Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

    مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

    مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 25سال پہلے پارٹی کا آغاز کیاتو اس کا نام انصاف کی تحریک رکھا

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاست میں اس لیے آیا کہ ملک کے لیے کچھ کرسکوں خواہش تھی کہ تعلیم ،صحت اور انصاف کا نظام مضبوط ہو،خوش قسمت تھا دنیا کی ہر نعمت میسرتھی،سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی بھارت میں اتنی غربت تھی جوکسی اورملک میں نہیں تھی،آج بھارت ،بنگلہ دیش اوردیگر غریب ممالک آگے نکل گئے،وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جہاں قانون کی بالادستی ہو،سیرت النبی ﷺ پر عمل سے ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا میری بیٹی بھی چوری کریں تو ہاتھ کاٹ دیا جائے،پرویزمشرف نے این آر او دیکر سب سے بڑا جرم کیا،ہم نے وکلا کی تحریک میں حصہ لیا جو ایک تاریخی جدوجہد تھی،وکلا کی تحریک کے جونتائج آنے چاہیے تھے وہ بدقسمتی سے نہیں آئے، اب تو سارے اکٹھے ہوکر کہتے ہیں ہمیں این آراو دیں،ملک میں خوشحالی اس وقت آئے گی جب قانون کی بالادستی ہوگی،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی قیمتی اثاثہ ہیں،یہ جب پلاٹ لیتے ہیں تو قبضہ گروپ قبضہ کرلیتے ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بہترین فیصلے دیئے گرین ایریاز میں ہمیں چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی ضرورت ہوتی ہے،طاقت ور کبھی انصاف نہیں مانگتا ،کمزور ہی طاقت ور سے انصاف کی جنگ لڑتا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام پہلے ہی ہونا چاہیے تھا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

    میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس، وکلاء مشکل میں پھنس گئے

    ہم سب ٹرائل پرہیں، اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہوں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل سے آزادی حاصل کی،سستا اور فوری انصاف ہرشہری کا بنیادی حق ہے،ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام انتہائی اہم تھا، جب سچی گواہی ناپید ہوجائے توانصاف کی فراہمی میں مشکل پیش آتی ہے قانون کی بالادستی ہوگی تو کمزور طبقوں کو انصاف فراہم ہوسکے گا سٹرکٹ کورٹس کے بغیر ججز اوروکلا کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،کسی بھی شہری کوسستے اور فوری انصاف سے محروم نہیں ہونے دیں گے یقیناً آپ اس بات کے مستحق ہیں کہ جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ کے ہاتھوں سرانجام پارہا ہے۔جناب وزیراعظم صاحب 2007 کی وکلاء تحریک میں آپ کا کردار نہایت اہم اور کلیدی تھا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ج اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا ،ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت 93 کورٹس پر مشتمل ہوگی۔ اسلام آباد میں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے مارکیٹ ایریا کو عدالت بنایا ہوا ہے جہاں نہ تو جج صاحبان کے لیے کوئی سہولت ہے اور نہ ہی سائلین انصاف کے لیے۔ موجودہ سیٹ اپ میں سیکورٹی کے خدشات ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سی ڈی اے نے ڈسٹرکٹ کورٹس کی تعمیر کی ذمہ داری لی۔گذشتہ پی سی ون6.5 ارب روپے پر مبنی تھا۔ اب نہ صرف ڈیزائن کو بہتر کیا گیا ہے بلکہ تعمیراتی لاگت میں تقریبا ڈیڑھ ارب کمی لائی گئی ہے۔اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی برؤے کار لاتے ہوئے چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔چار دہائیوں کے بعد موجود حکومت کی جانب سے ایک بنیادی ضرورت کو پورا کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سائلین اور وکلا کی سہولت کے لیے بھی علیحدہ انتظام کیا جا رہا ہے۔

    ستر سال سے کچھ نہیں ہوا،موجودہ حکومت نے بہت کچھ کیا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

  • امریکہ سے سپر پاور کا تمغہ چھن چکا،انقلاب کے لیے تیار رہو، آگے بڑھنا ہے ،مولانا فضل الرحمان

    امریکہ سے سپر پاور کا تمغہ چھن چکا،انقلاب کے لیے تیار رہو، آگے بڑھنا ہے ،مولانا فضل الرحمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں آئین کی بالا دستی چاہتے ہیں،

    لیاقت باغ راولپنڈی میں قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن نےختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرامی قدر جناب حضرت ناصرد الدین خاکوانی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے روح رواں جناب مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرات علمائے کرام راولپنڈی کے تاجر تنظیموں کے قائدین جناب شرجیل میر صاحب، جناب شاہد غفور پراچہ صاحب، ملک ارشد اعوان صاحب، شمع رسالت کے پروانوں تاجدار ختم نبوت آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کے لیے قربانی دینے والوں کلمہ حق کی سربلندی کے لئے خون کا نذرانہ پیش کرنے والوں، میرے بزرگوں، میرے جوانوں، میرے دوستو اور بھائیو! میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آج انہوں نے اس مقدس عنوان پر جو عظیم الشان کانفرنس منعقد کی، مجھے بھی اس قابل سمجھا کہ میں ان کے اس اجتماع میں شریک ہوجاؤں اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حقدرا بن جاؤں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میرے محترم دوستو! مجھے اعتراف ہے اس بات کا کہ عقیدہ ختم نبوت کے قلعے میں نقب لگانے والوں کو روکنے اورعقیدہ ختم نبوت کے سرحدات کی تحفظ کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکن ہمیشہ ایک چوکیدار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ امت غافل ہوجائے تب بھی یہ جاگتے رہتے ہیں۔ آج چھ ستمبر کے حوالے سے جب ہم سن 1965 کے ہندوستان کی جارحیت کے مقابلے میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی قربانیوں نے، جن کے ضرب مومن نے ہندوستان کو دندان شکن جواب دیا تھا اور پاکستان کے جغرافیائی سرحدات کا تحفظ کیا تھا، آج اسی مناسبت سے میں ختم نبوت کے ان پروانوں کو خراج عقیدت پیش کرتاہوں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی سرحدات کے لیے چوکیداری کا کردار ادا کیا ہے، سپاہی کا کردار ادا کیا ہے۔ برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ جب قا د یان کی سرزمین سے اٹھا تو اس کے سرکوبی کے لیے پنجاب کے علماء میدان میں نکلے، اور اس طبقے کے سرخیل حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ میدان میں آئے اور اس فتنے کو للکارا اور پوری قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔ پارلیمنٹ میں جب مسئلہ حل ہوا، قا د یا نی ہو یا لا ہوری، غیر مسلم قرار دیے گئے یقیناً ان تمام اکابرین کی روح کو تسکین ہوئی ہوگی جنہوں نے اس عقیدے کی تحفظ کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی تھی اور آج کا اجتماع بھی ان کی پاک ارواح کی تسکین کا سبب بنے گا، اللہ تعالیٰ ایسا ہی فرمادیں۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مولانا اللہ وسایا صاحب نے پچھلے حکمرانوں کا تذکرہ کیا، مختلف ادوار کا تذکرہ کیا لیکن جس سنجیدگی کے ساتھ آج کے اس دور میں، موجودہ حکمرانوں کے دور میں ہم پر امتحان آیا، شاید اس بڑا امتحان اس سے پہلے نہیں آیا تھا، جس کے ایجنڈے پر یہ بات موجود ہو کہ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کیا جائے، جن کے ایجنڈے پر یہ بات موجود ہو کہ قا د یا نیو ں کی غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی شق ختم کیا جائے یا انہیں غیر مؤثر بنایا جائے، ہم سیاسی کارکن ہیں اور ہم ان سیاسی غلام گردشوں میں ایک زمانے سے اوارہ گردی کرکے نظر آرہے ہیں، ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ان غلام گردشوں کے کس کوچے میں کون کیا کر رہا ہے، ان کے مقاصد کیا ہیں، ہم اللہ کے شکر گزار ہیں، اور میں علی الاعلان آپ کے سامنے اپنے رب العالمین کا شکر ادا کرتے ہوئے آپ کو اطمینان دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے ان کے ایجنڈے کو ناکام بنایا ہوا ہے۔ اب وہ بڑی معصومیت کے ساتھ اپنا چہرہ بنا کر کہتے ہیں کہ ہمارا تو ایسا کوئی پروگرام نہیں تھا، تمہیں جتنا میں جانتا ہوں شاید کوئی نہیں جانتا، تمہاری اندر کی خباثتوں کو، اور تمہاری ذہنی غلاظتوں کو جتنا میں سمجھتا ہوں شاید کوئی دوسرا مولوی اتنا سمجھتا۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ عالمی سطح پر تمہارے پشت پر کون ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ کس لابی کی تم یہاں نمائندگی کرکے آئے، کس عالمی قوت کی دباؤ پر تمہیں دھاندلی کرکے اقتدار حوالے کیا گیا، ہمیں یہ سب معلوم تھا لیکن عالمی قوتوں کے مقابلے میں ان فقیروں کی جماعت نے اپنے رب العالمین پر اعتماد کرکے عالمی آقاؤں کو بھی چیلنج کیا، اور تمہیں بھی چیلنج کیا اور تمہارے عالمی آقاؤں کے ایجنڈے کو بھی پاکستان میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ برطانوی پارلیمنٹ نے 42 ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخطوں سے جو ایک زخین کتاب رپورٹ کی صورت میں شائع کی، سن 1954 سے یعنی سن 1953 کی تحریک کے بعد سے سالانہ رپورٹ آج تک تفصیل کے ساتھ شائع کی، اس روپورٹ میں یہ نہیں کہا کہ جمعیت علماء نے کیا کیا؟ اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ احرار اسلام نے کیا کیا؟ اس رپورٹ میں یہ نہیں کہا کہ عالمی مجلس تحفظ نے کیا کیا؟ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ کونسی مذہبی جماعت نے کیا کیا؟ اس میں کہا گیا کہ پاکستان کے ریاست نے قا د یانیو ں کے ساتھ زیادتیاں کی ہیں اور جبر کیا ہے اور ظلم کیا ہے۔ پاکستان کو بحیثیت ریاست ذمہ دار قرار دینے کی رپورٹ آئی، ہم نے بار بار کہا کہ ریاست جواب دیں میری ریاست اور اس کی نمائندہ حکومت کیوں چپ ہے کیوں ان کی زبان کو گھن لگ گیا ہے؟ مسئلے کو زرا سمجھنے کی کوشش کریں ہم جلوسوں میں جواب دے رہے ہیں، جبکہ وہ ذمہ دار ریاست کو قرار دے رہے ہیں اور ریاست کیوں خاموش ہے؟ یہ خاموشی ایک مجرمانہ خاموشی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب ہم ایسی باتیں کرتے ہیں تو ایک طبقہ پاکستان میں موجود ہے جو فوراً ہماری طرف مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ یہ مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہیں، مذہبی کارڈ کیا ہوتا ہے؟ مذہب ایک نصب العین ہے، دین اسلام ہمارے ایک نصب العین ہے، یہ کارڈ نہیں ہے، یہ نظریہ ہے، یہ عقیدہ ہے اور اس کے غلبے کی جنگ لڑتے رہیں گے، کسی کا باپ بھی ہمیں اس نظریے سے دستبردار نہیں کرسکتا۔ہم تو پاکستان میں ہمیشہ میدان عمل میں رہے ہیں، کبھی پیچھے نہیں ہٹے، لیکن عالمی قوتوں نے اف غا نستا ن پر یلغار کیا، وہاں کی حکومت اور اما رت اسلا میہ کا خاتمہ کیا، بیس سال جنگ لڑی گئی، اور بیس سال کے بعد اب عالمی قوتیں شکست کھا کر چلی گئی، کچھ ہمیں سیاسی نتائج اخذ کرنے ہونگے، برطانیہ نے اف غا نست ان پر قبضہ کیا، وہاں شکست کھائی، شکست کھانے کے بعد وہ ہندوستان پر اپنے قبضے کو برقرار نہیں رکھ سکا۔ مسئلہ صرف افغا نستا ن کا نہیں، جس طاقت کے غلبے کا غرور لے کر تم ایک کمزور قوم پر چھڑائی کرتے ہو، کمزور قوم صرف اپنی استقامت دکھاتی ہے، اور اپنے رب پر توکل کرتی ہیں۔ سویت یونین آیا، اس نے اف غا نستا ن پر قبضہ کیا لیکن شکست کھائی نتیجہ آپ نے دیکھا کہ سویت یونین اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکا۔ آج ہم یہی پیغام امریکہ کو بھیجنا چاہتے ہیں اور علی الاعلان کہتا ہوں کہ افغا ن ستان میں امریکہ شکست کھاجانے کے بعد اور شکست کھا کر بھاگ جانے کے بعد اس کو اب حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو دنیا کی سپر طاقت کہہ سکے، سپر طاقت کا تمغہ اس کے سینے سے اتر چکا ہے۔ پاکستانیوں ڈرتے کیوں ہو؟ جب ہم آپ کے سٹیج پہ آتے ہیں، تو تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ختم نبوت ایک غیر سیاسی مسئلہ ہے خالصتاً عقیدے کا مسئلہ ہے اور پھر ساتھ ساتھ آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ہم نے قا دیا نیو ں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا، تو پھر سیاست سے جڑا ہوا مسئلہ ہے نا۔ اور میں تو صرف پاکستان کی پارلیمنٹ کا مثال نہیں دونگا، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم نبوت کا تذکرہ سیاست کی ذیل میں کیا، فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے، سیاست کا معنیٰ ملک کی ملی اور اجتماعی امور کا انتظام اور انصرام، یہ انبیاء کے ہاتھ میں ہوتا تھا، ایک پیغمبر جاتے تھے دوسرا ان کی جگہ لیتا تھا، اور اب میں آخری پیغمبر ہوں یعنی اب دنیا کے انتظام و انصرام اور ان کا سیاسی نظام اب میرے ہاتھ میں ہے، میرے بعد نبی نہیں آئے گا البتہ میرے نائب آئیں گے، خلیفہ آئیں گے اور بڑی تعداد میں آئیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی ختم نبوت کا ذکر سیاست کی ذیل میں فرمائے، ہم بھی پاکستان میں اپنی فتح کے جھنڈے اٹھاتے ہیں، پارلیمنٹ کے حوالے سے اٹھاتے ہیں، اور پھر جب الیکشن ہوتا ہے تو راولپنڈی والے ایک بھی مولوی کو ووٹ دینے کو تیار نہیں! تو پھر ہمارا حق بنتا ہے آپ کے اوپر یا نہیں؟ میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں، تمام تاجروں سے کہنا چاہتا ہوں، سیاسی قوت بناؤ، سیاسی قوت نہیں ہوگی تو ساری زندگی غلام ابن غلام ابن غلام بن کر رہو گے۔ آزادی و حریت یہ میری تاریخ ہے، آزادی و حریت کے لیے قربانیاں یہ میرے اکابرین سے ملی ہیں اگر میں اپنی آزادی اور حریت پر کمپرومائز کرتا ہوں تو مجھے اپنے اکابر کا نام لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایک کمٹمنٹ ہونی چاہیے، کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، جدوجہد ہماری ذمے ہے نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن استقامت ہے نتیجے میں اللہ کامیابی ضرور عطاء کرتا ہے۔

    فغان طالبان کے ساتھ پاکستان سے کون کونسی جماعت نے رابطہ کیا؟ اہم انکشاف

    خبردار،یہ کام کیا تو سختی سے نمٹیں گے، طالبان ترجمان، روسی سفیر کے ساتھ ملاقات طے

    ترکی افغان پناہ گزینوں کو روکے گا،طالبان کا سرکاری ملازمین کو بڑا پیغام

    اشرف غنی کو اقتدار کی منتقلی کا منصوبہ نہ بنانے پر معاف نہیں کرسکتے،سربراہ افغان مرکزی بینک

    امریکا کا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے مشروط رضا مندی کا اظہار

    وزیر خارجہ کا چینی ہم منصب سے رابطہ،افغانستان کی بدلتی صورتحال پرتبادلہ خیال

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اور آج تو پاکستان میں پارلیمنٹ بھی ایسی پارلیمنٹ ہے کہ کسی سنجیدہ مجلس میں اس کا تذکرہ کرنے پر ہنسی آتی ہے، ڈمی قسم کا پارلیمنٹ اور ڈمی قسم کی حکومت اور قوم کے لیے ایک شرمندگی، اب خود کہتا ہے کہ امریکہ کا صدر مجھے فون نہیں کرتا، اور پھر خود کہتا ہے کہ مودی میرا فون نہیں اٹھاتا۔ یہ ہے خارجہ پالیسی؟ یہ ہے دنیا کی نظروں میں پاکستان کی اہمیت؟ اور آج جب اف غا نستا ن کی صورتحال بدلی، تو ظاہر ہے کہ پاکستان اس خطے کا اہم ترین سٹیک ہولڈر ہے لیکن سلامتی کونسل کا فوری اجلاس جو اف غا نستا ن کے حوالے سے بلایا گیا، پاکستان کے مندوب کو اس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی ہے؟ ہم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن میں ایک قرارداد پیش کی اور قوم کو کیا کہا؟ قوم سے کہا گیا ہمارے پاس 57ممالک کا ووٹ ہیں، 57 ممبر ہمارے ساتھ ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس فورم کے انسانی حقوق کمیشن کے کل اراکین ہی 47 ہے 57 ہے ہی نہیں۔ یہ ان کی صلاحیتیں ہیں اور ان صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ قوم کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر پتہ چلا کہ 47 ممالک میں اور اس فورم پر صرف 16 ممبران کے دستخط چاہئیے تب جا کر قرارداد پیش کی جاسکتی ہیں، ہمیں قرارداد پیش کرنے کے لیے 16 اراکین بھی نہ ملے۔ کہاں کھڑے ہیں ہم لوگ؟ ہم نے اپنے گرد و پیش کو ناراض کیا ہے، ہمیں ایک مستحکم نظام چاہیے جو آپ کے عقیدے کابھی تحفظ کرے اور پاکستان کی مفادات کا بھی تحفظ کرے۔ صرف نعروں سے کام نہیں چلتا، زبانی گفتگو کسی کام کی نہیں ہوتی جب تک کہ اس زبانی گفتگو کے پیچھے آپ کا عقیدہ نہ ہو اور آپ کا عہد و پیمان نہ ہو۔ ہم ملک کو کمزور رہے ہیں، پاکستان کی معیشت جو پچھلی حکومت نے سالانہ ترقی کا تخمینہ ساڑھے پانچ فی صد اور اگلے سال کے لیے ساڑھے چھ فی صد رکھا گیا تھا، حکومت تبدیل ہوئی اور ہمارا سالانہ ترقی کا تخمینہ زیرو سے نیچے آگیا۔ یہ دن بھی ہم نے دیکھے ہیں، معیشت کمزور اور آپ دنیا میں تعلقات قائم بناسکیں گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، غلام بن کر رہو گے۔ تو اس اعتبار سے ہمیں ہمہ جہت دیکھنا ہوگا، ہمیں ملک کی ترقی کا سوچنا ہوگا، ہم پوری ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں، آئین کے اسلامی دفعات کا تحفظ یہ ان شاءاللہ ہماری ذمہ داری ہوگی اللہ کے فضل و کرم سے یہ جنگ لڑتے رہیں گے۔ ہر ملک اور ہر قوم کی ایک شناخت ہوتی ہے، ہمارے پاکستان کی شناخت دین اسلام ہے، مذہبی کارڈ کا کیا معنیٰ؟ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس ہوتی ہے جس کا مسودہ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں اور وہ قرارداد نواب زادہ لیاقت علی خان پیش کرتے ہیں وزیر اعظم پاکستان، جس میں اللہ کی حاکمیت کا عہد و پیمان کیا جاتا ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بات ہوتی ہے، قوم کے نمائندے اللہ کی نیابت کا مقام اس میں دیا گیا ہے، لیکن مستقل آئین ہمیں ملا سن 1973 میں، سن 1973 میں اسلامی نظریاتی کونسل بنی اور اس لیے بنی تاکہ ان کی سفارشات پر قانون سازی کی جائے جہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون ہے اس کو تبدیل کیا جائے، سن 1973 سے لے کر آج تک، آج تک وہاں پر کوئی دوسری قانون سازی نہیں ہوئی اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات کے مطابق۔ اسمبلی ان لوگوں سے بھر دی جاتی ہے کہ جن کو قرآن و سنت میں دلچسپی ہی نہیں ہوتی، تو کیسا آئے گا نظام؟ کیسے آئیگی تبدیلی؟ اور پھر آپ ملک کو مظبوط بنائیں گے، اقتصادی طور پر مظبوط ہونگے تو ساری دنیا آئی گی دوستی کرنے کے لیے ساری دنیا اپ سے دوستی کرنے کو آئیگی، اور آپ قلاش ہونگے تو ساری دنیا تمہیں فتح کرنے کے لیے آئیگی، یہ فرق ہے۔ ہندوستان میں یہی بی جے پی کی حکومت تھی، آپ کی معیشت مظبوط تھی تو واجپائی ان کا وزیر اعظم بس میں سفر کرکے آپ کے لاہور آئے اور آپ سے کہا تھا کہ ہم تجارت کرنا چاہتے ہیں، آلو کا، ٹماٹر کا، پیاز کا تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آج وہی بی جے پی ہے اور اس کا وزیر اعظم مودی ہے آپ بتائے کہ پاکستان کے ساتھ اس کا کیا رویہ ہے؟ کشمیر کا کیا حشر نشر ہم نے کیا؟ آج میں آپ کے ا س اجتماع کی وساطت سے مجا ہد ین کشمیر، حریت کانفرنس کے قائدین اور بالخصوص جناب سید علی گیلانی کی وفات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان شاءاللہ اسی عہد کے ساتھ ہم نے آگے بڑھنا ہے اور حوصلہ نہیں ہارنا، ہمت نہیں ہارنا اور انقلاب کے لیے تیار رہو، آگے بڑھنا ہے اور ان شاءاللہ اس پاکستان پر اسلام کا عَلم لہرانا ہے، یہ آپ کی اور ہمارا عہد ہونا چاہیے ان شاءاللہ آگے بڑھیں گے، اللہ اس کانفرنس کو قبول فرمائے، اس میں ہماری شرکت کو قبول فرمائے اور خاکوانی صاحب آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

    افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

    کابل: افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں بین الا قوامی امداد کی ضرورت ہے افغانستان میں بین الاقوامی امداد کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم افغانستان کے لیے امداد شرائط سے پاک ہونی چاہیے۔

    گزشتہ روز ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے پنجشیر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    افغان میڈیا کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ پنجشیر میں جھڑپوں کے دوران کئی باغی جنگجو ہلاک اور کئی فرار ہو گئے ہیں جس کے بعد پنجشیر کے عوام باغی کمانڈروں کی شر سے آزاد ہو گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجشیر پر کنٹرول کے بعد افغانستان جنگ سے پاک ہو گیا ہے اور افغان عوام اب امن کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ پنجشیر کے عوام ہمارے بھائی ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجشیر میں امن کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں۔ افغانستان میں امن کے لیے ہم نے کوششیں کیں۔ جرگوں اور مذاکرات سے کامیابی نہ ہوئی تو پنجشیر میں طاقت کا استعمال کیا۔

    کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان کی جانب سے پاکستان، چین، ترکی، ایران، قطر اور روس کو نئی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہے حکومت سازی کس دن ہو گی اس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا البتہ ان ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، ان ممالک کی جانب سے تقریب میں شرکت کی حامی بھی بھری گئی ہے، حکومت سازی کی تقریب کابل میں ہو گی-

    افغانستان میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کی تقریب میں شرکت کی دعوت طالبان کی جانب سے اس وقت دی گئی ہے کہ جب وادی پنجشیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے گوکہ مزاحتمی فورس نے اس دعوے کی نفی کی ہے۔

    حکومت سازی کی تقریب، کن ممالک کو افغان طالبان نے دعوت نامے بھجوا دیئے؟

    اس حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی. جبکہ افغان میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا کہ نئی حکومت کے لیے بات چیت مکمل ہو گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں جلد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت سازی کے لیے اقدامات مکمل ہیں صرف تکنیکی معاملات زیرغور ہیں،کسی سے مشروط امداد قبول نہیں کریں گے۔ جو بھی ہمارے معاملات میں مداخلت یا امداد فراہم کرنے کے بدلے اپنے مطالبات مسلط کرنا چاہتا ہے، ہم اسےمسترد کرتےہیں ، اور ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسی مشروط امداد فراہم کرنے کے بارے میں نہ سوچیں۔ چند روز قبل معاون ترجمان افغان طالبان بلال کریمی نے کہا تھا کہ نئی حکومت کا جلد اعلان کریں گے تاخیر نہیں ہو گی۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات کررہی یا نہیں؟ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتا دیا

  • روس نے طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے شرط عائد کردی

    روس نے طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے شرط عائد کردی

    ماسکو:طالبان کی جانب سے پاکستان، چین، ترکی، ایران، قطر اور روس کو نئی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہےتاہم روس نے طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے شرط عائد کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس حوالے سے کہا ہے کہ افغان حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت اور طالبان حکومت کی معاونت صرف اسی صورت میں کریں گے جب حکومت سازی میں تمام دھڑوں کو شامل کیا جائے گا۔

    حکومت سازی کس دن ہو گی اس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا البتہ ان ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، ان ممالک کی جانب سے تقریب میں شرکت کی حامی بھی بھری گئی ہے، حکومت سازی کی تقریب کابل میں ہو گی

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    افغانستان میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کی تقریب میں شرکت کی دعوت طالبان کی جانب سے اس وقت دی گئی ہے کہ جب وادی پنجشیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے گوکہ مزاحتمی فورس نے اس دعوے کی نفی کی ہے۔

    اس حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی. جبکہ افغان میڈیا نے یہ بھی دعوی کیا کہ نئی حکومت کے لیے بات چیت مکمل ہو گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں جلد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

    کابل میں نئی حکومت کے اعلان کی تقریب جلد ہو گی ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت سازی کے لیے اقدامات مکمل ہیں صرف تکنیکی معاملات زیرغور ہیں،کسی سے مشروط امداد قبول نہیں کریں گے۔ جو بھی ہمارے معاملات میں مداخلت یا امداد فراہم کرنے کے بدلے اپنے مطالبات مسلط کرنا چاہتا ہے، ہم اسےمسترد کرتےہیں ، اور ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسی مشروط امداد فراہم کرنے کے بارے میں نہ سوچیں۔ چند روز قبل معاون ترجمان افغان طالبان بلال کریمی نے کہا تھا کہ نئی حکومت کا جلد اعلان کریں گے تاخیر نہیں ہو گی۔

    حکومت سازی کی تقریب، کن ممالک کو افغان طالبان نے دعوت نامے بھجوا دیئے؟

    دوسری جانب طالبان نے صوبہ پنجشیر کے صدر مقام بازارک پر قبضہ کرتے ہوئے اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ طالبان نے اتوار کی رات پنج شیر کے صوبائی دارالحکومت بازارک پر قبضہ کرلیا ہے طالبان سے لڑائی میں قومی مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی اور جنرل عبدالودود سمیت اہم کمانڈرز گل حیدر خان اور منیب امیری ہلاک ہوئے ہیں-

    انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    پیرس حکومت طالبان سے مذاکرات کررہی یا نہیں؟ فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتا دیا

    واضح رہے کہ افغانستان پر 15 اگست کو طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا کابل میں داخلے کے بعد غیر ملکی افواج کے انخلا کا سلسلہ تیز ہو گیا تھا، 31 اگست تک امریکی فوج کابل سے نکل گئی جس کے بعد طالبان نے نئی حکومت بنانے کا اعلان کیا، طالبان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کی تشکیل میں سب کو شامل کیا جائے گا، گزشتہ روز جمعہ کے بعد نئی حکومت کا اعلان ہونا تھا تا ہم اسے موخر کر دیا گیا، اب امکان ہے کہ نائن الیون کے موقع پر طالبان اپنی حکومت کا اعلان کر سکتے ہیں

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے-

  • طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز

    طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان میں یونیورسٹیز میں دوبارہ تعلیم کا آغاز ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کے مطابق بعض کلاسز میں طلبہ اور طالبات کے درمیان پردہ لگایا گیا ہے خبر ایجنسی کے مطابق کابل، قندھار اور ہرات میں طالبات کو الگ کلاسز میں پڑھانے یا کیمپس کے مخصوص مقامات تک محدود کرنے سے متعلق اطلاعات ملی ہیں اس حوالے سے طالبان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ طالبان نے نجی کالجوں اور جامعات کوآج پیر سے کھولنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ یونیورسٹیز میں لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ کلاسز یا کم از کم انہیں ایک پردے سے الگ کیا جائے، جب کہ طالبات کے لیے عبایا اور ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جن سے آنکھوں کے علاوہ ان کا پورا چہرہ چھپ جائے۔

    طالبان نے طالبات کو پورے نقاب کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی

    طالبان کی وزارت تعلیم کی جانب سے نوٹیفیکیشن کے مطابق طالبات کو صرف خواتین ہی پڑھا سکتی ہیں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر اچھے کردار کے حامل کسی بوڑھے شخص کو اس کام کے لیے رکھا جائے یہ حکم نامہ ان تمام نجی کالجز اور جامعات پر لاگو ہوتا ہے جن کی تعداد میں 2001 کے بعد طالبان کا پہلا دور اقتدار ختم ہونے کے بعد بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور کل سے انہیں دوبارہ کھولنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    احکامات کے مطابق خواتین پر شٹل کاک برقعہ ( سر کے بال سے پیر کے ناخن تک کو ڈھاپنے والا برقعہ) پہننا لازم قرار نہیں دیا گیا تاہم گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کے لیے ایسا نقاب کرنا لازم ہوگا جس میں صرف ان کی آنکھیں دکھائی دیں۔

  • افغانستان میں امن وسلامتی کے لیےجاری پاکستان کی  کوششوں سے دنیا بھی مستفید ہوگی :‏آرمی چیف

    افغانستان میں امن وسلامتی کے لیےجاری پاکستان کی کوششوں سے دنیا بھی مستفید ہوگی :‏آرمی چیف

    راولپنڈی:افغانستان میں امن وسلامتی کے لیے کوششیں جاری،پاکستان کی کوششوں سے دنیا بھی مستفید ہوگی ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ بیرونی آلہ کاراندرونی دشمنوں کا قلع قمع کرنا ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع وشہدا کی مرکزی تقریب کے اختتام پر غیر رسمی گفتگو ‏کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ملک سے ہرطرح کی انتہا پسندی کاخاتمہ کرنا ہے، جب تک ٹی ٹی پی ہے دہشت ‏گردی کاخطرہ موجود ہے۔

    آرمی چیف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی گروہ کو بھی ہتھیاراٹھانےکی اجازت نہیں دینگے، دہشت گردی کی ‏عفریت سے نمٹنے کے لئے بیرونی آلہ کاراندرونی دشمنوں کاقلع قمع کرناہوگا۔

    آرمی چیف نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض کے دورہ کابل کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل ‏فیض کےدورےکامقصد کسی کی تذلیل نہیں تھا، لیفٹیننٹ جنرل فیض کادورہ کابل تعمیری تھا تخریبی نہیں۔

    غیررسمی گفتگو میں آرمی چیف نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ افغانستان میں امن قائم ہوگاکابل سےاچھی ‏خبریں آئیں گی۔

  • میری قوم ، میرا وطن عزیزپاکستان جان سے بھی عزیز: وطن عزیز میں‌ امن ہر حال میں مقدم ہے، آرمی چیف

    میری قوم ، میرا وطن عزیزپاکستان جان سے بھی عزیز: وطن عزیز میں‌ امن ہر حال میں مقدم ہے، آرمی چیف

    راولپنڈی :میری قوم ، میرا وطن عزیزپاکستان جان سے بھی عزیز: وطن عزیز میں‌ امن ہر حال میں مقدم ہے،اطلاعات کے مطابق یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں جاری ہے جہاں صدر مملکت عارف علوی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ سمیت سول اور عسکری قیادت شریک ہے۔

     

     

    جی ایچ کیو میں مرکزی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور شہیدوں اور غازیوں کو خراج پیش کرتے ہوئے ترانے پیش کیے گئے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ ‘ہمارے شہدا ہمارا فخر، غازیوں اور شہیدوں سے تعلق رکھنے والے تمام رشتہ داروں کو سلام’ کے موضوع سے رواں برس یوم دفاع منایا جارہا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دفاع وطن قومی فریضہ ہے جو ہمیں جانوں سے عزیز ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کے مستحکم پاکستان کا سفر پاکستانی قوم کے جذبوں، ایثار اور وطن سے محبت کے عظیم روایات سےمزین ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے اپنی قربانی سے آزادی کی جو شمع جلائی، اس سے ابتداہی سے کڑے امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا، 1948 ہو یا ستمبر 1965 کی جنگ، یا 1971 کی لڑائی، معرکہ کارگل ہو یا دہشت گردی کے خلاف طویل اور صبر آزما جنگ، ہر آزمائش نے ثابت کردیا ہے کہ ہم ہر حالت میں اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اس کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

     

     

     

    آرمی چیف نے کہا کہ آج کے دن تمام شہیدوں اور ان کے ورثا کے جذبے اور صبر و استقامت کو بھی سلام پیش کرتے ہیں، جس طرح شہدا قوم کا فخر ہیں، آپ بھی ہمارا وقار ہے،آپ نے جو قربانیاں دی ہیں، پوری قوم آپ کی مقروض ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے پیاروں کی قربانیاں نہ کبھی فراموش ہوں گی اور نہ رائیگاں جائیں گی، آج کی تقریب کا مقصد اسی عہد کی تجدید ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو کبھی نہ بھولیں اور ان کے ورثا کی نگہبانی ہماری ذمہ داری ہے اور اس ملک کی سلامتی اور امن ہمیں ہر حال میں مقدم ہے۔

    تقریب کے دوران پاک فوج کی جانب سے کارگل سمیت مختلف محاذوں میں دی جانے والی قربانیوں پر مشتمل ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئی

  • جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی تقریب:قوم میں جزبہ حب الوطنی میں اضافہ

    جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی تقریب:قوم میں جزبہ حب الوطنی میں اضافہ

    راولپنڈی: جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی تقریب:قوم میں جزبہ حب الوطنی میں اضافہ ،اطلاعات کے مطابق یوم دفاع کی مناسبت سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا کی مرکزی تقریب جاری ہے۔

    تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وفاقی کابینہ کے اراکین، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان موجود ہیں۔

    جی ایچ کیوراولپنڈی میں یوم دفاع اورشہداکی تقریب میں‌ شہداکےلواحقین، غازیوں، حاضرسروس، ریٹائرڈعسکری حکام اورجوانوں کی شرکت۔

    وفاقی کابینہ کے ارکان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر علی زیدی، وزیر اطلاعات فواد چودھری، فرخ حبیب، وزیر قانون فروغ نسیم بھی تقریب میں شریک ہیں۔

    تینوں مسلح افواج کےسربراہان تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی تقریب میں موجود ہیں۔ جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار بھی تقریب میں شریک ہیں۔

    اس سے پہلے آج صبح یوم دفاع پاکستان پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں یادگار شہدا پر تقریب ہوئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

    نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں بھی یادگار شہدا پر یوم دفاع کی تقریب ہوئی۔ نیول چیف ایڈمرل ظفرمحمودعباسی نے پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی،

    تقریب کے آخر میں نیول چیف نے شہدا کے اہلخانہ سے ملاقات بھی کی۔ قبل ازیں سربراہ پاک بحریہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چھ ستمبر کا دن ہماری تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔

    یہ دن ہمیں پاکستانی قوم اور افواج کے غیر متزلزل عزم اور بہادری کی یاد اور شہداء و غازیوں کی بے مثال بہادری اور قربانیوں کا غماز ہے جو دشمن کی عددی برتری کے باوجود ثابت قدم رہے اور اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اٹلی کے وزیر خارجہ کی ملاقات:پاکستان کے کردار کوسراہا

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اٹلی کے وزیر خارجہ کی ملاقات:پاکستان کے کردار کوسراہا

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اٹلی کے وزیر خارجہ کی ملاقات:پاکستان کے کردار کوسراہا،اطلاعات کے مطابق آج اٹلی کے وزیرخارجہ پاکستان کے دورے پرہیں اوراٹلی کے وزیرخارجہ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقت کی ہے

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران اطالوی وزیرخارجہ نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا،

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ فائدہ مند کثیر الجہتی تعلقات میں وسعت کےخواہاں ہیں،

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر افغانستان کیلئےانسانی امدادمیں تعاون پربھی تبادلہ خیال کیا گیا،

    اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیال کیا گیا

    یاد رہےکہ اس سے پہلے اٹلی اور پاکستان درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات وزارتِ خارجہ میں ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ اطالوی وفد کی قیادت ہم منصب لیوگی دے مایو کر رہے تھے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کورونا وبا کے دوران قیمتی جانوں کے نقصان پر اطالوی ہم منصب کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ جس طرح اٹلی نے کورونا وبا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے وہ قابل تحسین ہیں جبکہ ہمیں پاکستان میں محدود وسائل کے باوجود سمارٹ لاک ڈائون کے ذریعے اس وبا پر قابو پانے اور اس کے پھیلائو کو روکنے میں کافی مدد ملی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، اٹلی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سطح پر پاکستان اور اٹلی کے درمیان مربوط اشتراک، مستحکم تعلقات کا مظہر ہے،اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان اور اٹلی کے نقطہ نظر میں مماثلت حوصلہ افزا ہے۔

    وزیر خارجہ نے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور فیٹف کے حوالے سے، اٹلی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر اطالوی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان یورپی یونین کے بہت سے ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر رابطے میں ہیں۔مجھے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سمیت کئی یورپی وزرائے خارجہ کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ ءخیال کا موقع مل چکا ہے۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان،بابراعظم کپتان:تین بڑے کھلاڑی ڈراپ

    ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان،بابراعظم کپتان:تین بڑے کھلاڑی ڈراپ

    لاہور:ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان،بابراعظم کپتان:تین بڑے کھلاڑی ڈراپ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے ، اس سلسلے میں قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے آئندہ ماہ ٹی 20 ورلڈ کپ اور نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے کرکٹ ٹیم اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے بہت سے تجربہ کار کھلاڑیوں کو نظر انداز کردیا۔

     

     

    محمد وسیم نے بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی ٹیم کی قیادت بابر اعظم کپتان ، نائب کپتان شاداب خان ہوں گے۔

    چیف سلیکٹر محمد وسیم نے بتایا کہ پاکستان کا اسکواڈ 15 رکنی ہے، 3 ریزور پلئیرز شامل ہیں۔ ٹیم کی ضرورت کے مطابق انتخاب کیا، کنڈیشنز کو ذہن میں رکھا ہے۔

    سابق کپتان سرفراز احمد، وہاب ریاض، تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک اور ہارڈ ہٹنگ اوپنر شرجیل خان اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں۔چیف سلیکٹر محمد وسیم کے مطابق ٹی 20 ورلڈ کپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں اعظم خان کو شامل کیا گیا ہے۔

     

    اسکواڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف سیلکٹر محمد وسیم نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 کرکٹ سے جوڑے تمام پہلوؤں پر بھرپور غور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کھلاڑیوں کی صلاحیتوں، مہارتوں اور تجربہ بھی شامل ہے ان پر اعتماد کرنا ضروری ہے جو عالمی سطح کے ٹورنامنٹ میں پرفارم کرسکتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ آصف علی اور خوشدل شاہ کے نام متاثر کن نہیں ہوسکتے لیکن ان کی زبردست صلاحیتوں اور قابلیت پر شاید ہی کوئی شک کرے۔

    محمد وسیم نے کہا کہ وہ مڈل آرڈر بلے بازوں کے دستیاب پول میں بہترین ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ بہترین پرفارمنس کے ذریعے ہماری مڈل آرڈر مشکلات کا حل فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عماد وسیم، محمد نواز اور شاداب خان کی صورت میں ہمارے پاس تین بہترین اسپنر ہیں جو بلے باز ہونے کے ساتھ اچھی اور شاندار فیلڈنگ بھی کرتے ہیں۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ اعظم خان ایک ’جارحانہ بلے باز‘ ہیں اسی وجہ سے انہیں سرفراز احمد کے مقابلے میں منتخب کیا گیا۔چیف سیلکٹر نے کہا کہ محمد وسیم جونیئر کو فہیم اشرف پر ترجیح دی گئی ہے کیونکہ ان کی رفتار اور بڑے شاٹس مارنے کی صلاحیت ہے۔

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 11 ستمبر کو پاکستان پہنچنا ہے، دونوں ٹیموں کے درمیان 3 ون ڈے اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلی جائیں گی۔

     

     

    اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان آئے گی اور 13 اور 14 اکتوبر کو راولپنڈی میں دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔

    ورلڈ کپ ٹی 20 اور آئندہ ہوم سیریز کے لیے پاکستان کی 15 رکنی ٹیم میں بابر اعظم، شاداب خان، آصف علی، اعظم خان، حارث رؤف، حسن علی، عماد وسیم، خوشدل، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، محمد وسیم، شاہین آفریدی اور صہیب مقصود شامل ہیں۔

    ریزرو کھلاڑیوں میں شاہنواز دہانی، عثمان قادر اور فخر زمان ہیں۔

     

     

    خیال رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ متحدہ عرب امارات اور عمان میں 17 اکتوبر سے شروع ہوگا اور فائنل 14 نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

    اس مرتبہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں شامل کیا گیا ہے جن کے درمیان پہلا میچ 24 اکتوبر کو ہوگا۔

    پاکستان کے میچز:

    24 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ بھارت، دبئی
    26 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ
    29 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ افغانستان
    2 نومبر: پاکستان بمقابلہ گروپ اے کے راؤنڈ 1 کوالیفائر میں دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم
    7 نومبر: پاکستان بمقابلہ گروپ بی کے راؤنڈ 1 کوالیفائر میں پہلے نمبر پر آنے والی ٹیم
    پہلا راؤنڈ
    پہلے راؤنڈ میں ٹورنامنٹ 17 اکتوبر کو میزبان عمان اور پاپوا نیو گنی کے درمیان راؤنڈ ون گروپ بی کے مقابلے سے شروع ہوگا، گروپ بی میں دیگر ٹیمیں شام 6 بجے مد مقابل آئیں گی۔

    گروپ اے میں آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سری لنکا اور نمیبیا پر مشتمل ہے جو اگلے روز ابوظبی میں ایکشن میں ہوں گے۔راؤنڈ ون کے میچ 22 اکتوبر تک جاری رہیں گے اور ہر گروپ میں سرفہرست دو ٹیمیں 23 اکتوبر سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ کے سپر 12 مرحلے میں جائیں گی۔

    سپر 12
    ٹورنامنٹ کا دوسرا مرحلہ، سپر 12 مرحلہ 23، اکتوبر کو ابوظبی میں شروع ہوگا جس میں گروپ ون میں پہلا مقابلہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہوگا۔

    اس کے بعد دبئی میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میچ کھیلا جائے گا۔پرانے حریف انگلینڈ اور آسٹریلیا 30 اکتوبر کو دبئی میں مد مقابل آئیں گے۔

    گروپ کا اختتام 6 نومبر کو آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ابوظبی اور انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان شارجہ میں ہونے والے میچز سے ہوگا۔گروپ ٹو کا آغاز بھارت اور پاکستان کے درمیان 24 اکتوبر کو دبئی میں ہوگا۔

     

     

    اس کے بعد پاکستان 26 اکتوبر کو شارجہ میں نیوزی لینڈ کا مقابلہ کرے گا، افغانستان کا پہلا میچ 25 اکتوبر کو شارجہ میں ہوگا۔یہ گروپ 8 نومبر کو اختتام پذیر ہوگا جب بھارت گروپ اے سے دوسرے نمبر پر آنے والے راؤنڈ ون کوالیفائر سے مقابلہ کرے گا۔

    فائنلز
    پہلا سیمی فائنل 10 نومبر کو ابوظبی میں ہوگا اور دوسرا سیمی فائنل 11 نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔اس کے بعد ٹورنامنٹ کا آخری تصادم 14 نومبر، اتوار کو دبئی میں ہوگا۔

    خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم 11 ستمبر کو پاکستان پہنچے گی، دونوں ٹیموں کے درمیان 3 ون ڈے اور 5 ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلی جائیں گی۔نیوزی لینڈ سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد انگلینڈ کی ٹیم پاکستان آئے گی، 13 اور 14 اکتوبر کو راولپنڈی میں دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔