بیروت: لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم نے ایک غیر معلوم مقام سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف تنظیم کے مقاصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملہ کیا تو حزب اللہ بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں تنظیم کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنا بھائی کھو دیا ہے، وہ ایک ایسا رہنما تھا جو اپنے جنگجوؤں سے محبت کرتا تھا اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ جلد اپنا نیا سربراہ منتخب کرے گی، لیکن تنظیم کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لبنان اور غزہ کی حمایت جاری رہے گی اور ہم اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حزب اللہ کے عبوری سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد بھی جاری رہیں گی اور ان میں مزید شدت آئے گی۔ "ہم اسرائیل کے اندر 150 کلومیٹر تک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہماری کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف زمینی کارروائی کی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔نعیم قاسم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو 2006 کی جنگ میں بھی شکست ہوئی تھی اور آج بھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ "ہم نے 2006 میں اسرائیل کے خلاف فتح حاصل کی تھی اور اس بار بھی ہم کامیاب ہوں گے۔حزب اللہ کے عبوری سربراہ کے اس بیان کو لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حالیہ دنوں میں لبنان کی سرحدوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، جس کا حزب اللہ نے سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کے نئے سربراہ کے انتخاب کے حوالے سے نعیم قاسم نے کہا کہ "ہم جلد نیا قائد منتخب کریں گے، لیکن ہمارے اہداف اور مقاصد تبدیل نہیں ہوں گے۔ ہم لبنان اور فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے۔نعیم قاسم کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر معمولی طور پر حساس ہے اور لبنان میں داخلی و خارجی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت موقف نے ایک بار پھر اس خطے میں کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حزب اللہ کا یہ سخت ردعمل اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ تنظیم اپنے مزاحمتی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ حزب اللہ کی اس پوزیشن نے لبنان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ ایک اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو ہوا دی ہے۔
Category: بین الاقوامی
-

اسرائیل کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں،حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم
-

روس کی جانب سےحسن نصراللّٰہ کے قتل کی مذمت
روس نے حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کے قتل کی مذمت کر دی۔
کریملن نے حسن نصر اللّٰہ کی شہادت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں غزہ کی طرح ایک انسانی تباہی پیدا ہو رہی ہے، روس ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔کریملن کا کہنا ہے کہ لبنان میں رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بم باری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔کریملن کے مطابق حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کے قتل سے خطے کی صورتِ حال شدید عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے۔کریملن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تجارت سمیت تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصراللّٰہ ایک روز قبل صیہونی فوج کی بمباری میں شہید ہوئے تھے۔
کے الیکٹرک کی کاروائی، لاکھوں یونٹس بجلی چوری کرنیوالے کنڈے ختم
-

بھارت:مہاتما گاندھی کے بجائے اداکار انوپم کھیر کی تصویر والے نوٹ
ممبئی: بھارتی پولیس نے مہاتما گاندھی کے بجائے بالی وڈ اداکار انوپم کھیر کی تصویر والے کروڑوں روپے کے بھارتی نوٹ برآمد کرلیے۔
باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق احمد آباد پولیس نے ایک کروڑ 60 لاکھ کے بھارتی کرنسی نوٹ برآمد کیے جس کے بعد کرنسی نوٹوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں 500 روپے کے کرنسی نوٹوں پر مہاتما گاندھی کے بجائے انوپم کھیر کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے جب کہ نوٹوں پر ‘ریزرو بینک آف انڈیا’ کے بجائے ‘ریزول بینک آف انڈیا’ بھی درج ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ کے نوٹ، چاندی اور سونے کے سکے بنانے والی فرم کے مالک میہول ٹھاکر کو ملنے والے دھوکے کے بعد برآمد ہوئے جس کے بعد احمد آباد میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پاکستان کیجانب سے غزہ کیلئے امداد کی دسویں کھیپ روانہ
میہول ٹھاکر نے پولیس کو بتایا کہ کچھ لوگ ان سے 2100 گرام سونا خریدنا چاہتے تھے سونا خریدنے والے افراد نے کہا تھا کہ ان کے خریدے گئے سونے کو نورنگ پورہ علاقے میں پہنچایا جائے جس کے بعد فرم کے مالک نے سونا اپنے ملازم کے ذریعے بتائی گئی جگہ پر بھیج دیالیکن ملزمان ملازمین کو سونے کے بدلے ایک کروڑ 30 لاکھ بھارتی روپے کے جعلی نوٹ تھماگئے ملزمان نے فرم کے مالک کے ملازمین کو کہا کہ وہ قریبی دکان سے بقیہ 30 لاکھ روپے لے کر آتے ہیں لیکن وہ واپس نہیں آئے۔
ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث 3 رکنی گینگ گرفتار
دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے جعلی کرنسی نوٹوں کی ویڈیو انوپم کھیر کی جانب سے بھی انسٹاگرام پر شیئر کی گئی جس میں اداکار نے لکھا کہ’لو کر لو بات، 500 روپے کے نوٹ پر گاندھی جی کی تصویر کے بجائے میری تصویر؟ کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ ۔
آرٹیکل 63 اے نظرثانی اپیل:سٹس منیب اختر کا شمولیت سے انکار
-

لبنان :اسرائیلی فوج کے حملے میں حماس کے اہم رہنما شہید
بیروت: لبنان میں ہونے والے اسرائیلی فوج کے حملے میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے اہم رہنما فتح شریف ابوالامین شہید ہوگئے۔
باغی ٹی وی : حماس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی حملے میں فتح شریف سمیت ان کےکچھ اہل خانہ بھی شہید ہوئے لبنان میں رات گئے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں فلسطین کی ایک اور مزاحمتی تنظیم پاپولر فرنٹ کے بھی 3 اہم رہنما بھی مارے گئے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مختلف شہروں پر فضائی بمباری مسلسل جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والوں حملوں میں مزید 105 لبنانی جاں بحق ہوئے ہیں،جبکہ جمعے کے روز حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ پر ہونے والے حملے میں ان کے ساتھ حزب اللہ کے دیگر 20 اراکین بھی شہید ہوئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حملے میں جس بنکر کو نشانہ بنایا گیا اس میں حزب اللہ کے سربراہ کے سمیت مختلف رینکس کے دیگر 20 حزب اللہ اراکین بھی موجود تھےحملے میں ابراہیم حسین جازینی اور سمیر توفیق بھی شہید ہوئے جو حسن نصر اللہ کے قریبی ساتھی تھے یہ دونوں حزب اللہ اراکین تنظیم کے روز مرہ امور میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔
خیال رہےکہ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اور ایک سینئر رہنما علی کرکی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے جبکہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے حسن نصر اللہ کا جسد خاکی بھی تلاش کرلیا گیا ہے۔
-

حسن نصراللہ کی نماز جنازہ غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی،عرب میڈیا
بیروت: اسرائیلی حملوں میں شہید سربراہ حزب اللہ حسن نصراللہ کی نماز جنازہ غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے اندر 216 فضائی حملے ہوئے، جن میں حزب اللہ کے تین کمانڈرز سمیت 105 افراد شہید اور 359 زخمی ہو گئے لبنان میں اسرائیل کے زمینی آپریشن کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے سرحد پر بکتربند گاڑیاں تعینات کر دی ہیں،لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے اس صورتحال کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر مارک کیلی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ لبنانی دارالحکومت میں ہونے والے حملوں میں استعمال ہونے والا گائیڈڈ بم امریکی ساختہ تھا، جس کا وزن 900 کلوگرام ہے اور یہ مارک ایٹی فور سیریز کا تھا۔ یہ بم واشنگٹن نے اسرائیل کو فراہم کیا تھا۔
بلوچ طلبا کو ریاست کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،وزیرِ اعلیٰ بلوچستان
دوسری جانب اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ سے متعلق ایک سعودی ٹی وی چینل نے بڑا دعویٰ کر دیااس خبر کی رپورٹ اسرائیلی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے جس میں سعودی ٹی وی چینل ’’الحدث کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ ایران سے تعلق رکھنے والے ایک مشکوک شخص نے حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ سے مصافحہ کیا جس سے ان کے ہاتھوں پر ایک خاص مادہ (پینٹ) لگا، جس کے بعد اسرائیل انہیں ٹریک کرنے میں کامیاب ہوا۔
کارساز حادثہ کیس :گرفتار خاتون ملزمہ کی منشیات کیس میں بھی ضمانت منظور
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی لاش جب نکالی گئی تو ان کے جسم پر زخم کے نشانات موجود نہیں تھے جس سے تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ ان کی موت دم گھٹنے سے ہوئی اسرائیل نے لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں فضائی بمباری کی تو نصراللہ خراب ہوادار مقام پر موجود تھے، جس سے کمرے میں گیس بھر گئی اور دم گھٹنے سے وہ شہید ہوگئے،فضائی بمباری سے ایسی گیسوں کا اخراج ہوا کہ دھواں کمرے میں بھر گیا تھا۔
راولپنڈی احتجاج: پنجاب پولیس نے زخمی پولیس افسران اور اہلکاروں کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی
-

خلائی جہازتکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں کو لئے بغیر زمین پر واپس
بوئنگ کا اسٹار لائنر خلائی جہاز جو تکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں بوچ ولمور اور سنیتا ولیم کے بغیر زمین پر واپس آگیا –
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کا ’کریو ڈریگن‘ (Crew Dragon) نامی خلائی جہاز گزشتہ 4 ماہ سے پھنسے ہوئے خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو ریسکیو کرنےبین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گیا ہے کامیاب ڈاکنگ خلابازوں کو زمین پر واپس لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
امریکی خبررساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا بازوں سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو بحفاظت گھر لانے کے لیے اسپیس ایکس کے کریو ڈریگن کا انتخاب کیا کریو ڈریگن اتوار کو شام ساڑھے پانچ بجے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچا، ناسا کے سائنسدان نک ہیگ اور روس کے الیگزینڈر گوربونوف نے اسپیس ایکس پر خلا کا سفر کیا وہ خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کے لیے دو اضافی نشستیں لے کر آئے، جو آئندہ برس زمین پر واپسی کے سفر میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔
حکومت کی مزید کئی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ
رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام 7 بج کر 4 منٹ پر خلائی جہاز کا دروازہ کھلا، اور خلاباز نک ہیگ اور الیگزینڈر گوربونوف نے خلائی اسٹیشن میں قدم رکھا استقبالیہ تقریب میں ساتھی خلاباز سنیتا ولیمز، بوچ ولمور اور عملے کے باقی افراد نے ان کا ویلکم کیا۔
خلانورد نک ہیگ اور الیگزینڈر گوربونوف ہفتے کے روز فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے خلا میں روانہ ہوئے مدار میں ان کا سفر آسانی سے گزرا، لیکن اسپیس ایکس نے بعد میں خلائی جہاز سے الگ ہونے کے بعد فیلکن 9 راکٹ کے اوپری مرحلے میں ایک خرابی کی اطلاع دی تھی، ہیگ، ولیمز، ولمور اور گوربونوف مل کر اسپیس ایکس کی کریو 9 ٹیم کو مکمل کریں گے یہ گروپ فروری سے پہلے گھر واپس آنے سے قبل خلائی اسٹیشن پر تقریباً پانچ ماہ گزارے گا۔
لبنان میں اسرائیلی بمباری سے مزید 105 افراد شہید ،درجنوں زخمی
-

مولانا رومی فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر
مولانا رومی (فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر)
30 ستمبر : یوم پیدائش
فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر اور فلسفی مولانا محمد جلال الدین بلخی المعروف مولانا رومی کی ولادت 30 ستمبر 1207ء کو بلخ (افغانستان) میں ہوئی، مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ آپ فقہ اور مذہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انہیں اپنے پاس بلوایا، مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔ وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے اور بعد میں وہیں ان کی ملاقات اپنے پیر و مرشد شمس تبریزی سے ہوئی۔ جلال الدین رومی نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھی ہیں، مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز ان کی معروف کتب ہے ہیں۔ آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں۔ ان کی وفات 17 دسمبر 1273ء کو 66 سال کی عمر میں قونیہ (ترکی) میں ہوئی اور ان کا مزار بھی وہیں ہے۔
-

لبنان میں اسرائیلی بمباری سے مزید 105 افراد شہید ،درجنوں زخمی
بیروت: اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کے مختلف علاقوں میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے، بیروت کے شہری علاقے میں رہائشی عمارت کو بھی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
باغی ٹی وی : لبنانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان کی وادی بقاع اور عین الدلب سمیت دیگر علاقوں میں اسرائیلی بمباری سے مزید 105 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے بھاری جنگی ہتھیاروں اور گاڑیوں کے ہمراہ لبنان کی سرحد کی طرف پیش قدمی جاری ہے جس سے لبنان پر زمینی حملے کے خدشات گہرے ہوتے جا رہے ہیں،اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے 120 مقامات کونشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ پر بھی بڑا فضائی حملہ کیا گیا جس میں 4 یمنی شہید اور 29 زخمی ہوگئے،ادھر غزہ پر بھی اسرائیلی بربریت میں کمی نہ آسکی ہے، اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں مزید 28 فلسطینی شہید ہوگئے۔
عالمی شہرت یافتہ مبلغِ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک اسلام آباد پہنچ گئے
پولیس حراست سے چھینا گیا ڈاکو مقابلے میں ہلاک
کے ڈی اے میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل،19ملازمین جعلی قرار
-

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران روسی وزیر اعظم کا تہران کا دورہ: ایران کی حمایت کا اشارہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان، کریملن نے اعلان کیا ہے کہ روسی وزیر اعظم میخائل مشستین 30 ستمبر (پیر) کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کے لیے تہران جائیں گے۔ یہ دورہ اس وقت اہمیت رکھتا ہے جب خطے میں جغرافیائی حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے حوالے سے حالیہ واقعات کے تناظر میں۔یہ دورہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ ماسکو کی جانب سے تہران کے ساتھ جاری تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مغربی حکومتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران روس کو اپنی جاری جنگ میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہتھیار، خاص طور پر مہلک ڈرون فراہم کر رہا ہے۔ اس قسم کی فوجی مدد نے بین الاقوامی تنقید کو جنم دیا ہے اور متعلقہ ممالک کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ، ماسکو نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی ہے، جن کا نشانہ حزب اللہ کے رہنما بنے ہیں، جو کہ ایک ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیم ہے۔ یہ مذمت خطے میں موجود اتحادوں اور دشمنیوں کے پیچیدہ جال کی عکاسی کرتی ہے۔یورپی ریڈیو کی رپورٹس کے مطابق، بہت سے لوگ مشستین کے دورے کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کی حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ روسی حکومت نے اپنے سرکاری بیان میں بتایا کہ ملاقات کے دوران تجارتی، اقتصادی، ثقافتی، اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں روس-ایرانی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔
اس ملاقات میں صدر پیزشکیان کے علاوہ نائب صدر محمد رضا عارف بھی شریک ہوں گے۔ کریملن نے واضح کیا کہ بات چیت کا مرکزی نقطہ نقل و حمل، توانائی، صنعت، اور زراعت کے شعبوں میں بڑے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا۔ یہ اطلاع ملی ہے کہ صدر پیزشکیان اگلے ماہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روس کا دورہ کریں گے، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ یہ آنے والا اجلاس ایران کے برکس فریم ورک میں کردار اور روس کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔جیسا کہ جغرافیائی منظر نامہ تبدیل ہوتا ہے، مشستین کے دورے کے نتائج اور اس کے بعد ہونے والی گفتگو کے اثرات نہ صرف روس-ایران تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ میں عمومی استحکام کے لیے بھی اہم ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری اس اعلیٰ سطحی سفارتی مشغولیت کے بعد ہونے والی ترقیات پر گہری نظر رکھے گی۔ -

لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیلی حملوں میں سویلین ہلاکتوں کی تشویش
لبنان کی حکومت نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حالیہ حملوں میں صیدون شہر میں تقریباً 27 افراد اور بالبک حمل نامی شہر میں 21 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے نام پر شہری آبادی پر بمباری کی گئی ہے۔ شام نے لبنان کو امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ بھیجی ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور دارالحکومت بیروت کے نواح میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد لبنان سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ حملے تقریباً بارہ دن سے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سویلین ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اپنے ٹھکانے سویلین آبادی میں رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے سویلین ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس تناظر میں، فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بیرٹ بیروت کا دورہ کرنے والے ہیں، جبکہ یورپی ممالک نے خطے کی صورتحال کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، کیونکہ مکمل جنگ کا خطرہ موجود ہے۔ روسی وزیرِ اعظم میخائل مشوسٹین پیر کو ایران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں دوطرفہ تعلقات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کی صورتحال پر بھی بات چیت کی توقع ہے۔لبنان کے وزیرِ اطلاعات زیاد ماکری نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے حصول کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت ہر صورت جنگ بندی چاہتی ہے، اور بات چیت میں فوری کامیابی کی توقع نہیں ہے۔ زیاد ماکری نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال بہت نازک ہے اور کوششیں جاری ہیں تاکہ لڑائی میں مزید اضافہ نہ ہو اور قتل و غارت کا دائرہ وسیع نہ ہو۔