۱_ منشیات کے خلاف قوم کا محاذ ایک کھلا راز
پاکستان ایک ایسے خطرے سے دو چار ہے جس نے بہت سے گھروں کو ویران کر دیا اور نوجوان قوم کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے
پاکستان میں 8 ملین افراد ہیروئن اور افیون جیسے منشیات کے عادی ہے اور ہر سال چھیالیس لاکھ سے زائد افراد منشیات کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہے ،
نشے کا اثر صرف جسم پر ہی نہیں ، ان کے گھر والوں اس کی زندگی میں وابستہ ہر انسان پے پڑتا ہے ، اور انسان کی ذہنی صحت اور دماغی تندرستی پر بھی پڑتا ہیں ،
تو کیا یہ انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے؟
نقصان دہ ہے تو وقت کے حکمران بھنگ پی کے کیوں سوئے ہے اس پے ایکشن کیوں نہیں لے رہیں اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق پاکستان دنیا کے منشیات کے لحاظ سے نمبر 1 پے ہے ،
یہ نوجوان نسل کو برباد کرنے میں اپنا مسلسل کردار ادا نہیں کے رہا؟
منشیات سے زیادہ تر 13 سے 21 سال کے نوجوان لڑکیاں اور لڑکے متاثر ہو رہے ہیں ، اور اس کے علاوہ ان کے گھر والے اور آنے والی نسلے بھی متاثر ہو رہی ہے ، کیا ہمیں حکومت وقت سے مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؟
کیوں کہ یہ سب نہایت ہی مہلک ثابت ہوتا ہے
کیا یہ سب ہم ایسے ہی دیکھتے رہیں گے؟
ہر ایک فرد ہمارے ملک پاکستان کا حصہ ہے ایک شخص کا نقصان پورے ملک کا نقصان ہے تو ہم اپنے ملک کا نقصان ہوتے کیسے دیکھ سکتے ہیں ،
اگر آپ کسی ایسی شخص کو جانتے ہے جو نشہ کرتا ہے ، یا اس لت میں مبتلا ہو رہا ہے ، تو انہی بتائیے کہ یہ کس طرح اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا گلا گھونٹ رہا ہے ، اگر یہ لوگ پھر بھی نہیں رکتے تو قانون کی ہیلپ لیجیے کیوں یہ ہمارا بھی اچھے انسان ہونے کا حق ہے اور اس ملک کے ذمہ دار فرد ہونے کا حق بنتا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کریں اور اطلاع دیں ،
منشیات کی لت اگر زور پکڑ لے تو اس سے چھٹکارا پانا نا ممکن ہے
کیا آپ اس کہ اثر سے نہ آشنا ہے؟ اگر نہیں تو یہ سب ملک میں کیوں کر ہو رہا ہے
اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے نہ ممکن نہیں ہے اس کے لئے خود پر قابو ایک اہم جز ہے جس سے ہم نہایت ہی آسان طریقے سے اس بیماری سے آزاد ہو سکتے ہے،
منشیات کے عادی لوگ کس طرح مجبور ہو کر اپنی اس لت کو پورا کرنے کے لئے کن بری بری چیزوں کا سہارا لیتے ہے اور برے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہے
نشہ کرنے والے لوگ شاید ہمارے معاشرے کی کچھ غلط راویوں ،
بیروزگاری، گھریلوں مسائل اور اس جیسے کئی مسائل نوجوان قوم کو یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ،
لہذا! ان چیزوں پر قابو پا کر نوجوان نسل کو برے کاموں سے موڑ کر سیدھے راستہ اختیار کر کے تمام مسائل کا حل نکالنا ہر گھر کی ذمہ داری ہے آپ لوگ اپنے بچوں کے خیال رکھے ،
اُن کی محفل کا خیال رکھے ، تب ہی منشیات جیسی لت چھٹکارا پا سکتے !!
ہمارا موٹو : منشیات سے پاک پاکستان___
@kharal
Category: صحت

نشیات کے عادی لوگ تحریر: بلال ناصر کھرل

مون سون میں پھیلنے والے وبائی امراض اور احتیاطی تدابیر
پاکستان بھر میں جولائی کے وسط سے گرمی کی شدت میں کمی اور مون سون موسم کا آغاز ہو جاتا ہے، جہاں یہ خوشگوار موسم خوشی کا سبب بنتا ہے وہیں ساتھ میں بے شمار وبائی امراض بھی لاتا ہے جن سے بچنا ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مون سون موسم کے دوران پیدا ہونے والی بیماریوں میں ’سیزنل انفلوائنزا‘ یعنی کہ موسمی زکام، ملیریا، ٹائیفائیڈ، ڈینگی بخار، ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) اورہیضہ سرفہرست ہیں، ان سب میں سے زیادہ وبائی زکام، ہیضہ اور جِلدی بیماریاں بچوں اور بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔
بہتر قوت مدافعت اور پُرسکون نیند کے لئے گھریلو مصالحوں سے تیارکردہ جادوؤئی مشروب
طبی ماہرین کے مطابق مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام شکایت زکام، ’انفلوائنزا وائرس‘ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے، یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لیے یہ جلدی سے ایک فرد سے دوسرے میں با آسانی منتقل ہو کر بڑی تعداد میں عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اس شکایت کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہے۔
ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر
ہیضے کے مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم میں نمکیات کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ہیضے کے مریض کو اوآرایس پانی میں گھول کر پلانا چاہیئے جو جسم میں پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے،ہیضے سے بچاؤ کے لئے ابال کر صاف پانی کا استعمال اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھناضروری ہے ۔
انگلیوں سے فنگس کے داغ ختم کرنے کے طریقے
برسات کے موسم میں آلودہ پانی میں پائے جانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ٹائیفائڈ کے پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتاہے جوکہ آلودہ کھانے یا کسی متاثرہ شخص کے فضلے سے پھیلتا ہے ،اسکی علامات کچھ دنوں تک تیز بخار، پیٹ میں شدید درد، سر درد اور قے آنا ہے۔اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اسکا جراثیم علاج کے بعد بھی پتے میں رہ جاتا ہے اس مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر میں صاف پانی کا استعمال، اچھے اینٹی بیکٹیریا صابن کا استعمال اور بہتر نکاسی آب کا انتظام کرنا چاہیئے ۔
کُھلی فضا میں مچھروں سے بچنے کے آسان ٹوٹکے
اسی طرح برسات کے موسم میں پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ملیریا ہے جو کہ بارش کے کھڑے پانی میں پیدا ہونے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس کی نشانیوں میں تیز بخار، جسم اور سر درد، پسینہ آنا شامل ہیں، اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے تو جگر اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ملیریا سے بچاؤ کی احتیاطیی تدابیر کے لیے مچھر دانی کا استعمال کرناچاہیئے اور رات سونے سے قبل مچھر مار اسپرے یا مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جانے والے لوشنز کا استعمال لازمی کریں اور کوشش کرنی چاہیئے کہ گھر میں گندے پانی کا ذخیرہ نہ ہو
حشرات کے کاٹنے کے علاج کے مختلف طریقے
پانی جمع ہونے سے ڈینگی بخار پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، ڈینگی مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتاہے۔ اس مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر سفید اور کالی لکیریں ہوتی ہیں اور یہ دوسرے مچھروں سے عموماً بڑا ہوتا ہے اور صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔ڈینگی بخار کی نشانیوں میں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، سر درد، بخار اور جسم پر سرخ نشانات بننا شامل ہیں-
ٹائیفائیڈ بخار کی علامات اور اقدامات
مون سون کی بارشیں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے درج بالا بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتی ہیں، لہٰذا مون سون کے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت و صفائی کا خاص خیال رکھا جائے ، خود کو اور گھر کو صاف ستھرا رکھاجائے،تاکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچا جاسکے ۔
سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر (SAD) کی علامات علاج اور احتیاطی تدابیر
سڑکوں پر پانی اس وقت جمع ہوتا ہے جب سیوریج کا نظام ٹھیک نہ ہو اور سیوریج کا نظام ٹھیک نہ ہونے کی دو بڑی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ نکاسی آب کے لیے مختص گندے نالوں کی صفائی کا مناسب انتظام نہیں کیا جاتا، چنانچہ جونہی معمول سے کچھ زیادہ بارش ہو جائے سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ۔ دوسری وجہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز ہیں جنہیں لوگ استعمال کے بعد ادھرادھر پھینک دیتے ہیں اور جو ہوا کے ذریعے یا بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر سیوریج کے نظام میں داخل ہوتے اور اسے بلاک کر دیتے ہیں۔ ضروری ہے کہ مون سون سے قبل گندے نالوں کی صفائی کا اہتمام کیا جائے اور شاپنگ بیگز کی استعمال پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ، تاکہ کورونا کے بعد مزید وبائی امراض سے بچا جاسکے ۔
مُہلک کانگو وائرس علامات اور احتیاطی تدابیر
علاوہ ازیں طبی ماہرین کے مطابق مندرجہ بالا سب ہی وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے بہتر اور مثبت غذا کا استعمال کرنا لازمی ہے۔
غذ ائی ماہرین کے مطابق وبائی امراض اور اینٹی بائیوٹک دوا لینے سے بچنے کے لیے ہر گھر میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات سے بھرپور لہسن، ادرک، پودینہ، میتھی دانہ، موسمی پھلوں، زیرہ، پپیتا، الائچی، اجوائن، کلونجی، سونف اور لیموں کا استعمال روز مرہ کی روٹین میں بڑھا دینا چاہیے ان غذاؤں کے استعمال کے نتیجے میں قوت مدافعت مضبوط ہوتا اور موسمی وائرسز سے نجات حاصل ہوتی ہے-

الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟
الٹرا پروسیسڈ کھانے ہم بہت پسند کرتے ہیں لیکن ان کا استعمال ہماری صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہے اس کے استعمال سے کم نیند، سینے اور معدے میں جلن، سستی، قبض، پائلز اور وزن میں اضافے جیسے مسائل جنم لیتے ہیں-
پکلنگ، کیننگ، پیسچورائزنگ، فرمنٹنگ، ری کونسٹیٹیوٹنگ ۔ یہ سب فوڈ پروسیسنگ کی شکلیں ہیں، اور حتمی نتائج اکثر کافی مزیدار ہوتے ہیں۔
لیکن جو چیز ’الٹرا پروسیسڈ‘ فوڈز (یوپی ایف) کو منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انھیں پہچان سے کہیں زیادہ اور کیمیائی طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے اور اس میں ایسے مختلف طریقے اور اجزا استعمال کیے جاتے ہیں جو ہم گھر پر کھانا پکاتے وقت عام طور پر استعمال نہیں کرتے۔
الٹرا پروسیس کھانا کھانے سے بھوک کے لیے ذمہ دار ہارمونز میں اضافہ ہوتا ہے اور اس ہارمون میں کمی ہوتی ہے جس سے ہمیں پیٹ بھرنے یا سیری کا احساس ہوتا ہے، جس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے کیوں زیادہ کھانا کھایا اور وزن بڑھا لیا۔
لیکن وزن میں اضافہ زیادہ یو پی ایف والی غذا سے وابستہ مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ کئی دیگر مطالعات میں دیکھا گیا ہے کہ یو پی ایف غذا کے طویل عرصے تک کھانے اور دل کی بیماری، موٹاپا، ذیابیطس کی دونوں اقسام، کچھ طرح کے کینسروں اور حتیٰ کہ ڈپریشن میں بھی ایک طرح کا تعلق ہے۔
بی بی سی کے مطابق ماہرین کے مطابق یو پی ایف ایک مکینیزم پیدا کر دیتے ہیں جسے کو ’امید پرستی‘ کہا جاتا ہے جنک فوڈ کے لیے مثبت جذبات ہمیں فوری طور پر متاثر کرتے ہیں۔ لیکن منفی اثرات میں اضافہ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ ہمارے لیے یہ یقین کرنا آسان ہے کہ ہمارے پاس بعد میں (اپنی کھانے کی عادات) کو تبدیل کرنے کا وقت ہو گا، یا اس کا نتیجہ بہرحال ناگزیر ہے آسان زبان میں: اب آپ اسے پسند کریں گے، لیکن بعد میں آپ کو پچھتاوا ہو گا۔
آسٹریلین گائیڈ ٹو ہیلتھی ایٹنگ‘ میں ان کھانے کو ’صوابدیدی کھانیں‘ کہتے ہیں، کیونکہ یہ ضرورت نہیں، انتخاب ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق جن کے پاس انتخاب کی سہولت ہے انھیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’ہر ایک صحت کے لیے کھانے کے انتخاب کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ الٹرا پروسیسڈ کھانے طویل عرصے تک چلتے ہیں، آسانی سے سفر کرتے ہیں، اور ان کی تیاری میں بہت کم وقت لگتا ہے۔ جب ہمارے پاس وقت یا کیش کم ہو تو یہ توازن کے لیے اچھا آپشن ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈرانے والی اصل قوتیں وہ ہیں جو لوگوں کو صحت مند کھانے کے بجائے الٹرا پروسیسڈ کھانوں کے انتخاب کی طرف راغب کرتی ہیں مثال کے طور پر دائمی تناؤ، میٹھا، چربی اور نمکین کھانوں کے لیے ہماری بھوک بڑھا سکتا ہے۔ اور تناؤ اس وقت اور طاقت کو متاثر کر سکتا ہے جو ہم صحت مند خوراک کو دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ سب الٹرا پروسیسڈ کھانے لازمی طور پر جنک نہیں ہوتے پراسسڈ کھانوں میں کچھ اہم اور صحت مند کھانے بھی شامل ہیں، جیسے ڈبہ بند سبزیاں، پاستا، چاول، روٹی اور فائبر سے بھرپور ناشتے کے سیریئلز۔لیکن سب سے بڑھ کر، یہ مت بھولیے کہ کھانا اپنے مجموعی اجزاء سے کہیں زیادہ چیز ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانا ضرورت سے زیادہ بڑی چیز ہے، یہ ہماری خوشی، ثقافت، معاشرہ، سماجی میل جول اور بہت زیادہ چیزوں کا ایک حصہ ہے ہمیں صرف لوگوں کی مدد کرنی ہے کہ وہ خوشی اور صحت میں توازن پیدا کریں۔دوسری جانب فرانس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں ، محققین نے پتہ چلا کہ جن افراد نے روزانہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے انھیں جلد موت کا 14 فیصد زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ تحقیق کے لئے ، 45،51 سال کی عمر کے فرانسیسیو ں نے دو سال تک اپنی غذا ، صحت اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں معلومات پیش کیں۔ الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا استعمال شدہ کھانوں کے وزن میں سے تقریبا 14، 14 فیصد وزن اور کل کیلوری کی مقدار کا تقریبا 29 فیصد حصہ ہے۔
بی ایم جے جریدے میں ایک مطالعہ شائع کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے انتہائی روزانہ کھانے کی روزانہ کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے ان کے مجموعی کینسر کے خطرے میں 12 فیصد اور چھاتی کے کینسر میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ مطالعہ میں قطعی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ الٹرا پروسس شدہ کھانے کی وجہ سے کینسر کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ، محققین نے کئی نظریات پائے ایک نظریہ یہ ہے کہ کھانے میں نمک ، چینی اور چربی کی اونچی مقدار ہوتی ہے۔ ان اجزاء کو موٹاپا سے جوڑا گیا ہے ، جس سے کینسر کا زیادہ خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کچھ الٹرا پروسس شدہ کھانے میں کچھ اضافی چیزیں ہوتی ہیں جن میں کارسنجینک خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ، کھانے کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ کو سفید کرنے والے ایجنٹ کے طور پر یا فوڈ پیکیجنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عضلہ بڑی آنت یا معدے کی سوزش پر گھاووں کا سبب بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ، ایک اور نظریہ اعلی درجہ حرارت ہے جو کھانے پر عملدرآمد کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے نو تشکیل شدہ آلودگی پیدا ہوسکتی ہے۔ آخر میں ، بی پی اے (بیسفینول اے) عام طور پر فوڈ پیکیجنگ میں استعمال ہوتا ہے اور وہ کھانے میں جنک سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صحت کے قومی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے محققین کے ذریعہ کی جانے والی ایک تحقیق اور سیل میٹابولزم جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی پروسیسرڈ فوڈوں پر مشتمل ڈائیٹ کھانے سے لوگوں کو ضرورت سے زیادہ کھانے اور وزن بڑھنے کا اشارہ ملتا ہے۔ محققین نے پایا کہ انتہائی پروسیسر شدہ غذا پر رضاکاروں نے ہر دن 508 مزید کیلوری کھائی اور دو ہفتوں میں اوسطا دو پونڈ حاصل کرلیا۔ مطالعہ کے شرکاء جنہوں نے پوری یا کم سے کم پروسیس شدہ کھانوں کو کھایا اسی مدت کے دوران تقریبا دو پاؤنڈ کھوئے۔
اگرچہ الٹرا پروسیسرڈ کھانے کی صحت پر اس طرح کے اثرات مرتب ہونے کی صحیح وجوہات جاننے کے لئے مزید مطالعات کی ضرورت ہے ، تاہم ، یہ کہنا محفوظ ہے کہ ان کو کھانے کے نتائج فوائد سے زیادہ ہیں۔

مسور کی دال کے صحت پر جادوئی فوائد
مسورکی دال کو عام طور پر’ملکہ مسور ‘ بھی کہا جاتا ہے یہ انسانی خوراک کے لیے کاشت کی جانے والی نباتات میں سے ایک ہے جو قدیم زمانے سے خوراک کے طور پر مختلف طریقوں سے پکا کر کھائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق غذائیت کے لحاظ سے مسور کی دال میں 25 فیصد پروٹین، 60 فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 12 فیصد رطوبت پائی جاتی ہے جبکہ اس دال میں فاسفورس اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
خبردار خوش ذائقہ پھل تربوز صحت کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے
فائبر، میگنیشیم اور فولیٹ سے مالا مال ہونے کی وجہ سے مسور کی دال ہماری قلبِ صحت کو بہتر بناتی ہے، میگنیشیم پورے جسم میں خون، آکسیجن اور غذائیت کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔ فولیٹ سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ مسور کی دال میں موجود فائبر کا مواد جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔مسور کی دال میں ضروری وٹامنز، اینٹی آکسیڈینٹ اور معدنیات کی وافر مقدار جسم کی قوت مدافعت کے نظام کی تشکیل میں معاون ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آزاد ریڈیکلز کو تباہ کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہماری قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے۔
آم کا استعمال جِلد کےمتعددمسائل کاحل اوررنگت میں واضح نکھارلاتا ہے لیکن کیسے؟
مسور کی دال بڑھتے وزن کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے کیونکہ یہ فائبر اور پروٹین سے مالا مال ہوتی ہے اور ان دو غذائی اجزاء کی وجہ سے ہمارا پیٹ زیادہ دیر تک بھرا ہوا رہ سکتا ہے، اس طرح بڑھتے وزن سے پریشان افراد کو بھوک کم لگے گی اور اُن کے وزن میں کمی آئے گی علاوہ ازیں مسور کی دال اینٹی آکسیڈینٹ کا ایک پاور ہاؤس ہے جو ہماری جِلد کے خلیوں کے نقصان کو مؤثر طریقے سے کم کرسکتا ہے مسور کی دال کھانے سے ہماری جِلد صاف اور نکھرتی ہے، ایکنی ختم ہوتی ہے اور ساتھ ہی جھریاں بھی ختم ہوتی ہیں۔
پاپ کارن ذیابیطس سے تحفظ کے لئے انتہائی مفید غذا

نشے کی روک تھام یقینی بنانے کا عزم کمشنر لاہور
انسداد منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نشہ ایک لعنت ہے، اس کی بیخ کنی کیلیے انتہائی سنجیدہ کاوش کرنے کی طرف جا رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کی بحالی و علاج کیلئے ایک مستقل ادارہ بنا رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کا بحالی طویل وقت میں ہوتی ہے۔قانون سازی کر رہے ہیں، نشے کا شکار ہونے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، اس کا انسداد اور شکار لوگوں کی بحالی کریں گے، حکومتی ہدایات پر سی سی پی او لاہور اور میرے درمیان پالیسی سازی پر تجاویز تیار ہو رہی ہیں، شیشہ کیفیز کو بتدریج ختم کیا تھا اور آکسی شاٹس کو لاہور میں نہیں پھیلنے دیا ہے، نشے کے شکار ہمارے بہن بھائیوں کو بحالی سنٹر میں ہمدردانہ علاج کی ضرورت ہوگی، مستقل ادارے اور عادی افراد کو انکی خواہش یا بغیر خواہش بحالی کیلیے ڈرافٹ لاء پر کام کر رہے ہیں، نشے کے عادی افراد کیلئے مستقل ادارے کے تحت ان کو ہنر بھی سکھائے جائیں گے، خوبصورت لاہور پروگرام شہر کے مختلف حصوں میں موجود نشے کے عادی افراد کی بحالی کے بغیر نا مکمل ہوگا.

منڈی بہاؤالدین کے لوگوں کے لئے خوشخبری مشہور چائلڈ سپیشلسٹ اب ایک دن کے لئے آیا کریں گے
رپورٹ کاشف تنویر. تفصیلات کے مطابق پمز ہسپتال اسلام آباد کے نامور چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر بلال علی انجم جو کے پمز ہسپتال میں سنیر رجسٹرار کے طور پر تعینات ہوتے ہوئے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہر اتوار کو فیملی کیئر ہسپتال میں صبح 10 سے دوپہر 3 بجے تک بچوں کا چیک اپ کریں گے جو کہ منڈی بہاوالدین کے لوگوں کے لیے جذبہ خدمت کا ثبوت ہے۔

ہم ڈاکٹر بلال علی انجم کے تہہ دل سے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے منڈی بہاؤالدین میں چائلڈ سپیشلسٹ کی شدید کمی کو مدنظر رکھتے ہوۓ ہر اتوار کو منڈی بہاؤالدین فیملی کیر ہسپتال پھالیہ روڈ نزد حیدر پیلس آنے کا فیصلہ کیا۔
ہیلتھ آرگنائزیشن کا حکومت سے میٹھے مشروبات مہنگے کرنے کا مطالبہ
78 فیصد پاکستانیوں اور مختلف ہیلتھ آرگنائزیشنز کی سفارشات کی جانب سے میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ کی حمایت کے باوجود حکومت نے اس مسئلے کو نظر انداز کردیا، ہیلتھ منسٹری، سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کی پر زور سفارشات تھیں کہ ایس ایس بی پر کم از کم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو نافذ کیا جائے،
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) نے سب سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ آپ اسمبلیوں میں عوام کی آواز بنیں، ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان، اسکیلنگ اپ نیوٹریشن سول سوسائٹی الائنس، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن، چائلڈ رائٹس موومنٹ، پاکستان فیملی فزیشنز، سینئر فزیشن ڈاکٹرز، پاکستان کڈنی پیشنٹ ایسوسی ایشن اور دیگر صحت عامہ کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پرزورسفارش کی گئی تھی کہ بجٹ 2021-22 میں میٹھے مشروبات (ایس ایس بی) پر کم ازکم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نافذ کیا جائے، کیوں کہ میٹھے مشروبات کی کثرت استعمال سے موٹاپا، غیر مواصلاتی امراض (این سی ڈیز) کی ایک بڑی وجہ ہے، جن میں دل، کینسر، ذیابیطس، معدہ، جگر، فالج، موٹاپا، دانتوں اور دیگر امراض شامل ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت بین الاقومی صحت کے اداروں کی واضح سفارش ہے کہ ایس ایس بی پر ٹیکس بڑھانا اس کی کھپت کو کم کرنے کا موثر ذریعہ ہیں، لیکن حکومت نے عوامی مفاد کی بجائے انڈسٹری مافیا کے مفاد کو ترجیح دی ہے،
ّآج (پناہ) کی طرف سے وزیراعظم پاکستان عمران خان، مسلم لیگ (ن) سے شہبازشریف ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قائد حزب اختلاف یوسف رضاگیلانی، اے این پی کے صدر اسفند یارولی خان، پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو، کو خصوصی خطوط لکھے گئے ہیں کہ عوامی مفاد کے تحفظ کیلئے آپ بھی اسمبلیوں میں ہماری آواز بنیں اور ضروری اشیاء مثلا بجلی اور پیٹرول کو مہنگا کرنے کی بجائے بیماریاں پیدا کرنے والی غیر ضروری اشیاء پرٹیکس لگا کر ریونیو اکھٹا کیا جائے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیمو گلوبن کیا ہے؟ انسانی جسم پر اسکی کمی و زیادتی کی علامات اور علاج
ہیموگلوبن( Hb) ایک پروٹین ہے جو سرخ خون کے خلیوں میں ہوتا ہے۔ یہ خون کو سرخ بناتا ہے۔ عام سطح میں ، ہیموگلوبن جسم کے لئے بہت سے کام کرتا ہے۔ لہذا ، عام ہیموگلوبن کی سطح کو ہر وقت برقر رکھنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ہیموگلوبن کی مقدار یا شکل غیر معمولی ہو تو سرخ خون کے خلیے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نقل و حمل میں مناسب طریقے سے کام نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس میں خون کی کمی سمیت صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
کسی کے جسم میں ہیموگلوبن کی سطح کی معمولی قیمت صنف اور عمر کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ بالغ خواتین میں ہیموگلوبن کی سطح 12-15 g / dL تک ہوتی ہے ، جبکہ بالغ مردوں میں ہیموگلوبن کی سطح 13–17 g / dL ہوتی ہے۔
جب کسی شخص کی ہیموگلوبن کی حالت معمول سے زیادہ یا کم ہوتی ہے تو ، یہ صحت کی پریشانی کی علامت ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کم سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم میں خون کی کمی ہے۔ یہ حالت متعدد چیزوں کی وجہ سے ہوسکتی ہے ، جیسے خون کی کمی ، گردے اور ہڈیوں کے میرو کی خرابی ، تابکاری کی نمائش ، یا آئرن ، فولیٹ ، اور وٹامن بی 12 جیسے غذائی اجزاء کی کمی۔
جب ہیموگلوبن ٹھیک طرح سے کام نہیں کرسکتا ہے تو ، جسم کو کئی علامات کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے سستی اور تھکاوٹ ، سر درد اور چکر آنا ، پیلا جلد ، سینے کی دھڑکن ، اور سانس کی قلت۔
جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہےیہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا ہر 10 میں سے 8 افراد کو ہوتا ہے-
بالغ افراد کے لیے اس حوالے سے روزانہ آئرن کی مقدار بھی تجویز کی گئی ہے جیسے مردوں کے لیے 8 ملی گرام جبکہ خواتین کے لیے 18 ملی گرام، تاہم 50 سال کی عمر کے بعد خواتین میں بھی یہ مقدار 8 ملی گرام ہوجاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیموگلوبن کی مقدار اور افعال کو بڑھانے کے لئے اکثر کیسز میں غذائی تبدیلیاں لا کر قابو پانا ممکن ہوتا ہے لہذا ایچ بی کی کمی والے لوگ خون میں پتلیوں یا آئرن ، فولیٹ ، اور وٹامن بی 12 سے بھرپور کھانے کی اشیاء ، جیسے گوشت ، مچھلی ، انڈے اور سبزیوں کا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
خون کی کمی پورا کرنے کے قدرتی طریقے
علاوہ ازیں درج ذیل غذاؤں سے ہیمو گلوبن کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے-
ٹماٹر: ٹماٹر آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ آئرن کے جسم میں جذب ہونے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔
کشمش: کشمش بھی آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جسے آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
خشک خوبانی : خون کی کمی سے بچانے کے لیے ایک اور بہترین میوہ خشک خوبانی ہے جس میں آئرن اور وٹامن سی کے ساتھ ساتھ فائبر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ قبض سے بچانے میں مددگار جز ہے۔
شہتوت: یہ آئرن سے بھرپور پھل ہے جس میں پروٹینز کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
کھجور: کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے۔ اس کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں
انار: انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو کہ آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہے۔
تربوز: تربوز نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری کرتا ہے بلکہ جسم میں موثر طریقے سے ہیموگلوبن کی سطح بھی بڑھاتا ہے۔
آلو بخارر: یہ پھل فائبر سے بھرپور ہے جو قبض کا بھی موثر علاج ثابت ہوتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود آئرن ہیموگلوبن کی مقدار کو بڑھانے میں مددگار ہے۔
کلیجی: کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کی معتدل مقدار میں استعمال خون کی کمی کو چند دنوں میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے، تاہم اسے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔
چنے: یہ پروٹین اور آئرن سے بھرپور بھی ہوتے ہیں جو کہ ہیموگلوبن کے لیے بہترین ہے۔
دالیں: دالیں بھی آئرن سے بھرپور ہوتی ہیں جبکہ ان میں موجود فائبر جسم میں صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول لیول کی سطح میں بھی کمی لاکر دل کو تحفظ دیتا ہے۔
پالک: پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے اور اسے کھانا غذائی اجزاءکو بہت تیزی سے جسم میں ہونے میں مدد دیتا ہے۔
علاوہ ازیں کیلے ، سیب اور مالٹے میں بھی بھر پور مقدار میں آئرن کی مقدار موجود ہوتی ہے ان غذاؤں کے استعمال کے علاوہ معالج سے بھی ضرور رجوع کریں-
کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب گھریلو نسخہ
دوسری جانب ضرورت سے زیادہ ہیموگلوبن کی سطح جسم میں صحت کی پریشانی کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ ہائی ہیموگلوبن کی سطح کی حالتیں پولیسیٹیمیا ویرا ، کینسر ، گردے کے ٹیومر ، پھیپھڑوں کی بیماری ، پیدائشی دل کی خرابی کی شکایت اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہوسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ ، سگریٹ نوشی کی عادات ، بعض دوائیوں کے مضر اثرات ، نیز ماحولیاتی عوامل جیسے پہاڑی علاقوں میں رہنا یا کام کی جگہوں پر جو کاربن مونو آکسائیڈ زہر پیدا کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں ، وہ بھی ہیموگلوبن کی سطح کو متحرک کرسکتے ہیں۔
زیادہ ہیموگلوبن کی سطح والا شخص کچھ علامات کا سامنا کرسکتا ہے ، جیسے سر درد ، چکر آنا ، اور سستی ، لیکن بعض اوقات یہ غیر مہذب ہوسکتا ہے۔ ہائی ہیموگلوبن کی سطح ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتی ہے ، لیکن کچھ مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ اس حالت سے دل کی بیماریوں جیسے اسٹروک اور دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا عملہ غائب، مریض خوار
شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر )شیخوپورہ کے نواحی علاقہ کھاریانوالہ کے ہسپتال میں اندھیر نگری چوپٹ راج رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا پورا عملہ ہسپتال سے غائب رہنے لگا،ہسپتال سے ڈاکٹر سمیت غائب عملے گزشتہ رات مریض بیماری سے تڑپ رہا ہے اور ہسپتال میں کوئی بھی موجود نہیں،ہسپتال میں آنے والے مریض تکلیف کے باعث ڈاکٹر کے انتظار میں تڑپنے لگے،ڈاکٹر اور عملہ حاضریاں لگا کر گھروں کو چلا جاتا ہے جب بھی رات کے ٹائم ہسپتال میں آتے ہیں عملہ نا ہونے کے باعث ڈی ایچ کیو جانا پڑتا ہے اگر کبھی ڈاکٹر موجود ہوں بھی تو مریض کو چیک کرنے کی بجائے ریفر کر دیا جاتا ہے،ہسپتال میں بچوں کے ختنے کروانے کے لیے 5 سو روپے وصول کیئے جاتے ہیں، ڈیوٹی سے غائب رہنے والے ڈاکٹر اور عملے کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے شہری،شہریوں کا سیکرٹری ہیلتھ اور ڈپٹی کمشنر سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا دورہ خانقاہ ڈوگراں
شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے آج گورنمنٹ ڈگری کالج خانقاہ ڈوگراں میں کورونا ایس او پیز سمیت طلباء کو فراہم کی جانیوالی سہولیات کا جائزہ لیا اور شدید گرمی میں تعلیم کے حصول کے لیے آنیوالے طلباء کو ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ رورل ہیلتھ سنٹر خانقاہ ڈوگراں بھی گئے، ادویات کی فراہمی سمیت علاج معالجے کی سہولیات کا جائزہ لیا اور عملے کو ڈیوٹی ایمانداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی بعد ازاں وہ اچانک نقشہ برانچ اور ٹی ایم اے دفتر پہنچ گئے اور عملے کی حاضری اور ٹی ایم اے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کا کہنا تھا کہ شہر کے ساتھ دیہاتوں میں مقیم افراد کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سرپرائز وزٹ جاری رہیں گے۔











