Baaghi TV

Category: صحت

  • پاکستانی خواتین میں خون کی کمی کس حد تک؟رپورٹ نے پریشان کردیا

    پاکستانی خواتین میں خون کی کمی کس حد تک؟رپورٹ نے پریشان کردیا

    اسلام آباد :پاکستانی خواتین میں خون کی کمی کس حد تک؟رپورٹ نے پریشان کردیا ،اطلاعات کے مطابق غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں کو خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب سے غذائی قلت کےحوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ورکشاپ کا مقصد عوام میں غذائی قلت کی آگاہی اور غذائی قلت کی سنگینی پر روشنی ڈالنی تھی غذائی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد خواتین میں خون کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ37 فیصد عوام کو متواتر خوراک میسر نہیں۔

    ماہرین طب کہتے ہیں‌ کہ 5 سال سے کم عمر کے 40 فیصد بچوں کو خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا ہے، 63 فیصد عوام میں وٹامن ڈی اور 52 فیصد میں غذائی قلت موجود ہے، غذائی قلت عام طور پر نظر نہیں آتی، غذائی قلت اور بیماریاں ہماری معاشی صورتحال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے،غذائی قلت پر اقدامات کے باوجود صورتحال میں فرق نہیں پڑا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے، حکومت، عوام اور اداروں کا مل کر اس مسلے پر کام کرنے کی ضرورت ہے، میڈیا غذائی قلت کی سنگین مسلے کو ترجیحاتی بنیادوں پر اجاگر کرے۔،واضح رہے کہجسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کو کہا جاتا ہے جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔

    اس مرض میں خون کے صحت مند سرخ خلیات میں ہیمو گلوبن کی کمی ہوجاتی ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتے ہیں، ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے۔یعنی جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ اینمیا کا شکار بنا سکتی ہے۔

    اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاﺅں کا استعمال بہت ضروری ہے جو کہ ہیموگلوبن کی پیداوار کے ساتھ خون کے سرخ خلیات کے لیے اہم کردار ادا کرنے والا جز ہے۔یہاں ایسی ہی غذاﺅں کا ذکر ہے جو آپ کو اس مسئلے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یا ہیموگلوبن کی کمی کو ان سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

  • سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کب ہوں گی؟ یاسمین راشد نے بتا دیا

    سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کب ہوں گی؟ یاسمین راشد نے بتا دیا

    سرکاری ہسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کب ہوں گی؟ یاسمین راشد نے بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد نے پچاس سے زائد سب سپیشلٹیزکے سروس رولزبنانے کاحکم دے دیا۔ صوبائی وزیرصحت نے یہ حکم محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیا۔

    اس موقع پرصوبائی سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن بیرسٹرنبیل احمداعوان، سپیشل سیکرٹری سلوت سعید، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرآصف طفیل، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرسلمان شاہد، وائس چانسلرکنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل، وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان، پرنسپل سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمود ایازودیگر افسران نے شرکت کی۔

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے پنجاب کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینئررجسٹرارز، اسسٹنٹ پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرز کی ترقیوں، سروس رولزکیلئے تجاویزاورخالی اسامیوں پربھرتیوں کاجائزہ لیا۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، گنگارام ہسپتال، علامہ اقبال میڈیکل کالج، جناح ہسپتال، جناح برن سنٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ، ڈی مونٹمورونسی کالج آف ڈینٹسٹری، کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی، میوہسپتال، سمز، سروسز ہسپتال ودیگرٹیچنگ ہسپتالوں میں خالی اسامیوں پربھرتیاں مکمل کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ترقی کیلئے سروس رولزکمیٹی کو فوراً تجاویز بھیجی جائیں۔ اگلے اجلاس میں تمام معاملات کی پیش رفت کاجائزہ لیاجائے گا۔ صوبائی سیکرٹری صحت بیرسٹرنبیل احمداعوان تمام اسامیوں پربھرتی کی نگرانی کریں گے

  • مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کواپ گریڈ کیا جائے،عثمان بزدار

    مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کواپ گریڈ کیا جائے،عثمان بزدار

    لاہور:مریضوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کواپ گریڈ کیا جائے،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کی طرف سے حکم دیا گیا ہےکہ لاہور جنرل ہسپتال کے شعبہ ریڈیالوجی کی اپ گریڈیشن کی جائے ، رواں مالی سال میں 15 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ٹی سکین مشین کی خریداری کی منظوری دے دی۔

    مراد علی شاہ مراد بن گئے ،کاروباری طبقے کے لیے بہت بڑا اعلان کردیا

    ذرائع کے مطابق جنرل ہسپتال کے شعبہ ریڈیالوجی کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 20-2019 میں سی ٹی سکین کی تنصیب کا کام مکمل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ وزیر صحت سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی اور پہلے سے موجود سیٹ اپ کی بہتری کیلئے ذاتی دلچسپی لے رہی ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کہتے ہیں لاہور جنرل ہسپتال میں موجود طبی سہولیات کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    تحریک انصاف کا کرپشن کے بعد مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن –از… فردوس جمال

    انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے سنگل سلائس سی ٹی سکین مشین نصب تھی جبکہ 128 سلائسز سی ٹی سکین کی تنصیب سے مریضوں کیلئے تشخیص کا عمل بہتر ہوگا۔ پروفیسر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ ایل جی ایچ کے شعبہ بیرونی مریضاں اور ایمرجنسی میں روزانہ 8 ہزار کے لگ بھگ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت صحت کے شعبے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

    برطانیہ میں‌ "4 رکنی شام کانفرنس” سربراہوں کا مسئلہ شام حل کرنے پر زور

  • بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ،امریکی سائنسدانوں نے خبردارکردیا

    بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ،امریکی سائنسدانوں نے خبردارکردیا

    نیویارک: بال بن گئے وبال جان ، بال رنگنے سے چھاتی کے سرطان کا خطرہ،امریکی سائنسدانوں نے خبردارکردیا ،اطلاعات کےمطابق امریکی تحقیقاتی ماہرین نے خواتین کو خبردار کیا ہے کہ بال رنگنے کی عادت انہیں چھاتی کے سرطان کے مرض میں مبتلا کرسکتی ہے۔

    وزیراعلیٰ کا اعلان،فری استعمال کریں وائی فائی ،کب سے یہ بھی بتادیا

    واشنگٹن سے ذرائع کےمطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے زیر اہتمام مطالعاتی تحقیق کا انعقاد کیا گیا، جس میں 46 ہزار 709 خواتین کا ڈیٹا اکھٹا کیا گیا، جس کی روشنی میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ بال ڈائی یا انہیں سیدھا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی کریم خواتین کے لیے خطرناک ہے۔

    فوجی نے 5ساتھیوں کوہلاک کرکےخودکشی کیوں کی ؟حیران کن وجہ سامنے آگئی

    نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو خواتین باقاعدگی کے ساتھ بالوں پر کلر کرنے یا انہیں سیدھا کرنے کے لیے کوئی بھی کریم استعمال کرتی ہیں، اُن کے ہارمونز کمزور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں چھاتی کے کینسر کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔

    میری خواہش ہے کہ میری بیٹی ڈاکٹربن کراپنے گاوں کی خدمت کرے ،خان صاحب

    نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے تحقیقاتی ماہرین کے مطابق جن خواتین کا ڈیٹا جمع کیا گیا اُن میں سے 9 فیصد ایسی تھیں جو سال میں ایک بار بال رنگتی ہیں، ایسی تمام خواتین میں چھاتی کے سرطان کی 30 فیصد علامات پائی گئیں، اس کے برعکس جو بالوں کے لیے کوئی کیمیکل استعمال نہیں کرتیں وہ موذی مرض سے بالکل محفوظ تھیں۔

    رینجرز کی کارروائی، 20 ایسے ملزمان گرفتارجوتھےبرق رفتار

    نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی مطالعاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر الیکزینڈر کا کہنا تھا کہ ’تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ طویل عرصے تک بالوں کے لیے کیمیکل استعمال کرنا بہت زیادہ خطرناک ہے، بریسٹ کینسر بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے جس سے ہمیں خواتین کو روکنا ہوگا

  • دکھی انسانوں کامداوا،پنجاب کے سب بڑے عوامی منصوبے کااعلان

    دکھی انسانوں کامداوا،پنجاب کے سب بڑے عوامی منصوبے کااعلان

    لاہور:دکھی انسانوں کامداوا،پنجاب کے سب بڑے عوامی فلاحی منصوبے کااعلان ،اب بننے جارہاہے دکھی انسانیت کے علاج کیلئے بڑا ہسپتال،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور میں خون کی بیماریوں کے علاج کیلئے بڑاہسپتال بنانے کا اعلان کردیا ، انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز لاہورمیں بنے گا۔

    ذرائع کے مطابق لاہور میں انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈزیزیز پانچ سو بیڈ کے ہسپتال میں تمام جدید سہولتیں میسر ہوں گی، اس ہسپتال کے قیام پر 5 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے فیصلہ ڈاکٹر طاہرشمسی سے ملاقات کے بعد کیا، کراچی کے ممتاز ڈاکٹر طاہر شمسی نے وزیراعلیٰ کی توجہ خون کی بیماریوں کی طرف مبذول کروائی تھی۔

    ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈاکٹر طاہر شمسی کو یقین دہانی کروائی کہ جلد ہسپتال کے حوالے سے عملی اقدامات ہوں گے اور پنجاب ہی نہیں تمام صوبوں سے خون کی بیماریوں کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولت دیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب نے اس ضمن میں سفارشات اورایکشن پلان مانگ لیا ہے۔

  • پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    اسلام آباد:پاکستان میں ایڈز کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی نے خطرے کی گھنٹی بجادی،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزاکاکہناہے کہ ایچ آئی وی ایڈزایشیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پاکستان میں پھیل رہا ہے جہاں اس مرض کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ انجیکشنز اور سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیر محفوظ انتقال خون ہے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزاکاکہناہے کہ پاکستان میں انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد میں ایچ آئی وی کی شرح 48 فیصد ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی حوصلہ شکنی کریں۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ حکومت پاکستان اور وزارت صحت ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے تدارک کو بڑی اہمیت دیتی ہے لیکن اس مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عوام کو خود بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔جب تک لوگ خود کوشش نہیں کریں گے محض حکومتی اقدامات سے اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔

    اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ خون سے پھیلنے والی بیماریاں جن میں ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی شامل ہیں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں اور اگر ان کا تدارک نہ کیا گیا تو آنے والے چند سالوں میں یہ پاکستان میں بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

  • فیصل آباد مختلف حادثات میں زخمی ہونے والے افراد سول ہسپتال منتقل

    فیصل آباد (محمد اویس) مختلف حادثات میں دو بچوں سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے، تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل، تفصیلات کے مطابق سرسید ٹائون کے رہائشی یوسف کا 5 سالہ بیٹا ابراہیم گھر کی سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہو گیا جسے طبی امداد کیلئے سول ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹرز اس کے علاج و معالجہ میں مصروف ہیں۔علاوہ ازیں 6 سالہ گلناز دختر خالد روضہ پارک، 60سالہ محمد اسلم ولد بہادر 215 ر۔ب، 32 سالہ سمیرا زوجہ ارشد غازی آباد حادثات میں زخمی ہو ئے جنہیں سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  • صحت مند معاشرے کے قیام میں بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی ٹیکوکاکورس ناگزیر ہے۔ ڈی سی محمد علی

    فیصل آباد(محمد اویس)ڈپٹی کمشنر محمد علی نے کہا ہے کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے سلسلے میں بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے حفاظتی ٹیکوں کو کورس ناگزیر ہے۔اس سلسلے میں حکومتی سطح پر موثراقدامات کئے جارہے ہیں تاہم والدین کو بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کے لئے ویکسینیشن لازمی کرانے کا پیغام عام کیا جائے تاکہ قوم کے مستقبل کی صحت کا تحفظ یقینی ہوسکے۔انہوں نے یہ بات ایک اجلاس کے دوران ضلع میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات پر عملدرآمد کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(فنانس)عاصمہ اعجاز چیمہ،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد آصف شہزاد،ضلعی کوآرڈینیٹر برائے انسداد وبائی امراض ڈاکٹر بلال احمد کے علاوہ محکمہ صحت سمیت دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ والدین میں ان کے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے آگاہی پروگرامز کا دائرہ وسیع کیا جائے تاکہ والدین میں 15ماہ تک کے بچے کی 10مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسینیشن کرانے کا احساس برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کرانا ایک قومی فرض ہے۔اس ضمن میں معاشرے تک یہ ذمہ داری ادا کرنے کا پیغام اجاگر کریں تاکہ سو فیصد بچوں کی ویکسینیشن ہوسکے۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ صحت کے افسران سے کہا کہ وہ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کے مقررہ ٹارگٹس کو شیڈول کے تحت مکمل کریں اور کارکردگی رپورٹ سے انہیں بھی آگاہ رکھا جائے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بتایا کہ پیدائش سے پندرہ ماہ تک بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوا کر تپ دق،پولیو،خناق،نمونیا،کالی کھانسی،کالا یرقان،گردن توڑ بخار،اسہال،تشنج اور خسرہ جیسی مہلک بیماریوں سے بچایا جاسکتا ہے اور ہر یونین کونسل میں مرکز صحت سے یہ سہولت مفت دستیاب ہے۔انہوں نے بتایا کہ ای پی آئی پروگرام کے تحت سالانہ 2لاکھ 70ہزاربچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا ہدف جبکہ ماہانہ 22ہزار500کا ٹارگٹ مقرر ہے جس کے حصول کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

  • معدے کے مسائل سے نجات  کیسے پائیں؟

    معدے کے مسائل سے نجات کیسے پائیں؟

    معدے کے مسائل سے نجات کیسے پائیں؟
    بیشتر افراد کو زندگی میں کسی وقت پیٹ پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب پیٹ بھرا ہوا اور سخت محسوس ہوتا ہے اور غذائی نالی میں گیس کا اجتماع اس کا باعث بنتا ہے پیٹ پھولنے پر معمول سے زیادہ بڑا نظر آنے لگتا ہے اور تکلیف کا احساس بھی ہو سکتا ہے جسم میں سیال مادے کا اجتماع بھی اس کا باعث ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے جیسے نظام ہاضمہ کے مسائل یعنی قبض کھانےسے الرجی یا مخصوص اجزاء کو جسم کا ہضم کرنے سے انکار پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتا ہے بہت زیادہ سافٹ ڈرنکس نمک یا چینی کا استعمال جبکہ غذا میں فائبر کا نہ ہونا بھی اس کی وجہ ہے مگر طرز زندگی کی چند عام چیزوں سے پیٹ پھولنے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ فوری ریلیف بھی ممکن ہے

    عید کے موقع پر بدہضمی سے بچنے کے آسان طریقے


    چہل قدمی:
    جسمانی سرگرمی سے آنتوں کی۔سرگرمیاں معمول پر آتی ہیں جس سے اضافی گیس اور فضلے کی۔اخراج میں مدد ملتی ہے آنتوں کے افعال معمول پر لانا قبض کے شکار افراد کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کچھ دیر کی چہل قدمی پیٹ پھولنے اور گیس کے دباو سے تیزی سے ریلیف میں مدد دے سکتی ہے
    پیٹ کی مالش:
    پیٹ کی مالش بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اس مقصد کے لیے دائیں کولہے کی۔ہڈی پر ہاتھ رکھیں اور پھر سرکولر موشن میں ہلکے دباو کے ساتھ دائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں اس کے بعد پیٹ کے اوپری حصے پر بائیں جانب کی پسلیوں تک مالش کریں پھر آہستگی سے بائیں کولہے کی ہڈی تک لے جائیں اگر مالش کرنے پر تکلیف ہو تو بہتر ہے کہ اسے نہ کریں
    یوگا:
    یوگا کے مخصوص پوز شکم کے مسلز کو غذائی نالی میں موجود اضافی گیس کے اخراج میں مدد دے سکتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے کا مسئلہ بھی کم۔ہو جاتا ہے اس حوالے سے کسی ماہر سے مشورہ کیا جا سکتا ہے

    قدرت کے عجوبے اور دلچسپ حقائق


    گرم پانی سے نہانا:
    گرم۔پانی سے نہانے پر پیٹ کو گرمائش ملتی ہے جس سے اس پر دباو کم ہوتا ہے اور غذائی نالی۔زیادہ موثر طریقے سے کام کر سکتی ہے جس سے پیٹ پھولنے میں کمی لانا ممکن ہو جاتا ہے
    پانی کا۔زیادہ استعمال:
    سوڈا کاربونیٹڈ مشروبات میں گیس ہوتی ہے جو پیٹ میں اکٹھی ہو جاتی ہے ان کو بنانے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال ہوتا ہے جو پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے چینی یا مصنوعی مٹھاس والی غذا بھی گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے تو ان مشروبات کی جگہ پانی کو دے دینا تمام مسائل سے بچا لیتا ہے جبکہ قبض سے نجات بھی ممکن ہو جاتی ہے

    کڑی پتے کے طبی فوائد


    فائبر کا استعمال۔بڑھائیں:
    زیادہ فائبر کا استعمال قبض اور پیٹ پھولنے کی روک تھام کرتا ہے مردوں کو روزانہ ٣٨ گرام جبکہ خواتین کو ٢۵ گرام فائبر جزو بدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر یہ بھی ذہن میں رہے کہ بہت زیادہ فائبر کھانا یا بہت کم۔وقت میں۔زیادہ کھانا شروع کر دینا زیادہ گیس اور پیٹ پھولنے کا۔باعث بن سکتا ہے تو فائبر کی مقدار میں بتدریج اضافہ چند ہفتوں میں کرنا چاہیے تاکہ جسم اس سے مطابقت حاصل کر سکے
    زیادہ نمک سے پرہیز:
    زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں جسم میں پانی۔اکٹھا ہونے لگتا ہے جس سے پیٹ پھولنے کا احساس ہوتا ہے مگر یہ مسئلہ ہاتھوں اور پیروں میں بھی سامنے آ سکتا ہے
    چیونگم چبانے سے پرہیز:
    چیونگم چبانے کے دوران ہوا بھی پیٹ میں چلی جاتی ہے جو ممکنہ طور پر پیٹ پھولنے اور گیس کا باعث بن سکتی ہے اگر پیٹ پھولنے کے مسئلے کا اکثر سامنا ہوتا ہے تو چیونگم سے گریز ہی۔بہتر ہے
    پروبائیو ٹکس:
    پروبائیو۔ٹکس آنتوں میں موجود اچھے اور مفید بیکٹیریا پر مشتمل۔ہوتے ہیں پروبائیو ٹک سپلیمنٹ آنتوں کے بیکٹیریا کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن سکتے ہیں

    گلاب کے پھول کے حیران کن جادووئی فوائد


    کھانے میں منا سب وقفہ:
    بیشتر افراد کو زیادہ کھانے پر پیٹ پھولنے کا سامنا ہوتا ہے تو اس سے بچنا بھی آسان ہے اور وہ یہ کہ کھانے کے اوقات میں مناسب وقفہ رکھیں اور کم مقدار میں کھائیں تاکہ نظام ہاضمہ متحرک رکھنے میں مدد مل سکے کھانے کو بہت تیزی سے نگلنا غذائی نالی میں ہوا کو بھرتا ہے اسٹرا سے مشروب پینا لوگوں کو زیادہ ہوا نگلنے پر مجبور کرتا ہے جو گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بن جاتا ہے پیٹ پھولنے کے شکار افراد کواسٹرا سے گریز کرنا چاہیے اور کھانا آرام سے کھانا عادت بنا لیا چاہیے
    جسمانی طور پر متحرک ہونا:
    ورزش جسم کو گیس اور قبض سے بچانے میں مدد دیتی ہے کیونکہ اس سے آنتوں کے افعال ٹھیک ہونے کا امکان بڑھتا ہے ورزش سے جسم میں پسینے کے ذریعے اضافی سوڈیم کا اخراج ہوتا ہے جو سیال کے اجتماع کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ورزش کرنے سے پہلے اور بعد میں پانی پینا نت بھولیں کیونکہ جسم میں پانی کی کمی قبض کو بدتر بنا سکتی ہے
    گیس خارج کرنے والے کیپسول:
    بازار سے ایسے کیپسول آسانی سے مل جاتے ہیں جو آپ ڈاکٹر کے مشورے سےخرید کر لاسکتے ہیں جو غذائی نالی میں موجود اضافی ہوا کے اخراج کو یقینی بناتے ہیں
    پودینے کے تیل کے کیپسول:
    پودینے کے تیل کے کیپسول بھی بدہضمی اور گیس کے حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور پیٹ پھولنے کے مسائل سے ریلیف حاصل کر سکتے ہیں پودینہ آنتوں کے مسلز کو سکون پہنچا کر گیس اور فضلے کو گزرنے میں مدد دیتا ہے تاہم سینے میں جلن کا مسئلہ رہتا ہو تو پھر پودینے کے استعمال سے گریز کریں-

    ڈاکٹر سے کب رجوع کریں:
    پیٹ پھولنا اورشکم میں سوجن کئی بار کسی مرض کی علامت بھی ہو سکتا ہے اگرچہ ایسا امکان بہت کم۔ہوتا ہے جیسے جگر کے امراض آنتوں کے ورم کے امراض ہارٹ فیلئیر گردوں کے مسائل اور کچھ اقسام کے کینسر سے بھی یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے اگر پیٹ پھولنے کا مسئلہ کئی دن کئی ہفتے تک برقرار رہے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ۔درست تشخیص ہو سکے-

  • ضلعی انتظامیہ ڈینگی کو چِت کرنے میں پُر عزم

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی ) ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کے کمیٹی روم میں گزشتہ روز انسداد ڈینگی کے سلسلہ میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سید طارق محمود بخاری نے کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا شکیل اسلم نے بریفنگ دیتےہوۓبتایا کہ ضلع شیخوپورہ میں انسداد ڈینگی کے سلسلے میں کئے گئے اقدامات تسلی بخش ہیں اور تمام سرولینس کرنے والی إن ڈور آٶٹ ڈور ٹیمیں گھروں ،دفاتر کباڑ خانوں اور قبرستانوں وغیرہ کی سرویلنس لگاتار کر رہی ہیں جس کے ضلع بھر میں مثبت نتاٸج برآمد ہو رہے ہیں۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ سید طارق محمود بخاری نےکہا کہ ڈینگی کا خاتمہ کرنے کے لیے تمام محکموں کو چاہیے کہ وہ دلجمعی کے ساتھ کام کریں تاکہ ڈینگی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اجلاس میں تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز ،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر صدیق ،محکمہ صحت کی تشکیل کردہ ڈینگی ٹیموں کے علاوہ محکمہ صحت کے افسران سمیت دیگر حساس اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے کہا کہ تمام سرویلنس کرنے والی ان ڈور اور آٶٹ ڈور ٹیمیں اپنی کارکرگی کو مزید بہتر بناٸیں اگر چیکنگ کے دوران اس حوالے سے کوئی بے قاعدگی پائی گئی تو متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔