مشرق وسطیٰ میں ہفتے کی صبح تک بحرین، اردن اور کویت میں ایران کی جانب سے کسی نئے حملے یا میزائل کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی، حالانکہ یہ تینوں ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں اور گزشتہ 13 روز کے دوران ایرانی حملوں اور فضائی دفاعی کارروائیوں سے متاثر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرین، اردن اور کویت کی سرکاری ایجنسیوں یا متعلقہ حکام نے ہفتے کی صبح تک سوشل میڈیا یا سرکاری ذرائع پر ایران کی جانب سے کسی نئے حملے، میزائل لانچ، روک تھام یا کسی نقصان کی اطلاع جاری نہیں کی۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی جمعہ کے روز (امریکی مشرقی وقت کے مطابق) ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔ اس سے قبل مسلسل 13 راتوں تک سینٹ کام ایران میں فوجی اہداف پر حملوں کی تصدیق کرتا رہا تھا۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا جمعہ کے روز واقعی کوئی امریکی کارروائی نہیں کی گئی یا پھر سینٹ کام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے سینٹ کام سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ادھر ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی ہفتے کی صبح تک ملک میں رات کے دوران کسی نئے حملے، دھماکے یا فضائی کارروائی کی اطلاع نہیں دی۔
دریں اثنا سعودی عرب کے حکام نے جمعہ کے روز بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں ینبع اور جازان میں "ممکنہ خطرے” کے حوالے سے متعدد انتباہات جاری کیے، تاہم ان انتباہات میں خطرے کی نوعیت یا اس کے ممکنہ ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
