Baaghi TV

Category: صحت

  • پاکستان نے اینٹی بائیوٹک کی متبادل دوا تیار کرلی

    پاکستان نے اینٹی بائیوٹک کی متبادل دوا تیار کرلی

    کراچی: پاکستان اورچین کے ماہرین نے مشترکہ طور پر اینٹی بائیوٹک دوا کی متبادل دوا کو تجربہ کیا جو کامیاب رہا اور نتیجے میں ہربل میڈیسن متعارف کرائی گئی۔پاکستان میں پہلی چینی ہربل میڈیسن کا کامیاب تجربہ جامعہ کراچی اور چین کے ماہرین نے مشترکہ کاوش کے نتیجے میں کیا۔

    جامعہ کراچی کے آئی سی سی بی ایس کے سربراہ پروفیسر اقبال چوہدری نے چینی ماہرین کے ہمراہ کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اینٹی بائیوٹک دوا کا متبال تلاش کرلیا’اینٹی بائیوٹک دوا کے متبادل کے طور پر چینی ہربل دوا تیار کرلی گئی جو سینے کے دائمی انفکیشن کو دور کرے گی‘۔

    پروفیسر اقبال چوہدری نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ ہربل دوا متعارف کرائی گئی ہے جسے پاکستان میں ہی تحقیقی مراحل سے گزارا گیا، تجربے کے دوران 212 دائمی انفیکشن کے مریضوں پر دوا کو آزمایا گیا جس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے۔چینی ہربل کیپسول نباتات پر مبنی ہے، جس کو اب لیبارٹری بھیجا جائے گا اور پھر یہ مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب ہوگی۔

  • خبردار!خون میں غیرمعمولی چکنائی سے جسمانی اعضا ناکارہ ہونے کا خدشہ،زیادہ استعمال سے پرہیزکریں‌

    خبردار!خون میں غیرمعمولی چکنائی سے جسمانی اعضا ناکارہ ہونے کا خدشہ،زیادہ استعمال سے پرہیزکریں‌

    جرمنی: خبردار!خون میں غیرمعمولی چکنائی سے جسمانی اعضا ناکارہ ہونے کا خدشہ،زیادہ استعمال سے پرہیزکریں‌، اطلاعات کےمطابق جرمنی میں‌ خون کے ایک نئے مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ خون میں اگرغیرمعمولی چکنائی ہو تو وقت کے ساتھ ساتھ اعضا کے ناکارہ ہونے کے خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔

    شکریہ جناب مبشرلقمان درد دل رکھنے والےانسان کی کوششیں رنگ لےآئیں

    سارلینڈ یونیورسٹی کے ماہرین کہتے ہیں‌کہ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ خون میں تیرتی ہوئی کئی طرح کی چکنائیاں سب سے پہلے اندرونی جسمانی جلن یا سوزش کی وجہ بنتی جب کہ جسمانی سوزش کئی طرح کے اندرونی بیماریوں مثلاً انفیکشن، جراثیم کے حملے یا امنیاتی نظام کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے۔ بسا اوقات یہ موٹاپے، ذیابیطس اور امراضِ قلب کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتی ہے۔

    مسلم مخالف شہریت بل:شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری،اب تک 2 افراد…

    ماہرین طب کا کہنا ہےکہ یہی وجہ ہے کہ جسم کے اندر مسلسل سوزش جاری رہے تو اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ یہی کچھ ایک نئی تحقیق میں ہوا ہے جس پر سارلینڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے تحقیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خون میں بلند چکنائی کی وجہ سے ہی اندرونی سوزش جنم لیتی ہے۔

    حکومت سازی کے لیے بورس جانسن کی ملکہ سے ملاقات

    سارلینڈ یونیورسٹی کے طبی ماہرین کہتے کہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ رکتا نہیں اور خون کا گاڑھا پن پہلے خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور آخر کار گردے سمیت دیگر اہم اعضا کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ خود وہ اہم عضو بھی ناکارہ ہوسکتا ہے۔

    جیل چلی جاؤں گی، لیکن شہریت قانون اور این آر سی نہیں منظور: ممتا بنرجی

    ماہرین نے اس پورے عمل کو دریافت کیا ہے اگلے مرحلے میں انہوں نے چوہوں کے ماڈل پر اس نظریئے کو آزمایا اور ان کے خون میں چکنائیاں اور چربیاں شامل کیں۔ اس عمل میں سائنس دانوں نے ایک پیچیدہ ریسپٹر کا مطالعہ کیا جو این ایل آر پی تھری کہلاتا ہے اور جسم میں جلن کی وجہ بنتا ہے۔

    میاں نوازشریف کی صحت سےمتعلق رپورٹ لاہورہائیکورٹ میں جمع کرادی گئی ،قصہ پرانا ہی…

    معلوم ہوا کہ خون میں ٹرائی گلیسرائڈز اور لائپڈز بڑھنے سے سوزش جنم لیتی ہے۔ اس کے بعد چوہوں کے جگر اور گردے بھی متاثر ہونا شروع ہوئے جس کا مطلب یہ ہے کہ خون میں موجود چکنائی ان اہم اعضا کو شدید نقصان پہنچاسکتی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ بعض پروٹین اور ریسپٹر کی سرگرمی کو روکتے ہوئے ہم اہم جسمانی اعضا کو بچاسکتے ہیں تاہم اس ضمن میں اب بھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

  • وٹامن اے کی کمی کی چند نشانیاں

    وٹامن اے کی کمی کی چند نشانیاں

    وٹامن اے کا شُمار اُن وٹامنز میں ہوتا ہے جو پانی میں حل نہیں ہوتے اور چکنائی کے ساتھ جسم میں جذب ہوتے ہیں اور ہمارے جسم کے فنکشنز کو فعال رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں خاص طور پر بینائی قوت مدافعت اور جلد کی صحت میں وٹامن اے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہےترقی یافتہ ممالک میں عام طور پر لوگ وٹامن اے کی کمی کا شکار نہیں ہوتے اور اس وٹامن کی کمی کا شکار ترقی پزیر ممالک بشمول پاکستان کے لوگ بڑی تعداد میں ہیں خاص طور پر حاملہ خواتین اور وہ خواتین جو بچوں کو دُودھ پلاتی ہیں چھوٹے اور بڑے بچے اس وٹامن کی شدید کمی کا شکار ہیں کُچھ دائمی بیماریاں خاص طور پر دائمی ڈائریا بھی جسم کو اس وٹامن کی کمی کا شکار بنا دیتا ہے
    وٹامن اے کی کمی کی نشانیاں درج ذیل ہیں

    وٹامن سی کی کمی کی چند اہم نشانیاں

    آنکھوں کی خُشکی:
    آنکھوں کی صحت کا خراب ہونا وٹامن اے کی کمی کی سب سے بڑی نشانی ہے اور وٹامن اے کی شدید کمی بینائی سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے اور وٹامن اے کی کمی آنکھوں کی نمی ختم کر کے آنکھوں کو خشک کر دینے کا باعث بنتی ہے خشک آنکھوں میں آنسو نہیں پیدا ہوتے اور یہ وٹامن اے کی کمی کی سب سے پہلی علامت ہے اور پاکستان میں بچے بڑی تعداد میں اس کمی کا شکار ہیں وٹامن اے کا زیادہ استعمال آنکھوں کی خُشکی کو ختم کر سکتا ہے اور اس کے لیے وٹامن اے کے سپلیمنٹس کا استعمال کرنا بہت ضروری ہے ایک تحقیق کے مُطابق چھوٹے اور بڑے بچوں کو اگر مسلسل سوا سال تک وٹامن اے کا سپلیمنٹ استعمال کروایا جائے تو اُن میں ڈرائی آئیز کی بیماری ٹھیک ہوجاتی ہے
    رات کا اندھا پن:
    وٹامن اے کی شدید کمی نائٹ بلائینڈ کر دیتی ہے یعنی رات کے وقت بینائی کو ختم یا بہت کمزور کر دیتی ہے اور یہ بیماری ترقی پذیر ممالک خاص طور پر پاکستان میں بہت سے افراد کو متاثر کر رہی ہے ایک تحقیق کے مُطابق خواتین اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتی ہیں اور وہ خواتین جن کی بینائی رات کو کم یا ختم ہوجائے کو وٹامن اے کا سپلیمنٹ دینے سے 6 ہفتے کے اندر اس بیماری پر 50 فیصد تک قابو پایا جاسکتا ہے
    خشک جلد:
    وٹامن اے ہماری جلد کو صحت مند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے یہ سکن کے ڈیڈ سیلز کو مرمت کرتا ہے اور جلد پر انفلامیشن کو روکتا ہےوٹامن اے کی کمی جلد کی بہت کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے جس میں ایگزیما کی بیماری خاص طور اسی وٹامن کی کمی سے پیدا ہوتی ہے ایگزیما میں جلد خُشک ہوجاتی ہے اور جلد پر خارش ہوتی رہتی ہے اور سُوجن ظاہر ہوجاتی ہے اور بہت سی میڈیکل تحقیقات کے مُطابق اس بیماری کو وٹامن اے سے پھرپُور کھانے اور وٹامن اے کے سپلیمنٹ استعمال کرنے سے ختم کیا جاسکتا ہےایک اور تحقیق کے مُطابق ایگزیما کے شکار افراد میں اگر وٹامن اے 10 سے 40 ملی گرام روزانہ مقدار بدل بدل کر استعمال کروایا جائے تو تین مہینے میں اس بیماری پر 50 فیصد سے زیادہ قابو پایا جاسکتا ہے ڈرائی سکن یعنی جلد کی خُشکی کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ وٹامن سی کی کمی بھی جلد کو خُشک کر دینے کا باعث بنتی ہے

    سہانجنا کے معجزاتی طبی فوائد


    بانجھ پن اور حمل کا نہ ٹھہرنا:
    مردوں اور خواتین میں عمل تولید اور بچوں کی ماں کے پیٹ کے اندر پرورش میں یہ وٹامن انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور اگر آپ کے اندر حمل نہیں ٹھہر رہا یا کسی مرد میں بانجھ پن ہے تو عین ممکن ہے کہ آپ وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں
    کمزور نشوونما:
    ایسے بچے جو وٹامن اے کی کمی شکار ہوتے ہیں اُن کی جسمانی نشوونما وقت پر نہیں ہوتی کیونکہ یہ وٹامن جسمانی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے اور پاکستان میں بچے بڑی تعداد میں نشوونما کی کمی کا شکار ہیں ایک تحقیق کے مُطابق صرف وٹامن اے کے سپلیمنٹ بچوں کی نشوونما میں کمی کو ٹھیک کرسکتے ہیں انڈونیشیا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مُطابق جن بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹ دیئے گئے اُن کے قد میں وٹامن اے استعمال نہ کرنے والے بچوں کی نسبت 0.15 انچ زیادہ اضافہ دیکھا گیا
    گلے اور سینے کا انفیکشن:
    گلے اور سینے میں بار بار انفیکشن کا ہونا وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اور پاکستان میں سکول جانے والے بچے عام طور پر ایک دو مہینے کے بعد اس انفیکشن میں مُبتلا ہو کر بیمار ہوجاتے ہیں اور اگر اُنہیں وٹامن اے سے بھرپور کھانے کھلائے جائیں تو اُن کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور وہ کم بیماری کا شکار ہوں گے

    پپیتا کھانے کے زبردست اور حیران کُن فائدے


    زخموں کا جلد نہ بھرنا:
    چوٹ سے لگنے والے زخم یا آپریشن کے بعد زخم کا دیر سے بھرنا وٹامن اے کی کمی کی وجہ سے ہوسکتا ہے کیونکہ وٹامن اے جلد کے اندر استعمال ہونے والی ایک اہم پروٹین کلوجن کو پیدا کرتا ہے جو جلد کو صحت مند رکھتی ہے اور اگرزخم لگنے کے بعد وٹامن اے کا استعمال زیادہ کیا جائے تو یہ زخم کو جلد بھر دینے میں انتہائی ا ہم کردار ادا کرتا ہے
    چہرے پر کیل مہاسے اور ایڑھیوں کا پھٹنا:
    وٹامن اے جلد کو تروتازہ اور چمکدار بناتا ہے اور کیل مہاسوں کا پیدا ہونا اور خاص طور پر سردیوں میں ایڑھیوں کا پھٹنا اس وٹامن کی کمی کا باعث ہو سکتا ہے اور میڈیکل سائنس کی بہت سی تحقیقات کے نتائج کے مطابق وٹامن اے کا زیادہ استعمال کیل مہاسوں کو جلد پر پیدا نہیں ہونے دیتا کیل مہاسوں کی صورت میں وٹامن اے سے بھر پور لوشنز کا استعمال بھی انتہائی مفیدثابت ہوتا ہے

    بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے


    جسم کی قوت مدافعت
    ہمارے جسم کا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت جسم کو جراثیموں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت دیتا ہے اوران جراثیموں کا خُودبخود خاتمہ کر دیتا ہے لیکن اگر قوت مدافعت کمزور ہو تو یہ جراثیم ہمیں بہت جلد بیمار کر دیتے ہیں اور ہماری صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں وٹامن اے ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہذا وٹامن اے سے بھرپُور کھانے ہمیں ایسے جراثیموں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں
    وٹامن اے سے بھر پُور کھانے
    وٹامن اے کی 2 اقسام ہیں پرفارمڈ وٹامن اے اور پرو وٹامن اے اور یہ دونوں اقسام بہت کھانوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں پرفارمڈ وٹامن اے مچھلی گوشت انڈوں اور دودھ سے بنی مصنوعات سے حاصل کیا جاسکتا ہے اور پرو وٹامن اے سُرخ سبز اور پیلی سبزیوں اور فروٹس میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے

  • لوئر دیر: ڈائیلاسزیونٹ بند،300سے زائد مریضوں‌ کی جان کوخطرہ

    لوئر دیر: ڈائیلاسزیونٹ بند،300سے زائد مریضوں‌ کی جان کوخطرہ

    پشاور:لوئردیرمیں ڈائیلاسزیونٹ بند،300سے زائد مریضوں‌ کی جان کوخطرہ،اطلاعات کے مطابق تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے کے سبب ٹی ایچ کیو ہسپتال چکدرہ کا ڈائیلاسز یونٹ بند ہورہا ہے یونٹ بند ہونے سے امراض گردہ میں مبتلا تین سو زائد مریض ڈائیلاسز کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق چکدرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انجمن تاجراں کے صدر خواجہ فیض الغفور اور سابق ضلعی کونسلر واصل خان نے اسے خیبر پختونخوا حکومت ،محکمہ صحت اور مقامی منتخب ممبران اسمبلی کی نااہلی قراردی اور تشویش ظاہر کی کہ ایم ایس اور ڈی ایچ او کی اجازت کے بغیر ڈی جی ہیلتھ نے ڈائیلاسز یونٹ میں تعینات دوخواتین اور ایک مرد پر مشتمل عملہ کو یہاں سے جانے کی این او سی جاری کردی جو کہ یہاں کے غریب عوام کیساتھ سراسر زیادتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ٹی ایچ کیو چکدرہ میں چھ عدد جدید ڈائیلاسز مشینیں موجود ہیں مگر ڈاکٹر اور ٹیکنیشنز نہ ہونے کے سبب تین سو سے زائد مریض ڈائیلاسز کی سہولت سے محروم بے یارومددگار پڑے ہیں جبکہ عملہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک ماہ کے دوران امراض گردہ میں مبتلا 20 سے زائد مریض دم توڑ چکےہیں۔

    انہوں نے حکومت اور محکمہ صحت کو تین دنوںطکی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر اس دوران ڈائیلاسز یونٹ میں عملہ کی تعیناتی نییں کی گئی تو وہ گردوں کے امراض میں مبتلا تین سو سے زائد مریضوں کے ہمراہ چکدرہ میں میں مین پشاور/ دیر شایراہ بند کرکے احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے

  • دنیابھرمیں ایک کروڑافراد خسرےکاشکارہیں، پاکستان بھی متاثر،عالمی ادارے کی رپورٹ

    نیویارک :اقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق دنیابھرمیں ایک کروڑافرادخسرےکاشکار ہیں،اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خسرے کی بیماری سر اٹھارہی ہے ۔ جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔عالمی ادارہ صحت کےڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم نےکاکہناہےکہ دنیا میں 1 کروڑ افراد خسرے کا شکار ہیں جس میں سے تقریبا 14 لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

    نیوزی لینڈمیں آتش فشاں پھٹنےسے 5سیاح ہلاک، درجنوں زخمی اوردرجنوں ہی لاپتہ

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ سال 2018 میں خسرہ سے ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد کو خسرہ سے بچاو کے مطلوبہ ٹیکے نہیں مل سکے۔ ڈاکٹر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے جن کی عمریں 5 سال سے کم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ خسرہ سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا ہے، اس طرح کے مرض سے کسی بھی بچے کاہلاک ہونا درحقیقت بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اجتماعی ناکامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نومبر تک کے ابتدائی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ خسرہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔

    سٹیزن شپ بل،مسلمان اورمشاعرہ…از..عزیراحمد

    بین الاقوامی ادارہ برائے صحت کے مطابق خسرے کے پاکستان میں تقریباً10540 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 6494مریضوں میں میں بیماری کی تصدیق ہوئی۔ اس فہرست کے مطابق دوسرا نمبر افغانستان کا ہے جہاں 1511مریضوں میں خسرہ کی وباء کی شناخت ہوئی۔ جب کہ شام میں 513مریضوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

    اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2017میں ان 22ممالک سے 6494خسرے کے کیسز سامنے آئے جن میں سے 65پاکستان کے تھے۔ اقوام متحدہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 2016ء سے پاکستان میں خسرہ کی رپورٹ شدہ کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ رواں برس اب تک 98ہزار زائد خسرے کے کیسز سامنے آچکے۔ پنجاب 11ہزار 339بچے ٗ سندھ 7ہزار 483ٗ خبیر پختونخواہ 9ہزار 975اور بلوچستان میں 1ہزار 567بچے خسرے کی بیماری کا شکار ہوئے۔

    پنجاب حکومت نے زلزلہ برپا کردیا،تاریخ کے بڑے تبادلے،86 اعلیٰ‌ افسران تتربتر

    جن میں سے جنوری سے اگست تک 216بچے خسرہ کی وباء سے جان کی بازی ہار گئے۔ کے پی کے میں رواں سال 23بچے خسرہ کی بیماری سے موت کی وادی میں چلے گئے۔ جب کہ 10ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں 25افراد کی موت بوجہ خسرہ ہوئی۔ اس سے عیاں ہوتا ہے کہ وطنِ عزیز میں خسرے کی وباء میں 100فیصد اضافہ ہو چکا۔

  • پاکستانی خواتین میں خون کی کمی کس حد تک؟رپورٹ نے پریشان کردیا

    پاکستانی خواتین میں خون کی کمی کس حد تک؟رپورٹ نے پریشان کردیا

    اسلام آباد :پاکستانی خواتین میں خون کی کمی کس حد تک؟رپورٹ نے پریشان کردیا ،اطلاعات کے مطابق غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں کو خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے غذائی قلت کےحوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ورکشاپ کا مقصد عوام میں غذائی قلت کی آگاہی اور غذائی قلت کی سنگینی پر روشنی ڈالنی تھی غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد خواتین میں خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ37 فیصد عوام کو متواتر خوراک میسر نہیں۔

    ماہرین طب کہتے ہیں‌ کہ 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں کو خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے، 63 فیصد عوام میں وٹامن ڈی اور 52 فیصد میں غذائی قلت موجود ہے، غذائی قلت عام طور پر نظر نہیں آتی، غذائی قلت اور بیماریاں ہماری معاشی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے،غذائی قلت پر اقدامات کے باوجود صورتحال میں فرق نہیں پڑا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے، حکومت، عوام اور اداروں کا مل کر اس مسلے پر کام کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا غذائی قلت کی سنگین مسلے کو ترجیحاتی بنیادوں پر اجاگر کرے۔،واضح رہے کہجسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کو کہا جاتا ہے جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔

    اس مرض میں خون کے صحت مند سرخ خلیات میں ہیمو گلوبن کی کمی ہوجاتی ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتے ہیں، ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے۔یعنی جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہے۔

    اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بہت ضروری ہے جو کہ ہیموگلوبن کی پیداوار کے ساتھ خون کے سرخ خلیات کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا جز ہے۔یہاں ایسی ہی غذاﺅں کا ذکر ہے جو آپ کو اس مسئلے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یا ہیموگلوبن کی کمی کو ان سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

  • سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کب ہوں گی؟ یاسمین راشد نے بتا دیا

    سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کب ہوں گی؟ یاسمین راشد نے بتا دیا

    سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کب ہوں گی؟ یاسمین راشد نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے پچاس سے زائد سب سپیشلٹیزکے سروس رولزبنانے کاحکم دے دیا۔ صوبائی وزیرصحت نے یہ حکم محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیا۔

    اس موقع پرصوبائی سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن بیرسٹرنبیل احمداعوان، سپیشل سیکرٹری سلوت سعید، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرآصف طفیل، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرسلمان شاہد، وائس چانسلرکنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل، وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان، پرنسپل سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمود ایازودیگر افسران نے شرکت کی۔

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینئررجسٹرارز، اسسٹنٹ پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرز کی ترقیوں، سروس رولزکیلئے تجاویزاورخالی اسامیوں پربھرتیوں کاجائزہ لیا۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، گنگارام ہسپتال، علامہ اقبال میڈیکل کالج، جناح ہسپتال، جناح برن سنٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ، ڈی مونٹمورونسی کالج آف ڈینٹسٹری، کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی، میوہسپتال، سمز، سروسز ہسپتال ودیگرٹیچنگ ہسپتالوں میں خالی اسامیوں پربھرتیاں مکمل کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ترقی کیلئے سروس رولزکمیٹی کو فوراً تجاویز بھیجی جائیں۔ اگلے اجلاس میں تمام معاملات کی پیش رفت کاجائزہ لیاجائے گا۔ صوبائی سیکرٹری صحت بیرسٹرنبیل احمداعوان تمام اسامیوں پربھرتی کی نگرانی کریں گے

  • مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کواپ گریڈ کیا جائے،عثمان بزدار

    مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کواپ گریڈ کیا جائے،عثمان بزدار

    لاہور:مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کواپ گریڈ کیا جائے،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کی طرف سے حکم دیا گیا ہےکہ لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ ریڈیالوجی کی اپ گریڈیشن کی جائے ، رواں مالی سال میں 15 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ٹی سکین مشین کی خریداری کی منظوری دے دی۔

    مراد علی شاہ مراد بن گئے ،کاروباری طبقے کے لیے بہت بڑا اعلان کردیا

    ذرائع کے مطابق جنرل ہسپتال کے شعبہ ریڈیالوجی کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 20-2019 میں سی ٹی سکین کی تنصیب کا کام مکمل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ وزیر صحت سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی اور پہلے سے موجود سیٹ اپ کی بہتری کیلئے ذاتی دلچسپی لے رہی ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کہتے ہیں لاہور جنرل ہسپتال میں موجود طبی سہولیات کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے سنگل سلائس سی ٹی سکین مشین نصب تھی جبکہ 128 سلائسز سی ٹی سکین کی تنصیب سے مریضوں کیلئے تشخیص کا عمل بہتر ہوگا۔ پروفیسر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ ایل جی ایچ کے شعبہ بیرونی مریضاں اور ایمرجنسی میں روزانہ 8 ہزار کے لگ بھگ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت صحت کے شعبے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

    برطانیہ میں‌ "4 رکنی شام کانفرنس” سربراہوں کا مسئلہ شام حل کرنے پر زور

  • بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ،امریکی سائنسدانوں نے خبردارکردیا

    بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ،امریکی سائنسدانوں نے خبردارکردیا

    نیویارک: بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ،امریکی سائنسدانوں نے خبردارکردیا ،اطلاعات کےمطابق امریکی تحقیقاتی ماہرین نے خواتین کو خبردار کیا ہے کہ بال رنگنے کی عادت انہیں چھاتی کے سرطان کے مرض میں مبتلا کرسکتی ہے۔

    وزیراعلیٰ کا اعلان،فری استعمال کریں وائی فائی ،کب سے یہ بھی بتادیا

    واشنگٹن سے ذرائع کےمطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے زیر اہتمام مطالعاتی تحقیق کا انعقاد کیا گیا، جس میں 46 ہزار 709 خواتین کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا، جس کی روشنی میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ بال ڈائی یا انہیں سیدھا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی کریم خواتین کے لیے خطرناک ہے۔

    فوجی نے 5ساتھیوں کوہلاک کرکےخودکشی کیوں کی ؟حیران کن وجہ سامنے آگئی

    نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین باقاعدگی کے ساتھ بالوں پر کلر کرنے یا انہیں سیدھا کرنے کے لیے کوئی بھی کریم استعمال کرتی ہیں، اُن کے ہارمونز کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں چھاتی کے کینسر کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔

    میری خواہش ہے کہ میری بیٹی ڈاکٹربن کراپنے گاوں کی خدمت کرے ،خان صاحب

    نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے تحقیقاتی ماہرین کے مطابق جن خواتین کا ڈیٹا جمع کیا گیا اُن میں سے 9 فیصد ایسی تھیں جو سال میں ایک بار بال رنگتی ہیں، ایسی تمام خواتین میں چھاتی کے سرطان کی 30 فیصد علامات پائی گئیں، اس کے برعکس جو بالوں کے لیے کوئی کیمیکل استعمال نہیں کرتیں وہ موذی مرض سے بالکل محفوظ تھیں۔

    رینجرز کی کارروائی، 20 ایسے ملزمان گرفتارجوتھےبرق رفتار

    نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی مطالعاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر الیکزینڈر کا کہنا تھا کہ ’تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ طویل عرصے تک بالوں کے لیے کیمیکل استعمال کرنا بہت زیادہ خطرناک ہے، بریسٹ کینسر بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے جس سے ہمیں خواتین کو روکنا ہوگا

  • دکھی انسانوں کامداوا،پنجاب کے سب بڑے عوامی منصوبے کااعلان

    دکھی انسانوں کامداوا،پنجاب کے سب بڑے عوامی منصوبے کااعلان

    لاہور:دکھی انسانوں کامداوا،پنجاب کے سب بڑے عوامی فلاحی منصوبے کااعلان ،اب بننے جارہاہے دکھی انسانیت کے علاج کیلئے بڑا ہسپتال،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور میں خون کی بیماریوں کے علاج کیلئے بڑاہسپتال بنانے کا اعلان کردیا ، انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز لاہورمیں بنے گا۔

    ذرائع کے مطابق لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈزیزیز پانچ سو بیڈ کے ہسپتال میں تمام جدید سہولتیں میسر ہوں گی، اس ہسپتال کے قیام پر 5 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے فیصلہ ڈاکٹر طاہرشمسی سے ملاقات کے بعد کیا، کراچی کے ممتاز ڈاکٹر طاہر شمسی نے وزیراعلیٰ کی توجہ خون کی بیماریوں کی طرف مبذول کروائی تھی۔

    ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈاکٹر طاہر شمسی کو یقین دہانی کروائی کہ جلد ہسپتال کے حوالے سے عملی اقدامات ہوں گے اور پنجاب ہی نہیں تمام صوبوں سے خون کی بیماریوں کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولت دیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب نے اس ضمن میں سفارشات اورایکشن پلان مانگ لیا ہے۔