Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • جاپان میں  کے جھٹکے

    جاپان میں کے جھٹکے

    جاپان کے صوبہ چوبا کے مشرقی ساحل کے نزدیک جمعرات کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.3 تھی۔
    چین میں زلزلے نے تباہی مچا دی، تفصیل جانیے رپورٹ میں
    زلزلے کے جھٹکے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح سات بجکر 14 منٹ پر محسوس کئے گئے اور اس کا مرکز 35.1 ڈگری عرض البلد اور 140.6 ڈگری طول البلد میں زمین کی سطح سے 60 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔

  • بارش کے لیے کس جانور کی کروائی گئی شادی؟جان کر آپ بھی ہوں حیران

    بارش کے لیے کس جانور کی کروائی گئی شادی؟جان کر آپ بھی ہوں حیران

    لوگوں میں توہم پرستی آج بھی عام ہے اور لوگ مختلف کاموں کے لیے عجیب وغریب حرکات کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی ریاست تلنگانہ میں پیش آیا جہاں بارش کے لیے دو گدھوں کی آپس میں شادی کروا دی گئی۔ شادی کااہتمام مقامی افراد نے کیا اور خدا سے رحم کرنے کی دعا کی۔

    شادی کی تقریب مقامی نلا پوچامہ مندر میں ہارجن بستی کے افراد کی طرف سے منعقد ہوئی۔مذکورہ شادی کی رسومات عام شادی کی طرح ہی سرانجام دی گئیںجیسے گانے، رقص۔ اس موقع پر دلہا اور دلہن نے ہندو عقیدہ کے مطابق خوبصورت لبا س پہنے ہوئے تھے۔

  • بھارتی لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل آج پیش ہوگا

    بھارتی لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل آج پیش ہوگا

    بھارتی لوک سبھا میں آج جمعرات کو طلاق ثلاثہ بل پیش کیا جائے گا۔قبل ازیں 21 جون کو اس بل کا مسودہ پیش کیا گیا تھا، جس کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید مخالفت کی تھی۔ بی جے پی اور کانگریس نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو اپنی حاضری یقینی بنانے کا کہا ہے۔
    30روپے مانگنے پر بیوی کو طلاق

    حکومت نے دعوی کیا ہے کہ نہ صرف طلاق ثلاثہ بل مسلم خواتین کومساوی حقوق فراہم کرے گا بلکہ انصاف کو یقینی بنائے گا۔ یہ بل شادی شدہ خواتین کے حقوق کی حفاظت میں مدد کرے گا اوران کے شوہروں کو ‘طلاق بدعت’ دینے سے روکے گا۔

    تین طلاق بل کے مطابق تین طلاق کی روایت کو ختم اورغیرقانونی اعلان کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مرد کو تین سال کی قید کی سزا اورجرمانے کے ساتھ مجرمانہ جرم تسلیم کیا گیا ہے۔تین طلاق بل میں اس شادی شدہ خاتون اوران کے بچوں کوالاﺅنس دینے کی سہولت ہے۔

  • ترکی کا نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا خیر مقدم

    ترکی کا نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا خیر مقدم

    انقرہ:ترکی میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے اقتدار میں‌آنے پر ہر طرف خوشیاں منائی جارہی یں.وہ برطانوی وزیر اعظم کو خلافت عثمانیہ کا ورثہ قرار دے رہے ہیں۔ میڈیا اور سیاسی رہنماؤں کا دعویٰ ہے سلطنت عثمانیہ کے پوتے یورپ کے دو ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کا باعث بن سکتے ہیں۔

    ترک اخبارات کے مطابق لندن کے سابق میئر بورس جانسن سلطنت عثمانیہ کے آخری وزیر داخلہ علی کمال کے پوتے ہیں جو ترکوں کے لیے فخر کا باعث بن رہا ہے۔

    ترکی کے ایک اخبار نے اپنے پہلے صفحہ پر سرخی لگائی کہ ’’سلطنت عثمانیہ کے پوتے وزیر اعظم بن رہے ہیں‘‘۔ اخبار میں علی کمال کے آبائی گھر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزیر اعظم ترکی کے شہر چانقری کی جڑوں سے ہیں۔

    ترک اخبار نے لکھا ہے کہ بورس جانسن کے پڑدادا صحافی تھے جو حکومت کا بھی حصہ رہے۔ جب برطانیہ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا تو علی کمال نے قابض فوج کا ساتھ دیا۔ قبضے کے چار سال بعد جب ملک میں ایک طفیلی حکومت قائم کی گئی تو علی کمال اس میں وزیر داخلہ تھے۔ لیکن یہ حکومت زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور تین ماہ بعد ہی اس کا خاتمہ ہو گیا۔


    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بورس جانس کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ ترکی اور برطانیہ کے درمیان بہتر تعلقات کا باعث بنیں گے۔ترک نیوز ایجنسی نے چانقری کے گاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہاں کا باشندہ برطانیہ کا وزیر اعظم بننے جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم بورس جونسن کے آباؤ اجداد مسلمان تھے اور ان کے پڑدادا علی کمال کا تعلق ترکی سے تھا۔ بورس جانسن مسلمان مخالف بیانات کی وجہ سے متنازعہ بھی رہے وہ اکثر پناہ گزینوں اور مسلمان خواتین پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔

    ترک اخبار روزنامہ حریت نے لکھا ہے کہ علی کمال نے 1903 میں ونی فریڈ برن نامی سوئس نژاد برطانوی خاتون سے شادی کر لی تھی اور ان کے ہاں ایک بیٹے اور بیٹی نے جنم لیا تھا۔ بیٹے کا نام ولفریڈ جانسن رکھا گیا۔کمال کے بیٹے ولفریڈ جانسن نے ایرین ولیمز نامی برطانوی خاتون سے شادی کی جن سے اسٹینلے جانسن پیدا ہوئے جو علی کمال کے پوتے اور بورس جانسن کے والد ہیں۔

    رپورٹ کےمطابق علی کمال کی بیگم کی وفات کے بعد ان کے بچوں کی پرورش نانی نے کی جو برطانیہ میں ہی مقیم تھیں۔ بچوں کے ننھیال نے مذہبی تعصب سے بچنے کے لیے خاندانی نام کا لاحقہ جانسن لگا دیا۔

    رائٹراور دوسرے عالمی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں‌لکھا ہے کہ علی کمال عثمانی خلافت کے دور میں لبرل نظریات کے حامل تھے اور 1922 میں انہیں گرفتار کر کے استنبول سے انقرہ لے جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ان کے پڑدادا برطانیہ اس لیے آئے تھے کیونکہ یہاں مکمل آزادی ہے

  • امریکہ، اسرائیل بائیکاٹ مہم کے خلاف بل منظور

    امریکہ، اسرائیل بائیکاٹ مہم کے خلاف بل منظور

    امریکی کانگرس کے ایوان بالا سینٹ میں اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے عالمی مہم’ بی ڈی ایس’ کے خلاف ایک نیا بل منظور کیا گیا ہے۔ منظور ہونے والے اس بل میں امریکی سینٹ میں ری پبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹس ارکان کے درمیان اختلاف نمایاں دیکھا گیا۔ بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہوا ۔
    فلسطین کا اسرائیلی کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ
    بل پر رائے شماری کے دوران 398 ارکان نے حمایت اور 17 نے مخالفت کی۔ مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں 16 ڈیموکریٹس ارکان شامل تھے۔ ان میں دو مسلمان عرب ارکان کانگرس الھان عمر اور رشیدہ طلیب بھی شامل ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر، سرینگر لیہہ شاہراہ پر تودے گرنے کے بعد ٹریفک معطل

    مقبوضہ کشمیر، سرینگر لیہہ شاہراہ پر تودے گرنے کے بعد ٹریفک معطل

    مقبوضہ کشمیر میں سرینگر لیہہ شاہراہ پر جمعرات کو موسلادھار بارشوں اور آسمانی بجلی کے نتیجے میں تودے گر گئے ۔جس کے بعدٹریفک کی نقل و حمل عارضی طور پر روک دی گئی۔یہ تودے زوجیلا پاس کے علاقے میں گرے ۔
    اطلاعات کے مطابق زوجیلا پاس کے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں، جن میں زیادہ مال بردار ٹرک شامل ہیں، رکی ہوئی ہیں ۔

    اعلیٰ حکام کے مطابق روڈ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ تودے چار مقام پر گرے ہیں۔جس کی وجہ سے آپ پورا دن ٹریفک معطل رہے گی۔

  • بھارت ،بہار میں خاتون کو یرغمال بنا کر اجتماعی زیادتی

    بھارت ،بہار میں خاتون کو یرغمال بنا کر اجتماعی زیادتی

    بھارتی صوبہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے آبائی ضلع نالندہ میں ایک عورت کو یرغمال بنانے اور اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ معاملہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔
    اڑھائی سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل کردی گئی
    عورت نے دعوی کیا کہ اسے 16جولائی کو اغوا کیا گیا، یرغمال بنا کر 4آدمیوں نے 7دن تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عورت کے پاس ایک آدمی آیا اور اسے خاوند کے گھر سے یہ کہہ کر لے جایا گیا کہ اس کا باپ بیمار ہے۔مذکورہ آدمی نے اسے پیش کش کی کہ اسے والدین کے گھر چھوڑ دے گا۔جیسے ہی اس نے اسے قبول کیا اسے ایک گھر لے جایا گیا اور 7دن کے لیے وہاں یرغمال رہی ۔عورت نے مزید کہا کہ اس کے زیورات اور نقدی بھی چرا لی گئی ۔ 23جولائی کو عورت فرار ہو کر اپنے خاوند کے گھر پہنچی۔ پولیس نے عورت کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی ہے اور معاملہ کی تحقیقات جاری ہے۔

    اسی طرح کا واقعہ سماسٹپور میں بھی پیش آیا جہاں ایک عورت کو اغوا کر کے چھ افراد نے زیادتی کی۔ اس واقعے کا ویڈیو بھی بنایا گیا۔
    یاد رہے کہ بھارت میں عورتوں کی عصمت دری کے واقعات عام ہیں۔ غیرملکی خواتین تک سے زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں۔

  • نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو عہدہ سنبھالتے ہی مشکلات کا سامنا

    نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو عہدہ سنبھالتے ہی مشکلات کا سامنا

    لندن: نومنتخب برطانوی وزیر اعظم کے لیے وہ مثال درست ثابت ہوئی کہ "سرمنڈاتے ہی اولے پڑے” بورس جانسن کو پہلے دن ہی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ،برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن نے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی، جس کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ اسٹریٹ روانہ ہورہے تھے کہ انہیں احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق بکھنگم پیلس کے باہر کلائمنٹ ایمرجنسی کے کارکنان کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے ہاتھوں کی چین بنا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور سڑک بلاک کردی۔

    یاد رہے کہ ملکہ برطانیہ سے ملاقات کے بعد بورس جانسن وزیراعظم کی حیثیت سے اپنا پہلا خطاب ڈاؤننگ اسٹریٹ پر کریں گے۔رپورٹ کے مطابق آئندہ چند دن برطانوی وزیراعظم کیبنٹ مممبر کے ساتھ گزاریں گے جس میں بریگزٹ کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

  • بھارت میں ہجومی تشدد کا خاتمہ کریں ، ایسا نہ کیا تو …پھر، مودی کے نام 49 ممتاز شخصیات کا خط

    بھارت میں ہجومی تشدد کا خاتمہ کریں ، ایسا نہ کیا تو …پھر، مودی کے نام 49 ممتاز شخصیات کا خط

    نئی دہلی:موب لنچنگ یا ہجومی تشدد کے ہر روز رونما ہوتے واقعات کے خلاف ملک کی اہم شخصیات نے آواز بلند کی ہے، بھارت کی ممتاز 49شخصیات نے وزیراعظم مودی کو خط لکھ کر ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگرایسا نہ ہوسکا تو پھر بھارت کے وجود کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں.

    وزیر اعظم کو لکھے گئے اس خط میں ہجومی تشدد کے بڑھتے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط لکھنے والے لوگوں میں سنیما، آرٹ، میڈیکل وغیرہ سے جڑی شخصیات شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی کو لکھے خط پر منی رتم ، ادور گوپال کرشنن، رامچندر گوہا، انوراگ کشیپ جیسے دانشوران کے دستخط موجود ہیں۔

    مودی کے لکھے گئے اس خط میں لکھا ہے کہ ہمارے آئین کے مطابق ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہے جہاں ہر مذہب، طبقہ، صنف اور ذات کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔خط کے ذریعے دانشوران نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کی لنچنگ پر فوری پابندی لگائی جائے۔

    خط میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 2009 سے لے کر 29 اکتوبر 2018 کے درمیان مذہب کی بنیاد پر 254 جرائم درج کیے گئے، اس دوران 91 لوگوں کو قتل کیا گیا اور 579 افراد زخمی ہوئے۔ خط کے مطابق مسلمان جو ہندوستان کی آبادی کے 14 فیصد ہیں وہ 62 فیصد جرائم کا شکار بنے، جبکہ عیسائی جن کا آبادی میں حصہ محض 2 فیصد ہے وہ 14 فیصد جرائم کا شکار ہوئے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایسے 90 فیصد واقعات مئی 2014 یعنی نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد رونما ہوئے۔

    بھارتی ممتاز شخصیات نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنت میں لنچنگ کے واقعات پر تنقید کی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ خط میں مزید لکھا ہے۔ ”ایسا جرم کرنے والوں کے خلاف کیا قدم اٹھایا گیا۔ ہمارا موقف ہے کہ ایسے جرائم کرنے والوں کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے اور قصورواروں کو ایسی سزا دی جائے کہ وہ دنیا والوں کے لیے ایک مثال بن جائے۔ جب قتل کے قصورواروں کو بنا پیرول کے عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے تو لنچنگ کے معاملات میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا! ہمارے ملک کے کسی شہری کے دل میں خوف نہیں رہنا چاہیے۔“

  • "جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان” یوٹیوب پر نفرت انگیز ویڈیو وائرل

    "جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان” یوٹیوب پر نفرت انگیز ویڈیو وائرل

    ’ جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان ‘ انتہا پسند ہندووں نے نفرت آمیز گانا یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرکے ہندتوا کا ثبوت پیش کردیا .تفصیلات کے مطابق ’جے شری رام‘ کے نام پر قتل عام کو فروغ دینے والا گانا تیار کر کے یو ٹیوب چینل پربار بار اَپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ حیران کن یہ ہے کہ اس کے خلاف کسی طرح کی کارروائی بھی اب تک نہیں ہوئی ہے۔

    معتبر ذرائع کے حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دراصل ایک گانا گزشتہ دنوں ریلیز ہوا ہے جس کے بول ہیں ’جو نہ بولے جے شری رام، بھیج دو اس کو قبرستان‘۔ یہ گانا سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اس گانے کو ’ورون بہار آفیشیل‘ نامی یو ٹیوب چینل پر اَپ لوڈ کیا گیا ہے۔ گانا 23 جولائی کو اَپ لوڈ کیا گیا ہے اور اس میں جس طرح کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے کافی ہیں۔

    مسلمان رہنماوں نے ہندودہشت گردانہ سوچ کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ویڈیو ہے جو ’جے شری رام‘ کا نعرہ زبردستی لگوانے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور موب لنچنگ جیسے واقعات کو بڑھائے گا۔ یہی سبب ہے کہ کئی لوگ اس ویڈیو کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ ویڈیو بنانے اور اَپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف اس لیے بھی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کی موب لنچنگ پر ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے نوجوانوں کے خلاف قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس تعلق سے ٹک ٹاک اسٹار محمد رضوان فیضل اور اس کی ٹیم کے خلاف ممبئی پولس میں کیس درج ہوا ہے۔

    مسلمان زعما کے مطابق ملک بھر میں ہو رہے موب لنچنگ کے واقعات سے دلت اور اقلیتی طبقہ فکر مند ہے اور لگاتار اس کے خلاف آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں، لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اُن سماج دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو مذہبی تشدد پھیلانے میں پیش پیش ہیں۔ جبراً ’جے شری رام‘ کہلوانے کا تو جیسے چلن ہی عام ہو گیا ہے اور ایسی صورت میں یہ خبر حیران کرنے والی ہے کہ

    ایک ٹوئٹر یوزر نے اس میوزک ویڈیو کا لِنک شیئر کرتے ہوئے لکھا ‘ ہے کہ ’’ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جہاں دہشت گرد اپنا میوزک ویڈیو بناتے ہیں اور یو ٹیوب پر چلاتے ہیں۔ اس معاملے میں طالبان اور آئی ایس آئی ایس اس تکنیک تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے ساتھ ڈیجیٹل دہشت گردی۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ پرشانت صحافت پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے متعلق قابل اعتراض سوشل میڈیا پوسٹ کے الزام میں انھیں حال ہی میں یو پی پولس نے گرفتار بھی کیا تھا۔

    دوسری طرف بہت سے لوگوں نے گانا بنانے اور یو ٹیوب پر اَپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت اس سوچ کا خاتمہ کرے ورنہ اکھنڈ بھارت نہیں رہے گا.