واشنگٹن :نئے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین اور دوا کی تیاری میں پیشرفت کی اطلاعات ،اطلاعات کےمطابق دنیا میں نئے نوول کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے ساتھ اس پر قابو پانے کے لیے ویکسین اور ادویات کی تیاری کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔
امریکا کی ایک کمپنی موڈرینا Therapeutics نے نئے کورونا وائرس جسے کووڈ 19 کا نام دیا گیا ہے، کے حوالے سے ویکسین تیار کی ، جس کی پہلی کھیپ شپ بھی کردی گئی۔یہ ویکسین اس نئے وائرس کے جینیاتی سیکونس چینی سائنسدانوں کی جانب سے جاری کیے جانے کے صرف 42 دن بعد تیار کی گئی۔
اس ویکسین کی پہلی کھیپ امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ Infectious ڈیزیز (این آئی اے آئی ڈی)، نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو بھیجی گئی جہاں اس کی انسانی آزمائش اپریل تک شروع ہونے کا امکان ہے۔
این آئی ایچ کے سائنسدانوں کی جانب سے اینٹی وائرل دوا remdesivir کی بھی آزمائش شروع ہونے والی ہے جسے ایبولا کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس کی آزمائش ڈائمنڈ پرنسز میں اس وائرس کا شکار ہونے والے ایک مریض پر کی جائے گی جسے امریکا واپس لایا گیا۔اس نئے وائرس کے شکار ہسپتال میں زیرعلاج دیگر مریضوں کو بھی اس تحقیق کا حصہ بنایا جائے گا۔
خیال رہے کہ اس دوا کی آزمائش چین میں جنوری کے آخر/ فروری کے آغاز میں چین میں شروع ہوئی تھی اور ابتدائی نتائج حوصلہ افزا قرار پائے تھے۔ متعلقہ کورونا وائرسز لے شکار جانوروں میں مثبت رہے ہیں اور سائنسدانوں کے مطابق یہ اس نئے کورونا وائرس کے بلڈ لیول کو برقرار رکھنے میں موثر ہونے کے ساتھ ساتھ اسے پھیلنے میں بھی مدد فراہم کرسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے پیر کو بتایا تھا کہ چین میں دورے کے دوران یہ واحد دوا تھی جو نئے کورونا وائرس کے خلاف زیادہ موثر نظر آئی۔
چین کے شہر ووہان میں اس کے 2 ٹرائل ہوئے اور یہ وہی شہر ہے جہاں سے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا، تاہم ڈاکٹر بروس نے تحقیق کے نتائج مکمل طور پر سامنے نہ آنے کی وجہ سے ٹرائلز میں شامل مریضوں کی تعداد اور دیگرادویات کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا۔
دوسری جانب موڈرینا کی ویکسین ریکارڈ ٹائم میں تیار کی گئی ہے جس کی وجہ ایک نئے جینیاتی طریقہ کار کا استعمال ہے، جس کے لیے زیادہ مقدار میں وائرس کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کے برعکس یہ ویکسین ڈی این اے کے ایم آر این اے (جینیاتی میٹریل) اور پروٹینز سے بھرپور ہے۔کمپنی کے مطابق اس ویکسین کو ایم آر این اے کے ساتھ درست کورونا وائرس پروٹین کے کوڈز سے لوڈ کی گئی ہے جس کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔
جسم میں جانے کے بعد لمفی نوڈز میں موجود مدافعتی خلیات ایم آر این اے کو پراسیس کرتے ہیں اور ایسے پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جو دیگر مدافعتی خلیات کو وائرس کی شناخت اور تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہماری ویکسین جسم کے لیے کسی سافٹ وئیر پروگرام کی طرح ہے، جو پروٹینز تیار کرکے مدافعتی ردعمل بناتی ہے۔تاہم ویکسین کی آزمائش اور پھر انسانوں پر اس کے استعمال کی اجازت میں کئی ماہ کا عرصہ درکار ہوسکتا ہے۔
لاہور:کرونا وائرس دنیا بھر میں تباہی پھیلاتا ہوا پاکستان میں بھی داخل ہوچکا ہے اور اس وقت ملک میں ایک خوف کی فضا قائم ہے، ان حالات میں پاکستان کے ماہرڈاکٹرزعوام کوکرونا وائرس سے بچنے کے تدابیراوراحتیاطیں بتارہے ہیں ، اسی حوالے سے پبلک ہیلتھ کے ایک ماہرطبیب ڈاکٹرناصرہمدانی نے بہت ہی خوبصورت انداز میں رہنمائی کی ہے ، جس میں وہ بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس سے کیسے بچا جاسکتا ہے ،
لندن :پڑھنا نہ بھولیئے : کورونا وائرس سمیت متعدد امراض سے بچنے کا آسان ترین نسخہ ماہرین طب نے بتا دیا ، رپورٹس کے مطابق ماہرین طب نے کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ نصیحتیں کی ہیں اورکچھ علاج بھی بتایا ہے ، ماہرین طب کا کہنا ہےکہ جب وائرل انفیکشن سے بچنے کی بات ہو، خصوصاً ایسے امراض جو کھانسی اور چھینک سے خارج ہونے والے ذرات سے پھیلتے ہوں تو ہاتھوں کی صفائی پہلی دفاعی دیوار ہوتی ہے۔
چین سے مختلف ممالک میں پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کا بھی سب سے آسان طریقہ ہاتھوں کی درست طریقے سے صفائی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے نوول کورونا وائرس کی روک تھام سے بچاﺅ کے لیے جو ہدایات جاری کی ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنے ہاتھ اکثر صابن اور پانی سے دھونے چاہیئیں۔
اور میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا ہے کہ ہاتھوں کی صفائی امراض کے پھیلاﺅ کی روک تھام سست کرنے کے لیے کتنی ضروری ہے۔جریدے رسک اینالائسز میں شائع تحقیق میں دیکھا گیا کہ ذاتی صفائی امراض کے پھیلاﺅ کی شرح کے حوالے سے کس حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے۔
محققین نے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹوائلٹ جانے کے بعد 30 فیصد افراد اپنے ہاتھ نہیں دھوتے جبکہ باقی 50 فیصد درست طریقے سے ہاتھ دھوتے ہیں اور 20 فیصد کا طریقہ غلط ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہاتھوں کو دھونے سے قبل کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن سے رگڑنا چاہیے اور دھونے کے بعد ہاتھوں کو صاف تولیے سے خشک کرنا چاہیے۔
عالمی ادارہ صحت نے ہاتھوں کی صفائی کے لیے چند نکات بیان کیے ہیں اور اسے بہتر طریقہ کار قرار دیا ہے۔اس طریقہ کار کے تحت سب سے پہلے اپنے ہاتھ گیلے کریں اور پھر صابن لگائیں، اپنی ہتھیلی کو اس وقت تک رگڑیں جب تک صابن کے بلبلے نہ بن جائیں۔
اس کے بعد ایک ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ کی پشت پر رگڑیں اور پھر یہی کام دوسری ہتھیلی سے کریں۔دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان اچھی طرح رگڑیں۔اپنی انگلیوں کی پشت کو رگڑیں اور اس سے پہلے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملالیں۔
5ویں نکتے پر اپنے بائیں انگوٹھے سے دائیں ہتھیلی کو گھڑی کی سوئیوں جیسی حرکت کے ذریعے رگڑیں، اس کے بعد یہی کام بائیں ہتھیلی پر دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے کریں۔اب یہی کام ہتھیلیوں کی پشت پر کریں یعنی انگوٹھے سے گھڑی کی سوئیوں جیسی حرکت کے ذریعے رگڑیں۔
لندن :چین کے شہر ووہان میں پہلی بار نمودار ہونے والے وائرس سے اب تک 27 سو سے زائد ہلاکتیں اور 81 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں اوردوپاکستانیوں کے اندر کرونا وائرس پائے جانے کی تصدیق ہوگئی ہے
کراچی کا رہائشی یحییٰ جعفری نامی نوجوان ایران سے ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی پہنچا تھا۔ طبی معائنے میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی دو پاکستانیوں میں اس وائرس کی تصدیق کی ہے۔
یہ وائرس جسےپہلے عارضی طور پر 2019 نوول کورونا یا این کوو اور اب کووڈ19 کا آفیشل نام دیا گیا ہے، کے بارے میں سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے 31 دسمبر کو بتایا تھا اور جب سے اس کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے، تاکہ اس کی روک تھام کے حل کو جلدازجلد سامنے لایا جاسکے۔
چین کے سائنسدانوں نے اسے وائرس کے ایک خاندان کورونا وائرسز سے جوڑا ہے جس میں 2000 کی دہائی کا خطرناک سارس وائرس بھی شامل ہے۔
سائنسدان اب تک پوری طرح اس نئے وائرس کی تباہ کن صلاحیت کو سمجھ نہیں سکے ہیں جبکہ محققین نے اب اس کی ابتدا، اس کی منتقلی اور پھیلاﺅ کے بارے میں تعین کرنا شروع کیا ہے۔
چین کی جانب سے اس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت کی خصوصی کمیٹی نے جنوری کے آخری ہفتے میں اسے عالمی سطح پر عوامی ایمرجنسی قرار دیا۔
اس وائرس کے بارے میں صورتحال بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اب اس پراسرار وائرس کے بارے میں آپ وہ سب کچھ جان سکیں گے جو اب تک سامنے آچکا ہے اور ایسے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن سے آپ اس میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔
کورونا وائرس کیا ہے؟
کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔
کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصہ ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔
ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتا ہے اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرس بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے اور پھر انہیں دیگر جگہوں پر بھیجنے لگتا ہے، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
عموماً اس طرح کا وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوتا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔
ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی۔ ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرس نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔
سارس یا مرس جیسے کورونا وائرس آسانی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتے ہیں، سارس وائرس 2000 کی دہائی کی ابتدا میں سامنے آیا تھا اور 8 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا تھا جس کے نتیجے میں 800 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔
مرس 2010 کی دہائی کے ابتدا میں نمودار ہوا اور ڈھائی ہزار کے قریب افراد کو متاثر کیا جس سے 850 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔
یہ نیا وائرس کہاں سے سامنے آیا؟
2019 نوول کورونا وائرس بظاہر چین کے شہر ووہان کی ہوانان سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا۔
ووہان ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے اور اس مارکیٹ میں مچھلیوں کے ساتھ ساتھ دیگر جانوروں جیسے چمگادڑ اور سانپ کا گوشت بھی فروخت کیا جاتا ہے اور وائرس سامنے آنے کے بعد اس مارکیٹ کو یکم جنوری کو بند کردیا گیا۔
ماضی میں پھیلنے والے وبائی امراض میں بھی مارکیٹیں ان کے آغاز اور پھیلاﺅ کا باعث ثابت ہوئی ہیں اور اب تک جن افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ان میں سے بیشتر حالیہ ہفتوں میں ووہان سی فوڈ مارکیٹ میں جاچکے تھے، یعنی یہ مارکیٹ وائرس کی ابتدا کے معمے کا اہم حصہ ہے، مگر سائنسدانوں کو فی الحال مختلف تجربات اور ٹیسٹوں کے بعد اس کی تصدیق کرنا ہوگی۔
طبی جریدے جنرل آف میڈیکل وائرولوجی میں شائع ایک رپورٹ میں چین کے محققین نے عندیہ دیا تھا کہ سانپوں میں 2019 کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا باعث بننے والا ممکنہ جاندار ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا تجزیہ کرنے کے بعد اس کا موازنہ 2 اقسام کے سانپوں میں چینی کوبرا اور کرایت سے کیا گیا۔ محققین کے مطابق سانپوں کا جینیاتی کوڈ اور اس وائرس میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔
مگر اس تحقیق کے فوری بعد 2 دیگر تحقیقی رپورٹس میں اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس وائرس کو پھیلانے والا جاندار چمگادڑ ہے۔
چین کے ہی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے ایک آن لائن مقالے میں کہا کہ انہوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا موازنہ پہلے کے سارس کورونا وائرس اور چمگادڑ کے دیگر کورونا وائرسز سے کیا اور انہوں گہرائی میں جینیاتی مماثلت کو دریافت کیا۔
یہ وائرس اپنے جینز کے 80 فیصد حصے کو ماضی کے سارس وائرس اور چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرز کے 96 فیصد حصے سے شیئر کرتا ہے، سب سے اہم بات یہ تھی کہ تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ یہ وائرس خلیات پر بالکل اسی طرح داخل اور کنٹرول کرسکتا ہے جیسا سارس کرتا ہے۔
مگر سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چمگادڑ سے براہ راست یہ وائرس انسانوں تک نہیں پہنچا بلکہ درمیان میں کوئی اور جانور بھی موجود ہے، جس کی شناخت تو ابھی نہیں ہوسکی، مگر پینگولین کا نام لیا جارہا ہے۔
ماضی کی دریافتوں سے قطع نظر اب بھی اس نئے وائرس کی بنیادی حیاتیاتی معلومات کے بارے میں جاننے کے لیے بہت کچھ باقی ہے اور پھر مستند طور پر بتایا جاسکے گا کہ کونسا جانور انسانوں میں اس کی منتقلی کا باعث بنا، فی الحال سانپ اور چمگادڑوں کو ہی اس کا سبب سمجھا جارہا ہے۔
اب تک کتنے مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے؟
اب تک چین سمیت 43 ممالک میں 81 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
چین میں اب تک 78064، ہانگ کانگ میں 89، مکاﺅ میں 10 (ہانگ کانگ اور مکاﺅ چین کے زیرتحت خودمختار ریاستیں ہیں تو انہیں ایک ہی سمجھ لیں)، جنوبی کوریا میں 1261، جاپان کے قریب بحری جہازوں میں 705، اٹلی میں 374، جاپان میں 178، ایران میں 139، سنگاپور میں 91، امریکا میں 57، تھائی لینڈ میں 40، تائیوان 32، بحرین میں 23، آسٹریلیا میں 22، ملائیشیا میں 22، جرمنی میں 18، ویت نام میں 16، فرانس میں 14، متحدہ عرب امارات میں 13، برطانیہ میں 13، کینیڈا میں 11، کویت میں10، اسپین میں 9، عراق میں 5، اومان میں 4، بھارت میں 3، اٹلی میں3، فلپائن میں 3، اسرائیل میں 2، روس میں 2، پاکستان میں 2، آسٹریا میں 2، افغانستان میں ایک، کمبوڈیا میں ایک، الجزائر میں ایک، بیلجیئم میں ایک، فن لینڈ میں ایک، سوئیڈن میں ایک، لبنان میں ایک، نیپال میں ایک ، کروشیا میں ایک، سوئٹزر لینڈ میں ایک، برازیل میں ایک، یونان میں ایک، مصر میں ایک اور سری لنکا میں ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس وائرس کے پھیلاﺅ کے لیے ایک آن لائن میپ کو سینٹر فار سسٹمز سائنس اینڈ انجنیئرنگ کے زیرتحت تشکیل دیا گیا جس میں عالمی ادارہ صحت، امریکا، چین اور یورپی ڈیزیز کنٹرولز سینٹرز کے ڈیٹا کے ذریعے ہر وقت اپ ڈیٹ کرتے ہوئے مصدقہ، مشتبہ اور صحت یاب مریضوں کے ساتھ اموات کی تعداد دیکھی جاسکتی ہیں۔
کتنی اموات رپورٹ ہوئیں؟
اب تک 2770 اموات اس وائرس کے نتیجے میں ہوچکی ہیں جن میں سے زیادہ تر چین میں ہوئیں جبکہ جنوبی کوریا، ایران، اٹلی، فرانس، فلپائن، جاپان، تائیوان اور ڈائمنڈ پرنسز جہاز میں بھی ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔
اس نئے کورونا وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن نے ووہان میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم بھیج کر اس نئے وائرس کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کی اور مریضوں کے ٹیسٹ کیے تاکہ اس کنٹرول کرنے کے اقدامات پر غور کیا جاسکے۔
نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں اس ٹیم کے نتائج کو شائع کیا گیا جن کے مطابق 3 مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، الیکٹرون مائیکرو اسکوپ کو استعمال کرکے جینیاتی کوڈ پر تحقیق کی گئی اور اس کے بعد ٹیم پہلی بار ناول کورونا وائرس کو دیکھنے اور جینیاتی طور پر شناخت کرنے میں کامیاب ہوئی۔
جینیاتی کوڈ کو سمجھنے سے سائنسدانوں کو 2 پہلوﺅں کے بارے میں سمجنے میں مدد مل سکے گی، یعنی انہیں ایسے ٹیسٹ بنانے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جو مریضوں کے نمونوں میں اس وائرس کی شناخت کرسکے اور ویکسین یا طریقہ علاج کو تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی۔
یہ وائرس کس طرح پھیل رہا ہے؟
یہ ایسا ہم سوال ہے جس کے جواب کے لیے سائنسدانوں سخت محنت کررہے ہیں، ایسا مانا جارہا ہے کہ پہلی بار یہ انفیکشن جانور سے انسان میں منتقل ہوا، مگر اس کے بعدیہ ایک سے دوسرے انسان میں یہ منتقل ہورہا ہے۔
مینیسوٹا یونیورسٹی کے Infectious ڈیزیز ریسرچ اینڈ پالیسی کے مطابق چین میں ہیلتھ ورکرز اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، سارس کی وبا پھیلنے کے دوران یہ نمایاں نقطہ ثابت ہوا تھا کیونکہ ہیلتھ ورکرز ایک سے دوسرے ملک جاتے ہوئے اس بیماری کو پھیلاتے رہے۔
چینی انتظامیہ نے طبی عملے میں وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ یہ ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوا ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا خدشہ ہسپتالوں میں وبا کا پھیلنا ہوسکتا ہے جو سارس اور مرس کورونا وائرسز میں بھی دیکھا گیا تھا، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے۔
چین نے وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے ووہان شہر کو ہی مکمل طور پر بند کردیا اور سفری پابندیاں عائد کی گئیں جن کا اطلاق بعد میں 4 اور پھر 8 مزید شہروں تک کیا گیا۔
یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئیں جب چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہوا، اس موقع پر چینی شہروں میں لوگوں کی نقل و حمل میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے، بیجنگ میں اہم تقریبات کو منسوخ کیا گیا اور یہ تمام پابندیاں اور بندشیں غیرمعینہ مدت تک برقرار رہیں گی۔
چینی حکومت نے یہ عندیہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ وائرس علامات کے نمودار ہونے سے قبل ہی ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے، کیونکہ مرض ظاہر ہونے سے پہلے کی علامات ایک سے 14 دن تک ظاہر نہیں ہوتیں اور اس وقت تک مریض خود کو صحت مند سمجھتا ہے، اس حوالے سے سائنسدانوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایسا ممکن ہے اور چین میں ایک خاتون نے اسی طرح اپنے 5 رشتے داروں کو بھی وائرس کا شکار کیا، حالانکہ اس خاتون میں وائرس کی علامات کبھی ظاہر نہیں ہوئیں۔
یہ کورونا وائرس کس حد تک متعدی ہے؟
عام طور پر کسی وبائی مرض کے بنیادی ری پروڈکشن نمبر کے لیے ایک اعشاری نظام آر او ویلیو کی مدد لی جاتی ہے ، یعنی اس ویلیو سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مرض کا شکار فرد مزید کتنے لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے۔
خسرے کا آر او نمبر 12 سے 18 ہے جبکہ 2002 اور 2003 میں سارس کی وبا کو آر او 3 نمبر دیا گیا، مختلف تحقیقی رپورٹس میں 2019 نوول کورونا وائرس کے لیے 1.4 سے 3.8 ویلیو دی گئی ہے اور یہ فی الحال ابتدائی تخمینہ ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہری ایرک فیگی ڈینگ نے ایک ٹوئٹ میں اسے 3.8 ویلیو دی تھی۔
سائنسدان ابھی اس مرض اور اس کے پھیلاﺅ کو سمجھنے کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں اور تحقیقی رپورٹس فی الحال معلوماتی ہیں اور انہیں حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پھیل ضرور زیادہ رہا ہے مگر اس سے شرح اموات سارز کی وبا کے مقابلے میں بہت کم ہے جبکہ 80 فیصد مریضوں میں اس کی متعدل علامات نمودار ہوئیں اور سنگین کیسز ایسے لوگوں کے رہے جن کی عمر زیادہ تھی یا وہ پہلے ہی کسی مرض کا شکار تھے.
علامات کیا ہیں؟
اس نئے کورونا وائرس کی علامات ماضی میں امراض پھیلانے والے کورونا وائرسز سے ہی ملتی جلتی ہیں اور اس وقت جن افراد میں اس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں سے بیشتر کو نمونیا جیسی علامات کا سامنا ہوا جبکہ کچھ میں زیادہ سنگین ردعمل بھی دیکھا گیا۔
24 جنوری کو معتبر طبی جریدے دی لانسیٹ میں اس مرض کے کلینیکل فیچرز پر تفصیلی تجزیہ شائع کیا گیا تھا اور اس رپورٹ کے مطابق مریضوں میں درج ذیل علامات سامنے آسکتی ہیں:
بخار، جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا
خشک کھانس
تھکاوٹ یا مسلز میں تکلیف
سانس لینے میں مشکل
اس کی کم نمایاں علامات درج ذیل ہیں :
کھانسی میں بلغم یا خون آنا
سردرد
ہیضہ
جب یہ مرض بڑھتا ہے تو مریضوں میں نمونیا کی تشخیص ہوتی ہے جس میں پھیپھڑے ورم کے شکار اور پانی بھرنے لگتا ہے، اس کو ایک ایکسرے میں دیکھا گیا اور تحقیق میں شامل 41 مریضوں میں اسے دیکھا گیا۔
کیا اس کا کوئی علاج موجود ہے؟
کورونا وائرس کو بہت سخت جراثیم قرار دیا جاتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام میں موثر طریقے سے چھپ جاتے ہیں اور اب تک ان کے لیے کوئی قابل بھروسا طریقہ علاج یا ویکسین تیار نہیں ہوسکی ہے جو ان کا خاتمہ کرسکے، بیشتر کیسز میں طبی عملہ اس کی علامات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک ریان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی طریقہ علاج موجود نہیں، کورونا وائرس سے متعلق وبا کے حوالے سے مریضوں کو مناسب نگہداشت خصوصاً نظام تنفس سپورٹ اور اعضا کی سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
ایسا نہیں کہ ویکسین کی تیار ناممکن ہے، چینی سائنسدانوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا سیکونس بنانے میں انتہائی تیزی سے کام کیا، جس سے سائنسدانوں کو اس حوالے سے تحقیق اور اس پر قابو پانے کے ذرائع پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔
سی این این کے مطابق یوایس نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ نے پہلے ہی ایک ویکسین پر کام شروع کردیا ہے، مگر اسے متعارف کرانے میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 8 ہزار افراد کو متاثر کرنے والے سارس وائرس کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ یہ ایک مخصوص راستے پر چلتا ہے اور پھر لگ بھگ غائب ہوجاتا ہے، ایسی ویکسین نہیں جو اس وائرس کا ختمہ کرے بلکہ ممالک کے درمیان موثر رابطے اور احتیاطی تدابیر اس کے پھیلاﺅ کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہم یہ جان چکے ہیں کہ وبائی امراض کو ادویات یا ویکسین کے بغیر کنٹرول کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے نگرانی کے عمل کو بڑھانے، مریضوں کو صحت مند افراد سے الگ کرنے، ان کے رابطوں کی ٹریکنگ، خطرے کے حوالے سے ذاتی احتیاط اور انفیکشن کنٹرول اقدامات سے مدد لی جاسکتی ہے۔
شرح اموات کس حد تک ہوسکتی ہے؟
اس وائرس سے دنیا بھر میں لوگوں کو ذہنی پریشانی کا سامنا ہوا ہے مگر بظاہر یہ وائرس سارس جتنا جان لیوا نہیں، جس کے نتیجے میں 2002 سے 2003 میں 774 ہلاک ہوئے تھے اور اموات کی شرح 9.6 فیصد تھی جبکہ اس نئے کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد سارس کے 8 ماہ کی مجموعی تعداد سے ایک ماہ کے اندر ہی زیادہ ہوگئی مگر شرح اموات 2 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔
درحقیقت چینی حکام نے بتایا ہے کہ اس وائرس کے شکار متعدد افراد صحت مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں اور جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں وہ یا تو بزرگ تھے یا دیگر بیماریوں کے شکار تھے جن کے باعث ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوچکا تھا۔
طبی ماہرین کے مطابق اس حوالے سے لوگوں میں خدشات اور خوف پایا جاتا ہے مگر کچھ عناصر ہیں جو اس میں کمی لاسکتے ہیں، پہلا تو یہی ہے کہ اس کی تشخیص اور تعین بہت تیزی سے ہوا، درحقیقت اس کی دریافت کے ایک ہفتے بعد ہی چینی حکام نے وائرس کا سیکونس حاصل کرلیا تھا اور دنیا بھر کی لیبارٹریز سے شیئر کیا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
دوسری چیز طبی ٹیکنالوجی میں 1960 کی دہائی میں کورونا وائرس کی دریافت کے بعد سے ہونے والی پیشرفت ہے جو لیبارٹریز اور وائرس کے ماہرین کو زیادہ گہرائی میں جاکر کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف امریکا میں سیزنل فلو اس نئے کورونا وائرس سے زیادہ بڑا خطرہ جس سے گزشتہ 4 ماہ میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ امریکی شہری متاثر ہوئے جبکہ 20 ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔
آپ اس کے خطرے کو کیسے کم کریں؟
چین کے بعد متعدد ممالک میں اس کے کیسز سامنے آچکے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ 2019 نوول کورونا وائرس مزید ممالک تک پھیل جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے لوگوں کو اپنے تحفظ کے حوالے سے متعدد اقدامات کا مشورہ دیا ہے تاکہ اس سے بچ سکیں۔
اس مقصد کے لیے ہاتھوں اور نظام تنفس کی اچھی صفائی قابل ذکر ہے، آسان الفاظ سے ہر وہ کام جو آپ فلو یا نزلہ زکام کا خطرہ کم کرنے کے لیے کرتے ہیں، وہ اس کورونا وائرس سے بھی تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔
یعنی اپنے ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے دھوئیں۔
گندے ہاتھوں سے منہ، آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔
کھانسی اور چھینک کے دوران اپنے منہ اور ناک کو ٹشو سے ڈھک لیں اور پھر اس ٹشو کو کچرے میں پھینک دیں۔
ایسے افراد سے ذرا دور رہیں جن میں سانس کے امراض جیسے کھانسی اور چھینکوں کی علامات نظر آئیں۔
جن چیزوں کو اکثر چھوتے ہیں، ان کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
کچی یا ناقص طریقے سے پکی غذا سے گریز کریں۔
اگر نزلہ زکام یا فلو جیسی علامات کے شکار ہیں تو بغیر کسی تاخیر کے ماسک کو پہن لیں اور ڈاکٹر سے مزید احتیاطی تدابیر کے بارے میں پوچھیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اس بارے میں ایک ٹوئٹ میں تفصیلی معلومات بھی فراہم کی ہے۔
ملکی ایئر پورٹس پر کورونا وائرس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر حکومت کا اہم قدم
باغی ٹی وی : ذرائع وزارت صحت کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر کی بیرون ملک سے آنے والوں کی آگہی کے لیے ہدایت نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے ہیلتھ ڈکلیئریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ فضائی میزبان، پائلٹ طیارے میں موجود مسافروں کو فارم بھرنے سے متعلق بار بار آگاہ کریں ذرائع سول ایوی ایشن (سی اے اے) کے مطابق فارم جمع نہ کرانے والی ایئرلائنز کے خلاف کارروائی ہوگی۔ہدایت نامے کے مطابق مسافروں کو بخار، کھانسی یا سانس کی تنگی کا بھی فارم میں بتانا ہوگا۔اس کے علاوہ فارم میں گزشتہ 14 دن میں چین، 6 دن میں افریقا یا جنوبی امریکا کے سفر کا بتانا ہوگا.
اس وقت ایران سمیت کئی ممالک میں کرونا وائرس نے تباہی مجا رکھی ہے اس حوالے سے پاکستان نے کافی بندوبست کیے ہیں.پہلے ایرن کی سرحد کو سیل کیا تھا.
ملتان: پشاور زلمی ٹیم کی کینسر میں مبتلا بچوں سے ملتان میں خصوصی ملاقات سے بچوں کے چہروں پررونق آگئی ،اطلاعات کے مطابق آج پشاور زلمی ٹیم نے کینسر میں مبتلا بچوں سے ملتان میں ملاقات کی، مریض بچوں نے ڈیرن سیمی اور ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
ملاقات کے دوران کھلاڑی بچوں کے ساتھ گھل مل گئے اور خوب ہلا گلا کیا، بچے کھلاڑیوں سے گڈ لک پیغام پر بہت خوش ہوئے اور ٹیم کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں۔
بچوں سے ملاقات کرنے والوں میں ڈیرن سیمی، ہاشم آملہ، حسن علی، کامران اکمل، وہاب ریاض اور دیگر کھلاڑی شامل تھے۔ بعد ازاں ڈیرن سیمی نے پوری ٹیم کی جانب سے بچوں کا شکریہ ادا کیا۔
دنیا بھر میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ابھی یہ تو واضح نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے مگر حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک عام غذا کی استعمال کی وجہ سے ہے
امریکہ میں ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ میں ایک حالیہ تحقیق کی گئی جس میں 29 سو سے زائد ڈینش نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا تحقیق کے دوران محققین نے غذائی انتخاب اور تولیدی افعال کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ مغربی طرز کی غذا یا جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے
طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ پیزا فرائیز اور زیادہ میٹھا کھانے کا شوق رکھنے والے افراد کا اسپرم کاﺅنٹ پھل سبزیاں اور مچھلی زیادہ کھانے والوں کے مقابلے میں 25 فیصدتک کم ہوسکتا ہے
محققین نے معلام کیا کہ پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور چکن پر مشتمل غذا عام صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ نقصان دہ ہوتی ہے
محققین کا کہنا تھا کہ اچھے غذائی عناصر صحت مند تولیدی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ اس سے اسپرم کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بانجھ پن کا امکان نہیں ہوتا
انہوں نے بتایا کہ اینٹی آکسیڈنٹس سپلیمنٹس، سی فوڈ، چکن، گریاں، اجناس، سبزیاں اور پھل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسیڈیشن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ملتے ہیں جو اسپرم بننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں
تحقیق میں شامل تمام افراد صحت مند اور نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا کیونکہ ڈنمارک میں 18 سال کی عمر میں تمام مردوں کو ملٹری سروس کی فٹنس کے لیے جسمانی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے
اس معمول کے معائنے کے دوران تحقیقی ٹیم نے ان نوجوانوں کی خدمات تحقیق کے لیے حاصل کیں
ان نوجوانوں سے غذائی اور طرز زندگی کی عادات کے بارے میں معلوم کیا گیا اور گذشتہ 3 ماہ کے دوران کیا کچھ کھایا جس کے بعد ان کے غذائی رجحانات کو مدنظر رکھ کر انہیں 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا یعنی صرف سبزیاں کھانے والے، مغربی غذا، صحت بخش اور اوپن سینڈوچ پھر ان کے خون اور اسپرم کے نمونے لیے گئے اور جسمانی وزن، قدوقامت بھی لیے گئے
نتائج سے معلوم ہوا کہ مخصوص غذائیں جیسے جنک فوڈ یا مغربی طرز کی غذا کھانے والے افراد کے اسپرمز کا معیار سب سے ناقص تھا اور اس کے بننے کی مقدار کی شرح بھی کم تھی اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا کھانے والے افراد اس حوالے سے سب سے صحت مند قرار پائے
اس تحقیق کے نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئےمحققین نے مشورہ دیا کہ نوجوان مچھلی، چکن، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں جبکہ پیزا، فرنچ فرائیز، پراسیس اور سرخ گوشت، انرجی ڈرنکس اور میٹھے جنک فوڈ کا کم سے کم استعمال کریں
جینیوا: عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا ، کرونا وائرس کوکنٹرول نہیں کیا جاسکے گا، دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ، ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت(عالمی ادارہ صحت) نے خبردار کیا ہے کہ چین سے واضح تعلق نہ رکھنے والے کیسز کی تعداد میں اضافے پر تشویش کے باعث مہلک کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے مواقع کم ہورہے ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسس کئی ہفتوں سے اصرار کررہے ہیں کہ چین کے وسطی صوبے ہوبے میں کے باہر کووڈ-19 کے کیسز کی کم تعداد اس وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو روکنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔
تاہم گزشتہ روز مشرق وسطیٰ اور جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے پہلی مرتبہ خبردار کیا کہ ہم اس فیز میں ہیں جہاں وائرس کا شکار ہونا ممکن، اس حوالے سے ہمارے پاس موجود مواقع کم ہورہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ممالک نے اس وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف جنگ میں تیزی سے موبلائز نہیں کیا تو یہ وبا کسی بھی سمت میں جاسکتی ہے، یہ پریشان کن بھی ہوسکتی ہے۔خیال رہے کہ دسمبر 2019 کے اواخر میں پھیلنے والی اس وبا کے نتیجے میں چین میں 2200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 75 ہزار 5 سو افراد اس کا شکار ہوچکے ہیں۔
دنیا کے دیگر 27 ممالک میں ایک ہزار ایک سو 50 افراد اس وائرس کا شکار جبکہ ایک درجن سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے مزید نئے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں ایران اور لبنان میں اس کے پہلے کیسز سامنے آئے۔علاوہ ازیں ایران نے کہا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 18 افراد متاثر ہوئے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد دگنی ہونے کے بعد 2 سو 4 تک پہنچ گئی جو چین کے بعد اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔یورپ میں اٹلی کے شمال میں واقع ایک چھوٹے ٹاؤن نے کورونا وائرس کے 6 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد 5 روز سے زائد گزرنے کے بعد بھی بارز، اسکولز اور دفاتر بند کیے ہوئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اصرار کیا کہ چین کے باہر کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد تاحال ’نسبتاً کم‘ ہے۔تاہم انہوں نے ان کیسز کی تعداد سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جن کا تصدیق شدہ کیس کے ساتھ کوئی سفری تاریخ یا رابطہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو وائرس کے پھیلاؤ سے بچاؤ کے لیے بہت زیادہ سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسس نے کہا کہ ہمیں پیچھے مڑ کر دیکھنا اور افسوس نہیں کرنا چاہیے کہ ہم اپنے پاس موجود موقع کا فائدہ اٹھانے میں ناکام ہوگئے۔
تہران: خبردار: ایران میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں شروع ہوگئیں،مزید 2 افراد ہلاک،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس نے ایران میں بھی وبائی صورت حال اختیار کرلی ہے جب کہ مزید 2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کورونا وائرس نے ایران میں بھی وبائی صورت حال اختیار کرلی ہے، قم میں اس وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ ان واقعات کے بعد قم میں تمام تر مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایرانی وزارت صحت کی ترجمان مینو مہریز نے تصدیق کی ہے کہ یہ وائرس ایران کے تمام شہروں میں پھیل چکا ہے۔ اب تک اٹھارہ افراد میں اس وائرس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے اپنے شہریوں اور ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے ایران سفر پر پابندی عائد کی ہے۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صحت کے حوالے سے کیا گیا ہے تاکہ کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ایسے غیر ملکی افراد جو ایران گئے ہوں تو ان افراد پر مرض کی انکیوبیشن کی مدت 14دن سے قبل مملکت میں داخلے پر پابندی ہوگی۔
لندن :کرونا وائرس کے علاج کے لیے ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی بازگشت سنائی دی جانے لگی ،اطلاعات کےمطابق کرونا وائرس کے نام سے پھیلنے والا وبائی مرض جو چین کے شہر واہان سے پھیلا، اس وقت دنیا بھر کے29 ممالک میں پھیل چکا ہے جن میں تھائی لینڈ، فرانس، فلپائن، امریکا، آسٹریلیا اور انڈیا، جاپان،ملائیشیا اورجرمنی وغیرہ شامل ہیں۔تادم تحریر عالمی سطح پر مجموعی 75223 ا فراد ’کرونا وائرس‘ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وبائی مرض سے چین میں مرنے والوں کی تعداد اب تک 2012 ہوچکی ہے۔ یورپ میں اب تک اس وائرس سے ایک فرد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن) نے کرونا وائرس کو عالمی وباء قرار دیا ہے۔ادارہ نے چین سے پھیلنے والے اس وبائی وائرس کو Covid-19کا نام دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈانوم نے جینیوا میں میڈیا کو بتایا کہ کرونا وائرس سے جب ہلاکتوں نے ایک ہزار سے تجاوز کیا تو اس مرض کو ایک خاص نام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ دراصل محققین وائرس کی وجہ سے نمودار ہونے والے مرض کیلئے ایک مخصوص نام رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے تا کہ کسی بھی ملک اور گروپ سے منسوب ہونے والی پریشانی یا طنز سے بچ سکیں۔
اس حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا نام تلاش کرنا پڑا جو کسی جگہ، جانور،کسی گروپ یا فرد سے نہ ملتا جلتا ہو اور بیماری کو بھی واضح کرے ۔اُن کا کہنا تھا کہ نام رکھنے سے نامناسب اور بدنامی کا باعث بننے والے ناموں سے تحفظ مقصود ہوتا ہے۔ یہ نام مستقبل میں وائرس پھیلنے کی صورت میں ایک معیار دے سکتا ہے۔
غیرملکی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق وبا کا نیا نام کورونا وائرس اور بیماری کا مرکب جس میں2019ء کا سال نمایاں ہے کیونکہ ’عالمی ادارہ صحت‘ کو اس وائرس کی اطلاع گزشتہ برس31 دسمبر کو ملی تھی۔ ماہرین اس مرض کی روک تھام کیلئے ویکسین کی تیاری میں دن رات کوشاں ہیںاور جلد ہی اس موذی اور جان لیوا بیماری کے تدارک کیلئے پُرامید بھی ہیں۔
اس موذی بیماری کے حوالے سے ’مائیکروسافٹ‘ کے بانی بل گیٹس نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ وائرس افریقی ممالک میں وبائی صورت اختیار کرتا ہے جہاں صحت کی سہولیات اسے قابو نہیں کرسکیں گی تو اس کے نتیجے میںاندازاً ایک کروڑ افراد کی موت ہوسکتی ہے۔
علامات
کرونا وائرس سے متاثر ہ افراد میں بنیادی طور پر جو علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں تیز بخار،سانس لینے میں دشواری اور کھانسی شامل ہوتی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کیلئے طبی ماہرین کی جانب سے چند ہدایات جاری کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کھانسنے یا چھینکنے کے دوران منہ اور ناک کو ٹشوپیپر یا صاف کپڑے سے ڈھانپا جائے اور استعمال کرنے کے بعد کوڑا دان میں ڈالا جائے۔ہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ اکثر دھویا جائے۔ہاتھ صاف نہ ہونے کی صورت میں اپنی آنکھوں،ناک اور منہ کو نہ چھوا جائے،جو افراد بیمار ہیں ان کے ساتھ قریبی رابطہ کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
علاج
کرونا وائرس کی بیماری کی شرو عات جن علامات سے ظاہر ہوتی ہے ان کامستند علاج ہومیو پیتھی میں موجود ہے جیسے کہ بخار کی حالت میں سردی لگنا اور فلوہونا۔ ان دونوں امراض کا علاج ہومیو پیتھی کے ذریعے گزشتہ 200 سال سے زائد عرصہ سے نہایت کامیابی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اس کی مثال اس واقعے سے سمجھی جا سکتی ہے، جب1918ء میں سپین کے اندر فلو کی وباء پھوٹی تو اس نے یورپ کے ایک بڑے حصے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔اس دوران میں ہومیو پیتھی علاج نے ایک اہم کردار ادا کیا جو تاریخ میںایک ریکارڈہے۔اب چونکہ ہومیو پیتھی میںکافی ریسرچ ہوچکی ہے لہذا ان دونوں بیان کردہ امراض کے علاج کیلئے پوری دنیا میںہومیو پیتھی دواؤں کووسیع پیمانے پراعتمادکے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کی اکثریت بعض دواؤں بالخصوص مندرجہ ذیل کو کرونا وائرس کے علاج کیلئے موثر قرار دے رہی ہے۔
آرسینک البم
شدید چھینکنے اور کھانسنے کے دوران آنکھوں سے پانی کا اخراج ہونا،پیاس لگنا اور ٹھنڈا پانی پینے کی طلب کرنا، سانس لینے میں دشواری، کمزوری اور نقاہت محسوس ہونا، ہیضے اور الٹی کا ہونا۔ ان تمام صورتوں میں آرسینک البم کا استعمال بہت موثر ہے۔
بیلاڈونا
ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں استعمال ہونے والی یہ ایک اہم دوا ہے۔جسم میں کسی حصے پرسوزش کا پایا جانا جس میں سرخی ظاہر ہو یا سرخ دانے ہوں، گردوں اور مثانے کی نالی میں سوزش کا ہونا۔بلند فشار خون کا ہونا۔ ان تمام علامتوں میں بیلا ڈونا بہت کام کرتی ہے۔
برائیونیا ایلبا
نزلہ، زکام اور بخار کی صورت میں بھی اس دوائی کا استعما ل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا جسمانی دردوں کو دور کرنے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔
احتیاط
اگرمعاشرے میں اس مرض کے غالب آنے کاخدشہ ہو تو معاشرے میں تمام افراد کو احتیاطی تدبیرکے طور پر سفر کے دوران منہ پر ماسک پہننا چاہئیے۔اگر کسی شخص میںکرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوں توا سے فوراً ہسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے۔ سرکاری سطح پرہومیو پیتھی کی دوا کو کورونا وائرس کے توڑ کیلئے عوام الناس کو ترغیب دینا ایک خوش آئین اقدام ہے۔ خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں جہاں ایک اندازے کے مطابق 10کروڑ افراد ہومیوپیتھی کو اختیار کرتے ہیں۔
بھارت میں کرونا وائر س کا پہلا کیس29 جنوری2020ء کو سامنے آیا، جب ایک 29 سالہ لڑکے کو یہ مرض لاحق ہوا جو چین میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے واہان یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ اس لڑکے کا تعلق بھارت کی ریاست کیرالہ سے ہے۔ اس کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہسپتال کی ایک الگ وارڈ میں رکھا گیا اور اس کا علاج جاری ہے۔
اب تک مجموعی طور پر انڈیا میں کرونا وائرس کے کل تین کیس سامنے آئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی وزارت صحت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے ’سینٹرل کونسل فار ریسرچ آف ہومیوپیتھی‘ کے سائینٹیفک بورڈ نے29 جنوری ہی کو عوام الناس کیلئے ایک ایڈوائزی جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہومیو پیتھی طریقہ علاج موزوں ہے۔ اس میں ایک دوا کے استعمال کیلئے راغب کیا ہے جس کا نام Arsenicum Album 30 ہے۔
اس سرکاری بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ اس دوا کو کرونا وائرس سے بچاؤ سے پیشگی احتیاط کے طور پر استعمال میں لایا جائے، صبح نہار منہ اس دوائی کی ایک خوراک تین یوم کیلئے استعمال کی جائے تاکہ کرونا وائرس کے ممکنہ حملے سے بچا جاسکے۔ دوا استعمال کرنے کی اس ترتیب کو ایک ماہ کے بعد دوبارہ دہرالیا جائے۔