Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی

    بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی

    افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان مخالف مسلح کارروائیوں میں تیزی ،مختلف اضلاع میں جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔

    طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے کابل سے بدخشان جانے والے طالبان کے ایک فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 6 سے زائد زخمی ہوئے-

    ایکس پر جاری تنظیم کے بیان کے مطابق، اس کے جنگجوؤں نے کابل سے شمالی سالنگ تک طالبان کے فوجی قافلے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، یہ قافلہ بدخشان میں تعیناتی کے لیے اضافی نفری اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا تھا۔

    افغانستان فریڈم فرنٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ ہفتے کے روز ضلع زیباک میں اس کے جنگجوؤں نے طالبان کے 2 فوجی ڈرون مار گرائے، جبکہ جمعہ کے روز اسی ضلع میں طالبان کے ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

    دوسری جانب سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت ایک جائز حکومت نہیں، اور اس کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہوگی، جو بالآخر طالبان کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

  • پینٹاگون نےایران جنگ میں   ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی تفصیلات جاری کردیں

    پینٹاگون نےایران جنگ میں ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی تفصیلات جاری کردیں

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں جانی نقصان کے شفاف اعداد و شمار پر اعتراضات کے بعد پینٹاگون نے اپنے مرکزی ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے،گزشتہ ہفتے ڈیٹا میں غیر متوقع کمی اور شفافیت کی کمی پر پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ہفتے کے روز ڈسکاس (ڈی سی اے ایس) کے نظام میں 140 سے زائد مزید زخمی امریکی اہلکاروں کا اندراج کیا گیا ہے اور پچھلے ہفتے ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 4 فوجیوں کے نام بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔

    پینٹاگون کے ان نئے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 624 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ پچھلے ہفتے سامنے آنے والے 482 زخمیوں کے ہندسے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    پینٹاگون کے نظام میں کی جانے والی ان تبدیلیوں اور ایرانی حملوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم دکھائے جانے پر امریکی قانون سازوں اور میڈیا نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھااس معاملے پر سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی کے بارہ ڈیموکریٹک ارکان نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خط لکھ کر اس گڑبڑ کی وجوہات طلب کی تھیں۔

    تنازع بڑھنے پر دفاعی شعبے کے قائم مقام پریس سیکرٹری جوئیل والڈیز نے وضاحت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ”ویب سائٹ پر اعداد و شمار میں یہ کمی صرف عارضی فنی خرابیوں کا نتیجہ تھی“۔

    تاہم، ڈیٹا میں جانی نقصان کی ایک نئی کیٹیگری کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جس میں7 جولائی سے شروع ہونے والے غیر ملکی آپریشنز کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں، لیکن پینٹاگون کی جانب سے اس نئی کیٹیگری کی مکمل وضاحت تاحال فراہم نہیں کی گئی،7 جولائی کی یہ تاریخ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے اس نوٹس سے ملتی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا تنازع شروع ہوا ہے۔

    امریکی آئین کے تحت وار پاورز ایکٹ کے مطابق صدر کو 60دنوں کے اندر ملٹری آپریشنز کے لیے کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے، تاہم موجودہ انتظامیہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو بنیاد بنا کر اس وقت کی گنتی دوبارہ شروع کی ہے۔

    انتظامیہ کی اس منطق پر اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہےاس حوالے سے ہاؤس کی سماعت کے دوران ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے وزیر دفاع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے شدید تشویش ہے کہ انتظامیہ اس وقفے کے بہانے کانگریس کی آئینی منظوری کو نظر انداز کر رہی ہے اور قانونی ضرورت سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے-

  • 
12 اگست کو مکمل سورج گرہن، دنیا کے چند ممالک میں ہی دلکش منظر دیکھا جا سکے گا

    
12 اگست کو مکمل سورج گرہن، دنیا کے چند ممالک میں ہی دلکش منظر دیکھا جا سکے گا

    ‎دو سال بعد دنیا ایک بار پھر مکمل سورج گرہن کے منفرد اور دلکش منظر کی گواہ بننے جا رہی ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق 12 اگست کو ہونے والا یہ سورج گرہن کئی اعتبار سے غیر معمولی ہوگا، کیونکہ بعض علاقوں میں لوگ مکمل سورج گرہن کو سورج غروب ہونے کے وقت دیکھ سکیں گے، جو ایک نہایت نایاب فلکیاتی منظر تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق مکمل سورج گرہن صرف چند مخصوص علاقوں میں ہی نظر آئے گا۔ گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین کے شمالی حصے اور پرتگال کے ایک محدود علاقے کے رہائشی اس منفرد منظر کا براہ راست مشاہدہ کر سکیں گے۔
    ‎اسپین میں اس فلکیاتی مظہر کی خاص بات یہ ہوگی کہ مکمل سورج گرہن سورج غروب ہونے کے وقت دکھائی دے گا، جس سے آسمان کا منظر انتہائی دلکش اور یادگار بن جائے گا۔ ماہرین کے مطابق غروب آفتاب کے دوران مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ کئی برسوں بعد ممکن ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس سال کا گرہن خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
    ‎مکمل گرہن کے علاوہ یورپ اور شمالی افریقا کے متعدد ممالک میں جزوی سورج گرہن بھی دیکھا جا سکے گا۔ یورپ کے بیشتر علاقوں کے ساتھ ساتھ شمالی افریقا کے مختلف خطوں میں سورج کا ایک حصہ چاند کے پیچھے چھپتا ہوا نظر آئے گا۔
    ‎روس بھی ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہوگا جہاں جزوی سورج گرہن دو مختلف اوقات میں منفرد انداز سے دیکھا جا سکے گا۔ روس کے غیر آباد علاقے Taymyr Peninsula میں جزوی گرہن کا آغاز سورج طلوع ہونے کے وقت ہوگا، جبکہ ملک کے دوسرے حصے میں یہی گرہن سورج غروب ہونے کے وقت دکھائی دے گا، جو ایک غیر معمولی فلکیاتی منظر ہوگا۔
    ‎پاکستان میں مکمل سورج گرہن دکھائی نہیں دے گا، تاہم ناسا کے مطابق اس فلکیاتی مظہر کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 34 منٹ پر ہوگا، مکمل مرحلہ رات 12 بج کر 12 منٹ پر آئے گا، جبکہ گرہن کا اختتام رات 2 بج کر 58 منٹ پر ہوگا۔
    ‎ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست آنکھوں سے دیکھنا بینائی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے صرف منظور شدہ سولر فلٹرز یا خصوصی گرہن چشموں کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

  • 
فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ سے 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر، یورپ میں خطرے کی گھنٹی

    
فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ سے 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر، یورپ میں خطرے کی گھنٹی

    ‎فرانس اور اسپین میں موسمیاتی تبدیلی سے منسلک شدید جنگلاتی آگ کے باعث تین لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکام نے آگ کے پھیلاؤ کے پیش نظر مزید علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جبکہ آئندہ چند روز میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق فرانس کے شہر بورڈو میں تقریباً سات ہزار افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس کا سب سے بڑا انخلا ہے۔ دوسری جانب اسپین میں فائر فائٹرز دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں بھڑکنے والی دو بڑی جنگلاتی آگ کو ایک دوسرے سے ملنے سے روکنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
    ‎شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ بجھانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں سینکڑوں فائر فائٹرز، امدادی ٹیمیں، ہیلی کاپٹر اور فضائی جہاز آگ پر قابو پانے کے لیے سرگرم ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق رواں سال یورپ میں معمول سے کہیں زیادہ رقبہ جنگلاتی آگ کی نذر ہو چکا ہے۔ جنگلاتی آگ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ براعظم میں آگ کے واقعات کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے خطرناک واقعات کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد کی زندگی، ماحول اور معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

  • 
روس مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو یوکرین جنگ میں لانے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ

    
روس مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو یوکرین جنگ میں لانے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ

    ‎یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو شامل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو نہ صرف اضافی فوجی تعینات کرنا چاہتا ہے بلکہ شمالی کوریا سے مزید عسکری سازوسامان بھی حاصل کر رہا ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس گزشتہ ماہ سے وورونز کے سرحدی علاقے میں شمالی کوریائی فوجیوں کے استقبال اور تعیناتی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جون سے اس مقصد کے لیے انتظامات جاری ہیں اور ماسکو ان فوجیوں کو جنگی محاذ پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
    ‎زیلنسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ پیانگ یانگ روس کو بیلسٹک میزائلوں کے لیے اضافی لانچر بھی فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ روسی افواج کی جنگی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
    ‎یوکرینی صدر کے مطابق یہ پیش رفت صرف یوکرین کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس شمالی کوریا کو جدید جنگی تجربہ حاصل کرنے، ہتھیاروں کی آزمائش اور عسکری صلاحیتوں میں بہتری کا موقع فراہم کر رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں خطے اور دنیا کے دیگر حصوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
    ‎زیلنسکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے اقدامات کرے جو خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں۔
    ‎دوسری جانب روس اور شمالی کوریا کی جانب سے زیلنسکی کے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • 
ایران مذاکرات بحال کرنے پر تیار، نیا دور اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ میں متوقع

    
ایران مذاکرات بحال کرنے پر تیار، نیا دور اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ میں متوقع

    ‎عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور آئندہ مرحلے کے مذاکرات اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ اس نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ موجودہ حالات کے باعث صرف عارضی طور پر معطل کیا تھا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ وہ سفارتی بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ نئے مذاکرات کا آغاز اسی مرحلے سے کیا جائے گا جہاں گزشتہ دور میں بات چیت رکی تھی۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی نئے روٹ یا متبادل انتظام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ سب سے پہلے آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے، جس کے بعد منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اعتماد سازی ناگزیر ہے، اسی لیے تمام فریقوں کو پہلے سے طے شدہ نکات پر ہی مذاکرات آگے بڑھانے چاہییں تاکہ کسی نئے تنازع یا اختلاف سے بچا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والے وقفے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور توقعات کے مقابلے میں شکوک و شبہات زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران خطے میں تمام حملے رکوانے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب امریکا بھی کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کرے۔
    ‎ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا حملے نہیں کرتا تو ایران بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا بہترین ذریعہ ہے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    ‎واضح رہے کہ اس پیش رفت کے حوالے سے تاحال ایران، پاکستان یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہونے کی اطلاعات دے رہے ہیں۔

  • 
نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں کارروائیاں مزید وسیع کرنے کا عندیہ

    
نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں کارروائیاں مزید وسیع کرنے کا عندیہ

    ‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو دی گئی ہدایات کے تحت مختلف دیہات میں داخل ہو کر تلاشی لینے، اسلحہ قبضے میں لینے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ان علاقوں میں، جنہیں اس نے "دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے” قرار دیا، مزید وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
    ‎دوسری جانب مغربی کنارے میں انسانی حقوق کے کارکن اور یوتھ اگینسٹ سیٹلمنٹس کے بانی عیسیٰ عمرو نے اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہری روزانہ تشدد اور خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ‎عیسیٰ عمرو کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے حملے اور فوجی کارروائیاں گزشتہ کئی ماہ سے شدت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسرائیلی فوج ان واقعات کو روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔
    ‎مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں کے دوران فوجی چھاپوں، گرفتاریوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے شہریوں کے تحفظ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے پر زور دے رہے ہیں۔

  • 
رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، دو مساجد نذر آتش، عرب ممالک کی شدید مذمت

    
رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، دو مساجد نذر آتش، عرب ممالک کی شدید مذمت

    ‎مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں رام اللہ کے مختلف علاقوں میں دو مساجد، متعدد گاڑیاں اور زرعی اراضی کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مختلف دیہات پر دھاوا بولتے ہوئے املاک کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہوئے عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی، متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور زرعی زمینوں میں بھی آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا۔ فلسطینی شہریوں نے ان حملوں کو منظم کارروائی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎اس سے دو روز قبل بھی مغربی کنارے کے گاؤں تال میں اسرائیلی آبادکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید ہوگئے تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آبادکاروں کے حملوں اور گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی قابض افواج نے قلقیلیہ میں ایک فلسطینی نوجوان کو پیشانی پر گولی مار کر شہید کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ فلسطینی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎ادھر آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور بے حرمتی کی شدید مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی سکیورٹی میں انتہا پسند عناصر کا مسجد اقصیٰ میں داخل ہونا، اسرائیلی پرچم لہرانا اور آبادکاروں کی یلغار بین الاقوامی قوانین اور تاریخی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
    ‎وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ مقبوضہ مشرقی القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں خطے میں نفرت اور کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔
    ‎اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر بیت المقدس کے قدیم شہر تک مسلمانوں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسجد اقصیٰ کے تمام احاطے میں عبادت کا خصوصی حق صرف مسلمانوں کا تسلیم کیا جائے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کو کوئی قانونی خودمختاری حاصل نہیں، جبکہ اردن کی ہاشمی سرپرستی اور محکمہ اوقاف کے انتظامی کردار کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل کو مقدس مقامات کی بے حرمتی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔

  • 
شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر کام کر رہا ہے، صدر احمد الشرع

    
شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر کام کر رہا ہے، صدر احمد الشرع

    ‎شام کے صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے پر سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس میں کئی دیگر ممالک بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں خطے میں ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
    ‎الجزیرہ کے پروگرام المقابلہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ ایسے سکیورٹی انتظامات پر بات چیت کر رہا ہے جن کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مطلب شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اپنے قانونی حق سے دستبردار ہونا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق شام اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎صدر الشرع نے کہا کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اگر سکیورٹی انتظامات طے پا جاتے ہیں تو یہ وسیع تر سیاسی حل اور دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل جنوبی شام میں متعدد فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کر چکا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
    ‎لبنان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ شام کا ہمسایہ ملک میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ دمشق لبنان میں عسکری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
    ‎ان کے مطابق شام اس وقت لبنانی حکام کے ساتھ ایسے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہا ہے جن سے لبنان کو موجودہ بحران سے نکالنے اور استحکام کی طرف لے جانے میں مدد مل سکے۔
    ‎صدر الشرع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں جنگ اور امن کے فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست کے پاس ہونا چاہیے اور ملک میں اسلحے کا کنٹرول بھی ریاست کے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔

  • 
امریکا نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں، ایرانی فوج

    
امریکا نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں، ایرانی فوج

    ‎ایرانی فوج کے ترجمان محمد امر اکرمینیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملے نہ کیے جانے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
    ‎ترجمان کے مطابق ایران کی عسکری حکمت عملی مکمل طور پر دفاعی اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہے، اسی لیے جب امریکی حملے رک گئے تو ایران نے بھی اپنے جوابی اقدامات روک دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں پہل کرنے کے بجائے صرف حملوں کا جواب دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
    ‎محمد امر اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی قیادت اس وقت داخلی سطح پر اختلافات کا شکار دکھائی دیتی ہے اور واشنگٹن کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی واضح اور مربوط حکمت عملی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا اندازہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف بیانات اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی سرگرمیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
    ‎ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق پالیسی پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہی غیر یقینی صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ تنازع پہلے ہی باب المندب کی آبنائے تک اثرات مرتب کر چکا ہے۔ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی بحری تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی فوج کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی ضروری ہے، تاہم اگر ایران پر دوبارہ حملے کیے گئے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔