Baaghi TV

Category: صحت

  • اسلام آباد پمز اسپتال میں سنگین نوعیت کے بحران، فارنزک لیبارٹری نہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد پمز اسپتال میں سنگین نوعیت کے بحران، فارنزک لیبارٹری نہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد پمز اسپتال میں سنگین نوعیت کے بحران، فارنزک لیبارٹری نہ ہونے کا انکشاف.

    وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال میں سنگین نوعیت کے بحران کا انکشاف ہوا ہے۔پمز میں خطرناک نوعیت کی اموات کی وجوہات کے تعین کیلیے فارنزک لیبارٹری نہیں۔ذرائع کے مطابق پمز میں فارنزک سائنس لیبارٹری کے ماہرین بھی تعینات نہیں کیے گئے جب کہ ماہر میڈیکو لیگل افسران نہ ہونے کے باعث کیسز لاہور بھجوائے جاتے ہیں۔ فارنزک ماہرین کی عدم تعیناتی سے متعلق حکام کو لکھا گیا خط سامنے آگیا،جس سے انکشاف ہوا ہے کہ ماضی میں میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات پر توجہ نہیں دی گئی۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کو غیر کوالیفائیڈ میڈیکل آفیسرز کے ذریعے چلایا گیا۔ میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ میں کوئی کوالیفائیڈ میڈیکو لیگل افسر موجود نہیں۔ کسی افسر نے بھی فارنزک میڈیسن میں پوسٹ گریجویشن نہیں کی۔ صرف فارنزک میڈیسن میں پوسٹ گریجویشن کرنے والا ہی میڈیکولیگل افسر تعینات ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق فروری 2022ء میں ایڈیشنل ایم ایل او نے پمز انتظامیہ کو فارنزک ماہرین کی تعیناتی سے متعلق مراسلہ بھیجا۔ پمزمیں فارنزک ماہرین نہ ہونے کے باعث نمونے فارنزک سائنس لیبارٹری لاہور جاتے ہیں۔ کراچی،لاہور،پشاور اور حیدرآباد میں فارنزک ماہرین ہیں۔ فارنزک ماہرین کی تعیناتی سے متعلق مراسلہ میڈیکل ڈائریکٹرکو بھیجا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کےدونوں بیٹےگھرمگرکوئی اورباہر :نیاآرمی چیف،لندن پلان،ایکسٹینشن،لانگ مارچ
    غلام محمود ڈوگرکی معطلی کے بعد سی سی پی اولاہورکیلئے 3 ناموں پر غور شروع
    شیرشاہ کباڑمارکیٹ میں آتشزدگی، کروڑوں مالیت کا سامان جل کر خاکستر
    ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد شریف،سارہ انعام قتل کیسز کی رپورٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ بھی لیبارٹری اور ماہرین کا نہ ہونا ہے۔ نور مقدم اور سنگین نوعیت کے دیگر کیسز میں تاخیر بھی فارنزک ماہرین کی عدم تعنیاتی اور لیبارٹری کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔فارنزک سائنس لیبارٹری اور ماہرین کی عدم دستیابی کے باعث شواہد کے ضائع ہونے کے خدشات بھی ہوتے ہیں۔

  • پاکستان میں 35ملین افراد ذیابیطس میں مبتلا،لاکھوں بیماری سے لاعلم

    پاکستان میں 35ملین افراد ذیابیطس میں مبتلا،لاکھوں بیماری سے لاعلم

    پاکستان میں 35ملین افراد ذیابیطس میں مبتلا،لاکھوں بیماری سے لاعلم

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹرز، سول سوسائٹی اور میڈیا شہریوں میں احتیاطی تدابیر اور حفظان صحت کے اصولوں کو اجاگر کرنے اور ذیابیطس پر قابو پانے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کریں تاکہ نئی نسل کو اس مہلک مرض سے بچا کر صحت مند معاشرہ پروان چڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطس دنیا بھر میں بالخصوص تیسری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے اور آج ہر پانچواں پاکستانی شوگر کی بیماری میں مبتلا ہے، پاکستان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد تقریبا ً 35ملین جبکہ لاکھوں لوگ بیماری سے لاعلم ہیں جو لمحہ فکریہ ہے تاہم اس مرض سے خوفزدہ ہونے کی بجائے غذا، ادویات، ورزش اور پرہیز کو معمول بنانا چاہیے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ ذیابیطس کو کئی امراض کی ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا تاہم غفلت و لاپرواہی کے سبب انسانی اعضاء سے بھی محروم ہونا پڑ جاتا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال میڈیکل یونٹ تھری کے زیر اہتمام ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب و پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر آف میڈیسن و شوگر سپیشلسٹ ڈاکٹر طاہر صدیق،صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پروفیسراشرف نظامی، پروفیسر عظیم الدین ذاہد، ڈاکٹر عزیز فاطمہ، ڈاکٹر محمد مقصود نے کہا کہ ذیابیطس خاموش قاتل ہے جو انسانی جسم کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شوگر کی بنیادی وجوہات موٹاپا، غیر صحت مندانہ طرز زندگی ،خاندان میں شوگر کے مرض کا عام ہونا، غیر متوازن غذا،بڑھتی عمر، بلڈ پریشر، خون میں چکنائی میں عدم توازن جیسی وجوہات شامل ہیں۔ اس بیماری کے دیگر اسباب میں ورزش سے لا تعلقی،جسمانی مشقت کا فقدان اور سماجی و معاشرتی مسائل بھی شامل ہیں،اس بیماری کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ لوگ اپنے روزمرہ کے معاملات کے ساتھ خوراک میں بھی تبدیلی لائیں اور جسمانی ورزش وغیرہ کو اپنی زندگی کا حصہ با قاعدہ طور پر حصہ بنائیں۔

    پروفیسر الفرید ظفراور پروفیسر طاہر صدیق کا کہنا تھا کہ سکول کی سطح سے ہی ذیابیطس کی تشخیص و علاج معالجے کو قومی صحت پالیسی میں متعارف کرایا جائے کیونکہ بر وقت تشخیص اور فوری علاج سے ہی اس بیماری کی پیچیدگیوں سے لا حق ہونے والے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کم عمری میں ہی اپنے بچوں کو فاسٹ فوڈ اور سوڈا مشروبات سے دور رکھیں یہ وزن میں اضافے کا سبب ہے اور موٹاپا ٹائپ ٹو شوگر کی وجوہات میں ایک اہم وجہ ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذیابیطس اندھے پن، گردے فیل ہونے، فالج اور ہاتھ پاؤں سے محرومی کی اہم وجہ بھی ہے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر الفرید ظفرکا کہنا تھا کہ ایسی خواتین جنہیں ذیابیطس کا مرض نہیں ہوتا لیکن دوران حمل ان کی شوگر ہائی رہتی ہے جس کی بنیادی وجہ ذہنی دباؤ اور جسمانی تبدیلیا ں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین کو گائناکالوجسٹ سے اپنا طبی معائنہ با قاعدگی سے کروانا چاہیے تاکہ شوگر کی زیادتی اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کیاجا سکے جو زچگی کے دوران ماں و بچے کی زندگی کے لئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔  یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ حمل کے دورا ن بڑھی ہوئی شوگر زچگی کے بعد نارمل سٹیج پر آ جاتی ہے تاہم ایسی خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی شوگر کو باقاعدگی سے مانیٹر کریں جبکہ مریض کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات اور انسولین لگانے میں کسی قسم کی ہجکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ1985میں دنیا بھر میں 3کروڑ افراد ذیابیطس کا شکار تھے جبکہ اب یہ تعداد24سے25کروڑ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے،ذیابیطس دنیا میں ہونے والی اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے  شوگر کے مریض اپنے چہرے سے زیادہ پاؤں کا خیال رکھیں

  • ہیپاٹائٹس اے ویکسین کے عطیہ پر چین کے شکرگزارہیں.  وزیر صحت عبدالقادر پٹیل

    ہیپاٹائٹس اے ویکسین کے عطیہ پر چین کے شکرگزارہیں. وزیر صحت عبدالقادر پٹیل

    ہیپاٹائٹس اے ویکسین کے عطیہ پرچین کے شکرگذارہیں. وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل
    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے چین کی جانب سے ہیپاٹائٹس اے ویکسین کی ایک لاکھ خوراکوں کے عطیہ پر حکومت اور عوام کی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین مضبوط، حقیقی اور پائیدار تعلقات کے ساتھ رواں دواں ہیں ‘پاکستان کی سیلاب سے متاثرہ آبادی کو امداد فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔بدھ کو وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروس ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اسلام آبادمیں منعقدہ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ چین کی حکومت اور عوام کے شکرگذارہیں اور خوشی ہوئی کہ پاک چین دوستی نے ایک اور سنگ میل عبورکیا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان تاریخ کے بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں سے گذر رہا ہے جہاں ابھی تک سندھ اور بلوچستان کے صوبوں میں بڑی آبادی سیلابی امدادی کیمپوں میں مقیم ہے۔ ان امدادی کیمپوں کے رہائشی مختلف وبائی امراض کے خطرے سے دوچار ہیں‘جس میں ہیپاٹائٹس اے وائرس کے پھیلائو کا خطرہ زیادہ ہے۔ لہٰذا پاکستان کی سیلاب سے متاثرہ آبادی کو امداد فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس وقت، ہم بچوں اور بڑوں کے لیے چین کی طرف سے ہیپاٹائٹس اے ویکسین کی ایک لاکھ خوراکوں کے عطیہ پرشکر گزار ہیں۔ یہ عمل دونوں ممالک کی صحت اور خوشحالی کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو تقویت دیتا ہے۔سینوویک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسٹر گائو کیانگ نے کہا کہ آج پاکستان اور چین کے درمیان باہمی اعتماد، احترام اور خیر سگالی پر مبنی لازوال اور بے مثال دوطرفہ دوستی کے ستر سال کے تسلسل میں ایک اہم سنگ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت اور عوام کی جانب سےمجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمیں اس اقدام کا حصہ بننے پر فخر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کی کہانی ختم:ہرطرف سے پکی چھٹی:15نومبرکوعمران خان جیل میں ہوںگے؟
    وفاقی وزیر نے تحریک انصاف سے مذاکرات سے متعلق رابطوں کی تصدیق کردی
    وائرلیس آپریٹر ویئون (جاز) کا پاکستان میں اپنے ٹاورز فروخت کرنے کا منصوبہ
    شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے
    اس موقع پر ڈاکٹر محمد احمد قاضی، ڈی جی، ایف ڈی آئی نے تمام عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں فراہم کردہ مدد کے لیے سینوویک کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اسے پاکستان کے بچوں اور بالغ آبادی کے لیے بہترین طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔

  • ڈپریشن  کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں ڈپریشن کے مریضوں کے لیے مشروم کو کو علاج قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا،برطانوی ماہرین کے مطابق میجک مشرومز میں موجود سائلوسائبن ڈپریشن کو دور کرسکتا ہے اب تک کے سب سے بڑے کلینیکل ٹرائل کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ جادوئی کھمبیوں میں پایا جانے والا اہم نفسیاتی جزو ڈپریشن کی علامات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جس کا علاج مشکل نہیں ہے-

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    لندن میں مقیم اور نیس ڈیک میں درج COMPASS پاتھ ویز کے ذریعے کیے گئے درمیانی مرحلے کے مطالعے میں ماہرین کی جانب سے ایک ایم جی، دس ایم جی اور پچیس ایم جی خوراکوں کو یورپ اور شمالی امریکہ کے 10 ممالک کے کل 233 افراد پر آزمایا گیا ، جس میں پچیس ایم جی کی دوا نے بہترین نتائج دیئے۔

    ان میں سے زیادہ تر گذ شتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ان کی عمریں 40 سال کے لگ بھگ تھیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مطالعات امید افزا ہیں لیکن ان کے دیرپا اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی یہ تجربات ناکافی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن ایک دیرپا مسئلہ ہے جس پر 12 ہفتوں سے کہیں زیادہ فالو اپ پیریڈ استعمال کرنا چاہیے، اس لیے مزید تحقیق کے لیے جلد ہی ایک بڑا تجربہ شروع کیا جائے گا کہ ڈپپریشن کو روکنے کے لیے کتنی خوراکوں کی ضرورت ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ دوا کے منظور ہونے میں تین سال لگ سکتے ہیں مشروم کو اس کی خصوصیات کی بنا پر ’میجک مشرومز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ قانونی منظوری کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

    اگر قانونی منظوری مل گئی تو امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

    کنگز کالج لندن کے کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور سینئر کلینیکل لیکچرر، جیمز روکر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا کہ COMPASS کا کمپاؤنڈ دماغ کے ان ٹکڑوں کو نشانہ بناتا ہے جو جذبات کی پروسیسنگ میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

    ایک بار انتظام کرنے کے بعد، مریض "جاگتے ہوئے خواب جیسی” حالت میں داخل ہو جاتے ہیں جو چار سے چھ گھنٹے تک جاری رہتی ہے روکر نے کہا کہ لوگ صبح آئے، ان کا نفسیاتی تجربہ ہوا اور وہ دوپہر یا شام کو اپنی بنیادی حالت پر چلے گئے۔

    ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جن مریضوں کو سائلو سائیبن کی 25 ملی گرام کی خوراک دی گئی تھی ان میں علاج کے تین ہفتے بعد افسردگی کی علامات میں شماریاتی طور پر نمایاں طور پر کم خوراک لینے والے افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی۔

    یونیورسٹی کالج لندن انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روی داس نے خبردار کیا کہ ٹرائل کے نتائج مثبت ہیں لیکن شاندار نہیں ہیں۔

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    "ہر گروپ میں شدید افسردہ مریضوں کی غیر مساوی تعداد تھی؛ ظاہری ‘مؤثر’ (25mg) خوراک والے گروپ میں نمایاں طور پر کم شدید افسردہ افراد کے ساتھ۔ کاغذ میں اس کا اعتراف نہیں ہوتا۔”

    اگرچہ مریضوں کو صرف اس صورت میں اندراج کیا گیا تھا جب وہ خودکشی کے طبی لحاظ سے اہم خطرے میں نہیں سمجھے جاتے تھے، لیکن 25 ملی گرام گروپ کے تین شرکاء نے علاج کے 12 ہفتوں کے اندر خودکشی کے رویے کا مظاہرہ کیا۔

    COMPASS پاتھ ویز کے چیف میڈیکل آفیسر گائے گڈون نے کہا کہ ڈپریشن کا مطالعہ کرنے سے، خود کشی بیماری کے کورس کی ایک خصوصیت بننے والی ہے۔

    "ہمارا مفروضہ یہ ہے کہ اختلافات اتفاقی طور پر ہوتے ہیں لیکن ہم اسے مزید تجربات کرکے ہی حل کر سکتے ہیں۔”

    انہوں نے کہا کہ کمپاؤنڈ کی جانچ کرنے والے دو آخری مرحلے کے مطالعے سے ڈیٹا، جسے پی ٹی ایس ڈی اور اینوریکسیا نرووسا کے علاج کے طور پر بھی آزمایا جا رہا ہے، جلد از جلد 2024 کے آخر تک منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

  • وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

    وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

    ایک تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے.

    ورزش کے ہزارہا فوائد ہیں تاہم ایک تحقیق سے عیاں ہے کہ شام کے وقت کی ورزش وزن گھٹانے میں زیادہ مؤثر ہے اور اس سے خون میں شکر کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یعنی دوپہر اور شام کی ورزش کرنے سے صبح کے مقابلے میں وزن کم کرنے اور خون میں گلوکوز کم کرنے میں ایک چوتھائی زائد فائدہ ہوتا ہے۔ اس طرح ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے اور لوگوں کو وزن قابو میں رکھنے میں بہت سہولت حاصل ہوتی ہے۔

    ہالینڈ کے لائڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کےسائنسدانوں نے 45 سے 65 برس کے 7000 افراد کا جائزہ لیا ہے۔ اکثر افراد کا یم ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) 27 تھا جو موٹاپے کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دیگر افراد تندرست بھی تھے۔ تمام شرکا کی ورزش، کھانے اور پینے کی عادات اور ناشتے سے پہلے اور بعد میں خون میں شکر کی سطح بھی نوٹ کی گئی تھی۔ ایم آر آئی اسکین سے جگر میں چربی کی مقدار بھی نوٹ کی گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کنٹینر پر فائرنگ، عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں: ترجمان پاک فوج
    اللہ کی رحمت اورقوم کی دعاوں سےخیریت سے ہوں:جھکوں گانہیں ڈٹ کرمقابلہ ہوگا:عمران خان
    کنٹینر پر فائرنگ، نواز شریف اور مریم کی عمران خان پرحملے کی مذمت

    ان میں سے 955 افراد کو ایسیلرومیٹر اور دل کی دھڑکن ناپنے کے آلات لگائے گئے۔ مسلسل چار دن اور راتوں کو ان کی حرکات نوٹ کی گئیں۔ اس طرح کل 755 افراد کا قابلِ اعتبار ڈیٹا سامنے آیا۔ ڈیٹا کے مطابق سخت یا درمیانی شدت کی ورزش سے جگر کی چربی کم ہوئی تھی. سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ دن کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں دوپہر اور شام کی ورزش سے انسولین کی مزاحمت، بالترتیب 18 سے 25 فیصد تک کم دیکھی گئی جو ایک غیرمعمولی دریافت ہے۔ اسی بنا پر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صبح وقت نہ مل سکے تو شام اور دوپہر ورزش اور واک کے بہترین اوقات ہیں۔

  • کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    لندن: طبی ماہرین نے کینسر جیسے موذی مرض کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے تحت برطانوی ماہرین نے انسانی ڈی این اے میں موجود ایک جین کو کینسر کی بروقت قدرے بہتر تشخیص اور بہتر علاج کا سب سے مؤثر طریقہ قرار دیا ہے۔

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    ماہرین کے مطابق انسان کو وراثت میں ملنے والے جین میں سے ایک ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) ایسا جین ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت بہتر تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے-

    طبی ماہرین نے اس کے لیے 1300 سے زائد کینسر مریضوں کے ٹیسٹس اور جینز کا جائزہ لیا ہے ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں موجود ایک خاص کیمیکل کو اس حوالے سے گیم چینجر قرار دیا ہے۔

    ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں پائے جانے والے کیمیکل کو ڈارک میٹر (Dark matter) کا نام دیا ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے کیونکہ یہی جین عام طور پر کینسر کا سبب بنتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کا مرض عام طور پر ڈی این اے کی تبدیلی یا جینز سے نہیں بلکہ ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) نامی جین کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ رسولی کے خلیوں کو جلانے والی پٹی جِلد کے سرطان کی سب سے مہلک قسم سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    اس پٹی کو مریض کو میلیگنینٹ میلانوما ختم کرنے کے لیے کی جانے والی سرجری کے بعد پہننے کے لیے بنایا گیا ہے۔ میلیگنینٹ میلانوما جِلد کے سرطان کی سب سے خطرناک قسم ہے جو برطانیہ میں 2000 سے زائد افراد کی موت کا سبب بنتی ہے 90 فی صد مریض الٹرا وائلٹ روشنی کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ جاری ہے۔

    جب سرجن کینسر زدہ جلد کے حصے کو، جو عموماً مردوں میں پِیٹھ پر اور خواتین میں ٹانگوں پر ہوتا ہے، کاٹ کر نکالتے ہیں وہ اطراف میں موجود صحت مند ٹشو بھی لیتے ہیں تاکہ کہیں رسولی کے خلیے پھیل نہ گئے ہوں ان اضافی ٹشو کی چوڑائی دو سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے، اس بات کا انحصار اس رسولی کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ جتنا بڑا ٹیومر ہوگا اتنے امکانات ہوں کہ خلیے رسولی کی جگہ سے آگے گئے ہوں۔

    بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    لیکن صحت مند ٹشو کو نکالنے کے باوجود بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ تمام متاثرہ خلیے ختم ہوگئے ہوں۔ کوئی بھی بچا ہوا خلیہ مہینوں یا سالوں بعد دوبارہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 13 فی صد مریضوں میں کینسر زدہ ٹشو نکالے جانے کے دو سال بعد ہی میلانوما دوبارہ پنپ گیا۔

    یہ جدید پٹی سرجری کے بعد رہ جانے والے خلیوں کو ختم کر کے ممکنہ طور پردوبارہ کینسر لاحق ہونےکےامکانات کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ پٹی فوٹو تھرمل تھیراپی کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں ایک لیزر شعا کو استعمال کرتے ہوئے رسولی کے خلیوں کو اتنا گرم کیا جاتا ہے کہ وہ خود ختم ہوجاتا ہے۔

    کینسر زدہ خلیوں کو گرمی سے صحت مند خلیوں کی نسبت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا 60 ڈگری سیلسیئس کا درجہ حرارت متاثرہ خلیوں کو صاف کر دیتے ہیں جبکہ صحت مند خلیے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں تاہم، اس علاج کو کچھ دنوں یا ہفتوں میں دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    کینسر ریسرچ یو کے میں ریسرچ انفارمیشن منیجر ڈاکٹر رُپال مستری کا کہنا تھا کہ یہ پٹی کینسر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکے گی لیکن ابھی اس کو مطبی استعمال میں لانے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

  • میو ہسپتال میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب

    میو ہسپتال میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب

    میو ہسپتال میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن نے کروڑوں کی کرپشن کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے میو ہسپتال کے پپرا رولز کی خلاف ورزی کرکے سرکاری خزانے کو 80کروڑ روپے کا نقصان پہنچنے کی کوشش کرنے والے12افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کرپشن کے میگا سکینڈل میں ایک پروفیسر سمیت 12 ڈاکٹرز بشمول پروفیسر ڈاکٹر احمد عزیر قریشی،ڈپٹی ڈائریکٹر ڈرگ شیخ الطاف فارمسسٹ عتیق منور، خالد محمود سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق میو ہسپتال کے پروکیورمنٹ ٹینڈر برائے سرجیکل اینڈ ڈسپوزل اشیا ء کی خریداری کا ٹھیکہ سابق سٹور کیپر شکیل کے ایما پر چار کمپنیوں کو غیر قانونی طور پر دیا گیا ہے جبکہ 61 کمپنیوں کی درخواستوں میں سے 41 کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کرکے چار کمپنیوں کو سپلائی کا آرڈر جاری کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق2022-23ء میں 1 ارب35 کروڑ سے سرجیکل،ڈسپوزبل اور میڈیکل کی 2000 آئٹمز خریدی جانی تھی،میو ہسپتال انتظامیہ نے 10 کروڑ کی خطیر رقم سے محض 21 آئٹمز خریدیں،خریدی گئی اشیا مارکیٹ ریٹ سے سو فیصد مہنگی خریدیں گئیں۔اینٹی کرپشن نے چھاپہ مار کر مزید 80 کروڑ کی پیمنٹ ہونے سے روک دی ہے

  • کراچی: کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ شروع

    کراچی: کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ شروع

    کراچی: کراچی اور حیدرآباد میں 5سے 11سال تک کے بچوں کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے 7 اضلاع اور حیدرآباد میں بچوں کو ویکسین لگائی گئی، حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشاد احمد میمن کے مطابق جن بچوں کو پہلی ویکسین لگ چکی ہے انھیں ہی دوسری ویکسین دی جارہی ہے۔

    24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 1 شہری جاں بحق جبکہ 52 نئے کیسز رپورٹ

    بچوں کی کورونا ویکسی نیشن مہم کے پہلا مرحلہ 19سے 24ستمبر تک جاری رہا تھا جس میں 25 لاکھ بچوں کو ویکسین لگائی گئی، انہی بچوں کو کراچی کے 7اضلاع اور حیدرآباد میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام اور والدین کو مہم سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ تمام بچوں کو ویکسین لگ سکے۔

    کراچی: 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی کورونا ویکسینیشن کا فیصلہ

    انھوں نے مز ید کہا کہ ویکسی نیشن سے بچوں میں مدافعت پیدا ہوگی اور اسی صورت وہ اور دیگر افراد وائرس سے محفوظ رہ سکیں گے، ویکسین لگانے والی ٹیموں نے اسکولوں اور مدارس میں بھی بچوں کو دوسری ویکسین لگائی۔

    قبل ازیں پیر کو کووڈ-19 ویکسی نیشن مہم کے آغاز کے موقع پر اپنے خصوصی وڈیو پیغام میں وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا تھا کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور صحتمند بچے صحتمند پاکستان کی علامت ہیں پہلی کامیاب مہم کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسینیشن کے دوسرے مرحلے میں والدین سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پولیو ویکسین ضرور کرائیں تاکہ بچوں کو محفوظ بنا کر خاندان کے دیگر افراد کو بھی کورونا سے بچایا جا سکے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد…

    وزیر صحت نے کہا تھا کہ ملک بھر میں بچوں کو کووڈ۔19 سے بچائو کی ویکسینیشن کی یہ مہم 5 نومبرتک جاری رہے گی، یہ مہم پنجاب ،سندھ اور اسلام آباد کے منتخب اضلاع میں بیک وقت شروع کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں صحت مند بجے صحت مند پاکستان کی علامت ہیں، ویکسین بچوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے اور ان سے دوسروں تک وائرس کی رسائی کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے علما کرام، اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور معاشرے کے دیگر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مہم کی کامیابی کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں-

    عبدالقادر پٹیل نے کہا تھا کہ عوام کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں، حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے۔

  • ڈینگی کیسز پر کیسے قابو پائے جائے، صوبائی وزیر صحت نے واضح پلان مانگ لیا

    ڈینگی کیسز پر کیسے قابو پائے جائے، صوبائی وزیر صحت نے واضح پلان مانگ لیا

    ڈینگی کیسز پر کیسے قابو پائے جائے، صوبائی وزیر صحت نے واضح پلان مانگ لیا
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے انسداد ڈینگی کے سلسلہ میں محکمہ صحت کے سی ڈی سی ونگ سے واضح پلان طلب کرلیا۔ ڈینگی ورکرز اور سپروائزرز کی کارکردگی ہر یونین کونسل کی سطح پر چیک کی جائے اور تصدیق کی بعد انکی کارکردگی کی بناء پر تنخواہیں ریلیز کی جائیں۔ڈینگی کے ہائی رسک اضلاع میں کمیٹی تشکیل کر کے ڈیٹا کی موقع پر جاکر ویریفکیش کی جائے۔

    صوبائی وزیر صحت نے یہ ہدایات محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں ورٹیکل پروگرامز کے اہم اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے جاری کیں۔اجلاس میں ڈینگی کی صورتحال، ای پی آئی، ایڈز کنٹرول اور IRMNCH پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک کی جانب سے چند فیصلے کئے گئے۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور شیخوپورہ میں ڈینگی ورکرز، سپروائزرز کا مکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے اور ورٹیکل پروگرامز میں سٹاف کی بھرتی، تعیناتی میرٹ پر کی جائے۔

    ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا کہ بھرتی کا عمل تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی پر گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے کہا کی متعلقہ ڈائریکٹر پنجاب کی جیلوں کے دورے کرے اور قیدیوں کے HIV کے ٹیسٹوں کی رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے تاکہ قیدیوں کے علاج کے سلسلے میں کوئی واضح میکانزم تیار کیا جائے۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا، پی ڈی IRMNCH ڈاکٹر خلیل سخانی، پی ڈی ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر اویس گوہر، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر عامر مفتی، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر احتشام الحق اور ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول ڈاکٹر شاہد مگسی بھی موجود تھے۔

    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے الائزا ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 1,500روپے مقررکر دی

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

    علاوہ ازیں ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی محترمہ ثمن رائے کی زیر قیادت محکمہ کے افسران کے لیے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے دورہ کا اہتمام کیا گیا۔پنجاب کے 36 اضلاع سے آئے افسران کو این ایس پی پی کی لائبریری، کلاس رومز، ٹریننگ ہال اور سپورٹس کمپلیکس کا دورہ کروایا گیا اور بریفنگ دی گئی۔ڈائریکٹر جنرل ثمن رائے نے ایک روزہ دورے کے لیے تعاون پر نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر اعجاز منیر، ڈائریکٹر جنرل (ایڈمن) ندیم محبوب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران اور محکمہ بہبود آبادی کے سینئیر افسران بھی موجود تھے۔

  • حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا  دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    محققین نے نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ حاملہ خواتین کو ایمرجنسی سرجری کے لیے اینیستھیزیا کے دیئے جانے کا بچے کی نشو نما کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی: بیلجیئم کی یونیورسٹی ہاسپٹل لووین میں اینیستھیزیولوجی کے سربراہ اور تحقیق کے مصنف اسٹیفن ریکس اور ان کے ساتھی کے مطابق تحقیق کے نتائج سے یہ تجویز نہیں بدلے گی کہ حمل کے دوران صرف ضروری آپریشن ہی کیے جانے چاہیئں۔ تحقیق کے نتائج ان خواتین کو یقین دہانی کرائیں گے جن کو دورانِ حمل سرجری کی ضرورت ہوگی۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    اگرچہ حمل کے دوران عام طور پر سرجری اور اینستھیزیا سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن 1فیصد تک حاملہ خواتین کو غیر متوقع صحت کی ہنگامی صورتحال، جیسے اپینڈیسائٹس کے لیے اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    جریدے اینستھیزیا میں 25 اکتوبر کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں 2 سے 18 سال کی عمر کے 500 سے زیادہ بچے شامل تھےمطالعہ کے لیے، محققین نے ان بچوں کی اعصابی نشو نما کا موازنہ جن کی پیدائش سےقبل ان کی ماؤں کو کسی طبی ایمرجنسی کی وجہ سے اینیستھیزیا دیا گیا تھا، ان بچوں سے کیا گیا جن کی ماؤں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    محققین نے نفسیاتی تشخیص کے ساتھ رویوں کے قابو کرنے، نفسیاتی سماجی مسائل اور سیکھنے کے مسائل کا جائزہ لیا۔

    محققین کو بچوں کے دو گروہوں کے درمیان اعداد و شمار کے لحاظ سے کوئی اہم فرق نہیں ملا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اینیستھیزیا کے اثرات بالکل اسی نوعیت کے تھے جو دیگر عوامل جیسے کہ والدین کی تعلیم اور بچے کی پیدائش کے وقت والدہ کی عمر کے اثرات کے تھے۔

    مطالعہ کے مصنفین نے ایک جرنل نیوز ریلیز میں کہا کہ ہنگامی سرجری کے دوران اینستھیزیا کی نمائش طبی لحاظ سے معنی خیز خرابیوں سے وابستہ نہیں تھی ماؤں نے جدید دوائیوں اور تکنیکوں کے ساتھ اینستھیزیا کروایا تھا، جس کی وجہ سے یہ نتائج آج متعلقہ ہیں۔

    جانوروں کے مطالعے کے ماضی کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ حمل کے دوران جنرل اینستھیزیا جنین کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور سیکھنے اور یادداشت کو کمزور کر سکتا ہے۔

    یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 2016 میں ایک انتباہ شائع کیا تھا کہ حمل کے تیسرے سہ ماہی کے دوران جنرل اینستھیزیا کا بار بار یا طویل استعمال جنین میں نشوونما کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔

    سرجری میں تاخیر بعض اوقات آپشن نہیں ہوتی۔ اپینڈیسائٹس کی صورت میں، مثال کے طور پر، علاج میں تاخیر ماں کے لیے اسقاط حمل یا سیپسس کا باعث بن سکتی ہے-

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی