Baaghi TV

Category: صحت

  • طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

    طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

    زیورخ: طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد،اطلاعات کےمطابق سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے ایک ایسی مشین تیار کرلی ہے جو نہ صرف زخمی انسانی جگر کی مرمت کرسکتی ہے بلکہ اسے جسم سے باہر ایک ہفتے تک زندہ حالت میں محفوظ بھی رکھ سکتی ہے۔ اس طرح یہ مشین جگر کے علاج اور پیوند کاری کے میدان میں ایک نیا انقلاب برپا کرسکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر:سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا

    واضح رہے کہ جگر ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جسے ’’انسانی جسم کا ویئر ہاؤس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بہت حساس عضو بھی ہے جو انسانی جسم سے نکالے جانے کے بعد صرف چند گھنٹوں تک ہی زندہ حالت میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک جگر کے عطیات اور پیوند کاری جیسے شعبہ جات میں پیش رفت بہت سست رفتاری کا شکار ہے۔

    امام مسجد کی بیوی ‘مرد’ نکلی،شادی کے ایک ہفتہ بعد انکشاف

    انسانی جگر کو جسم سے باہر ایک ہفتے تک زندہ اور محفوظ حالت میں رکھنے کا براہِ راست مطلب یہ ہوا کہ آنے والے برسوں میں نہ صرف جگر کے زیادہ عطیات جمع ہوسکیں گے بلکہ اس سے جگر کے امراض میں مبتلا لاکھوں مریضوں کو ہر سال فائدہ ہوگا۔

    سخت ترین سردی کی تاریک راتوں میں بھی بھارتی فوج کشمیریوں پرمظالم سے بازنہیں آرہی ،

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پیوند کاری یا ’’ٹرانسپلانٹ‘‘ کے مجموعی طور پر 100,800 آپریشن ہوتے ہیں جن میں سے 20200 آپریشن جگر کی پیوند کاری کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف 14.6 فیصد جگر اُن فوت شدہ افراد سے لیے جاتے ہیں جو مرنے کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرجاتے ہیں۔عطیہ چاہے کیسا ہی کیوں نہ ہو، ڈاکٹروں کے پاس جگر کی منتقلی اور پیوند کاری کےلیے صرف چند گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔

    فردوس عاشق سمیت وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج،عدالت نےطلب کرلیا

    رپورٹ کےمطابق جگرکومحفوظ رکھنے کے حوالے سے یہ مشین زیورخ یونیورسٹی، سوئٹزرلینڈ کے ماہرین کی ایک وسیع ٹیم نے ایجاد کی ہے۔ بنیادی طور پر یہ مشین ایک ایسا پیچیدہ نظام ہے جو (جسم سے نکالے جانے کے بعد) جگر میں خون کی گردش تقریباً اسی طرح سے جاری رکھتا ہے جیسے حقیقی انسانی جسم میں ہو۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نتیجتاً جگر کو انسانی جسم کے باہر ایک ہفتے تک زندہ رہنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس دوران جگر کے زخموں کی مرمت کی جاسکتی ہے، جگر میں جمع ہوجانے والی اضافی چربی صاف کی جاسکتی ہے، اور جگر کی جزوی طور افزائش بھی کی جاسکتی ہے۔

    جنگی جہاز بھارت کے زیادہ ، مگرپلڑاپاکستان کا بھاری

    مشین کی آزمائش کےلیے ایسے 10 انسانی جگر حاصل کیے گئے جنہیں یورپ میں ہر پیوند کاری اسپتال نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ یہ بالکل خراب ہوچکے ہیں۔ مشین کے ذریعے ان 10 میں سے 6 جگر صرف ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل طور پر صحت مند حالت میں بحال کردیئے گئے۔ تاہم انہیں انسانوں میں پیوند نہیں کیا گیا۔

    اگلے مرحلے میں اس مشین سے صاف اور مرمت شدہ جگر انسانی جسم میں پیوند کرنے کے تجربات کیے جائیں گے۔ البتہ یہ ایک حساس مرحلہ ہوگا اس لیے سوئٹزرلینڈ اور یورپ کے طبّی تحقیقی ادارے ہر پہلو سے سابقہ تجربات کا جائزہ لینے کے بعد ہی محدود پیمانے پر انسانی تجربات کی اجازت دیں گے۔

  • صوبائی وزیر کی زیر قیادت شیخوپورہ میں شجر کاری مہم کا آغاز

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن گرین اینڈ کلین پاکستان کو آگے بڑھاتے ہوئے شجر کاری مہم 2020 کا آغاز کردیا گیا
    صوبائی وزیر ڈیزاسٹرمینجمنٹ میاں خالد محمود نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محترمہ سدرہ یونس, اسسٹنٹ کمشنر شبیر حسین بٹ, پرنسپل ڈسٹرکٹ پبلک سکول اور دیگر احباب کے ہمراہ ڈی پی سکول میں پودہ لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا شجرکاری مہم کے تحت شہر بھر میں مختلف جگہوں پر پودے لگاے جائیں گے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ پودے لگانے کا مقصد ہوا میں آلودگی کے تناسب کو کم کرنا اور آکسیجن کی مقدار کو بڑھانا ہے
    صوبائی وزیر میاں خالد محمود نے کہا کہ رواں سال پنجاب بھر اور پاکستان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے جو کہ فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت کو کم کرنے میں موثر کردار ادا کریں گے آخر پر شجرکاری مہم کی آگاہی کے لیے ریلی کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں صوبائی وزیر میاں خالد محمود، ضلعی انتظامیہ، صحافیوں اور سکول طلبا کی کثیر تعداد نے شرکت کی
    تقریب میں موجود صحافیوں سابق صدر پریس کلب شیخ سہیل احد ،سابق جنرل سیکرٹری اسلام غازی، مصطفی خان، طارق ملک، ڈاکٹر یاسر ندیم شیخ میڈیا کوآرڈینیٹر صوبائی وزیر ،ڈاکٹرخالد محمود و دیگر صحافیوں نے شجرکاری مہم کو خوش آئین اور ماحول دوست قرار دیا

  • آسٹریلوی ماہرین طب نےانڈے کی زردی سےسستی اورمؤثرانسولین تیارکرلی،شوگرکےمریضوں کے لیے تحفہ

    آسٹریلوی ماہرین طب نےانڈے کی زردی سےسستی اورمؤثرانسولین تیارکرلی،شوگرکےمریضوں کے لیے تحفہ

    میلبرن:آسٹریلوی ماہرین طب نے انڈے کی زردی سے بنی سستی اور مؤثر انسولین تیارکرلی ، شوگرکے مریضوں کے لیے تحفہ کرلیا ، تفصیلات کےمطابق انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھتا ہے،

    مکار،دہشتگرد مودی کو کلکتہ کا دورہ مہنگا پڑ گیا

    ذیابیطس کے مریضوں میں خاطر خواہ ہارمون نہیں بنتا جس کے لیے انسولین کے ٹیکے لگانے پڑتے ہیں لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین نے بہت کم خرچ اور مؤثر طریقے سے انسولین تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کا اہم جزو انڈے کی زردی ہے۔

    ہندوستان یاریپستان:ایک اور6 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل کردی گئی

    لیکن موجودہ انسولین کی ایک خرابی یہ ہے کہ اگر اسے خاص ماحول میں نہ رکھا جائے تو اس کے اندر شامل اجزا ریشے دار شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ انسولین کا مرکب ایک یا دو دن میں باریک لوتھڑوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے جسے ’’فائبرلس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عمل مریضوں کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، بالخصوص ایسے مریضوں کے لیے جو کسی پمپ کے ذریعے انسولین بدن میں داخل کرتے ہیں۔

    کراچی میں ایک بھی برنس سینٹر نہیں ، قیمتی جانیں ضائع ہونے لگیں

    میلبرن میں واقع فلورے انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز اینڈ مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر اختر حسین اور ان کے ساتھیوں نے انڈے کی زردی کے بعض اجزا کو اس طرح بدلا ہے کہ اس سے انسولین کے ریشے بننے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اس طریقے کو ماہرین نے مصنوعی طریقے سے انسولین کی تیاری کا نام دیا ہے۔

    یورپی یونین کا ایران پر فوری پابندیاں عائد نہ کرنے کا فیصلہ

    انسولین پمپ میں فائبرلس کا مسئلہ زیادہ پیش آتا ہے اور اس کے لوتھڑے مریض کے بدن میں جاکر بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مریضوں کو ہر 24 سے 72 گھنٹے کے لیے انسولین پمپ بدلنا یا اسے صاف کرنا پڑتا ہے لیکن نئی انسولین سے اس کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی اور دوا ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گی۔

    سخت سردی میں طوفانی بارشیں : دبئی میں شدید بارش، ٹریفک نظام درہم برہم

    انڈے کی زردی میں شکریات پائی جاتی ہیں جس کی بدولت اس کے سالمات کو انسولین کے مالیکیول میں رکھا گیا ہے۔ اس سے جو شے وجود میں آئی ہے اسے ’گلائکو انسولین‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    توقع ہے کہ اس طریقے سے بننے والی ویکسین دو سے چھ روز تک مؤثر رہے گی اور سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی کیونکہ صرف امریکا میں ہی تین لاکھ سے زائد افراد انسولین پمپ استعمال کرتے ہیں۔

    یاد رہےکہ اس ساری تحقیق کا سہرا مسلمان ماہرطب ڈاکٹراخترحسین کے سر ہے جن کی شبانہ روز محنت،تحقیق اورلگن کے نتیجے میں شوگرکے مریضوں کے لیے انسلولین تیارکرکے آسانی پیدا کردی ہے

  • "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض”  تحریر: غنی محمود قصوری

    "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
    عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
    ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
    اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
    تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
    ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
    پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے

  • ڈینگی کے خلاف ایک بار پھر جنگ کا اعلان،دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    ڈینگی کے خلاف ایک بار پھر جنگ کا اعلان،دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    ڈینگی کے خلاف ایک بار پھر جنگ کا اعلان،دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ڈینگی پر انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد بہت خوش آئند ہے‘ کانفرنس میں بیرون ممالک کے ماہرین نے حصہ لیاہے‘ ڈینگی کے تدارک کیلئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جانا چاہیے‘ ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ٹیم کو عالمی کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘حالیہ ڈینگی مہم میں وفاقی حکومت نے ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے موثر اقدامات کئے ،حکومت قومی سطح پر ڈینگی کے تدارک کیلئے ایکشن پلان بنا رہی ہے‘قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں ڈینگی پر ایمرجنسی آپریشن سیل قائم کیا‘ڈینگی کیس رسپانس کی ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 100 کی جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا‘ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس حوالے سے جو بھی مدد کر سکا کروں گا۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے لاہور میں ڈینگی پر منعقدہ انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے“متعدی اور غیر متعدی امراض کی روک تھام کیلئے حکومت پر عزم ہیں‘عوام کی آگاہی کیلئے وزارت صحت میں ایک ہیلپ لائن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے‘انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانا ہمارا مشن ہے‘پرائمری ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنا رہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ جو لوگ علاج کی سکت نہیں رکھتے ان کو ہیلتھ انشورنس پالیسی دے رہے ہیں‘

    انہوں نے کہاکہ کچھ سالوں پہلے ڈینگی نے پنجاب کو بالخصوص لاہور کو کافی نقصان پہنچایاتب ڈاکٹرز کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا علاج کیسے کرنا ہے ایسے میں ڈاکٹر فیصل مسعود نے اس پر بہت کام کیا‘اس وقت میرے گھر میں بھی دو ڈینگی کے مریض تھے ڈاکٹرز پہلے اینٹی بائیوٹیک سے اس مرض کے علاج کی کوشش کرتے رہے پھر پتہ لگا ایسے مریض کو اینٹی بائیٹکس نہیں دینے‘

    اب پھر ایک بار ڈینگی نے پنجاب میں سر اٹھایا ہے ،اس کانفرنس کا مقصد بھی ایک دوسرے سے سیکھنا تھاجتنا زیادہ آپس میں رابطہ بہتر ہوگا اتنا ہی ڈینگی کے خلاف جنگ آسان ہو گی‘میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس حوالے سے جو بھی مدد کر سکا کروں گا‘

    انہوں نے کہاکہ پچھلی دفعہ جب ڈینگی نے حملہ کیا ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے اس سے جنگ شروع کرنے میں دیری کی لیکن اب ایک جامع پالیسی مرتب کی جارہی ہے،میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور انکی ٹیم کو اس عالمی کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘ کانفرنس میں بہت سے بین الاقوامی ماہر ین نے شمولیت کی کیونکہ عالمی طور پر ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ ایسا ہیلتھ سسٹم بننا چاہیے جس سے پوری دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی شخص بیمار ہوتو اس ہیلتھ سسٹم سے فائدہ اٹھا سکے‘ ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن نے بھی خود کو دوبارہ سے آرگنائز کیا‘ڈبلیو ایچ او میں ایک سیگمبٹ ہے جو یونیورسل بیماریوں پر کام کر رہا ہے‘

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے بین الاقوامی ڈینگی کانفرنس کے دوسرے روزکے پہلے سیشن میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی، اس موقع پرصوبائی سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کیئرکیپٹن(ر) محمدعثمان یونس، سپیشل سیکرٹری اجمل بھٹی، صوبائی سیکرٹری بلوچستان مدثروحیدملک، وفاقی سیکرٹری صحت ملک اللہ بخش، ڈاکٹرمنیر، ڈی جی ہیلتھ سروسزپنجاب ڈاکٹرہارون جہانگیر، غیرملکی ڈیلیگیٹس اورعالمی ادارہ صحت کے نمائندگان اور خواتین وحضرات کی کثیرتعدادموجودتھی،

    مقررین نے ڈینگی بیماری پرقابوپانے کے حوالہ سے مختلف آراءپیش کیں اورکامیاب کانفرنس منعقدکروانے پرانتظامیہ کو مبارکباد دی ،وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی کانفرنس ڈینگی بیماری سے بچاو اورآگاہی پھیلانے میں معاون ثابت ہوئی ہے، بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد تمام سٹیک ہولڈرزکی کاوش سے ڈینگی بیماری کے مکمل خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی بناناہے، پنجاب میں ریفرنس لیبارٹریزبنائی جائیں گی، سرکاری ہسپتالوں کواپ گریڈکیاجارہاہے،ڈینگی سرویلنس کیلئے تمام عملہ کوجدیدتقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے گی،

    ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ بین الاقوامی ڈینگی کانفرنس کے انعقادکیلئے صوبائی سیکرٹری صحت کیپٹن(ر) محمدعثمان اور ان کی ٹیم کی کاوش قابل ستائش ہے

  • ہوشیار ، خبردار !  پنجاب میں پرندوں میں خطرناک وائرس پھیل گیا

    ہوشیار ، خبردار ! پنجاب میں پرندوں میں خطرناک وائرس پھیل گیا

    لاہور:ہوشیار ، خبردار ! پنجاب میں پرندوں میں خطرناک وائرس پھیل گیا ہے ، اطلاعات کےمطابق پنجاب میں پرندوں پررانی کھیت اورانفلوئنزا وائرس کے خطرناک حملے میں ہزاروں پرندے جان سے چلےگئے۔

    تفصیلات کے مطابق رانی کھیت اورانفلوئنزا کے خطرناک حملے میں روزانہ لاکھوں مرغیاں مر رہی ہیں، پرندوں کی دوائیں اور جان لیوا وائرس سے بچاو کے ویکسین بھی بےاثرہوگئے۔ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ،جان لیواوائرس کے حملےکےپیش نظرپولٹری فارم مالکان نےبیرون ملک فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے رابطہ کرلیا۔

    ویٹرینری ڈاکٹرعمر شمشادکا کہناہےکہ مرغیوں میں انفلوئنزا کا حملہ ہرسال ہوتا ہے جس سے 9 لاکھ مرغیاں مرجاتی ہیں، سائبریا سےپرندے بلوچستان، میانوالی، کراچی اور ساحلی علاقوں میں آتے ہیں، جن سے مقامی علاقوں میں مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں۔

    ڈاکٹر عمر شمشاد نے بتایا کہ اس سال راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں بیماری کا حملہ زیادہ ہوا اوردرجہ حرارت کم ہونےکی وجہ سے بیماری کاحملہ زیادہ نقصان دہ ہے۔اس وقت پولٹری کی مجموعی پیداوار کا 10 فی صد نقصان ہوچکاہے، روزانہ کی بنیادوں پر 13 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

    ڈاکٹرعمر شمشادکے مطابق پنجاب میں مرغی کی پیداوار تقریبا 90 لاکھ روزانہ ہے،ہرسال مجموعی پیدااوار کا 30 فی صد نقصان ہو جاتا ہے، جس سے پولٹری فارمرز شدید دبائو میں آجاتے ہیں۔نیو کیسل ڈیزیز کی وجہ سے پوری دنیا میں 5 فی صدپرندے مر جاتے ہیں۔

  • نیند کی کمی یا زیادتی سےخطرناک بیماری لاحق ہوسکتی ہے، طبی ماہرین

    نیند کی کمی یا زیادتی سےخطرناک بیماری لاحق ہوسکتی ہے، طبی ماہرین

    لندن: نیند کی کمی یا زیادتی سےمتعلق ڈاکٹروں نےخبردارکردیا،خطرناک بیماری لاحق ہوسکتی ہے، طبی ماہرین نے خطرے سے آگاہ کردیا ، ماہرین کا کہنا ہےکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی یا زیادتی سے پھیپھڑوں کی بیماری کا خظرہ بڑھ جاتا ہے۔

     

    پاکستان کھیل کےمیدان میں بھی ترقی کرنےلگا،کرکٹ کےبعداب ہاکی کا سپرلیگ ٹورنا منٹ…

     

    رپورٹ کے مطابق پی این اے ایس جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص 11 گھنٹوں تک کی ضرورت زیادہ نیند لے یا پھر صرف 4 گھنٹوں کی کم نیند لے تو اس میں پھیپھڑوں کی لاعلاج بیماری کا خظرہ 2 سے 3 گنا بڑھ جاتا ہے۔

     

    بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کواغواکرکے شہید کرنے لگی، سخت سردی میں بھیانک مظالم

     

    مانچسٹر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا اندرونی نظام جسم کے تقریباً ہر خلیے کو ریگولیٹ کرتا ہے، جسم کا اندرونی نظام 24 گھنٹے تک ایک طریقہ کار کے تحت کام کرتا ہے جس میں سونا، ہارمونز کا اخراج اور میٹابولزم کا کام کرنا وغیرہ شامل ہے

     

    کشمیری آزادی سمیت بنیادی انسانی حقوق سے یکسر محروم ہیں،حق دلاکررہیں گے،شاہ محمود…

    طبی ماہرین کا کہنا ہےکہ سونا، ہارمونز کا اخراج اور میٹابولزم کا کام کرنا جیسے تمام کاموں کے لیے سانس لینا سب سے اہم ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم یا زیادہ سونے کی وجہ سے ہونے والے پلمونری فائبروسز (پھیپھڑوں) ایک بہت ہی دردناک حالت ہے جو اس وقت لاعلاج بیماری ہے۔

     

    جونئیرايشياء کپ ہاکی ٹورنامنٹ کے ليئے55کھلاڑیوں کا اعلان کرديا گيا۔

    محققین کا کہنا ہےکہ اس حالت سے بچنے کے لیے صرف احتیاط ہی ضروری ہے، اوسط نیند سے زائد سونے یعنی 11 گھنٹے تک کی نیند لینے یا پھر ضرورت سے بہت کم نیند لینے کی وجہ سے یہ مسائل سامنے آتے ہیں۔تحقیق کے مطابق پورے دن میں جسم کو مناسب آرام دینے سے پھیپھڑوں کے سیل میں خرابی میں کمی ہونے لگتی ہے۔

    بھٹوکی نگری میں‌ کتےکےکاٹنےسےنئےسال میں جان چلی گئی

     

    تحقیق کے مطابق پھیپھڑوں کی بیماری اس وقت ہوتی ہے جب پھیپھڑوں کے ٹشوز ضائع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس عضو کے کام کرنے میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔

  • 2020 کا پہلا تحفہ: شوگر کے مریضوں کے لیے طبی سائنس کا کارنامہ ،طبی ماہرین خوش

    2020 کا پہلا تحفہ: شوگر کے مریضوں کے لیے طبی سائنس کا کارنامہ ،طبی ماہرین خوش

    نیویارک :2020 کا پہلا تحفہ: شوگر کے مریضوں کے لیے طبی سائنس کا کارنامہ ،طبی ماہرین خوش،تفصیلات کےمطابق ذیابیطس ایسی بیماری ہے جو ہر سال کئی انسانوں کی زندگی ختم کر دیتی ہے۔ ذیابیطس کا مرض کسی بھی عمر میں لاحق ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی دوسرے طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    انسانی جسم میں موجود شوگر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل کرنے کی صلاحیت ختم ہو جانے سے لاحق ہونے والی پیچیدگی کے باعث فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگوں کے خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مرض میں انسانی جسم کی یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی دو اقسام ہیں۔

    2019 میں ذیابیطس کی ٹائپ ون کے علاج کے حوالے سے بڑی امید پیدا ہوئی ہے۔ امریکی طبی محققین نے تجربات کے بعد بتایا ہے کہ انسانی خلیات میں انسولین بنانے کی صلاحیت پیدا کر لی گئی ہے جس پر مزید کام کیا جارہا ہے۔

    سان فرانسيسكو میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ذیابیطس کے خلاف کام کرنے والے سائنس دانوں کی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے علاج کے حوالے سے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ہم ایسے خلیات بنائیں گے جن کو ایسے مریضوں میں داخل کیا جا سکے۔

    الزائمر ایک ایسا مرض ہے جس نے دنیا کی بڑی آبادی کو مشکل سے دوچار کر رکھا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ الزائمر نامی بیماری دراصل ڈیمینشیا کی ایک شکل ہے اور پاکستان میں بھی اس کے مریضوں کی اکثریت تکلیف دہ صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ سادہ زبان میں نسیان یا یاد داشت کی کم زوری کا مسئلہ ہے۔

    2019 میں الزائمر کے علاج کے حوالے سے بھی امید افزا خبر سامنے آئی۔ سائنس دانوں نے ایک دوا جس کا نام ایڈو کینمب بتایا گیا ہے، کی مدد سے اس مرض کی تکلیف اور دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی رفتار کو کم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ طبی تجربات کے بعد اس دوا کے استعمال سے یاد داشت بہتر بھی ہوسکے گی۔

    اس کے علاوہ صحت کے شعبے سے دو ہزار انیس میں یہ خبر بھی آئی کہ الجیریا اور ارجنٹینا مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والی ملیریا جیسی بیماری سے نجات پاچکے ہیں۔ اس کا اعلان عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کیا ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ طبی سائنس کے ماہرین کی کاوشوں کی بدولت 2019 امید اور امکانات کا سال ثابت ہوا۔

  • ’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘کی نئی ٹیکنالوجی متعارف،طب کے میدان میں انقلاب برپاکردے گی

    ’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘کی نئی ٹیکنالوجی متعارف،طب کے میدان میں انقلاب برپاکردے گی

    لندن:’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘کی نئی ٹیکنالوجی متعارف،طب کے میدان میں انقلاب برپاکردے گی ،تفصیلات کے مطابق ماہرین طب نے الٹرساونڈمیں جدت پیدا کرتے ہوئے ایک بہترٹیکنالوجی متعارف کروادی ہے،اس حوالے سے میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیزر شعاعیں استعمال کرتے ہوئے ایسا بالکل ممکن ہے۔

    میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کےطبی سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ لیزر شعاعیں اگرچہ توانائی سے بھرپور ہوتی ہیں اور جلد کو جلا بھی سکتی ہیں لیکن اس مقصد کےلیے جو لیزر شعاعیں استعمال کی گئی ہیں وہ بہت کم توانائی کی حامل ہیں اور بالکل بے ضرر ہیں۔ اپنی اس ایجاد کو ایم آئی ٹی کے ماہرین نے ’’الٹرا ساؤنڈ لیزر‘‘ کا نام دیا ہے، جس کا نظام دو لیزر شعاعوں کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔

    میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہےکہ یہ ایک ایسی ٹکنالوجی ہےکہ جس میں سے ایک لیزر، شعاع جلد میں الٹرا ساؤنڈ لہریں پیدا کرتی ہے جبکہ دوسری لیزر، انسانی جسم کے اندر سے واپس پلٹ کر آنے والی الٹرا ساؤنڈ لہروں کو محسوس کرتی ہے۔ اس طرح دور سے کسی شخص کی اندرونی جسمانی حالت کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔

    لائٹ: سائنس اینڈ ایپلی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں چھپنے والے اس حوالے سے مضمون میں کہا گیا ہےکہ یہ تکنیک ابھی اپنے ابتدائی مراحل پر ہے جس سے استفادہ کرتے ہوئے لیزر شعاعیں انسانی جسم میں صرف چھ سینٹی میٹر گہرائی تک سرایت کرسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ابھی اس لیزر الٹراساؤنڈ میں درستی کی شرح بھی روایتی الٹرا ساؤنڈ کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

    ماہرین طب کےمطابق یہ تکنیک وضع کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسے عملی میدان میں استعمال کے قابل بنانے کی غرض سے تحقیق جاری رکھی ہوئی ہے کیونکہ مستقبل میں اس سے مستفید ہونے کے وسیع تر امکانات موجود ہیں۔ مثلاً یہ کہ انسانی جلد اور آنکھوں کو نقصان پہنچائے بغیر ہی، دور بیٹھے بیٹھے، لیزر کی مدد سے کسی بیماری کی تشخیص ممکن ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا کہ ابتدائی تجربات کامیاب رہے ہیں اورمستقبل میں اس کو طب کے میدان میں بھراستعمال کیا جائے گا

  • مساج کے ذریعے بند ناک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے

    مساج کے ذریعے بند ناک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے

    مساج کے ذریعے بند ناک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے
    نزلہ زکام وغیرہ کی وجہ سے ناک کا بند ہوجانا ایک عام بات ہے مگر اگر یہ ناک رات کو سونے کے درمیان بند ہوجائے تو نیند کو خراب کر دیتی ہے اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے اور سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے بند ناک کو کھولنے کے چند آسان طریقے گے جن کو استعمال کر کے آپ سانس بند ہونے کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں درج ذیل ہیں
    ناک کے دونوں طرف مالش کرنا:
    شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے ساتھ ناک کے ان دونوں سائیڈ مقامات پر دائرے کی شکل میں آہستہ آہستہ تقریباً ایک سے دو منٹ مالش کریں اس سے آپ کی سانس کی بند نالیاں کُھلنے میں مدد ملے گی اور آپ کو جمی ہُوئی ریشہ کو ناک سے خارج کرنے میں آسانی ہوگی
    دونوں بھنووں کے درمیان میں مالش کریں:
    ناک بند ہونے کے صورت میں بھنووں کے درمیان میں انگوٹھے یا انگلی کے ساتھ آہستہ آہستہ کم از کم ایک منٹ تک مالش کریں اس سے سانس کی نالیوں میں جمی ہُوئی ریشہ خارج ہونے میں مدد ملے گی اور یہ سانس کی نالی کی سوزش کو کم کرے گا
    ناک اور ہونٹوں کے درمیان مالش کریں:
    ناک اور ہونٹوں کے درمیاں آہستہ آہستہ مالش کریں اور اس عمل کو تقریباً 2 سے 3 منٹ تک جاری رکھیں یہ آپ کے ناک کی سوزش کو کم کرے گا اور سانس لینے میں آسانی پیدا ہوگی
    ہوا میں نمی:
    سردی بڑھنے کے ساتھ ہی ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوتا چلا جاتا ہے اور ہوا جب خُشک ہوتی ہے تو سانس لینے سے ناک میں موجود ریشہ جمنی شروع ہوجاتی ہے اپنے کمرے میں ہیٹر یا چولہے کے اوپر پانی کی دیگچی رکھ دیں تاکہ پانی کی بھاپ ہوا میں نمی کے تناسب کو برقرار رکھے

    ہونٹوں کو خُشکی اور پھٹنے سے بچا نے کے لئے آسان طریقے


    گرم کپڑا ناک پر رکھیں:
    کسی کپڑے کو گرم کرکے ناک کے دونوں اطراف اس سے ٹکور کریں یہ جمی ہُوئی ریشہ کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوگا
    ورزش کے ذریعے:
    اگر آپ نزلے زکام کا شکار الرجی کی وجہ سے ہُوئے ہیں اور آپ کی ناک بہہ رہی ہے تو اس کو ٹھیک کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ ورزش کریں ورزش کرنے سے آپکا جسم گرم ہوگا اور یہ ناک میں موجود ریشہ کو خارج کرنے میں آسانی پیدا کرے گا
    بھنے کالے چنوں کی ٹکور:
    کالے چنے لے کر اس کو بھنوا کر دیسی کپڑے میں ڈال کر گرم گرم چنوں سے ٹکور کرنے سے بھی بند ناک کھل جائے گی