Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک افغان فورسز میں جھڑپیں، دو افغان پوسٹیں تباہ ،پانچ اہلکار ہلاک

    پاک افغان فورسز میں جھڑپیں، دو افغان پوسٹیں تباہ ،پانچ اہلکار ہلاک

    پاک افغان سرحدی علاقے کرم بارڈر پر دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں دو افغان چیک پوسٹیں تباہ اور پانچ افغان اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ پاک فوج کے دو جوان زخمی ہوئے۔

    تفصیلات کے مطابق جھڑپیں پاک افغان سرحد پر ہوئیں، جہاں کنڑ، پکتیا، خوست اور ہلمند کے سرحدی علاقوں میں بھی لڑائی جاری ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں جانب سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مارٹر گولوں اور فائرنگ کی آوازیں دور دراز علاقوں تک سنائی دے رہی ہیں۔ جھڑپوں کے باعث سرحدی دیہاتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    کرم بارڈر پر شدید جھڑپیں، افغان فورسز پسپا، مقامی قبائل فوج کے شانہ بشانہ

    کرم ایجنسی میں ٹل کرم بارڈر کے قریب پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا، جس کے نتیجے میں افغانستان کی تین چیک پوسٹیں تباہ ہو گئیں۔ مقامی صحافی سید عدنان کے مطابق علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ مقامی قبائل نے لشکروں کی شکل میں افغان بارڈر کا رخ کرلیا ہے، جبکہ مساجد میں اعلانات کے ذریعے لوگوں سے فوج کے ساتھ تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق مقامی قبائل اسلحے سے لیس ہو کر پاک فوج کے ساتھ شریک ہیں، اور ہیوی مشین گنوں سے افغان فورسز کو مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ویڈیوز میں افغان پوسٹوں میں آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ افغان اہلکار لاشیں چھوڑ کر پسپا ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی ایماء پر جارحیت کرنے والے افغان عسکریت پسندوں کو پاکستانی فورسز کی جانب سے شدید جوابی کارروائی کا سامنا ہے۔

    آل پاکستان وکلا کنونشن، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور

    پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات ، فرینڈز پینل کی شاندار کامیابی

    سوڈان: شہر الفشیر میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملے، 60 افراد ہلاک

  • ڈی آئی خان،فتنہ الخوارج کے حملے میں 6 پولیس اہلکار اور  امام مسجد شہید ،نماز جنازہ ادا

    ڈی آئی خان،فتنہ الخوارج کے حملے میں 6 پولیس اہلکار اور امام مسجد شہید ،نماز جنازہ ادا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ اسکول پر بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے حملے میں 6 پولیس اہلکار اور امام مسجد شہید ہو گیا جبکہ آپریشن کے دوران 5 دہشتگردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ اسکول میں 10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب حملہ کیا گیا، دہشتگردوں نے اسکول کی بیرونی سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی،ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی سے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے، دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی اسکول کے مرکزی دروازے سے ٹکرائی۔پولیس اہلکاروں نے تین بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ہلاک کر دیا، دو دیگر دہشتگردوں کو عمارت میں گھیر کر سکیورٹی فورسز نے ٹارگیٹڈ کارروائی کے دوران انجام تک پہنچایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 6 بہادر پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، شہید پولیس اہلکاروں میں تربیت پانے والے جوان بھی شامل تھے، دہشتگردوں کے حملے میں 12 پولیس اہلکار اور ایک بے گناہ شہری زخمی بھی ہوا،حملے کے دوران دہشتگردوں نے اسکول کمپلیکس کی مسجد پر بھی حملہ کیا، دہشت گردوں نے عبادت گاہ کی بے حرمتی کی اور امام مسجد کو شہید کر دیا علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بزدلانہ اور سفاکانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے تربیتی مرکز پر فتنتہ الخوارج کے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے،وزیراعظم نےخوارجی دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے سات پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،وزیراعظم نے شہداء کی بلندیء درجات کی دعاء اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے،وزیراعظم نے حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعاء اور انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی

    وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ فرنٹ لائین پر رہی ہے ،پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے،دہشت گردوں کی ایسی بزدلانہ کاروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں

    دوسری جانب پولیس ٹریننگ اسکول پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز ڈی آئی خان میں ادا کی گئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، جی او سی، کمشنر، ڈی آئی جی سمیت سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے شہید اہلکاروں اور پچاس لاکھ روپے زخمی اہلکاروں کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا، جب کہ آپریشن میں بہادری دکھانے والے جوانوں اور افسران کے لیے دس دس لاکھ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، فورس نے ہمیشہ جرات و بہادری کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے عزم کو سلام پیش کرتا ہوں۔علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے، دہشتگردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے اور جدید وسائل فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، جبکہ شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی پیکجز متعارف کرائے گئے۔

  • کابل میں جہنم واصل نورولی محسود کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    کابل میں جہنم واصل نورولی محسود کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    بدنام زمانہ عالمی دہشتگرد اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سرغنہ مفتی نور ولی محسود ہلاک ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق دہشتگرد نور ولی کابل میں ایک حملے میں جہنم واصل ہوا ہے، ٹی ٹی پی نور ولی محسود کی ہلاکت کی تردید کر ررہی تھی تاہم اب ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں نور ولی محسود کی لاش دکھائی گئی ہے،کابل میں ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں بارے افغان حکومت خاموش ہے.

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مفتی نور ولی ایک طویل عرصے سے پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور اس کی سرپرستی میں ملوث تھا۔ وہ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں مطلوب تھا۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نور ولی کی ہلاکت پاکستان اور خطے کے امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ وہ عرصہ دراز سے مختلف دہشتگرد گروہوں کے درمیان رابطوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

    کابل میں حملے میں ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود ہلاک، دو اہم کمانڈر بھی مارے گئے

    خارجی نور ولی محسود کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب

    خارجی نور ولی محسود کے خلاف کاروائی شروع،مقدمہ درج

    خارجی نور ولی محسود اور احمد حسین عرف غٹ حاجی کے گرد قانونی گھیرا تنگ

    نور ولی محسود کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی مسلسل ہلاکتیں،نورولی کا نیاحکم نامہ آ گیا

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،مختلف آپریشنز میں 40 دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر بھی فائرنگ

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،مختلف آپریشنز میں 40 دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر بھی فائرنگ

    خیبر پختونخوا،بلوچستان کے مختلف مقامات پر دہشتگردی، تخریب کاری کے واقعات پیش آئے ہیں، سیکورٹی فورسز نے بھر پور جوابی کاروائی کی ہے.

    گلگت بلتستان کے علاقے بوش داس میں پاکستانی طالبان کے ایک گروہ نے جی بی اسکاؤٹس پر فائرنگ کے حملے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعہ کی تصدیق نہیں کی۔ حکام کے مطابق علاقے میں فائرنگ کی آوازیں ضرور سنائی دیں، لیکن کسی حملے یا نقصان کے شواہد نہیں ملے۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث اسے مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

    بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے ایک خوارج کمانڈر نے انکشاف کیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو براہِ راست فنڈنگ اور مدد فراہم کر رہی ہیں۔ کمانڈر کے مطابق بیرونی قوتیں اس گروہ کو مالی امداد، تربیت، اور لاجسٹک سہولتیں مہیا کرتی ہیں تاکہ پاکستان میں بدامنی پھیلائی جائے۔
    کمانڈر نے بتایا کہ یہ نیٹ ورکس نسلی اور لسانی بنیادوں پر عوام کو گمراہ کرتے ہیں، نوجوانوں کو بھرتی کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے اس بیان کو "خوارج اور دشمن انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے گٹھ جوڑ کا ناقابلِ تردید ثبوت” قرار دیا۔

    کولواہ کے علاقے میں شدت پسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا۔ تاہم، تاحال جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے سرچ اور کورڈن آپریشن شروع کر دیا ہے۔ بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن ریاستی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

    بلوچستان کے علاقے زمرن میں ایک سپلائی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ اہم سپلائی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    بولیدہ میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک شخص کو نشانہ بنایا جس پر مخبری کا الزام تھا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ بی ایل اے نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    خیبر کے علاقے تیراہ ویلی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد، صابر خان، کو ہلاک کر دیا۔ذرائع کے مطابق صابر خان مختلف دہشتگرد حملوں میں ملوث تھا اور برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ حکام نے اسے سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

    پاک۔افغان سرحد پر غلام خان کے مقام پر پاکستانی سکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔اطلاعات کے مطابق دشمن جانب سے بھاری فائرنگ کا مؤثر جواب دیا گیا۔ واقعہ نے ایک بار پھر سرحدی سلامتی کے چیلنجز کو اجاگر کر دیا ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشتگردوں نے حملہ کیا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔فائرنگ کے تبادلے میں 7 پولیس اہلکار شہید جبکہ 13 زخمی ہوئے۔ 5 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔ سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ریاستی استحکام کو چیلنج کرنے کی کوشش تھی۔

    کرم کے علاقے گوازہ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا جس میں دو دہشتگرد مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کے خاتمے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔

    باجوڑ کے ماموند علاقے میں فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل تھا۔ آپریشن کے دوران ایک سپاہی شہید ہوا۔ علاقے میں جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔

    ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان اور ڈی پی او سلیم عباس کلاچی کی قیادت میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے خلاف کامیاب کارروائی کی۔ڈومیل، کم چشمہ، برگھنتو ڈیم اور مرکی بیرا میں خفیہ ٹھکانے تباہ کیے گئے۔چار آئی ای ڈیز بھی برآمد ہوئیں جنہیں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے فورسز کی بہادری کو سراہا اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اورکزئی میں فورسز نے حالیہ دنوں کے سب سے بڑے آپریشن میں 30 خوارج کو ہلاک کر دیا۔یہ وہی گروہ تھا جس نے لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق، میجر طیّب راحت اور 9 سپاہیوں کو شہید کیا تھا۔

    بنوں میں مرہت بیتنی قومی تحریک کے تین مشران، ولی اللہ، فرمان اللہ اور عطا اللہ، اغوا کے دو روز بعد مردہ حالت میں ملے۔انہیں باران ڈیم سے واپسی پر دہشتگردوں نے اغوا کیا تھا۔مقامی آبادی نے واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    نوشہرہ کے علاقے اکبرپورہ میں کیمپ کرونا کے قریب روس ساختہ دستی بم برآمد ہوا۔ بم ڈسپوزل یونٹ نے بم کو ناکارہ بنا دیا۔ پولیس نے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی جانچ بھی جاری ہے۔

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات اور ریاستی آپریشنز نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ دشمن قوتیں ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں، مگر سکیورٹی ادارے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ہر محاذ پر خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف صفِ اول میں ڈٹے ہوئے ہیں۔

  • طیفی بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    طیفی بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کا مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ مقابلہ رحیم یار خان کے علاقے میں ہوا، سی سی ڈی اہلکار ملزم طیفی بٹ کو کراچی سے لاہور منتقل کیا جا رہا تھا، ملزم طیفی بٹ کو دبئی سے پاکستان لایا گیا تھا جس پر قتل کے متعدد الزامات تھے۔ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو دبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے طیفی بٹ سے پاکستان جانے سے متعلق سوال کیا، اس پر ملزم نے پاکستان جانے اور مقدمات کا سامنا کرنے کا کہا تھا۔

    طیفی بٹ کو ساتھی چھڑا کر لے گئے تھے،دوبارہ تلاش پر مقابلہ ہوا،ملزم زخمی حالت میں ملا،تاہم دم توڑ گیا، سی سی ڈی
    کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق قتل کے ایک اہم مقدمے میں مطلوب اشتہاری مجرم خواجہ تعریف بٹ عرف طیفی بٹ دورانِ پولیس حراست فائرنگ کے ایک شدید تبادلے میں ہلاک ہو گیا جبکہ سی سی ڈی کے دو افسران شدید زخمی ہو گئے۔طیفی بٹ، جس کے خلاف تھانہ چونگی لاہور میں ایف آئی آر نمبر 1163/24 قتل کے الزام میں درج ہے، 10 اکتوبر 2025 کو کراچی کے قائداعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، جہاں سی سی ڈی کی ایک ٹیم نے اسے تقریباً 1515 بجے اپنی حراست میں لیا اور زمینی راستے سے لاہور لے جانے کا فیصلہ کیا۔جب سی سی ڈی کی ٹیم 11 اکتوبر کی صبح کے وقت ضلع رحیم یار خان کے قریب سنجھرو کے مقام پر پہنچی، تو متعدد مسلح افراد نے سی سی ڈی کی گاڑی پر اچانک حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک سی سی ڈی افسر شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران حملہ آور طیفی بٹ کو پولیس کی حراست سے چھڑا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور سی سی ڈی کی دیگر ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کیا گیا۔ تقریباً صبح 5 بجے سی سی ڈی کی رحیم یار خان ٹیم نے دو مشتبہ گاڑیوں کو دیکھا اور انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو 20 سے 25 منٹ تک جاری رہا۔فائرنگ کے اختتام پر ایک شخص کو شدید زخمی حالت میں پایا گیا، جسے سی سی ڈی اہلکاروں نے اسپتال منتقل کیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ بعدازاں اس کی شناخت طیفی بٹ کے طور پر کی گئی۔ جھڑپ کے دوران ایک اور پولیس اہلکار بھی شدید زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔سی سی ڈی اور مقامی پولیس کی متعدد ٹیمیں واقعے میں ملوث عناصر کی تلاش میں سرگرم عمل ہیں۔ حملے، پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے اور ایک اشتہاری مجرم کی ہلاکت کی تفتیش جاری ہے۔ سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مزید تفصیلات دستیاب ہوں گی، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
    teefi

  • پاکستان کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، دیرپا امن کے قیام پر زور

    پاکستان کا غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم، دیرپا امن کے قیام پر زور

    پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا تاریخی موقع قرار دیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات کے عمل کو سراہتا ہے، اور قطر، مصر اور ترکیہ کے رہنماؤں کی انتھک کوششوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے فلسطینی عوام کی قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نقصان دوبارہ نہ ہو اور پاکستان مسجد الاقصیٰ میں اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے مصر اور سعودی وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں غزہ کی موجودہ صورتحال، امن منصوبے اور امداد کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستان نے اسرائیل کے صمود فلوٹیلا پر حملے کی مذمت کی اور سابق سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی و وطن واپسی کا خیرمقدم کیا۔

    شفقت علی خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ ملائیشیا دورے کے حوالے سے بتایا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، دفاع، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کی، اور پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر کا حلال گوشت ملائیشیا کو فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مسئلہ فلسطین پر مشترکہ حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

    پنجاب میں آٹزم کے شکار بچوں کے لیے مفت تھراپی اور تعلیم کا فیصلہ

    ارشد ندیم کے کوچ کا جواب جمع، فیڈریشن پر الزامات اور وضاحتیں پیش

    ملتان میں آن لائن جابز کے نام پر لوٹنے والا نیٹ ورک گرفتار

    بیلجیم کےوزیراعظم پر حملے کی منصوبہ بندی ناکام، 3 گرفتار

  • میں نہیں آؤں گا،جنید اکبر کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کا آنے سے انکار

    میں نہیں آؤں گا،جنید اکبر کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کا آنے سے انکار

    تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور کے خیبر پختونخوا سے وزارت اعلیٰ کے استعفے کے بعد تحریک انصاف میں اندرونی تقسیم بڑھ گئی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے بھی عمران خان کا حکم ماننے سے انکار کرنے کا عندیہ دے دیا تو وہیں تحریک انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے بلائے گئے پارٹی اجلاس میں شرکت کی بجائے پشاور سے ڈی آئی خان روانہ ہو گئے

    علی امین گنڈا پورکے استعفیٰ کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی ہلچل میں تیزی آئی ہے، اپوزیشن جماعتیں بھی متحرک ہوئی ہیں تو وہیں پی ٹی آئی کے اجلاس ہوئے مگر پی ٹی آئی تقسیم دکھائی دی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، اس ملاقات کو خیبر پختونخوا کے آئندہ وزارت اعلیٰ کے انتخابات کے لئے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے ، وہیں علی امین گنڈا پور نے عمران خان کے کہنے پر استعفیٰ تو دے دیاتاہم وہ بانی پی ٹی آئی سے ناراض ہیں، اس ناراضگی کا اظہار علی امین گنڈا پور کر بھی چکے ہیں، استعفیٰ دینے کے بعد علی امین گنڈا پور نے عمران خان کاحکم ماننے سے انکار کر نے کا عندیہ دیا، گنڈا پور کا کہنا تھا کہ "”استعفیٰ دے چکا ہوں، عمران خان بھی کہیں گے تو فیصلہ واپس نہیں لوں گا”

    وہیں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی میں اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر خیبر پختونخوا جنید اکبر، علی اصغر اور نامز د وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گروپ نے اجلاس بلایا تھا تاہم علی امین گنڈا پورنے اجلاس میں شرکت نہ کی اور ڈی آئی خان روانہ ہو گئے، باخبر ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور نے واضح کیا کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے،جنید اکبر نے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخواہ پی ٹی آئی میں کسی کی ہمت نہیں کہ عمران خان کے ساتھ غداری کریں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، علی امین گنڈا پور کے استعفے اور ان کے عمران خان سے اختلافات نے پی ٹی آئی کے اندر قیادت کے بحران کو نمایاں کر دیا ہے،قومی اسمبلی و سینیٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں سے ہٹ کر قائد حزب اختلاف نامزد کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ عمران خان کو پی ٹی آئی رہنماؤں پر اعتماد نہیں رہا

  • خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ترجمان پاک فوج

    خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ مل کر دہشتگردی کی جڑ کو اُکھاڑ پھینکیں گے،ایک سال میں 14535 آپریشن کیے، کامیاب آپریشنز دہشتگردوں کے ناپاک حملے کا بدلہ ہے،ہم سب کو ملکر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ میں پشاور اسی لیے آیا ہوں کہ خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف ہماری کارروائیوں اور چیلنجز کو واضح کروں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستانی افواج دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،2024 کے دوران 577 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، کے پی میں 2024 کے دوران 14 ہزار 500 سے زائد آپریشنز کیے گئے،خیبرپختونخوا میں ساڑھے 14 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے،

    دہشتگردی بڑھنے کی وجہ اس پہ سیاست اور انکے لیے کے پی کے میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے ۔ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں گمراہ کن بیانیے بنانے کی کوشش کی گئی، جس کا خمیازہ خیبرپختونخواہ کے عوام بھگت رہے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں جگہ دی گئی،نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی، دہشت گردی پر سیاست، بھارت کا افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے بیس کے طور پر استعمال کرنا، افغانستان کا دہشت گردوں کو اسلحہ اور پناہ گاہیں دینا اور اور دہشت گردوں کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی ملنا دہشت گردی کے پانچ بنیادی عوامل ہیں،گورننس کو برباد کرنے کی کوشش کی گئی ،2021 میں نیشنل ایکشن پلان سے چیزوں کو نکالا گیا۔نیشنل ایکشن پر مکمل عمل نہیں ہوا جس سے دہشتگردی بڑھی۔14 نکات میں شامل تھا کہ آپ دہشتگردوں اور خوارج کو ماریں گے، گزشتہ سالوں میں جو خوارج مارے گئے ان میں 161 افغانی 30 قریب خودکش بمبار بھی افغان نیشنیلیٹی والے تھے۔رواں سال مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد پچھلے دس سالوں سے زیادہ ہے۔ دہشتگردی بڑھنے کی وجہ اس پہ سیاست اور انکے لیے کے پی کے میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا ہے ۔ دہشتگردوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے ، خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ 2024 میں 769 دہشتگرد جہنم واصل کئے 2025 میں اب تک 10,115 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوئے ہیں رواں سال 516 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا،ہزاروں معصوم شہریوں قانون نافذ کرنے والے اداروں انٹیلیجنس ایجنسیز، افواج پاکستان، پولیس، اور ایف سی کے جوانوں نے اپنے خون پاکستان کی دھرتی کو سینچا ہے،خیبر پختونخوا میں مدارس کو رجسٹر تک نہیں کر سکے.

    اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو اتنی جنگیں اور غزوات نہ ہوتے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    افغانستان کو بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے؛ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، کیا ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہے؟ ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتے تو جنگ بدر نہ ہوتا، اگر ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہوتا تو بدر کی جنگ کو یاد رکھیں، کہ سرور کُونین، دو جہان جن کےلئے بنائے گئے، وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں، کیوں نہیں اُس دن اُنہوں نے بات چیت کر لی، اُدھر تو باپ کے آگے بیٹا کھڑا تھا، بھائی کے آگے بھائی کھڑا تھا، کیا ہر چیز کا حل بات چیت میں ہے؟ اگر ہر چیز کا حل بات چیت ہوتا تو دنیا میں جنگیں نہیں ہوتی، جب 9 اور 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تب یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ بھارت سے بات چیت کریں،جب بھارت کے میزائل آئے تو عوام نے کیوں نہیں کہا کہ بات چیت کر لیں، افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، بھارت ان دہشتگردوں کو سہولت فراہم کر رہا ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔آج یہ بیانیہ کہاں سے آ گیا کہ افغانوں کو واپس نہیں بھیجنا تو کیا آپ 2014 میں غلط تھے، 2021 میں غلط تھے، آج ریاست کہہ رہی ہے کہ افغان بھائیوں کو واپس بھیجیں تو سیاست کی جاتی ہے، بیانئے بنائے جاتے ہیں، گمراہ کُن باتیں کی جاتی ہیں،ایک بیانیہ بنایا جائے کہ سب مل کر، یک زبان ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں۔ یہ ہم نے نہیں کہا، یہ وہ بات ہے جس پر آپ کی سیاسی جماعتیں 2014 سے متفق ہیں، سوال یہ ہے کیا آج ہم واقعی ایک بیانیے پر کھڑے ہیں،

    یہ جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہے، اُس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے،ترجمان پاک فوج
    کسی فرد واحد کو پاکستان کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، ڈی جی آئی ایس پی آر
    خوارج اور ان کے سہولت کار اب نہیں بچ جائیں گے،دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج نے اعلان کیا کہ ہم دہشتگردی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، چاہے وہ بھارت سے ہو یا افغانستان سے۔پنجاب اور سندھ میں دہشتگردوں کے کیمپس کیوں نہیں ہیں ؟ دہشتگرد وہاں بھی آپریٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں انکے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔وہاں گورننس قائم ہے ۔ سیاسی دہشتگردی موجود نہیں ہے ،کے پی کے صوبے میں گورننس کے بجائے سیاست کی جاتی ہے۔جبکہ باقی صوبوں میں ایسا نہیں ہوتا۔
    اسی وجہ سے آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ انہیں گورننس کے گیپس کو فوج کے جوان اپنے خون سے پر کر رہے ہیں۔منشیات اسمگلنگ ، بھتہ خوری ، اغواء برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے پاک کرنا ہے ، جب کام کرتے ہیں تو مخٹلف جگہوں سے آوازیں آتی ہیں،یہ جو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ہے، اُس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، پاکستان کی سکیورٹی کسی دوسرے ملک کو نہیں دی جا سکتی،اس کی سکیورٹی صرف پاکستان کے ادارے کریں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ کے پی حکومت افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگنے بغیر خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، دہشتگرد یا انکے سہولت کار کسی بھی عہدے پر ہو انکے خلاف زمین تنگ کر دی جائے گی،کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مفاد کےلئے پاکستان اور خیبرپختونخوا کے غیور اور باعزت عوام کی جان، مال اور عزت کا سودا کرے، خوارج کی پشت پناہی کرنے والے خوارج کو ریاست کے حوالے کریں یا اس ناسور کے خاتمے کیلئے افواج پاکستان کا ساتھ دیں۔ بصورت دیگر ریاست کی جانب سے بھرپور ایکشن کیلئے تیار رہیں،ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اب ” سٹیٹس کو” نہیں چلے گا ۔ خارجیوں کے سہولت کاروں کے پاس دو چوائسز ہیں یا تو ان دہشتگردوں کو ہمارے حوالے کردیں یا خود ختم کردیں ورنہ یہ سہولتکار ہمارا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ،چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی عہدے پر ہو، اُس کےلئے زمین تنگ کر دی جائے گی کیونکہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ایک بنیانُ مرصوص کی طرح دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کےخلاف کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی،ہم سیاسی شعبدہ بازی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ہم اپنے شہداء کی قربانیوں پر کسی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

    کون ہے وہ شخص جو کہتا ہے مجھے ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو آپریشن بند کرے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہناتھا کہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دہشتگرد جیسے عناصر کو جب آپ اِنہیں پالتے ہیں تو یہ سانپ کی طرح ہوتے ہیں، سانپ کو جو پالے گا، وہ سانپ پر کبھی بھروسہ نہیں کر سکتا، یہ افغانستان کےلئے اپنے لئے بھی خطرہ ہے،کون ہے جو کہہ رہا ہے آپریشن بند کردیں بات چیت کر لیں۔ کون ہے وہ شخص جو کہتا ہے مجھے ایسی صوبائی حکومت چاہیے جو آپریشن بند کرے؟، اُس وقت وہ ریاست کے ذمے دار تھے، آج ریاست کا حصہ نہیں، پھر بھی یہی کہہ رہے ہیں،کس سے بات چیت کرو، نور ولی محسود سے بات چیت کرو جو کہتا ہے مشرک سے بھی الحاق جائز ہے۔ جو بھارت سے ملا ہوا ہے کیا اس سے بات چیت کرسکتے ہیں۔

    کے پی میں موجود 8 ہزار 11 مدارس میں سے صرف 4 ہزار 355 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگست 2025 تک انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں 34 مقدمات زیرالتواء ہیں، جو صرف ایک ماہ کے دوران مؤثر پیش رفت نہ ہونے کی علامت ہیں، مجموعی طور پر ایسے مقدمات جنہیں تین سال سے کم عرصہ گزرا ہے، ان کی تعداد 2 ہزار 878 ہے، جبکہ تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود 1 ہزار 706 کیسز بدستور زیرالتواء ہیں، کیا وہی عدالتی نظام، جسے مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، آج اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟ منشیات سے متعلق 10 ہزار 87 مقدمات میں سے صرف 679 کیسز میں سزائیں سنائی گئیں، جبکہ غیر قانونی اسلحہ اور اسمگلنگ سے متعلق 39 ہزار سے زائد کیسز میں صرف 6 ہزار 945 کیسز میں فیصلے ہوئے،خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی کل تعداد صرف 3 ہزار 200 ہے، جو صوبے کے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں موجود 8 ہزار 11 مدارس میں سے صرف 4 ہزار 355 مدارس رجسٹرڈ ہیں۔دہشت گرد صوبے میں آ کر مدارس میں گمراہ کرتے ہیں، لوگوں کو ورغلاتے ہیں، گلی محلوں میں غیر قانونی رہتے ہیں ، بم بناتے ہیں، یہ سب رپورٹ کرنا، پکڑنا صوبائی حکومت کی زمہ داری ہے،صوبائی حکومت گڈ گورنس سمیت اکنامک ایکٹیویٹی نا کرتے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہی۔

    پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیےجو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے گزشتہ رات افغانستان میں چار ایئر سڑائکس کیں؟ کیا اس کے نتیجے میں دہشتگرد نور ولی محسود ہلاک ہوا۔؟جس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیےجو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہمارا ان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغانستان کو دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بننے دیں، ہمارے وزرا بھی وہاں گئے اور انہیں بتایا کہ یہ دہشتگردوں کے سہولتکار ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی پراکسیز کی جانب سے دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، افغانستان پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، اس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔پاکستان زندہ باد رہے گا، خیبر پختونخوا زندہ باد رہے گا، پاکستان کی سلامتی کے فیصلے صرف پاکستان میں ہونگے

    فوج میں کسی کےخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اُسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فوج میں کسی کےخلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو اُسے تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، اپنے لئے سول وکیل بھی کیا جا سکتا ہے، یہ بیانیہ ہوتا ہے کہ آرڈر دیا اور سزا دے دی، ایسے نہیں ہوتا، ریاست پاکستان اور اسکے عوام کو کسی ایسے شخص کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جاسکتا، بالخصوص اُس کو جس پر پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اُٹھانے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،سابق ڈائریکٹر جنرل( ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا ٹرائل ہو رہا ہے، ان کا کورٹ مارشل ہورہا ہےفوج میں خود احتسابی کا عمل الزامات پر نہیں ہوتا بلکہ حقائق پر ہوتا ہے، فوج کا ریاست کے ساتھ سرکاری تعلق ہوتا ہے، ذاتی یا سیاسی نہیں، اس تعلق کو کوئی ذاتی بناتا ہے تو یہ غلط ہے، فیصلے ریاست کرتی ہے ہم نے ان معاملات میں اپنا ان پٹ اور رائےدیتے ہیں، ہم کسی کی سیاست کو لے کر نہیں چلتے، فوج کے اندر خود احتسابی کا ایک نظام ہے جس کو چارج کیا جاتا ہےاس کو خود کے دفاع کیلئے پورا موقع دیاجاتا ہے، ہمیں کسی تاخیر کی کوئی پریشانی نہیں ہےفیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ تعلق کو ذاتی اور سیاسی بنادیں توجوابدہی ہوگی، ہمیں آپ اپنی سیاست میں نہ لائیں، آپ کی سیاست آپ کو پیاری ہماری لیےتمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں۔

  • ٹرمپ دیکھتے رہ گئے،نوبیل امن انعام خاتون رہنما لے اڑیں

    ٹرمپ دیکھتے رہ گئے،نوبیل امن انعام خاتون رہنما لے اڑیں

    ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں نوبیل کمیٹی نے سال 2025ء کے نوبیل امن انعام کا اعلان کر دیا ہے، جو اس مرتبہ وینزویلا کی معروف جمہوریت نواز رہنما ماریہ کورینا مچاڈو (María Corina Machado) کو دیا گیا ہے۔

    نوبیل کمیٹی کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے اوسلو میں اعلان کیا کہ مچاڈو کو یہ اعزاز وینزویلا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور عوامی آزادیوں کے فروغ کے لیے ان کی طویل اور جرات مندانہ جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔مچاڈو وینزویلا میں اپوزیشن کی اہم رہنما مانی جاتی ہیں، جنھوں نے برسوں سے ملک میں آمرانہ حکومت کے خلاف سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ انھوں نے عوامی سطح پر انتخابی شفافیت، آئین کی بالادستی، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے مہم چلائی۔ان کی کوششوں کے نتیجے میں انھیں متعدد بار دھمکیاں، سیاسی پابندیاں، اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔

    نوبیل امن انعام ہر سال ایسے فرد یا ادارے کو دیا جاتا ہے جو بین الاقوامی امن کے فروغ، تنازعات کے خاتمے، انسانی ہم آہنگی، اور عالمی تعاون میں نمایاں کردار ادا کرے۔یہ انعام الفریڈ نوبیل کی یاد میں دیا جاتا ہے، جو ایک سویڈش سائنس دان اور صنعت کار تھے اور ڈائنامائٹ کے موجد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ماریہ کورینا مچاڈو کو نوبیل امن انعام ملنے پر انھیں مبارکباد دی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی نوبیل انعام کے خواہشمند تھے،پاکستان سمیت کئی ممالک نے انہیں نوبیل انعام کے لئے نامز دکیا تھا تاہم ٹرمپ کا خواب ادھورا رہ گیا

  • بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں،43 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں،43 دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز، کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد کارروائیاں کیں جن میں 43دہشت گردوں کی ہلاکت، ان کے ٹھکانوں کی تباہی اور کئی افراد کے اغوا کے واقعات سامنے آئے۔

    سوراب ضلع میں جاری سرچ اور روڈ بلاک آپریشن کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو اغوا کر لیا جس کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ایک تعمیراتی کمپنی کے سات ملازمین کو بھی اغوا کیا ہے جو علاقے میں کام کر رہے تھے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کرم ضلع میں سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دہشت گرد حملے میں ملوث گروہ کو کامیاب کارروائی میں ختم کر دیا۔ مصدقہ انٹیلی جنس معلومات پر کرم اور اورکزئی اضلاع میں مشترکہ آپریشن کیے گئے جن میں تقریباً 30 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی حکام کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں کرم حملے کے مرکزی کردار بھی شامل تھے۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے۔یہ کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خیبر پختونخوا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

    کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے بنوں میں کارروائی کرتے ہوئے دو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں وہ دہشت گرد بھی شامل تھا جو چار سی ٹی ڈی اہلکاروں کی شہادت کا ذمہ دار تھا۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشت گردوں کا منصوبہ ڈومیل پولیس اسٹیشن کے قریب ایک بڑا حملہ کرنے کا تھا۔
    مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت رشیدین عرف ملنگ یار اور خالد عثمان عرف عثمان کے نام سے ہوئی۔
    رشیدین 30 اپریل کو سی ٹی ڈی ٹیم پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، جبکہ خالد عثمان 2023 کے دوران متعدد ٹارگٹ کلنگز اور حملوں میں ملوث رہا۔

    ضلع سوات کے مٹہ تھانہ حدود میں درشخیلہ برنجال کے علاقے میں سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل یونٹ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کر دیا۔انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں بارودی مواد برآمد ہوا، جسے موقع پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔یہ بروقت کارروائی ایک ممکنہ دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی، جس سے سوات میں امن و استحکام کو تقویت ملی۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر رضوان عرف وقاص کو ہلاک کر دیا۔آپریشن کے دوران اس کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن مکمل کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا۔

    بنوں کے علاقے گریرہ شاہ جہان میں واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (WSSC) کے دو ملازمین کو دہشت گردوں نے اغوا کر لیا۔مغویوں کی شناخت گل رحمان اور نصیب کے نام سے ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور اردگرد کے علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    ضلع ہنگو کے علاقے سمانہ سنگر پوسٹ کے قریب دہشت گردوں نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کی چیک پوسٹ پر سنائپر فائر سے حملہ کیا۔حملے میں نائب صوبیدار رحمت اللہ سینے میں گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور بعد ازاں شہید ہو گئے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں پٹ فیڈر کینال برج کے قریب ریلوے ٹریک پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ریلوے ملازم امداد کھوکھر شہید ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب ایک خالی انجن جعفر ایکسپریس سے قبل وہاں سے گزر رہا تھا۔واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

    زہری کے شمالی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے عین نشانے پر کی گئی کارروائی میں فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا۔آپریشن کے دوران کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹرز نے وادی میں پھنسے دہشت گردوں کی نقل و حرکت روک کر انہیں نشانہ بنایا۔یہ کارروائی بلوچستان میں غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم گروہوں کے خلاف جاری وسیع آپریشن کا حصہ ہے۔

    پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔فائرنگ کے تبادلے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔یہ کارروائی اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر قیمت پر پرعزم ہیں۔

    یہ تمام کارروائیاں ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔