Baaghi TV

Category: صحت

  • پشاور زلمی ٹیم کی کینسر میں مبتلا بچوں سے ملتان میں خصوصی ملاقات سے بچوں کے چہروں پررونق آگئی

    پشاور زلمی ٹیم کی کینسر میں مبتلا بچوں سے ملتان میں خصوصی ملاقات سے بچوں کے چہروں پررونق آگئی

    ملتان: پشاور زلمی ٹیم کی کینسر میں مبتلا بچوں سے ملتان میں خصوصی ملاقات سے بچوں کے چہروں پررونق آگئی ،اطلاعات کے مطابق آج پشاور زلمی ٹیم نے کینسر میں مبتلا بچوں سے ملتان میں ملاقات کی، مریض بچوں نے ڈیرن سیمی اور ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

    ملاقات کے دوران کھلاڑی بچوں کے ساتھ گھل مل گئے اور خوب ہلا گلا کیا، بچے کھلاڑیوں سے گڈ لک پیغام پر بہت خوش ہوئے اور ٹیم کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔

    بچوں سے ملاقات کرنے والوں میں ڈیرن سیمی، ہاشم آملہ، حسن علی، کامران اکمل، وہاب ریاض اور دیگر کھلاڑی شامل تھے۔ بعد ازاں ڈیرن سیمی نے پوری ٹیم کی جانب سے بچوں کا شکریہ ادا کیا۔

  • غذا جو بانجھ پن کا امکان زیادہ بڑھاتی ہے

    غذا جو بانجھ پن کا امکان زیادہ بڑھاتی ہے

    دنیا بھر میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ابھی یہ تو واضح نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے مگر حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک عام غذا کی استعمال کی وجہ سے ہے

    امریکہ میں ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ میں ایک حالیہ تحقیق کی گئی جس میں 29 سو سے زائد ڈینش نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا تحقیق کے دوران محققین نے غذائی انتخاب اور تولیدی افعال کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ مغربی طرز کی غذا یا جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے

    طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ پیزا فرائیز اور زیادہ میٹھا کھانے کا شوق رکھنے والے افراد کا اسپرم کاﺅنٹ پھل سبزیاں اور مچھلی زیادہ کھانے والوں کے مقابلے میں 25 فیصدتک کم ہوسکتا ہے

    محققین نے معلام کیا کہ پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور چکن پر مشتمل غذا عام صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ نقصان دہ ہوتی ہے

    محققین کا کہنا تھا کہ اچھے غذائی عناصر صحت مند تولیدی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ اس سے اسپرم کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بانجھ پن کا امکان نہیں ہوتا

    دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی ،65سے90 کے درمیان ہونی چاہیے


    انہوں نے بتایا کہ اینٹی آکسیڈنٹس سپلیمنٹس، سی فوڈ، چکن، گریاں، اجناس، سبزیاں اور پھل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسیڈیشن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ملتے ہیں جو اسپرم بننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں

    تحقیق میں شامل تمام افراد صحت مند اور نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا کیونکہ ڈنمارک میں 18 سال کی عمر میں تمام مردوں کو ملٹری سروس کی فٹنس کے لیے جسمانی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے

    اس معمول کے معائنے کے دوران تحقیقی ٹیم نے ان نوجوانوں کی خدمات تحقیق کے لیے حاصل کیں

    ان نوجوانوں سے غذائی اور طرز زندگی کی عادات کے بارے میں معلوم کیا گیا اور گذشتہ 3 ماہ کے دوران کیا کچھ کھایا جس کے بعد ان کے غذائی رجحانات کو مدنظر رکھ کر انہیں 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا یعنی صرف سبزیاں کھانے والے، مغربی غذا، صحت بخش اور اوپن سینڈوچ پھر ان کے خون اور اسپرم کے نمونے لیے گئے اور جسمانی وزن، قدوقامت بھی لیے گئے

    نتائج سے معلوم ہوا کہ مخصوص غذائیں جیسے جنک فوڈ یا مغربی طرز کی غذا کھانے والے افراد کے اسپرمز کا معیار سب سے ناقص تھا اور اس کے بننے کی مقدار کی شرح بھی کم تھی اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا کھانے والے افراد اس حوالے سے سب سے صحت مند قرار پائے

    اس تحقیق کے نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئےمحققین نے مشورہ دیا کہ نوجوان مچھلی، چکن، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں جبکہ پیزا، فرنچ فرائیز، پراسیس اور سرخ گوشت، انرجی ڈرنکس اور میٹھے جنک فوڈ کا کم سے کم استعمال کریں

  • عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا ، کرونا وائرس کوکنٹرول نہیں کیا جاسکے گا، دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ،

    عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا ، کرونا وائرس کوکنٹرول نہیں کیا جاسکے گا، دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ،

    جینیوا: عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا ، کرونا وائرس کوکنٹرول نہیں کیا جاسکے گا، دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ، ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت(عالمی ادارہ صحت) نے خبردار کیا ہے کہ چین سے واضح تعلق نہ رکھنے والے کیسز کی تعداد میں اضافے پر تشویش کے باعث مہلک کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع کم ہورہے ہیں۔

     

    ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسس کئی ہفتوں سے اصرار کررہے ہیں کہ چین کے وسطی صوبے ہوبے میں کے باہر کووڈ-19 کے کیسز کی کم تعداد اس وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو روکنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔

    تاہم گزشتہ روز مشرق وسطیٰ اور جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے پہلی مرتبہ خبردار کیا کہ ہم اس فیز میں ہیں جہاں وائرس کا شکار ہونا ممکن، اس حوالے سے ہمارے پاس موجود مواقع کم ہورہے ہیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ممالک نے اس وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف جنگ میں تیزی سے موبلائز نہیں کیا تو یہ وبا کسی بھی سمت میں جاسکتی ہے، یہ پریشان کن بھی ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ دسمبر 2019 کے اواخر میں پھیلنے والی اس وبا کے نتیجے میں چین میں 2200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 75 ہزار 5 سو افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں۔

    دنیا کے دیگر 27 ممالک میں ایک ہزار ایک سو 50 افراد اس وائرس کا شکار جبکہ ایک درجن سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے مزید نئے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں ایران اور لبنان میں اس کے پہلے کیسز سامنے آئے۔علاوہ ازیں ایران نے کہا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 18 افراد متاثر ہوئے۔

    دوسری جانب جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد دگنی ہونے کے بعد 2 سو 4 تک پہنچ گئی جو چین کے بعد اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔یورپ میں اٹلی کے شمال میں واقع ایک چھوٹے ٹاؤن نے کورونا وائرس کے 6 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد 5 روز سے زائد گزرنے کے بعد بھی بارز، اسکولز اور دفاتر بند کیے ہوئے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اصرار کیا کہ چین کے باہر کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد تاحال ’نسبتاً کم‘ ہے۔تاہم انہوں نے ان کیسز کی تعداد سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جن کا تصدیق شدہ کیس کے ساتھ کوئی سفری تاریخ یا رابطہ نہیں تھا۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو وائرس کے پھیلاؤ سے بچاؤ کے لیے بہت زیادہ سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسس نے کہا کہ ہمیں پیچھے مڑ کر دیکھنا اور افسوس نہیں کرنا چاہیے کہ ہم اپنے پاس موجود موقع کا فائدہ اٹھانے میں ناکام ہوگئے۔

  • خبردار: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں شروع ہوگئیں،مزید 2 افراد ہلاک

    خبردار: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں شروع ہوگئیں،مزید 2 افراد ہلاک

    تہران: خبردار: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں شروع ہوگئیں،مزید 2 افراد ہلاک،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس نے ایران میں بھی وبائی صورت حال اختیار کرلی ہے جب کہ مزید 2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کورونا وائرس نے ایران میں بھی وبائی صورت حال اختیار کرلی ہے، قم میں اس وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ ان واقعات کے بعد قم میں تمام تر مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایرانی وزارت صحت کی ترجمان مینو مہریز نے تصدیق کی ہے کہ یہ وائرس ایران کے تمام شہروں میں پھیل چکا ہے۔ اب تک اٹھارہ افراد میں اس وائرس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے ایران سفر پر پابندی عائد کی ہے۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صحت کے حوالے سے کیا گیا ہے تاکہ کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ایسے غیر ملکی افراد جو ایران گئے ہوں تو ان افراد پر مرض کی انکیوبیشن کی مدت 14دن سے قبل مملکت میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

  • کرونا وائرس کے علاج کے لیے ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی بازگشت سنائی دی جانے لگی

    کرونا وائرس کے علاج کے لیے ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی بازگشت سنائی دی جانے لگی

    لندن :کرونا وائرس کے علاج کے لیے ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی بازگشت سنائی دی جانے لگی ،اطلاعات کےمطابق کرونا وائرس کے نام سے پھیلنے والا وبائی مرض جو چین کے شہر واہان سے پھیلا، اس وقت دنیا بھر کے29 ممالک میں پھیل چکا ہے جن میں تھائی لینڈ، فرانس، فلپائن، امریکا، آسٹریلیا اور انڈیا، جاپان،ملائیشیا اورجرمنی وغیرہ شامل ہیں۔تادم تحریر عالمی سطح پر مجموعی 75223 ا فراد ’کرونا وائرس‘ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وبائی مرض سے چین میں مرنے والوں کی تعداد اب تک 2012 ہوچکی ہے۔ یورپ میں اب تک اس وائرس سے ایک فرد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن) نے کرونا وائرس کو عالمی وباء قرار دیا ہے۔ادارہ نے چین سے پھیلنے والے اس وبائی وائرس کو Covid-19کا نام دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈانوم نے جینیوا میں میڈیا کو بتایا کہ کرونا وائرس سے جب ہلاکتوں نے ایک ہزار سے تجاوز کیا تو اس مرض کو ایک خاص نام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ دراصل محققین وائرس کی وجہ سے نمودار ہونے والے مرض کیلئے ایک مخصوص نام رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے تا کہ کسی بھی ملک اور گروپ سے منسوب ہونے والی پریشانی یا طنز سے بچ سکیں۔

    اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا نام تلاش کرنا پڑا جو کسی جگہ، جانور،کسی گروپ یا فرد سے نہ ملتا جلتا ہو اور بیماری کو بھی واضح کرے ۔اُن کا کہنا تھا کہ نام رکھنے سے نامناسب اور بدنامی کا باعث بننے والے ناموں سے تحفظ مقصود ہوتا ہے۔ یہ نام مستقبل میں وائرس پھیلنے کی صورت میں ایک معیار دے سکتا ہے۔

    غیرملکی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق وبا کا نیا نام کورونا وائرس اور بیماری کا مرکب جس میں2019ء کا سال نمایاں ہے کیونکہ ’عالمی ادارہ صحت‘ کو اس وائرس کی اطلاع گزشتہ برس31 دسمبر کو ملی تھی۔ ماہرین اس مرض کی روک تھام کیلئے ویکسین کی تیاری میں دن رات کوشاں ہیںاور جلد ہی اس موذی اور جان لیوا بیماری کے تدارک کیلئے پُرامید بھی ہیں۔

    اس موذی بیماری کے حوالے سے ’مائیکروسافٹ‘ کے بانی بل گیٹس نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ وائرس افریقی ممالک میں وبائی صورت اختیار کرتا ہے جہاں صحت کی سہولیات اسے قابو نہیں کرسکیں گی تو اس کے نتیجے میںاندازاً ایک کروڑ افراد کی موت ہوسکتی ہے۔

    علامات

    کرونا وائرس سے متاثر ہ افراد میں بنیادی طور پر جو علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں تیز بخار،سانس لینے میں دشواری اور کھانسی شامل ہوتی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے طبی ماہرین کی جانب سے چند ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کھانسنے یا چھینکنے کے دوران منہ اور ناک کو ٹشوپیپر یا صاف کپڑے سے ڈھانپا جائے اور استعمال کرنے کے بعد کوڑا دان میں ڈالا جائے۔ہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ اکثر دھویا جائے۔ہاتھ صاف نہ ہونے کی صورت میں اپنی آنکھوں،ناک اور منہ کو نہ چھوا جائے،جو افراد بیمار ہیں ان کے ساتھ قریبی رابطہ کرنے سے پرہیز کیا جائے۔

    علاج

    کرونا وائرس کی بیماری کی شرو عات جن علامات سے ظاہر ہوتی ہے ان کامستند علاج ہومیو پیتھی میں موجود ہے جیسے کہ بخار کی حالت میں سردی لگنا اور فلوہونا۔ ان دونوں امراض کا علاج ہومیو پیتھی کے ذریعے گزشتہ 200 سال سے زائد عرصہ سے نہایت کامیابی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اس کی مثال اس واقعے سے سمجھی جا سکتی ہے، جب1918ء میں سپین کے اندر فلو کی وباء پھوٹی تو اس نے یورپ کے ایک بڑے حصے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اس دوران میں ہومیو پیتھی علاج نے ایک اہم کردار ادا کیا جو تاریخ میںایک ریکارڈہے۔اب چونکہ ہومیو پیتھی میںکافی ریسرچ ہوچکی ہے لہذا ان دونوں بیان کردہ امراض کے علاج کیلئے پوری دنیا میںہومیو پیتھی دواؤں کووسیع پیمانے پراعتمادکے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کی اکثریت بعض دواؤں بالخصوص مندرجہ ذیل کو کرونا وائرس کے علاج کیلئے موثر قرار دے رہی ہے۔

    آرسینک البم

    شدید چھینکنے اور کھانسنے کے دوران آنکھوں سے پانی کا اخراج ہونا،پیاس لگنا اور ٹھنڈا پانی پینے کی طلب کرنا، سانس لینے میں دشواری، کمزوری اور نقاہت محسوس ہونا، ہیضے اور الٹی کا ہونا۔ ان تمام صورتوں میں آرسینک البم کا استعمال بہت موثر ہے۔

    بیلاڈونا

    ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں استعمال ہونے والی یہ ایک اہم دوا ہے۔جسم میں کسی حصے پرسوزش کا پایا جانا جس میں سرخی ظاہر ہو یا سرخ دانے ہوں، گردوں اور مثانے کی نالی میں سوزش کا ہونا۔بلند فشار خون کا ہونا۔ ان تمام علامتوں میں بیلا ڈونا بہت کام کرتی ہے۔

    برائیونیا ایلبا

    نزلہ، زکام اور بخار کی صورت میں بھی اس دوائی کا استعما ل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا جسمانی دردوں کو دور کرنے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔

    احتیاط

    اگرمعاشرے میں اس مرض کے غالب آنے کاخدشہ ہو تو معاشرے میں تمام افراد کو احتیاطی تدبیرکے طور پر سفر کے دوران منہ پر ماسک پہننا چاہئیے۔اگر کسی شخص میںکرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوں توا سے فوراً ہسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے۔ سرکاری سطح پرہومیو پیتھی کی دوا کو کورونا وائرس کے توڑ کیلئے عوام الناس کو ترغیب دینا ایک خوش آئین اقدام ہے۔ خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں جہاں ایک اندازے کے مطابق 10کروڑ افراد ہومیوپیتھی کو اختیار کرتے ہیں۔

    بھارت میں کرونا وائر س کا پہلا کیس29 جنوری2020ء کو سامنے آیا، جب ایک 29 سالہ لڑکے کو یہ مرض لاحق ہوا جو چین میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے واہان یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ اس لڑکے کا تعلق بھارت کی ریاست کیرالہ سے ہے۔ اس کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہسپتال کی ایک الگ وارڈ میں رکھا گیا اور اس کا علاج جاری ہے۔

    اب تک مجموعی طور پر انڈیا میں کرونا وائرس کے کل تین کیس سامنے آئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی وزارت صحت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے ’سینٹرل کونسل فار ریسرچ آف ہومیوپیتھی‘ کے سائینٹیفک بورڈ نے29 جنوری ہی کو عوام الناس کیلئے ایک ایڈوائزی جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہومیو پیتھی طریقہ علاج موزوں ہے۔ اس میں ایک دوا کے استعمال کیلئے راغب کیا ہے جس کا نام Arsenicum Album 30 ہے۔

    اس سرکاری بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ اس دوا کو کرونا وائرس سے بچاؤ سے پیشگی احتیاط کے طور پر استعمال میں لایا جائے، صبح نہار منہ اس دوائی کی ایک خوراک تین یوم کیلئے استعمال کی جائے تاکہ کرونا وائرس کے ممکنہ حملے سے بچا جاسکے۔ دوا استعمال کرنے کی اس ترتیب کو ایک ماہ کے بعد دوبارہ دہرالیا جائے۔

  • امریکہ نے چین کو خوشخبری سنا دی :اہم پیشرفت، پہلی بار کروناوائرس کی ویکسین تیار کرلی گئی

    امریکہ نے چین کو خوشخبری سنا دی :اہم پیشرفت، پہلی بار کروناوائرس کی ویکسین تیار کرلی گئی

    واشنگٹن:امریکہ نے چین کو خوشخبری سنا دی :اہم پیشرفت، پہلی بار کروناوائرس کی ویکسین تیار کرلی گئی،اطلاعات کےمطابق چین سے پھیلنے والے کروناوائرس کو روکنے کے لیے اہم پیشرفت سامنے آگئی، سائنس دانوں نے پہلی بار کروناوائرس کی ویکسین تیار کرلی۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں طبی کمپنی کے سائنس دانوں نے سر جوڑ کر اس مہلک وائرس کا توڑ نکال لیا۔ اس اہم پیشرفت میں دیگر معیاری لیبارٹری سے خصوصی تعاون حاصل رہا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین تو تیار کرلی گئی ہے تاہم اس کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مزید دو سال لگیں گے۔ مذکورہ ویکسین کو پہلے جانوروں میں ٹیسٹ کیا جائے گا جس کے بعد اسپتالوں کو فراہم کی جائے گی۔سائنس دانوں نے بتایا کہ کروناوائرس کی ویکسین کو ابھی انسانوں پر استعمال نہیں کیا گیا۔ اس ویکسین کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا تو یہ کینسر کے مریضوں کے لیے استعمال کی جاسکتا ہے جو مفید ثابت ہوگی۔

    خیال رہے کہ چین میں مہلک ترین کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 2236 ہو گئی، چینی حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کے متاثرین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے تاہم متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں روکا جا سکا۔

    کرونا وائرس سے روز سو سے زائد افراد ہلاک ہو رہے ہیں، چین کے مشرقی علاقے کی جیل میں بھی 207 قیدیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں چین میں 889 نئے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، اور مجموعی کیسز کی تعداد 75 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

  • چین میں موت کا راج :  کورونا وائرس سے مزید 118 افراد ہلاک، دوا کی آزمائش بھی شروع

    چین میں موت کا راج : کورونا وائرس سے مزید 118 افراد ہلاک، دوا کی آزمائش بھی شروع

    بیجنگ:چین میں موت کا راج : کورونا وائرس سے مزید 118 افراد ہلاک، دوا کی آزمائش بھی شروع،اطلاعات کےمطابق چین میں کورونا وائرس سے مزید 118 افراد ہلاک ہونے کے بعد اموات کی تعداد 2 ہزار 236 ہو گئی۔

    چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق کورونا وائرس کے مزید 889 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 75 ہزار 465 ہو گئی ہے۔چین سے باہر کورونا وائرس سے اب تک 11 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ ایک ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کے متاثرین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے تاہم متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں روکا جا سکا ہے۔

    چین میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی مدد سے کورونا وائرس کے علاج کے لیے 2 ادویہ کی آزمائشی جانچ شروع کر دی گئی ہے، ان ادویہ کے نتائج 3 ہفتوں میں سامنے آئیں گے۔جنوبی کوریا میں بھی 156 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں جب کہ جاپان سے آسٹریلیا پہنچنے والے دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، یہ دونوں افراد جاپان میں لنگر انداز بحری جہاز میں سوار تھے۔

    ایران میں کورونا وائرس کے مزید تین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، دوسری جانب یوکرین میں بھی ووہان سے آنے والوں کو قرنطینہ لے جانی والی بس پر لوگوں نے پتھراؤ کر دیا، روڈ بلاک کئے اور ٹائر جلائے۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد متعدد افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

  • کرونا وائرس چین کے ہمسائیہ ممالک میں داخل ہونے گا ، ایران میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق

    کرونا وائرس چین کے ہمسائیہ ممالک میں داخل ہونے گا ، ایران میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق

    تہران: کرونا وائرس چین کے ہمسائیہ ممالک میں داخل ہونے گا ، ایران میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق،اطلاعات کےمطابق ایران میں دو مریضوں کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں ممالک میں پہلے اسلامی ملک ایران کا اضافہ ہو گیا ہے جہاں 4 مریضوں کے موزی وائرس سے علامتیں ملنے کے باعث ٹیسٹ کرائے گئے جن میں سے 2 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ دو مریضوں میں انفلوئنزا تشخیص ہوا ہے۔

    ایران کی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے دونوں مریضوں کا تعلق تہران کے جنوب میں واقع شہر قم سے ہے تاہم دونوں مریضوں کی حالت خطرے باہر بتائی جارہی ہے۔

    دو مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد قُم میں صحت کے مراکز میں ایمرجنسی الرٹ جاری کردیا گیا ہے جب کہ قم سے باہر جانے اور آنے والے شہریوں کا طبی ڈیٹا جمع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 74 ہزار سے زائد مریض متاثر ہوئے ہیں۔ یہ وائرس اب تک 2 درجن سے زائد ممالک میں پہنچ چکا ہے۔

  • فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات کو سنائی ڈاکٹر یاسمین راشد نے بڑی خوشخبری

    فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات کو سنائی ڈاکٹر یاسمین راشد نے بڑی خوشخبری

    فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات کو سنائی ڈاکٹر یاسمین راشد نے بڑی خوشخبری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی صوبائی وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے بدھ کے روز فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے گرلزہاسٹلزکے نیوبلاک کاسنگ بنیادرکھ دیا۔

    اس موقع پروائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرعامرزمان خان، رجسٹرارمنیزہ قیوم، پروفیسرنورین اکمل، پرووائس چانسلرپروفیسرشیریں خاور، صدراولڈفاطمہ جناح گریجوایٹ ایسوسی ایشن مسرت سہیل، ڈاکٹرمالکہ رانا، شاہین روحی کے علاوہ فیکلٹی ممبران اورطالبات کی کثیرتعدادنے شرکت کی

    ۔صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گرلزہاسٹل کے نیوبلاک کے سنگ بنیادکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گرلز ہاسٹل کے نیوبلاک کاسنگ بنیادرکھتے ہوئے بڑی خوشی محسوس ہورہی ہے، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے گرلزہاسٹل کے نیوبلاک کی تعمیرپر26 کروڑروپے کی لاگت آئے گی جس سے گرلزہاسٹل کے نیوبلاک میں مزید131 طالبات کورہائش کی سہولت میسرآئے گی۔

    ڈاکٹریاسمین راشد نے کہاکہ طالبات کی سہولت کیلئے یہاں اوورہیڈبرج بھی تعمیرکیاجارہاہے، گنگارام ہسپتال میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال اگلے دوسال میں مکمل ہوجائے گا، لاہورکے باہرسے آنے والے بچوں کورہائش کے مسائل کاسامناہوتاہے۔ گرلزہاسٹل کا نیوبلاک چھ منزلوں پرمشتمل ہوگا، یونیورسٹی میں سوئمنگ پول اورجمنیزیم بھی بنائے جارہے ہیں، طالبات سے ہمیشہ اچھے نتائج کی توقع رہتی ہے۔

    صوبائی وزیر نے کہاکہ پورے پنجاب میں صحت انصاف کارڈتقسیم کئے جاچکے ہیں،پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کویقینی بنایاجارہاہے

    ۔وائس چانسلر پروفیسر عامر زمان خان نے کہاکہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں پہلے سے ہی ایک ہزارسے زائدطالبات کورہائش کی سہولت حاصل ہے۔پروفیسرعامرزمان خان نے گرلزہاسٹل کے نیوبلاک کے سنگ بنیادپرصوبائی وزیرصحت کی آمدپران کا شکریہ اداکیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیرصحت، وائس چانسلر، فیکلٹی ممبران اورطالبات نے منصوبہ کی تکمیل اورکامیابی کیلئے دعا بھی کی

  • کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہونے تک ووہانی طالبعلم کی کہانی

    کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہونے تک ووہانی طالبعلم کی کہانی

    کورونا وائرس میں مبتلا ایک ایسے نوجوان کی کہانی اس کی زبانی جان لیں کہ اس مرض کے مریض کے دن کیسے گزرتے ہیں ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کا انفیکشن سے صحت مند ہونے تک کا سفر کسی بھیانک خواب سے کم نہیں جس کے دوران اسے متعدد ہسپتالوں میں جانا پڑا علامات اتنی شدت اختیار کرگئی تھیں کہ اسے لگا کہ وہ مرنے والا ہے جبکہ پولیس کی نگرانی میں قرنطینہ کے عمل سے بھی گزرنا پڑا

    ٹائم میگزین کی رپورٹ میں ووہان چین کا شہر جہاں سے یہ کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا کے 21 سالہ طالبعلم کی کورونا انفیکشن سے صحت مند ہونے تک کی کہانی بیان کی گئی ہے

    کرونا وائرس کا توڑ؛خون کے بدلے خون،ڈاکٹروں نے امید وابستہ کرلی


    21 جنوری کو اس طالبعلم کو اس وقت شک ہوا ہے کہ وہ اس وائرس کا شکار ہوچکا ہے جب وہ بہت زیادہ کمزوری محسوس کرنے لگا اس نے اپنا درجہ حرارت چیک کیا جو بڑھ چکا تھا

    یہ وہ وقت تھا جب کورونا وائرس کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکی تھی مگر انتظامیہ کی جانب سے تصدیق ہوچکی تھی کہ یہ مرض انسانوں کے درمیان تیزی سے پھیل رہا ہے اور 11 ملین انسان میں یہ پھیل چکا ہے

    نصف شب کو طالبعلم ووہان کے ٹونگ جی ہسپتال پہنچا جہاں کے ویٹنگ روم میں اس جیسے افراد کا رش تھا اور طالبعلم کو معلوم تھا کہ اسے ٹیسٹ کے لیے گھنٹوں تک انتظار کرنا ہوگا اس نے بتایا کہ میں خوفزدہ تھا لاتعداد کیسز کا ڈیٹا میزوں پر اکٹھا ہورہا تھا اور ہر ڈاکٹر نے حفاظتی کپڑے پہنے ہوئے تھے ایسا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا

    اگلے 2 ہفتے سے زائد وقت تک اس طالبعلم کا وقت ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کے ساتھ گزرا جس دوران وہ یہ تصدیق کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہوچکا ہے اور علامات کی شدت میں اضافے کا علاج کراسکے وہ ان چند خوش قسمت افراد میں سے ایک ہے جو اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب رہا کیونکہ اس کے والد ایک ہیلتھ ورکر ہیں جس کی وجہ سے اس نوجوان کو ووہان کی بیشتر آبادی سے پہلے اس کے خطرات کا علم ہوچکا تھا
    https://time.com/5783838/coronavirus-symptoms-wuhan-survivor/
    چین کے صوبے ہوبی چین کا صوبہ ووہان اس کا دارلحکومت ہے میں اس وائرس سے اب تک ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ ہسپتالوں میں بستروں ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر بنیادی طبی آلات کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے متعدد افراد کو تشخیص کے عمل میں کئی گھنٹوں تک لائن میں کھڑا ہو نا پڑتا

    چین نے ہوبی کے بیشتر حصوں کو قید کرلیا ہے ، اور اس وبا نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے کچھ حصوں کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کے سائنس دانوں نے اپنا علاج تلاش کیا ہے

    کرونا وائرس کے نقصانات اپنی جگہ مگرسوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانے سے معاملہ پچیدہ ہوسکتا ہے، مبشرلقمان


    جس رات پہلی بار چینی طالبعلم نے علاج کے حصول کی کوشش کی وہ ایک چھوٹے ہسپتال سے ادویات کے حصول میں کامیاب رہا ٹونگجی میں انتظار ترک کرنے کے بعد چونکہ اس کی علامات بہت زیادہ شدید نہیں تھیں تو ڈاکٹروں نے اسے گھر جا کر خود کو الگ تھلگ یا قرنطینہ میں رکھنے کی ہدایت کی

    یماری کے ساتھ اگلے 4 دن بہت شدید ظالمانہ اور سخت ثابت ہوئے اور مجھے تیز بخار اور پورے جسم میں شدید درد کا سامنا ہوا میں نے یہ دن جاپانی کارٹون دیکھتے ہوئے گزارے تاکہ ذہن کا دھیان تکلیف سے ہٹا سکے

    کرونا وائرس کا گلگت بلتستان میں بھی مشتبہ مریض سامنے آ گیا


    4 دن بعد وہ دوبارہ ہسپتال پہنچا تو وائرس کے پھیلاﺅ کے اقدامات کیے جارہے تھے ووہان حکومت نے شہر کو مقفل کردیا تھا اور حالات اچانک بدل گئے تھے سڑکیں خالی ہو گئیں تھیں جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا تھا اور رہائشیوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اگر حتی کہ انہیں اپنے اپارٹمنٹ چھوڑنے کی اجازت بھی دی گئی ہے

    اس وقت تک میری حالت زیادہ خراب ہوچکی تھی اور میں ایسے کھانس رہا تھا جیسے میں مرنے والا ہوں

    ہسپتال میں متعدد سی ٹی ٹی اسکینز سے معلوم ہوا کہ یہ طالبعلم نوول کورونا وائرس کا شکار ہوچکا ہے جو اس کے پھیپھڑوں تک پھیل چکا ہے مگر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس کا کیس اتنا سنگین نہیں کہ اس کا نیو کلیک ایسڈ ٹیسٹ وائرس کا جینیاتی سیکونس استعمال کرکے متاثر ہونے کی تصدیق کرنے والا ٹیسٹ کیا جائے کیونکہ وہ ٹیسٹ کٹس کی کمی کے باعث انہیں زیادہ بیمار افراد کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے تھے

    ہوبے میں وائرس کو قابو کرنے میں تشخیص ایک بڑی سخت ثابت ہونے والی خطرہ بن کر ابھری ہےجہاں ان لوگوں کی تعداد ہے جو انھیں اس بات کا خدشہ دیتے ہیں کہ وہ انفیکشن کا شکار ہیں اسپتالوں کی توثیق کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے

    جمعرات کو ، ہوبے نے ان مریضوں کی گنتی شروع کی جو سی ٹی امیجنگ کے ذریعہ تشخیص کرنے والوں کے ساتھ ساتھ نیوکلیک ایسڈ کٹس کے ساتھ مثبت جانچ پڑتال کرتے تھے ، جس کے نتیجے میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد میں 45 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا ،قریب 50،000 افراد اس میں مبتلا تھے

    جیسا کہ دوسری بار ہسپتال سے گھر واپسی پر بھی اس کو معلوم نہیں تھا کہ نہ جانے اسے وائرس تھا یا نہیں اس کے بھائی اور دادی نے بھی انفیکشن کی علامات ظاہر کرنا شروع کردیں

    راتوں رات ،اس کی حالت اس حد تک خراب ہوگئی کہ اسے لگا کہ وہ مر سکتا ہےانہوں نے کہا "میں نے سوچا کہ میں دوزخ کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں

    برطانیہ کےبعد امریکہ کرونا وائرس کی زد میں نیویارک کے شہرمیں کرونا وائرس کی موجودگی سے امریکیوں پرخوف اورموت کے سائے


    یہ نوجوان اس وقت ایک مرتبہ پھر ہسپتال واپس گیا جب اس کا درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے آئی وی ڈراپ اور Kaletra کا استعمال کرایا یہ ایچ آئی وی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا امتزاج ہے جس کے استعمال سے وائرس سے مقابلے میں کچھ کامیابی ملی ہے

    ان ادویات کے کمبی نیشن کے استعمال سے طالبعلم کا درجہ حرارت دن کے اختتام تک 37 ڈگری تک گرگیا اور علامات ظاہر ہونے کے ایک ہفتے بعد یہ ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا

    اس نوجوان طالبعلم کی حالت میں مسلسل بہتری آتی رہی اور پھر اسے 29 جنوری کو آخر کار ٹیسٹ کٹ مل گئی، جس نے وائرس کی تصدیق کردی

    ڈاکٹروں نے اسے اینٹی وائرل دوا Aluvia کی 5 روز کی مقدار دی اور اسے واپس 3 بیڈ روامز پر مشتمل گھر پر قرنطینے کے لیے بھیج دیا، کیونکہ ہسپتال میں اتنے بستر نہیں تھے جہاں اسے رکھا جاسکتا

    9 دن بعد 7 فروری کو ایک بار پھر نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ میں اس نوجوان میں وائرس کی موجودگی نیگیٹو ظاہر ہوئی مگر نوجوان کے لیے حالات میں تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ صحت یاب ہونے والے مریضوں میں شدید پریشانی اور اذیت کی رپورٹس کے باعث مقامی حکومت نے طالبعلم کو ایک ہوٹل میں قرنطینہ میں ڈال دیا، جسے عارضی ہسپتال کا درجہ دیا گیا تھا پولیس اس کے باہر تعینات تھی تاکہ کوئی بھی ہوٹل سے باہر نہ جاسکے یا داخل نہ ہوسکے

    5 دن بعد اس نوجوان کو گھر جانے کی اجازت دی گئی اور 3 ہفتوں سے زائد دورانیے کا یہ بحران ختم ہوا وہ ڈاکٹروں اور نرسز کو سیلوٹ کرتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر اس کی مدد کی کچھ ڈاکٹروں نے اسے بتایا تھا کہ انہیں شک ہے کہ وہ خود وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، مگر پھر بھی مریضوں کا علاج جاری رکھے ہوئے ہیں

    بہت ساری چینیوں کی طرح ، آپ بھی اس وباء پر حکومت کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، خاص طور پر مقامی عہدیداروں کا سست ابتدائی ردعمل جس کا مطلب ہے کہ جلد ہی وائرس پر قابو پانے کا ایک قیمتی موقع ضائع کردیا گیا تھا ہوبے میں کمیونسٹ پارٹی کے دو انتہائی سینئر کارکنوں کو جمعرات کو تبدیل کردیا گیا ، کیونکہ بیجنگ اسپرلنگ بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے

    ہوبے نے ایک کے بعد ایک موقع سے محروم کردیا جب وہ چیزوں کو لپیٹنے میں رکھنے کی کوشش کر رہے تھے "اگر حکومت ایک ماہ قبل معلومات کو چھپی نہ رکھتی تو معاملات اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے”