Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • 
آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور عمان میں پیش رفت، کنٹرول کا معاملہ بدستور متنازع

    
آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور عمان میں پیش رفت، کنٹرول کا معاملہ بدستور متنازع

    ‎ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ کے کنٹرول کے معاملے پر اب بھی کئی اہم سوالات برقرار ہیں۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کے روز ایرانی اور عمانی وفود کے درمیان متعدد دور کے مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران بحری ٹریفک کو منظم کرنے، دونوں ممالک کے خودمختار حقوق کا احترام یقینی بنانے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔
    ‎اگرچہ ایرانی حکام نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجوزہ انتظام صرف ایران اور عمان کے درمیان ہوگا یا اس میں خلیجی خطے کے دیگر ساحلی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی نئے انتظامی نظام میں صرف ایران اور عمان شریک ہوتے ہیں تو خلیجی ریاستیں اور امریکا اس پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔
    ‎اصل تنازع اس بات پر مرکوز ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی کا اختیار کس کے پاس ہوگا۔ امریکا اور متعدد علاقائی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کو اس آبی گزرگاہ پر یکطرفہ کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حیثیت کے تحت اس علاقے میں قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    ‎آبنائے ہرمز سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
بھارت کے بڑے امتحانی اسکینڈل کی اندرونی کہانی

    
بھارت کے بڑے امتحانی اسکینڈل کی اندرونی کہانی

    ‎بھارت میں ہونے والے مبینہ امتحانی پرچہ لیک اسکینڈل کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ایک امیدوار کی شکایت نے ایسے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جس نے ملک کے اہم ترین مسابقتی امتحان کے سوالیہ پرچے مختلف ریاستوں میں فروخت کیے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مبینہ اسکینڈل کا آغاز راجستھان کے دو افراد سے ہوا، جنہوں نے ناسک میں موجود ایک پرنٹنگ پریس سے امتحانی پرچہ حاصل کیا۔ بعد ازاں یہ پرچہ ہریانہ کے شہر گروگرام میں موجود ایک مبینہ رابطہ کار تک پہنچایا گیا، جہاں سے اسے راجستھان کے شہر سکر میں ایک کنسلٹنسی کمپنی کے حوالے کیا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اس پورے نیٹ ورک میں ایک واٹس ایپ نمبر، جسے "KA400” کے نام سے شناخت کیا گیا، اہم کردار ادا کرتا رہا۔ الزام ہے کہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے مبینہ طور پر لیک ہونے والے سوالیہ پرچے مختلف ریاستوں میں فروخت کیے گئے۔ بعض خریداروں سے مبینہ طور پر 30 ہزار سے 5 لاکھ بھارتی روپے تک وصول کیے گئے، جبکہ ایک شخص کی جانب سے 28 لاکھ بھارتی روپے ادا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق راجستھان سے لیک ہونے والا مبینہ پرچہ کیرالا تک پہنچا، جہاں اسے طلبہ کے درمیان فوٹو کاپیوں کی صورت میں تقسیم کیا گیا۔ امتحان کے انعقاد کے بعد بعض امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ بائیولوجی اور کیمسٹری کے متعدد سوالات پہلے سے گردش کرنے والے مبینہ لیک پرچے سے مماثلت رکھتے تھے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق کیرالا کے ایک امیدوار نے اس معاملے پر پہلے مقامی پولیس سے رجوع کیا، تاہم کارروائی نہ ہونے پر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کو ای میل کے ذریعے شکایت درج کرائی۔ بعد ازاں یہ معاملہ متعلقہ تحقیقاتی اداروں تک پہنچا، جس کے بعد مختلف مقامات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔
    ‎یہ امتحان بھارت میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایوی ایشن اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جس میں ہر سال لاکھوں امیدوار شرکت کرتے ہیں۔ اس مبینہ اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت، نگرانی اور سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • 
نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگنے کی ویڈیو وائرل

    
نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگنے کی ویڈیو وائرل

    ‎نئی دہلی میں ہونے والے ایک احتجاج کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مظاہرین نے پاکستان، پاک فوج اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حق میں نعرے لگائے۔
    ‎سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں احتجاج کے دوران مختلف نعرے سنائی دیتے ہیں، جبکہ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ مظاہرین بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ویڈیو کے حوالے سے مختلف نوعیت کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نعرے کس تناظر میں لگائے گئے اور ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی۔
    کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احتجاج میں شریک افراد نے پاکستان اور اس کی عسکری قیادت کے حق میں نعرے بازی کی

  • امریکا ایرانی یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے آپریشن پر غور کر رہا ہے، نیویارک پوسٹ

    امریکا ایرانی یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے آپریشن پر غور کر رہا ہے، نیویارک پوسٹ

    امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سےمتعلق سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن کا آپشن زیر غور لا سکتا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز ایسے ممکنہ آپریشن کی تیاری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں، جس کے تحت ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کو قبضے میں لے کر ملک سے باہر منتقل کیا جا سکے،بعض ماہرین نے اس مشن کو عسکری تاریخ کے سب سے پیچیدہ فوجی آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے، کیوں کہ اس کے لیے ایرانی سرزمین کے اندر وسیع لاجسٹک انتظامات اور سخت سکیورٹی اقدامات درکار ہوں گے۔

    رپورٹ میں ملٹری پلاننگ سے واقف ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جوہری تنصیبات کے گرد سکیورٹی فراہم کرنے، رکاوٹیں اور دھماکہ خیز مواد ہٹانے اور محفوظ راہداریاں قائم کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس کے بعد اسپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں غنی شدہ یورینیم تک رسائی حاصل کرکے اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔

    نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہوگاسینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز نے کہا کہ اگرچہ ایرانی فوجی صلاحیتوں میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم جنگی ماحول اور محفوظ جوہری تنصیبات کی وجہ سے یہ لاجسٹک اعتبار سے دنیا کے پیچیدہ ترین فوجی آپریشنز میں شمار ہو سکتا ہے،اس ممکنہ کارروائی میں سیل ٹیم 6، رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک مواد اور بارودی مواد سے نمٹنے والی 21 ویں کمپنی کے اہلکار شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی غنی شدہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور منتقل کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔

    نیویارک پوسٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 20 ہزار پاؤنڈ سے زائد غنی شدہ یورینیم موجود ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کے لیے جوہری تنصیبات کے گرد مضبوط سکیورٹی حصار قائم کرنا اور زمینی و فضائی انخلا کی راہداریاں محفوظ بنانا ضروری ہوگا، جبکہ امریکی فورسز کو ممکنہ ایرانی حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق عہدیدار اور ایران کے مہلک ہتھیاروں سے متعلق امور کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج محفوظ انخلا مکمل ہونے تک امریکی فورسز کی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت ہوگی، انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے اصفہان کی جوہری تنصیب کے گرد اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے، اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں اور دھماکہ خیز مواد بھی نصب کیا گیا ہے اب اچانک کارروائی کا عنصر بھی پہلے جیسا نہیں رہا، کیوں کہ جوہری تنصیبات کے مقامات دونوں فریقوں کے علم میں ہیں۔

    رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران نے کسی بھی ممکنہ دراندازی کے پیش نظر اصفہان کی تنصیب کی سرنگوں میں بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا ہے اسی طرح نطنز کے قریب واقع جبل بیکیکس گزشتہ ماہ سینکڑوں سینٹری فیوجز وہاں منتقل کیے جانے کی اطلاعات کے بعد ایک نئے ممکنہ ہدف کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ جبل بیکیکس کو نشانہ بنانے والے کسی بھی آپریشن میں یا تو اس تنصیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے یا فضائی حملے مؤثر نہ ہونے کی صورت میں خصوصی فوجی کارروائی کے ذریعے اسے ناکارہ بنانے پر توجہ دی جا سکتی ہے ان کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار تنصیب کے ڈیزائن اور اس کی کمزوریوں سے متعلق درست انٹیلی جنس معلومات پر ہوگا،امریکی محکمہ دفاع یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اب تک کسی ایسے عملی منصوبے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

  • افغانستان فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    افغانستان فریڈم فرنٹ کا طالبان کے 2 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز صوبہ بدخشاں کے ضلع زِیبک میں طالبان کے 2 ڈرون مار گرائے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق فریڈم فرنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی ہفتے کی دوپہر کے وقت کی گئی،اس نے واقعے کی تصاویر دیکھی ہیں جن میں پہاڑی علاقے میں تباہ شدہ ڈرونز کا ملبہ دکھائی دیتا ہےاگرچہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے تاحال باضابطہ طور پر ڈرون مار گرانے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے ضلع زِیبک میں اس کے جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

    فریڈم فرنٹ نے جمعہ کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے زِیبک میں طالبان کی چوکیوں پر حملوں کے دوران کم از کم 21 طالبان جنگجوؤں، جن میں کئی کمانڈر بھی شامل تھے، کو ہلاک جبکہ 37 دیگر کو زخمی کر دیا،تنظیم کے مطابق اس نے سرحدی بٹالین کے اطراف بلند پہاڑی علاقوں میں واقع طالبان کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد طالبان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

    دوسری جانب طالبان کی 219 عمرِ ثالث ڈویژن نے جمعہ کی شب زِیبک میں طالبان مخالف جنگجوؤں کے حملے کی تصدیق کی،ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی 15ویں بارڈر بریگیڈ کے ساتھ جھڑپوں میں 5 مخالف جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے،تاہم طالبان نے اپنے جانی نقصانات کی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

    یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب چند روز قبل قائم ہونے والے سپاہِ میہن فرنٹ نے بھی بدخشاں کے ضلع یفتلِ سفلی پر حملہ کیا تھا،تنظیم نے 17 جولائی کو مختصر وقت کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور طالبان کے انٹیلیجنس دفتر پر قبضہ کر کے اپنی تنظیم کا پرچم سرکاری عمارت پر لہرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    شدید لڑائی کے بعد افغانستان فریڈم فرنٹ کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے کہا کہ طالبان کے خلاف جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بدخشاں کے ضلع زِیبک میں طالبان کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور آزادی کی فیصلہ کن جنگ نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا اختتام افغانستان کی آزادی اور عوام کی کامیابی پر ہوگا۔

  • دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبا تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے کامیاب احتجاج کے بعد بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔

    بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفا دیا، جس کے بعد کئی ہفتوں سے جاری طلبہ کا احتجاج اختتام پزیر ہوگیااس پیش رفت کو طلبہ اور احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کے اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں بھی حیرت پیدا کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جمعے تک اس بات کے کوئی آثار نہیں تھے کہ بھارتی حکومت اپنے ایک سینئر وزیر سے استعفا لینے پر آمادہ ہوجائے گی، تاہم صرف 24 گھنٹوں کے اندر صورت حال یکسر بدل گئی،وزیرِ تعلیم نے استعفا دے دیا، حکومت نے طلبہ کے نمائندوں سے دوبارہ مذاکرات شروع کیے اور احتجاجی تنظیم نے کئی ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق یہ اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ یہ مذاکرات میڈیکل امتحانات نیٹ کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد کیے گئے تھے، لیکن یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں بھارتی وزیرِ صحت جے پی نڈا، وزیر جتیندر سنگھ اور سی جے پی کے رہنما شریک تھے اجلاس میں احتجاجی قیادت نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے بنیادی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی،ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے، دھرمندر پردھان کا استعفا۔

    سی جے پی نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وزیرِ تعلیم کو عہدے سے نہ ہٹایا گیا تو طلبہ دوبارہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے، جیسا کہ 20 جولائی کو کیا گیا تھا، جہاں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی بھی ہوئی تھی،احتجاجی قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حکومت نے مقررہ وقت میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو وہ اس ڈیڈ لائن کا عوامی اعلان بھی کر دے گی۔

    جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ وہ حکومتی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ آگاہ کریں گے،مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں وزرا نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو صورتحال سے آگاہ کیا،اسی دوران وزارتِ تعلیم نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے 47 اہلکاروں کو برطرف کیا، جسے احتجاج کرنے والے طلبہ کو سخت پیغام دینے کی کوشش قرار دیا گیا اس کے ساتھ این ٹی اے کی تنظیمِ نو کے تحت نئے عملے کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا گیا۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف قوانین مزید سخت بنانے کے لیے ایک ترمیمی بل کی بھی منظوری دی حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، سیکریٹری تعلیم کے تبادلے اور پرچہ لیک کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

    تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود احتجاجی طلبہ اپنے مؤقف پر قائم رہے اور انہوں نے کہا کہ ان کا فوری مطالبہ صرف وزیرِ تعلیم کا استعفا ہےپھر ہفتے کی صبح سی جے پی کے داخلی اجلاس سے پہلے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے ایک بار پھر امت شاہ سے ملاقات کی، اسی دوران دھرمندر پردھان نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا۔

    رپورٹس کے مطابق استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد حکومت اور سی جے پی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوا، جس کے بعد فضا مکمل طور پر بدل گئی،بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں سی جے پی نے اعلان کیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر رہی ہے اور جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر موجود طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

    حکومت نے اس موقع پر دو اہم یقین دہانیاں بھی کروائیں حکومتی وزرا نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی،حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیٹ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو حکومتی قواعد کے مطابق زیادہ سے زیادہ مالی معاوضہ دیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ یہ احتجاج صرف دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے حکام کا خیال تھا کہ یہ تحریک شہریت ترمیمی قانون یا کسانوں کے احتجاج سے مختلف ہے کیونکہ اس کی قیادت نوجوان طلبہ کر رہے ہیں، اور حکومت مستقبل کی نسل کے ساتھ طویل محاذ آرائی نہیں چاہتی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس دوران کئی اقدامات کیے، جن میں این ٹی اے میں اصلاحات اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنا بھی شامل تھا، تاہم حکومت کو ایک طرف پارلیمنٹ میں متحد اپوزیشن اور دوسری طرف ملک بھر میں پھیلتی نوجوانوں کی تحریک کا سامنا رہا، جسے سیاسی طور پر زیادہ دیر تک برقرار رکھنا مشکل سمجھا جا رہا تھا۔

    حکومت پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کو بغیر رکاوٹ چلانا چاہتی ہے، خاص طور پر حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ دھرمندر پردھان کے استعفے سے اپوزیشن کا ایک بڑا اعتراض ختم ہو جائے گا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی یا نہیں۔

    رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابینہ میں ردوبدل تو کئی بار ہوئی، لیکن عوامی دباؤ کے نتیجے میں کسی وفاقی وزیر کا استعفا دینا انتہائی کم دیکھنے میں آیا ہے اس سے قبل 2018 میں ایم جے اکبر نے خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد #MeToo تحریک کے دوران وزارت سے استعفا دیا تھا۔

    حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھرمندر پردھان کے معاملے کی نوعیت ایم جے اکبر سے مختلف ہے کیونکہ ان پر ذاتی نوعیت کا کوئی الزام نہیں تھاتاہم کچھ حکومتی شخصیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر استعفا ناگزیر تھا تو اسے پرچہ لیک اسکینڈل سامنے آتے ہی قبول کر لیا جاتا تو کئی ہفتوں تک جاری احتجاج، عوامی غصہ اور سیاسی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

  • تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے  یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ایرانی تجارتی جہاز میں دھماکا ہوا، جس میں ایک اہلکار جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیاایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں مبینہ طور پر ہتھیار ایران لے جانے والے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب،ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ہفتے کے اختتام پر مزید وسعت اختیار کر گیا، تاہم امریکا نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم فضائی حملے روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، 2 جہازوں کو احکامات نہ ماننے پر ناکارہ بنا دیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ نے عرب بحیرہ میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی چارمینار کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی لاوین کو متعدد بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اور امریکی انتباہات نظر انداز کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے بعد وہ ایران کی جانب سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    ادھر نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی متاثر ہو سکتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

  • پاسداران انقلاب کا 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب کا 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں،پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکی ہلاکتوں سے متعلق واشنگٹن کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے برعکس قرار دیا، جنرل حسین محبی کا کہنا تھا کہ ایران کے حملوں میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں مبینہ طور پر 8 امریکی فوجی مراکز شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آپریشن ’نصر ٹو‘ کے تحت امریکی اہداف پر کیے گئے جوابی حملوں میں آٹھ امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اور صرف ایک مقام پر بیس شیلٹرز کو تباہ کیا گیا، جس سے دو سو سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئےامریکی عوام اپنے جھوٹے کمانڈروں کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ انہیں بے وقوف سمجھیں،انہوں نے امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ غیر جانبدار صحافیوں کو تباہ شدہ امریکی مراکز کا دورہ کروائے تاکہ وہ خود جا کر دیکھ سکیں اور ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد کا درست اندازہ لگا سکیں۔

    ایرانی فورسز کے مطابق یہ تمام کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب امریکی فوج کی جانب سے مسلسل فضائی حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے مغربی ایشیا میں قائم امریکی اسٹریٹجک اڈوں پر شدید حملے کیے۔

    ترجمان کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے ان جوابی حملوں میں 17 آپریشنل اور جاسوس ڈرونز تباہ کیے گئے ہیں اس کے علاوہ ہینگر میں کھڑا ایک ایف 15 لڑاکا طیارہ اور ایک پی 8 طیارہ بھی تباہ کیا گیا ہےپاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے دوران ایک سی 17 ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ اور 8 ری فیولنگ طیارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے اتحادی ممالک کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے امریکا کی حمایت جاری رکھی تو برطانیہ بھی ایرانی افواج کے لیے ایک یقینی اور جائز ہدف بن جائے گاترجمان حسین محبی نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے جاری اس جنگ اور کشیدگی میں جو بھی ملک امریکا کا ساتھ دے گا یا اس کا شریک کار بنے گا، اسے جوابی کارروائی میں لازمی طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔

  • جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، سرچ آپریشن جاری

    جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنامی جہاز ڈوب گیا، سرچ آپریشن جاری

    جنوبی بحیرۂ چین میں ویتنام کا ایک جہاز حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گیا، جس کے بعد چینی اور ویتنامی امدادی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 37 افراد کو بحفاظت بچا لیا، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

    جنوبی بحیرۂ چین میں نانشا جزائر کے قریب یونگشو ریف کے علاقے میں ویتنام کا ایک بحری جہاز حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گیا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا،اتوار کی صبح ساڑھے 7 بجے تک حادثے کا شکار ہونے والے جہاز سے 37 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے تمام بچائے گئے افراد ویتنامی شہری ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ ’خوئی نگوین 18‘ نامی اس جہاز پر عملے سمیت مجموعی طور پر 62 افراد سوار تھے، جن میں سے باقی افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں،ہفتے کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً 6 بج کر 23 منٹ پر چین کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے نان ہائی ریسکیو بیورو کے امدادی جہاز نان ہائی جیو 115 نے سمندر میں ہنگامی راکٹ پیراشوٹ سگنل دیکھا، جس کے بعد فوری طور پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    چینی حکام کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو کارروائی میں اس وقت چین کے چھ بحری جہاز، ایک امدادی ہیلی کاپٹر اور ویتنام کا ایک جہاز حصہ لے رہے ہیں،سانشا میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو حکام نے بتایا کہ ’خوئی نگوین 18‘ ویتنام میں رجسٹرڈ جہاز تھا، جس کی لمبائی تقریباً 70 میٹر، چوڑائی 10.8 میٹر اور مجموعی وزن 999 گراس ٹن تھا، لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، جبکہ جہاز ڈوبنے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

  • بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

    بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے

    بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین نے صحت کی خرابی کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    شہاب الدین نے کہاہے کہ حالیہ طبی معائنے میں ان میں آٹونومک نیوروپیتھی (Autonomic Neuropathy) کی تشخیص ہوئی ہے، اس بیماری کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر مدت کے لیے ہوش کھو دینےکی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    صدر کےپریس سیکرٹری کیجانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ نئے صدر کےانتخاب تک قومی پارلیمان کےاسپیکر صدر کےفرائض انجام دیںگے،بنگلادیشی آئین کے مطابق اسپیکر حفیظ الدین احمد عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جب کہ آئندہ 90 دن کے اندر نئے صدرکا انتخاب کیا جائےگا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ شہاب الدین نے رواں سال مئی میں علاج کی غرض سے برطانیہ کے دورے کے دوران بھارت میں مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر بات کی تھی،تاہم شہاب الدین نے اس کی تردیدکرتے ہوئے بنگلادیشی اخبار کو بتایا ہےکہ میں مختلف طبی مسائل کا شکار ہوں، میرے استعفے کی یہی وجہ ہے، اس وقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

    واضح رہےکہ بنگلا دیش میں صدرکا انتخاب ارکان پارلیمنٹ کے ووٹوں سے ہوتا ہےاس وقت حکمران جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتی ہے، اس لیے امکان ہےکہ اسی جماعت کا نامزد امیدوار نیا صدر منتخب ہوگا، 76 سالہ محمد شہاب الدین اپریل 2023 سے بطور صدر خدمات انجام دے رہے تھےان کی 5 سالہ مدت صدارت 2028 میں ختم ہونا تھی جب کہ اپوزیشن جماعتیں بھی کافی عرصے سے ان سے استعفےکا مطالبہ کر رہی تھیں۔ محمد شہاب الدین کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔