Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے حزب اللہ کو کمزور کرتے ہوئے لبنان میں دھماکہ خیز مواد بھیجنے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنائی، جنرل دویدی نے اس اقدام کو ایک ”شاندار حکمت عملی“ قرار دیا۔

    بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جنگ کا آغاز اس وقت نہیں ہوتا جب آپ لڑنا شروع کرتے ہیں، بلکہ یہ جنگ اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ منصوبہ بندی شروع کرتے ہیں اسرائیل نے ایک چالاک انداز اپنایا “سب سے پہلے، انہوں نے حماس کو نشانہ بنایا، جو ان کے اہم دشمن تھے، پھر انہوں نے حزب اللہ پر توجہ مرکوز کی، حزب اللہ کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنانے کی اسرائیل کی چال خالص ذہانت تھی۔

    جنرل دویدی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو اپنی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے ممکنہ رکاوٹوں کو روکنے یا کم کرنے کے لیے متعدد سطحوں کے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔

  • تھائی لینڈ: اسکول بس میں آتشزدگی،20 سے زئاد بچوں کی ہلاکتوں کا خدشہ

    بنکاک: تھائی لینڈ میں ایک پرائمری اسکول کی بس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بس میں 50 کے قریب کم سن بچے اور اساتذہ سوار تھے جو شمالی صوبے اتھائی تھانی کے سیاحتی دورے سے واپس آرہی تھی کہ تیز رفتار بس کا ٹائر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں سڑک کنارے لگے باڑ سے ٹکرا کر الٹ گئی اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی آگ بس کے اگلے حصے میں لگنا شروع ہوئی تھی۔

    بچے خوفزدہ ہوکر بس کے پیچھے حصے کی طرف گئے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں صرف 19 افراد بس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوسکے جنھیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا امدادی کاموں کے دوران 3 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی سوختہ لاشیں بس کے پچھلے حصے سے ملیں لاشیں اتنی بری جلی تھیں کہ ان کی شناخت ہونا ناممکن ہے۔

    وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ زیادہ تر بسیں انتہائی خطرناک کمپریسڈ قدرتی گیس سے چلتی ہیں جس کے مسافر بسوں میں استعمال پر پابندی ہونی چاہیے ،بس حادثے میں 20 سے زائد بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے جب کہ 19 نے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں۔

    واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں غیر معیاری سڑکیں، گاڑیوں کی خراب حالت اور ٹریفک کے بدترین نظام کے باعث سالانہ 20 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

  • دنیا کی بلند ترین چوٹی  کی بلندی   میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بلندی میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع چین کی جیو سائنسز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی بڑھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، بلکہ کوہ ہمالیہ کے اس حصے میں چوٹیاں مسلسل اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں8849 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں اردگرد موجود دریاؤں میں آنے والے کٹاؤ کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہزاروں برسوں سے ایسے جغرافیائی عمل سے گزر رہی ہے جس کے باعث اس کی بلندی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تحقیق کے لیے ماہرین نے کمپیوٹر ماڈلز تیار کیے گئے تھے جن کے ذریعے کوہ ہمالیہ میں بہنے والے دریاؤں کے ارتقا کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 89 ہزار سال قبل دریائے ارون Kosi دریائی سسٹم کا حصہ بن گیا اور وہ مشرق کی بجائے شمال کی جانب بہنے لگا دریا کے بہنے کے روٹ میں تبدیلی سے ایورسٹ کے قریب دریا میں کٹاؤ بڑھ گیا اور یہ زیادہ بھرنے لگااس وقت زیادہ مقدار میں اضافی پانی دریائے ارون میں بہنے لگا جس کے نتیجے میں تلچھٹ بڑھ گئی جبکہ تہہ میں موجود چٹانیں تیزی سے کٹاؤ کا شکار ہونے لگی اور وادی کی تہہ میں تبدیلیاں آئیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے زمین کی بیرونی پرت کا وزن گھٹ گیا اور اردگرد کی زمین اوپر کی جانب بڑھنے لگی اس کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں ہر سال 0.16 ملی میٹر سے 0.53 ملی میٹر کا اضافہ ہوا، یہاں تک کے اس کے اردگرد موجود چوٹیوں کی بلندی بھی بڑھی، چوٹیوں کے بلند ہونے کا یہ عمل ہمیشہ جاری نہیں رہے گا، بلکہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دریائی نظام کا توازن دوبارہ تبدیل نہیں ہو جاتا۔

  • جنرل اسمبلی اسرائیل کے خلاف اسی طرح کارروائی کرے جس طرح 1950 میں کی،ترک صدر

    جنرل اسمبلی اسرائیل کے خلاف اسی طرح کارروائی کرے جس طرح 1950 میں کی،ترک صدر

    انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملے رکوائے۔

    باغی ٹی وی : ترک حکومت کے کابینہ اجلاس میں شرکت کے بعد ایک گفتگو میں صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل اسرائیل کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو جنرل اسمبلی کو طاقت کے استعمال کی سفارش کرنی چاہیے جنرل اسمبلی اسرائیل کے خلاف اسی طرح کارروائی کرے جس طرح 1950 میں کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ افسوس ہے مسلم ممالک بھی اسرائیل کے خلاف موثر موقف نہیں اپنا سکے، جنگ بندی کا دبائو ڈالنے کیلئے اسرائیل کیخلاف سیاسی، اقتصادی اور سفارتی اقدامات کئے جائیں،خطے میں امن کیلئے بین الاقوامی برادری اور مسلم امہ سے متحرک ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو دوسرے مسلم ممالک بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔

  • بالی ووڈ اداکار گووندا نے خود کو گولی مار لی

    بالی ووڈ اداکار گووندا نے خود کو گولی مار لی

    ممبئی: بالی ووڈ اداکار گووندا نے اپنے ریوالور سے غلطی سے ٹانگ میں گولی مار لی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ اداکار اور شیوسینا کے رہنما گووندا کو اپنے ہی لائسنس یافتہ ریوالور سے غلطی سے ٹانگ میں گولی لگنے کے بعد آج علی الصبح اسپتال لے جایا گیایہ واقعہ صبح تقریبا ساڑھے چار بجے اس وقت پیش آیا جب وہ باہر جانے سے پہلے ہتھیار رکھ رہے تھے اسپتال کے ذرائع کے مطابق گووندا کو صبح ساڑھے پانچ بجے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق ابتدائی اطلاعات سےمعلوم ہوا ہے کہ گولی ان کے گھٹنے میں لگی، جس کے بعد انہیں ممبئی کے ایک اسپتال میں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی،ابھی تک گووندا کی فیملی اور ٹیم نے ان کی حالت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    گووندا کے منیجر ششی سنہا نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ گووندا کولکتہ جانے کی تیاری کر رہے تھے وہ اپنا لائسنس یافتہ ریوالور رکھ رہے تھے کہ اچانک وہ ان کے ہاتھ سے گر گیا اور ایک گولی چلی جو ان کی ٹانگ میں لگی ڈاکٹر نے گولی نکال دی ہے اور ان کی حالت ٹھیک ہے وہ اس وقت اسپتال میں ہے۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق پولیس صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے موقع پر پہنچ گئی ہے اور انہوں نےگووندا کے ریوالور کو تحویل میں لے لیا ہے، فی الحال اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے،امریکا

    اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے،امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیوملر کا کہنا ہے کہ امریکا اب بھی لبنان کے بارے میں اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے، اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :لبنان پر اسرائیل نے زمینی حملہ شروع کردیا ہے، جنوبی لبنان پر اسرائیلی ٹینک اور آرٹیلری کے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، اسرائیلی فوج کابینہ کی منظوری کے بعد زمینی پیش قدمی شروع کردے گی، اسرائیلی سرحد کے ساتھ لبنانی آرمی نے اپنے اڈے چھوڑ دیے ہیں-

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے محدود پیمانے پر لبنان میں کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور وہ اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں سے متعلق بھی آگاہی رکھتے ہیں، اسرائیلی حکام سے اس حوالے سے کچھ امور پر بات بھی ہو گئی ہے امریکا اب بھی لبنان کے بارے میں اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے، اسرائیلی حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں، اسرائیل سرحد کے قریب حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے محدود کارروائیاں کررہا ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی چاہتے ہیں مگر اسرائیلی فوج کے لبنان میں اسٹریٹیجک مقاصد کو سمجھتے ہیں۔

  • اسرائیل کا  شام کے دارالحکومت دمشق پر بھی فضائی حملہ

    اسرائیل کا شام کے دارالحکومت دمشق پر بھی فضائی حملہ

    دمشق: اسرائیل نے غزہ، لبنان اور یمن کے بعد شام کے دارالحکومت دمشق پر بھی فضائی حملہ کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق دمشق پر اسرائیلی فضائی حملے مٰں معروف ٹی وی اینکر سمیت تین افراد شہید ہو گئے ہیں، شامی وزرات دفاع کے مطابق اسرائیل نے طیاروں اور ڈرون کے ذریعے دمشق کو نشانہ بنایا۔ دفاعی نظام نے کئی میزائلوں اور ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا،حملوں میں 3 شہری شہید اور 9 زخمی ہوئے، ایک دھماکہ شام کی ٹیلی کام بلڈنگ کے قریب ہوا۔

    دوسری جانب غیر ملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں داخل ہو گئی ہے، زمینی فوج کو فضائیہ کی مدد حاصل ہے، اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ‘محدود، مقامی اور ٹارگٹڈ چھاپے’ کے ساتھ زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ اور آئی ڈی ایف آرٹلری علاقے میں فوجی اہداف پر درست حملوں کے ساتھ زمینی افواج کی مدد کر رہے ہیں، زمینی آپریشن کا مقصد سرحدی علاقوں میں حزب اللہ کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا ہے، صیہونی فوج نے لبنان کی سرحدی علاقوں میں قائم دیہاتوں کو فوجی چھاؤنی قرار دے دیا۔

    خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق لبنان کی فوج سرحدی علاقوں سے 5 کلو میٹر پیچھے چلی گئی ہے، جبکہ حزب اللہ کے نائب رہنما نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے، ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ زور دار دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تقریبا ایک گھنٹے بعد اسرائیلی فوج نے رہائشیوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ لبنانی دارالحکومت کے جنوب میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر مشتمل عمارتوں کے قریب کے علاقوں کو خالی کردیں۔

  • شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ  موجودگی کا انکشاف

    شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ موجودگی کا انکشاف

    شام میں ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی جنگجو ایران کے پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ تعینات ہیں۔

    باغی ٹی وی کو موصول عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور شام میں موجود ایران نواز ملیشیا گروپوں پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 70 سے زائد ملیشیا گروپ شام میں دیرالزور، بوکمال سمیت بیروت و دیگر علاقوں میں تعینات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فاطمیون ملیشیا میں 3 ہزار افغان جنگجو بھی شامل ہیں۔ ملیشیا گروپ زینبیون بیروت اور گردونواح میں تعینات ہے۔رپورٹ کے مطابق عراقی حزب اللّٰہ کے تحت 7 ہزار جنگجو لبنان میں ہیں، عراق کے لواء ابوالفضل العباس، تحریک نجباء، عصائب اہل الحق اور الوعدالصادق بریگیڈز بھی شامل ہیں۔ سرایا طلیعہ الخرسانی کے 5 ہزار جنگجو عراق اور شام میں پھیلے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محمد باقر الصدر ملیشیا کے جنگجو شام کی سرکاری پولیس میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاسدارن انقلاب کی القدس بریگیڈز کے ڈھائی سے تین ہزار ایرانی جنگجو بھی شام میں تعینات ہیں۔

    کراچی پولیس چیف کی زیر صدارت سیف سٹی پروجیکٹ سے متعلق اجلاس
    جسٹس طارق جہانگیری ڈگری کیس؛ جامعہ کراچی نے اپنا جواب جمع کروا دیا

  • ایران کے خفیہ ادارے کا سربراہ موساد کا ایجنٹ نکلا: احمدی نژاد کا تہلکہ خیز انکشاف

    ایران کے خفیہ ادارے کا سربراہ موساد کا ایجنٹ نکلا: احمدی نژاد کا تہلکہ خیز انکشاف

    تہران: ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایک اہم اور تشویشناک انکشاف کیا ہے جس نے ایرانی خفیہ اداروں کی صلاحیتوں اور ان کی فعالیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں احمدی نژاد نے انکشاف کیا کہ ایرانی سیکریٹ سروس نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کو نشانہ بنانے کے لیے جو خصوصی یونٹ قائم کیا تھا، اس یونٹ کا سربراہ ہی موساد کا ایجنٹ تھا۔ یہ انکشاف نہ صرف ایران کی سکیورٹی سروسز کے لیے ایک دھچکہ ہے بلکہ اس سے خطے میں اسرائیل کی خفیہ کارروائیوں کی وسعت اور ان کے ایران پر اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔محمود احمدی نژاد کے مطابق ایرانی خفیہ ادارے نے موساد کے ایجنٹس کا قلع قمع کرنے کے لیے خصوصی یونٹ قائم کیا تھا جس کا مقصد اسرائیلی ایجنسی کی سرگرمیوں کا سدباب کرنا تھا۔ اس یونٹ کی سربراہی جس شخص کو سونپی گئی، وہ نہ صرف موساد کا ایجنٹ تھا بلکہ اس کے تحت کام کرنے والے دیگر ایجنٹس بھی اسرائیلی ایجنسی کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ یہ موساد ایجنٹس 20 دیگر اسرائیلی ایجنٹس کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے اور انہیں ایرانی خفیہ اداروں کے اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔یہ انکشاف اس وقت اور بھی سنجیدہ نوعیت اختیار کر جاتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ یہی یونٹ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حساس دستاویزات چوری کرنے اور ایرانی جوہری سائنسدانوں کے قتل میں ملوث تھا۔ ایران کے کئی جوہری سائنسدان گزشتہ برسوں میں مختلف حملوں اور سازشوں کا نشانہ بنے، اور اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے موساد کے ایجنٹس تھے، جنہوں نے ایرانی خفیہ سروس کے اندر سے اپنے مقاصد کو پورا کیا۔

    سابق صدر احمدی نژاد نے اس پورے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سلامتی اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کو ایرانی سیکریٹ سروس نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے خصوصی طور پر تعینات کیا تھا، وہی شخص نہ صرف ایران کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا تھا بلکہ موساد کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام کو بھی نشانہ بنا رہا تھا۔احمدی نژاد کے مطابق یہ واقعہ ایران کی تاریخ کے بدترین سیکیورٹی سکینڈلز میں سے ایک ہے۔ یہ انکشاف ظاہر کرتا ہے کہ موساد کس قدر گہرائی میں ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر چکا تھا۔ ایران کے اندرونی حلقے بھی اس معاملے پر حیران و پریشان ہیں اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیسے ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے ایک ایسے شخص کو حساس عہدے پر تعینات کر دیا جو ملک کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہوا۔یہ انکشاف نہ صرف ایران کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک بڑے سکینڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کی سکیورٹی ایجنسیوں کی ساکھ اور ان کی صلاحیتیں اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔ ایرانی حکومت پر بھی اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور جواب دہی کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔

    احمدی نژاد کے انکشافات نے موساد کی ایران کے اندر سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ایک نیا پہلو پیش کیا ہے۔ موساد کی کامیابیاں اور ایرانی ایجنسیوں میں ان کی دراندازی کا یہ واقعہ خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اب تک ایرانی حکومت کی جانب سے اس انکشاف پر کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق ایرانی سکیورٹی ادارے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس دوران ایران کے عوام اور بین الاقوامی برادری اس معاملے کی مکمل حقیقت اور اس کے اثرات جاننے کے منتظر ہیں۔یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور خطے میں جاری مختلف تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کے لیے یہ چیلنج نہ صرف سکیورٹی کے معاملے میں سنگین ہے بلکہ داخلی استحکام اور حکومتی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔محمود احمدی نژاد کے اس تہلکہ خیز انکشاف نے ایران کی سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایران کی حکومت کو اس سکینڈل سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی تاکہ آئندہ اس قسم کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں اور ملک کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ موساد کے ایجنٹس کی ایرانی سکیورٹی اداروں میں دراندازی کا یہ واقعہ خطے میں مستقبل کے تعلقات اور خفیہ جنگوں پر گہرا اثر ڈالے گا۔

  • ایران: ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اسرائیل کے خلاف جواب دینے کے لیے تیار ہیں

    ایران: ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اسرائیل کے خلاف جواب دینے کے لیے تیار ہیں

    ایران نے اسرائیل کے ’مجرمانہ اعمال‘ کے خلاف ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے تاہم اس بات کو رد کر دیا ہے کہ وہ لبنان یا غزہ میں اسرائیل کے خلاف اپنی فورسز بھیجے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر مجبور کیا گیا تو وہ اس سے خوفزدہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمتی محاذ اور لبنانی عوام جلد ہی صیہونی حکومت کے خاتمے اور القدس کی آزادی کا جشن منائیں گے۔ناصر کنعانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں، جیسے بیروت کے نواحی علاقوں کو نشانہ بنانا اور امریکہ کی جانب سے سید حسن نصر اللہ کے قتل کے لیے عطیہ کردہ بموں کا استعمال، خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں۔ ایران نے اس صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر بین الاقوامی اور قانونی اقدامات اٹھائے ہیں اور اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کو ایک خط بھی بھیجا ہے جس میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل کے ’مجرمانہ اعمال‘ کا جواب ضرور دے گا لیکن لبنان یا غزہ میں اپنی فورسز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق، علاقائی حکومتیں اور اقوام صیہونی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ایران کو کسی کی طرف سے فوج بھیجنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اسرائیل اپنی مسلسل شکستوں کی وجہ سے مزاحمتی گروہوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہے اور حالیہ حملے بھی اسی بے بسی کا ثبوت ہیں۔ناصر کنعانی نے امریکہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ کو خطے میں اپنی ناکامیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے امریکی بموں کا استعمال اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی مدد خطے میں مزید بدامنی کو جنم دے گی اور امریکی اقدامات ایران کو اپنے دفاع کے لیے مزید اقدامات اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صیہونی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے جرائم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ان اقدامات کے ذریعے وہ اپنی ناقابل تلافی شکستوں کی تلافی نہیں کر سکے گا۔ ناصر کنعانی نے کہا کہ اسرائیل کی حکومت حالیہ برسوں میں مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ میں متعدد شکستوں کا سامنا کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی وہ مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جو کچھ لبنان میں ہوا ہے وہ اسرائیل کی فضائیہ کا امریکی بموں کے استعمال سے کیے گئے حملے ہیں، جنہیں امریکہ نے سید حسن نصر اللہ کے قتل کے لیے عطیہ کیا تھا۔ ایران نے ان مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ناصر کنعانی نے کہا کہ ایران نہ تو جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی اسے کسی جنگ سے خوفزدہ ہے، بلکہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ خطے میں کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب ضرور دیا جائے گا لیکن ایران اپنی افواج لبنان یا غزہ میں نہیں بھیجے گا، کیونکہ خطے کی اقوام اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔