Baaghi TV

Category: صحت

  • دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے

    دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے

    کیلیفورنیا: دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے ،تفصیلات کے مطابق ماہرین طب حالتِ سکون یا ریسٹنگ میں دل کی دھڑکن کی تعریف 70 یا 72 دھڑکن فی منٹ کہی جاتی ہے لیکن اکثر افراد میں یہ شرح نارمل ہیں اور انفرادی طور پر اس تعداد میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔

    اس ضمن میں قریباً 70 ہزار افراد کو اسمارٹ واچ پہنا کر ایک عرصے تک ان کے دل کی دھڑکن کا جائزہ لیا گیا تو ایک سے دوسرے فرد میں 70 دھڑکن فی منٹ تک کا فرق بھی دیکھا گیا۔

    اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دل کی نارمل دھڑکن 70 سے 72 دھڑکن فی منٹ کو ہی ایک معیار مانا جاتا رہا اور اسے نصاب میں بھی پڑھایا جاتا رہا ہے لیکن کسی بھی شخص کے حالتِ آرام میں بھی دل کی فی منٹ دھڑکن میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح کسی فرد کے دل کی دھڑکن کا موازنہ دیگر عام آبادی سے کرکے اس شخص کی کیفیات کے متعلق خاصی معلومات جمع کی جاسکتی ہیں۔

    کیلی فورنیا میں واقعہ اسکرپس انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جورجیو کوئر کہتے ہیں کہ ’دل کی جو دھڑکن آپ کے لیے نارمل ہے وہ کسی اور کے لیے مرض ہوسکتی ہے، اس طرح طویل عرصے تک دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر کسی بھی شخص کی صحت اور کیفیت کے بارے میں بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔‘

    کچھ ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگر حالتِ آرام میں کسی شخص کے دل کی دھڑکن بتدریج بڑھ رہی ہے تو وہ کسی انفیکشن کی علامت ہوسکتی ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حالتِ آرام میں دل کی دھڑکن کا اتار چڑھاؤ کسی بھی فعلیاتی تبدیلی کی وجہ ہوسکتا ہے اور جلد یا بدیر اس راز کو بھی سمجھ لیا جائے گا۔

    اس سے قبل ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر بھاگ دوڑ نہیں ہورہی تو عام طور پر دل ایک منٹ میں اوسطاً 70 مرتبہ دھڑکتا ہے لیکن کئی صحتمند افراد میں یہ شرح بہت بلند دیکھی گئی۔ اسی طرح حاملہ خواتین میں بھی دل کی دھڑکن اوسط سے زیادہ ہوتی ہے۔ امراضِ قلب کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ دل کی دھڑکن 65 فی منٹ سے کم اور 90 فی منٹ سے زیادہ ہو تو یہ امراضِ قلب کی نشانی ہے۔

    ڈاکٹروں کی ٹیم نے اسمارٹ واچ کے ذریعے 90 ہزار افراد کا جائزہ لیا ہے۔ بعض افراد میں دل کی دھڑکن 40 تک تھی تو کچھ لوگوں میں 109 دھڑکن فی منٹ کی شرح دیکھی گئی لیکن عمر، جنس، بی ایم آئی اور نیند وغیرہ مجموعی طور پر صرف 10 فیصد اثر ڈال سکتی ہے۔

    تاہم اکثر افراد میں نوٹ کیا گیا کہ ان کے دل کی دھڑکن میں ایک سال کے دوران 10 دھڑکن کم یا زیادہ کا فرق ہی سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس مطالعے کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ طویل اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

  • غریب ممالک میں 2040 تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ اونے خبردار کردیا

    غریب ممالک میں 2040 تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ اونے خبردار کردیا

    جنیوا: غریب ممالک میں 2040 تک کینسرکے مریض 81 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ڈبلیو ایچ اونے خبردار کردیا ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک اگلے 20 برس میں کینسر کی غیرمعمولی صورتحال کے شکار ہوسکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ان ممالک میں سرطان کے مریضوں کی تعداد آج کے مقابلے میں 81 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

    اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ ان ممالک میں ماہرین کی تیاری، انفراسٹرکچر، ہسپتالوں اور تحقیق پر کوئی منصوبہ بندی یا سرمایہ کاری نہیں ہورہی ۔ ڈبلیو ایچ او نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس وقت یہ تمام ممالک کینسر کی بجائے یا تو ماں اور نومولود کی صحت پر اپنے وسائل خرچ کررہے ہیں یا پھر انفیکشن سے پھیلنے والے امراض پر متوجہ ہیں۔

    ’ ہماری تحقیق آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جو امیر اور غریب ممالک کے درمیان سرطان سے وابستہ سہولیات کے درمیان بڑھتی ہوئی خطرناک خلیج کو ظاہر کررہی ہے،‘ ڈبلیو ایچ کے معاون نائب سربراہ رین مینگوئی نے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پہلے مرحلے میں مریضوں کو ابتدائی طبی مدد اور دیگر اداروں تک رسائی میں مدد دی جائے تو کینسر کا درست انداز میں بروقت علاج ممکن ہوسکتا ہے۔

    کسی کے لیے اور کہیں بھی سرطان کسی کے لیے سزائے موت نہیں ہونا چاہیے۔یہ رپورٹ عالمی یومِ سرطان کی مناسبت سے جاری ہوئی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اگلے عشرے میں لاکھوں کروڑوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر عالمی ادارہ برائے صحت کے ایک اور ماہر نے بتایا کہ کینسر قابو کرنے میں بہت زیادہ رقم درکار نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2040 تک پوری دنیا میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے اور اب بھی تمباکو نوشی سرطان کی 25 فیصد اموات کی اہم ترین وجہ ہ

  • ٹنڈوالہ یار میں 3 ماہ کے دوران ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق، مگربھٹوپھربھی زندہ ہے

    ٹنڈوالہ یار میں 3 ماہ کے دوران ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق، مگربھٹوپھربھی زندہ ہے

    ٹنڈوالہٰ یار: ٹنڈوالہ یار میں 3 ماہ کے دوران ہیپاٹائٹس سے 33 افراد جاں بحق مگربھٹوپھربھی زندہ ہے ،اطلاعات کےمطابق سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار کے گاؤں سارنگ ہکڑو کے 20 فیصد افراد میں کالے یرقان (ہیپاٹائٹس بی اور سی) کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سندھ میں ہیپا ٹائٹس کے حوالے سے پریشان کن خبریں‌ توپہلے سے آرہی تھیں مگرحکومت کوپھربھی احساس نہیں ہوا، ادھر محکمہ صحت سندھ کے حکام کے مطابق گوٹھ سارنگ ہکڑو کے رہائیشیوں کی اسکریننگ کے بعد 10 میں ہیپاٹائٹس بی اور 49 میں ہیپاٹائٹس سی مثبت پایا گیا۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لکشمن داس کا کہنا ہے کہ 3 ماہ کے دوران اب تک 33 افراد ہیپاٹائٹس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    ڈاکٹر لکشمن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر گوٹھ سارنگ ہکڑو میں اسکریننگ کا کیمپ لگایا گیا تھا، یرقان میں مبتلا متاثرہ افراد کی جلد ویکسینیشن کرائی جائے گی۔اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالحفیظ لغاری کا کہنا ہے کہ مرض کے اضافے اور اموات کی وجہ گوٹھ میں گندے پانی کی فراہمی ہے، پانی کو صا ف کرنے کے لیے آر او پلانٹ لگایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو تہائی سے زائد گھرانے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور ہر سال تقریباً 53 ہزار پاکستانی بچے آلودہ پانی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

  • کرونا وائرس کی تباہیاں :عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگ لی

    کرونا وائرس کی تباہیاں :عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگ لی

    بیجنگ: کرونا وائرس کی تباہیاں :عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مدد مانگ لی،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے امداد کی اپیل کر دی ہے۔

    کرونا وائرس س نبٹنے کےلیے کوششیں جاری ہیں ، ادھر غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اور اس وائرس سے چین میں اب تک 490 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہینوم نے کہا ہے کہ چین میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 80 فیصد مرکزی صوبے ہوبائے سے تعلق رکھتے ہیں، وائرس سے چین کے تمام صوبے متاثر نہیں ہوئے ہیں، تاہم چین میں اب تک کورونا کے تصدیق شدہ 24 ہزار 363 کیسز سامنے آئے ہیں اور 490 جان کی بازی ہار چکے ہیں، گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، ہمارے پاس اس وائرس سے نمٹنے کے لئے وسائل نہیں اور ہمیں فوری طور پر 68 کروڑ 50 ڈالر کی ضرورت ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک دنیا کے 24 دیگر ممالک میں کورونا وائرس کے 176 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، ان میں سنگاپور میں وائرس کے مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے جب کہ تھائی لینڈ میں اب تک 25 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

  • پاکستان میں سالانہ پونے 2 لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے

    پاکستان میں سالانہ پونے 2 لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے

    لاہور: پاکستان میں سالانہ پونے دو لاکھ کینسر کے مریض سامنے آنے لگے۔ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں سے رجوع کرنے والے ہر تیسرے مریض کو کینسر تشخیص ہورہا ہے، اونکالوجی سوسائٹی آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہر ساتویں موت کی وجہ کینسر ہے۔

    کسی ایک اسپتال میں تشخیص سے علاج تک کی سہولیات میسر نہیں، مریض کو تمام ٹیسٹ کرانے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں حالانکہ اسی عرصہ میں اسے بچایا جاسکتا ہے، اگر تشخیص سات دن کے انددر ہوجائے تو 14 دن میں آپریشن کرکے کینسر ختم کیا جاسکتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اگر ون ونڈو پروگرام یعنی ایک چھت تلے تشخیص سے علاج کی سہولیات دستیاب ہوں تو 90 فیصد مریضوں کی جان بچائی اورآئندہ زندگی صحت مند بنائی جاسکتی ہے۔

    واضح رہے کہ سالانہ پونے دو لاکھ کینسر کے مریض سامنے آرہے ہیں جن میں سے ایک لاکھ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے پرلقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انسانی زندگی محفوظ بنانے کے لیےجدید طریقہ علاج کا نظام بنایا جارہا ہے۔

  • کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

    کرونا وائرس یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    اس وقت دنیا بھر میں چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس موضوع بحث ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی اس پر رپورٹنگ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا کو اس وقت ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرہ اگر کسی چیز سے ہے تو وہ کورونا وائرس ہے . کورونا وائرس نے چین کے ایک بڑے شہر ووہان سے جنم لیا ہے. تفصیلات کے مطابق ساؤتھ چائنہ کی سی فوڈ مارکیٹ اس وائرس کی برتھ پلیس بتائی جا رہی ہے کہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور چونکہ چین میں چمگادڑ، چوہے اور خرگوش وغیرہ ہر چیز ہی کھائی جاتی ہے اور عین ممکن ہے کہ جانوروں سے ہی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا ہے. اس سے قبل ماضی میں بھی چین کے اندر کرونا سے ملتے جلتے سارس نامی وائرس سے 2002 اور 2003 میں تقریباً آٹھ ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 تھی. اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کرچکی اور جبکہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 361 ہوچکی ہے. دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پل پل کو کوریج دے رہے ہیں اورصحت کے سبھی عالمی ادارے اس جو انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں. سبھی ممالک میں بیرون ملک سے آنے والوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے اور دیگر ممالک میں موجود چینی شہریوں کو کرونا وائرس کا منبع سمجھ کر ان کے ساتھ میل جول سے احتیاط برتی جا رہی ہے. چین کے بڑے شہروں میں ہو کا عالم ہے اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہر ووہان میں لوگ گھروں دبک کر بیٹھے ہیں.
    بظاہر تو یہ وائرس ایک آفت اور بیماری نظر آرہا ہے مگر دنیا میں کچھ حلقے اس کو صرف وبائی مرض یا خود ساختہ وائرس ماننے کو تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک بائیولوجیکل ویپن ہے جو چائنہ جیسی معاشی سپر پاور کو کنٹرول کرنے اور اس کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ اس طرح کے بائیولوجیکل ویپن یا وائرس کو استعمال کرکے مطلوبہ ملک کو تنہائی کا شکار کیا جاسکتا ہے اور اس کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے. کرونا وائرس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات بھی اس خدشے کو تقویت دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ماضی میں ایبولا، زیکا، نیپا، ایم آئی آر ایس، ڈینگی وغیرہ بیسیوں وائرسز آتے رہے جن سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ میں اس قدر ڈنکا نہیں بجا اور نہ ہی کسی ملک کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جیسے چین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ ووہان سمیت چین کے بڑے شہروں میں بالکل سناٹا ہے کہیں کوئی انسان نظر نہیں آتا یہ منظر بالکل دو ہزار اٹھارہ میں نیٹ فلکس کی امریکی مووی Bird Box کی طرح کا نظر آرہا ہے. اس طرح دیگر کئی پرانی انگلش موویز میں ایسے مناظر فلمائے جاتے رہے ہیں جو آجکل چین میں نظر آرہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان موویز میں بھی یہ حالات مختلف وائرسز وغیرہ سے ہی پیدا ہوتے رہے ہیں. اسی طرح چین کو معاشی حوالے سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور کار کمپنیز نے اپنے آپریشنز اور کاروبار عارضی طور پر بند کردیے ہیں جس کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کو پندرہ ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ نقصان 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ چین کی برآمدات وغیرہ سبھی ہوائی اور بحری اڈوں پر رک چکی ہیں.ساری دنیا جانتی ہے کہ چین کے اس شدید معاشی نقصان کا فائدہ کن کو ہوگا اور سنجیدہ حلقے اسی بنیاد پر کرونا کو چین کے حریفوں کا چین پر حیاتیاتی حملہ یا بائیولوجیکل وار قرار دے رہے ہیں اس موقف کو امریکی سیکرٹری برائے تجارت ولبر روس کا عجیب و غریب انٹرویو بھی تقویت دے رہا ہے ولبر روس نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا مہلک کورونا وائرس امریکہ کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس انٹرویو پر ان کے مخالفین کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے.
    کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے.

  • ضرورت سے زیادہ پروٹین صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے

    ضرورت سے زیادہ پروٹین صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے

    پروٹین ویسے تو آپ کی غذا کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے تاکہ آپ کا جسم متحرک اور چست و توانا رہے لیکن کچھ افراد وزن کم کرنے کے لیے بھی غذا میں پروٹین کی مقدار کو بڑھانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ جب ہم وزن کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو ضرورت سے زیادہ پروٹین والی غذا زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے پروٹین کی وجہ سے میٹابولزم کے کام کرنے کی صلاحیت مزید تیز ہوجاتی ہے جو وزن گھٹانے میں بڑی حد تک معاون ثابت ہوتی ہےاس کی وجہ سے انسان کم کھانا کھا کر زیادہ دیر تک تر و تازہ رہ سکتا ہے

    پروٹین انسانی جسم میں مسلز کو بہتر کرنے اور انہیں بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اسی کی وجہ سے ورزش کے شوقین افراد اپنے کھانے میں پروٹین کی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں

    لیکن کچھ افراد ضرورت سے زائد پروٹین اپنی خوراک میں شامل کر لیتے ہیں جس کے حوالے سے ماہر غذائیت کہتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے مختلف طریقوں سے نقصان دہ ہوسکتی ہے اگر مخصوص مقدار میں پروٹین کا استعمال کیا جائے اور مناسب ورزش کی جائے تو وزن میں کمی دکھائی دیتی ہےلیکن اس کے برعکس جب ضرورت سے زائد پروٹین کا استعمال کرلیا جائے تو وہ وزن کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا دیتی ہے

    جسمانی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے


    اس حوالے سے آپ کو بہت خیال رکھنا ہوگا کہ آپ اپنی دن بھر کی خوراک میں کتنی پروٹین لے رہے ہیں ضرورت سے زائد پروٹین مندرجہ ذیل مسائل کا سبب بن سکتی ہے
    نظام ہاضمہ کی خرابی:
    زائد مقدار میں پروٹین شامل کرنے سے صرف ون بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ نظام ہاضمہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہےاگر آپ کو پیٹ کے مسائل یا پھر اس کے پھولا رہنے کی شکایت موصول ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ کے جسم کو ضرورت سے زائد پروٹین مل چکی ہے اور اسے گھٹانے کے لیے اس کی مقدار میں کمی لازمی ہے
    پروٹین کھانے کو مزید بھاری بنادیتی ہے اور اس کی وجہ سے کھانا ہضم کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ڈی ہائیڈریشن:
    زیادہ مقدار میں پروٹین لینے سے آپ کو ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے بار بار پیاس بھی لگتی ہےاس صورت میں اپنی کمی کو پورا کرنے کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا ہوگا

    گردوں پر اثر:
    جسم کے دوسرے اعضا کی طرح پروٹین گردوں پر بھی براہ راست اثر کرتی ہے جسم میں موجود اضافی نائٹروجن گیس سے چھٹکارا حاصل کرنے اور دیگر فضلا کو علیحدہ کرنے کے لیے اسے زیادہ قوت کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہےاگر آپ کو پہلے سے ہی گردوں کے مسائل سے ن ہیں تو آپ کو فوری طور پر غذا میں پروٹین کی مقدار کو کم کردینا چاہیے
    کیلشیئم کی کمی:
    پروٹین زیادہ مقدار میں لینے کی وجہ سے ہڈیوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےضرورت سے زائد مقدار میں پروٹین لینے کی وجہ سے کیلشیئم کی کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اسکی وجہ سے ہڈیوں سے متعلق مسائل پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں

  • موٹاپا کم کرنے کے لئے کی گئی سرجری کینسر کا باعث

    موٹاپا کم کرنے کے لئے کی گئی سرجری کینسر کا باعث

    بھاری جسامت اور ورزش میں سستی کی وجہ سے اکثر افراد اپنے آپ کو خوبصورت دکھنے کے لیے سرجری کروالیتے ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ اس کی وجہ سے جلد کے کینسر جیسی مہلک بیماری لگ سکتی ہے

    مذکورہ تحقیق یونیورسٹی آف گوتھین برگ سویڈن میں کی گئی جسے جے اے ایم اے جرنل ڈرموٹولوجی میں شائع کیا گیامحققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے موٹاپے اور جلد کے سرطان کے درمیان تعلق کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے

    محققین نے اپنی تحقیق کے لیے سویڈش اوبیس سبجیکٹس اور سویڈش کینسر رجسٹر کے ایسے اعداد و شمار کا استعمال کیا جنہوں نے وزن کم کروانے کے لیے سرجری کروائی تھی انہوں نے ان انسٹیٹیوٹ سے 2 ہزار افراد کا ڈیٹا جمع کیا جبکہ ان کا موازنہ ایسے افراد کے ساتھ کیا جنہوں نے موٹاپے کا شکار ہونے کے باوجود وزن کم کروانے سے متعلق سرجری نہیں کروائی تھی

    تحقیق دانوں نے اعداد و شمار کی مدد سے یہ اخذ کیا کہ جو لوگ موٹاپے کی پریشانی سے بچنے کے لیے سرجری کرواتے ہیں ان میں میلونوما کا خطرہ 57 فیصد جبکہ جلد کے کینسر کا خطرہ 42 فیصد تک ہوتا ہے

    سرجری کروانے والوں میں 23 افراد کو جلد کا کینسر لاحق ہوا جبکہ ان میں 12 افراد ایسے تھے جن کی بیماری بہت زیادہ مہلک بن گئی تھی محققین کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں یہ بات واضح ہے کہ جسم میں اچانک ہونے والی یہ تبدیلی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے یا جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے

  • ایلومینیم فوائل کا استعمال صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ

    ایلومینیم فوائل کا استعمال صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ

    اکثر گھروں میں ایلو مینیم فوائل کھانا ڈھانپنے یا اسے پیک کر کے فریج میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کچھ افراد اپنا لنچ باکس بنانے کے بجائے سینڈوچ یا بر گر وغیرہ ایلومینیم فوائل میں پیک کر کے اسکول یا دفتر لے جاتے ہیں اور فوائل میں ہی کھانا مائیکرو ویو میں گرم کر کے کھا لیتے ہیں جبکہ اس کے بے شمار طبی نقصانات ہیں

    ایک تحقیق کے مطابق ایلو مینیم فوائل کے استعمال سے خطر ناک بیماریاں ہو سکتی ہیں جن میں ’نیوروٹاکزن ڈیلویلپمنٹ ڈس آرڈر‘ سمیت جگر، گردوں اور ہڈیوں کا متاثر ہونا شامل ہے فیڈرل انسٹیٹیوٹ فار رسک اسیسمنٹ جرمنی ’بی ایف آر ‘ کے مطابق ایلومینیم فوائل استعمال کرنے والوں پر ایک تحقیق کی گئی

    جن گھروں میں ایلو مینیم فوائل استعمال ہو رہا تھا ان کے استعمال پر غور کیا گیا کہ دن میں ایلومینیم کا کتنا اور کس کس طرح سے استعمال کیا جا رہا ہےتحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں غذا، کاسمیٹک اور ٹوتھ پیسٹ کے ذریعے ایلومینیم ان کے اندر منتقل ہو رہا ہے اور اس کی مقدار بہت زیادہ تھی جس سے ان کی دماغی کارکردگی سمیت جسم کے دیگر اعضاء کے کام کرنے میں سستی آئی تھی، یہ افراد ایلوم مینیم فوائل استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں قوت مدافعت کے لحاظ سے کمزور اور سست تھے

    محققین نے ان افراد کو ایلومینیم فوائل کو کھانے پینے کی اشیا کے استعمال کے لیے منع کرتے ہوئے تجویز کیا کہ اس کا استعمال ترک کر دیا جائے جبکہ ضرورت زندگی کی دیگر اشیا جن میں ایلو مینیم موجود ہو انہیں کم سے کم استعمال کیا جائے

  • کرونا وائرس پھیپھڑوں پروارکرنے کے ساتھ اورکیاکرتا ہے؟خبرسے خوف اورپھرکھلبلی مچ گئی

    کرونا وائرس پھیپھڑوں پروارکرنے کے ساتھ اورکیاکرتا ہے؟خبرسے خوف اورپھرکھلبلی مچ گئی

    بیجنگ:کرونا وائرس پھیپھڑوں پروارکرنے کے ساتھ اورکیاکرتا ہے؟خبرسے خوف اورپھرکھلبلی مچ گئی ،اطلاعات کےمطابق چین میں کرونا وائرس کا شکار مریض کے پھیپھڑوں کے ایکسرے نے ڈاکٹرز کو تشویش میں مبتلا کردیا، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    کرونا وائرس سے پھیپھڑوں کوپہنچنے والے نقصان کا اس وقت پتا چلا جب چین کے شہر لاژو کے ایک اسپتال میں آنے والی 33 سالہ خاتون کے ایکسرے نے ڈاکٹروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔

    33 سالہ خاتون 102 بخار میں مبتلا تھیں اور انہیں سانس لینے میں مشکل کا سامنا تھا، انہیں گزشتہ 5 روز سے کھانسی کی بھی شکایت تھی۔ بعد ازاں ان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

    ڈاکٹرز کی جانب سے ان کے پھیپھڑوں کا ایکسرے لیا گیا تو ان کے پھیپھڑوں پر سفید دھبے پائے گئے۔ یہ دراصل وہ مائع تھا جو پھیپھڑوں کی خالی جگہوں پر جمع ہوگیا تھا اور اس سے سانس کی آمد و رفت مشکل ہوگئی تھی۔

    دو دن بعد جب مریضہ کا دوبارہ ایکسرے لیا گیا تو یہ سفید دھبے مزید نمایاں اور بڑھ چکے تھے۔ ڈاکٹرز نے اس مائع کو صاف کر کے سانس کی آمد و رفت کی جگہ بنائی جس سے مریضہ کی حالت میں کچھ بہتری واقع ہوئی۔

    حالیہ کرونا وائرس کا شکار افراد کو سر درد اور گلے کی سوزش جیسی معمولی علامات کا سامنا ہے، اس سے شدید علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف شامل ہے۔بہت کم تعداد شدید ترین علامات یعنی انفیکشن، پھپیھڑوں کی خرابی اور نمونیا کا شکار ہورہی ہے جو موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔