Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک حملے جاری رہیں گے، ایرانی سیکیورٹی چیف

    دشمن کے مکمل ہتھیار ڈالنے تک حملے جاری رہیں گے، ایرانی سیکیورٹی چیف

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکا اہداف کے خلاف جاری کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دشمن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا –

    ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد ذوالقدر نے بیان میں کہا کہ خطے میں دھواں کے بادل کا مطلب ہے کہ امریکی فوجی، سیکیورٹی یا مالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایرانی فوج کی جانب سے مسلسل اور اہداف پر حملے بیدار ایرانی قوم کے غصے کا اظہار ہے جو عالمی بالادستی کے نظام کی پشت پر پڑ رہے ہیں اور اس وقت تک جاری رہے رہیں گے جب تک دمشن مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈالتا اور مناب و لیمرد کے بچوں پر ہونے والے بچوں کے خون کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔

    واضح رہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو حملہ کیا تھا اور اس کشیدگی کو اب پانچ مہینے ہو رہے ہیں تاہم 40 روز بعد 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تھی جبکہ ایران نے جوابی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔

  • بھارت: دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد پرلاد جوشی نئے وزیرِ تعلیم مقرر

    بھارت: دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد پرلاد جوشی نئے وزیرِ تعلیم مقرر

    بھارت کی صدر دروپدی مرمو نے جین زی احتجاج کے نتیجے میں مستعفی ہونے والے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے، جس کے بعد بھارتی حکومت نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما پرہلاد جوشی کو نیا وزیرِ تعلیم مقرر کر دیا گیا ہے۔

    بھارت کے صدارتی محل راشٹرپتی بھون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر دروپدی مرمو نے وزیراعظم نریندر مودی کی تجویز پر دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور کیا ہے،وزیراعظم کے مشورے پر ہی کابینہ کے وزیر پرلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی قلم دان بھی سونپ دیا گیا ہے۔

    پرلاد جوشی ریاست کرناٹک سے لوک سبھا کے رکن ہیں اور اس وقت خوراک اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارتیں سنبھال رہے ہیں اس سے پہلے بھی وہ کان کُنی اور پارلیمانی امور کے وزیر بھی رہ چکے ہیں-

    واضح رہے کہ بھارت میں میڈیکل امتحانات میں بے ضابطگیوں کے نتیجے میں 5 جون سے جاری طلبہ احتجاج جاری تھا ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا تھابدھ کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور سے کچھ ہی گھنٹے قبل وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفے کا اعلان کردیا۔

    دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں لکھا کہ میں اس ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور ان کی حق بجانب توقعات کا دل سے احترام کرتا ہوں بھارت کی نئی نسل کے خوابوں کو پورا کرنا ہماری سیاسی اور سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔ میں اپنے معزز وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی بصیرت افروز قیادت میں مجھے قوم کی خدمت کا موقع ملا-

    وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے کی خبر جیسے ہی جنتر منتر پر پہنچی تو وہاں موجود طلبا اور مظاہرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پورے میدان میں جشن کا ماحول بن گیااحتجاجی طلبا نے جشن منانا شروع کیا تو دہلی پولیس نے اُن پر لاٹھی چارج شروع کردیا اورآنسو گیس کے شیلز بھی فائر کیے،اس پیشرفت پر ردِعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ”کاکروچوں اور جمہوریت کی جیت ہوئی-

  • یونانی فوج  نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے

    یونانی فوج نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے

    یونانی فوج کے زیر استعمال امریکی فضائی دفاعی نظام (پیٹریاٹ) نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے۔

    رائٹرز کے مطابق یونانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہےکہ سعودی عرب میں تعینات یونانی فوج کے زیر استعمال فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کے روز یمن سے ینبع کی آئل ریفائنریوں کی جانب داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل تباہ کردیے سعودی سول ڈیفنس نے حملےکے خدشےکے پیش نظر ینبع میں ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنےکی ہدایت کی یمن سے 2 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا جن کا ہدف ینبع کی آئل ریفائنریاں تھیں۔ایک دوسرے ذریعے نے بھی دونوں میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کی تصدیق کی۔

    واضح رہےکہ یونان نے 2021 میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدےکے تحت امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات کیا تھا، جسے یونانی فوجی چلاتے ہیں،اس کا مقصد سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچےکا تحفظ ہے، یہ واقعہ دوسرا موقع تھا جب یونانی اہلکاروں نے سعودی عرب میں اس نظام کے ذریعےکسی حملےکو ناکام بنایا۔

  • بحرین اور کویت نے  ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، امریکی اخبار

    بحرین اور کویت نے ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، امریکی اخبار

    بحرین اور کویت نے رواں ماہ پہلی بار ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں خلیجی ممالک نے خاموشی سے اپنے جنگی طیارے ایران میں حملوں کے لیے بھیجے، بحرین اور کویت کے لڑاکا طیاروں نے ایران میں ڈرونز اور میزائل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کے علاوہ دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، یہ دونوں ممالک کی جانب سے تہران کے خلاف پہلی معلوم براہِ راست فوجی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی ان کارروائیوں میں کردار ادا کیا اور ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کیں امارات نے فضائی دفاعی معاونت بھی فراہم کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک ایران کے خلاف دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اگرچہ بحرین اور کویت کی فضائی طاقت محدود ہے اور ان کے پاس زیادہ تر امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیارے موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایران کے مسلسل حملوں کا جواب دیے بغیر رہنے پر تیار نہیں تھےخطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔

    اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ واشنگٹن نے ایران کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے کے کئی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کا بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج ختم کرنے کا اعلان

    کاکروچ جنتا پارٹی کا بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج ختم کرنے کا اعلان

    کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کی جانب سے اپنے تمام اہم مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ملک بھر میں جاری احتجاج فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے این ای ای ٹی پیپر لیک سے متعلق خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ معاوضہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔بیان کے مطابق دوسرا اہم مطالبہ بھی منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت مرکزی حکومت اور این ڈی اے کے زیرِ انتظام ریاستوں میں احتجاج سے متعلق درج تمام مقدمات (ایف آئی آرز) واپس لے لیے جائیں گے، جبکہ آئندہ ان مظاہروں میں شریک کسی بھی فرد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    سی جے پی نے مزید بتایا کہ حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات سے متعلق پارٹی کے پانچ نکاتی منشور پر بھی غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں کے درمیان جلد مزید مذاکرات ہوں گے تاکہ مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد عوامی مفاد میں ملک گیر احتجاج فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم کرنے سے انکار،نئے مطالبات رکھ دیئے

    کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج ختم کرنے سے انکار،نئے مطالبات رکھ دیئے

    بھارت میں جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کے سامنے مزید دو مطالبات پیش کر دیے ہیں۔

    سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ان کے نئے مطالبات تسلیم نہیں کرتی۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلبہ کے ورثا کو ایک کروڑ روپے فی خاندان معاوضہ دیا جائے، جبکہ 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوث پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔پارٹی نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سابق وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستقبل میں کوئی نئی وزارت نہ دی جائے۔ سی جے پی کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آج ملک بھر میں کینڈل مارچ میں شرکت کرکے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کریں۔

    دوسری جانب جنتر منتر پر دھرنا دینے والے کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیشک دپکے نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اپنی تحریک کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مخالفین کہتے تھے کہ مودی حکومت میں کوئی استعفیٰ نہیں دیتا، مگر عوامی دباؤ کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔سی جے پی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک تمام مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔

  • پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کو  راہول گاندھی میڈیا کے سامنے  لے آئے

    پیلٹ گن سے زخمی نوجوان کو راہول گاندھی میڈیا کے سامنے لے آئے

    بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر اور منی پور کے بعد نئی دہلی میں بھی احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا ہے۔

    راہول گاندھی نے میڈیا کے سامنے ایک ایسے نوجوان کو پیش کیا جو مبینہ طور پر پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حقائق چھپا رہی ہے اور 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان کی آنکھ متاثر ہوئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل ریکارڈز میں متعدد مظاہرین کے جسم پر پیلٹ لگنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک طالب علم کی کمر اور کہنی پر چھرے لگے، جبکہ ایک دوسرے طالب علم کی آنکھ پر لگنے والی چوٹ کے باعث اس کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران پیلٹ گن استعمال کرنے کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق احتجاج کے موقع پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کی ریپڈ ایکشن فورس (RAF) بھی تعینات تھی، جس کے پاس ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن موجود ہوتی ہیں۔

  • کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے بعد بھارتی وزیرتعلیم مستعفی

    کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے بعد بھارتی وزیرتعلیم مستعفی

    بھارتی نوجوانوں کی پارٹی کاکروچ جنتا پارٹی کا پیپر لیک کے معاملے پر تقریباً دو ماہ سے جاری احتجاج رنگ لے آیا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

    بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پر استعفے کا متن شیئر کیا جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول بھی کرلیا۔دھرمیندر پردھان نے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ میرے نوجوان ساتھیو، میں پچھلے 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طالب علم، استاد اور تعلیم کی اصلاح کے لیے وقف رہا ہوں، میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں کی خواہشات، جذبات اور ان کے جائز مطالبات کا گہرا احترام کرتا ہوں۔انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ مئی 2026 کو ہونے والے NEET-UG کے امتحان میں بے قاعدگیاں سامنے آئیں، بھارت سرکار نے فوراً اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات سی بی آئی (CBI) کے سپرد کیں اور امتحان منسوخ کر کے دوبارہ نئی تاریخ کا اعلان کیا۔

    دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے میرا یہ عزم تھا کہ ہم کسی بھی قابل طالب علم کے مستقبل کو امتحان مافیا کی وجہ سے تباہ نہیں ہونے دیں گے، کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مزید لکھا کہ 16 جولائی کو اعلان کیے گئے NEET-UG کے نتائج تسلی بخش رہے، جن میں غریب پس منظر سے آنے والے کئی قابل طلبہ کو بھی کامیابی ملی مگر اس دوران بھی کئی طلبہ کو گمراہ کرنے کے لیے ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد نے رکاوٹ ڈالنے کی کوش کی، جس سے دل انتہائی رنجیدہ ہوا۔مستعفی وزیر تعلیم نے مزید کہا میں ہمیشہ سے اپنے جمہوری نظام کی طاقت پر اٹل یقین رکھنے والا رہا ہوں اور نوجوانوں کی خواہشات، خوابوں اور توقعات کا گہرا احترام کرتا آیا ہوں، یہ صرف بھارت کا مستقبل ہی نہیں بلکہ ایک نئے اور ترقی یافتہ بھارت کے علمبردار، معمار اور مستقبل کے شہ کار بھی ہیں، پچھلے 10 دنوں کے واقعات کو دیکھ کر میرا دل دکھی ہے، یہ میرے لیے ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں ہے،بھارت کی نوجوان طاقت ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کی نوجوان طاقت کو فریب کے چکر میں پھنسنے نہیں دیں گے، یہی میرا عزم ہے، جنتر منتر پر اور ملک میں جو صورتحال بنی ہے، اس صورتحال سے ملک دشمن قوتیں فائدہ نہ اٹھائیں، ملک کا اتحاد قائم رہے، بھارت کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، ہمارے بچے اپنا وقت پڑھائی میں لگائیں، کیریئر بنانے پر توجہ دیں، اسی بات پر غور کرتے ہوئے میں نے اپنا استعفی وزیراعظم کو بھیج دیا ہے۔

    اس حوالے سے کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے اگر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے تاہم اس حوالے سے تاحال حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔دوسری جانب سی جے پی کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اپنے ردعمل میں کہا یہ کہتے تھے اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے، دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے، ہم نے کردکھایا۔

    خیال رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریباً دو ماہ سے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج جاری تھا اور اس دوران بھارت کی نامور شخصیت سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے 20 جولائی کو سب کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی گئی جس پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان احتجاج میں پہنچ گئے تاہم بھارتی پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔بھارتی وزیراعظم نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے نوجوانوں کو احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دی لیکن مودی سرکار کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھارتی نوجوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور حکومت کا فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی نوجوان مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتی رہیں۔

  • ایرانی خطرات کے پیشِ نظر ٹرمپ نےصدارتی طیارہ تبدیل کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایرانی خطرات کے پیشِ نظر ٹرمپ نےصدارتی طیارہ تبدیل کیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے منسلک پراکسی گروپوں کی جانب سے ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکیہ سے روانگی کے وقت اپنا صدارتی طیارہ تبدیل کیا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو ایسی انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں جن میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے زیرِ استعمال طیارے کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر امریکی خفیہ سروس نے صدر کو قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون میں سفر کرنے کا مشورہ دیا، جس پر صدر ٹرمپ نے عمل کیا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ نئے طیارے میں پہنچے تھے، تاہم واپسی پر انہیں برطانیہ کے لیے پرانے ایئر فورس ون میں روانہ کیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے طیارے میں بعض جدید حفاظتی اور انسدادِ دہشت گردی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی، جس کے باعث آخری لمحات میں طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کے بعد قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے طیارے کے سیکیورٹی فیچرز پر بھی سوالات اٹھنے لگے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ خطرات صرف صدر ٹرمپ ہی نہیں بلکہ صدارتی طیارے کو بھی لاحق تھے۔یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور کابینہ اراکین کے ساتھ ایران کے خلاف ممکنہ مزید کارروائیوں پر غور کے لیے اہم اجلاس منعقد کیا ہے۔اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے ان سابقہ بیانات کا حوالہ دیا جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران انہیں قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور کہا کہ صدر اور ان کے وفد کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے تھے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ترکیہ میں پیش آنے والا یہ سیکیورٹی خدشہ ان اطلاعات سے الگ ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ممکنہ منصوبے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کی تھیں۔

    واضح رہے کہ 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی کارروائی میں ہلاکت کے بعد سے مختلف مواقع پر ایران سے منسلک گروہوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے حالیہ بریفنگ میں کہا کہ صدر اور دیگر زیرِ حفاظت شخصیات کو درپیش خطرات کی موجودہ سطح ان کے 24 سالہ کیریئر میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ مجموعی سیکیورٹی صورتحال غیر معمولی حد تک سنگین ہو چکی ہے۔

  • ایران پر امریکی حملوں میں وقفہ؟ خلیجی ممالک میں رات پُرسکون، نئی کارروائی کی تصدیق نہ ہو سکی

    ایران پر امریکی حملوں میں وقفہ؟ خلیجی ممالک میں رات پُرسکون، نئی کارروائی کی تصدیق نہ ہو سکی

    مشرق وسطیٰ میں ہفتے کی صبح تک بحرین، اردن اور کویت میں ایران کی جانب سے کسی نئے حملے یا میزائل کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی، حالانکہ یہ تینوں ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں اور گزشتہ 13 روز کے دوران ایرانی حملوں اور فضائی دفاعی کارروائیوں سے متاثر رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین، اردن اور کویت کی سرکاری ایجنسیوں یا متعلقہ حکام نے ہفتے کی صبح تک سوشل میڈیا یا سرکاری ذرائع پر ایران کی جانب سے کسی نئے حملے، میزائل لانچ، روک تھام یا کسی نقصان کی اطلاع جاری نہیں کی۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی جمعہ کے روز (امریکی مشرقی وقت کے مطابق) ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔ اس سے قبل مسلسل 13 راتوں تک سینٹ کام ایران میں فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کرتا رہا تھا۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا جمعہ کے روز واقعی کوئی امریکی کارروائی نہیں کی گئی یا پھر سینٹ کام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے سینٹ کام سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ادھر ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی ہفتے کی صبح تک ملک میں رات کے دوران کسی نئے حملے، دھماکے یا فضائی کارروائی کی اطلاع نہیں دی۔

    دریں اثنا سعودی عرب کے حکام نے جمعہ کے روز بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں ینبع اور جازان میں "ممکنہ خطرے” کے حوالے سے متعدد انتباہات جاری کیے، تاہم ان انتباہات میں خطرے کی نوعیت یا اس کے ممکنہ ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔