کرونا وائرس یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟
تحریر: محمد عبداللہ
اس وقت دنیا بھر میں چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس موضوع بحث ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی اس پر رپورٹنگ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ دنیا کو اس وقت ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرہ اگر کسی چیز سے ہے تو وہ کورونا وائرس ہے . کورونا وائرس نے چین کے ایک بڑے شہر ووہان سے جنم لیا ہے. تفصیلات کے مطابق ساؤتھ چائنہ کی سی فوڈ مارکیٹ اس وائرس کی برتھ پلیس بتائی جا رہی ہے کہ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور چونکہ چین میں چمگادڑ، چوہے اور خرگوش وغیرہ ہر چیز ہی کھائی جاتی ہے اور عین ممکن ہے کہ جانوروں سے ہی یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا ہے. اس سے قبل ماضی میں بھی چین کے اندر کرونا سے ملتے جلتے سارس نامی وائرس سے 2002 اور 2003 میں تقریباً آٹھ ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 تھی. اس وقت کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کرچکی اور جبکہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 361 ہوچکی ہے. دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پل پل کو کوریج دے رہے ہیں اورصحت کے سبھی عالمی ادارے اس جو انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں. سبھی ممالک میں بیرون ملک سے آنے والوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے اور دیگر ممالک میں موجود چینی شہریوں کو کرونا وائرس کا منبع سمجھ کر ان کے ساتھ میل جول سے احتیاط برتی جا رہی ہے. چین کے بڑے شہروں میں ہو کا عالم ہے اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے شہر ووہان میں لوگ گھروں دبک کر بیٹھے ہیں.
بظاہر تو یہ وائرس ایک آفت اور بیماری نظر آرہا ہے مگر دنیا میں کچھ حلقے اس کو صرف وبائی مرض یا خود ساختہ وائرس ماننے کو تیار نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ باقاعدہ ایک بائیولوجیکل ویپن ہے جو چائنہ جیسی معاشی سپر پاور کو کنٹرول کرنے اور اس کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. کیونکہ اس طرح کے بائیولوجیکل ویپن یا وائرس کو استعمال کرکے مطلوبہ ملک کو تنہائی کا شکار کیا جاسکتا ہے اور اس کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے. کرونا وائرس کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات بھی اس خدشے کو تقویت دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ماضی میں ایبولا، زیکا، نیپا، ایم آئی آر ایس، ڈینگی وغیرہ بیسیوں وائرسز آتے رہے جن سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ میں اس قدر ڈنکا نہیں بجا اور نہ ہی کسی ملک کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا جیسے چین کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ ووہان سمیت چین کے بڑے شہروں میں بالکل سناٹا ہے کہیں کوئی انسان نظر نہیں آتا یہ منظر بالکل دو ہزار اٹھارہ میں نیٹ فلکس کی امریکی مووی Bird Box کی طرح کا نظر آرہا ہے. اس طرح دیگر کئی پرانی انگلش موویز میں ایسے مناظر فلمائے جاتے رہے ہیں جو آجکل چین میں نظر آرہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان موویز میں بھی یہ حالات مختلف وائرسز وغیرہ سے ہی پیدا ہوتے رہے ہیں. اسی طرح چین کو معاشی حوالے سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور کار کمپنیز نے اپنے آپریشنز اور کاروبار عارضی طور پر بند کردیے ہیں جس کی وجہ سے ایک محتاط اندازے کے مطابق چین کو پندرہ ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے اور یہ نقصان 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ چین کی برآمدات وغیرہ سبھی ہوائی اور بحری اڈوں پر رک چکی ہیں.ساری دنیا جانتی ہے کہ چین کے اس شدید معاشی نقصان کا فائدہ کن کو ہوگا اور سنجیدہ حلقے اسی بنیاد پر کرونا کو چین کے حریفوں کا چین پر حیاتیاتی حملہ یا بائیولوجیکل وار قرار دے رہے ہیں اس موقف کو امریکی سیکرٹری برائے تجارت ولبر روس کا عجیب و غریب انٹرویو بھی تقویت دے رہا ہے ولبر روس نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا مہلک کورونا وائرس امریکہ کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا ’میرے خیال میں اس سے شمالی امریکہ میں ملازمتوں کی واپسی میں تیزی لانے میں مدد ملے گی۔ اس انٹرویو پر ان کے مخالفین کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے.
کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے چین کی معیشت اور عالمی ترقی پر اس کے اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے.
Category: صحت

کرونا وائرس ایک آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟؟؟

ضرورت سے زیادہ پروٹین صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے
پروٹین ویسے تو آپ کی غذا کا اہم ترین حصہ ہونا چاہیے تاکہ آپ کا جسم متحرک اور چست و توانا رہے لیکن کچھ افراد وزن کم کرنے کے لیے بھی غذا میں پروٹین کی مقدار کو بڑھانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ جب ہم وزن کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو ضرورت سے زیادہ پروٹین والی غذا زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے پروٹین کی وجہ سے میٹابولزم کے کام کرنے کی صلاحیت مزید تیز ہوجاتی ہے جو وزن گھٹانے میں بڑی حد تک معاون ثابت ہوتی ہےاس کی وجہ سے انسان کم کھانا کھا کر زیادہ دیر تک تر و تازہ رہ سکتا ہے
پروٹین انسانی جسم میں مسلز کو بہتر کرنے اور انہیں بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اسی کی وجہ سے ورزش کے شوقین افراد اپنے کھانے میں پروٹین کی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں
لیکن کچھ افراد ضرورت سے زائد پروٹین اپنی خوراک میں شامل کر لیتے ہیں جس کے حوالے سے ماہر غذائیت کہتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے مختلف طریقوں سے نقصان دہ ہوسکتی ہے اگر مخصوص مقدار میں پروٹین کا استعمال کیا جائے اور مناسب ورزش کی جائے تو وزن میں کمی دکھائی دیتی ہےلیکن اس کے برعکس جب ضرورت سے زائد پروٹین کا استعمال کرلیا جائے تو وہ وزن کم کرنے کے بجائے اسے بڑھا دیتی ہے
اس حوالے سے آپ کو بہت خیال رکھنا ہوگا کہ آپ اپنی دن بھر کی خوراک میں کتنی پروٹین لے رہے ہیں ضرورت سے زائد پروٹین مندرجہ ذیل مسائل کا سبب بن سکتی ہے
نظام ہاضمہ کی خرابی:
زائد مقدار میں پروٹین شامل کرنے سے صرف ون بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ نظام ہاضمہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہےاگر آپ کو پیٹ کے مسائل یا پھر اس کے پھولا رہنے کی شکایت موصول ہو تو سمجھ جائیں کہ آپ کے جسم کو ضرورت سے زائد پروٹین مل چکی ہے اور اسے گھٹانے کے لیے اس کی مقدار میں کمی لازمی ہے
پروٹین کھانے کو مزید بھاری بنادیتی ہے اور اس کی وجہ سے کھانا ہضم کرنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےڈی ہائیڈریشن:
زیادہ مقدار میں پروٹین لینے سے آپ کو ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے بار بار پیاس بھی لگتی ہےاس صورت میں اپنی کمی کو پورا کرنے کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا ہوگاگردوں پر اثر:
جسم کے دوسرے اعضا کی طرح پروٹین گردوں پر بھی براہ راست اثر کرتی ہے جسم میں موجود اضافی نائٹروجن گیس سے چھٹکارا حاصل کرنے اور دیگر فضلا کو علیحدہ کرنے کے لیے اسے زیادہ قوت کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہےاگر آپ کو پہلے سے ہی گردوں کے مسائل سے ن ہیں تو آپ کو فوری طور پر غذا میں پروٹین کی مقدار کو کم کردینا چاہیے
کیلشیئم کی کمی:
پروٹین زیادہ مقدار میں لینے کی وجہ سے ہڈیوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےضرورت سے زائد مقدار میں پروٹین لینے کی وجہ سے کیلشیئم کی کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور اسکی وجہ سے ہڈیوں سے متعلق مسائل پیدا ہونے شروع ہوجاتے ہیں
موٹاپا کم کرنے کے لئے کی گئی سرجری کینسر کا باعث
بھاری جسامت اور ورزش میں سستی کی وجہ سے اکثر افراد اپنے آپ کو خوبصورت دکھنے کے لیے سرجری کروالیتے ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے اپنی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ اس کی وجہ سے جلد کے کینسر جیسی مہلک بیماری لگ سکتی ہے
مذکورہ تحقیق یونیورسٹی آف گوتھین برگ سویڈن میں کی گئی جسے جے اے ایم اے جرنل ڈرموٹولوجی میں شائع کیا گیامحققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے موٹاپے اور جلد کے سرطان کے درمیان تعلق کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے
محققین نے اپنی تحقیق کے لیے سویڈش اوبیس سبجیکٹس اور سویڈش کینسر رجسٹر کے ایسے اعداد و شمار کا استعمال کیا جنہوں نے وزن کم کروانے کے لیے سرجری کروائی تھی انہوں نے ان انسٹیٹیوٹ سے 2 ہزار افراد کا ڈیٹا جمع کیا جبکہ ان کا موازنہ ایسے افراد کے ساتھ کیا جنہوں نے موٹاپے کا شکار ہونے کے باوجود وزن کم کروانے سے متعلق سرجری نہیں کروائی تھی
تحقیق دانوں نے اعداد و شمار کی مدد سے یہ اخذ کیا کہ جو لوگ موٹاپے کی پریشانی سے بچنے کے لیے سرجری کرواتے ہیں ان میں میلونوما کا خطرہ 57 فیصد جبکہ جلد کے کینسر کا خطرہ 42 فیصد تک ہوتا ہے
سرجری کروانے والوں میں 23 افراد کو جلد کا کینسر لاحق ہوا جبکہ ان میں 12 افراد ایسے تھے جن کی بیماری بہت زیادہ مہلک بن گئی تھی محققین کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں یہ بات واضح ہے کہ جسم میں اچانک ہونے والی یہ تبدیلی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے یا جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے

ایلومینیم فوائل کا استعمال صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ
اکثر گھروں میں ایلو مینیم فوائل کھانا ڈھانپنے یا اسے پیک کر کے فریج میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کچھ افراد اپنا لنچ باکس بنانے کے بجائے سینڈوچ یا بر گر وغیرہ ایلومینیم فوائل میں پیک کر کے اسکول یا دفتر لے جاتے ہیں اور فوائل میں ہی کھانا مائیکرو ویو میں گرم کر کے کھا لیتے ہیں جبکہ اس کے بے شمار طبی نقصانات ہیں
ایک تحقیق کے مطابق ایلو مینیم فوائل کے استعمال سے خطر ناک بیماریاں ہو سکتی ہیں جن میں ’نیوروٹاکزن ڈیلویلپمنٹ ڈس آرڈر‘ سمیت جگر، گردوں اور ہڈیوں کا متاثر ہونا شامل ہے فیڈرل انسٹیٹیوٹ فار رسک اسیسمنٹ جرمنی ’بی ایف آر ‘ کے مطابق ایلومینیم فوائل استعمال کرنے والوں پر ایک تحقیق کی گئی

جن گھروں میں ایلو مینیم فوائل استعمال ہو رہا تھا ان کے استعمال پر غور کیا گیا کہ دن میں ایلومینیم کا کتنا اور کس کس طرح سے استعمال کیا جا رہا ہےتحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں غذا، کاسمیٹک اور ٹوتھ پیسٹ کے ذریعے ایلومینیم ان کے اندر منتقل ہو رہا ہے اور اس کی مقدار بہت زیادہ تھی جس سے ان کی دماغی کارکردگی سمیت جسم کے دیگر اعضاء کے کام کرنے میں سستی آئی تھی، یہ افراد ایلوم مینیم فوائل استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں قوت مدافعت کے لحاظ سے کمزور اور سست تھےمحققین نے ان افراد کو ایلومینیم فوائل کو کھانے پینے کی اشیا کے استعمال کے لیے منع کرتے ہوئے تجویز کیا کہ اس کا استعمال ترک کر دیا جائے جبکہ ضرورت زندگی کی دیگر اشیا جن میں ایلو مینیم موجود ہو انہیں کم سے کم استعمال کیا جائے

کرونا وائرس پھیپھڑوں پروارکرنے کے ساتھ اورکیاکرتا ہے؟خبرسے خوف اورپھرکھلبلی مچ گئی
بیجنگ:کرونا وائرس پھیپھڑوں پروارکرنے کے ساتھ اورکیاکرتا ہے؟خبرسے خوف اورپھرکھلبلی مچ گئی ،اطلاعات کےمطابق چین میں کرونا وائرس کا شکار مریض کے پھیپھڑوں کے ایکسرے نے ڈاکٹرز کو تشویش میں مبتلا کردیا، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پھیپھڑوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
کرونا وائرس سے پھیپھڑوں کوپہنچنے والے نقصان کا اس وقت پتا چلا جب چین کے شہر لاژو کے ایک اسپتال میں آنے والی 33 سالہ خاتون کے ایکسرے نے ڈاکٹروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔
33 سالہ خاتون 102 بخار میں مبتلا تھیں اور انہیں سانس لینے میں مشکل کا سامنا تھا، انہیں گزشتہ 5 روز سے کھانسی کی بھی شکایت تھی۔ بعد ازاں ان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔

ڈاکٹرز کی جانب سے ان کے پھیپھڑوں کا ایکسرے لیا گیا تو ان کے پھیپھڑوں پر سفید دھبے پائے گئے۔ یہ دراصل وہ مائع تھا جو پھیپھڑوں کی خالی جگہوں پر جمع ہوگیا تھا اور اس سے سانس کی آمد و رفت مشکل ہوگئی تھی۔
دو دن بعد جب مریضہ کا دوبارہ ایکسرے لیا گیا تو یہ سفید دھبے مزید نمایاں اور بڑھ چکے تھے۔ ڈاکٹرز نے اس مائع کو صاف کر کے سانس کی آمد و رفت کی جگہ بنائی جس سے مریضہ کی حالت میں کچھ بہتری واقع ہوئی۔
حالیہ کرونا وائرس کا شکار افراد کو سر درد اور گلے کی سوزش جیسی معمولی علامات کا سامنا ہے، اس سے شدید علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف شامل ہے۔بہت کم تعداد شدید ترین علامات یعنی انفیکشن، پھپیھڑوں کی خرابی اور نمونیا کا شکار ہورہی ہے جو موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر جانوروں میں کرونا وائرس کی خبریں جھوٹ کا پلندہ، حکومت
سوشل میڈیا پر جانوروں میں کرونا وائرس کی خبریں جھوٹ کا پلندہ، حکومت
باغی ٹی وی :سوشل میڈیا پر جانوروں میں کرونا وائرس کی خبریں جھوٹ کا پلندہ ہیں منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں سوشل میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کرونا وائرس کی وجہ سے اگلے 60 دنوں تک مٹن گوشت کے استمال کو خطرناک ظاہر کیا جارہا ہے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ مخدوم خسرو بختیار کی ہدایات پر ڈاکٹر خورشید احمد کمشنر مویشی پال حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مراسلہ میں سوشل میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں مویشیوں میں کہیں بھی کرونا وائرس رپورٹ نہیں ہوا پاکستان کے عوام سوشل میڈیا پر چلنے والی غلط افوہوں پر کام نہ دھریں اور گوشت کا استعمال جاری رکھیں پاکستان میں کسی بھی جگہ بھیڑ بکریوں یا دیگر جانوروں میں کرونا وائرس نہیں ہے

کے پی کے اور سندھ میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے
اسلام آباد:پولیوپاکستانیوں کی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا ، اطلاعات کےمطابق خیبر پختون خوا (کے پی کے) اور سندھ میں پولیو کے مزید 2 نئے کیسز سامنے آگئے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ضلع ٹانک میں 11 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے۔
پشاور سے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق 11 جنوری کو متاثرہ بچے کے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے تھے جب کہ بچے کو پولیو سے بچاؤ کی کوئی ویکسین بھی نہیں دی گئی تھی۔
محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق نیا کیس سامنے آنے کے بعد رواں سال صوبہ بھر میں پولیو کیسز کی تعداد 3 ہوگئی ہے جب کہ گزشتہ سال صوبہ بھر میں پولیو کے 92 کیسز رپورٹ کیے گئے تھے۔

پاکستانی ڈاکٹرز بغیرسرجری دل کے والوتبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے
اسلام آباد:پاکستانی ڈاکٹرز بغیرسرجری دل کے والوتبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے،اطلاعات کےمطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آ باد میں پہلی بغیر سرجری دل کے والو کی تبدیلی TAVI Transcatheter Aortic Valve Implantation کے ذریعہ کی گئی۔
باغی ٹی وی کےمطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال ، اسلام آ باد میں شعبہ کارڈیالوجی کی ٹیم نے دل کے والو کی تبدیلی کے لیے جدید اور منفرد علاج یعنی Transcatheter Aortic Valve Implantation TAVIکا پہلا پروسیجر کامیابی کے ساتھ سر انجام دیا ۔ کارڈیالو جی ٹیم نے یہ پروسیجر ایک عمر رسیدہ مریض پر سر انجام دیا جو کہ دل کے پیچیدہ عارضے میں مبتلا تھے۔ یہ طریقہ علاج ان مریضوں کے لیے موزوں ہے جن کے دل کے والوز کو آ پریشن کے ذریعے تبدیل کرنا نقصان دہ ثا بت ہو سکتا ہے۔
TAVIتیکنیک انٹروینشنل کارڈیالوجی کے شعبہ میں عالمی سطح پر ایک متبادل اور اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آ ئی ہے۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں TAVIپروسیجر ڈا کٹر اسد اکبر خان (کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالو جسٹ) کی سربراہی میں سر انجام دیا گیاجو کہ امریکہ میں 500سے زائد TAVIپروسیجرز سر انجام دے چکے ہیں۔
ماضی میں مریضوں کے Aortic Valveکی تبدیلی اوپن ہارٹ سرجری کے ذریعے کی جاتی تھی جبکہ اس نئے انٹروینشنل پروسیجر کی بدولت مریض کے دل کے والو کی تبدیلی ٹانگ میں ایک چھوٹے سے کٹ کی مدد سے Transcatheter کی رسائی کو ممکن بنا کر کی جاتی ہے۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال مریضوں کے بہتر معالجے کے لیے جدید طریقہ علاج متعارف کروانے کے لیے پر عزم ہے۔

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد اسلام آباد کس اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے گئیں، خبرنے کھلبلی مچادی
لاہور: وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے اسلام آباد میں وزارت صحت کے اہم اجلاس میں شرکت کی،جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفرمرزا، صوبائی وزیرپاپولیشن اینڈویلفیئرپنجاب کرنل(ر) ہاشم ڈوگر، صوبائی وزیرزراعت بلوچستان، صوبائی وزیرکمیونیکیشن اینڈورکس خیبرپختونخواہ ودیگرافسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام، ہیپاٹائٹس سی پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات، خاندانی منصوبہ بندی اورمختلف ورٹیکل پروگرامزبارے تفصیلی جائزہ لیاگیا۔صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے شرکاء کوصحت کے شعبہ میں اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہاکہ پنجاب میں ہیپاٹائٹس سی پرقابوپانے اورخاندانی منصوبہ بندی کیلئے ٹھوس اورمؤثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ورٹیکل پروگرامزکے ذریعے صوبہ میں ہزاروں مریضوں کومفت علاج معالجہ اورادویات کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ڈاکٹریاسمین راشد نے کہاکہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کواپ گریڈکیاجارہاہے۔
کروناوائرس کے حوالہ سے ایئرپورٹس پرمسافروں کی سکریننگ کے عمل میں مکمل معاونت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر) عثمان یونس کرونا وائرس پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کاخودجائزہ لے رہے ہیں۔
٭٭٭٭
"ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون
کراچی :”ہو گا صاف پاکستان” ڈیٹول کی ملک کو صاف ستھرا بنانے اور صحت مند ماحول پیدا کرنے کی مہم،آئی بی اے کا بھرپورتعاون،اطلاعات کےمطابق قابل اعتماد اینٹی بیکٹیریل برانڈ ڈیٹول نے پاکستان کو ایک صاف ستھرا ملک بنانے کیلئے کمر کس لی ہے۔ اس سلسلے میں ڈیٹول کی جانب سے "ہو گا صاف پاکستان” نامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت شہریوں کو صاف ستھرا پاکستان کے مقصد کے حصول کیلئے بااختیار بنایا جائے گا۔ ڈیٹول نے اپنی اس خاص مہم کے سلسلے میں "صفائی ترانہ” بھی جاری کیا ہے جسے عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں ویسے توبڑے ادارے اس مہم جوئی میں مل کرکام کررہے ہیں ، تاہم کسی بڑے تعلیمی ادارے کی طرف سے اس سے پہلے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جارہی تھی، لیکن اب انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی نے باقاعدہ اسے ایک ہم نصابی سرگرمی سمجھتے ہوئے کراچی کے کونے کونے میں پہنچانے کا تہیہ کررکھا ہے
اب ڈیٹول "ہوگا صاف پاکستان” مہم کے ذریعے صفائی کی اہمیت کے معاملے کو اجاگر کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو ایک بہتر اور صحت مند ملک بنایا جا سکے۔ موسیقی عوام کو متحرک کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے، "ہوگا صاف پاکستان” صرف ایک معاشرتی مقصد ہی نہیں بلکہ معاشرتی تحریک بھی ہے جسے ڈیٹول لیڈ کر رہا ہے، تاکہ صفائی کی اہمیت سے متعلق گفتگو ہر جانب ہوتی دکھائی دے۔
ملک میں گندگی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں اینوائرمینٹل پروٹیکشن پروگرام کی طرف سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ہرسال 20 ملین ٹن فضلہ اورگند ادھر ادھرپھینکا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کے تقریبا 39000 ہزاربچے اس موسمی انحطاط کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں
راکٹ بینسرکے چیف ایگزیکٹوکاشن حسن کہتے ہیں کہ اس سے پہلے صفائ ستھرائی کے حوالے سے کوئی خاص اقدامات نہیں کیئے جاتے تھے تاہم اس پروگرام سے بہت زیادہ آگاہی پیدا ہوتی ہے،ڈیٹول اس حوالے سے اہم مشن سرانجام دے رہا ہے اورپاکستان میں صفائی ستھرائی لانے کےلیئے اس مہم میں ہرپاکستانی کوشامل ہونا چاہیے تاکہ ہمیں ایک صحت مںد معاشرہ مل سکے
چونکہ یہ مخصوص پروگرامز بھرپور انداز میں حفظان صحت کے اصولوں اور صفائی کے بارے میں شعور اجاگر کرتے ہیں، اس لیے ان کی بدولت ملک گیر اسکولوں کے 20 لاکھ بچے، 500 دیہات اور 1 لاکھ 40 ہزار مائیں مستفید ہوئی ہیں۔ ڈیٹول کوشش جاری رکھے ہوئے ہے کہ پاکستانیوں میں ایک مشترکہ نظریہ پیدا کیا جائے جس کے تحت مشترکہ ذمے داری کا احساس پیدا ہو اور اس بے حد ضروری مقصد کے حصول کیلئے کوشش کی جائے۔











