Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کابل میں حملے میں ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود ہلاک، دو اہم کمانڈر بھی مارے گئے

    کابل میں حملے میں ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود ہلاک، دو اہم کمانڈر بھی مارے گئے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود کابل میں ایک بڑے حملے کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اس حملے میں نور ولی محسود کے ساتھ ساتھ تنظیم کے دو اہم رہنما قاری سیف اللہ محسود اور خالد محسود بھی مارے گئے ہیں، جو آئندہ ممکنہ جانشین سمجھے جا رہے تھے۔رپورٹس کے مطابق حملہ کابل میں اس وقت پیش آیا جب ٹی ٹی پی قیادت کی گاڑی موجودگی کی اطلاع تھی اس دوران کابل میں عبد الحق چوک پر ایک لینڈ کروزر کو نشانہ بنایا.سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت اور ہلاکتوں کے حوالے سے مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے سیکیورٹی گروپس سے حاصل کردہ معلومات سے پتہ چلا ہے کہ آج رات کابل شہر میں پاکستانی طالبان رہنما مفتی نور ولی محسود اس وقت مارے گئے جب ایک لینڈ کروزر گاڑی کو ایک طیارے سے نشانہ بنایا گیا۔

    ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کل دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر پشاور میں ہنگامی پریس کانفرنس کریں گے، جس میں اس اہم پیش رفت سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔سیاسی و سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نور ولی محسود اور دیگر اعلیٰ کمانڈرز کی ہلاکت ٹی ٹی پی کے ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

    کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی،ذبیح اللہ مجاہد کی تصدیق

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’کابل شہر میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، تاہم کسی کو پریشانی کی ضرورت نہیں، سب خیریت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب افغان میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کابل شہر میں دو دھماکے سنے گئے۔

    ایشیا کپ 2025 کے بعد بھی سلمان علی آغا پر اعتماد، قیادت برقرار

    شہباز شریف اور بلاول بھٹو کا رابطہ، سیاسی کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

    وفاقی کابینہ کی پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے اور ای سی سی فیصلوں کی توثیق

    اقوام متحدہ کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم

  • ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،وزیراعظم

    ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے درست فیصلے کیے جائیں، ہم نے اگر اب فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو قوم معاف نہیں کرے گی، ان خوارج کے سہولت کار بھی ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔

    اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اورکزئی میں واقعہ ہوا، افسران کے ساتھ پاک فوج کے 9 جوان بھی شہید ہوئے، پاک فوج کے جوانوں نے فتنہ الخوارج کے 19 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، میں آج بھی ایک شہید میجر سبطین حیدر کے جنازے میں شریک ہوا، لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لیے شہداء نے قربانیاں دیں، ملک میں فتنہ پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، عوام یکسو ہیں کہ ان خوارج کا مکمل اور ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا جائے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 8 اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی جن میں پاکستان بھی شامل تھا، پوری قوم کا ایک ہی مؤقف ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے، فلسطین کے عوام کو حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، اقوامِ متحدہ میں فلسطین سے متعلق پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا، پاکستان کو اللّٰہ تعالیٰ نے عزت دی کہ 57 اسلامی ممالک میں سے چنے گئے 8 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کے عوام کی طرف سے جنگ بند کرانے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا، ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے مدد چاہتا ہوں، مغربی حصہ غزہ سے الگ نہیں ہو گا، پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا،واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی جس میں فیلڈ مارشل بھی موجود تھے، امریکی صدر سے باہمی تعلقات، تجارت، انسدادِ دہشت گردی پر تفصیل سے بات ہوئی، آزاد فلسطین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے، اس حوالے سے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، چین پاکستان کا دیرینہ قابلِ اعتبار اور قابلِ قدر دوست ہے، سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں، پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات کی باقاعدہ ایک شکل ہے، دفاعی معاہدے کے مطابق دونوں میں سے کسی ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔

  • دہشت گرد عناصر جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرتےہیں،سرفراز بنگلزئی

    دہشت گرد عناصر جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرتےہیں،سرفراز بنگلزئی

    بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے دہشت گرد سرفراز بنگلزئی کا کہنا ہے دہشت گرد عناصر جھوٹ کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کرتےہیں۔ بیرون ملک کی ایجنسیاں دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی ہیں۔

    سرفراز بنگلزئی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے انہیں پہلے کیمپوں میں منتقل پھر ٹریننگ دی جاتی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کو بیرون ملک سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو دہشت گردوں سے دور رکھنے کے لئے ان پر کڑی نظر رکھیں۔ عوام بغیر کسی ریسرچ کے بی ایل کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ خواتین کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ نوجوانوں اور خواتین کو اپنے کیمپس میں منتقل کر رہے ہیں، لوگوں کو غلط افسانے سنا کر اور ریاست کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کر کے یہ لوگوں کی ذہن سازی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کی ذہن سازی کر کے اپنے کیمپوں میں منتقل کرتے ہیں، میں واپس اس لئے آیا ہوں کہ علیحدگی پسندوں کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ اس سفر میں میرے 70,72ساتھی جدا ہوئے ہیں۔ سب نے اپنی دکان کھولی ہے۔ بلوچوں کے سروں کا سودا کیا جارہا ہے۔ فرانس میں یہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ جو شدت پسند مارے جاتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کو فتنہ الہندوستان خود ق ت ل کر دیتی ہے، بعد میں اس کا ذمہ دار ریاست کو ٹھہرا دیا جاتا ہے زبیر بلوچ نے فرانس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو بے وقوف بنایا۔ یہ لوگ جن لاپتہ افراد کا نام لیتے ہیں ان کے رشتہ دار فتنہ الہندوستان کے ساتھ پہاڑوں میں ہیں یا افغانستان میں موجود ہیں،دہشت گرد تنظیمیں لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کرتی ہیں۔لیویز کے لاپتہ اہلکاروں کے لیے مہرنگ بلوچ کیوں خاموش ہے؟ماہ رنگ بلوچ قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر کہے کہ غفار لانگو بی ایل اے کا کمانڈر نہیں تھا۔ اس بات کو تسلیم سے انکار سورج کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے۔ ماما قدیر نے بھی غفار لانگو کا زکر کیا، میں کسی کے دباؤ یا ڈر کی وجہ سے ان لوگوں کو چھوڑ کر نہیں آیا۔ یہ بلوچوں کے سروں کا سودا کر رہے ہیں، بلوچستان کے عوامی نمائندوں اور سرداروں کو چاہیے کہ وہ عوام میں جائیں اور شدت پسندوں کی حقیقت عوام کے سامنے رکھ دیں،

  • اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچ گئے

    اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد پاکستان پہنچ گئے

    اسرائیلی حراست سے رہائی پانے والے جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بالآخر پاکستان واپس پہنچ گئے۔ وہ اردن سے اسلام آباد پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کے چاہنے والوں نے شاندار استقبال کیا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے نعرہ تکبیر اور "فلسطین زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مشتاق احمد خان نے بھی فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گلے میں فلسطینی روایتی کفیہ پہن رکھا تھا۔اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد خان کا کہنا تھا "ہمیں نہ قید و بند سے ڈر ہے نہ ظلم سے، فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ میں بہت جلد دوبارہ غزہ کے لیے روانہ ہوں گا۔ فلسطین ان شاء اللہ آزاد ہو کر رہے گا۔”انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی میں پاکستان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔دورانِ سفر صمد فلوٹیلا پر 3 ڈرون اٹیک ہوئے، ہم نے 30 دن اور 30 راتیں سمندر میں گزاریں۔ 2 سال سے زائد ہو گئے، فلسطین میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، غزہ میں ہزاروں کی تعداد میں بچے معذور اور یتیم ہو گئے ، مسلمان ممالک کو مل کر فلسطین سے متعلق غور کرنا ہو گا، 2 سال سے فلسطین میں ہونے والی نسل کشی ظلم کی انتہا ہے۔

    یاد رہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد لے کر جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا” قافلے میں دیگر بین الاقوامی سماجی کارکنوں کے ہمراہ شرکت کی تھی۔ یہ قافلہ غزہ کی محصور آبادی کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد لے کر روانہ ہوا تھا۔تاہم اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کی تمام کشتیوں پر قبضہ کر لیا اور ان میں سوار تقریباً 500 کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان افراد میں مشتاق احمد خان بھی شامل تھے۔

    ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان کو بدنام زمانہ اسرائیلی جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جیل حکام نے قیدیوں پر کتے چھوڑے، روشنی اور شور کے ذریعے نیند سے محروم رکھا اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی رہائی کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں جس پر مشتاق احمد خان نے حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

  • چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

    چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں 26 ویں ترمیم کیس کے دوران جسٹس محمد علی نے کہا کہ آئینی بینچ کیسے فل کورٹ بناسکتا ہے کیونکہ اب صورتحال مختلف ہے۔

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کےخلاف درخواستوں پر سماعت 8 رکنی آئینی بینچ نے کی۔،دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ کیا فل کورٹ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟ جسٹس محمد علی نے کہا کیا موجودہ 8 رکنی بینچ فُل کورٹ تشکیل دینے کا دائرہ اختیار رکھتاہے؟ وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا موجودہ بینچ ریگولر ہے یا آئینی،کیس کون سنےگا؟ موجودہ بینچ فیصلہ کرسکتا ہے۔جسٹس محمد علی نے کہاکہ اگر ہم جوڈیشل آرڈرجاری کریں تو آپ ایڈمنسٹریٹو آرڈر کہیں گے؟کیا ایسے آرٹیکل 191 اے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟،وکیل منیر اے ملک نےکہا کہ کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی، آئینی بینچ کے پاس جوڈیشل اختیارات ہیں۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہم تو آئین و قانون کے مطابق مقدمات سن رہے ہیں، ہمیں ترمیم سے کیا فائدہ ہوا ہم نے الٹا گالیاں بھی بہت کھائی ہیں،

    جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں آئینی بینچ جوڈیشل اختیارات کا استعمال کرکے فل کورٹ تشکیل دے؟ عدالت نے کئی بار ترمیم کےبجائے آئین پر انحصار کیا ہے۔جسٹس محمد علی نے کہا آرٹیکل191اے موجود ہے، بتائیں آئینی بینچ کیسےفُل کورٹ تشکیل دے سکتا ہے؟کیونکہ اب صورتحال مختلف ہے۔وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ فُل کورٹ کےلیے موجودہ بینچ کی جانب سے ڈائریکشن دیےجانےکی استدعا ہے، سپریم کورٹ کے اندر آئینی بینچ قائم ہے، سپریم کورٹ کےتمام ججز پر مبنی بینچ درخواستوں پر سماعت کرے۔

    ایڈوکیٹ منیر اے ملک نے اپنے دلائل مکمل کر لئیے ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل آئینی بنچ بنانے کا کہہ دیں تو کیا آپکو منظور ہو گا،ایڈوکیٹ منیر اے ملک نے کہا کہ اگر چھبیسویں آئینی ترمیم سے پہلے والے ججوں پر مشتمل فل کورٹ بناتے ہیں تو مجھے قبول ہو گا،

    چھبیسویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ،سپریم کورٹ بار کے سابق چھ صدور کے وکیل عابد زبیری دلائل دیں گے

  • ڈی آئی خان، فتنہ ٌالخوارج کے 7 دہشتگرد جہنم واصل، میجر سبطین حیدر شہید

    ڈی آئی خان، فتنہ ٌالخوارج کے 7 دہشتگرد جہنم واصل، میجر سبطین حیدر شہید

    سیکورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ڈیرہ اسماعیل خان کے عمومی علاقے درابن میں کارروائی کی، جہاں بھارتی پراکسی تنظیم ’’فتنہ الخوارج‘‘ کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں سات بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک ہوگئے۔فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں پاک فوج کے بہادر افسر میجر سبطین حیدر (عمر 30 سال، تعلق: ضلع کوئٹہ) جامِ شہادت نوش کر گئے۔ میجر سبطین حیدر اپنی ٹیم کی قیادت فرنٹ لائن پر کر رہے تھے اور دشمن کے مقابل بہادری سے لڑتے ہوئے مادرِ وطن پر قربان ہوگئے۔ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جو ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے ملا۔ یہ خوارج متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے، جن میں سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور معصوم شہریوں کا قتل شامل تھا۔

    سیکورٹی فورسز نے علاقے میں مزید کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چھپے ہوئے بھارتی سرپرست دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہمارے بہادر سپوتوں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں،شہید میجر سبطین حیدر کی قربانی قوم کے لیے فخر کا باعث ہے، اور پوری قوم اپنے بہادر بیٹے کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےڈیرہ اسماعیل کے علاقے دارابان میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن اور سات خارجیوں کو جہنم رسید کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پزیرائی کی ہے،وزیرِ اعظم نےآپریشن کے دوران دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر سبطین حیدر شہید کو خراج عقیدت پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے شہید کی بلندی درجات اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی اور کہا کہ افواج پاکستان کے بہادر افسران و جوان دن رات ارض وطن کی حفاظت میں مصروف عمل ہیں.مجھ سمیت پوری قوم کو اپنی بہادر افواج کے افسران و جوانوں پر فخر ہے،دھشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گےپوری قوم افواج پاکستان کے وطن عزیز کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

  • تحریک لبیک کا اسلام آباد مارچ،لاہور میں آپریشن،فیض آباد کینٹینر لگ گئے

    تحریک لبیک کا اسلام آباد مارچ،لاہور میں آپریشن،فیض آباد کینٹینر لگ گئے

    تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ کے باعث شہر بھر میں سکیورٹی سخت کردی گئی۔

    تحریک لبیک پاکستان نے فیض آباد سے امریکی سفارت خانے تک مارچ اب لاہور سے اسلام آباد مارچ میں بدل دیا،تحریک لبیک نے کل 10 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث انتظامیہ نے فیض آباد پر کنٹینرز پہنچا دیے ہیں جب کہ شہر بھر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے،مری روڈ فیض آباد کے ہوٹلز خالی کرنے کے احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں، اسلام آباد اور راولپنڈی کے راستے تاحال کھلے رکھے گئے ہیں تاہم صورتحال کو دیکھتے ہوئے راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    اس حوالے سے سی پی او خالد ہمدانی کی زیرصدارت امن و امان کی صورتحال پرسینئر پولیس افسران کا اجلاس ہوا،سی پی او نےکہاکہ کسی سڑک کو بلاک کرنے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، معمولات زندگی کو متاثر کرنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی،احتجاج کی آڑ میں پرتشدد سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا جب کہ املاک یاقانون نافذ کرنے والے اداروں پرحملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    لاہور میں پولیس کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے خلاف ملتان روڈ پر آپریشن جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کارروائی سبزہ زار اور ناگرہ ٹاؤن کے علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ ٹی ایل پی کارکنان نے بھی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ ملتان روڈ سمیت یتیم خانہ چوک، اسکیم موڑ اور گرد و نواح کے علاقوں میں ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے۔ متعدد مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی جاری ہے، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملتان روڈ اور متصل علاقوں سے گریز کریں۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی تحریک لبیک کی ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے فیض آباد انٹرچینج اور ریڈ زون کے داخلی راستوں پر کنٹینرز لگا دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔انتظامیہ کے مطابق فی الحال ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے، تاہم کسی بھی وقت سخت پابندیاں یا راستوں کی بندش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور فیض آباد یا ریڈ زون کے اطراف جانے سے پرہیز کریں۔

    سکیورٹی حکام نے عملے اور شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ،لاہور: ملتان روڈ، یتیم خانہ چوک، اسکیم موڑ اور احتجاجی علاقوں سے دور رہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ممکنہ بندشوں کے لیے تیار رہیں۔راولپنڈی/اسلام آباد، فیض آباد اور ریڈ زون کے اطراف سے گریز کریں، کسی بھی اچانک ٹریفک پابندی کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھیں، سفر کے لیے اضافی وقت رکھیں، اور کسی بھی واقعے کی اطلاع فوراً سکیورٹی ٹیم یا مقامی حکام کو دیں۔پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور کہا ہے کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

  • فلسطینی عوام کو خراجِ عقیدت ، جنہوں نے بے مثال قربانیاں دیں،وزیراعظم

    فلسطینی عوام کو خراجِ عقیدت ، جنہوں نے بے مثال قربانیاں دیں،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے ہیں، غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے معاہدے کا اعلان تاریخی موقع ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہناتھا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی امید ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے عمل میں عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم دکھایا،وزیراعظم نے قطر، مصر اور ترکیہ کے رہنماؤں کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان رہنماؤں نے معاہدے کے لیے انتھک کوششیں کیں،فلسطینی عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے مثال قربانیاں دیں، ایسی تکلیف دہ صورتحال دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جانی چاہیے،وزیراعظم نے مسجد اقصیٰ میں حالیہ اشتعال انگیزیوں پر اظہارِ تشویش اور اس کی مذمت بھی کی۔

  • حماس نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے،ٹرمپ کا خیر مقدم،اسرائیل کو وعدہ خلافی سے روکیں،حماس

    حماس نے امن معاہدے پر دستخط کر دیئے،ٹرمپ کا خیر مقدم،اسرائیل کو وعدہ خلافی سے روکیں،حماس

    غزہ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگئی، اسرائیل اور حماس نے امریکا کے مجوزہ غزہ امن معاہدےکے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اعلان کیا کہ اس معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ اسرائیل اپنی فوج کا متفقہ لائن پر انخلا کرے گا،یہ امن کے طویل المدتی اور پائیدار سفر کی پہلی بڑی پیش رفت ہے اور تمام فریقین کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا،انہوں نے اس تاریخی اور غیر معمولی معاہدے میں کردار ادا کرنے والے قطر، مصر اور ترکی کے ثالثوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن عرب اور مسلم دنیا، اسرائیل، تمام ہمسایہ ممالک اور امریکا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔

    قطری وزارت کا بھی کہنا ہے کہ غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر معاہدہ طے پا گیا ہےجس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور امداد کی فراہمی ممکن ہو گی۔ تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے اعلان کے بعد حماس نے اپنا پہلا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے،حماس نے کہا کہ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت غزہ پر جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا انخلا، امداد کی فراہمی اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں،حماس نے امریکی صدر، عرب ثالثوں اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد کے لیے پابند کریں اور اسے کسی بھی تاخیر یا وعدہ خلافی سے روکیں۔

    اسرائیل اور حماس کے معاہدے پر دستخط کے بعد نیتن یاہو نے مختصر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے پرعزم ہے اور ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لائیں گے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق سمجھوتے کے تحت حماس تمام یعنی 20 زندہ یرغمالیوں کو بہتر گھنٹے میں رہائی دیدے گی،امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ہفتہ یا اتوار کو متوقع ہے۔

    حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر دستخط کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے معاہدے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی،نیتن یاہو نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہاکہ یہ ایک سفارتی کامیابی ہے اور اسرائیل کی ریاست کی قومی اور اخلاقی فتح بھی ہے

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کی تعمیر نو سمیت امدادی سامان کی فراہمی بھی شامل ہے،حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ امن کے طویل المدتی اور پائیدار سفر کی پہلی بڑی پیشرفت ہے، معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی جلد رہائی عمل میں لائی جائے گی، فریقین کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ امن معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے تمام فریقین سے اس پر عمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ باعزت طریقے سے ہونا چاہیے اور غزہ میں فوری طور پر امداد کی فراہمی شروع ہونی چاہیے،یاد رہے کہ گزشتہ روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں مصر، ترکیہ، امریکا اور قطر کی سرپرستی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے طے پایا تھا۔

  • سعودی کاروباری وفد کا پاکستان مٰیں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر زور

    سعودی کاروباری وفد کا پاکستان مٰیں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر زور

    شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاکستان کے دورے پر ہے.

    وزارتِ تجارت کے اعلامیے کے مطابق وفد پاک سعودیہ مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی سربراہی میں 5 روزہ دورے پر اسلام آباد آیا ہے۔ وفد میں معدنیات، تیل و گیس، زراعت و لائیو اسٹاک، توانائی اور سیاحت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات شامل ہیں۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ سعودی-پاک بزنس کونسل کے زیرِ اہتمام اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستانی کمپنیوں نے ایس آئی ایف سی کی معاونت سے وفد سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر وفد کو وفاقی وزرا، حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور سازگار ماحول سے آگاہ کیا۔

    پاک-سعودیہ بزنس کونسل کے قیام کو دونوں ممالک کے نجی شعبے کے تعاون کے لیے اہم قرار دیا گیا، جس کے مقاصد میں مشترکہ کاروباری شراکت داری اور ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہے۔وفد کو ترجیحی سرمایہ کاری شعبوں پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جبکہ کراچی اور لاہور میں کاروباری مراکز کے دورے اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں بھی ہوں گی۔

    وزارتِ تجارت کے مطابق یہ دورہ سعودی وژن 2030 اور پاکستان کے معاشی اہداف کے حصول میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    اسرائیل اور حماس میں آج جنگ بندی ممکن ہے، ترک وزیرِ خارجہ

    ویمنز ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے پاکستان کو 107 رنز سے شکست دے دی

    کراچی میں فائر سیفٹی کا بحران، 80 فیصد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    خیبرپختونخوا، گنڈاپور مستعفی،اپوزیشن متحرک، اجلاس طلب