Baaghi TV

Category: صحت

  • وزن کم کرنے کے لئے کھچڑی ایک مفید غذا

    وزن کم کرنے کے لئے کھچڑی ایک مفید غذا

    آج کل کی تیز رفتار زندگی میں وزن میں کمی کے خواہشمند افراد ورزش کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے ایسے میں وزن میں کمی کے لیےسلاد یا ڈیٹاکس واٹر کا سہارا لیا جاتا ہے مگر غذا پر کچھ خاص توجہ نہیں دی جاتی مختلف غذائیں بھی اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر کے وزن میں کمی لائی جا سکتی ہے ماہرین غذائیت و فٹنس کے مطابق مناسب وزن اور پتلی کمر میں ورزش کے ساتھ غذا کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، اگر آپ روزانہ کی بنیاد پر ورزش کر رہے ہیں اس کا 30 فیصد آپ میں تبدیلی لاتا ہے جبکہ 70 فیصد دارومدار آپ کی غذا پر ہے یعنی آپ چاہے روزانہ ورزش کریں مگر آپ کیا کھا پی رہے ہیں یہ بہت معنی رکھتا ہے اگر آپ اضافی وزن ختم کرنے کے خواہشمند ہیں اور زیادہ خرچہ بھی نہیں کرنا چاہتے تو گھر میں بنی ہوئی کھچڑی آپ کے لیے بہترین غذا ہے

    وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کا ماننا ہے کہ چاولوں کا استعمال وزن میں کمی کے بجائے وزن بڑھا دیتا ہے مگر ایسا نہیں ہے اگر آپ اپنی غذا میں چاولوں کا متوازن استعمال رکھیں تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لیے پروٹین کا زیادہ سے زیادہ استعمال تجویز کیا جاتا ہے

    مزیدارچکن بریانی ریسیپی


    کھچڑی میں دالوں کا استعمال آپ کو زیادہ دیر تک بھوک کا احساس نہیں ہونے دے گ، کھچڑی فائبر سمیت پروٹین بھی فراہم کرے گی جبکہ اس سے کولیسٹرول لیول بھی متوازن رہے گا

    چاول، مختلف دالیں، ہلکے مسالوں سے تیار کردہ کھچڑی آپ کو مکمل غذائیت کے ساتھ وزن میں کمی میں مدد فراہم کرے گی جس سے آپ کمزور ہونے کے بجائے صحت مند طریقے سے اضافی وزن میں کمی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں

    کچھڑی میں سفید کے بجائے براؤن رائس اور سبزیاں بھی استعما ل کی جا سکتی ہیں کھچڑی بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے

    اجزاء:
    چاول ایک کپ
    کوئی بھی دال ایک کپ
    کٹی ہوئی سبزیاں دو کپ اپنی پسند کے مطابق
    نمک حسب ذائقہ
    پانی 5 سے 6 کپ
    زیرہ ایک کھانے کا چمچہ
    ہینگ ایک چٹکی
    ہلدی ایک چٹکی

    ترکیب:
    پتیلی میں ایک کھانے کا چمچ تیل یا گھی گرم کریں، اب اس میں زیرہ، ہینگ، ہلدی شامل کر یں اور 10 سے 15 سیکنڈ کے لیے بھون لیں اب اس میں سبزیاں شامل کر کے 3 سے 4 منٹ تک پکائیں اب اس میں دالیں چاول اور پانی ڈال کر ڈھانپ دیں ، دالیں اور چاول پکائیں یہاں تک کہ گل جائیں پانی خشک ہونے کے بعد چند منٹوں کا دم دیں لیں یا کھچڑی کو گیلا ہی رہنے دیں مزیدار گرما گرم صحت بخش کھچڑی تیار ہے

  • سر کی جلد میں مہاسےکیوں نکلتے ہیں؟

    سر کی جلد میں مہاسےکیوں نکلتے ہیں؟

    سر کی جِلد پر ہونے والے مہاسے سر میں خارش کا سبب بنتے ہیں جنہیں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے یہ لال رنگ کے دانے سر میں بھی اسی طرح نکلتے ہیں جس طرح منہ پر نکلتے ہیں

    بالوں کے نیچے موجود کھوپڑی کے خلیوں کو فضائی آلودگی، فنگل انفیکشن اور بیکٹیریا سے نقصان پہنچتا ہے ایک تحقیق کے مطابق بالوں کی جڑ کھوپڑی کے جس سوراخ میں ہوتی ہے اسے فولیکل کہتے ہیں یہاں مخصوص خلیے پائے جاتے ہیں، انہیں ہیومن فولیکل ڈرمل پپیلا سیل کہا جاتاہے ہوا میں موجود مختلف ذرات فولیکل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں موجود خلیوں اور پروٹینز پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں

    علاوہ ازیں سر میں دانے نکلنے کی وجہ آپکا اپنا لائف اسٹائل بھی ہے ہارمونز کا عدم توازن اور غیر صحت بخش غذا بھی ان دانوں کی وجوہات میں شامل ہے جس کی روک تھام کے لئے اپنا کھانا پینا بہتر کرنا ہوگا اپنا لائف اسٹائل تبدیل کرنے اور صحت بخش غذا کھانے سے بغیر کسی علاج کے یہ دانے خود ہی غائب بھی ہو جاتے ہیں

    سر میں مہاسوں کی ایک وجہ غلط تیل یا ہیئر پراڈکٹس کا استعمال ہے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جو تیل اور شیمپو استعمال کر رہے ہیں وہ آپ کی جلد سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں دانوں کی ایک بڑی وجہ بالوں میں تیل کا زیادہ مقدار میں استعمال بھی ہے کیونکہ دانوں سے نجات کے لئے سر کی جلد کو صاف ستھرا اور چکنائی سے پاک ہونا ضروری ہے

  • ماہرین نے اندھیرے میں راستہ بتانے والے کانٹیکٹ لینس تیار کرکے انقلاب برپا کردیا

    ماہرین نے اندھیرے میں راستہ بتانے والے کانٹیکٹ لینس تیار کرکے انقلاب برپا کردیا

    واشنگٹن :ماہرین نے اندھیرے میں راستہ بتانے والے کانٹیکٹ لینس تیار کرکے انقلاب برپا کردیا،تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب بہت جلد یہ ممکن ہونے والا ہے کہ اندھیرے میں بھی کانٹیکٹ لینز کے استعمال سے بلکل صاف دیکھا جائے گا جس کے لیے کسی عینک کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    ماہرین طب کےمطابق اس جدید ٹیکنالوجی سے بنے کانٹیکٹ لینز کی مدد سے سڑک سے آگے کا راستہ معلوم بھی کرسکیں گے یہاں تک کہ کسی بھی جگہ کا احوال بھی پتا کرسکیں گے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہےکہ اس کے علاوہ موسم کا حال، کھیل کا احوال، اسٹاک کا بیان، سرکاری فرمان اور بین الاقوامی معاملات اور خبریں اپنی آنکھ میں ہی پڑھ سکیں گے۔

    دلچسپ یہ کہ اگر آپ کسی انجانی راہ پر چل رہے ہوں تو لینس کی مدد سے آگے کا راستہ اور رکاوٹوں سےبھی باخبر رہے گے۔خیال رہے کہ اگر لینز کو آنکھ کے قریب لاکر دیکھا جائے تو اس میں ننھے روشن الفاظ دیکھے جاسکتے ہیں جو لینز پہننے کے بعد دکھائی دیتے ہیں۔

    ماہرین طب کے مطابق اس جدید اورمنفرد ٹیکنالوجی سے بنے لینس کی خاص بات یہ ہے کہ اس لینس کے استعمال سے دل کی دھڑکن اور جسمانی کیفیات بھی معلوم ہوتی ہے۔واضح رہے اس جدید ٹیکنالوجی کے لینس کی تیاری میں بہت ساری کمپنیاں ایک ساتھ کام کررہی ہیں جن میں گوگل، ایمیزون، زیئس اور فلپس وغیرہ شامل ہیں۔

  • پشاور:محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پربڑوں کے تبادلے

    پشاور:محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پربڑوں کے تبادلے

    پشاور:پشاور:محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پربڑوں کے تبادلے ،اطلاعات کےمطابق محکمہ صحت نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور ڈائریکٹر جنرل پی ایچ ایس،ڈی ایچ اوز اور ڈائریکٹرز سمیت گریڈ بیس اور انیس کے24ڈاکٹرز کے تبادلوں کی منظوری دیدی ہے جس کا باضابطہ اعلامیہ ایک دوروز میں جاری کردیا جائیگا،

    محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ارشد کو ڈی جی ہیلتھ سروسز کو رپورٹ کرنے جبکہ انکی جگہ ڈاکٹر طاہر ندیم کو نیا ڈی جی ہیلتھ سروسز مقرر کردیا گیا ہے ڈاکٹر ایوب روز کو پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی میں ڈائریکٹر جنرل جبکہ ڈاکٹر جواد حبیب کو بلڈ ٹرانسفیوژن پراجیکٹ کا چیف ایگزیکٹو مقرر کردیا گیا ہے ڈاکٹر جاوید کو چیف ایگزیکٹو میڈیکل فیکلٹی جبکہ انکے پیش رو ڈاکٹر نیک نواز کو ڈی آئی خان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز لگادیا گیا ہے،

    ذرائع نے بتایا کہ ڈی ایچ او صوابی ڈاکٹرز نیاز کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایڈمن، ڈاکٹر شاہین آفریدی کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جبکہ ڈاکٹر عبدالرحمن کا بنوں میں کیا گیا تبادلہ منسوخ کرتے ہوئے انہیں ڈی ایچ او شانگلہ لگادیا گیا ہے مولوی جی ہسپتال میں ڈاکٹر اختیار کو ایم ایس جبکہ صفوت غیور چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر فضل مولا کو نیا ایم ایس تعینات کردیا گیا ہے اسطرح ڈاکٹر نیا ز آفریدی کو ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز قبائلی علاقہ جات جبکہ ڈاکٹر شاہ فیصل خانزادہ کو ڈی ایچ او ایبٹ آباد اور ڈاکٹر انیس آفریدی کو میٹرنٹی ہسپتال پشاور میں ایم ایس لگایا گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر منہاج کو ڈی ایچ او صوابی تعینات کردیا گیا ہے،

    اس سلسلے میں ڈی جی ہیلتھ سروسز نے تبادلوں کی تصدیق کردی ہے اور رابطے پر بتایا ہے کہ انہوں نے خود ہی وزیر صحت کو عہدے سے سبکدوش کرنیکی درخواست کی تھی ایک عرصہ تک ڈی جی کے عہدے پرتعینات رہا نئی تعیناتی تک انہوں نے شکار کھیلنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

  • پراسرار چینی فلو کی وجہ کرونا وائرس دنیا میں پھیل سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا

    پراسرار چینی فلو کی وجہ کرونا وائرس دنیا میں پھیل سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا

    جنیوا: عالمی ادارہ برائے صحت نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین میں کئی ماہ سے پراسرار فلو کی وجہ بننے والا ناقابلِ فہم مرض کی اصل وجہ کرونا وائرس ہی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق اگرچہ زیادہ تر مریضوں کے باہمی خاندان میں ہی اس کا پھیلاؤ دیکھا گیا ہے لیکن یہ چینی حدود سے باہر نکل کر باقی دنیا میں جاسکتا ہے اور اسی بنا پر عالمی ادارے نے دنیا بھر کے ہسپتالوں کو خبردار بھی کیا ہے۔

    مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس،6 ماہ میں تیسرا بڑا اجلاس…

    عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہےکہ ہم جانتے ہیں کہ کرونا وائرس ایسے وائرس ہوتے ہیں جو سانس اور ناک سےجڑے پورے نظام کو کئی بیماریوں کا شکار بناتے ہیں۔ کرونا وائرس عام ٹھنڈ سے لے کر سارس جیسے جان لیوا امراض کی وجہ بنتے ہیں۔ تھائی لینڈ کے حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک چینی خاتون کو اس مرض سے متاثر ہونے کے بعد الگ تھلگ ایک قرنطینے میں رکھا ہے۔ یعنی چین سے باہر اس مرض کا یہ پہلا واقعہ بھی ہے۔

    سردی بھی سردی سے پناہ مانگنے لگی :ملک بھر میں برف باری اور لینڈسلائیڈنگ سے جاں بحق…

    ذرائع کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے وائرس کے بقیہ ممالک میں پھیلاؤ پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ چین میں 41 مریض سامنے آئے ہیں اور ایک موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ تاہم چینی حکام نے کہا ہےکہ انہوں نے اس مسئلے پر قابو الیا ہے اور اس سے زیادہ مریض سامنے نہیں آسکے ہیں۔

    طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

    عالمی ادارہ برائے صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایم آئی آر ایس کا مرض جان لیوا اور تشویش ناک ہے جو کرونا وائرس سے پھیلتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک اور ہسپتالوں کو ہنگامی حالت اور احتیاطی تدابیر کی تفصیل جاری کردی ہے۔

  • طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

    طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

    زیورخ: طب کی دنیا میں انقلاب :جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد،اطلاعات کےمطابق سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے ایک ایسی مشین تیار کرلی ہے جو نہ صرف زخمی انسانی جگر کی مرمت کرسکتی ہے بلکہ اسے جسم سے باہر ایک ہفتے تک زندہ حالت میں محفوظ بھی رکھ سکتی ہے۔ اس طرح یہ مشین جگر کے علاج اور پیوند کاری کے میدان میں ایک نیا انقلاب برپا کرسکتی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر:سکیورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو شہید کر دیا

    واضح رہے کہ جگر ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جسے ’’انسانی جسم کا ویئر ہاؤس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بہت حساس عضو بھی ہے جو انسانی جسم سے نکالے جانے کے بعد صرف چند گھنٹوں تک ہی زندہ حالت میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک جگر کے عطیات اور پیوند کاری جیسے شعبہ جات میں پیش رفت بہت سست رفتاری کا شکار ہے۔

    امام مسجد کی بیوی ‘مرد’ نکلی،شادی کے ایک ہفتہ بعد انکشاف

    انسانی جگر کو جسم سے باہر ایک ہفتے تک زندہ اور محفوظ حالت میں رکھنے کا براہِ راست مطلب یہ ہوا کہ آنے والے برسوں میں نہ صرف جگر کے زیادہ عطیات جمع ہوسکیں گے بلکہ اس سے جگر کے امراض میں مبتلا لاکھوں مریضوں کو ہر سال فائدہ ہوگا۔

    سخت ترین سردی کی تاریک راتوں میں بھی بھارتی فوج کشمیریوں پرمظالم سے بازنہیں آرہی ،

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پیوند کاری یا ’’ٹرانسپلانٹ‘‘ کے مجموعی طور پر 100,800 آپریشن ہوتے ہیں جن میں سے 20200 آپریشن جگر کی پیوند کاری کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف 14.6 فیصد جگر اُن فوت شدہ افراد سے لیے جاتے ہیں جو مرنے کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کرجاتے ہیں۔عطیہ چاہے کیسا ہی کیوں نہ ہو، ڈاکٹروں کے پاس جگر کی منتقلی اور پیوند کاری کےلیے صرف چند گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔

    فردوس عاشق سمیت وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج،عدالت نےطلب کرلیا

    رپورٹ کےمطابق جگرکومحفوظ رکھنے کے حوالے سے یہ مشین زیورخ یونیورسٹی، سوئٹزرلینڈ کے ماہرین کی ایک وسیع ٹیم نے ایجاد کی ہے۔ بنیادی طور پر یہ مشین ایک ایسا پیچیدہ نظام ہے جو (جسم سے نکالے جانے کے بعد) جگر میں خون کی گردش تقریباً اسی طرح سے جاری رکھتا ہے جیسے حقیقی انسانی جسم میں ہو۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ نتیجتاً جگر کو انسانی جسم کے باہر ایک ہفتے تک زندہ رہنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس دوران جگر کے زخموں کی مرمت کی جاسکتی ہے، جگر میں جمع ہوجانے والی اضافی چربی صاف کی جاسکتی ہے، اور جگر کی جزوی طور افزائش بھی کی جاسکتی ہے۔

    جنگی جہاز بھارت کے زیادہ ، مگرپلڑاپاکستان کا بھاری

    مشین کی آزمائش کےلیے ایسے 10 انسانی جگر حاصل کیے گئے جنہیں یورپ میں ہر پیوند کاری اسپتال نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ یہ بالکل خراب ہوچکے ہیں۔ مشین کے ذریعے ان 10 میں سے 6 جگر صرف ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل طور پر صحت مند حالت میں بحال کردیئے گئے۔ تاہم انہیں انسانوں میں پیوند نہیں کیا گیا۔

    اگلے مرحلے میں اس مشین سے صاف اور مرمت شدہ جگر انسانی جسم میں پیوند کرنے کے تجربات کیے جائیں گے۔ البتہ یہ ایک حساس مرحلہ ہوگا اس لیے سوئٹزرلینڈ اور یورپ کے طبّی تحقیقی ادارے ہر پہلو سے سابقہ تجربات کا جائزہ لینے کے بعد ہی محدود پیمانے پر انسانی تجربات کی اجازت دیں گے۔

  • صوبائی وزیر کی زیر قیادت شیخوپورہ میں شجر کاری مہم کا آغاز

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن گرین اینڈ کلین پاکستان کو آگے بڑھاتے ہوئے شجر کاری مہم 2020 کا آغاز کردیا گیا
    صوبائی وزیر ڈیزاسٹرمینجمنٹ میاں خالد محمود نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محترمہ سدرہ یونس, اسسٹنٹ کمشنر شبیر حسین بٹ, پرنسپل ڈسٹرکٹ پبلک سکول اور دیگر احباب کے ہمراہ ڈی پی سکول میں پودہ لگا کر شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا شجرکاری مہم کے تحت شہر بھر میں مختلف جگہوں پر پودے لگاے جائیں گے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ پودے لگانے کا مقصد ہوا میں آلودگی کے تناسب کو کم کرنا اور آکسیجن کی مقدار کو بڑھانا ہے
    صوبائی وزیر میاں خالد محمود نے کہا کہ رواں سال پنجاب بھر اور پاکستان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے جو کہ فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ موسم کی شدت کو کم کرنے میں موثر کردار ادا کریں گے آخر پر شجرکاری مہم کی آگاہی کے لیے ریلی کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں صوبائی وزیر میاں خالد محمود، ضلعی انتظامیہ، صحافیوں اور سکول طلبا کی کثیر تعداد نے شرکت کی
    تقریب میں موجود صحافیوں سابق صدر پریس کلب شیخ سہیل احد ،سابق جنرل سیکرٹری اسلام غازی، مصطفی خان، طارق ملک، ڈاکٹر یاسر ندیم شیخ میڈیا کوآرڈینیٹر صوبائی وزیر ،ڈاکٹرخالد محمود و دیگر صحافیوں نے شجرکاری مہم کو خوش آئین اور ماحول دوست قرار دیا

  • آسٹریلوی ماہرین طب نےانڈے کی زردی سےسستی اورمؤثرانسولین تیارکرلی،شوگرکےمریضوں کے لیے تحفہ

    آسٹریلوی ماہرین طب نےانڈے کی زردی سےسستی اورمؤثرانسولین تیارکرلی،شوگرکےمریضوں کے لیے تحفہ

    میلبرن:آسٹریلوی ماہرین طب نے انڈے کی زردی سے بنی سستی اور مؤثر انسولین تیارکرلی ، شوگرکے مریضوں کے لیے تحفہ کرلیا ، تفصیلات کےمطابق انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھتا ہے،

    مکار،دہشتگرد مودی کو کلکتہ کا دورہ مہنگا پڑ گیا

    ذیابیطس کے مریضوں میں خاطر خواہ ہارمون نہیں بنتا جس کے لیے انسولین کے ٹیکے لگانے پڑتے ہیں لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین نے بہت کم خرچ اور مؤثر طریقے سے انسولین تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کا اہم جزو انڈے کی زردی ہے۔

    ہندوستان یاریپستان:ایک اور6 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل کردی گئی

    لیکن موجودہ انسولین کی ایک خرابی یہ ہے کہ اگر اسے خاص ماحول میں نہ رکھا جائے تو اس کے اندر شامل اجزا ریشے دار شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ انسولین کا مرکب ایک یا دو دن میں باریک لوتھڑوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے جسے ’’فائبرلس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عمل مریضوں کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، بالخصوص ایسے مریضوں کے لیے جو کسی پمپ کے ذریعے انسولین بدن میں داخل کرتے ہیں۔

    کراچی میں ایک بھی برنس سینٹر نہیں ، قیمتی جانیں ضائع ہونے لگیں

    میلبرن میں واقع فلورے انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز اینڈ مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر اختر حسین اور ان کے ساتھیوں نے انڈے کی زردی کے بعض اجزا کو اس طرح بدلا ہے کہ اس سے انسولین کے ریشے بننے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اس طریقے کو ماہرین نے مصنوعی طریقے سے انسولین کی تیاری کا نام دیا ہے۔

    یورپی یونین کا ایران پر فوری پابندیاں عائد نہ کرنے کا فیصلہ

    انسولین پمپ میں فائبرلس کا مسئلہ زیادہ پیش آتا ہے اور اس کے لوتھڑے مریض کے بدن میں جاکر بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مریضوں کو ہر 24 سے 72 گھنٹے کے لیے انسولین پمپ بدلنا یا اسے صاف کرنا پڑتا ہے لیکن نئی انسولین سے اس کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی اور دوا ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گی۔

    سخت سردی میں طوفانی بارشیں : دبئی میں شدید بارش، ٹریفک نظام درہم برہم

    انڈے کی زردی میں شکریات پائی جاتی ہیں جس کی بدولت اس کے سالمات کو انسولین کے مالیکیول میں رکھا گیا ہے۔ اس سے جو شے وجود میں آئی ہے اسے ’گلائکو انسولین‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    توقع ہے کہ اس طریقے سے بننے والی ویکسین دو سے چھ روز تک مؤثر رہے گی اور سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی کیونکہ صرف امریکا میں ہی تین لاکھ سے زائد افراد انسولین پمپ استعمال کرتے ہیں۔

    یاد رہےکہ اس ساری تحقیق کا سہرا مسلمان ماہرطب ڈاکٹراخترحسین کے سر ہے جن کی شبانہ روز محنت،تحقیق اورلگن کے نتیجے میں شوگرکے مریضوں کے لیے انسلولین تیارکرکے آسانی پیدا کردی ہے

  • "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض”  تحریر: غنی محمود قصوری

    "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
    عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
    ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
    اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
    تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
    ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
    پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے

  • ڈینگی کے خلاف ایک بار پھر جنگ کا اعلان،دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    ڈینگی کے خلاف ایک بار پھر جنگ کا اعلان،دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    ڈینگی کے خلاف ایک بار پھر جنگ کا اعلان،دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ڈینگی پر انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد بہت خوش آئند ہے‘ کانفرنس میں بیرون ممالک کے ماہرین نے حصہ لیاہے‘ ڈینگی کے تدارک کیلئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جانا چاہیے‘ ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ٹیم کو عالمی کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘حالیہ ڈینگی مہم میں وفاقی حکومت نے ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے موثر اقدامات کئے ،حکومت قومی سطح پر ڈینگی کے تدارک کیلئے ایکشن پلان بنا رہی ہے‘قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں ڈینگی پر ایمرجنسی آپریشن سیل قائم کیا‘ڈینگی کیس رسپانس کی ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 100 کی جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا‘ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس حوالے سے جو بھی مدد کر سکا کروں گا۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے لاہور میں ڈینگی پر منعقدہ انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے“متعدی اور غیر متعدی امراض کی روک تھام کیلئے حکومت پر عزم ہیں‘عوام کی آگاہی کیلئے وزارت صحت میں ایک ہیلپ لائن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے‘انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانا ہمارا مشن ہے‘پرائمری ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنا رہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ جو لوگ علاج کی سکت نہیں رکھتے ان کو ہیلتھ انشورنس پالیسی دے رہے ہیں‘

    انہوں نے کہاکہ کچھ سالوں پہلے ڈینگی نے پنجاب کو بالخصوص لاہور کو کافی نقصان پہنچایاتب ڈاکٹرز کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا علاج کیسے کرنا ہے ایسے میں ڈاکٹر فیصل مسعود نے اس پر بہت کام کیا‘اس وقت میرے گھر میں بھی دو ڈینگی کے مریض تھے ڈاکٹرز پہلے اینٹی بائیوٹیک سے اس مرض کے علاج کی کوشش کرتے رہے پھر پتہ لگا ایسے مریض کو اینٹی بائیٹکس نہیں دینے‘

    اب پھر ایک بار ڈینگی نے پنجاب میں سر اٹھایا ہے ،اس کانفرنس کا مقصد بھی ایک دوسرے سے سیکھنا تھاجتنا زیادہ آپس میں رابطہ بہتر ہوگا اتنا ہی ڈینگی کے خلاف جنگ آسان ہو گی‘میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس حوالے سے جو بھی مدد کر سکا کروں گا‘

    انہوں نے کہاکہ پچھلی دفعہ جب ڈینگی نے حملہ کیا ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے اس سے جنگ شروع کرنے میں دیری کی لیکن اب ایک جامع پالیسی مرتب کی جارہی ہے،میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور انکی ٹیم کو اس عالمی کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘ کانفرنس میں بہت سے بین الاقوامی ماہر ین نے شمولیت کی کیونکہ عالمی طور پر ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ ایسا ہیلتھ سسٹم بننا چاہیے جس سے پوری دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی شخص بیمار ہوتو اس ہیلتھ سسٹم سے فائدہ اٹھا سکے‘ ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن نے بھی خود کو دوبارہ سے آرگنائز کیا‘ڈبلیو ایچ او میں ایک سیگمبٹ ہے جو یونیورسل بیماریوں پر کام کر رہا ہے‘

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے بین الاقوامی ڈینگی کانفرنس کے دوسرے روزکے پہلے سیشن میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی، اس موقع پرصوبائی سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کیئرکیپٹن(ر) محمدعثمان یونس، سپیشل سیکرٹری اجمل بھٹی، صوبائی سیکرٹری بلوچستان مدثروحیدملک، وفاقی سیکرٹری صحت ملک اللہ بخش، ڈاکٹرمنیر، ڈی جی ہیلتھ سروسزپنجاب ڈاکٹرہارون جہانگیر، غیرملکی ڈیلیگیٹس اورعالمی ادارہ صحت کے نمائندگان اور خواتین وحضرات کی کثیرتعدادموجودتھی،

    مقررین نے ڈینگی بیماری پرقابوپانے کے حوالہ سے مختلف آراءپیش کیں اورکامیاب کانفرنس منعقدکروانے پرانتظامیہ کو مبارکباد دی ،وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے کانفرنس کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی کانفرنس ڈینگی بیماری سے بچاو اورآگاہی پھیلانے میں معاون ثابت ہوئی ہے، بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا مقصد تمام سٹیک ہولڈرزکی کاوش سے ڈینگی بیماری کے مکمل خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی بناناہے، پنجاب میں ریفرنس لیبارٹریزبنائی جائیں گی، سرکاری ہسپتالوں کواپ گریڈکیاجارہاہے،ڈینگی سرویلنس کیلئے تمام عملہ کوجدیدتقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے گی،

    ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ بین الاقوامی ڈینگی کانفرنس کے انعقادکیلئے صوبائی سیکرٹری صحت کیپٹن(ر) محمدعثمان اور ان کی ٹیم کی کاوش قابل ستائش ہے