Baaghi TV

Category: صحت

  • کورونا وائرس سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا

    کورونا وائرس سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا

    ملک بھر میں کورونا کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے کورونا وائرس سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ہے.

    (این آئی ایچ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں کورونا وبا میں ہر آئے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

    جس کے بعد کورونا مثبت کیسز کی شرح 3.35 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔


    قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20,678 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے693 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح تین اعشاریہ تین پانچ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    تاہم 177 مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کورونا مثبت کیسز کی شرح 3.65 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    اب تک ٹوٹل کیسز کی تعداد

    آزاد جموں کشمیر میں،613 ٹوٹل کیس ریکارڈ ہوئے جن میں 303 متحرک جبکہ وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 793 ہے۔

    اسی طرح بلوچستان میں ٹوٹل 35،785 کیسز ریکارڈ ہوئے جن میں سے 299 زیر علاج اور 378 افراد انتقال کر گئے۔

    گلگت بلدستان میں ٹوٹل 11،870 کیس ریکارڈ ہوئے جن میں 133 تاحال زیر علاج جبکہ 191 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔

    اعدادوشمار کے مطابق اسلام آباد میں ریکارڈ کیے جانے والے ٹوٹل کیسز کی تعداد 137،331 ہے جس میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 1،027 تک پہنچ گئی۔

    اسی طرح کے پی میں ریکارڈ کیے جانے والے کیسز کی تعداد 221،260 ہے 6،329 افراد انتقال کر گئے ہیں۔

    پنجاب میں کیے جانے والے ٹیسٹ کی تعداد 512،832 ریکارڈ کی گئی.

    اسی طرح سندھ میں ریکارڈ کیے جانے والے کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو کہ 590،634 ہے جبکہ وائرس سے 8،178 افراد جاں کی بازی ہار گئے ۔

    کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ ماسک پہننا اور ویکسین لگوانا بھی ضروری ہے۔

  • کورونا سے ایک ہلاکت، شرح ڈھائی فیصد سے زائد

    کورونا سے ایک ہلاکت، شرح ڈھائی فیصد سے زائد

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 2 اعشاریہ 76 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں 13ہزار 439کووڈ کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے371 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔


    این آئی ایچ کے مطابق اس دوران کورونا میں مبتلا1 مریض انتقال کرگیا جب کہ اب بھی 184 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کورونا مثبت کیسز کی شرح 3 فیصد تھی۔

  • دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    امریکا میں دس سال بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق امریکا کی ریاست نیویارک کے نواحی علاقے میں رہنے والے ایک نوجوان شخص میں پولیو کی تشخیص ہوئی ہے ریاست نیو یارک کی راک لینڈ کاؤنٹی میں رہنے والے مذکورہ شخص کو تقریباً ایک ماہ قبل فالج ہوا تھا۔

    نیویارک کے محکمہ صحت نے جاری بیان میں کہا ہے کہ پولیو کا یہ کیس انتہائی متعدی ہے جو امریکہ سے باہر کہیں اور پیدا ہوا تھا۔

    ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر پیٹریسیا روپرٹ کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کو درپیش کسی بھی خطرے کے پیش نظر مذکورہ شخص کے اہل خانہ اور ان تمام افراد کا سروے کیا جا رہا ہے جن کے ساتھ قریبی رابطے تھے مریض اب پولیو کے جراثیم پھیلانے کے قابل نہیں رہا نوجوان شخص کو پولیو کی ویکسین نہیں لگی ہوئی تھی اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ راک لینڈ کا یہ رہائشی اس وائرس سے کب اور کہاں متاثر ہوا۔

    ہیلتھ کمشنر کے مطابق پولیو کا یہ کیس وائرس کی ایک کمزور قسم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو دراصل بیرون ممالک میں استعمال ہونے والی ویکسین میں موجود ہوتا ہے جو کبھی کبھی انفیکشن بھی پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں اس ویکسین کا استعمال سال 2000 میں بند کر دیا گیا تھا۔

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق متعلقہ شخص آرتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کا رکن ہے جس میں سال 2018 اور 2019 کے درمیان خسرے کی وبا بھیلی تھی۔ اس وبا کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انتہائی کم افراد نے ویکسین لگوائی ہوئی تھی۔

  • خیبرپختونخوا میں پولیو کا تیرہواں کیس سامنے آگیا.   قومی ادارہ صحت

    خیبرپختونخوا میں پولیو کا تیرہواں کیس سامنے آگیا. قومی ادارہ صحت

    پاکستان پولیو کا مکمل صفایا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن ایسے وقت میں جنوبی خیبر پختونخوا کا علاقہ کوشش میں رکاوٹ بنتا نظر آرہا ہے جہاں رواں سال پولیو کا 13 واں کیس رپورٹ ہو ا ہے۔

    قومی ادارہ صحت نے تصدیق کی کہ لکی مروت میں ایک 18 ماہ کا بچہ پولیو وائرس کے سبب مفلوج ہو گیا۔
    12 دیگر کیسز جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی وزیرستان سے بھی رپورٹ ہوئے، یہ کیسز ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب پاکستان پولیو سے پاک ملک کا درجہ حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا، صحت کے حکام نے قبائلی اضلاع سے کیسز کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا۔

    ڈان کے مطابق: وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ ‘ہم نے خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان لوگوں کی کثرت سے نقل و حرکت کے باوجود وائرس کو کہیں اور پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘اگر ہم اس علاقے سے وائرس پر قابو پالیں اور اسے ختم کر لیں تو ہم پولیو کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں’۔
    نیشنل ہیلتھ سروسز کے وزیر عبدالقادر پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ ‘حکومت نے جنوبی خیبر پختونخوا میں ویکسینیشن مہم کے دوران انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے حفاظتی ٹیکوں کی اس شکل کی زیادہ قبولیت کی وجہ سے وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین فراہم کرنا شروع کر دی ہیں اور ساتھ ہی ہر قسم کے جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صابن جیسی حفظان صحت کی مصنوعات بھی فراہم کی ہیں۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے بتایا کہ حکومت مزید بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کے لیے حکمت عملیوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے زیادہ خطرے والے اضلاع کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کیے ہیں اس وقت سے خیبر پختون خوا میں ویکسین کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    جنوبی خیبر پختون خوا میں اگلی پولیو مہم 15 اگست کو شروع ہوگی، پاکستان میں 2019 میں 147 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سے پولیو کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، اس سے اگلے سال یہ تعداد کم ہوکر 84 رہ گئی اور 2021 میں صرف ایک رہ گئی۔

  • کورونا وائرس: مزید دو افراد چل بسے

    کورونا وائرس: مزید دو افراد چل بسے

    کورونا وائرس سے مزید دو مریض انتقال کرگئے ہیں.
    قومی ادارہ صحت کے مطابق: ملک بھر میں کل 23، 423 ٹیسٹ کئے گئے جس میں جس میں 693 کیسز مثبت رپورٹ ہوئے ہیں.


    قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے جاری اعلامیہ کے مطابق: 180 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ شرح فیصد 2.95 ریکارڈ کیا گیا ہے.

  • ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    دماغی فعلیات (فزیالوجی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کم ازکم 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کی شکار ہے جن میں دردِ سر عام کیفیت ہے۔ یہ بات انہوں نے عالمی یومِ دماغی صحت کی مناسبت سے کہی ہے۔

    ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق: ہر سال، 22 جولائی دماغی صحت کے عالمی دن کے لیے وقف ہے،اس سال ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی (ڈیلیو ایف این) نے دماغی صحت بہتر بنانے اور دماغی و اعصابی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کی مشترکہ کوشش پر توجہ مرکوز کی ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں دماغی امراض روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکے باوجو کہ ملکی سطح پر آبادی کی بنیاد پر دماغی امراض کی کوئی مربوط تحقیق نہیں ہوئی اسکے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی 10 فیصد آبادی مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہے۔

    22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف50 کے قریب مراکز میں نیورولوجسٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ پاکستان میں 1998 کے بعد سے نیشنل ہیلتھ سروے نہیں کیا جاسکاجبکہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں دماغی امراض سمیت مختلف بیماریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ بیماریوں کے بوجھ میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مریضوں کے اہلخانہ پر معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا ہے۔

    ڈاکٹر نادر نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ہر سال 9 ملین افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت تیزی کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اگر اس صورتحال کا بروقت تدارک نہیں کیا گیا توآنے والے دنوں میں دماغی امراض اور اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسل کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔

    مقررین نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آلودگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے صاف ہوا،ماحول کی صفائی اور شجر کاری کا کوئی انتظام نہیں جس سے آلودگی پر قابو پایا جاسکے،ہمارے شہروں میں صنعتی زون قائم ہونے کی وجہ سے زہر آلود دھواں سانس اور دیگر زہنی امراض میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسانی دماغ کو صاف ستھرا اور پرسکون ماحول درکار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کا بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام مضبوط ہوتا جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماحول دوستی کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر کوئی انتظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ آئندہ سالوں میں دماغی امراض کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی اضافے کا امکان ہے۔

    اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے پریس کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی معذوری کی نمبر ایک وجہ دماغی امراض ہیں،امراض کے نتیجے میں اموات ہونے میں دماغی امراض کا بوجھ دوسرے نمبر پر ہے،ہر تین میں سے ایک انسان کو دماغی مرض لاحق ہے۔

    دنیا بھر میں دماغی امراض بہت بڑی تعداد میں انسان صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مائیگرین (درد شقیقہ) دنیا کے تقریبا تین بلین انسانوں کی روزمرہ زندگی نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکے مختلف تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر پرائمری قسم کے سر درد 50 سال سے کم عمر کے انسانوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں اور اسطرح کے سر درد کی وجہ سے جہاں انسان کی معیار زندگی خراب ہو جایا کرتی ہے وہیں بیماری کی وجہ سے روز مرہ کام کاج متاثر ہونے کے بعد ایک معاشی بحران کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ فالج، کمزور یادداشت(الزائمر)، رعشہ، مرگی سمیت دیگر دماغی امراض پاکستان سمیت دنیا بھی کی آبادی میں بڑے تناسب سے پائے جاتے ہیں۔ ان دماغی عارضہ کے باعث جہاں جسمانی نظام صحت خرابی کا شکار ہو جاتا ہے وہیں ان امراض کے باعث خاندان سمیت معاشرے کو صحت مند انسانوں کی کمی واقع ہو جایا کرتی ہیں جسکے باعث فرد، خاندان و معاشرے ایک معاشی بحران کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔

    شرکا نے کہا کہ عالمی یوم دماغ 2022 کے موقع پر آئیں سب مل کر دماغی امراض کے حوالے سے “آگاہی” پیدا کریں کیونکہ دماغی صحت ذہنی، سماجی و جسمانی تندرستی کے لیے “بنیاد” ہے۔ دماغی امراض سے “بچاؤ” کیلئے مشترکہ کوششیں کریں کیونکہ دماغ کے بہت سے امراض سے “بچاؤ” ممکن ہے۔ ان امراض کے حوالے سے وکالت کریں تاکہ عالمی سطح پر ہونیوالی دماغی صحت کی کوششوں کا حصہ بنیں۔

  • کورونا وائرس: تین افراد انتقال کرگئے

    کورونا وائرس: تین افراد انتقال کرگئے

    ملک بھر میں کورونا وائرس کی شرح میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔
    جس کے بعد کورونا مثبت کیسز کی شرح2.81 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21,315 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے599 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ آٹھ ایک فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
    تاہم وائرس سے مزید 3 افراد انتقال کر گئے
    جبکہ 170 مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے
    کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ ماسک پہننا اور ویکسین لگوانا بھی ضروری ہے۔

  • کورونا وبا: ملک بھر میں 236 نئے کیس رپورٹ

    قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک بھر میں کیئے گئے ٹیسٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 236 مزید نئے کیسز مثبت آئے ہیں۔ جبکہ شرح فیصد 1.55 رہی۔

    این آئی ایچ نے بتایا: اس وقت پاکستان میں 152 مریضوں کی طبیعت تشویشناک ہے۔ 

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی وبا کا خاتمہ فلحال ممکن نہیں ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیدروس نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتے کورونا کیسز کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ کووڈ نائنٹین کی وبا کا خاتمہ قریب نہیں ہے۔

    ادھر وائٹ ہاؤس نے کورونا کے نئے ویریئنٹ بی اے 5 سے نمٹنے کیلیے بوسٹر شاٹس لگوانے اور ٹیسٹس کروانے کی نئی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

    چین میں کورونا کیس رپورٹ ہونے پر شہر "وگانگ” میں تین دن کا لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ صرف ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔

  • دوستوں سے رابطہ رکھنا صحت کے لئے بھی مفید قرار

    دوستوں سے رابطہ رکھنا صحت کے لئے بھی مفید قرار

    کراچی : سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اپنے دوستوں، عزیزوں اور شناسا افراد کو اگر صرف ہیلو کی ای میل، کوئی مسیج، یا سوشل میڈیا پیغام دیا جائے تو نہ صرف وہ اسے پسند کرتے ہیں بلکہ یہ ان کی نفسیاتی صحت کے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔

    امریکی نفسیاتی تنظیم کے مطابق آپ کے حلقے میں شامل افراد سماجی اکائیوں کی طرح ہی ہیں۔ اگر ہم انہیں خیریت اور مزاج پرسی کا کوئی پیغام بھیجتے ہیں تو نہ صرف آپ کے دوست اسے پسند کرتے ہیں بلکہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک تجربے میں شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ یاد کریں کہ ایک طویل عرصے بعد آخری مرتبہ انہوں نے اپنے کس جاننے والے یا کسی دوست کو فون، ٹیکسٹ، سوشل میڈیا یا ای میل پر’ہیلو ہائے‘ کے لیے رابطہ کیا تھا۔ دوسرے گروہ کے لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ یاد کرکے بتائیں کہ ان کے کسی دوست نے کب انہی ذرائع سے ان کی مزاج پرسی کی تھی۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ ایک سے سات درجے تک اس کو نمبر دیں جن میں اچھا لگنا، شکر گزار ہونا، اور خوشی محسوس کرنے جیسے درجے شامل تھے جو رابطے کے وقت انہیں محسوس ہوئے۔

    تیسرے تجربے میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے کسی ایسے دوست یا جاننے والا کا انتخاب کریں جس سے رابطہ کئے عرصہ گزر گیا ہے۔ اب اسے ایک چھوٹا پیغام بھیجیں یا پھر پیغام کے ساتھ کوئی چھوٹا سا تحفہ بھی روانہ کریں۔ اس تجربے کو بھی سات درجوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا گیا۔

    حیرت انگیز طور پر جنہیں پیغام موصول ہوا وہ بہت مسرور تھے لیکن جنہوں نے پیغام بھیجا تھا یا دوست کی خبر لی تھی انہوں نے ہمیشہ اسے وہ اہمیت نہ دی جو پیغام موصول کرنے والے نے محسوس کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے کہا ہے کہ اپنے پرانے دوستوں، جامعہ کے یاروں اور قریبی عزیزوں سے رابطہ کرتے رہیں کیونکہ وہ اسے انمول سمجھتے ہیں۔

    دوسری جانب صحت پر اس کے مثبت اور بہترین اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔

  • وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع  ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    نیو یارک: سائنس دانوں اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے وٹامن سپلیمنٹ کا مجموعہ آپ کو تندرست نہیں رکھ سکتا-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت نہیں ملے کہ ملٹی وٹامن اور مائیکرو نیوٹرینٹ سپلیمنٹ کے امراضِ قلب اور کینسر کو ٹال سکتے ہیں ایک وٹامن، دو یا پھر بہت سارے وٹامن کے مجموعوں کے ان دو امراض میں کمی یا بچاؤ کے ’واضح ثبوت‘ نہیں ملے البتہ حاملہ خواتین کو ہی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لوگ وٹامن کو جادوئی گولیاں سمجھتے ہیں جو کہ درست نہیں ان کے اثرات نہیں ہوتے بلکہ یہ رقم کا ضیاع ہے-

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    اس ضمن میں سائنسدانوں کی ٹیم نے کل 54 تحقیقات اور مطالعوں پر غور کیا ہے جو برس ہا برس جاری رہیں اور ان پر خاصی رقم بھی صرف کی گئی تھی سائنسدانوں نے واضح کیا کہ ہم وٹامن سپلیمںٹ سے منع نہیں کررہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے زیادہ امیدیں نہ لگائی جائیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ بعض سپلیمںٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین والی گولیاں ممکنہ طور پر پھیپھڑے کے سرطان کی وجہ بن سکتی ہیں جبکہ وٹامن ای کے امراضِ قلب سے بچاؤ یا سرطان سے بچانے میں کوئی خاص کردار سامنے نہیں آسکا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے شعبہ ادویہ سے وابستہ ڈاکٹر جیفرے لنڈر کہتے ہیں کہ ورزش اور محتاظ غذا کے زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین نے کہا ہے کہ پھل اور سبزیاں کھانا انسانوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور وہ کینسر اور امراضِ قلب کے خطرات کم کرسکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دواؤں کے مقابلے میں پھلوں اور سبزیوں میں وٹامن، مفید اجزا، فائبر اور دیگر فائٹوکیمیکلز ہوتے ہیں جو ملکر صحت کو بہتر رکھتےہیں۔ اس کے مقابلے میں الگ تھلگ وٹامن اپنی تاثیر کھودیتا ہے تاہم حاملہ خواتین میں فولک ایسڈ کے زبردست فوائد ہوتےہیں جنہیں لازمی قرار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ فولک ایسڈ بچے کی تندرست نشوونما میں اہم کردار کرتا ہے۔

    رپورٹ کی شریک مصنفہ ڈاکٹر جینی جیا کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی بدل کر امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سادہ اور مناسب صحت بخش غذا پر زور دیا کیونکہ امریکی صنعتی غذاؤں کی ترجیح میں صحت کا عنصر شامل نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورزش پر بھی زور دیا جسے انہوں نے جادوئی نسخہ قرار دیا۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق