Baaghi TV

Category: صحت

  • تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان  تحریر: حمزہ بن شکیل

    تمباکو نوشی کا بڑھتا رجحان تحریر: حمزہ بن شکیل

    عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا استعمال کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک ارب سے زائد ہو چکی ہے یعنی ہر پانچواں فرد اس بری لت میں مبتلا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

    افسوس کے ساتھ دن بدن تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے کوئی حکومتی حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔

    نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو ہمارے پورے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔

    تمباکو نوشی سے صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والے اکثر افراد گلے اور منہ کے سرطان سمیت سانس کی جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے اور اگر مستقبل میں بھی یہی رجحان جاری رہا، تو 2030ء میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہمیں اس بگڑتی صورت حال پر قابو پانے کے لئے میڈیا کے ذریعے عوام الناس اور نوجوان نسل میں آگاہی مہم، خود اعتمادی کے لئے کونسلنگ سیشن اور دیگر اقدامات اٹھانے پڑیں گے تا کے اس لعنت سے خود کو اور اپنے پیاروں کو دور رکھ سکیں۔ اس کے لئے جہاں حکومتی لیول پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہیں ہمیں خود بھی انفرادی اور اجتمائی طور پر ایسے قدم اٹھانے ہوں گے جس سے ہمارا معاشرہ محفوظ اور صحت مند رہ سکے۔

  • جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور:3 نابینا افراد کی  دنیا روشن ہو گئ

    جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور:3 نابینا افراد کی دنیا روشن ہو گئ

    جنوبی پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور حکومت پنجاب کی ہدایت پر کارنیا ٹرانسپلانٹ کا نشتر ہسپتال میں آغاز۔3 نابینا افراد کے آنکھوں کے شفاف پردے کی کامیاب پیوندکاری کردی گئ۔10 سالہ مہرین،27 سالہ علیم،32 سالہ سلیم اختر کی دنیا روشن ہو گئ۔کمشنر جاوید اختر محمود کی مریضوں سے ملاقات، سہولیات بارے بات چیت، مبارکباد دی۔کمشنر ملتان کا کہنا تھا کہ کارنیا ٹرانسپلانٹ سے اس خطے کے لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی ملے گی۔

    کشمنر ملتان کا کہناتھا کہ عبدالستار ایدھی نے اپنی دونوں آنکھیں عطیہ کی تھیں۔وزیراعلی پنجاب صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کررہے ہیں۔پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے خط لکھا گیا تھا۔احمد حسین ڈیہڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر نشتر ہسپتال میں آنکھوں کے شعبے میں جدت لائ جارہی۔ڈاکٹر رانا الطاف کا کہنا تھا کہ پہوٹا کی اجازت کے بعد نشتر ہسپتال میں 3 مریضوں کی کارنیا پیوندکاری کی گئ۔

    پروفیسر ڈکٹر راشد قمر راؤ کی سربراہی میں 3 مریضوں کی کامیاب سرجری کی گئ۔وی سی نشتر رانا الطاف نے کہنا تھا کہ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئ ہیں۔اس موقع پر آئی سرجن کا کہنا تھا کہ آنکھوں کا عطیہ کرنے سے بہت سارے اندھے لوگوں کو روشنی مل سکتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر راشد قمر راؤ نے کہا پاکستان میں بعد از موت آنکھوں کے عطیات جانب لوگوں کا رجحان نہیں ہے۔

    کارنیا کی پاکستان میں عدم دستیابی سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔مخیر حضرات کے تعاون سے آنکھوں کا بینک قائم کیا جاسکتا ہے۔وفات پاجانے کے بعد انسانی آنکھیں 12 سے 24 گھنٹے تک زندہ رہتی ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر بلامعاوضہ سرجری کی جارہی ہے۔ابتک 130 مریض کارنیا ٹرانسپلانٹ بارے رجوع کر چکے ہیں۔آئ سرجن ڈاکٹر راشد راؤ کا کہنا تھا کہ ا ب تک 1000 ہزار سے زائد انکھ کے ریٹینا کی سرجری کی جاچکی ہے۔

  • ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال.  تحریر شاہ زیب احمد

    ذیابیطس کا مرض اور انسولین کے 100 سال. تحریر شاہ زیب احمد

    شوگر یعنی ذیا بیطس ایک دائمی مرض ہے اور جسم کے تقریباً ہر حصے کو متاثر کرتا ہے، پاکستان میں تقریبا 4 کروڑ لوگ ذیا بیطس کا شکار ہیں.
    دراصل جو غذا ہم کھاتے ہیں اسی سے ہمارا جسم توانائی حاصل کرتا ہے، وہ توانائی پروٹین ، فیٹ اور کاربوہائڈریٹ کے صورت میں ہوتی ہے جو نظام ہضم سے پورے جسم میں تقسیم ہو جاتی ہے، جسم کے لئے توانائی کا ایک بنیادی ذریعہ کاربوہائڈریٹ ہے جو مختلف گلوکوز سے مل کر بنتا ہے۔ یہی توانائی یعنی جو کھانا ہم نے کھایا ہوتا ہے وہ نظام انہضام میں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، کاربوہائیڈریٹس بھی چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جاتے ہیں جہاں سے خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور سیلز (خلیوں) میں چلے جاتے ہیں اور خلیوں یعنی پورے جسم کو توانائی مل جاتی ہے!
    کاربوہائیڈریٹس ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر گلوکوز بن جانے کے خون میں شامل ہو تو جاتے ہیں لیکن گلوکوز کے ساتھ یہاں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انسولین کے بغیر یہ خلیوں کے اندر نہیں جا سکتے، جیسے کسی افسر سے ملنے کے لئے وہاں کے سیکورٹی گارڈ اندر لے کے جاتے ہیں ایسے ہی ہر سیل (خلیے) پر موجود انسولین ریسپٹر (گارڈ) ہوتے ہیں اور ان ریسپٹر کے مدد سے گلوکوز خلیے کے اندر جاتے ہیں اور جسم کو توانائی حاصل ہو جاتی ہے.
    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسولین ہے کیا؟*
    انسولین ایک ہارمون ہے جو ہمارے جسم کے حصے Pancreas یعنی لبلبے میں پیدا ہوتا ہے،
    لبلبہ انسولین بنا دیتا ہے جو خون میں شامل ہو کر خلیوں تک پہنچ جاتا ہے جہاں یہ انسولین گلوکوز کے لئے راستہ بنا کر خلیوں کے اندر جانے میں مدد دیتا ہے،
    خون میں اگر گلوکوز کا لیول بڑھ جائے (عموما زیادہ میٹھی چیزیں کھانے سے) تو لبلبے کو میسج چلا جاتا ہے جہاں سے وہ زیادہ انسولین خارج کر دیتا ہے اور گلوکوز کو زیادہ مقدار میں خلیوں میں پہنچا کے خون میں گلوکوز کی مقدار کم کر دیتا ہے یعنی خون میں گلوکوز لیول کنٹرول رکھتا ہے،
    شوگر یعنی ذیا بیطس کے صورت میں صورتحال مختلف ہوتی ہے جس میں اگر خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جائے تو وہ کم نہیں ہوتی، اس کے دو اہم وجوہات ہے
    پہلا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام نہیں کر رہا اور انسولین پیدا ہی نہیں ہے رہا، اس حالت کو ٹائپ 1 ذیا بیطس کہتے ہیں، جسکا علاج صرف انسولین کے ٹیکے لگانا ہی ہیں

    دوسرا یہ کہ لبلبہ ٹھیک کام کر رہا لیکن خلیوں پہ موجود انسولین ریسپٹر کام چھوڑ دیتے ہیں اور گلوکوز کو خلیوں کے اندر جانے نہیں دیا جاتا، اس قسم کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کہتے ہیں، اس کا علاج انسولین کے ٹیکے کیساتھ ساتھ مختلف گولیوں کے شکل میں بھی موجود ہے.

    آج سے سو سال پہلے یعنی 1921 تک ذیا بیطس (شوگر کا مرض) ایک لاعلاج مرض تصور کیا جاتا تھا، جہاں یہ تصور عام تھا کہ ٹائپ 1 ذیا بیطس کے شکار مریض ایک یا دو سال ہی زندہ رہ سکتے ہیں،
    لیکن بیسوی صدی میں ایک عظیم ایجاد کیا گیا جس سے بے شمار انسانوں کی زندگیاں بچائی جانے لگی اور اس ایجاد کو "ہیمولین/انسولین” کا نام دیا گیا جس سے آج کروڑوں لوگ ذیا بیطس کا علاج کر رہے،

    1920 تک سائنس دانوں نے لبلبے کے خلیوں پر تحقیق کر لی تھی جسے islets کا نام دیا گیا اور یہ دریافت ہو گیا کہ islets ہی وہ خلیے ہے جن کے ناکارہ ہونے سے لوگ ذیا بیطس ٹائپ 1 کا شکار ہوتے ہیں، یہ معلوم کرنے کے بعد مزید تحقیق آسان ہوگئی جس سے اس مرض کا علاج ڈھونڈا جا سکیں.
    اکتوبر 1920 میں کینڈین سرجن فریڈریک بینٹنگ Frederick Banting نے انسولین کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا جہاں سے اسے تحقیق کرنے کا ایک آئیڈیا مل گیا، یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ شوگر کا تعلق میٹھی اور زیادہ کلیوریز والی خوراک کے کھانے سے ہے اور میٹھا کھانا چھوڑنے سے مریضوں میں کچھ بہتری آتی ہیں،
    فریڈریک بینٹنگ چونکہ سائنس دان نہیں تھے اور تحقیق کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھی تو 7 نومبر 1920 کو انہوں نے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کا دورہ کیا جہاں پہ وہاں کے ٹاپ پروفیسر جوہن جیمس ریکارڈ میکلاڈ سے ملاقات کی اور دونوں نے ایک ساتھ تحقیق کرنے کا ارادہ کر لیا۔
    مہینوں محنت کے بعد بالآخر 17 مئی 1921 کو تجربہ شروع کر لیا ، میکلاڈ نے تجربہ گاہ فراہم کرنے سمیت ایک ریسرچ اسٹوڈنٹ چارلس ہربرٹ بیسٹ جو خون میں گلوکوز کا مقدار ناپنے میں ماہر تھے کو فریڈریک بینٹنگ کا اسسٹنٹ بنا دیا.
    بینٹنگ، میکلاڈ اور بیسٹ تینوں نے مل کر ریسرچ شروع کی کہ کیسے *کتے* کے لبلبے سے انسولین ہٹایا جا سکتا ہے، آپریشن کے ذریعے کتوں کے لبلبے نکالے گئے، جس سے دوائی بنانا شروع کر دیا، یہاں یہ واضح ہو گیا تھا کہ لبلبے کے بغیر کتے ذیا بیطس کے مرض کا شکار ہو گئے ہیں،
    کئی تجربات ناکام ہونے کے بعد جولائی میں ایک کامیاب تجربہ کیا جسکا بالآخر 10 نومبر 1921 کو پہلا کامیاب نتیجہ سامنے آگیا، ابھی بھی اتنی خاص دریافت نہیں ہوئی تھی لیکن انہوں نے ذیا بیطس کے شکار کتے میں انسولین کے ٹیکے لگانے سے 70 دن تک کتے کو زندہ رکھا، مزید کئی تجربات کئے،. کتوں پر کامیاب تجربے کے بعد اب اسے انسانوں پر آزمانے کے لئے 12 دسمبر 1921 کو ایک بائیو کمیسٹ جیمس کولیپ بھی فریڈریک کی ٹیم میں شامل ہوگئے، تاکہ وہ حاصل شدہ انسولین کو مزید صاف کر سکے اور انسانوں پر آزمانے کے قابل بنا سکیں، اس دفعہ انسولین ایک گائے کے لبلبے سے حاصل کی گئی.
    *انسانوں پر تجربہ*
    11 جنوری 1922 کو ایک 14 سالہ نوجوان لیونارڈ تھامسن جو ٹائپ 1 ذیا بیطس کا شکار تھا اور شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا کو ٹورنٹو ہسپتال میں انسولین کا ٹیکہ لگا دیا گیا 24 گھنٹوں کے اندر تھامسن کا ہائی شوگر لیول کم ہو گیا، لیکن ساتھ ہی تھامسن کو انجکش کی جگہ انفکشن ہوگیا تھا جو ایک سائیڈ ایفکٹ تھا، بائیو کمیسٹ کولیپ نے دن رات محنت کی تاکہ انسولین کو بالکل شفاف بنایا جا سکے اور سائیڈ ایفکٹس کم سے کم تر کرسکیں، 23 جنوری 1922 کے دن تھامسن کو انسولین کا دوسرا ٹیکہ لگایا گیا اور اس بار اسکا ہائی شوگر لیول نارمل پہ آگیا اور کوئی انفکشن/ سائیڈ ایفکٹس بھی ظاہر نہیں ہوئے جو ایک مکمل طور پر کامیاب تجربہ ثابت ہو گیا،
    بینٹنگ اور بیسٹ اب مزید تحقیق اور محنت کر رہے تھے تاکہ انسولین کو زیادہ مقدار میں حاصل کیا جا سکیں ، ایلی لیلے پہلے انسان تھے جنہوں نے اس میں مدد کی اور انسولین کو زیادہ مقدار میں بنانا شروع کیا، تجربہ کامیاب ہو گیا تھا لوگ ٹھیک ہونے لگ گئے تھے
    یہ خبر دنیا میں آگ کی طرح پھیلنے لگی، اور اس ایجاد کو ایک عظیم کارنامہ بتایا گیا،
    25 اکتوبر 1923 کو یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کے اعتراف میں بینٹنگ اور میکلاڈ کو مشترکہ طور پر نوبل پرائز انعام سے نوازا گیا (جو انہوں نے ٹیم کے ساتھ شئیر کر دیا تھا).
    ذیا بیطس کے علاج کے لئے کافی عرصے تک انسولین جانوروں (گائے اور خنزیر) سے حاصل کیا جاتا رہا، لیکن یہ زیادہ مؤثر نہیں تھا زیادہ تر مریضوں میں اس کے سائیڈ ایفکٹس آرہے تھے بالآخر محنت اور تحقیقات سے 1978 میں پہلی دفعہ انسانوں کے خلیوں سے حاصل شدہ انسولین بنایا گیا جسے humulin کا نام دیا گیا، 1983 میں ایلی لیلے نے باقاعدہ طور پہ یہ انسولین بنانا شروع کیا اور اسکی سپلائی بھی تیز کر دی گئی، آج انسولین مختلف اقسام میں مختلف ناموں سے مارکیٹ میں دستیاب ہے جس سے کروڑوں لوگوں کا علاج ہو رہا ہے.
    اج انسولین کے کامیاب تجربے کو 100 سال پورے ہوگئے ان سو سال میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں آسان ہو چکی ہے سو سال پہلے جو لا علاج مرض تھا اب اس مرض کے ساتھ لوگ روز مرہ کی خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں جس کا سہرا یقیناً بینٹنگ اور اسکی ٹیم کو جاتا ہے..

  • کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟  تحریر: ماہا ارشد

    کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟ تحریر: ماہا ارشد

    تاہم جب ورزش کرتے ہیں تو کیا محسوس ہوتا ہے؟ ورزش آپ کے عروقی نظام (آپ کے دل اور پھیپھڑوں) کو بہتر بنانے ، صحت مند ہڈیوں ، پٹھوں اور جوڑ کو بڑھانے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں معاون ثابت کرنے کے لئے سمجھی جاتی ہے۔ متعدد دائمی بیماریوں کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کو بہتر بناتی ہے. ورزش کو اجتماعی طور پر بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے موثر دکھایا گیا ہے ، جیسے پولیجینک بیماری اور امراض قلب۔

    ورزش کے ان فوائد کا شاید آپ نے پہلے ہی پتہ لگا لیا ہو۔ تاہم ، جب آپ ورزش کریں گے تو کیا آپ کا دماغ ترو تازہ محسوس ہوگا؟ کیا کوئی خوشی محسوس ہو گی ؟ کیا نیند آنے میں آسانی ہو گی؟

    ذہنی بیماری
    بالکل اسی طرح جیسے ہم وقتا فوقتا بیمار ہوجاتے ہیں سر درد یا بخار ہونے کے بعد) اس طرح ہمارے دماغ کے اجزاء بھی ہوسکتے ہیں جو ہم محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی عدم صحت کو ذہنی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے "قلبی مرض” جیسے امراض کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے کام کیا جاتا ہے ، آپ ذہنی حالت کے بارے میں سوچیں گے کہ دماغ کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے ایک وسیع اصطلاح ہے۔ ذہنی حالت میں ان حالات کا پھیلاؤ بھی شامل ہے جس کا آپ نے پتہ لگایا ہو ، نیز افسردگی اور اضطراب بھی ، ذہنی حالت کا تجربہ بڑے پیمانے پر بزرگ افراد کے لئے ہوتا ہے ، اس کے نتیجے میں انہیں روزانہ کچھ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے صرف کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اور ان کی ذہنی حالت کا سبب بننے والی چیزوں میں کم حرکت اور زیادہ سوچنا شامل ہے. ۔ بزرگ افراد کو ان کی ذہنی حالت سے دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنےچاہیے
    نفسیاتی حالت اور ذہنی حالت کے مابین فرق جاننا ضروری ہے۔ آپ کو خراب نفسیاتی حالت کا تجربہ کرنے کیلئے تشخیص شدہ ذہنی حالت کی ضرورت نہیں ہے۔
    جسمانی بیماریوں کی طرح ، ذہنی حالت کا سامنا کرنے والے افراد عام طور پر ورزش میں باہمی روابط رکھنا زیادہ پائیدار محسوس کرتے ہیں اور ، اوسطا ، زیادہ دیر تک غیر فعال (بیٹھنا یا لیٹنا) گزارتے ہیں ، جسے ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے غیر صحت بخش ہے۔ ایک بار جب آپ پریشان محسوس کرتے ہیں تو ورزش کریں۔یہاں تک کہ عام آبادی میں بھی ، ورزش کرنے کی ترغیب کم ہے ، جب کہ آبادی کا صرف پچاس حصہ جسمانی سرگرمی کی صلاحی مقدار حاصل کرتا ہے۔ لہذا ، یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ دماغی حالت کے حامل افراد مربع پیمانہ عام طور پر اس سے بھی کم منتقل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

    جسمانی ساخت پر ذہنی حالت کے اثرات
    دماغی بیماری کسی کے روایتی جسمانی کام کو خراب کردے گی۔ اس کے نتیجے میں سنگین جسمانی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ دباؤ جیسے مسائل بھی ہوں گے۔

    ہائی پریشر
    ذہنی بیماری تناؤ کی شدید سطح کا سبب بنے گی اور دباؤ بڑھائے گی جس
    کے نتیجے میں دل کا فالج اور دماغی ہیمرج ہوسکتا ہے۔

    تھکاوٹ
    ذہنی بیماری تھکاوٹ اور جاگنے کا سبب بنے گی (بے خوابی)

    بھوک میں کمی
    دماغی بیماری کھانے کو کم ہضم کرنے سے پیٹ اور بھوک کو پریشان کرتی ہے

    علاج
    ہمیں فی الحال سمجھنا ہے کہ ورزش مختصر اور طویل دماغی حالتوں میں رہنے والے افراد کی دیکھ بھال کا ایک انتہائی ضروری حصہ ہوگا۔ ورزش موڈ کو بہتر بنائے گی اور ذہنی حالت کی علامات کو کم کردے گی ، نیز افسردگی اور اضطراب کو بھی۔ ورزش سے نیند کا معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے ، توانائی کی سطح میں اضافہ اور دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے اور ہر میموری اور حراستی کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ مزید یہ کہ ورزش ان فوائد کی پیش کش کرتی ہے جبکہ مضر اثرات کا خطرہ نہیں ، اگر ورزش کی گولی ہوتی تو ، یہ ہر ایک کے لئے ہر ڈاکٹر کے ذریعہ مریض کو دی جاتی ہے۔

    مشق کا فائد
    حیاتیاتی میکانزم کی شرائط میں ، ورزش کو انور باؤنڈ کیمیکلز میں تبدیلیوں کا سبب دکھایا گیا ہے جن کو انڈورفنز کہا جاتا ہے۔ اینڈورفنز اسکوائر کیمیائی میسینجر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں جو پورے مشق میں درد اور تناؤ سے نجات فراہم کرتے ہیں۔ ورزش قزاق سے ڈوپاسٹیٹ ، کیٹکولامین ، اور مونوامین نیورو ٹرانسمیٹرز کے نام سے جانے والے مختلف کیمیکلوں کے خارج ہونے کی ترغیب دیتی ہے … یہ دماغی کیمیکل ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے میں ایک اہم نصف ادا کرتے ہیں۔ در حقیقت ، وہ مربع پیمانہ ہیں.
    ورزش باآسانی کورٹف کے نام سے جانے والے تناؤ کے خاتمہ کی ڈگری کی پیمائش کرنے میں معاون ہوتی ہے ، لہذا ہم کم تناؤ محسوس کرتے ہیں۔
    آخر میں ، ورزش کو متنوع بنائے جانے والے طریق کار کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
    ورزش کرنے سے اکثر نفسیاتی حالت کو تقویت نہیں ملتی ہے ، تاہم ، اس کے علاوہ جسمانی صحت کے لئے بہت زیادہ مفید ہے

    دورانیہ
    عام آدمی نفسیاتی حالت اور جسمانی خوشحالی کا خیال رکھنے کے لیے آدھے گھنٹہ معیاری ورزش کافی ہے۔ ورزش ایک شخصیت کے مزاج کو تیز کردے گی.
    وقت
    چلنا پھرنا بھی ایک طرح کی ورزش ہے ، صحتمند چہل قدمی خوبصورت نتائج فراہم کر سکتی ہے ، اس سے بھوک اور نیند کو تقویت ملتی ہے ایک شخص کو ہر دن تیس سے چالیس منٹ تک چلنا چاہئے. صبح کے چلنے سے آپ کا موڈ حالیہ ہوجاتا ہے ، توجہ اور تخلیقی سوچ کے ساتھ آپ کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔
    روزانہ چلنے اور ورزش کرنے سے صرف نفسیاتی حالت برقرار نہیں رہتی ہے۔ اس سے اعزازی طور پر ذہانت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے. .

    اگلا قدم
    ان فوائد کے بارے میں جاننا اچھا ہے ، تاہم ، اگر ہم اپنی ذہنی حالت کے علاج کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرتے ہیں تو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ورزش علاج کے ایک حصے کے طور پر منسلک ہے ، تو صرف سائنس ہی کسی کی مدد کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت متعدد ممالک دماغی حالت کے علاج کے ایک حصے کے طور پر ورزش کو مجسم بناتے ہیں ، ہمیں جسمانی اور نفسیاتی حالت کی دیکھ بھال کے مابین تفریق کو توڑنے کے سلسلے میں ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ اگرچہ ورزش ادویات یا مختلف علاج کا متبادل نہیں ہے ، لیکن یہ ذہنی حالت کے علاج کا ایک اہم اور مددگار حصہ ہے۔
    ہم نے دماغی حالت کا سامنا کرنے والے افراد کے لئے ورزش کے فوائد کے سلسلے میں کافی بات کی ہے ، تاہم ، ورزش سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ خود کو زیادہ محسوس کریں گے حالانکہ اگر آپ پہلے ہی ٹھیک محسوس کررہے ہیں تب بھی. ہر ایک خود کو دماغی غیر صحت مند کہیں نہ کہیں پائے گا ، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ پاگل نہیں ہیں۔ ورزش کے فوائد کا تجربہ کرنے کے لیے ، ذہنی حالت نازک ہونا ضروری نہیں ہونا چاہئے، ، نارمل آدمی کو بھی ورزش کرنا چاہیے۔ دنیا بھر سے معلومات کو جمع کرنے والے ایک بڑے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش آپ کے ذہنی دباؤ کے امکانات کو ختم کردے گی۔

    @mayajaal12345

  • ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن  تحریر : ندرت حامد

    ہیپاٹائٹس (یرقان ) کا عالمی دن تحریر : ندرت حامد

    دنیا بھر میں ہر سال 28 جولائی کو ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کے اندر ہے ہیپاٹائٹس جیسے مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے ۔ یہ جگر کی بیماری ہے جگر میں سوزش (زخم ,درد) کو ہیپاٹائٹس کہتے ہیں ۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ہیپاٹائٹس کے دن ایک خاص تھیم رکھا گیا ہے اس سال کا تھیم (theme ) ہے
    Hapatites can’t wait
    یعنی ہیپاٹائٹس انتظار نہیں کر سکتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس کی پانچ اقسام ہیں ۔ ہیپاٹائٹس آۓ بی ,سی ڈی اور ای ۔
    ہیپاٹائٹس بی اور سی سب سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ ان کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 1.1 ملین لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ اور ہر سال تین لاکھ سے زائد کیس سامنے آتے ہیں ۔ہیپاٹائٹس کی پہلی قسم میں ہیپاٹائٹس A ہے ۔ HAV کھانے پینے میں ناقص صفائ کی وجہ سے پھیلتا ہے ۔ جنسی عمل سے بھی یہ پھیل سکتا ہے ۔ ویکسین دستیاب ہونے کی وجہ سے عام طور پر متاثرہ افراد صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔
    دوسری قسم ہیپاٹائٹس B ہے ۔HBV متاثرہ خون , میڈکل ٹریٹمنٹ کے دوران استمعال ہونے والے جراثیم سے آلودہ آلات کے زریعے پھیلتا ہے ۔متاثرہ ماں سے زچگی کےدوران بچے میں منتقل ہوتا ہے ۔ ہیپاٹائٹس بی بہت ہی خطرناک ہے لیکن اسکی ویکسین دستیاب ہے ۔ ہیپاٹائٹس سی HCV زیادہ تر بلڈ ٹرانسمیشن اور غیر صاف آلات جراحی کی وجہ سے پھیلتا ہے بہت کم حد تک جنسی عملHCV کی وجہ بنتا ہے ۔HCV کی اب تک کوئ ویکسین ایجاد نہیں ہوئ ۔ لیکن احتیاطی تعدبیر اختیار کر کے اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے ۔
    ہیپاٹائٹس D وائرس اکثر اوقات ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پہلے سی ایچ بی وی کا شکار ہوتے ہیں ۔ دونوں وائرس مل کہ شدت اختیار کر لیتے ہیں اور مریض نازک کی حالت نازک ہو جاتی ہے۔ تاہم ایچ بی وی کی ویکسین کی وجہ سے علاج ممکن ہے ۔پانچویں قسم ہیپاٹائٹس E ہے ۔ ایچ ای وی ناقص خوراک کھانے اور ناقص پانی پینے کی وجہ سے پھیلتی ہے ۔ ہیپاٹائٹس زیادہ تر ترقی پزیر ممالک میں عام ہے ۔جہاں صحت و صفائ کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ پچاس ہزار ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کے نئے کیس سامنے آتے ہیں ۔ ایچ ای وی کی ویکسین میسر ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں ہیپاٹائٹس اور اسکی مختلف اقسام کے متعلق معلومات دینا ہے تاکہ حفاظتی اقتدام اختیار کر کے خود کو ہیپاٹائٹس سے بچایا جا سکے
    @N_Hkhan

  • ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹرغائب عوام دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور

    ڈیرہ اسماعیل خان: گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹرغائب عوام دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور

    ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو یا مذبح خانے میں تبدیل انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت دے دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی میں قائم بی ایچ یو میں لیڈی ڈاکٹر غائب عوام دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور شہریوں کا کہنا ہے کہ واحد بنیادی مرکز صحت سینٹر بنایا گیا ہے جس میں آئے روز لیڈی ڈاکٹر اور سٹاف غائب رہتا ہے-

    شہریوں کا کہنا تھا کہ لیڈی ڈاکٹر انتہائی بدتمیز بداخلاق رویے سے خواتین سے بات کرتی ہیں اور دیہی علاقوں سے آنے والی خواتین سے پیسے بھی وصول کرتی ہیں اور جب اس حوالے سے سٹاف سے موقف لیا گیا تو اسٹاف کا کہنا ہے کہ آج ڈاکٹر صاحب ڈی ایچ او صاحب کی جانب سے ایک این جی او کے ساتھ ڈیوٹی پر گئی ہوئی ہے سیکڑوں گاؤں کے لوگ دردر رُل گئے خواتین مارے پھرنے لگی –

    خواتین کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈی ایچ او کے خلاف اور بی ایچ یوکے ڈاکٹر کے خلاف وزیراعلی خیبرپختونخوا چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ہیلتھ سیکرٹری خیبرپختونخوا فوری طور پر نوٹس لے اور کاروائی کریں تاکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ڈی ایچ او ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے –

    دوسری جانب ڈی ایچ او سے موقف لینے کے لیے بارہا رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے انکار کردیا۔

  • تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر:  فرقان اسلم

    تمباکونوشی ایک بری لَت تحریر: فرقان اسلم

    قارئین کرام اگر ہمیں کسی چیز کی عادت ہوجائے تو وہ ہمارے لیے ایک نشہ بن جاتا ہے۔ اس کے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ چیز ہمارے دل و دماغ میں بس گئی ہوتی ہے اور پھر اس سے چھٹکارا بہت مشکل ہوتا ہے۔
    بالکل اسی طرح کا حساب تمباکونوشی کا ہے۔ شروع شروع میں انسان اسے معمولی سمجھ کر یا شوق کے طور پر اس کا شکار ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ انسان کی عادت بن جاتی ہے۔ انسان کو اس کام کی لَت لگ جاتی ہے۔ اور اس کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ تمباکونوشی کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثر نوجوان ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ بری محفل میں بیٹھنے سے اس کا شکار ہوتے ہیں اس لیے یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کا خیال رکھیں کہ وہ کن کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں جو طلباء پڑھتے ہیں وہ اس ناسور کا شکار ہیں۔ جو مستقبل کے معمار اپنی توجہ پڑھائی پر دینے کی بجائے ان فضول کاموں میں دیں گے تو پھر ان کا مستقبل روشن کی بجائے تاریک ہوتا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر تمباکونوشی صحت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ انسان کی جسمانی اور دماغی صلاحیت کو کمزور کردیتی ہے۔ جب انسان کی صحت ہی بری طرح متاثر ہوگی تو نہ تو پڑھائی ہوگی اور نہ دوسرے کام۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں۔ جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکونوشی نہیں کرتے بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی خطرناک بیماریاں ہوتی ہیں اور تمباکونوشی کرنے والا اپنی اوسط عمر سے پندرہ سال پہلے دنیا سے گزر جاتاہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ اس میں چار ہزار سے زائد نقصان دہ اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ اور کارسینوجنز بھی موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں اگر ہمارے وطن پاکستان کو اچھا مستقبل چاہیئے تو سگریٹ نوشی پر روک تھام کرنی چاہیئے۔ تمباکونوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈی نینس، مجریہ 2002 کے مطابق اس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کے لیے عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کو سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے ۔
    لٰہذا یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس سے بچنے کے لیے لوگوں کے اندر شعور اور آگاہی پیدا کی جائے۔ اور حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس اب ہم اس لَت کا شکار ہوگئے ہیں اب نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر انسان مصمم ارادہ کرلے تو ہر بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ مگر اس کے لیے ایک ذہن سازی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کا ہمارے معاشرے میں فقدان ہے۔
    ہر برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے۔ تمباکونوشی وقت کے ساتھ ساتھ دولت بھی ضائع کردیتی ہے۔ ظاہر ہے جب انسان اس کا شکار ہوگا تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس کا مال کن کاموں میں استعمال ہورہا ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی فضول خرچی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ فضول خرچی کرنے والے کو تو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو اس برے کام سے محفوظ رکھے اور جو اس کام میں مبتلا ہیں ان کو اس سے نجات حاصل فرمائے۔۔۔آمین

    @Rumi_PK

  • وٹامنز اور ہماری صحت  تحریر :  شاہ زیب احمد

    وٹامنز اور ہماری صحت تحریر : شاہ زیب احمد

    وٹامن یا حیاتین کا شمار ان اجزاء میں ہوتا ہے جو جسمانی اجزاء کی کارکردگی بہتر بنانے کیساتھ ساتھ جسم کو صحیح طریقے سے کام کرنے اور صحت مند رکھنے میں خصوصی کردار ادا کرتے ہیں.
    اگر روز مرہ خوراک میں وٹامنز کو شامل نہ کیا جائے یا کم مقدار میں لیا جائے تو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے جو احتیاط نہ کرنے پر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے.
    وٹامنز کی دو اہم اقسام ہے:
    ✓ پانی میں حل ہونے والے وٹامنز۔
    ✓چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز۔

    ہمارے جسم کو تقریبا 13 وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہیں، جسمیں سے کچھ پر اس تحریر میں بات کرینگے کہ وہ کیوں ضروری ہے اور کہاں سے حاصل کئے جا سکتے ہیں.

    *وٹامن اے (Vitamin A):-*
    ہمارے جسم کو روز مرہ 0.4-1 ملی گرام وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے
    وٹامن اے کی مناسب مقدار ہماری تیز نظر ، نرم و ملائم جلد، مضبوط دانت اور ناخن کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
    وٹامن اے گاجر ، فروٹ، پنیر ،انڈہ اور کلیجی سے وافر مقدار میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    *وٹامن سی (Vitamin C)* :-
    حالیہ مرض کرونا سے متاثر افراد کیساتھ صحت مند لوگوں نے بھی بچاؤ کے لئے وٹامن سی وافر مقدار میں استمال کی ہے، دراصل وٹامن سی مضبوط قوت مدافعت (بیماری کے خلاف لڑنے کی جسمانی صلاحیت) کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے ، اسکےعلاوہ چہرے کی خوبصورتی اور تازگی ، مضبوط بال اور خوشگوار موڈ کے لئے بھی وٹامن سی کی وافر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
    جو کہ تازہ سبزیوں، آلو، ٹماٹر، انگور، سنگترہ اور لیموں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
    ہمارے جسم کو روز مرہ 70 ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہیں.

    *وٹامن ڈی (Vitamin D)*:-
    مضبوط ہڈیاں، جوڑوں کے درد سے نجات، نارمل بلڈ پریشر اور جسم سے زہریلے مواد کے خاتمے کے لئے وٹامن ڈی ضروری ہوتا ہے۔
    مچھلی، انڈے کی زردی ، آلو اور سبزیوں میں وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ قدرتی طور پر سورج کی کرنوں سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے
    ہمارے جسم کے لئے روزانہ 2.5 ملی گرام وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے

    *وٹامن ای (Vitamin E) :-*
    بڑھتی عمر کیساتھ صحت مند رہنا،جنسی کمزوری و اعصابی کمزوری، ٹیومر (رسولی)، دل کی تکلیف اور ماحولیاتی بیماریوں سے بچنے کے لئے وٹامن ای ایک ضروری جز ہے۔
    وٹامن ای گوشت ، کدو، مکئی ، پھل اور خشک میوا جات میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
    ہمارے جسم کو روزانہ 50-30 ملی گرام وٹامن ای کی ضرورت ہوتی ہے

    *وٹامن کے (Vitamin K) :-*
    زخم کے جلدی بھرنے اور خون کے نارمل گاڑھے پن کو برقرار رکھنے کے لئے وٹامن کے ضروری ہوتا ہے۔
    بچوں کے پیدائش پر انہیں وٹامن کے کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے،
    وٹامن کے گاجر، ٹماٹر، گھوبی،اور سبز چائے میں پایا جاتا ہے۔
    جسم کی روز مرہ کی ضرورت 2-1 ملی گرام ہے

    *وٹامن بی (Vitamin B) :-*
    ذہنی و اعصابی کیفیت میں مبتلا رہنا، نیند کے مختلف مسائل اور چہرے کے مختلف داغ دھبوں کی شکایت وٹامن بی کی مناسب مقدار حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے،

    وٹامن بی کے مختلف اقسام ہیں جیسے کہ

    _وٹامن بی ون (Vitamin B1):-_
    دماغی کمزوری، صحت مند نظام ہضم، خوشگوار نیند اور پٹھوں کی کمزوری، سے بچنے کے لئے وٹامن بی ون کی مناسب مقدار ضروری ہے،

    مکئ، دلیا، ساگ، مونگ پھلی اور خشک میوا جات میں پایا جاتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 3-1.2 ملی گرام.

    _وٹامن بی 2 (Vitamin B2) :-_
    جسم کے مردہ خلیوں کو دوبارہ بناتا ہے، تیز نظر اور پٹھوں کے کمزوری سے بچانے میں مدد دیتا ہے،
    گوشت، دودھ، بادام، پنیر ، اور انڈے میں پایا جاتا ہے۔
    جسم کی روزانہ ضرورت 3-1.3 ملی گرام.

    _وٹامن بی 5 (Vitamin B5):-_
    تیز حافظہ ،خوشگوار موڈ مضبوط رگیں (نس)، مضبوط دل کے لئے وٹامن بی5 ضروری ہوتا ہے۔
    چکن، چاول، مکئی کی روٹی ، گھوبی، دودھ کے بنے اشیاء ،اور ڈرائی فروٹ میں پایا جاتا ہے۔
    روز مرہ کی ضرورت 5 ملی گرام

    _وٹامن بی6 (Vitamin B6) :-_
    تا دیر جوان رہنے ، مضبوط اعصابی نظام ، اور مضبوط رگوں کے لئے وٹامن بی6 ضروری ہوتا ہے.
    مچھلی، گوشت ،زرعی اجناس, سلاد، کیلے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 2-1.6 ملی گرام.

    _وٹامن بی12 (Vitamin B12):-_
    قوت مدافعت، قوت سماعت، وزن کو برقرار رکھنا اور خوراک کی نالی کے پٹھوں کے مضبوطی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
    گوشت، دودھ، انڈے کی زردی، پنیر ، مٹر اور پالک میں پایا جاتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 2.5 ملی گرام ہے.

    یہاں کچھ وٹامنز کے بارے میں مختصر تفصیل شئیر کیا ہے انشاء اللّٰہ اگلے تحریروں میں مزید تفصیل بھی شئیر کی جائی گی.

    .
    Twitter I’d @Zebi_afridi

  • موٹاپا اور اس سے نجات کے طریقے تحریر: زارا سیٌد

    موٹاپا اور اس سے نجات کے طریقے تحریر: زارا سیٌد

    ھمارے جسم میں چربی زیادہ ہو جانے سے موٹاپا ھوتا ھے جو ایک پیچیدہ بیماری ہے۔ موٹاپا ایک ایسا مسئلہ ہے جو نظر انداز کئے جانے سے کئی اور بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ جیسے کہ دل کی بیماریاں، شوگر، بلڈ پریشر میں اضافہ اور کئی قسم کے کینسر وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا کم کرنا بہت ضروری ھے۔ 

    کچھ ایسے طریقے ھیں جن سے موٹاپا کم کیا جاسکتا ھے مثلاً۔۔۔

     موٹاپے کی وجوھات؟
    روز مرہ کی سرگرمی اور ورزش میں جلنے سے زیادہ کیلوری کھانا موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ، یہ اضافی کیلوری وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔لیکن یہ ہمیشہ صرف زیادہ کیلوری کے کھانے سے نہیں ہوتا ہے ، یا پھر صرف کم حرکت طرز زندگی سے نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعتا موٹاپے کی وجوہات ہیں ، کچھ وجوہات ایسی بھی ھوتی ہیں جن پر آپ قابو نہیں پا سکتے ہیں۔

    موٹاپا سے نجات کا طریقہ:
    پروٹین کا استعمال:
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ناشتے میں اناج سے بنی اشیا کی جگہ انڈے یا کوئی بھی پروٹین اور کیلشیم سے بھرپور غذا کھانا زیادہ فائدہ مند ھے یہ جسم میں اگلے کئی گھنٹے تک غذائی حرارے لینے کی ضرورت کو کم کردیتا ہے جسکی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی استعمال میں لا کر موٹاپا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    بغیر چھنا آٹا:
    زیادہ باریک آٹا استعمال نہ کریں۔ اس کی بجائے بغیر چھنا ہوا آٹا وزن کم کرنے کے لیے استعمال کریں۔

    چھوٹے برتن کا استعمال:
    چھوٹی پلیٹ کا استعمال کھانا کم کھانے کا ایک طریقہ ہے۔ اور جب کھانا تھوڑا کھایا جائے تو جسم موجود چربی استعمال ہو کر موٹاپا کم کرنے میں مدد کرتی ھے۔

    چینی کا استعمال ترک کرنا:

    کسی بھی کھانے پینے کی چیز میں اضافی مٹھاس کے لیے چینی کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔

    پانی کا استعمال:

    وزن کم کرنے کے لیے پانی کھانے سے آدھ گھنٹہ پہلے پینا موٹاپا کم کرنے کے طریقوں میں سے مؤثّر ترین طریقہ ہے اور یہ بات ایک تحقیق سے ثابت ھوئی ہے کہ کھانے سے پہلے پانی پینے والے افراد ایسا نہ کرنے والوں کے مقابلے میں اپنا وزن 44 فیصد تک زیادہ کم کر سکتے ہیں

    کافی پینا:

    کافی کے بہت سے فوائد ھیں ایک اس کا ایک فائدہ یہ بھی ھے کہ موٹاپا کم کرتی ھے بشرطیکہ اسے بہت کم مٹھاس کے ساتھ یا اس کے بغیر لیا جائے۔

    سبز چائے:

    اس کے فوائد بھی کافی کی طرح اس میں چینی شامل نہ کی جاۓ بلکہ شہد اور لیموں کا استعمال کیا جائے۔

    کبھی فاقہ کریں:

    کچھ دنوں کے بعد دو دن روزہ رکھنا یا کسی دن تین کی بجائے صرف دو بار کھانا بھی موٹاپا دور کرنے طریقوں میں سے ایک خاصا مفید طریقہ ہے۔ 

    خوراک کے اجزأ پر نظر رکھیں:

    اپنے کھانے میں شامل اجزأ پر نظر رکھنا موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر اپنانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے آپ یہ معلوم کر پاتے ہیں کہ آپ کے کھانے میں شامل کون سی اشیاء جسم میں چربی کے اضافے کا باعث ہوتی ہیں اور کون سی کم غزائی حراروں یا کیلوریز پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جسم میں پہلے سے موجود چربی کے استعمال سے موٹاپا کم کرنے کا کام کر سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپنے ہر کھانے کو کسی ڈائری میں لکھ لیں۔

    فائبر والی خوراک کھانا:

    زیادہ ریشوں والی خوراک کا لینا جہاں ہاضمے کے لیے مفید ہے یہ کم غذائی حراروں پر مشتمل ہوتی ہے جس وجہ سے جسم اپنی توانائی کو پورا کرنے کے لیے اپنی چربی کو استعمال کرتا ہے اور موٹاپا کم ہونے لگتا ھے

    پھل زیادہ کھانا:

    پھل اور سبزیاں صحت بخش ہونے کے علاوہ ایسے خواص کے بھی حامل ہیں جن سے موٹاپا کم ہوتا

    ڈائٹنگ نہ کریں

    بالکل کھانا چھوڑ دینا یا کھانے کے لیے ضروری اجزاء میں سے کوئی کم یا زیادہ لینا خوراک کو صحت بخش نہیں رہنے دیتا۔ اس لیے موٹاپا کم کرنے کے طریقے کے طور پر عمل میں لانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    @Oye_Sunoo

  • بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان  تحریر: منصور احمد قریشی

    بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان تحریر: منصور احمد قریشی

    پاکستان کی آزادی کے وقت ، پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کا نظام وراثت میں ملا جو برطانوی عہد کا عظیم ورثہ تھا ۔ یہ نظام صحتِ عامہ کی خدمات اور کچھ علاج معالجہ کی شکل میں تھا ۔ پاکستان میں صحت کی پالیسیاں بنانے اور منصوبہ بندی کا معاملہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنائیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں پبلک ہیلتھ سکولوں اور ٹیکنیشین ٹریننگ اداروں کو متعارف کروا کر میڈیکل پروفیشنلز کو تربیت دے کر صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرنے کی بجاۓ میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ترقی میں اپنے محدود وسائل خرچ کر رہی ہیں۔

    پاکستان میں کوالیفائیڈ نرسز ، دائیوں ، دانتوں کے ڈاکٹرز اور فارماسسٹس کی کمی ہے ۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جا رہی ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات خاصی زیادہ ہے ۔ ملک میں خواتین کی اکثریت خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہے ۔

    صحتِ عامہ کے ناقص نظام کا اثر اسہال کے بڑھتے ہوۓ معاملات خصوصاً بچوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔معاشرے کے امیر طبقے کو صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہے کیونکہ وہ نجی ہاسپٹلز کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ لیکن دوسری طرف غریبوں کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ حکومت صحت کی خدمات کی فراہمی میں معیار کو یقینی بناۓ ۔ اسے صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کو بہتر مراعات فراہم کرنی چاہیئیں ۔ اور تربیتی اداروں کے نظام کو بہتر کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیۓ ۔ تاکہ پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے ۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ، بہتر پیداواری اور صحت مند معیشت کو یقینی بنا سکتی ہے ۔

    آئینِ پاکستان کے مطابق سواۓ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں کے ، صحت کی دیکھ بھال بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ کورونا، ایڈز ، پولیو اور کچھ دیگر توسیعی پروگراموں کے نفاذ کی اور حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کی ذمہ داری بڑی حد تک وفاقی وزارتِ صحت پر ہے ۔

    پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ نجی اور سرکاری شعبہ پر مشتمل ہے ۔پاکستان میں نظامِ صحت کی حالت یہ ہے کہ نجی شعبہ ، آبادی کا تقریباً 70 فیصد خدمت کرتا ہے ۔ پاکستان میں بنیادی طور پر خدمت کے نظام کی فیس ہے ۔ سرکاری طور پر صحت کے حوالے سے بدانتظامی اس حد تک عیاں ہے کہ نہ تو نجی اور نہ ہی سرکاری شعبے ریگولیٹری فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں ۔

    ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 30 فیصد سے بھی کم آبادی کو پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کی سہولیات تک رسائی حاصل ہے ۔ اور اوسطً ہر فرد ایک سال میں ایک سال سے بھی کم ہیلتھ کیئر سینٹرز تک جاتا ہے ۔ ہیلتھ کیئرسینٹرز میں جانے میں عدم دلچسپی کی وجہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد اور خاص طور پر وہاں خواتین کی کمی ، غیر حاضری کی اعلٰی شرح ، سہولیات کا ناقص معیار اور ادویات کی عدم دستیابی شامل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پاک فوج ، پاکستان ریلوے ، اٹامک انرجی اور بہت سے دیگر ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ملازمین کو بہترین صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

    صحت کی پالیسی کی تعریف فیصلے ، منصوبے ، اور اقدامات کے طور پر کی جاسکتی ہے ۔ جو معاشرہ میں صحت کی دیکھ بھال کے مخصوص اہداف کے حصول کے لیۓ کئے جاتے ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ مل بیٹھکر عوام کی صحت کے حوالے سے ایک واضح اور جامع پالیسی مرتب کریں ۔ نئے ہاسپٹلز بناۓ جائیں ۔نئے ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ملازمتیں دی جائیں ۔ پیشہ ور نرسز کو تعینات کیا جاۓ ۔ غریب عوام کے لیۓ مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ ۔ تاکہ غریب عوام کو بہتر اور مفت صحت کی سہولیات میسر آ سکیں اور اُنکا معیارِ زندگی بہتر ہو سکے ۔

    Twitter Handle : @MansurQr