Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بریکنگ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور مستعفی

    بریکنگ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور مستعفی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وزارت اعلیٰ سےمستعفی ہونے کا اعلان کر دیا

    علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کی پوزیشن عمران خان صاحب کی امانت تھی اور ان کے حکم کے مطابق ان کی امانت ان کو واپس کر کے اپنا استعفی دے رہا ہوں،سہیل آفریدی کو میری مکمل حمایت اور سپورٹ حاصل رہےگی،ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور پارٹی پالیسی کے لیے ایک ہو کر آگے بڑھیں گے۔

    قبل ازیں سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے علی امین گنڈاپور کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلی سے ہٹانے کی تصدیق کر دی اور اس فیصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ علی امین گنڈاپور کو کے پی کی وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا جا رہا ہے، سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کیا گیا ہے، یہ بانیٔ پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے جس کا پسِ منظر بھی بیان کیا گیا ہے، خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی بدترین صورتِ حال ہے، آج اورکزئی میں ہمارے جوان اور افسر شہید ہوئے، خیبر پختون خوا حکومت کو کہا گیا کہ وفاق کی غلط پالیسی سے خود کو دورے کرے، جس طرح افغان شہریوں کو بے دخل کیا گیا اس کی ضرورت نہیں تھی، بلاول بھٹو سوا سال وزیرِ خارجہ رہے، ایک بار بھی افغانستان نہیں گئے، خیبر پختون خوا حکومت خود کو وفاق کی غلط پالیسی سے دور نہ کر سکی، دہشت گردی کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے بیٹھ کر مذاکرات کریں، توقع ہے کہ سہیل آفریدی وفاقی حکومت کی رہنمائی کریں گے اور اسے سمجھائیں گے،ہم نے اپنے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنی ہے، اعلان ہوتا ہے کہ علاقہ دہشت گردی سے پاک ہوگیا، چند دن بعد پھر واقعہ ہو جاتا ہے،عمران خان نے علی امین کو استعفیٰ دینے کا حکم دیا ہے، سمجھتے ہیں کہ علی امین کے لیے بھی بہتر ہے کہ یہ عہدہ اب چھوڑ دیں، ہم نے ایک نئی پالیسی کا اعلان کرنا ہے، نئی شروعات کرنی ہے، کوئی دشواری نہیں ہو گی،علی امین استعفیٰ دیں گے اور اسمبلی سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ منتخب کرے گی،علیمہ خان کے خلاف متعدد مقدمات بنائے گئے ہیں، بانیٔ پی ٹی آئی سمجھتے ہیں کہ اب پیغام نورین خانم پہنچائیں گی۔

  • سعودی معاہدے کا خیر مقدم،بھارتی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیں‌گے،کورکمانڈرز کانفرنس

    سعودی معاہدے کا خیر مقدم،بھارتی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیں‌گے،کورکمانڈرز کانفرنس

    فیلڈ مارشل،آرمی چیف سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت 272ویں کور کمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو میں ہوئی

    اجلاس کا آغاز حالیہ دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے جوانوں کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا، جن حملوں کو بھارتی دہشت گرد پراکسیز کے ذریعے انجام دیا گیا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے جذبے، عزم اور ثابت قدمی کو سراہا، خصوصاً حالیہ سیلابوں کے دوران سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیے گئے وسیع پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    فورم میں انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں، بدلتے ہوئے خطرات اور آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسلح افواج ہر محاذ پر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ دہشت گردی اور جرائم کے درمیان موجود گٹھ جوڑ، جو سیاسی سرپرستی میں ریاستی مفادات اور عوامی سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے، کسی صورت مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    فورم نے بھارتی سول اور عسکری قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسی اشتعال انگیزی بھارت کی روایتی عادت ہے جس کے ذریعے وہ سیاسی فائدے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دیتا ہے۔ اس طرح کی بیان بازی خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔فورم نے واضح کیا کہ بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان فوری اور فیصلہ کن جواب دے گا، اور بھارت کے جغرافیائی محلِ وقوع پر مبنی کسی بھی مفروضہ سیکیورٹی تصور کو توڑ دے گا۔ بھارت کا کوئی بھی فرضی “نیا معمول” پاکستان کے “نئے، فوری اور بھرپور جوابی معمول” سے ٹکرا جائے گا۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارتی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروہوں مثلاً فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے جامع انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھی جائے گی۔

    فورم نے پاکستان کی حالیہ اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کو سراہا اور علاقائی و عالمی امن کے عزم کو دہرایا۔ اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا، جو مشترکہ دفاعی تعاون اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لیے قریبی تعاون کو مضبوط کرے گا۔ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

    فورم نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جو متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے۔ پاکستان نے مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے دو ریاستی حل کی حمایت کی جس کے تحت 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو اورالقدس شریف اس کا دارالحکومت ہو۔

    آخر میں آرمی چیف نے کمانڈرز کو ہدایت دی کہ آپریشنل تیاری، نظم و ضبط، جسمانی فٹنس، جدت اور فوری ردِعمل کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے پاکستان آرمی کی مکمل آپریشنل صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان ہر قسم کے خطرات روایتی، غیر روایتی، ہائبرڈ اور غیر متناسب خطرات کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • عادل راجہ اور احسان اللہ احسان کی داعش خراسان کے حقائق کو مسخ کرنے کی مذموم کوششیں

    عادل راجہ اور احسان اللہ احسان کی داعش خراسان کے حقائق کو مسخ کرنے کی مذموم کوششیں

    حالیہ دنوں میں بعض خود ساختہ تجزیہ نگاروں اور دہشت گرد تنظیموں کے سابق ترجمانوں کی جانب سے پاکستان کے اندر داعش خراسان کے مبینہ "سیٹلمنٹس” کے حوالے سے جو دعوے کیے جا رہے ہیں، وہ سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ ان جھوٹے بیانیوں کا مقصد نہ صرف پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کامیابیوں کو سبوتاژ کرنا ہے بلکہ خطے میں موجود اصل خطرات سے توجہ ہٹانا بھی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ داعش خراسان کا آپریشنل نیٹ ورک اور کمانڈ سٹرکچر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں واقع ہے، نہ کہ پاکستان میں۔ اس عالمی ادارے کی رپورٹ نے بھارت کے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی ہے، جسے احسان اللہ احسان اور عادل راجہ جیسے عناصر جان بوجھ کر پھیلا رہے ہیں۔احسان اللہ احسان، جو خود ایک کالعدم تنظیم کا سابق ترجمان رہ چکا ہے، اور عادل راجہ جیسے عناصر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے پراپیگنڈا نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ افراد سوشل میڈیا اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کے خلاف جھوٹ پر مبنی مہم چلا رہے ہیں، تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔

    پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی ہے، چاہے وہ داعش ہو یا تحریک طالبان پاکستان ۔ پاکستانی سیکیورٹی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنے، اور افغانستان کی سرزمین سے آنے والے خطرات کو ناکام بنانے میں مصروف عمل ہیں۔پاکستان، چین، ایران اور روس جیسے ممالک کئی بار افغان حکام پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو پناہ نہ دیں۔ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے یہ لازم ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔

    پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کو اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ ایسی صورت میں عادل راجہ اور احسان اللہ احسان جیسے بھارتی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کی جھوٹی مہمیں محض مایوسی کا اظہار ہیں۔ دنیا کو چاہیے کہ ان جھوٹے بیانیوں پر توجہ دینے کے بجائے اصل خطرات جیسے داعش اور ٹی ٹی پی کے خلاف اجتماعی حکمت عملی پر توجہ دے۔پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں اور مسلسل کوششیں دنیا کے سامنے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ جھوٹے پراپیگنڈے اور گمراہ کن بیانات سچائی کو بدل نہیں سکتے۔

  • آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.وزیراعظم

    آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں راجہ پرویز اشرف، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وفاقی وزراء احسن اقبال، محمد اورنگزیب، سردار محمد یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، احد خان چیمہ اور چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان شریک تھے. وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کی کشمیر میں معاملات کو احسن طور سے حل کرنے کیلئے کوششوں کی پزیرائی کی اور کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی کشمیر کی ترقی و خوشحالی کیلئے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا جس کیلئے وہ لائق تحسین ہیں. کشمیر میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے، کشمیری عوام کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا.
    حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی انکے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے.آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا ہے۔کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق انکی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھاتے رہیں گے.

  • اورکزئی  آپریشن،19 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل،میجر سمیت 11 جوان شہید

    اورکزئی آپریشن،19 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل،میجر سمیت 11 جوان شہید

    رات گئے سیکورٹی فورسز نے اورکزئی ضلع میں خفیہ اطلاع پر ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کا ہدف بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک تھا۔مقابلے میں لیفٹیننٹ کرنل اور سیکنڈ ان کمانڈ میجر سمیت 11 جوان شہید ہو گئے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ موثر جوابی کارروائی میں انیس بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ تاہم، اس دوران پاکستان آرمی کے دو بہادر افسران سمیت دس جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔ لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف (عمر 39 سال، ضلع راولپنڈی) ، جو فرنٹ لائن پر قیادت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔میجر طیب راحت (عمر 33 سال، ضلع راولپنڈی) جو اپنے کمانڈر کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کے ساتھ جامِ شہادت پانے والوں میں نائب صوبیدار اعظم گل (38 سال، ضلع خیبر)،نائیک عادل حسین (35 سال، ضلع کرم)،نائیک گل امیر (34 سال، ضلع ٹانک)،لانس نائیک شیر خان (31 سال، ضلع مردان)،لانس نائیک طالش فراز (32 سال، ضلع مانسہرہ)،لانس نائیک ارشاد حسین (32 سال، ضلع کرم)،سپاہی طفیل خان (28 سال، ضلع مالاکنڈ)،سپاہی عاقب علی (23 سال، ضلع صوابی)،سپاہی محمد زاہد (24 سال، ضلع ٹانک)شامل ہیں

    ترجمان پاک فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے۔پاکستان کی سیکورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے بہادر افسران اور جوانوں کی یہ عظیم قربانیاں قوم کے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط کرتی ہیں،علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

  • سیکورٹی فورسزکی کاروائیاں،دہشتگردی کے منصوبے ناکام،20 گرفتار

    سیکورٹی فورسزکی کاروائیاں،دہشتگردی کے منصوبے ناکام،20 گرفتار

    ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنا دیئے گئے، 20 سے زائد مشتبہ افراد گرفتار کر لئے گئے شکارپور، وزیرستان، باجوڑ، بنوں، کرم، پنجگور اور مستونگ میں مختلف واقعات پیش آئے

    شکارپور، سندھ میں جعفر ایکسپریس حملے کے بعد پولیس اور رینجرز نے ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا، جس کے دوران 20 سے زائد مشتبہ افراد کو مختلف علاقوں سے حراست میں لے لیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا، جس میں تقریباً تین سے چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ جائے وقوعہ کو سیل کر دیا گیا ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ و فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی تلاش مزید تیز کر دی ہے۔

    وانا، جنوبی وزیرستان
    توئی خلہ کے علاقے میں دہشت گردوں نے کوٹکی گومل ٹی-2 اور کوٹ اعظم کی سیکیورٹی چوکیوں پر حملہ کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ فورسز نے کمک روانہ کر دی ہے جبکہ علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے۔

    ماموند، باجوڑ
    باجوڑ کے ماموند علاقے میں جاری آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مزید پانچ دیہات زارا، اوندی، گیلی، گٹ اور زگئی کو دہشت گردوں سے کلیئر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ریاستی عملداری بحال کر دی گئی ہے اور ملحقہ علاقوں میں بھی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ امن و استحکام مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔

    علی شیرزئی، وسطی کرم
    علی شیرزئی کے جوگی پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک لانس نائیک شہید جبکہ نائب صوبیدار اور ایک سپاہی زخمی ہوگئے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

    گبری، باجوڑ
    گبری گاؤں میں امن و امان کے حوالے سے گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں مقامی عمائدین، ملی مشران اور قومی زعماء نے شرکت کی۔ سیکیورٹی حکام نے امن کے قیام میں عوامی کردار پر زور دیا جبکہ قبائلی رہنماؤں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

    باجوڑ: دھماکہ خیز مواد برآمد
    سیکیورٹی فورسز نے بڑی تباہی کے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے مختلف مقامات سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا۔ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس سے ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

    میر علی، شمالی وزیرستان
    میر علی تحصیل میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کر کے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق برآمد شدہ ہتھیار بڑے پیمانے پر حملوں میں استعمال ہونا تھے۔

    میران، بنوں
    بنوں کے میرین علاقے میں دہشت گردوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دو ملازمین کو اس وقت اغوا کر لیا جب وہ مقامی مرکز کے لیے رقم لے جا رہے تھے۔ پولیس نے اطلاع ملتے ہی کارروائی شروع کر دی ہے اور مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    موسیٰ خیل زندی، بنوں
    موسیٰ خیل زندی فلق شیر مندئی میں گورنمنٹ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر رفیع اللہ اور استاد نثار علی شاہ کو دہشت گردوں نے اغوا کر لیا۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    بانو ڈومیل، ہتھی خیل اور طاؤس خیل
    مقامی قبائلی عمائدین نے شرپسند عناصر کو دس اکتوبر تک علاقے خالی کرنے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مدت پوری ہونے کے بعد پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کر کے امن بحال کیا جائے گا۔

    ماموند (باجوڑ)
    پاک افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    اعظم ورسک، جنوبی وزیرستان
    فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے اعظم ورسک بازار میں بھتہ خوری کی کوشش ناکام بنا دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    چمکنی آرمار روڈ، پشاور
    نامعلوم حملہ آوروں نے مفتی منیر شاکر کے صاحبزادے عبداللہ شاکر پر فائرنگ کی تاہم وہ محفوظ رہے۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بلگتر، پنجگور (بلوچستان)
    پنجگور کے بلگتر علاقے میں پاک فوج کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شدید فائرنگ اور دھماکوں کا تبادلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق تین گھنٹے سے زائد وقت سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ علاقے کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے۔

    مستونگ بازار، بلوچستان
    کوئٹہ روڈ پر مستونگ بازار میں مسلح افراد نے الائیڈ بینک کی شاخ پر حملہ کر کے عملے کو یرغمال بنایا اور لاکھوں روپے نقدی لوٹ لی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ بینک عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    یہ تمام واقعات ملک کے مختلف حصوں میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں سیکیورٹی فورسز مسلسل کارروائیاں کر کے نہ صرف حملے ناکام بنا رہی ہیں بلکہ ریاستی عملداری اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں۔

  • پاکستان اور ملائیشیا کا غزہ میں فوری جنگ بندی  پر زور

    پاکستان اور ملائیشیا کا غزہ میں فوری جنگ بندی پر زور

    پاکستان اور ملائیشیا نے غزہ میں جاری نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت اور فوری جنگ بندی کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے 3 روزہ دورہ ملائیشیا کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ یہ شہباز شریف کا وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ملائیشین ہم منصب کی دعوت پر پہلا دورہ تھا۔دفتر خارجہ کے اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات 1957 میں قائم ہوئے جو باہمی احترام اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں اور مارچ 2019 میں یہ تعلقات تذویراتی شراکت داری میں بدل گئے۔وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشین وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک نے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مسلم امہ میں یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، جیوپولیٹیکل امور اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں وزرائے اعظم نے غزہ میں شہری آبادی کے تحفظ پر زور دیا اور افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ اسلاموفوبیا، عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر تشدد کی مذمت بھی کی گئی۔قبل ازیں، وزیراعظم شہباز شریف کو کوالالمپور میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (IIUM) کی جانب سے قیادت اور طرزِ حکمرانی کے شعبے میں فلسفے کی اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ملک و قوم کی خدمت میں نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔

    نیشنل پریس کلب حملہ،جوائنٹ کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے

    تجارت اور سرمایہ کاری،سعودی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچ گیا

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کا فیصلہ

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے کا فیصلہ

    پاکستان اور بنگلہ دیش نے ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کسی تیسرے ملک کی جارحیت کی صورت میں ایک دوسرے کے فوجی وسائل سے استفادہ کر سکیں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور باہمی دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاہدے کے تحت نہ صرف عسکری وسائل کی شراکت ممکن ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مشقیں اور تربیتی پروگرام بھی متوقع ہیں۔ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نیا باب کھلے گا اور خطے میں دفاعی توازن مزید مضبوط ہوگا۔

    منڈی بہاؤالدین: محمد سعید شاکر کا برطانوی کونسل اسمبلی و سرکاری دفاتر کا دورہ

  • سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی جیل سے رہا،بولے،ہمارے اوپر کتے چھوڑے گئے

    سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی جیل سے رہا،بولے،ہمارے اوپر کتے چھوڑے گئے

    اسرائیل نے پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کردیا۔ جماعتِ اسلامی کے مطابق مشتاق احمد اس وقت اردن میں موجود ہیں۔

    صیہونی حکومت نے پاکستانی وفد کے سربراہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اردن کی سرحد کے راستے رہا کر دیا ہے۔مشتاق احمد خان کو تیونس، مراکش اور الجزائر کے وفود کے ہمراہ اردن کے راستے رہا کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کر دی،سابق سینیٹر مشتاق احمد کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ میں 150 ساتھیوں کے ساتھ اردن پہنچ چکا ہوں، ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں،پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں گئیں، بدترین تشدد کیاگیا،ہمارے اوپر کتے چھوڑے گئے، بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہم نے تین تک مطالبات کے لئے بھوک ہڑتال کی، ایک بدنام زمانہ جیل تھا لیکن ہم رہا ہو چکے ہیں، غزہ کو بچانے کے لئے کوشش کریں گے، بار بار جائیں گے، مزاحمت جاری رہے گی،

    سابق سینیٹر مشتاق احمد یورپ سے اسرائیل جانیوالے گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے، انہیں سیکڑوں بین الاقوامی رضا کاروں کے ساتھ اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا تھا،اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد کی صحت بہتر ہے، وہ رہا ہوکر اردن پہنچ چکے ہیں،نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ سابق سینیٹر پاکستانی سفارتخانے میں موجود ہیں۔

  • جنگ میں بھارت پاکستان کا کوئی طیارہ نہ گرا سکا،ترجمان پاک فوج

    جنگ میں بھارت پاکستان کا کوئی طیارہ نہ گرا سکا،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں بھارت پاکستان کا کوئی طیارہ نہیں گراسکا۔

    غیر ملکی جریدے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہماری حکمت عملی مؤثر،کارگرپلیٹ فارمز اور پاکستانی ٹیکنالوجی کوشامل کرنا رہی ہے، ہم ہر قسم کی ٹیکنالوجی کےحصول کے لیے تیار رہتے ہیں چاہےمقامی ہویامشرقی یامغربی ہو، پاکستان بھارت سے ہتھیاروں کی دوڑمیں شامل نہیں اور نہ ہی پاکستان نےکبھی بھی اعدادو شمار اور حقائق سےکھیلنے یاچھپانے کی کوشش کی،معرکہ حق میں بھارت ہمارا کوئی طیارہ نہیں گراسکا