عمان (مسقط) سلطان قابوس بن سعید کی نزوی سے صحار میں ممکنہ روانگی کے باعث مسقط تا صحار شاہراہ پر سیکورٹی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مسقط میں موجود باغی ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق آج بروز جمعرات سترہ رمضان المبارک کو سلطان آف عمان قابوس بن سعید کی نزوی میں موجود اپنے محل سے صحار روانگی متوقع ہے۔ جس کے باعث مسقط تا صحار نیشنل ہائی وے پر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہر ایک سو میڑ کے فاصلے پر روڈ کے دونوں اطراف سیکورٹی اہلکار چاک و چوبند موجود ہیں۔ جبکہ افطاری کے وقت سے رات گئے تک شاہراہ کی بندش متوقع ہے۔ تا ہم اطرافی سڑکیں بدستور کھلی ہیں اور ان سے تمام آمد رفت بھی جاری ہے۔ یاد رہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں سلطان آف عمان براستہ روڈ صحار جاتے ہیں۔ اور رمضان کا آخری عشرہ اور پھر عید الفطر بھی صحار میں ہی گزارتے ہیں۔
Category: بین الاقوامی
-

مودی کا جادو ایک بار پھر چل گیا، کانگریس بری طرح ہار گئی
بھارتی الیکشن میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا جادو ایک بار پھر چل گیا ہے اور ان کی پارٹی لوک سبھا انتخابات میں نہ صرف واضح فتح حاصل کر رہی ہے بلکہ مغربی بنگال اور اوڈیشہ میں بھی اس نے اپنی حالت مضبوط کرکے مخالفین کی بولتی بند کردی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ صرف پچاس سیٹوں کے آس پاس سمٹ کررہ گئی ہے جس کے سبب پچھلی مرتبہ کی طرح وہ اس بار بھی لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کی حالت میں نہیں لگ رہی۔ کانگریس کی بری طرح شکست سے واضح ہو گیا ہے کہ اسے عوامی ہمدریاں حاصل نہیں رہیں.
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے اپنی پارٹی کی شکست قبول کرتے ہوئے ہندوستانی وزیراعظم مسٹر مودی کو شاندار جیت کے لئے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے امیٹھی سیٹ پر جیتنے والی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کو بھی مبارکباد دی ہے۔
یاد رہے کہ بی جے پی بھارتی الیکشن میں واضح برتری حاصل کر چکی ہے اور چند دنوں بعد نریندر مودی اور ان کے کابینہ کے اراکین دوبارہ حلف اٹھائیں گے. لوک سبھا الیکشن کے سلسلہ میںووٹوں کی گنتی جاری ہے تاہم زیادہ تر حلقوں میں 90 فیصد سے زائد گنتی مکمل ہوچکی ہے جس کے تحت بی جے پی اتحاد کو 348، کانگریس اتحاد 78، مہاگتھ بندھن 18 اور دیگر مقامی جماعتوں کو 98 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے پلوامہ حملے کے بعد نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا اور ہندوستانی فوجیوں کی تصویریں استعمال کر کے اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کے بعد الیکشن جیتنے میںکامیاب رہے. بی جے پی راجھستان اور گجرات میںمکمل کلین سویپ کر رہی ہے. اسی طرح تامل ناڈو، کیرالہ، پنجاب، اترپردیش، ویسٹبنگال، تلنگانہ اور دیگر ریاستوںمیںبھی واضح برتری حاصل کر رہی ہے.
-

لوک سبھا الیکشن، کانگریس لیڈر سونیا گاندھی جیت گئیں
بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی لوک سبھا کی سیٹ جیت گئی ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹکے مطابق وہ ریاست اترپردیش میں رائے بریلی کی سیٹ سے الیکشن لڑ رہی تھیں. انہوں نے بی جے پی لیڈر دنیش پرتاپ سنگھ کو شکست دی ہے ۔
ادھر کانگریس جنرل سکریٹری پریانیکا گاندھی نے بھی بی جے پی کی جیت کیلئے نریندر مودی کو مبارکباد دی ہے ۔
یاد رہے کہ بی جے پی واضح اکثریت حاصل کر رہی ہے اور بی جے پی کا دوبارہ برسراقتدار آنا یقینی بن چکا ہے. نریندر مودی 26 مئی کو وزارت عظمیٰکا دوبارہ حلف اٹھا سکتے ہیں. -

مودی الیکشن میں فتح کے بعد سب سے پہلے کہاں پہنچے اور ان کی آمد پر کیا ہوا؟
بھارت میںلوک سبھا الیکشن 2019 میںواضح اکثریت سے جیتنے کے بعد نریندر مودی بی جے پی کے مرکزی دفتر پہنچ گئے جہاں بی جے پی اہلکاروں نے زبردست گلپاشی کی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی کے دفتر پہنچنے کے موقع پربی جے پی کے صدرامت شاہ نے وزیراعظم مودی کو جیت کا عظیم ہیرو قراردیا۔ اس موقع پر کارکنان کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی.
امت شاہ نے تاریخی جیت حاصل کرتے ہوئے پارٹی کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ملک کے 17 صوبوں کے اندر50 فیصد سے زیادہ ووٹ بی جے پی کوملے ہیں ۔ انہوں نے مختلف صوبوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل ہونا یہ ایک تاریخی ہے۔
امت شاہ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو زبردست شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ 17 ریاستیں ایسی ہیں جہاں کانگریس کو بڑا صفرملا ہے۔
انہوں نے کانگریس پرسخت تنقید کی اور کہاکہ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کے اتحاد کو بی جے پی نے شکست دے کریہ ثابت کردیاہے کہ خاندانوں اورذات پات پرمبنی پارٹیوں کو ہندوستانی عوام نے جواب دیا ہے۔
-

نریندر مودی نے ٹویٹر سے چوکیدار کا لفظ کیوں ہٹایا؟ خود ہی بتا دیا
بھارت میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات میں کامیابی کے بعد ٹویٹر ہینڈل پر سے چوکیدار کا لفظ ہٹا دیا ہے اور اب ان کے نام کے ساتھ صرف نریندر مودی لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی اور حلیف جماعتوں کی طرف سے جیت کی خبروں کے بعد نریندر مودی کے ٹویٹر ہینڈل پر یہ تبدیلی کی گئی ہے۔ ادھر مودی نے یہ ٹویٹ بھی کی ہے کہ اب بھارت کے عوام ہی چوکیدار ہیں اور ملک کیلئے انہوں نے بڑی خدمت کی ہے۔
نریندر مودی کا کہنا تھا کہ چوکیدار کا لفظ میرے ٹویٹر ہینڈل سے ہٹا ہے لیکن میرا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔میں بھارت کی ترقی کیلئے کام کرتا رہوں گا۔
-

بھارتی الیکشن، کانگریس صدر راہل گاندھی آٹھ لاکھ سے زائد ووٹوں سے آگے
بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہل گاندھی کیرالہ کی سیٹ پر اپنے حریف پر آٹھ لاکھ سے زائد ووٹوںکی برتری حاصل کئے ہوئے ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راہل گاندھی نے ابھی تک 12 لاکھ 91 ہزار چھ سو سے زائد ووٹ حاصل کر لئے ہیں اور ابھی گنتی جاری ہے اسی طرح دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ گجرات کے شہر گاندھی نگر سیٹ سے آٹھ لاکھ 83 ہزار 830 ووٹ کے ساتھ اپنے قریبی حریف سے پانچ لاکھ 51 ہزار 944 ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔
نریندر مودی اتر پردیش کےشہر وارانسی سے پانچ لاکھ 83 ہزار 14 ووٹ کے ساتھ اپنے حریف سے قریب چار لاکھ دس ہزار ووٹوں سے آگے چل رہے ہیں۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اتر پردیش کے شہر رائے بریلی سیٹ سے چار لاکھ 21 ہزار 94 ووٹ کے ساتھ اپنے حریف سے تقریبا ایک لاکھ تیس ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سیٹ سے پانچ لاکھ 70 ہزار 149 ووٹوں کے ساتھ آگے جا رہے ہیں اسی طرح سماجوادی کی پونم سنہا دو لاکھ 58 ہزار 576 ووٹ حاصل کرکے ان سے پیچھے ہیں۔
بھارت کے الیکشن میں 1971 کے بعد ایسا ہوا ہے کہ ایک پارٹی دوسری بار مسلسل جیت رہی اور اسی پارٹی کی حکومت بنے گی.اس سے قبل 1971 میں اندرا گاندھی دو بار منتخب ہوئی تھں. اندرا سے قبل پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی دو بار حکومت بنائی تھی. بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں تین بار کانگریس کی حکومت اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے بعد اندرا گاندھی کی قیادت میں 1967اور 1971میں مسلسل دومرتبہ حکومت بنی تھی۔ اس کے بعد اب مودی کی حکومت دوسری بار بنے گی.کانگریس نے 1980اور 1984میں بھی الیکشن میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن دونوں بار ان کے وزیراعظم الگ الگ تھے ۔
-

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 28 سیٹوں پر بی جے پی کی جیت یقینی
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کل 29 میں سے 24 لوک سبھا کی سیٹوں پر بی جے پی کے امیدواروں کی فیصلہ کن برتری سے ان کی جیت یقینی نظر آ رہی ہے ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹکے مطابق ریاست کی اندور اور ہوشنگ آباد سیٹوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی امیدواروں نے اپنے قریبی حریف کانگریسی امیدواروں سے شام پانچ بجے تک تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے آگے رہنے کے ساتھ ہی ریاست کی 29 میں سے 24 سیٹوں پر پارٹی امیدواروں کی فیصلہ کن سبقت حاصل کر لی ہے ۔
بھوپال حلقہ سے سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی کانگریس امیدوار سے واضح اکثریت سے جیت رہی ہیں. وہ تین لاکھ سے زائد ووٹوںکی کثرت سے آگے جارہی ہیں. اندور سے بی جے پی امیدوار شنکر لالواني کانگریس کے پنکج سنگھوی سے تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ ووٹوں سے آگے ہیں۔ اسی طرح ہوشنگ آباد امیدوار ادوھے پرتاپ سنگھ بھی قریب پانچ لاکھ 44 ہزار ووٹوں سے ہیں ۔
یاد رہے کہ بی جے پی واضح اکثریت سے الیکشن جیت رہی ہے اور تنہا تین سو سے زائد سیٹیں جیتتی ہوئی نظر آرہی ہے.
-

مودی نے حالیہ الیکشن میں2014 کا ریکارڈ توڑدیا
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے وارانسی حلقہ میں تین لاکھ 85 ہزار 334 ووٹوں کی برتری حاصل کر کےسال 2014 کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی بھاری اکثریت سے لوک سبھا الیکشن میں کامیابی حاصل کر رہی ہے.
بھارت کے الیکشن میں 1971 کے بعد ایسا ہوا ہے کہ ایک پارٹی دوسری بار مسلسل جیت رہی اور اسی پارٹی کی حکومت بنے گی.اس سے قبل 1971 میں اندرا گاندھی دو بار منتخب ہوئی تھں. اندرا سے قبل پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی دو بار حکومت بنائی تھی. بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں تین بار کانگریس کی حکومت اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے بعد اندرا گاندھی کی قیادت میں 1967اور 1971میں مسلسل دومرتبہ حکومت بنی تھی۔ اس کے بعد اب مودی کی حکومت دوسری بار بنے گی.کانگریس نے 1980اور 1984میں بھی الیکشن میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن دونوں بار ان کے وزیراعظم الگ الگ تھے ۔واضح رہے کہ بھارت کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی جیت چکی ہے ، بی جے پی 340 نشستیں حاصل کر چکی ہے جبکہ کانگریس کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے.
-

بی جے پی کی فتح پر مسلمانوں اور دلتوں میں خوف کے سائے، جشن کے دوران حملوں کا خطرہ بڑھ گیا
بھارت لوک سبھا الیکشن میںبی جے پی کو واضح برتری حاصل ہونے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں اور نچلی ذات کے دلت ہندوؤں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹکے مطابق بھارت میں 29 ریاستوں، دارالحکومت دہلی اور مرکز کے تحت چلنے والے 6 علاقوں کی 542 نشستوں پر مشتمل لوک سبھا کے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور غیر حتمی نتائج سے محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کی نفرت آمیز انتہا پسندانہ پالیسیوں کا سحر جنونی ہندوؤں پر تاحال قائم ہے۔ بی جے پی کے اہلکار ملک بھر میںجس طرح جشن منا رہے ہیں حساس علاقوںمیںفسادات کا بھی خطرہ ہے جس پر مقامی مسلمانوں اور دلتوں میں اس امر کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ جیت کے نشہ میں انہیںکہیںنقصان نہ پہنچایا جائے.
لوک سبھا الیکشن کے سلسلہ میںووٹوں کی گنتی جاری ہے تاہم زیادہ تر حلقوں میں 90 فیصد سے زائد گنتی مکمل ہوچکی ہے جس کے تحت بی جے پی اتحاد کو 348، کانگریس اتحاد 78، مہاگتھ بندھن 18 اور دیگر مقامی جماعتوں کو 98 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے پلوامہ حملے کے بعد نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا اور ہندوستانی فوجیوں کی تصویریں استعمال کر کے اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کے بعد الیکشن جیتنے میںکامیاب رہے. بی جے پی راجھستان اور گجرات میںمکمل کلین سویپ کر رہی ہے. اسی طرح تامل ناڈو، کیرالہ، پنجاب، اترپردیش، ویسٹبنگال، تلنگانہ اور دیگر ریاستوںمیںبھی واضح برتری حاصل کر رہی ہے.
بی جے پی کی اس کامیابی پر مسلمانوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوںمیں خوف کی کیفیت ہے کیونکہ ماضی میں بھی جب کبھی بی جے پی الیکشن جیتی ہے فتح کا جشن مناتے ہوئے مسلمانوں اور دلتوںکو نقصان پہنچایا جاتا ہے. اس مرتبہ بھی رات گئے تک فسادات کا خطرہ ہے اور اقلیتوںکو نقصان پہنچانے جانے کا خدشہ ہے.
-

انصاف کا قتل، سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی جیت رہی ہیں
بھارت میں ضمانت پر رہا ہونے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی مرکزی ملزم پرگیہ ٹھاکر سنگھ بھی الیکشن جیت رہی ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹکے مطابق پرگیہ ٹھاکر سنگھ بی جے پی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں. وہ بھوپال کے حلقہ سے امیدوار ہیں. ان کے مقابلہ میں کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ امیدوار ہیں جنہیں بھاری ووٹوں سے شکست ہوتی نظر آرہی ہے.
ہندو انتہاپسند لیڈر پرگیہ ٹھاکر سنگھ دو لاکھ سے زائد ووٹوں کی لیڈ سے ابھی آگے جارہی ہیں. یاد رہے کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کی مرکزی ملزم ہیں لیکن وہ طبی بنیادوںپر ضمانت پر رہا ہونے کے بعد الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں.
یاد رہے کہ اس افسوسناک سانحہ کے دیگر ملزمان بھی بری ہو چکے ہیں.
