت کو لوگ نکال باہر پھینکیں گے۔سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ2018 میں پی ٹی آئی حکومت کو لا کر ملک کا ستیاناس ، بیڑہ غرق کردیا گیا ہے ،جو بھی اشیا ئے خوردونوش لینے جاتا ہے وہ اس حکومت کو گالیاں نکال کر نہیں آتا ؟، اس مہنگائی نے عوام کاجینا محال کر دیا ہے ، کہ ، جس نے قوم کو ڈینگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،،اس نے ہماری خارجہ پالیسی تباہ کر دی ہے ،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے۔
راولپنڈی:دنیا افغانستان میں انسانی المیے بچنے کےلیے میدان میں آئے ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کےلیے عالمی توجہ کی ضرورت ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق بحرین پارلیمنٹ کی سپیکر فوزیہ بنت عبداللہ زینال نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو ) کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سکیورٹی اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ بحرین کی سپیکر نے بارڈر مینیجمنٹ اور علاقائی استحکام میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کےمطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کےلیے عالمی توجہ کی ضرورت ہے، افغان عوام کی اقتصادی بہتری کےلیے مربوط کوششیں کی جانی چاہئیں ،ہمسایہ ملک میں انسانی بحران سے بچنے کے لئے معاشی بحالی ضروری ہے۔
لندن ÷اسلام آباد:پاکستان؛برطانیہ کےدرمیان غیرقانونی تارکین کو واپس لینےکا معاہدہ ہوگیا:نوازشریف کے گرد گھیرا تنگ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے کا معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا۔
اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر اور سیکرٹری برطانوی وزارت داخلہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے معاہدے کو حتمی شکل دی ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن کرسچن ٹرنر کی جانب سے سوشل میڈیا پر بتایا گیا کہ معاہدے کے تحت کسی بھی ملک میں غیر قانونی تارک وطن کو واپس اپنے ملک جانا ہو گا۔
برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ معاہدہ پاکستان کی وفاقی کابینہ کے سامنے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، حتمی منظوری کے بعد معاہدے پر سال کے آخر تک عمل درآمد کیا جائے گا۔
برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ برطانوی اور پاکستانی حکام ایک دوسرے کے ساتھ کرمنل ریکارڈ شیئر کرسکیں گے۔
ادھربعض ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف اس معاہدے کے بعد سخت پریشان ہیں اور یہ بھی امکان ہے کہ نوازشریف سعودی عرب، قطریا بھارت میں سیاسی پناہ لے لیں اور پاکستانی حکومت کواس محاذ پربھی شکست سے دوچار کردیں،
بعض حلقوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی طرف نوازشریف کوپیشکش کی جاچکی ہے ، لیکن نوازشریف فی الحال سعودی عرب یا قطرجانے کی خواہش رکھتے ہیں ، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نوازشریف تمام راستے بند ہونے پرپاکستان ہی واپس آجائیں اورسیاست کوگرمانے کی کوشش کریںلیکن میاں صاحب کو بتادیا گیا ہے کہ اگروہ پاکستان چلے گئےتوپھران کی سیاسی خود کُشی ہوگی اور وہ ان کوعدالتوں میں گھسیٹ گھسیٹ کرتباہ کردیا جائے گا
حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو قانونی تحفظ فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری قانون ، سیکریٹری اطلاعات سے 3 ہفتے میں تفصیلات طلب کرلیں ،عدالت نے کہا کہ حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ رجسٹرار آئی ٹی این ای سے کیسز کے موجودہ اسٹیٹس سے متعلق جواب طلب کر لیا گیا،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل،سینئر صحافی مظہر عباس، حامد میر عدالتی معاون مقررکر دیئے گئے،اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی بھی درخواست میں فریق ہے صحافیوں کو درپیش مسائل سے متعلق کیس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکم جاری کیا عدالت نے پی ایف یو جے کے صحافیوں کے مختلف مسائل کی نشاندہی پر مشتمل خط کو پٹیشن میں تبدیل کیا رپورٹرز کی جاب سیکیورٹی ، ویج بورڈ ایوارڈ نفاذ اور صحافیوں کے مسائل کو خط میں اجاگر کیا گیا
عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 9 ، 14 ، 19 اور 19 اے بنیادی حقوق سے متعلق ہیں میڈیا ورکرز اور جرنلسٹس کی سیکیورٹی کا بنیادی حقوق کے ساتھ ڈائریکٹ تعلق ہے آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے آئی ٹی این ای میں 40 ہزار سے زائد کیسز زیر التوا پڑے ہوئے ہیں صحافیوں اور ورکرز کے لیے یہاں کوئی قابل ذکر قانون سازی موجود نہیں
قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،گرفتار 2 ملزمان کا ٹرائل اسلام آباد میں کرنے کے کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے متفرق درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے تحریری حکمنامہ جاری کیا،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ملزمان کا اسلام آباد میں ٹرائل کا حکم دے،
بحرین کی نمائندہ کونسل کے اسپیکر نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔
باغی ٹی وی: وزیراعظم عمران خان سے مملکت بحرین کی کونسل آف ریپریزنٹیٹوز کی سپیکر محترمہ فوزیہ بنت عبداللہ زینال نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ آج ملاقات کی۔ وزیراعظم نے سپیکر اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
بحرین کے پارلیمانی وفد کی مہمان نوازی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے سپیکر نے مملکت کی قیادت کی طرف سے وزیراعظم کو تہہ دل سے تہنیتی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے طویل اور تاریخی برادرانہ تعلقات کا اعادہ ہے۔ دو طرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر مسلسل اور قریبی تعاون کو یاد کرتے ہوئے سپیکر نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا، خاص طور پر تجارت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں۔ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے سپیکر نے بحرین میں مقیم پاکستانیوں کو بحرینی عوام کا رشتہ دار قرار دیا۔
بحرینی قیادت کے گرمجوشی کے جذبات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے بحرین کے بادشاہ اور ولی عہد کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بحرین کی قیادت کا خصوصی طور پر عالمی وبائی مرض کے آزمائشی اوقات میں 120,000 مضبوط پاکستانی تارکین وطن کی دیکھ بھال پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے تعاون کے تمام پہلوؤں میں مملکت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔
بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں انسانی حقوق کی جاری اور سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں دورہ کرنے والے معزز مہمان کو آگاہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے عالمی برادری بالخصوص مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرے۔ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق انہوں نے اسلامو فوبیا کو عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش ایک اہم مسئلے کے طور پر بھی اجاگر کیا، اور اس طرح کے مسائل سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لیے امت کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کی تعمیری شمولیت اور افغانستان میں سنگین اقتصادی چیلنجوں کے پیش نظر بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔ وزیراعظم نے افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سپیکر نے وزیر اعظم سے افغانستان کی صورتحال پر عالم اسلام کے تعمیری اور اجتماعی ردعمل اور مسلم کاز کی حمایت پر اتفاق کیا۔
کنگڈم آف بحرین کی کونسل آف ریپریزنٹیٹوز کی سپیکر قومی اسمبلی کے سپیکر کی دعوت پر اپنے وفد کے ہمراہ 17 سے 21 نومبر 2021 تک پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔
جو تیرے عشق میں قید ہوئے وہ کیا قید ہوئے،حافظ سعد رضوی
حافظ سعد حسین رضوی رہا ہوچکے ہیں،حافظ سعد رضوی رہائی کے بعد مسجد رحمۃ للعالمین پہنچ چکے ہیں حافظ سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا ہے-
باغی ٹی وی: حافظ سعد رضوی نے رہائی کے بعد اپنا پہلا انٹرویو پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ساتھ انٹرویو میں نظر بندی کے دوارن حالات و واقعات پر تفصیلی گفتگو کی-
ویڈیو میں سینئیر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حافظ سعد رضوی متعدد تکالیف ،مشکلات اور بہت سے ساتھیوں کی شہادت درجنوں کی گرفتاریاں اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کے زخمی ہونے کے بعد بلآخر رہائی مل گئی ہے اور اپنے اہلخانہ کے درمیان چلے گئے ہیں یہ ان کا پہلا انٹرویو ہے جو انہوں نے شفقت فرمائی اور ہمارے ساتھ بات کرنا مناسب سمجھا اور ہمیں انٹرویو دے رہے ہیں-
انہوں نے کہا کہ وہ گواہ ہیں کہ حافظ سعد رضوی کی رہائی کے پیچھے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی دعائیں ہیں وہ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے بھیگی آنکھوں سے اشکبار ہو کر ان کی رہائی ان کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگتے رہے مبشرلقمان نے سعد رضوی کو رہائی ملنے پر مبارکباد دی-
جس پر سعد رضوی نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میں اس یقین پر ہوں اور میں نے تو کبھی خود کو قید سمجھا ہی نہیں تھا انہوں نے شاعرانہ انداز مین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اظہار محبت کرتے ہوئے کہا کہ”جو تیرے عشق میں قید ہوئے وہ کیا قید ہوئے-
مبشر لقمان نے سعد رضوی سے سوال کہا کہ ناموس رسالت پر ہر پاکستانی جان دے سکتا ہے جس پر سعد رضوی نے کہا کہ بےشک ہر پاکستانی جان دے سکتا ہے آپ کو کم عمری میں اللہ نے اعزاز دے دیا کہ آپ بہت کم عمری میں اس تحریک کے امیر بنے آپ کو کس وجہ سے اندر نظر بند کیا ہوا تھا ور غیر قانونی بند کیا ہوا تھا –
سعد رضوی نے کہا کہ یہ تو تمام کورٹس کے فیصلوں کے بعد قانون اور ذمہ داران بھی نہیں جان سکے کہ ہم نے اس شخص کو کیوں بند کیا ہوا ہے-یہ تو ان سے پوچھا جائے کیوں بند کیا ہوا جو بند ہے وہ کیا بتائے گا کہ میں کیوں بند ہوں اسے تو بس یہی پتہ ہے کہ میں بند ہوں-
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ علامہ صاحب مجھے خبریں ملتی تھیں میں لوگوں کو دیتا نہیں تھا کہ میں چاہتا تھا آپ با ہر آ جائیں آپ سے تصدیق کے بعد کہوں کہ آپ کے اوپر تشدد بھی کیا گیا کہ آپ کوئی پولیس کی مرضی کا مطلب کا ویڈیو بیان جاری کر دیں آشوریٰ کے لئے کیا ایسا ہوا تھا؟
علامہ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ اس راہ میں سب کچھ ہوتا ہے آخر میں انجام کو دیکھا جاتا ہے جو کچھ ہوا ایک راہ تھی اس راہ میں سب کچھ قبول ہے وہ گرفتارہ وہ تشدد ہو میرے کارکن میرے اوپر اس سے زیادہ تشدد کیا ہو سکتا ہے کہ میرے کارکنوں کا خون بہایا گیا-اور میرے کارکنوں کو زخمی کیا گیا ان کی ٹانگیں توڑی گئیں میں تو اس تشدد سے باہر نہیں نکل سکتا یہ تشدر تو ذاتی میرے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی جب آپ کو سامنے دکھائی دے رہا ہو کہ آپ کو معلوم ہو رہا ہو کہ آپ کے کارکنوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور وہ لوگ بے قصور ہیں اور جو صرف احتجاج کے لئے نکلے ہوں ساری دنیا احتجاج کرتی ہیں ان کو گولیاں ، بولٹ ان کو شیل فائر کئے جائیں تو میں میرے اوپر اس سے زیادہ تشدد کیا ہو سکتا ہے-
مبشر لقمان نے سوال پوچھتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں پتہ چلا تھا جیل میں آپ کے اوپر اتنا تشدد ہو کہ آپ کے گردوں سے بلیڈنگ ہونا شروع ہو گئی تھی؟
سعد رضوی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا اور کہا کہ اس سب کو چھوڑیں جانے دیں ہم اس طرف چلتے ہیں جو آگے نئی راہ کھولے یہ تو گزر گیا جو ماضی تھا بڑا حسین ماضی تھا –
سینئیر صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے کارکنوں کو پتہ ہونا چایئے کہ آپ نے کتنی صعوبتیں اور تکلیف اٹھائی ہے اور برداشت کی ہے قربانیاں دی ہیں –
امیر تحریک لبیک پاکستان نے کہا کہ جب میرے علم میں ہے کہ میرے کارکنوں نے کتنی تکالیف برداشت کی ہیں تو انہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ جن کے اوپر انہوں نے بھروسہ کیا ہے انہوں نے بھی ایسے ہیں تکالیف برداشت کی ہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا وہ شیڈول ختم ہو گیا کالعدم کا لفظ ختم ہو گیا سیاسی جماعت تسلیم ہو گئی تو اب آگے کا کیا لائحہ عمل ہے؟
سعد رضوی نے بتایا کہ لائحہ عمل وہی ہے جس کو ہم لے کر چلتے ہیں ناموس رسالت ختم نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر کام ہے اور اس ملک میں ہر ظالم کے پنجے سے مظلوم کو چھڑوانا ہے اور ہر غریب اور مسکین جو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے ان ظالموں نے ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ان کو خوش رکھنا اور خوش کرنا ہی لائحہ عمل ہے-
جیل کے اندر حکومت کے لوگ میٹنگز میں کیا کیا مطالبات کرتے تھے ؟ کے جواب میں سعد رضوی کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ جو بھی جیل کے اندر میٹنگ ہوئی ایک آفیشل میٹنگ تھی علماء اکرمن لے کر آئے اور باقی جو ہماری جماعت کے معملات کے اندر میٹنگ تھی وہ ہمارے ذمہ داران کے ساتھ کرتے تھے میرے ساتھ جو میٹنگ ہوئی علماء اکرام آئے اور سب لوگوں کو دکھایا بھی گیا جو میٹنگ ہوئی باقی جو باتیں کرتے تھے آپ اسٹیپ ڈاؤن لے لیں پیچھے ہٹ جائیں وہ تو ہر ایک اپنا موقف ہوتا ہے اور وہ اپنے تطریقے سے بات کرتے تھے ہم اپنے طریقے سے بات کرتے تھے-
ایسی کیا وجہ ہوئی کہ دو مرتبہ آپ لوگوں کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنے کے باوجود حکومت پھر گئی؟ پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے مسائل یہ ہیں کہ ان کو شاید اپنی ہی بات کے اوپر یہ یقین نہیں ہے اور اس کے اوپر کبھی کبھی وہ ہمارا وجود نہیں مانتے تھے کہ ان کا سیاسی کوئی وجود ہے اور یہ ہمارے ہی شہری ہیں کہتے تھے یہ چند لوگ ہیں ان کو ہم تتر بتر کر لیں گے اور ان پر شیلنگ فائر کریں گے اور گولیاں چلائیں گے وہ جان دے سکتے ہیں ان کو علامہ خادم حسین رضوی نے وہ عشق کا جام پلایا ہے جو نشہ نہیں اتر سکتا اور انہوں نے وہ نشہ گولیوں سے بولٹ سے فائر سے اتارنے کی کوشش کی ان کو اس یقین اور اس بات تک لانے تک اتنے یقین اور اتنے معاہدے ہوئے-
کل عرس کی تقریب میں ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم انہیں اس ہجوم سے ڈرائیں یا مقصد ہو کہ ہم اس سے اپنی پاور شو کریں ہمارا ایک روحانی سلسلہ ہے ہمارا ایک ایونٹ ہے اور ہم اسے بڑے آرام سے ایک تربیتی اور روحانی لحاظ سے اور ایک آگے کے لائحہ عمل کے لحاظ سے ہم اس کو منائیں گے اور اس سے لوگوں کو پریشان نہیں ہو نا چاہیئے یہ جو ہمارے قائد کی وفائے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے نا لوگ اس وجہ سے ان کی قبر پر جمع ہوتے ہیں اور فاتحہ پڑھنے آتے ہیں لہذا لوگوں اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیئے-
حکومت فرانس میں بڑی تبدیلیاں ہو چکی ہیں ان کی طرف سے ان کی ایمبیسی کی طرف سے کوئی معافی آ جائے تو کیا آپ لوگ اس پر اتفاق کر لیں گے؟
اس پر حافظ رسعد رضوی نے کہا کہ ان کو معافی ملتی ہے یا نہیں لیکن ان کو اس بات کا احساس ہونا چاہیئے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس سے لاکھوں دل مجروح ہوتے ہیں جو مسلمان ہے وہ کائنات کی ہر چیز برداشت کر سکتا ہے لیکن اللہ کے نبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر کوئی حرف برداشت نہیں کر سکتا تو یہ ان کی معافی اُدھر ہے ہم کون ہیں جو ان سے معافی منگوائیں ہمارا ان سے کوئی ذاتی جھگڑا تو نہیں ہے ہمارا عزت رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسئلہ ہے یہ معافی اُدھر مانگے یا اُدھر بات کرے ہمارے ساتھ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہمارا مسئلہ ناموس رسالت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے ان کے ساتھ اور جب تک وہ اس سے توبہ نہیں کرتے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہم ان کی کوئی بات سننے کے لئے تیار ہیں-
واضح رہے کہ آج حافظ سعد حسین رضوی رہا ہوچکے ہیں ان کے استقبال کی پر تحریک لبیک کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی یتیم خانہ چوک پہنچی،حافظ سعد رضوی کے یتیم خانہ چوک پہنچنے پر کارکنان کی جانب سے بھر پور استقبال کیا گیا،پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،حافظ سعد رضوی جب گاڑی سے اترے تو کارکنان نے انکا زبردست خیر مقدم کیا، کارکنان کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے-
سری نگر: کشمیر میں 13 سالہ معصوم بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈیو نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
باغی ٹی وی :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور قابض فوج نے دو روز میں ایک ڈاکٹر اور تاجر سمیت 9 شہریوں کو شہید کردیا ہے شہدا میں کشمیری تاجر الطاف بھٹ بھی شامل ہیں جن کی بیٹی کی ویڈیو نے ہر آنکھ کو اشک بار کردیا ویڈیو میں الطاف بھٹ کی کم سن بیٹی نے بتایا کہ بھارتی فوج اس کے بابا کو شہید کرکے ہنستے رہے کشمیری بیٹی کی المناک اور دل سوز ویڈیو پر ہر آنکھ اشک بار ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر جاری یڈیوز اور خبروں کے مطابق الطاف بھٹ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ایک شاپنگ سنٹر میں دکان دار تھےگزشتہ روز دکان بند کرکے جب وہ واپس آرہے تھے تو بھارتی فوج نے انہیں پکڑ کر گولیاں مار کر شہید کردیا لواحقین نے اسے بہیمانہ اور سنگدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا بھارتی فوج نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ شہدا کے جسد خاکی بھی لواحقین کو دینے سے انکار کردیا۔
#KASHMIRCROWNPHOTOGRAPHY Families of Altaf Bhat and Dr Mudasir Gul staged Potest at Press Enclave demanding the Dead bodies of both persons.
https://twitter.com/SHABIRABUTT/status/1461039236568604675?s=20
شہدا کے لواحقین نے شہدا کے جسد خاکی لینے کےلیے دھرنا دیا تو بھارتی پولیس اور فوج نہتے اور لواحقین پر پل پڑی اور انہیں گرفتار کرکے لے گئی ایک ضعیف العمر رشتے دار نے بھارتی فوج کی بندوق کا رخ اپنی طرف کرکے کہا کہ مجھے بھی گولی ماردو، جس پر بھارتی درندے بھوکے کتوں کی طرح ان پر بھی پل پڑے اور تشدد کا نشانہ بنایا بھارتی فوج نے شہدا کی لاشوں کو پکواڑہ میں ایک نامعلوم مقام پر دفن کردیا –
Indian occupied forces have detained family members of Altaf Ahmad Bhat and Dr Mudasir Gul who were killed by Indian forces in Hyderpora, Srinagar.
لواحقین نے کہا کہ وہ تو بس اپنے پیاروں کی اپنے قریب اور اپنے ہاتھوں سے شرعی طریقے سے تدفین کرنا چاہتے ہیں، لیکن بھارتی فوج جنازے نہ دے کر ان کی بے حرمتی کررہی ہے-
https://twitter.com/MaktoobMedia/status/1461060916150091777?s=20
‘My toddler daughter cries for her father, return his body’: Families of civilians, killed in Srinagar, protest, reports @umeerasifpic.twitter.com/v69lfauADd
واضح رہے کہ مودی حکومت کی پالیسی کے تحت کشمیر میں مجاہدین کے جسد خاکی کو لواحقین کے حوالے نہیں کیا جاتا، تاکہ لوگ ان کے جنازوں میں شریک نہ ہوسکیں کشمیر میں شہدا کے جنازوں میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک کرتی ہے اور اس موقع پر ہر قربانی دے کر جدوجہد آزادی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے نہتے کشمیریوں کے جذبہ آزادی سے خوف زدہ بھارت سرکار مختلف ہتھکنڈے اور حربے اختیار کرکے سمجھتی ہے کہ اس طرح سے وہ کشمیریوں کو کچل سکے گی۔
یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا چئیرمین کمیٹی سینیٹرذیشان خانزادہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا
سینیٹر فدا محمد کے سوال پر سیکرٹری تجارت نے قائمہ کمیٹی تجارت کو بتایا کہ گرے لسٹ میں ہونے کے باعث پاکستان کی برآمدات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے-ایران کے ساتھ بنکنگ چینلز نہ ہونے کے باعث برآمدات میں مسائل ہیں- ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈکا معاملہ حل کر لیا گیاہے-ایران کے ساتھ اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کے حوالے سےمعائدہ ہو گیا ہے-انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ تک ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ شروع ہو جائے گی-
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس سینیٹرذیشان خانزادہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں ہوا-مشیر تجارت عبدالرازق داؤد نے کمیٹی کو جی پی پلس اور یورپی یونین تجارت پر بریفنگ دی- انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے-پورپ کیلئے پاکستان کی برآمداد 9 بلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں جو پاکستان کیلئے ایک اچھی بات ہے-
مشیرتجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کی شرائط پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے-27 کنونشن میں سے اکثر پر پاکستان عمل کر چکا ہے-یورپ کی ڈیمانڈز میں چائلڈ لیبر ،جبری مشقت جسیے مسائل پر قابو پاناپاکستان کے مفاد میں ہے-یورپی یونین کو پھانسی دینے اور کچھ اور قوانین پر اعتراض ہے-یورپی یونین کہتا ہے آپ اپنی برآمدات یورپی یونین کو بڑھائیں لیکن یورپی یونین کو برآمدات میں وہ اضافہ نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا-ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ پاکستان برآمدکنندگان کی کمزوری ہے کہ برآمدات کو نہیں بڑھا سکے-
چئیرمین کمیٹی کے سوال پرعبدالرزاق داود نے بتایا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی 66 فی صد ٹیرف لائن زیرو ڈیوٹیز پر ہیں-گزشتہ سات سال میں یورپی یونین کے ساتھ مجموعی تجارت میں 27 فی صد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سات سال کے دوران پاکستان کی یورپی یونین کی برآمدات میں 47 فی صد اضافہ ہوا انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت پاکستان کے مفاد میں ہے-
جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے مزید تفصیلی گفتگو اورپاکستان کاٹن اسٹینڈرڈ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بریفنگ کو اگلی میٹنگ تک موخرکردیا گیا-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ان اہم معاملات پر بات کرنے کیلئے تمام سینیٹر ممبران کی موجودگی ضروری ہے-مشیرتجارت نے جی آئی قانون کو پاس کروانے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کے کردار کوبھی سراہا-سینیٹر فدا محمد، سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے علاوہ مشیر تجارت عبدالرزاق داود، سیکرٹری تجارت، ایڈیشنل سیکرٹری اور پاکستان کاٹن اسٹینڈرڈ انسٹیٹیوٹ کے حکام نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کی-
حافظ سعد رضوی کی رہائی کے بعد استقبال کے مناظر،خصوصی ویڈیو
بریکنگ، تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو رہا کر دیا گیا ہے
حافظ سعد حسین رضوی رہا ہوچکے ہیں،حافظ سعد رضوی رہائی کے بعد مسجد رحمۃ للعالمین پہنچ چکے ہیں حافظ سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا ہے، حافظ سعد رضوی کے استقبال کی بھر پور تیاریاں کی گئی تھیں، تحریک لبیک کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی یتیم خانہ چوک پہنچ چکی ہے،حافظ سعد رضوی کے یتیم خانہ چوک پہنچنے پر کارکنان کی جانب سے بھر پور استقبال کیا گیا،پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،حافظ سعد رضوی جب گاڑی سے اترے تو کارکنان نے انکا زبردست خیر مقدم کیا، کارکنان کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے
قبل ازیں ،تحریکِ لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا گیا تھا اس ضمن میں ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے 487 افراد کے نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکالے گئے ہیں جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام بھی شامل ہے۔ اب تک 577 افراد کے نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکالے گئے
قبل ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے سعد رضوی کی رہائی کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے دائراپیل واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا محکمہ داخلہ پنجاب نے سعد رضوی پر درج 98 مقدمات کی فہرست بھی وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوا ئی تھی اور وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے مقدمات ختم کرنے سے متعلق وزارت قانون سے مشاورت بھی کی تھی
@MumtaazAwan
تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
اب حکومت نے تحریک لبیک پر سے پابندی بھی ختم کر دی ہے، آج حافظ سعد رضوی کو بھی رہا کر دیا گیا ہے، تحریک لبیک کا اسلام آبا د جانے والا مارچ وزیرآباد سے واپس آیا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ حافظ سعد رضوی عرس کی تقریب میں شریک ہوں گے، عرس سے قبل حکومت نے وعدے کے مطابق حافظ سعد رضوی کو رہا کر دیا ہے