Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر

    فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر

    فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر ، صوبہ پکتیکا کے قبرستان میں فتنہ الخوارج کے جھنڈوں کی ویڈیو وائرل ہو گئی

    افغانستان میں اگر فتنہ الخوارج کو پناہ گاہیں اور تربیت نہیں دی جارہی تو ان کی قبریں کیوں بنی ہوئی ہیں؟حال ہی میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ایک قبرستان میں قبروں پر فتنہ الخوارج کے جھنڈے واضح طور پر لہراتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ بظاہر تو یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ قبریں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی ہیں، لیکن درحقیقت ان میں دفن تمام افراد افغان طالبان کے ارکان ہیں جنہیں طالبان حکومت نے مارچ سے اگست 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے بھیجا، جہاں وہ مارے گئے۔حیران کن طور پر ان کی قبریں ٹی ٹی پی کے پرچم تلے بنائی گئیں اور افغان طالبان انتظامیہ نے ان کے لیے باقاعدہ یادگاریں بھی تعمیر کیں، یوں افغانستان میں اُن دہشت گردوں کو اعزاز دیا جا رہا ہے جو پاکستان میں معصوم شہریوں اور بچوں کے قاتل ہیں۔

    الغرض ایک بار پھر سے عیاں ہوتا ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کو جہاد کے نام پر پاکستان میں معصوم بچوں کے قتل عام کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے شواہد سامنے آئے ہوں۔ 29 ستمبر 2025 کو افغانستان میں انٹرنیٹ بند ہوتے ہی ٹی ٹی پی کے آن لائن پلیٹ فارمز بھی اچانک غائب ہو گئے، جو پاکستان میں ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    ان کی یکدم خاموشی اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے یہ ڈیجیٹل نیٹ ورک براہِ راست افغان سرزمین سے چلائے جا رہے تھے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت القاعدہ، داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان، اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً چھ ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں جو سرحد پار پاکستان پر حملے کرتے ہیں، اور انہیں طالبان حکومت کی مکمل سرپرستی اور محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کے اس خطرناک کردار کو تسلیم کرے اور اس کی سرزمین کو دہشت گردی کی نرسری بننے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پاکستان کے خلاف ہونے والی خوارج کی ہر سازش کے پیچھے افغان حکومت کا براہِ راست ہاتھ صاف دکھائی دے رہا ہے، جسے مزید نظرانداز کرنا خطے کے امن و استحکام کے لیے تباہ کن ہوگا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ملائیشین بزنس گروپ گوبی پارٹنرز کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ملائیشین بزنس گروپ گوبی پارٹنرز کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملائیشین بزنس گروپ گوبی پارٹنرز کے وفد کی گوبی پارٹنرز کے کو-فاؤنڈر اور چیئر تھامس ساؤ کی سربراہی میں ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی بے پناہ استعداد موجود ہے جس کے لئے دونوں فریقین بھرپور کام کر رہے ہیں،دونوں ممالک کی درمیان بزنس ٹو بزنس روابط بڑھانے کے حوالے سے گزشتہ روز پاکستان ملائیشیاء بزنس اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد انتہائی خوش آئند ہے،ہم کاروبار کے لیے دوستانہ ماحول بنانے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں،خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل بیرونی سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے ، پاکستان کے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم پر گوبی پارٹنرز کے اعتماد خوش آئند ہے،حکومت پاکستان سرمایہ کاری سہولت اور بنیادی ڈھانچے تک بہتر رسائی کے ذریعے سٹارٹ اپس اور ابتدائی مرحلے کے سرمایہ کاروں کی مدد کے لیے مرکوز اصلاحات پر کام کر رہی ہے، ایک پائیدار سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی اور ملکی سرمایہ کو متحرک کرنا ہماری ترجیح ہے،ڈیجیٹل معیشت خاص طور پر فنٹیک، ای کامرس، اور آئی ٹی خدمات ہماری قومی ترقی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، ہم پاکستان کے آئی ٹی، ٹیک، اور اے آئی کے شعبوں میں وسیع استعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے متعلقہ بین الاقوامی بزنس گروپس اور سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کریں گے،

    گوبی پارٹنرز کے وفد نے پاکستان میں ای-کامرس اور فنانشل ٹیکنالوجیز کے شعبے میں اشتراک میں گہری دلچسپی دکھائی،ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ،وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ, وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔

  • جعفر ایکسپریس ٹرین  پھر نشانے پر،دھماکے سے دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

    جعفر ایکسپریس ٹرین پھر نشانے پر،دھماکے سے دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

    کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پھر نشانے پر،40 ڈاؤن جعفر ایکسپریس کو سلطان کوٹ کےقریب حادثہ، دھماکے سے دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ ٹرین صبح پر شکارپور سے جیکب آباد کے لئے روانہ ہوئی تھی

    سندھ کے ضلع شکارپور کے علاقے سلطان کوٹ کے قریب سومرو واہ ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کے دو ڈبے پٹڑی سے اتر گئے، جس کے باعث چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔پولیس کے مطابق دھماکہ سومرو واہ کے قریب اُس وقت ہوا جب جعفر ایکسپریس موقع سے گزر رہی تھی۔ دھماکے سے ٹریک کا ایک حصہ تباہ ہوگیا جبکہ ٹرین کے دو ڈبے پٹڑی سے اترنے کے باعث متعدد مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا تاکہ جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا جا سکے۔

    ڈی پی او شکارپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دھماکہ ایک دستی ساختہ بم کے ذریعے کیا گیا، تاہم حتمی رائے تفتیش مکمل ہونے کے بعد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ریلوے نظام کو نقصان پہنچانے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

  • خیبر پختونخوا ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات،سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن

    خیبر پختونخوا ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات،سیکورٹی فورسز کا سرچ آپریشن

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بدامنی کے متعدد واقعات پیش آئے جن میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ خوش قسمتی سے تمام واقعات میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم املاک کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    اپر اورکزئی: پولیس چیک پوسٹ کے قریب دھماکہ
    اپر اورکزئی میں کُرپا پولیس چیک پوسٹ کے قریب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شوکت علی کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار کو جزوی نقصان پہنچا۔پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ بم ڈسپوزل اور فرانزک ٹیمیں دھماکے کی نوعیت جانچنے میں مصروف ہیں۔ ڈی پی او شوکت علی کا کہنا ہے کہ "پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے، تحقیقات جاری ہیں۔”

    لوئر دیر: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش
    لوئر دیر کے تحصیل لال قلعہ میدان کے علاقے مرجان خوڑ کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے گزرنے کے دوران سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم پھٹ گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملے میں ملوث عناصر کا سراغ لگایا جا سکے۔

    لکی مروت: پولیس افسر کی گاڑی پر حملہ
    لکی مروت کے علاقے بیست خیل گیٹ کے قریب ورغری بیٹنی پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم تمام افسران محفوظ رہے۔ دھماکے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور ملزمان کا تعین کیا جا سکے۔

    بلوچستان: خاران میں عدالتی عمارت پر دہشتگردوں کا حملہ
    بلوچستان کے ضلع خاران میں دہشتگردوں نے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کر کے عمارت کو آگ لگا دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور ڈیوٹی پر موجود جج جان محمد کو اغوا کر کے فرار ہوگئے۔واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جج کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    بولیدہ: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش
    بلوچستان کے علاقے بولیدہ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم سے حملہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ معمول کے گشت کے دوران ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    خضدار: سیکیورٹی قافلے پر بم حملہ
    خضدار میں بھی ایک الگ دیسی ساختہ بم دھماکہ رپورٹ ہوا جو مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ دھماکے سے گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔

    ڈیرہ مراد جمالی: تعمیراتی مقام سے مزدور اغوا
    بلوچستان کے ضلع ڈیرہ مراد جمالی میں زیر تعمیر بے نظیر میڈیکل کالج سے نامعلوم مسلح افراد نے متعدد مزدوروں کو اغوا کر لیا۔پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور تعمیراتی مقام پر پہنچے اور مزدوروں کو زبردستی گاڑیوں میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اغواکاروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔

  • انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل ، اصل حقیقت اور سچائی، آپکے سوال اور  مبشر لقمان کے جوابات

    انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل ، اصل حقیقت اور سچائی، آپکے سوال اور مبشر لقمان کے جوابات

    وی لاگ کے آغاز میں مبشر لقمان نے ناظرین کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے آنے والے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، اور آڈیو سوالات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیغام گویا اور واضح رہے۔

    ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ بعض نقطۂ نظر کے مطابق حماس کے بعض اقدامات اسرائیل کو مطلوبہ سیاسی اور عسکری نتیجے دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی تباہی اور جانی نقصان اصل میں اسرائیلی حملوں سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دونوں جانب انسانی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کی پیچیدگی پر زور دیا۔

    پاک-ہند تعلقات اور ممکنہ جنگی منظرنامے
    مبشر لقمان نے کہا کہ اگرچہ نظریاتی طور پر دونوں ملک نیوکلیئر صلاحیت رکھتے ہیں، مگر عالمی سطح پر کوئی بھی طاقت اس حد تک کشیدگی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تب ابتدائی موبلائزیشن میں 12 تا 15 دن درکار ہوں گے اور اندرونی سیاسی معاملات (مثلاً انتخابی کیلنڈر) اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی طور پر خود کفیل ہے اور ضروری جنگی ضروریات کی بڑی مقدار مقامی صنعتیں فراہم کر رہی ہیں، نیز سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھی ایک اہم عنصر ہے۔

    وی لاگ میں مبشر لقمان نے JF-35 طیاروں کے بارے میں کہا کہ وہ رواں سال نومبر–دسمبر میں پاکستان کو موصول ہونے کی اطلاعات ہیں (بیان صرف وی لاگ میں موجود کلیم تک محدود ہے) اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ موجودہ فضائی اور بحری صلاحیتیں مطلوبہ ردعمل دینے کے قابل ہیں۔

    سی پیک، چین اور علاقائی حکمتِ عملی
    انہوں نے ذکر کیا کہ سی پیک (CPEC) پاکستان کی مفاد میں ہے اور اس کے سبب علاقائی متنازعہ فریقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصر نے یہ بھی کہا کہ چین نے پہلے ہندوستان کو بھی اسی منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے ہندوستان نے قبول نہیں کیا۔

    عوامی ذمہ داریاں: ماحولیات اور پانی کی حفاظت
    مبشر لقمان نے عوامی شراکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دو عملی مشورے دئیے: (1) درخت لگائیں — آکسیجن اور صحت کے لیے مفید، (2) پانی کی بچت کریں — روزمرہ کے غیر ضروری پانی کے استعمال پر قابو پائیں۔ انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ خود ان کے گھر میں بعض چیزیں ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں لیکن وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    تحفّے اور رشوت میں فرق
    ناظرین کے سوال پر مبشر لقمان نے واضح کیا کہ تحفہ اور رشوت میں فرق سمجھنا ضروری ہے — سادہ تحفے باہمی تبادلے ہوتے ہیں، جب کہ ایسی چیزیں جو وصول کنندہ واپس نہیں کر سکتا یا جن کا تعلق اختیارات/فوائد کے بدلے میں ہو وہ رشوت کہلائیں گی۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر پاکستان واقعی اسلامی قوانین کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو سود (ربا) کا خاتمہ اہم شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سود کا نظام برقرار رہے گا، وہ ملک کو اسلامی ریاست نہیں کہلائے گا — یہ ان کا ذاتی موقف تھا جو انہوں نے ناظرین کے سوال کے جواب میں واضح کیا۔

    غیرقانونی مقیم افغانوں اور شناختی کارڈز
    ایک اور سوال پر انہوں نے غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی شکایات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ایسے معاملات پر کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ بعض غیر قانونی حرکات پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حقیقی پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل عموماً مقامی حکومتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات پر ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتیں مکمل اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں چونکہ شفاف نظام میں موجود بعض قوتیں متاثر ہوں گی۔

    طالبان کا بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے کرنے سے انکار

    کراچی میں ستمبر کے دوران جرائم کی صورتحال، سی پی ایل سی رپورٹ جاری

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

  • پاک فضائیہ نے بھارت کے ایس-400 سسٹمز کا کیسےسراغ لگایا؟

    پاک فضائیہ نے بھارت کے ایس-400 سسٹمز کا کیسےسراغ لگایا؟

    مئی کے تنازع کے دوران پاک فضائیہ (پی اے ایف) نے بھارت کے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی لوکیشن اس وقت معلوم کرلی جب ان کے ریڈار آن ہوئے۔

    یہ نشاندہی دو آزاد ذرائع سے ممکن ہوئی،پہلا پی اے ایف کے گراؤنڈ بیسڈ ایئر ڈیفنس ریڈار (GBADR) نیٹ ورک کے ذریعے، اور دوسرا چینی آئی ایس آر سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے ریڈیو فریکوئنسی انٹرسیپٹس (RFI) کے ذریعے۔بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) نے ایس-400 سسٹمز کو مستقل تنصیب کے بجائے موبائل انداز میں استعمال کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے تاکہ یوکرین-روس جنگ سے حاصل شدہ سبق کے مطابق خطرات کم کیے جا سکیں۔ تاہم اس حکمتِ عملی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ سسٹمز کی نقل و حرکت کے دوران طویل وقفے تک یہ غیر فعال رہتے ہیں۔

    عالمی سطح پر ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایئر ڈیفنس اور اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے کے لیے اسرائیل، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک "ریڈ اور بلیو” پیٹریاٹ بیٹریز کی پرت دار تنصیب کرتے ہیں، تاکہ ایک نظام متواتر فعال رہے اور دوسرا دیکھ بھال یا دوبارہ تنصیب کے عمل سے گزر سکے۔بھارتی فضائیہ نے "ریڈ-بلیو” ماڈل کو کچھ حد تک آکاش اور پیچورا سسٹمز کے ساتھ اپنایا ہے، تاہم ایس-400 جیسے بڑے اور موبائل نظام پر اس حکمتِ عملی کو مؤثر انداز میں لاگو کرنا ابھی بھی ایک چیلنج ہے۔

    ماہرین کے مطابق گوگل سیٹلائٹ امیجری میں بھوج ایئرفورس اسٹیشن پر دو 40V6MR موبائل ماسٹ سسٹمز دکھائی دیے ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بھارت نے ایس-400 کو بھی "ریڈ-بلیو” ماڈل پر تعینات کرنے کی کوشش کی ہے۔

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں،قصور،جلال پور پیر والا،علی پور میں خشک راشن تقسیم

  • توشہ خانہ ٹو، حتمی مرحلہ، 342 کا سوالنامہ عمران خان اور بشری بی بی کو دے دیا گیا

    توشہ خانہ ٹو، حتمی مرحلہ، 342 کا سوالنامہ عمران خان اور بشری بی بی کو دے دیا گیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس حتمی مراحل میں داخل ہو گیا۔

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی،توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 342 بیان کا سوالنامہ فراہم کر دیا۔ دونوں ملزمان کے سوالنامے 29-29 سوالات پر مشتمل ہیں،بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے گواہ نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون پر جرح کی، توشہ خانہ ٹو کیس کے تمام گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل کر لی گئی۔ کیس میں کُل 20 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی عدالت کے سوالنامے کا جواب 8 اکتوبر کو جمع کرائیں گے،بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں، سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر سیف، بیرسٹر علی ظفر، مشال یوسفزئی، وکیل احمد مصر سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

    علیمہ خان نے کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کے مطابق اس ہفتے میں توشہ خانہ ٹو میں یہ سزا سنا دیں گے۔ کیونکہ 16 کو القادر کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہے،س اروں کو پتہ ہے کہ عمران اور بشریٰ کو انہوں نے سزا دینی ہے.کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج راجہ انعام منہاس یا تو چھٹی پر چلے جائیں گے یا بیمار ہو جائیں گے کیونکہ کل توشہ خانہ کیس کی سماعت ہے،یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جج منہاس کل سماعت کرے ،

  • سندھ اور پنجاب کا کوئی مقابلہ نہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جنگ شدید

    سندھ اور پنجاب کا کوئی مقابلہ نہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جنگ شدید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سندھ اور پنجاب کا موازنہ نہیں، پنجاب کی گورننس بہتر ہے،اسلام آباد میں پولیس پریس کلب میں گھسی،طلال چوہدری تو معافی مانگ رہے لیکن محسن نقوی کیوں نہیں سامنے آئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ صحافیوں کا احتجاج حق ہے اور جائز،بالکل صحیح ہے، جو اسلام آباد کے اندر ہوا وہ قابل مذمت ہے، اسکا کوئی جواز نہیں بنتا، اگر تین چار صحافیوں کو جلوس میں یا ادھر ادھر کہیں مار پڑی ہوتی تو میں سمجھتا کہ غلط شناخت پر مار پڑ گئی،لیکن یہ نیشنل پریس کلب ہے، اس کے اندر گئے ہیں، چادر و چار دیواری کو پامال کیا،عہدیداروں، صحافیوں کو مارا، سامان توڑا، وہاں پر گئے جن کشمیریوں کی وجہ سے ان میں سے کسی کو نہیں مارا،کسی کو نہیں پکڑا، یہ ٹارگٹڈ حملہ تھا صحافیوں پر، کبھی طلال چوہدری آ جاتے ہیں کہ معافی مانگتا ہوں لیکن محسن نقوی نہیں آئے جو صحافی بھی ہیں، پانچ چھ چینلوں کے مالک ہیں،عطا تارڑ بھی نہیں آئے،اس سے لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ کسی طرح معاملہ دب جائے اور جو اصل لوگ ہیں ان کا نام سامنے نہ آئے، میری افضل بٹ سے بات ہوئی تھی، میں سمجھتا ہوں پریس باڈی اور میڈیا کے لوگ،بڑے سلجھے ہوئے طریقے سے پورے کیس کو ہینڈل کر رہے ہیں ورنہ نام لگانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں،ایک سیکنڈ میں کہہ سکتے تھے کہ یہ اس نے کیا،لیکن نہیں کیا گیا، احتجاج کرناآئینی،جمہوری حق ہے

    اینکر بشریٰ خان کے ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں حکومت میں ہیں اور کوئی بھی حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں،یہ لڑائی نوراکشتی یا ہماری نظریں کسی چیز سے ہٹا رہے ہیں، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مریم نواز کے ایڈوائزر نے انکو اچھا ایڈوائز نہیں کیا کہ پانی پر بات کریں‌لیکن جنرل بات کریں، تیسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ سمجھتی ہوں کہ انہوں نے یہ کیا یہ کیا، اس صورت میں تو معافی مانگنے کی ضرورت ہے، ایک کی سٹیٹمنٹ کے مقابلے میں چار کا جواب آیا، پیپلز پارٹی کے لوگوں کو الفاظ کی حرمت کاپتہ ہے،وہ چن کر بات کرتے ہیں، مریم نوازکو شاید اس طرح سیاسی زبان استعمال کرنا نئی چیز ہے،کئی چیزوں پر مریم کی بات بھی صحیح نہیں، اور کئی پر اعتراضات بھی صحیح نہیں، سندھ اور پنجاب کی گورننس کا مقابلہ نہیں کر سکتے، پنجاب بہت بہتر ہے، سندھ میں جائیں تو کانوں کو ہاتھ لگائیں گے،میں ابھی کراچی گیا تھا تو دیکھا کہ ہر سڑک کیوں کھدی ہوئی ہے، وہاں وفاقی حکومت کام کر رہی، ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے فنڈ دیا باقی اداروں نے بھی دیا ،وہ کہاں لگ رہا ہے اسکا کوئی جواب نہیں آیا، پنجاب سے گورننس کا کیا مقابلہ کر رہے ہیں، ہمیں جو چیزیں نظر آ رہی ہیں انکی بات کر لیتے ہیں.

  • سعودی حکومت کا عمرہ پالیسی میں بڑا فیصلہ، ہر ویزے پر عمرہ کی اجازت

    سعودی حکومت کا عمرہ پالیسی میں بڑا فیصلہ، ہر ویزے پر عمرہ کی اجازت

    سعودی عرب کی حکومت نے عمرہ کے خواہش مند افراد کے لیے پالیسی میں ایک اور اہم اور سہل قدم اٹھاتے ہوئے اسے مزید آسان بنا دیا ہے۔

    سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ اب دنیا بھر سے آنے والے زائرین کسی بھی قسم کے ویزے پر عمرہ ادا کرسکیں گے۔ اس میں وزٹ ویزہ، فیملی ویزہ، سیاحتی ویزہ اور ٹرانزٹ ویزہ رکھنے والے تمام افراد شامل ہیں۔وزارت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے، جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا اور عمرہ کے تجربے کو آسان و خوشگوار بنانا ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ "نسک” (Nusuk) نامی عمرہ پورٹل کو جدید خطوط پر اپ ڈیٹ کردیا گیا ہے تاکہ زائرین باآسانی عمرہ کی بکنگ، رہائش اور دیگر انتظامات آن لائن انجام دے سکیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ نسک ایپ کے ذریعے زائرین اپنے سفر، اجازت ناموں اور دیگر سہولیات کی تفصیلات چند منٹوں میں حاصل کرسکیں گے۔

    سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق یہ سہولت نہ صرف عرب ممالک بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے کھولی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو حرمین شریفین کی زیارت اور عمرہ کی سعادت حاصل ہوسکے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس پالیسی کے تحت ہر وہ شخص جو سعودی عرب میں کسی بھی قانونی ویزے پر داخل ہوگا، وہ مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کرنے کا حق رکھے گا، بشرطیکہ وہ مقررہ شرائط اور ہدایات پر عمل کرے۔یہ اعلان سعودی عرب کے زیارت و عمرہ کے انتظامی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے لاکھوں مسلمانوں کو سہولت اور روحانی سکون میسر آئے گا۔

  • پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کیلئے کوششیں جاری

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیل قید سے رہائی کے لیے مسلسل اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اردن کے دارالحکومت عمان میں قائم پاکستانی سفارتخانہ مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے اردنی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی جلد از جلد ممکن بنائی جا سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ اردن کی حکومت کی جانب سے غیر معمولی تعاون حاصل ہوا ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ عمل کامیابی سے مکمل کر لیا جائے گا۔وزارتِ خارجہ نے اردن کی "برادر حکومت” کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں جس طرح اردنی حکام نے پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید مثال ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اس حوالے سے وزارتِ خارجہ دن رات سرگرمِ عمل ہے۔ وزارت نے عوام کو یقین دلایا کہ مشتاق احمد خان کی رہائی تمام مراحل کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔