Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • طالبان کا خوف: افغان حکومت نے ملک میں 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا

    طالبان کا خوف: افغان حکومت نے ملک میں 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا

    کابل: افغانستان میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی کو روکنے کے لیے افغانستان میں 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

    باغی تی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان احمد ضیا ضیا کے مطابق کرفیو مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان نافذ رہے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور کئی صوبائی دارالحکومتوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تشدد پر قابو پانے اور طالبان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے رات کا کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ کابل، پنج شیر اور ننگرہار میں کرفیو نہیں لگایا گیا۔

  • سعودی وزارت اطلاعات نے اردو سامعین کیلئے سعودی ریڈیو سے تجرباتی بنیاد پر 24 گھنٹوں کی نشریات کا آغاز کر دیا

    سعودی وزارت اطلاعات نے اردو سامعین کیلئے سعودی ریڈیو سے تجرباتی بنیاد پر 24 گھنٹوں کی نشریات کا آغاز کر دیا

    جدہ: سعودی وزارت اطلاعات نے اردو سامعین کیلئے سعودی ریڈیو سے 24 گھنٹوں کی نشریات کا آغاز کردیا ہے جو وسط ستمبر تک تجرباتی بنیا پر جبکہ مملکت کے قومی دن 23 ستمبر کو باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا –

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق نشریات میں اسلام اور قرآن و احادیث، تاریخی وعالمی حالات پہ مشتمل پروگرام پیش کئے جارہے ہیں، یہ بات ڈپٹی چیئرمینن سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی فیصل الیافی نے پاکستان جرنلسٹس فورم کے وفد سے ملاقات میں بتائی انہوں نے کہا کہ عالمی نشریات ستمبر 1950 میں مکہ مکرمہ سے شروع کی گئی تھی جس میں اردو پروگرام 15 منٹ کےہوا کرتے تھے .

    فیصل الیافی نے کہا کہ میڈیا کی دنیا میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں، چیلینجز کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جسکے لئے سعودی اردو نشریات نے سوشل میڈیا، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، ایف ایم، شارٹ ویو اور سیٹلائٹ، ٹوئٹر پہ بھی اپنی نشریات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے-

    فیصل الیافی نے کہا کہ ان تمام معاملات کی منظوری خادم حرمین شریفین شاہ سلمان،ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دی ہے جسے عملی جامہ پہناتے ہوئے سعودی وزیراطلات کی نگرانی میں کئی اور زبانوں میں بھی نشریات کو عالمی سروس میں شامل کیاگیا ہے.

    پاکستانی صحافیوں کی آمد پر فیصل الیافی کے علاوہ ڈائرکٹر جنرل اوورسیز پروگرامز رویشد الصحافی اور اردو نشریات کے سربراہ ڈاکٹر محمد لئیق اللہ خان نے استقبال کیا-

    انہوں نے کہا کہ کسی بھی خبر یاواقعے کے ابلاغ کیلئے زبان کی بڑی اہمیت ہےانہوں نے پاکستان جرنلسٹ فورم کے اراکین پاک سعودی تعلقات کے فروغ اور سعودی وژن 2030، حج، عمرہ، معیشت، اور ترقی خوشحالی میں ابلاغی خدمات کو سراہا اور ہرممکن تعاون کی خواہش کا اظہاکیا.

    اس موقع پر وفد کے سربراہ چئیرمین پی جے ایف امیر محمد خان نےکہا کہ سعودی عرب سے پاکستان کی محبت، عقیدت اور مذہبی بنیادوں پہ قائم ہے اور نشریاتی پالیسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں انہوں نے فورم کی طرف سے ہرممکن تعاون کی یقینی بھی کروائی اس موقع پر فورم کے ممبران کےاس حوالے سے انٹرویو ریکارڈ کئے گیے –

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات عمران اے راجہ پارٹ ۲:

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات عمران اے راجہ پارٹ ۲:

    کروگر نیشنل پارک میں کیمپنگ کے لیے بہت سے پرائیویٹ لاجز موجود ہیں مگر بہترین اور جدید سہولیات سے آراستہ آٹھ مقامات ہیں جہاں سے دل موہ لینے والے قدرتی نظاروں کے علاوہ جنت کے پرندوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے۔
    ‏۱: Malelane
    مالےلان گیٹ ویسے تو کروگر کے دوسرے گیٹس کی طرح عام ہی رہا ہوگا مگر میرے لیے کچھ وجوہات کی بنا پر بہت خاص اور دل کے قریب ہے۔ ایک تو یہ میرا ہوم ٹاؤن رہا اور ساؤتھ افریقہ میں اینٹری کے بعد میری پہلی رہائش یہیں تھی۔ دوسرا اس گیٹ سے میں نے جب بھی اینٹری کی کچھ ہی دیر میں “شیر” ضرور دکھائی دیا اور یہ اتفاق تقریباً ہر بار ہوا۔ ضروری نہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو کیونکہ میرے ساتھ پیروں کی خاص دعا بھی ہو سکتی ہے۔
    جب صدر Paul Kruger نے 1898 میں پارک کی بنیاد رکھی تو 1902 میں Malelane Gate کی بنیاد رکھی گئی۔ مطلب یہ حصہ بالکل شروعات سے شکار سے محفوظ ہے اور یہاں آپ Corcodile River کے بہترین نظاروں کے علاوہ گینڈا، کُوڈُو، زرافہ، امپالہ، ہاتھی اور شیر کے علاوہ دریائی گھوڑے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
    کروگر کے پہلے وارڈن کرنل جیمز ہیملٹن کا تعلق بھی یہیں سے تھا اور اسی گیٹ پر ان کی تقرری کی گئی۔ تقریباً ایک سو بیس سال پہلے یہاں شکاریوں کی بہتات کی وجہ سے جانور بہت کم ہوگئے اور ایک گیم ریزرو کی ضرورت محسوس کی گئی۔ آج اس علاقے میں جتنے بھی جانور نظر آتے ہیں اس میں بلاشبہ کرنل جیمز کی محنت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
    کروکوڈائل ریور Crocodile River سے خاص احتیاط کیجیے۔ بظاہر پرسکون دکھنے والا پانی آپ کو اپنے پاؤں اس میں رکھنے پر مجبور کرے گا مگر یہ دیوہیکل مگرمچھوں کا مسکن ہے۔ آپ کا شکار کر کے ان کا پیٹ تو شاید نا بھرے مگر بطور سٹارٹر مگرمچھ اعتراض نہیں کریں گے۔دریائی گھوڑا بھی کافی جگہ نظر آئے گا۔ اس کے قریب جانے سے بھی اجتناب کیجیے۔ بظاہر سست نظر آنے والا یہ جانور انتہائی خطرناک ہے اور اس کے جبڑے میں آپ کا آدھا جسم سما سکتا ہے۔
    کروگر میں دوران سفر گاڑی سے اترنے کی انتہائی سخت ممانعت ہے اور کسی بھی مشکل میں آپ نے ہیلپ لائن کو کال ملانا ہے۔ناصرف آپ اپنی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں بلکہ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کے علاوہ داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
    ‏۲: Skukuza
    سکوکوزا سب سے بڑا کیمپ سائٹ ہے کروگر میں اور دوسری خاصیت یہاں پر پارک کے ہیڈکوارٹرز کا ہونا ہے۔ یہ گیٹ Sabie River کے پاس ہے۔ صابی قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور آپ یہاں ایسے نظارے دیکھیں گے جو دنیا میں کم ہی نظیر رکھتے ہیں۔ یہاں ایک کمرشل ایئرپورٹ بھی موجود ہے جہاں آپ ملک کے مختلف حصوں سے نیشنل فلائٹس لے سکتے ہیں۔ اتنے حسین ایئرپورٹس آپ نے کم ہی دیکھ رکھے ہوں گے۔ 2018 میں فوربز میگزین نے اسے “دنیا کے خوبصورت ایئرپورٹ” کے اعزاز سے نوازا۔
    سکوکوزا گیٹ سے داخلہ پر وہاں کے خاص جانوروں میں شیر، لگڑبگا، موٹی دم والا بُش بےبی، وارتھوگ، سفید گینڈا اور چیتا ہیں۔ جبکہ پرندوں میں افریقن گرین پیجن، ہیمرکوپ، افریکن فِش اِیگل، کالی کوئل اور جامنی ٹوراکو شامل ہیں۔ اگر آپ پکی سڑک سے کچے پر اتریں (یہ بھی ڈرائیونگ کے راستے ہیں) بُش بکس اور نیالہ بھی ملیں گے۔ آپ کو لگے گا آپ ایک الگ ہی دُنیا میں گھوم رہے ہیں۔ قدرت کو اتنے قریب سے دیکھنے کا موقع آپ کو کم ہی ملتا ہے اور ہر گزرتا سال انہیں دیکھنے کے مواقع مزید معدوم کرتا جا رہا ہے۔
    سکوکوزا کے شمالی طرف جائیں تو آپ کو ہاتھی اور جنگلی بھینسے بھی ملیں گے جنہیں تنگ کرنے سے ہمیشہ گریز کریں۔ یہ حملہ کرتے ہوئے ایک سیکنڈ نہیں لگاتے اور ایک آدھ موقع پر گاڑی کو تھوڑا نقصان پہنچانے میں بھی کامیاب ہوئے۔
    اب ذکر ہو جائے Kruger کے سفر کی کریم “Sabie River Drive” کا ۔۔ یہ سکوکوزا کے مشرق کی طرف ہے اور شیر، چیتا، ہائناز دیکھنے کے بہترین مواقع یہیں میسر آتے ہیں۔ سابی دریا کے ساتھ آپ آہستہ ڈرائیو جاری رکھیے کیونکہ یہی پرائم لوکیشن ہے جہاں آپ کو تمام جانور نظر آئیں گے۔ آپ قسمت کی دھنی ہوں تو شیر اور چیتا کو براہ راست شکار کرتا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ سابی دریا پر تمام جانور پانی پینے آتے ہیں اور شکار کرنے والے جانوروں کا داؤ بھی یہیں زیادہ چلتا ہے۔ آپ کا کیمرہ اور ویڈیو موڈ ہمہ وقت آن رہنا چاہیے ورنہ کئی نظارے صرف ذہن میں رھ جائیں گے پردہ سکرین پر نہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی سانحہ ہوا جب چھ شیر ایک کُوڈو کا شکار کرنے لگے اور میرے کیمرہ نکال کر آن کرنے سے پہلے ہی اگلے ڈایننگ ٹیبل پر ضیافت کا اہتمام کر چکے تھے صرف چھری کانٹوں کا انتظار تھا۔
    یہاں Nkuhlu نامی جگہ پر رُک کر آپ اپنے کھانے پینے کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں اور اس کی سائٹ بہترین Bird Watch کے علاوہ Sunset Dam کا بھی خوبصورت نظارہ دیتی ہے۔ بہتر ہے اپنے کھانے کا سامان ساتھ لے کر جائیے کیونکہ یہاں حلال فوڈ ملنا وہ بھی ہمارے ذائقے کے مطابق تھوڑا مشکل ہے۔
    کروگر میں چیتے کا زیادہ تر شکار امپالہ بنتے ہیں کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر چیتا بُش بک، رِیڈ بک اور واٹربک کا شکار پسند کرتا ہے۔ امپالہ کی نسبت ان تینوں کی سپیڈ زرا کم اور شکار آسان ہے۔
    تقریباً تین سے چار گھنٹے پر محیط یہ سست رفتار ڈرائیو بلاشبہ آپ کی زندگی کی یادگار ترین ڈرائیو ہوگی۔
    (نوٹ: کروگر میں سپیڈ لمٹ کا خاص خیال رکھیے۔ نارمل رفتار 50km/h ہے مگر کئی جگہ اس سے بھی کم۔ سپیڈو کیمز جگہ جگہ لگے ہیں اور تیزرفتاری پر بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے)۔
    باقی گیٹس کی تفصیلات آئندہ کالم میں ان شاء اللہ
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • امریکی صدر جوبائیڈن شدید ترین دماغی عارضے میں مبتلا ہیں     وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر کا انکشاف

    امریکی صدر جوبائیڈن شدید ترین دماغی عارضے میں مبتلا ہیں وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر کا انکشاف

    امریکی صدر جوبائیڈن کی صحت کے حوالے سے انکشاف ہو اہے کہ وہ شدید ترین دماغی عارضے میں مبتلا ہیں جس کے باعث اہم باتیں بھول جاتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر رونی جیکسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی بیماری ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ اس میں اضافہ ہوگا دوسری جانب جوبائیڈن کی بیماری کے بعد سے بعض حلقے جوبائیڈن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔

    وائٹ ہاوس کے سابق ڈاکٹر رونی جیکسن نے سی این این کے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ امریکی صدر کو صحت سے متعلق شدید قسم کی بیماری لاحق ہے اور یہ بیماری آنےوالے وقت میں بھی ٹھیک نہیں ہونے والی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو گا اور ان کی بیماری کو میڈیا اور عوام سے چھپایا جا رہا ہےوہ اس عہدے پر رہنے کے قابل نہیں اور انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی صحت کے حوالے سے خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہی جب جوبائیڈن کئی بار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی بات بھول گئے ، ایک بار تو امریکی صدر کو اپنی بات مکمل کرنے کیلئے جیب سے پرچی نکالنا پڑی۔

  • اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    نوجوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دور ہوتا ہے کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی, فتح و شکست, ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے
    اللّہ تعالیٰ کو جوانی میں کیا گیا عمدہ کام بشمول عبادات اتنی محبوب ہیں کہ جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے اللّہ تعالیٰ نے اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں مزید رہنمائی بخشی اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کر دیا حب انہوں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ: ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور الہ کو نہیں پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو یہ بعید از عقل بات ہوگی 148 ۔ یہ وہ نوجوان تھے جو وقت کے حاکموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اللّہ کی وحدانیت پر ایمان لائے
    اسلام میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور روز قیامت اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یعنی قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے عمر کن کاموں میں گنوائی؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟
    دین اسلام کی سنہری تاریخ میں اسلام کی خدمت اور اشاعت میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہے نوجوان صحابہ نےبڑے بڑے کارنامے انجام دیے دور شباب میں ہی حضرت على کرم اللہ وجہہ, حضرت معصب بن عمیر, حضرت خالد بن ولید, حضرت ابن عباس, اور دوسرے نوجوان صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی بے مثال قربانیاں پیش کیں. اسی دور میں صلاح الدین ایوبی, طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو تابناک بنایا یہ ایسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتوں کو اللّہ کے دین پر قربان کیا
    اس کے بر عکس آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے سستی شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے آج کے نوجوانوں کی زندگی کا مقصد سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو وائرل کر کے لائیکس, کمنٹس لینا اور فالورس بنانا رہ گیا ہے معاشرے میں اچھا گھر, گاڑی اور ملبوسات سے اسٹیٹس سمبل بننا چاہتا ہے خود پسندی اور خود نمائی نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہی ہے دیر رات تک چیٹنگ کرنا اور دن بارہ بجے تک سوئے رہنا مسلم نوجوانوں کا مشغلہ بن چکا ہے آج کے نوجوان کردار و اخلاق, شرم و حیا, ادب و احترام جیسی صفات سے محروم نظر آتا ہے آج دشمن اسلام ہر جانب سے مسلم نوجوانوں کے ایمان اور پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اکثر نوجوان اس سازش کا شکار بھی ہو رہے ہیں
    آج کے مسلم نوجوان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا اصل مقصد تلاش کریں اور اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ پہچان اسے صرف اسی صورت حاصل ہو سکے گی جب وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں گے
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ, ضرب ہے کاری

    @AamnaBukhari

  • عاطف اسلم کی شہرت سے بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ بوکھلاہٹ کا شکار

    عاطف اسلم کی شہرت سے بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ بوکھلاہٹ کا شکار

    بھارتی گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کی گائیکی اور مقبولیت سے خوف کھانے لگے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنے کنٹینسٹنٹ کو عاطف اسلم کے گانے گانے سے منع کر دیا-

    باغی ٹی وی : ابھیجیت بھٹاچاریہ بھارت کے بڑے اور مشہور گلوکار ہیں ان کے گانوں کی وجہ سے بالی ووڈ کی کئی فلموں نے باکس آفس میں دھوم مچائی تاہم وہ اپنے بیانات کی وجہ سے کئی تنازعات کا شکار ہوگئے جس میں گلوکار عاطف اسلم کا تنازعہ بھی شامل ہے۔

    پاکستانی گلوکارعاطف اسلم کو ’وہ لمحے‘ گانے سے شہرت ملی اس گانے کو ناصرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی کافی پسند کیا گیا۔ اس کے بعد عاطف اسلم نے ’عادت‘، ’تو جانے نہ‘ اور ’پہلی نظر میں‘ جیسے سپرہٹ گانے پیش کیے۔ بھارت میں جہاں عاطف اسلم کو پسند کیا جاتا ہے وہیں انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے۔

    بھارتی میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں سال 2008ء میں ایک سنگنگ ریئلٹی شو ’ایک سے بڑھ کر ایک‘ میں ابھیجیت نے جج کے فرائض انجام دیے۔ شو میں جب ایک کنٹیسٹنٹ نے عاطف اسلم کا گانا گایا تو بھارتی گلوکار بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ابھیجیت نے کنٹیسٹنٹ کو اس کی کارکردگی پر پورے نمبر دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس کا گانا گایا ہے انہیں میں صفر نمبر دیتا ہوں۔

    گلوکار ابھیجیت نے کہا کہ وہ گانا گانا نہیں ہوتا جس میں کسی سوفٹ ویئر کا استعمال کیا جائے، میں ایسے گانوں کو صفر نمبر دیتا ہوں مجھے نہیں پتا یہ کس گلوکار کا گانا ہے وہ شخص کبھی گلوکار کی فہرست میں شامل نہیں ہوسکتا جو اپنی آواز کو مشینوں کی مدد سے بہتر بنائے۔

    ابھیجیت بھٹاچاریہ نے کنٹیسٹنٹ سے کہا کہ مہربانی کر کے آئندہ کبھی ایسے بےسرے کا گانا مت گائیے گا۔

  • نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
    پروین شاکر کا یہ شعر نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے ہی ہے۔جو ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں،جو تمام تر سفارتی،اخلاقی اور دنیاوی آداب کو ایک طرف رکھ کر ہمارے ملک پاکستان کو چکلہ قرار دے۔جو کچھ اس بد تہذیب افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے کہا،چلیں وہ تو اسکے اندر کی غلاظت تھا۔مگر پاکستان کے تین دفعہ کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس سے ملاقات کرتے وقت شرم کیوں نہ آئ۔کیا پاکستان دشمن شخص سے ملاقات پاکستان دشمنی نہیں ؟
    یہ سوال ہمیشہ نواز شریف کا پیچھا کرتا رہے گا۔کیا یہ بھی عمران دشمنی میں کیا گیا ہے۔مگر یہ عمران دشمنی میں کیسے ہو سکتا ہے؟
    اس نے تو ارض پاک کو گالی دی تھی۔وہ گالی ہم سب کے لئے تھی۔شائد وہ گالی نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے نہ ہو،جن کا اوڑھنا بچھونا ان کی دولت ہوتی ہے،چاہے وہ جائز طریقے سے آۓ یا نا جائز طریقے سے۔
    یہ لوگ اقتدار کے پجاری ہیں۔اقتدار میں آنے کے لئے انہیں ملکی اقدار کی پرواہ نہیں ہوتی۔انہیں ہر حال میں اقتدار میں آنا ہوتا ہے،اس کے لئے چاہے مودی سے ہاتھ ملانا پڑے،چاہے خفیہ طریقے سےاسرائیل وفد بھیجنا پڑے یا پھر حمداللہ محب جیسے مکروہ شخص سے ملنا پڑے۔
    جس ملک نے ان جیسے لوگوں کو عزت دی،دولت دی،شُہرت دی۔اسی کے ساتھ دغابازیاں،؟
    کہاں کا دستور ہے؟
    ایسی احسان فراموشیوں کی مثال نہیں ملتی۔
    اس بندے حمداللہ محب کی ہرزہ سرائ پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا تھا کہ آئندہ اس سے کوئ پاکستانی نہ تو ہاتھ ملاۓ گا اور نہ ہی ملاقات کرے گا۔
    میں بھول گیا کہ قریشی نے یہ بات پاکستانیوں کے لئے کی تھی جو شائد نواز شریف پر لاگو نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ آجکل پاکستان کے قانون کو چکمہ دیکر بحیثیت مفرور اور اشتہاری کے لندن میں تشریف فرما ہیں۔انہیں نہ پاکستانی قانون کی پرواہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔انہیں پاکستان اسی وقت پیارا لگتا ہے جب وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوں۔
    پاکستان ایسے لوگوں کا مسکن اسی وقت ہوتا ہے،جب انہیں اس سے دولت آرہی ہوتی ہے۔اور وہ اقتدار کے مزے اُڑا رہے ہوتے ہیں۔
    پاکستان ان کے لئے پیسے بنانے کی مشین ہے۔
    دولت کے پجاریوں کا ملک ان کی دولت ہی ہوتی ہے۔
    ان کی زندگی کا محور اسی ہوس میں اندھا ہو کر آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔

    @lalbukhari

  • پردیس ایک میٹھی جیل   تحریر:محمد احسن گوندل

    پردیس ایک میٹھی جیل تحریر:محمد احسن گوندل

    میں لاہور ائیر پورٹ کے ویٹنگ ہال میں بیٹھا گھر والوں سے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا ابھی فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔
    میرے بلکل سامنے والی کرسی پر ایک اور شخص بھی کال پر بات کرنے میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو بھی صاف کر رہا تھا اس کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی میں نے بات ختم کی اور کال بند کر دی۔
    وہ مسلسل یہی کہ رہا تھا بیٹی میں جلدی واپس آؤنگا بہت جلدی ۔ ادھر جاکر بہت سارے پیسے بھیجوں گا پھر تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گی بس اب رونا بند کرو بیٹی میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے یہ کہ کر کال بند کر دی حالانکہ فلائٹ میں ابھی ٹائم تھا۔ اسکی آنکھوں میں زاروں قطار آنسو تھے اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہا تھا
    کرونا کی وجہ سے زیادہ رش نہی تھا اس بار ویٹنگ ہال میں وہ موبائل میں بار بار دیکھے جا رہا تھا اور آنسو تھے اسکے کہ رکنے کا نام نہی لے رہے تھے تھوڑی دیر تک وہ ریلکس ہوا تو میں نے پوچھ لیا کہ کہاں جارہے ہیں آپ تو انہوں نے بتایا کہ جدہ جارہے ہیں وہ میں نے بھی جدہ ہی جانا تھا تو حال حوال کے بعد میں نے ان سے خیر خیریت اور رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجبوریاں ہیں ورنہ پردیس والا زہر کون کھائے اللہ سب کو اپنے دیس میں رزق عطاء فرمائے میں نے آمین کہا اور پھر وہ کہنے لگے میں تین سال بعد دو بیٹیوں کی شادی کے لیے تین مہینے کی چھٹی لیکر آیا تھا لیکن ابھی فلائٹ بند ہونے کے ڈر سے دو مہینے بعد ہی جارہا ہوں۔دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور ایک چھوٹی بیٹی ابھی بیمار ہے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اسے اسی حال میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے میری مصوم سی پھولوں جیسی بیٹی ہاسپٹل میں مجھے بلا رہی ہے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے دل کر رہا ہے ادھر سے ہی واپس چلا جاؤں لیکن مجبوریوں نے ایسا جکڑا ہے کہ نہ چاہتے ہوے بھی بھاری دل کے ساتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے میرے نصیب میں اللہ نے شاید پردیس کی روزی ہی لکھی ہے ورنہ پھول جیسی بیمار بیٹھی چھوڑ کر کون جاسکتا ہے۔
    پردیس کے خواب بہت سہانے ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ سوچیں ایسا تانا بانا بنتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن جب حقیقت سے
    واسطہ پڑتا ہے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ایک طرف محبتیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ان محبتوں سے جڑی مصلحتیں۔
    ایک پردیسی کچھ پیسے نہیں کما کر دیتا بلکہ آپنی دن رات کی محنت دیتا ہے ۔ خود پردیس میں ایک وقت کھانا کھاتا ہے تاکہ دیس میں بیٹھے بہن بھائی تین وقت کا کھانا کھا سکے ۔ ماں کی آواز سن کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ماں کے ہاتھ کہ کھانے کو ترستے رہتے ہیں۔ بہنوں کی شادیوں پہ لاکھوں پیسے تو بھیج دیتے ہیں مگر بہنوں کے چہروں کی خوشی نہیں دیکھ پاتے۔
    پردیس ایک میٹھی جیل ہے جب انسان ایک بار اس میں داخل ہو جاتا ہے پھر نہ مجبوریاں ختم ہوتی ہیں نہ ہی خواہشات یہاں تک کہ پردیس میں بندہ اپنی جوانی ختم کردیتا ہے اور یہ ایک کڑوا سچ ہے۔
    اللہ پاک سب پردیسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور رزق حلال اپنے وطن میں عطاء فرمائے آمین
    تحریر

    @ahsangondalsa

  • وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    بہت سارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ، پہلی بار بیرون ملک جاتے ہوئے ، ائیرپورٹ پر اہل خانہ کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے: کبھی بھی اسلام کے بارے میں کسی بات میں ملوث نہ ہوں ، یہاں تک کہ اس کا دفاع یا وضاحت بھی نہ کریں ، چاہے کوئی کتنا بھی قیاس کرے اور فرض کرے اس کے بارے میں.
    تو ، کبھی بات نہیں کی جاتی، مفروضے غلط فہمیاں بن جاتے ہیں اور غلط فہمیاں شکوک و شبہات بن جاتی ہیں۔ شکوک فریبوں کا باعث بنتے ہیں ، اور پھر بھی ہم کبھی بات نہیں کرتے ہیں۔ وہم مستحکم عقائد کی طرف جاتا ہے اور عقائد اگلی نسلوں میں منتقل ہوجاتے ہیں جو پھر اپنے وراثت میں پائے جانے والے عقائد کی بنیاد پر فرض کرتے ہیں ، اس طرح شیطانی چکر جاری رہتا ہے… اور ہم پھر بھی بات نہیں کرتے!
    اسلامو فوبیا کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم بات نہیں کرتے ہیں۔ اس سے قبل میں نے اسلامو فوبیا (اسلامو فوبیا: ایک پراسرار وبائی بیماری) کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک نئی وبائی بیماری بنتی جارہی ہے۔ ہیضے سے زیادہ مبتلا اور ایڈز سے زیادہ مہلک۔
    کینسر سے زیادہ میٹاسٹک اور پولیو سے زیادہ کمزور۔ ایسی بیماری جس کی فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ، یہاں تک کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی ان کے عقائد کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ، اور اس طرح ان کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    عدالتوں میں نہیں بلکہ بے گھر منشیات فروشوں کے ذریعہ سڑکوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ مساجد میں گورے بالادستی کے ذریعہ مقدمہ چلایا گیا۔ سب سے زیادہ "استغاثہ” لوگوں نے سڑکوں پر مقدمہ چلایا۔ سڑکوں پر ہجوم کے ذریعہ قانونی کارروائی کی۔
    ایک ایسے وقت میں ، جو سورج کو مشرق سے مغرب تک سفر کرنے کے لئے درکار ہوتا ہے ، اس سے کم وقت میں ، اسلامو فوبیا مشرق سے مغرب تک کا سفر کرتا، اور اسی وجہ سے میں اسے "وبائی بیماری” کے نام سے پکارتا ہوں۔ مشرق میں ، 6 ماہ کی حاملہ خاتون پر سڈنی میں صرف اس کے لباس (اسکارف) کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔
    یہاں تک کہ بے دردی سے مارنے پیٹنے کے بعد ، سب سے پہلا کام جو اس خاتون نے کیا وہ سکارف کو ایڈجسٹ کرنا تھا۔اس نام نہاد مفت جدید دنیا میں ،اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپنا، آدھے ننگے چلنے سے آسان ہے۔ دنیا رہنے کے لئے ایک خوفناک جگہ بن چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب اس حملے کے بعد اس والدہ کا الٹراساؤنڈ سڈنی کے کسی اسپتال میں ہوتا تو ، 6 ماہ کا بچہ چیخ چیخ کر کہتا: ”میں پیدا بھی نہیں ہوا ہوں۔ میں دہشت گرد نہیں ہوں…! ”
    آسٹریلیا کو ایک شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں پولین ہینسن جیسے سینیٹر "برقع” میں اسمبلی میں حجاب کا مذاق اڑانے آتے ہیں۔ جہاں نسل پرست بالادستی برینٹن ٹرانٹ کی قدر کی جاتی ہے۔ جہاں فریزر اننگ جیسے پارلیمنٹیرینز نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔
    مغرب میں ہونے والے دوسرے واقعہ میں ، کرسٹیشینند (ناروے) شہر میں "سائان” (ناروے میں اسلام پسندی روکیں) نامی ایک تنظیم کے ذریعہ اسلام مخالف مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو قرآن مجید نہ جلانے کی انتباہ کے باوجود ، سی ای این کے رہنما "لارس تھرسن” (جو ماضی میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے ایک ماہ قید کاٹ چکا تھا) کے نام پر اس مقدس کتاب کو جلا دیا۔ الیاس نامی ایک نوجوان مسلمان شخص نے اس پر حملہ کیا جس نے اسے روکنے کی کوشش کی اور دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
    میں وزیر اعظم خان (مرحومہ محترمہ شوکت خانم) کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے مذہب کے بارے میں غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایسی سفارتی بلکہ تابعدارانہ حکمت عملی اپنانا کبھی نہیں سکھایا۔
    27 ستمبر 2019 کو ، یو این او ہیڈکوارٹر ، نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم پاکستان مسٹر خان نے اس نئی وبا کے اسباب ، علامات ، تشخیص اور علاج کے بارے میں ایک فکری تقریر کی.
    وہ 30 منٹ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کسی عالم سے کم نہیں لگتا تھا جس کی وضاحت 30 سال میں کسی بھی مسلم عالمی رہنما نے نہیں کی تھی۔
    ہم سب کو اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہنا چاہیے.
    Twitter : @Zeeshanvfp

  • طالبان کی حکومت میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت کہاں تک ہو گی ، سہیل شاہین نے بتا دیا

    طالبان کی حکومت میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت کہاں تک ہو گی ، سہیل شاہین نے بتا دیا

    طالبان کی حکومت میں خواتین کو کام کرنے کی اجازت کہاں تک ہو گی ، سہیل شاہین نے بتا دیا

    باغی ٹی وی : قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت میں خواتین کوحجاب کےساتھ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنےکی اجازت ہوگی ۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ نئی حکومت میں خواتین کوسیاست میں حصہ لینےکی اجازت ہوگی اور خواتین کوگھر سے نکلنے کیلئے مرد سربراہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ نئی حکومت میں خواتین کوحجاب کےساتھ کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنےکی اجازت ہوگی۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ افغان صدراشرف غنی کا اقتدار میں رہنا طالبان کے سرینڈر کرنے میں رکاوٹ ہے، امن معاہدے کیلئے نئی حکومت کا قیام اورافغان صدرکا عہدہ چھوڑنا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ کسی بھی جنگ بندی سے پہلے فریقین کیلئے قابل قبول نئی حکومت کیلئے معاہدہ ہونا چاہیے پھر جنگ نہیں ہوگی، طالبان اقتدار کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ماضی میں افغانستان میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے والی حکومتیں کامیاب نہیں ہوئیں لہٰذا طالبان اسی فارمولے کو دہرانا نہیں چاہتے ہیں۔

    طالبان ترجمان نے مذاکرات کو ایک اچھا آغاز قرار دیا تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتیں بار بار جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ اشرف غنی کا اقتدار میں رہنا طالبان کے سرینڈر کرنے کے مطالبے میں رکاوٹ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ مفاہمت نہیں چاہتے مگر وہ چاہتے ہیں کہ طالبان ہتھیار ڈال دیں، کسی بھی جنگ بندی سے پہلے ایک نئی حکومت کیلئے معاہدہ ہونا چاہیے جو ہمارے اور دوسرے افغانوں کیلئے قابل قبول ہو، پھر جنگ نہیں ہوگی۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھاکہ کابل پرقبضے کا کوئی منصوبہ نہیں، طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے سے خودکو روک لیا ہے، قابل قبول نئی حکومت بن جائے تو طالبان ہتھیارڈال دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ غیرملکی میڈیا سمیت تمام صحافی مستقبل میں اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھی طالبان نمائندوں اور افغان حکومتی وفد کے درمیان دوحا میں مذاکرات ہوئے تھے تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔