بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر اور منی پور کے بعد نئی دہلی میں بھی احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا ہے۔
راہول گاندھی نے میڈیا کے سامنے ایک ایسے نوجوان کو پیش کیا جو مبینہ طور پر پیلٹ لگنے سے زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حقائق چھپا رہی ہے اور 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان کی آنکھ متاثر ہوئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل ریکارڈز میں متعدد مظاہرین کے جسم پر پیلٹ لگنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک طالب علم کی کمر اور کہنی پر چھرے لگے، جبکہ ایک دوسرے طالب علم کی آنکھ پر لگنے والی چوٹ کے باعث اس کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران پیلٹ گن استعمال کرنے کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق احتجاج کے موقع پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کی ریپڈ ایکشن فورس (RAF) بھی تعینات تھی، جس کے پاس ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن موجود ہوتی ہیں۔
