Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، دہشت گردوں کے خلاف بڑے آپریشنزز کئے گئے

    ملک کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں، اسمگلرز اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب کئی علاقوں میں عوام نے افواجِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ریلیاں بھی نکالیں۔

    شمالی وزیرستان: اسپین وام میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 23 دہشت گرد ہلاک
    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے تحصیل اسپین وام کے علاقے ابا خیل اور بوبالی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بڑا آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔شدید فائرنگ کے تبادلے میں 23 دہشت گرد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ منارہ مسجد کے قریب 18 سے 20 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔
    فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔ حکام نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں قیامِ امن کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

    پاک افغان سرحد: افغان اسمگلرز کی دراندازی ناکام، سات ہلاک
    خیبر پختونخوا کے پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے افغان اسمگلرز کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔فائرنگ کے تبادلے میں سات افغان اسمگلرز موقع پر ہی مارے گئے جن کی شناخت اسمٰعیل، یونس، دلبر، عبدالبصیر، عبدالحادی، متی اللہ اور زلمی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسمگلرز غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت مزید بڑھا دیا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی دراندازی کو روکا جا سکے۔

    باجوڑ: دہشت گرد سے جھڑپ، ایک ہلاک

    باجوڑ کے ماموند علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔فورسز کے مطابق دہشت گردوں نے معمول کے گشت کے دوران فورسز پر فائرنگ کی تھی۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    چترال: افغان جارحیت کے خلاف عوامی احتجاج، پاکستان آرمی سے اظہارِ یکجہتی
    چترال میں افغان سرحدی خلاف ورزیوں کے خلاف بڑی عوامی ریلی نکالی گئی۔شرکاء نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’ہندوستان کا دوست غدار‘‘ کے نعرے لگائے اور مسلح افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، مقامی عمائدین اور سیاسی نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ پاکستان کے عوام اپنی افواج کے ساتھ ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

    خیبر پختونخوا: بھتہ خوری کے 893 مقدمات، 871 گرفتار، 610 افغانستان فرار
    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں اب تک 893 مقدمات بھتہ خوری کے درج ہو چکے ہیں۔سی ٹی ڈی کے مطابق بھتہ خور افغان سم کارڈز کے ذریعے تاجروں، سیاستدانوں اور کاروباری شخصیات سے رقوم طلب کر رہے تھے۔اب تک 871 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ 610 مبینہ طور پر افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔حکام نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ان نیٹ ورکس کی جڑیں اکھاڑنے کا عزم کیا گیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: دہشت گرد حملہ ناکام، فورسز محفوظ
    ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع عاشق پوسٹ پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔فائرنگ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام نے فورسز کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔

    تیرہ میدان، خیبر: ٹی ٹی پی کے دو بڑے مطالبات
    تیرہ میدان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 100 رکنی جرگے کے سامنے دو مطالبات پیش کیے ہیں پاکستان میں شریعت پر مبنی نظام کا نفاذ،سابق فاٹا طرز کے مقامی ڈھانچوں کی بحالی۔جرگہ اب یہ مطالبات حکومتِ پاکستان تک پہنچائے گا، جبکہ مذاکراتی سیزفائر آج رات ختم ہو رہا ہے۔

    سنٹرل کرم: ممکنہ فوجی آپریشن کے خدشے پر نقل مکانی
    مرکزی کرم میں ممکنہ فوجی آپریشن کی اطلاعات کے بعد علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔مقامی عمائدین نے حکومت سے متاثرہ خاندانوں کے لیے ریلیف پلان کا مطالبہ کیا ہے۔اس وقت ’’الخدمت فاؤنڈیشن‘‘ متاثرین کو خوراک اور امداد فراہم کر رہی ہے۔

    چاغی: افواج پاکستان کے حق میں عوامی ریلی
    بلوچستان کے ضلع چاغی میں عوام نے افواج پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بڑی ریلی نکالی۔شرکاء نے افغان جارحیت کی مذمت کی اور وطن کی سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ریلی میں قبائلی عمائدین، سیاسی رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    خاران: بی ایل اے کا راستہ روکنے کا دعویٰ
    بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جھنڈے لہرانے والے مسلح افراد نے خاران–نوشکی اور خاران–بسیما ہائی ویز پر دو مقامات پر ناکے لگا کر گاڑیوں کی چیکنگ کی۔سیکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    خضدار کے زہری شہر اور اردگرد علاقوں میں فوجی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔ذرائع کے مطابق کارروائی کا مقصد علاقے میں سرگرم تنظیموں کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔تاہم جانی نقصان کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔کیچ کے علاقے گوگدان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ہونے والوں میں یحییٰ ولد وحید احمد، شیر جان ولد محمد انور، اور بلال عزیز ولد حاجی عبدالعزیز شامل ہیں۔کارروائی کے دوران ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے اہم شواہد برآمد ہوئے۔بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) نے ڈیرہ اللہ یار میں پولیس چوکی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔دھماکہ کپاس فیکٹری کے نزدیک مرکزی شاہراہ پر ہوا۔ گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔تاہم حکام کی جانب سے سرکاری تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔

  • شہباز شریف کی پھر امریکی صدر کو نوبیل انعام دینے کی تجویز

    شہباز شریف کی پھر امریکی صدر کو نوبیل انعام دینے کی تجویز

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف امن کے حقیقی سفیر ہیں اور انہیں نوبیل انعام دینے کے لیے ایک بار پھر درخواست کرتے ہیں۔

    شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کرنے میں کامیابی ملی، صدر ٹرمپ کی بدولت جنوبی ایشیا میں امن ممکن ہوا اور لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا تھا کیونکہ وہ دنیا میں امن کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی لمحہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، اور مصر کا کردار اس میں کلیدی رہا۔

    ٹرمپ کا وزیراعظم کا شکریہ ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف
    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے شراکت دار مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ غزہ کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے تقریب کے دوران خود وزیراعظم شہباز شریف کو خطاب کرنے کی دعوت دی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور اپنے پسندیدہ فیلڈ مارشل کو نیک تمنائیں بھیجتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا، جس کے بعد حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا اور اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں قیدی بھی آزاد کر دیے گئے۔

    اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل کا اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر خیرمقدم

    کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں،پاکستان کا طالبان بیانات پر سخت ردعمل

    میکسیکو میں طوفانی بارشوں سے تباہی، 64 ہلاک اور 65 لاپتا

    غزہ امن کانفرنس: اسحٰق ڈار کی امریکی و ترک وزرائے خارجہ سے ملاقات

  • کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں،پاکستان کا طالبان بیانات پر سخت ردعمل

    کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں،پاکستان کا طالبان بیانات پر سخت ردعمل

    دفتر خارجہ نے طالبان حکومت کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت کے ترجمان کے پاکستان کے داخلی امور سے متعلق بیانات کا نوٹس لیا گیا ہے۔ ترجمان نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے متعلق امور پر توجہ دیں اور اپنے دائرۂ اختیار سے باہر معاملات پر تبصروں سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کا اصول بین الاقوامی سفارتی روایات کے عین مطابق ہے، پاکستان اپنے معاملات خود بہتر طور پر سمجھتا ہے۔

    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ ترجمان کے مطابق طالبان حکومت کو بے بنیاد پروپیگنڈے میں ملوث ہونے کے بجائے افغانستان میں جامع اور نمائندہ حکومت کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔

    پرائیویٹ حج اسکیم کی بکنگ 4 روز بعد بند،آخری تارٰیخ کا اعلان

    غزہ امن کانفرنس: اسحٰق ڈار کی امریکی و ترک وزرائے خارجہ سے ملاقات

    چین سے آنے والےپانی پر بھارت کا 77 ارب ڈالر کا پن بجلی منصوبہ

    علی امین کا استعفیٰ منظور ہونے تک اسمبلی اجلاس نہیں بلانا چاہیے تھا: رانا ثناء اللّٰہ

  • غزہ میں تاریخی امن معاہدہ: مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا کے دستخط، امن کی نئی امید

    غزہ میں تاریخی امن معاہدہ: مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا کے دستخط، امن کی نئی امید

    غزہ میں جنگ بندی سے متعلق تاریخی امن معاہدے پر مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا نے باقاعدہ طور پر دستخط کر دیے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    شرم الشیخ میں منعقدہ امن کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس دن کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں اس نوعیت کی کامیابی کم دیکھنے میں آئی ہے اور اس ضمن میں مصر کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کے خواہاں ہیں اور وہ غزہ کی تعمیرِ نو میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کیا تھا، جس کے بعد حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جبکہ جواباً اسرائیلی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو بھی آزاد کر دیا گیا۔غزہ امن معاہدے کے سلسلے میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، اور متعدد مسلم ممالک کے رہنما شریک ہیں۔

    افغان جارحیت کے دوران شہید ہونے والے 12 جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا

    کراچی میں امن و امان برقرار ہے، افواہوں پر یقین نہ کریں: ضیا لنجار

    تحریک لبیک پاکستان نے ملک گیر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    شرم الشیخ امن کانفرنس: وزیراعظم کی ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

  • شرم الشیخ امن کانفرنس: وزیراعظم کی ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    شرم الشیخ امن کانفرنس: وزیراعظم کی ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

    مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ بین الاقوامی امن کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں غزہ میں جنگ بندی کے بعد کی صورتحال، علاقائی استحکام اور انسانی امداد جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم سے طویل گفتگو کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے دیگر رہنماؤں سے 20 سے 25 سیکنڈ تک بات کی جبکہ شہباز شریف سے 51 سیکنڈز تک گفتگو جاری رہی۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف، آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

    اس کے علاوہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرش مرز، اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات، فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے بھی خصوصی ملاقات کی، جس میں بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ بھی شریک تھے۔

    فلسطینی صدر کا عوام کی سیاسی و سفارتی حمایت پر پاکستان کا شکریہ

    صدر محمود عباس نے فلسطینی عوام کی سیاسی و سفارتی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور فلسطین کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اہل غزہ کی ہمت و بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف شرم الشیخ پہنچنے پر مصر کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحی نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

    پاکستان بیت المال میں بیوروکریسی کی نااہلی، سویٹ ہوم اور شیلٹر ہوم ملازمین تنخواہوں میں اضافے سے محروم

  • پاک افغان کشیدگی،پاکستان کا بھر پور جواب،217 افغان ہلاکتوں کی تصدیق

    پاک افغان کشیدگی،پاکستان کا بھر پور جواب،217 افغان ہلاکتوں کی تصدیق

    پاکستان نے افغانستان کی جانب سے سعودی عرب اور قطر کے توسط سے جنگ بندی کی درخواست مسترد کر دی تھی تاہم جب افغان حکام نے لاشیں اٹھانے کے لئے جنگ بندی کی پانچویں بار درخواست کی تو اسے جزوی طور پر قبول کیا گیا

    اپنا نقصان اور ٹی ٹی پی کے تباہ ہوتے کیمپس دیکھتے ہوئے افغان طالبان نے تیسری درخواست قطر اور چوتھی سعودی عرب کے ذریعے کی جنہیں پاکستان نے سفارتی طریقے سے معذرت کرتے ہوئے مسترد کردیا اور اہداف کو نشانہ بنائے رکھا.پانچویں درخواست افغان طالبان نے انسانی ہمدردی کے تحت کی اور اپنی لاشوں کو اٹھانے کے لئے فائر بندی کی درخواست کی جسے پاکستان نے جزوی طور پر قبول کیا اور افغان طالبان کو متنبہ کیا کہ آئندہ پاکستان میں افغانستان کیطرف سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی یا خوارج کی طرف سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوکر کسی بھی دہشت گردی کی کاروائی کی صورت میں افغانستان کو بھرپور جواب دیا جائے گا.

    افغان طالبان ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں اور پاکستانی ٹارگٹ حملوں میں مارے گئے اپنے جنگجوؤں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 217 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

  • وزیرِاعظم جنگ بندی کیلئے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے  شرم الشیخ پہنچ گئے

    وزیرِاعظم جنگ بندی کیلئے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے شرم الشیخ پہنچ گئے

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ پہنچ گئے

    شرم الشیخ ائیر پورٹ پہنچنے پر مصری یوتھ و اسپورٹس کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحیی، پاکستان کے مصر میں سفیر عامر شوکت اور پاکستان و مصری اعلی سفارتی عملے نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا. وزیرِ اعظم شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ میں جنگ بندی کیلئے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ وزیرِ اعظم کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں. وزیرِ اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے مابین غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے.

    شرم الشیخ میں ہونے والا امن سربراہی اجلاس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور عرب اسلامی رہنماؤں کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ میں جنگ بندی کیلئے خصوصی کوششوں کا نتیجہ ہے.
    مشترکہ اعلامیے کے ذریعے وزیرِ اعظم سمیت ان ممالک کے سربراہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی، پائیدار امن اور خطے کی ترقی کے حوالے سے منصوبے کا خیرمقدم کیا تھا.

    وزیرِ اعظم کی شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت پاکستان کے فلسطینیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانے اور انہیں ہر قسم کی سیاسی و سفارتی مدد کی فراہمی کی عکاسی کرتا ہے. پاکستان یہ توقع کرتا ہے کہ اس امن سربراہی اجلاس اور اس میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد غزہ میں جاری مظالم کا سلسلہ رکے گا، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء ہوگا، فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہوگی، انکی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، قیدیوں کی رہائی ہوگی اور امن کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو سکے گی.

    پاکستان پر امید ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مشرق وسطی میں دیر پا امن کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہوئی ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کے مطابق ہونگیں اور القدس الشریف اس کا دارلخلافہ ہوگا.

  • سرحدی کشیدگی،29 افغان چوکیاں پاکستانی قبضے میں،افغانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

    سرحدی کشیدگی،29 افغان چوکیاں پاکستانی قبضے میں،افغانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری

    پنجاب حکومت نے غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے منصوبے ے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 123 مزید افغان باشندوں کو مختلف اضلاع سے گرفتار کر کے ہولڈنگ سینٹرز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے انہیں افغانستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں یکم اپریل 2025 سے اب تک 42,913 افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں تھیں یا جنہوں نے اپنے ویزوں کی مدت سے تجاوز کر لیا تھا۔پنجاب بھر میں اس وقت 46 ہولڈنگ سینٹرز کام کر رہے ہیں، جن میں لاہور میں 5 مراکز شامل ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں افغان باشندوں کو وطن واپسی سے قبل رکھا جاتا ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ پولیس ہائی الرٹ پر ہے اور کارروائیاں انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے مطابق انجام دی جا رہی ہیں۔ اب تک 21,805 غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کے مطابق میانوالی کے کوٹ چندنہ کیمپ کے خاتمے کے بعد پنجاب میں کوئی افغان پناہ گزین کیمپ موجود نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد کو ضلعی ہولڈنگ سینٹرز میں بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور پھر انہیں طورخم کے راستے واپس بھیجا جاتا ہے۔

    وفاقی حکومت نے بھی ملک بھر میں باقی ماندہ افغان پناہ گزین کیمپوں کو ختم کر دیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق، پاکستان میں 35 لاکھ سے زائد افغان شہری مقیم ہیں جن میں سے تقریباً نصف کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے تقاضے پورے کرتا ہے، مگر غیر دستاویزی نقل مکانی ملکی سلامتی اور وسائل پر بوجھ بن رہی ہے۔

    پاک افغان سرحد پر صورتحال کشیدہ ، 29 افغان چوکیاں پاکستان کے کنٹرول میں
    سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار افغان فورسز کی اشتعال انگیزی کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے 29 افغان بارڈر پوسٹس پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آپریشن کے دوران ان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرایا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغان جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور سرحدی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور ہلاکتوں کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    ہنگو: دہشت گرد کمانڈر قاسم کا قریبی ساتھی ہلاک
    سیکیورٹی فورسز نے ضلع ہنگو میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گرد کمانڈر قاسم کے قریبی ساتھی کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق مارا گیا دہشت گرد 19 جولائی کو ہنگو کے ڈی پی او دفتر اور ایف سی چیک پوسٹ پر حملوں میں ملوث تھا۔فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: خودکش حملہ آور افغان شہری نکلا
    تحقیقات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں ملوث خودکش بمبار افغان شہری تھا۔
    ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت اجمل عرف خالد ولد حاجی نور جان کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ وردک کے سیدآباد ضلع کے جوئی زرین شہر کا رہائشی تھا اور ماضی میں طالبان کی سیکیورٹی فورسز کا رکن رہ چکا تھا۔یہ انکشاف پاکستان میں جاری دہشت گردی کے افغان رابطوں کو مزید واضح کرتا ہے۔

    بنوں: ایف سی اہلکار شہید، ایک زخمی، دہشت گرد فرار
    بنوں کے علاقے آزاد منڈی کے قریب سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہوا۔جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد زخمی ہوا، تاہم وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    پاک افغان سرحدی جھڑپوں میں 4 افغان طالبان ہلاک
    سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کے دوران چار افغان طالبان جنگجو — طور گل، بشیر احمد، حکیم اللہ اور عبداللہ بدری — مارے گئے۔حکام نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن جواب دے گا اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    چترال اور جنوبی وزیرستان: دہشت گرد ٹھکانے تباہ، قومی پرچم لہرایا گیا
    چترال میں سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے۔
    جبکہ جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ میں فورسز نے افغان پوسٹ پر قبضہ کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرا دیا۔
    عسکری حکام کے مطابق فوج مکمل طور پر تیار ہے اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔

    طورخم بارڈر بند، افغان فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد
    افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر اندھا دھند فائرنگ کے بعد پاکستان نے طورخم سرحد بند کر دی۔
    سرکاری ترجمان کے مطابق افغان فوج نے ہفتہ کی رات اچانک حملہ کیا جس سے تجارت اور آمد و رفت معطل ہو گئی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی صبر کا مظاہرہ کیا، مگر سرحد تبھی کھولی جائے گی جب مکمل سیکیورٹی بحال ہو گی۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل فروری اور مارچ میں بھی سرحد بند ہونے سے روزانہ ڈیڑھ ملین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

    سرحدی اضلاع کے قبائلی عمائدین نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے شانہ بشانہ ہتھیار اٹھائیں گے۔یہ اعلان انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، ژوب، پشین اور بارامچہ میں حالیہ جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ مہمان نوازی ہماری روایت ہے، مگر جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔سیکیورٹی حکام نے اس عزم کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ قبائلی عوام کا تعاون ایک “فورس ملٹی پلائر” ثابت ہو گا، جس سے نگرانی اور آپریشنز میں بہتری آئے گی۔

    ٹانک: دہشت گرد عثمان خانجری ہلاک
    ضلع ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دہشت گرد عثمان خانجری (بابر ملکھیل خوارج گروپ کا رکن) مارا گیا۔اس کے قبضے سے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ علاقے میں مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

    پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے سرحدی علاقے سے کارروائی کرتے ہوئے اسپن بولدک (قندھار) میں موجود “عصمت اللہ قرار گروپ” کے کیمپ کو تباہ کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ سرحدی اشتعال انگیزیوں اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹرین سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق بولان میل (کوئٹہ تا کراچی) پچھلے 20 روز سے بند ہے جبکہ جعفر ایکسپریس (کوئٹہ تا پشاور) کو بھی صوبے میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ خدمات عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں اور سیکیورٹی بہتر ہونے پر بحال کر دی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق بلوچ مسلح گروہوں نے ماضی میں متعدد بار ٹرینوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا ہے۔

  • تحریک لبیک  کے مارچ پر رات گئے کاروائی،سعد رضوی  کنٹینر سے گر کرزخمی

    تحریک لبیک کے مارچ پر رات گئے کاروائی،سعد رضوی کنٹینر سے گر کرزخمی

    مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کے خلاف پولیس نے رات گئے کاروائی کی ہے کارروائی کے دوران درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی بھی کینیٹر سے چھلانگ لگانے کے دوران زخمی ہو گئے ہیں،

    ذرائع کے مطابق، رات تقریباً 3 بجے پولیس اور رینجرز نے مشترکہ آپریشن شروع کیا، جو صبح ساڑھے 7 بجے تک جاری رہا۔ آپریشن کا مقصد مریدکے کے قریب احتجاجی قافلے کو منتشر کرنا تھا، جو لاہور سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھا،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے مزاحمت کی گئی، جس دوران پتھراؤ، شیلنگ، اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔مظاہرین کا مرکزی کنٹینر، جس پر ٹی ایل پی کی قیادت موجود تھی، آتشزدگی کا شکار ہو گیا، جب کہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان بیک ڈور مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ مذاکرات میں راستے کھولنے اور احتجاج کے خاتمے پر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

    پنجاب اور اسلام آباد میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ تمام اضلاع میں پولیس اور حساس اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ ردِعمل یا نئے احتجاج کو روکا جا سکے۔لاہور میں فیروز پور روڈ پر مظاہرین کی جانب سے احتجاج جاری ہے، جس کے باعث فیروزپور روڈ سے جنرل اسپتال تک دونوں اطراف ٹریفک معطل ہے۔تحریک لبیک پاکستان نے ملک بھر میں نئے احتجاجات اور سڑکوں کی بندش کی کال دے دی ہے۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بند کی گئی تمام رابطہ سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے جس کے بعد مری روڈ اور دیگر راستوں پر ٹریفک رواں دواں ہیں،راولپنڈی مری روڈ پر دکانیں اور تجارتی مراکز بھی کھل گئے تاہم مری روڈ سے فیض آباد جانے والا راستہ اور راولپنڈی ، اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی بند ہے،ادھر آئی جی پی روڈ، ڈبل روڈ، ایکسپریس وے ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی ہے جب کہ راولپنڈی سے ڈبل روڈ نائنتھ ایونیو راستہ کھول دیا گیا ہے،راولپنڈی اور اسلام آباد میں موبائل فون اور ڈیٹا سروسز بھی بحال کردی گئی ہے۔

    میں ٹھیک ہوں،ساتھی پرسکون رہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں،سعد رضوی
    دوسری جانب اطلاعات کے مطابق سعد رضوی بالکل خیریت سے ہیں۔ انہیں نہ گولیاں لگی ہیں اور نہ ہی ان کی حالت تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی تمام ایسی خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ افواہوں پر یقین نہ کریں۔سعد رضوی کا آڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ سب ساتھیوں‌کو بتائیں میں ٹھیک ہوں، پرسکون رہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کریں،جب تک میری ہدایات نہ آئیں کچھ نہ کریں، میں آگے کا لائحہ عمل دوں گا کہ آگے کیا کرنا ہے.

    https://x.com/_007HK/status/1977642047189434411

  • افغان طالبان اور خوارج کی بلااشتعال جارحیت،پاکستان کا  سخت ردعمل

    افغان طالبان اور خوارج کی بلااشتعال جارحیت،پاکستان کا سخت ردعمل

    پاکستان نے افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد پر ہونے والی جارحیت پر گہری تشویش ہے۔ ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پرامن ہمسائیگی اور باہمی تعاون کے جذبے کے منافی ہیں۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے ان حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز سمیت منسلک خوارج کو افرادی، سامان اور ڈھانچے کے لحاظ سے بھاری نقصان پہنچایا۔

    ترجمان نے بتایا کہ طالبان اور خوارج کے استعمال میں آنے والے یہ ڈھانچے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے مراکز کے طور پر استعمال کیے جا رہے تھے۔ پاکستان کی ہدفی کارروائیوں میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ شہریوں یا املاک کو نقصان نہ پہنچے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مکالمے، سفارتکاری اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، تاہم حکومتِ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے علاقے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ دفتر خارجہ نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

    شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر غور

    سرحد کو خودمختار ریاست کی طرح ٹریٹ، امیگریشن لازمی ہونی چاہیے،خواجہ آصف

    بابر اعظم کےٹیسٹ چیمپئن شپ میں 3 ہزار رنز ،پہلے ایشیائی بلے باز بن گئے

    ارشد ندیم کے کوچ سلمان بٹ پر تاحیات پابندی لگ گئی