Baaghi TV

Category: صحت

  • چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی،مُردوں کوجلایا جارہا ہے ، جوبیمارہیں ان کوزندہ جلانے کے لیے عدالت سے اجازت مانگ لی

    چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی،مُردوں کوجلایا جارہا ہے ، جوبیمارہیں ان کوزندہ جلانے کے لیے عدالت سے اجازت مانگ لی

    چین: چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی،مُردوں کوجلایا جارہا ہے ، جوبیمارہیں ان کوزندہ جلانے کے لیے عدالت سے اجازت مانگ لی،اطلاعات کےمطابق مہلک کرونا وائرس سے چین میں مزید 242 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد مہلک وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس (COVID-19) کی ہلاکت خیزی جاری ہے، وائرس سے چین کے اندر مجموعی ہلاکتوں کی تعداد تیرہ سو سے بھی بڑھ گئی، جب کہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 60 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    دوسری طرف مہلک وائرس سے لڑنے کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں، برطانوی سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وائرس کی ویکسین تیار کر لی گئی ہے، اور چوہوں پر اس کی آزمایش کی جا رہی ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی وائرس کے سلسلے میں پیش رفت کی ہے، ادارے نے وائرس کو ‘کووِڈ 19’ کا نام دے دیا ہے اور کہا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین 18 ماہ میں دستیاب ہوگی۔

    جاپانی بندرگاہ پر کھڑے کروز شپ میں وائرس متاثرین کی تعداد 174 ہو گئی ہے، یہ کروز شپ ایک ہفتے سے قرنطینہ میں ہے، جس میں تین ہزار افراد موجود ہیں۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، 27 ممالک میں 250 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جاپان میں 90، سنگاپور میں 40، جنوبی کوریا میں 25، بھارت میں 3 اور فرانس میں 4 شہری کرونا وائرس سے متاثر ہوئے۔

    خیال رہے کہ ہلاکت خیز کرونا وائرس چین کے انڈسٹریل شہر ووہان سے پھیلا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہ وائرس سانس کے نظام میں شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے، اس کی علامات میں بخار اور خشک کھانسی شامل ہیں۔

  • کرونا وائرس بے لگام ہوگیا،ہوا،پانی سے بھی پھیلنے لگا،مُردوں کوجلایارہاہے،وائرس زدہ کوزندہ جلانے کی اجازت طلب کرلی،مبشرلقمان

    کرونا وائرس بے لگام ہوگیا،ہوا،پانی سے بھی پھیلنے لگا،مُردوں کوجلایارہاہے،وائرس زدہ کوزندہ جلانے کی اجازت طلب کرلی،مبشرلقمان

    لاہور:کرونا وائرس بے لگام ہوگیا،ہوا،پانی اورتمام ذرائع سے دنیا بھرمیں پھیلنے لگا،مردوں کوجلایارہاہے، متاثرین کوزندہ جلانے کی اجازت طلب کرلی،تمام دنیا نشانہ بن سکتی ہے،مبشرلقمان،تمام دنیا نشانہ بن سکتی ہے،چین میں اس وائرس کے بے لگام ہونے کی خبروں کی نہ صرف تائید کی گئی ہے بلکہ اس کے بارے میں خبرداربھی کردیا گیا ہے ،

     

    پاکستان کے معروف صحافی مبشرلقمان نے اپنے معروف یوٹیوب چینل پراس حوالےسے اہم انکشافات کرتے ہوئے چینی ماہرین طب کی ان رپورٹس کو پیش کرکے دنیا بھرکی خیرخواہی کا فریضہ سرانجام دیا ہے،مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس بات کا خدشہ پایا جارہا تھا کہ کہیں یہ وائرس بے لگام نہ ہوجائے اورپوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے،

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے اہم گفتگوکرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پھروہی ہوا جس کا ڈر تھا ،مبشرلقمان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہےکہ چینی ماہرین طب کی رپورٹس کے بعد چینی وزارت صحت نے دنیا کو خبردارکردیا ہےکہ کرونا وائرس بے لگام ہوگیا ہے اب یہ وائرس صرف کسی جسم کو چھونے سے نہیں بلکہ یہ ہواکے ذریعے بھی پھیل رہی ہے

    مبشرلقمان نے چینی ماہرین طب کی رپورٹس کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ یہ بھی وزارت صحت کی طرف سے بتا دیا گیا ہےکہ پانی سے بھی یہ وائرس پھیل رہا ہے ، ان کا کہنا ہےکہ اب یہ وائرس ہواوں کے ذریعے ،پانیوں کے ذریعے اوردیگرذرائع سے بھی پھیل کردنیا کواپنی لپیٹ میں لے لے گا

    مبشرلقمان نے نہ صرف یہ رپورٹ پیش کی ہے بلکہ پاکستانیوں کوبھی قبل ازوقت آگاہ کردیا ہے کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ اس آزمائش سے بچائے اورہمیں احتیاط کرنی چاہیے

    مبشرلقمان نے یہ بھی انکشاف کیا ہےکہ چینی حکام کے حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ چینی حکام نے اس وائرس سے مرنےوالوں کوجلانا شروع کردیا ہے ، کیونکہ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جلانے سے ممکن ہے کہ اس وائرس کومرنے والے کے ساتھ ماردیا جائے ،

    مبشرلقمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ بھی خبریں آرہی ہیں کہ چینی حکام نے اپنی عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ ان افراد کو جلاکرمارنے کی اجازت دی جائے جن میں یہ وائرس پا یا جارہا ہے تاکہ باقی لوگ اس وائرس سے محفوظ رہیں

    مبشرلقمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چین میں قائم ایپل اوردیگرکمپنیوں کی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد بے روزگارہوسکتے ہیں ، اورپھر یہ بے روزگاری اس ملک کے لیے ایک نئی مصیبت بن کر آرہی ہے

  • خبردار :خانیوال میں گردوں کے مرض میں بڑی تیزی سے اضافہ ہونے لگا،متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ، 400 سے زائد ڈائلیسز کروانے پرمجبور

    خبردار :خانیوال میں گردوں کے مرض میں بڑی تیزی سے اضافہ ہونے لگا،متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ، 400 سے زائد ڈائلیسز کروانے پرمجبور

    خانیوال: پنجاب کا وہ ضلع جہاں گردوں کے مرض میں بڑی تیزی سے اضافہ ہونے لگا،متاثرین کی تعداد ہزاروں میں ، 400 سے زائد ڈائلیسز کروانے پرمجبور ہیں ،اطلاعات کے مطابق ضلع خانیوال میں گردوں کا مرض تیزی سے پھیلنے لگا ہے، دوسری طرف ٹی ایچ کیو اسپتال میاں چنوں کے ڈائلیسز یونٹ میں ادویات کا فقدان ہو گیا ہے۔

    ادھرذرائع کے مطابق اس حوالے سے آمدہ رپورٹ کے مطابق ڈائلیسز کے لیے مریضوں کے اہل خانہ مہنگی ادویات بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں، جس پر مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    میاں چنوں کے ٹی ایچ کیو اسپتال میں 400 مریض ڈائلیسز کے لیے اپنی باری کے منتظر ہیں، ڈیڑھ ماہ قبل سیکریٹری ہیلتھ نے 10 ڈائلیسز مشینوں کا اعلان بھی کیا تھا تاہم اعلان کے باوجود تا حال مشینیں مہیا نہیں کی گئیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں خانیوال کے ڈسٹرکٹ اسپتال کو پنجاب حکومت کی جانب سے ڈائلیسز مشین فراہم کی گئی تھی۔ جب کہ رواں برس جنوری میں ڈونر کی جانب سے ٹی ایچ کیو اسپتال میاں چنوں اور ڈی ایچ کیو اسپتال کو متعدد ڈائلیسز مشینیں فراہم کی گئی تھیں۔

  • ڈی ایچ کیو میں نرسوں کی ہے قلت، مریض ہوئے پریشان

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی سے) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں نرسنگ سٹاف کی شدید کمی ہوگئی ہے ذرائع کے مطابق اس وقت ضلع شیخوپورہ کی آبادی 25 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جس کے لیے فوری طور پر پنجاب کے کئی دوسرے شہروں کی طرح ایک اور ڈی ایچ کیو ہسپتال بنانے کی ضرورت ہے موجودہ ہسپتال اس وقت 648 بستروں پر مشتمل ہے جہاں قریبی اضلاع سے بھی روزانہ مریض آتے ہیں ان ذرائع کے مطابق اس وقت ہسپتال میں گریڈ 16 کی منظور شدہ نرسوں کی آسامیوں کی تعداد 331 ہے جس میں سے تقریباً 150 آسامیاں خالی ہیں جس کے باعث ان ڈور مریضوں کے علاج کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ نرسوں کی خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیے محکمہ صحت سے اجازت مانگ لی گئی ہے

  • کم عمر نظر آنا ہے تو کم فیٹ والا دودھ پیئیں

    کم عمر نظر آنا ہے تو کم فیٹ والا دودھ پیئیں

    کم عمر نظر آنا ہے تو کم فیٹ والا دودھ پئیں ماہرین کا ماننا ہے کہ کم فیٹ والے دودھ کو پینے کی وجہ سے بڑھتی عمر کے مسائل حل ہوجاتے ہیں

    بڑھتی عمر کے مسائل اور ان پر کم فیٹ والے دودھ کے اثرات پر برینگھم ینگ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ریسرچ کی جو آکسیڈیٹیو میڈیسن اور سیلولر لونگویٹی جرنل میں شائع ہوئی

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایسے افراد جو کم فیٹ والا دودھ پیتے ہیں وہ اپنے ہم عمر لوگوں سے کم عمر کے دکھائی دیتے ہیں

    ایک تحقیق دان لاری ٹکر کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کے نتائج بہت عمدہ اور اس میں فرق بھی واضح نظر آیا ہے

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ بہت زیادہ فیٹ والا دودھ پیتے ہیں تو خبردار رہیں کہ آپ کو پیچیدہ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جن میں بڑھتی عمر کا دکھائی دینا بھی شامل ہے

    اس مقالے کے لیے تحقیق دانوں نے لوگوں کے گروپ کے ٹیلومیئر کی لمبائی کے ساتھ روزانہ یا ہفتہ وار دودھ پینے کا تسلسل اور اس میں موجود فیٹ کی مقدار یعنی مکمل فیٹ، 2 فیصد، ایک فیصد اور بلا فیٹ کی جانچ کی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیلومیئر انسانی کروموسومز میں نیوکلیوٹائیڈ کا سرا ہوتا ہے یہ بائیولوجیکل گھڑی کی طرح کام کرتے ہیں یعنی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں بھی کمی آنے لگتی ہے محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیلومئیر انسانی کروموسومز میں نیوکلیوٹائیڈ کا سرا ہوتا ہے یہ بائیولوجیکل گھڑی کی طرح کام کرتے ہیں یعنی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں بھی کمی آنے لگتی ہے

    تحقیقی مقالے کے مطابق جتنی زیادہ مقدار میں فیٹ والے دودھ کا استعمال کیا جائے گا تو اتنی ہی زیادہ مقدار میں ٹیلومئیر میں کمی واقع ہوگی
    https://login.baaghitv.com/amp/zarurat-sy-zada-proteen-sehat-k-liye-nuqsan-deh-sabit-ho-sakti-hai/
    تاہم ٹیلومئیر کی تعداد میں کمی کی وجہ سے انسان زیادہ عمر کا دکھائی دینے لگتا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک شخص اپنے دودھ پینے کی مقدار میں ایک فیصد بھی اضافہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے 69 ٹیلومئیرز کم ہوجاتے ہیں

    تحقیق دانوں نے اخذ کیا کہ ایسے افراد جو مکمل فیٹ والا دودھ استعمال کرتے ہیں تو ان کے 145 ٹیلومئیرز میں کمی ہوجاتی ہے

    اس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہر تیسرا جوان انسان مکمل فیٹ کے ساتھ دودھ کا استعمال کرتے ہیں

    ماہرین کے مطابق اگر آپ بہت زیادہ فیٹ والا دودھ پیتے ہیں تو آپ کو پیچیدہ مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے جن میں سے ایک بڑھتی عمر کا دکھائی دینا بھی شامل ہے

  • دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے

    دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے

    کیلیفورنیا: دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے ،تفصیلات کے مطابق ماہرین طب حالتِ سکون یا ریسٹنگ میں دل کی دھڑکن کی تعریف 70 یا 72 دھڑکن فی منٹ کہی جاتی ہے لیکن اکثر افراد میں یہ شرح نارمل ہیں اور انفرادی طور پر اس تعداد میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔

    اس ضمن میں قریباً 70 ہزار افراد کو اسمارٹ واچ پہنا کر ایک عرصے تک ان کے دل کی دھڑکن کا جائزہ لیا گیا تو ایک سے دوسرے فرد میں 70 دھڑکن فی منٹ تک کا فرق بھی دیکھا گیا۔

    اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دل کی نارمل دھڑکن 70 سے 72 دھڑکن فی منٹ کو ہی ایک معیار مانا جاتا رہا اور اسے نصاب میں بھی پڑھایا جاتا رہا ہے لیکن کسی بھی شخص کے حالتِ آرام میں بھی دل کی فی منٹ دھڑکن میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح کسی فرد کے دل کی دھڑکن کا موازنہ دیگر عام آبادی سے کرکے اس شخص کی کیفیات کے متعلق خاصی معلومات جمع کی جاسکتی ہیں۔

    کیلی فورنیا میں واقعہ اسکرپس انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جورجیو کوئر کہتے ہیں کہ ’دل کی جو دھڑکن آپ کے لیے نارمل ہے وہ کسی اور کے لیے مرض ہوسکتی ہے، اس طرح طویل عرصے تک دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر کسی بھی شخص کی صحت اور کیفیت کے بارے میں بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔‘

    کچھ ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگر حالتِ آرام میں کسی شخص کے دل کی دھڑکن بتدریج بڑھ رہی ہے تو وہ کسی انفیکشن کی علامت ہوسکتی ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حالتِ آرام میں دل کی دھڑکن کا اتار چڑھاؤ کسی بھی فعلیاتی تبدیلی کی وجہ ہوسکتا ہے اور جلد یا بدیر اس راز کو بھی سمجھ لیا جائے گا۔

    اس سے قبل ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر بھاگ دوڑ نہیں ہورہی تو عام طور پر دل ایک منٹ میں اوسطاً 70 مرتبہ دھڑکتا ہے لیکن کئی صحتمند افراد میں یہ شرح بہت بلند دیکھی گئی۔ اسی طرح حاملہ خواتین میں بھی دل کی دھڑکن اوسط سے زیادہ ہوتی ہے۔ امراضِ قلب کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ دل کی دھڑکن 65 فی منٹ سے کم اور 90 فی منٹ سے زیادہ ہو تو یہ امراضِ قلب کی نشانی ہے۔

    ڈاکٹروں کی ٹیم نے اسمارٹ واچ کے ذریعے 90 ہزار افراد کا جائزہ لیا ہے۔ بعض افراد میں دل کی دھڑکن 40 تک تھی تو کچھ لوگوں میں 109 دھڑکن فی منٹ کی شرح دیکھی گئی لیکن عمر، جنس، بی ایم آئی اور نیند وغیرہ مجموعی طور پر صرف 10 فیصد اثر ڈال سکتی ہے۔

    تاہم اکثر افراد میں نوٹ کیا گیا کہ ان کے دل کی دھڑکن میں ایک سال کے دوران 10 دھڑکن کم یا زیادہ کا فرق ہی سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس مطالعے کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ طویل اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

  • غریب ممالک میں 2040 تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ اونے خبردار کردیا

    غریب ممالک میں 2040 تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ اونے خبردار کردیا

    جنیوا: غریب ممالک میں 2040 تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ اونے خبردار کردیا ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اگلے 20 برس میں کینسر کی غیرمعمولی صورتحال کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ان ممالک میں سرطان کے مریضوں کی تعداد آج کے مقابلے میں 81 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

    اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ ان ممالک میں ماہرین کی تیاری، انفراسٹرکچر، ہسپتالوں اور تحقیق پر کوئی منصوبہ بندی یا سرمایہ کاری نہیں ہورہی ۔ ڈبلیو ایچ او نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس وقت یہ تمام ممالک کینسر کی بجائے یا تو ماں اور نومولود کی صحت پر اپنے وسائل خرچ کررہے ہیں یا پھر انفیکشن سے پھیلنے والے امراض پر متوجہ ہیں۔

    ’ ہماری تحقیق آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جو امیر اور غریب ممالک کے درمیان سرطان سے وابستہ سہولیات کے درمیان بڑھتی ہوئی خطرناک خلیج کو ظاہر کررہی ہے،‘ ڈبلیو ایچ کے معاون نائب سربراہ رین مینگوئی نے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے مرحلے میں مریضوں کو ابتدائی طبی مدد اور دیگر اداروں تک رسائی میں مدد دی جائے تو کینسر کا درست انداز میں بروقت علاج ممکن ہوسکتا ہے۔

    کسی کے لیے اور کہیں بھی سرطان کسی کے لیے سزائے موت نہیں ہونا چاہیے۔یہ رپورٹ عالمی یومِ سرطان کی مناسبت سے جاری ہوئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اگلے عشرے میں لاکھوں کروڑوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر عالمی ادارہ برائے صحت کے ایک اور ماہر نے بتایا کہ کینسر قابو کرنے میں بہت زیادہ رقم درکار نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2040 تک پوری دنیا میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے اور اب بھی تمباکو نوشی سرطان کی 25 فیصد اموات کی اہم ترین وجہ ہ

  • ٹنڈوالہ یار میں 3 ماہ کے دوران ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق، مگربھٹوپھربھی زندہ ہے

    ٹنڈوالہ یار میں 3 ماہ کے دوران ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق، مگربھٹوپھربھی زندہ ہے

    ٹنڈوالہٰ یار: ٹنڈوالہ یار میں 3 ماہ کے دوران ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق مگربھٹوپھربھی زندہ ہے ،اطلاعات کےمطابق سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار کے گاؤں سارنگ ہکڑو کے 20 فیصد افراد میں کالے یرقان (ہیپاٹائٹس بی اور سی) کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سندھ میں ہیپا ٹائٹس کے حوالے سے پریشان کن خبریں‌ توپہلے سے آرہی تھیں مگرحکومت کوپھربھی احساس نہیں ہوا، ادھر محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق گوٹھ سارنگ ہکڑو کے رہائیشیوں کی اسکریننگ کے بعد 10 میں ہیپاٹائٹس بی اور 49 میں ہیپاٹائٹس سی مثبت پایا گیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لکشمن داس کا کہنا ہے کہ 3 ماہ کے دوران اب تک 33 افراد ہیپاٹائٹس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    ڈاکٹر لکشمن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گوٹھ سارنگ ہکڑو میں اسکریننگ کا کیمپ لگایا گیا تھا، یرقان میں مبتلا متاثرہ افراد کی جلد ویکسینیشن کرائی جائے گی۔اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالحفیظ لغاری کا کہنا ہے کہ مرض کے اضافے اور اموات کی وجہ گوٹھ میں گندے پانی کی فراہمی ہے، پانی کو صا ف کرنے کے لیے آر او پلانٹ لگایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو تہائی سے زائد گھرانے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور ہر سال تقریباً 53 ہزار پاکستانی بچے آلودہ پانی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

  • کرونا وائرس کی تباہیاں :عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگ لی

    کرونا وائرس کی تباہیاں :عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگ لی

    بیجنگ: کرونا وائرس کی تباہیاں :عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگ لی،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے امداد کی اپیل کر دی ہے۔

    کرونا وائرس س نبٹنے کےلیے کوششیں جاری ہیں ، ادھر غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور اس وائرس سے چین میں اب تک 490 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینوم نے کہا ہے کہ چین میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 80 فیصد مرکزی صوبے ہوبائے سے تعلق رکھتے ہیں، وائرس سے چین کے تمام صوبے متاثر نہیں ہوئے ہیں، تاہم چین میں اب تک کورونا کے تصدیق شدہ 24 ہزار 363 کیسز سامنے آئے ہیں اور 490 جان کی بازی ہار چکے ہیں، گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، ہمارے پاس اس وائرس سے نمٹنے کے لئے وسائل نہیں اور ہمیں فوری طور پر 68 کروڑ 50 ڈالر کی ضرورت ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک دنیا کے 24 دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے 176 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، ان میں سنگاپور میں وائرس کے مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے جب کہ تھائی لینڈ میں اب تک 25 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

  • پاکستان میں سالانہ پونے 2 لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے

    پاکستان میں سالانہ پونے 2 لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے

    لاہور: پاکستان میں سالانہ پونے دو لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے۔ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں سے رجوع کرنے والے ہر تیسرے مریض کو کینسر تشخیص ہورہا ہے، اونکالوجی سوسائٹی آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہر ساتویں موت کی وجہ کینسر ہے۔

    کسی ایک اسپتال میں تشخیص سے علاج تک کی سہولیات میسر نہیں، مریض کو تمام ٹیسٹ کرانے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں حالانکہ اسی عرصہ میں اسے بچایا جاسکتا ہے، اگر تشخیص سات دن کے انددر ہوجائے تو 14 دن میں آپریشن کرکے کینسر ختم کیا جاسکتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اگر ون ونڈو پروگرام یعنی ایک چھت تلے تشخیص سے علاج کی سہولیات دستیاب ہوں تو 90 فیصد مریضوں کی جان بچائی اورآئندہ زندگی صحت مند بنائی جاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ سالانہ پونے دو لاکھ کینسر کے مریض سامنے آرہے ہیں جن میں سے ایک لاکھ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے پرلقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انسانی زندگی محفوظ بنانے کے لیےجدید طریقہ علاج کا نظام بنایا جارہا ہے۔