Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • نیپال میں طوفانی بارشوں سے تباہ کن سیلابی صورت حال

    نیپال میں طوفانی بارشوں سے تباہ کن سیلابی صورت حال

    نیپال میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، جس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔ دارالحکومت کاٹھمنڈو کے قریب مٹی کے تودے گرنے سے بسوں اور مکانوں میں دب کر ہلاک ہونے والوں کو نکالا جارہا ہے، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
    دیہی علاقوں میں بیشتر سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور پروازیں بھی معطل کردی گئی ہیں، جس کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بارشوں اور سیلاب نے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
    پچھلے تین دن کی موسلا دھار بارشوں کے بعد آج (اتوار کو) موسم میں قدرے بہتری آئی ہے، مگر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے تین اہم شاہراہیں بند ہونے کے باعث کاٹھمنڈو تک پہنچنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ شہر کے لوگ بڑی حد تک محصور ہو چکے ہیں۔نیپالی پولیس اور امدادی اداروں کے مطابق، مٹی کے تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے علاوہ سیلاب کے باعث 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، اور 60 سے زائد لوگ اب بھی لاپتا ہیں۔ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لئے امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

  • لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی مل گیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی مل گیا

    لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی موت نے نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی جمعہ کی شب بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد برآمد کیا گیا، جہاں ان کی موت کی وجہ سے متعلق کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق، حسن نصر اللہ کے جسم پر بڑے زخم کا کوئی نشان نہیں تھا، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان کی موت دھماکے کی شدت کی وجہ سے ہوئی۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی شہادت دھماکے کے دباؤ کے باعث سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی، جس نے ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔حزب اللہ نے ایک بیان جاری کر کے حسن نصر اللہ کی شہادت کی تصدیق کی، تاہم جنازے کے وقت اور اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس واقعے نے کئی لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور یہ سوالات جنم دیئے ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی بڑی جنگ کی شروعات کا پیش خیمہ ہے یا نہیں۔

    حسن نصر اللہ: ایک نظریاتی رہنما
    حسن نصر اللہ کا تعلق مشرقی بیروت کے علاقے بورجی حمود سے تھا، جہاں ان کی پیدائش 1960 میں ہوئی۔ انہوں نے 1992 میں حزب اللہ کی قیادت سنبھالی، جب ان کے پیشرو عباس الموسوی کو اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر سے قتل کیا گیا۔ 32 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد، نصر اللہ نے مزاحمت کی ایک نئی راہ دکھائی۔نصر اللہ نے عراق کے شہر نجف میں 3 سال تک سیاست اور قرآن کی تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ملاقات لبنانی امل ملیشیا کے رہنما سید عباس موسوی سے ہوئی۔ 1978 میں حسن نصر اللہ کو عراق سے بے دخل کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے لبنان کے خانہ جنگی کے دوران امل تحریک میں شمولیت اختیار کی اور وادی بقاع میں اس کے سیاسی نمائندے کے طور پر کام کیا۔

    مزاحمت کی تاریخ
    حسن نصر اللہ کی قیادت میں حزب اللہ نے اسرائیلی افواج کے خلاف چھوٹے پیمانے پر جنگ کی پالیسی اپنائی، جس کا نتیجہ 2000 میں 22 سال بعد جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے 2004 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جسے عرب دنیا میں حزب اللہ کی فتح سمجھا گیا۔نصر اللہ نے 2005 میں لبنان کے وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد ملک کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان ثالث کا کردار بھی نبھایا۔ ان کا یہ اصرار رہا کہ اسرائیل ایک حقیقی خطرہ ہے، اور انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، حزب اللہ کے جوانوں کو اسرائیلی فوج کے خلاف لڑنے کے لئے متحرک کیا۔
    حسن نصر اللہ کی موت نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما کی حیثیت سے ان کی قیادت میں حزب اللہ نے اسرائیل کی ایک اہم مخالف تنظیم کے طور پر ابھرتے ہوئے کئی جنگوں میں حصہ لیا۔ اب جبکہ حسن نصر اللہ اس دنیا میں نہیں رہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ حزب اللہ کا مستقبل کیا ہوگا اور آیا یہ تنظیم اپنے مشن کو جاری رکھ پائے گی یا نہیں۔اس واقعے کے بعد، یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات موجود ہیں، اور اس کے اثرات نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ حزب اللہ کے رہنما کی شہادت نے ایک نئی جنگ کی شروعات کا اشارہ بھی دے دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔

  • پاکستانی فیملیز لبنان میں پھنس گئیں: حکومت سے خصوصی طیارے کی اپیل

    پاکستانی فیملیز لبنان میں پھنس گئیں: حکومت سے خصوصی طیارے کی اپیل

    لبنان میں جاری کشیدگی کے باعث فلائٹس آپریشن بند ہونے سے کئی پاکستانی فیملیز بیروت میں محصور ہوگئیں ہیں۔ پاکستانی محصورین نےنجی ٹی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ وہ فوری طور پر وطن واپس لوٹنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن موجودہ حالات نے ان کے لیے لبنان چھوڑنا ناممکن بنا دیا ہے۔محصور پاکستانی فیملیز نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے لبنان سے محفوظ انخلا کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شام کا زمینی راستہ غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے لبنان سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ایک متاثرہ پاکستانی نے کہا، "ہم نے ایک ماہ سے سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ہوم ورک مکمل رکھا جائے تاکہ ہمیں جلد وطن واپس بھیجا جا سکے۔ لیکن اب تک کوئی واضح جواب نہیں آیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس محدود وسائل ہیں اور اس کشیدہ صورتحال میں پھنسنے سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔دوسری جانب، وزارت خارجہ نے اس معاملے پر فوری توجہ دینے کا وعدہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے محصورین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہ صورتحال پاکستانی فیملیز کے لیے ایک مشکل وقت ہے، جو نہ صرف اپنی زندگیوں کی حفاظت کے لیے فکر مند ہیں بلکہ اپنے وطن کی طرف واپس جانے کی امید بھی رکھتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان پاکستانیوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔

  • سری لنکا کرکٹ کا سنتھ جے سوریا  کو  فل ٹائم ہیڈ کوچ تعینات کرنے کا فیصلہ

    سری لنکا کرکٹ کا سنتھ جے سوریا کو فل ٹائم ہیڈ کوچ تعینات کرنے کا فیصلہ

    کولمبو: سری لنکا کرکٹ نے سابق مایہ ناز آل راؤنڈر سنتھ جے سوریا کو ایک سال کے لیے فل ٹائم ہیڈ کوچ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی : سری لنکن میڈیا کے مطابق سنتھ جے سوریا اس سے پہلے سری لنکا کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ کی ذمے داریاں نبھا رہے تھے، سنتھ جے سوریا کی نئی مدت نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد شروع ہو گی-

    واضح رہے کہ جے سوریا کی کوچنگ میں سری لنکن ٹیم بھارت کو ون ڈے سیریز جبکہ انگلینڈ کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ میں شکست سے دوچار کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز جیتنے کے قریب ہے۔

  • متحدہ عرب امارات میں قوانین کی خلاف ورزی پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

    متحدہ عرب امارات میں قوانین کی خلاف ورزی پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

    یو اے ای:ایک ویڈیو ایڈوائزری میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں، ملازمت کے متلاشیوں، اور وزٹ ویزوں پر آنے والوں کو امارات میں تمام قواعد و ضوابط سیکھنے اور ان پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی :خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق قونصل جنرل حسین محمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اور امارات آنے والوں کی رہنمائی کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ وہ مقامی قوانین اور ذمہ داریوں سے آگاہ رہیں اور یہاں قانون کی طرف سے کسی قسم کی پریشانی سے محفوظ رہیں۔

    قونصل جنرل حسین محمد کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں قوانین کی خلاف ورزی پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر آپ وزٹ ویزا پر ہیں یا تارک وطن ہیں، تو مقامی قوانین کی خلاف ورزی سخت سزاؤں کا باعث بن سکتی ہے، جس میں عدالتی الزامات، جیل، بھاری جرمانے اور ملک بدری شامل ہے ان نتائج سے بچنے کے لیے مقامی قوانین کا احترام اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

    خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستانی شہریوں کو جاری کیے گئے دبئی کے ویزوں کی تصدیق جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ جبکہ ابوظہبی، شارجہ، ام القوین، فجیرہ، عجمان اور راس الخیمہ سے جاری کیے گئے ویزوں کی تصدیق وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹ سیکیورٹی سے کی جا سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نوکری کی غرض سے متحدہ عرب امارات جانے والوں کے لیے سخت ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہری اپنی تفصیلات سرکاری چینلز کے ذریعے تصدیق کریں تاکہ جعلی نوکری کے اشتہاروں سے بچا جا سکے۔ اگر آپ کو شک ہے تو ابوظہبی میں پاکستانی سفارت خانے یا قونصلیٹ جنرل آف پاکستان سے مدد لے سکتے ہیں۔ امارات میں ملازمت کی تلاش کے محفوظ اور کامیاب تجربے کے لیے آجر کی تفصیلات کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہےاس کے علاوہ امارات میں تمام پاکستانیوں کو ملازمت سے محرومی کا بیمہ بھی حاصل کرنا ہوگا، جسے متحدہ عرب امارات کی انوولنٹری لاس آف ایمپلائمنٹ (ILOE) انشورنس کہا جاتا ہے۔

    پی آئی اے کی پرواز کے ایڈرولک سسٹم میں شدید فنی خرابی، کراچی میں …

    رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تقریباً 1.7 ملین پاکستانی مقیم ہیں، جو خلیجی ملک کی دوسری بڑی کمیونٹی ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیائی ملک سے ہر سال لاکھوں سیاح امارات کا رخ کرتے ہیں،متحدہ عرب امارات میں پہلے سے مقیم یا وہاں جانے کی تیار کرنے والے پاکستانی شہریوں کیلیے نیچے دی گئی گائیڈلائنز پر عمل کرنا ضروری ہوگا، ایسی پوسٹس شیئر کرنے سے گریز کریں جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوں، غیر اخلاقی یا بیہودہ مواد، یا انسانی اسمگلنگ سے متعلق مواد اپ لوڈ نہ کریں، دوسرے ممالک کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی پوسٹ کرنے سے گریز کریں، احتجاج میں حصہ لینے یا دھمکی آمیز مواد کو سوشل میڈیا پر پوسٹ نہ کریں۔

    رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ دوسروں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر نہ کریں۔ حساس علاقوں کی تصاویر نہ لیں۔ دوسروں کی رازداری کا احترام کریں اور افواہوں یا گمراہ کن معلومات کو پھیلانے سے گریز کریں، ذاتی معلومات جیسے اے ٹی ایم پن اور او ٹی پیز کی حفاظت کریں سیاحتی/وزٹ ویزا پر ملازمت اختیار کرنے سے گریز کریں۔ خالی چیک یا کاغذات پر دستخط سے لازمی گریز کریں۔ تمام ٹریفک قوانین پر عمل کریں، کیونکہ بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس صرف غیر رہائشیوں کے لیے درست ہیں۔ منشیات کے ساتھ ساتھ ممنوعہ اشیاء پر مشتمل ادویات سے سختی سے پرہیز کریں، غیر رجسٹرڈ خیراتی اداروں کے لیے فنڈز جمع نہ کریں، کیونکہ یہ عمل غیر قانونی ہے۔

    لیاقت آباد احتجاج: پی ٹی آئی کے 58 سے زائد رہنماؤں پر مقدمہ …

  • حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد نعیم قاسم حزب اللہ کے نئے عبوری رہنما منتخب

    حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد نعیم قاسم حزب اللہ کے نئے عبوری رہنما منتخب

    بیروت:لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد نعیم قاسم کو اپنا نیا عبوری رہنما منتخب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز اسرائیلی فضائی حملوں میں حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کے علاوہ ان کی بیٹی زینب اور سینئیر رہنما علی کرکی شہید ہوئے تھے،عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے بیروت حملوں میں شہید ہونیوالے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد نعیم قاسم کو اپنا نیا عبوری رہنما منتخب کرلیا ہے،توقع کی جارہی ہے کہ ہاشم صفی الدین کو تحریک کا نیا سربراہ بنایا جاسکتا ہے۔

    ہاشم صفی الدین کون ہیں؟

    ہاشم صفی الدین حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ کے طور پر حزب اللہ کے سیاسی امور کی نگرانی کرتے ہیں وہ حزب اللہ کی جہاد کونسل کا بھی حصہ ہیں جو گروپ کی فوجی کارروائیوں کا انتظام کرتی ہےہاشم صفی الدین کے حسن نصر اللہ کے ساتھ خاندانی تعلقات کی وجہ سے قوی امکان ہے کہ انہیں تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کرلیا جائے گا۔

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

    سپریم کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے منٹس جاری

    پی آئی اے کی پرواز کے ایڈرولک سسٹم میں شدید فنی خرابی، کراچی میں …

  • افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے،شہزادہ فیصل بن فرحان

    افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے،شہزادہ فیصل بن فرحان

    نیویارک: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ،افغانستان کو دہشتگردوں کا شکار بننے کیلئے اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے،عالمی برادری یوکرین روس بحران ختم کرے، سعودی عرب اس کیلئے بھرپورکوشش کر رہاہے۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا سعودی عرب فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کویکسر مستردکرتا ہے، سعودی عرب جنگ کے آغاز سےاب تک فلسطینی عوام کیلئے 5 ارب ڈالر امداد دے چکا ہے، فلسطینیوں کیلئے یو این امدای ایجنسیز کے تعاون سے 106ارب ڈالرکے پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے سروسز، غذا، دوا اور دیگر ضروری اشیاکے پراجیکٹس شامل ہیں۔

    شام میں امریکی فوجی اڈےپرڈرون حملہ

    سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا امید ہے ایران اپنے ایٹمی، بیلسٹک مزائل پروگرام پر عالمی برادری سے تعاون کرےگا، جنگ سے متاثرہ شام سے تعلقات بحالی کا مقصد خطے میں امن کو فروغ دینا ہے، سعودی عرب یمن بحران، بحیرہ احمرکی صورتحال کے پُرامن حل کیلئے ہرکوشش کی حمایت کر رہا ہے، افغانستان کی صورتحال جنگجو ملشیا، مختلف گروپوں کیلئے سازگاربنی ہوئی ہے، افغانستان کو دہشتگردوں کا شکار بننے کیلئے اکیلا نہیں چھوڑا جاسکتا، افغانستان میں انسانی بحران اور سکیورٹی صورتحال درست کرنا ضروری ہے۔

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

  • شام میں امریکی فوجی اڈےپرڈرون حملہ

    شام میں امریکی فوجی اڈےپرڈرون حملہ

    تہران:شام میں امریکی فوجی اڈےپرڈرون حملہ کیا گیا –

    باغی ٹی وی: ایرانی میڈیا کے مطابق شام میں ڈرون حملہ کونیکوآئل فیلڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر کیا گیا،جس کے بعد زوردار دھماکا بھی سنا گیا، ڈرون حملے سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، امریکی اڈے پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ جمعہ کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ شہید ہوگئے، دوسری جانب لبنان بارڈر پر اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت دیکھی گئی، اس حوالے سے عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ نقل وحرکت زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں، ہفتے کے روز حملوں میں 33 افراد شہید اور 195 زخمی ہوگئے، اسرائیلی حملوں سے تقریباً 10 لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے،نیتن یاہو

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصراللّٰہ کی شہادت پر کہا ہے کہ حسن نصراللہ کا قتل خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کے لیے ضروری تھا،حسن نصراللہ اور ان کے ساتھی اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک کا دورہ مکمل کرکے واپس اسرائیل پہنچے ہیں، جہاں سے انہوں نے حسن نصر اللّٰہ پر حملے اور ان کی ہلاکت پر بیان دیاقوم سے اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ رواں ہفتے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ حزب اللہ پر موجودہ حملے کافی نہیں کیونکہ نصراللہ نہ صرف ایران کے اشارے پر کام کرتے ہیں بلکہ ایران کو آپریٹ کرتے ہیں۔

    انہوں نے حسن نصراللہ کی موت کو تاریخی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حسن نصراللہ کا قتل خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کے لیے ضروری تھا، بے شمار اسرائیلیوں کو قتل کرنے والے سے حساب لے لیا، حسن نصراللہ ایران کی برائی کا محور اور مرکزی انجن تھے، اسرائیل نے سینکڑوں امریکیوں اور دیگر ممالک کے شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لے لیا،حسن نصراللہ اور ان کے ساتھی اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتے تھے، جو آپ کو مارنے کے لیے کھڑا ہو، پہل کرکے اسے مار ڈالو۔

    نتین یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے، پورے مشرق وسطیٰ نے اسرائیل کی طاقت تسلیم کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ جمعہ کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ شہید ہوگئے، دوسری جانب لبنان بارڈر پر اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت دیکھی گئی، اس حوالے سے عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ نقل وحرکت زمینی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں، ہفتے کے روز حملوں میں 33 افراد شہید اور 195 زخمی ہوگئے، اسرائیلی حملوں سے تقریباً 10 لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔

  • حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر عالمی برادری کا اظہارِ افسوس

    حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر عالمی برادری کا اظہارِ افسوس

    بیروت: لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر بعد عالمی برادری کی جانب سے اظہار افسوس کیاجا رہا ہے جبکہ غزہ اور لبنان پر اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج نے بیان جاری کیا تھا کہ آپریشن نیو آرڈر کے نام سے کی جانے والی کارروائی کے دوران بیروت کے داہیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بمباری کے دوران ایک ٹن بارود والے 80 بم گرائے گئے ان حملوں میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینب کے علاوہ حزب اللہ کے جنوبی فرنٹ کمانڈر علی الکرکی بھی شہید ہوئے،اسرائیلی فورسز نے یہ جاننے کے بعد کہ حسن نصراللہ بنکر میں موجود ہیں، بمباری مزید شدید کردی جس کے نتیجے میں ان کی شہادت واقع ہوئی۔

    ہفتے کو حزب اللہ نے سربراہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہے گی، غزہ اور فلسطین کی حمایت، لبنان کے دفاع کیلئے اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق حزب اللہ سربراہ کی شہادت پر چین، ایران، ترکیہ اور روس نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    حسن نصر اللہ کی شہادت پر عراقی رہنما آیت اللہ سیستانی اور مقتدیٰ الصدر نےگہرے رنج و غم کا اظہار کیا،عراق میں 3 روزہ اور ایران میں 5 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ صیہونی حکومت کے حکمران دہشت گرد گروہ نے غزہ میں جاری مجرمانہ جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ، لبنان کے لوگوں اور حزب اللہ کے ساتھ کھڑا ہونا تمام مسلمانوں کا فرض ہے ، ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ حسن نصر اللہ کا مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کا مشن جاری رہے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکان نے حزب اللہ سربراہ کے شہادت پر کہا کہ امریکا حسن نصراللہ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار نہیں کر سکتا،امریکا اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت سے حسن نصراللہ پر حملے سے خود کو بری الذمہ نہیں کرسکتا۔

    چینی وزیر خارجہ نے اسرائیلی بربریت کے حوالے سے کہا کہ فلسطینی مسئلہ انسان کے ضمیر پر سب سے بڑا گھاؤ ہے، غزہ کی جنگ میں ہر گزرتے دن ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور لبنان میں بھی دوبارہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کبھی انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا مشرق وسطیٰ مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جرمن وزیرخارجہ نے بھی لبنان کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

    یورپی یونین کی ترجمان نے کہا لگتا ہے کوئی بھی نیتن یاہو کو روکنے کے قابل نہیں ہے، محمود عباس نے حسن نصراللہ کی شہادت پر حزب اللہ سے تعزیت کا اظہار کیا علاوہ ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے لبنان کو نسل کشی کے لیے اسرائیلی کی پالیسی کا نیا ہدف کہا ہے، رجب طیب اردوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنانی عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد دنیا بھر کے مختلف ممالک میں شدید احتجاج کیا گیا، ترکیہ، بغداد، لبنان اور تہران میں ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے، عمان میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔ برازیل،سوڈان، اٹلی اور مصر میں بھی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا،وہیں ترک مظاہرین نے اپنی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وہیں امریکی صدرجوبائیڈن نے بیروت حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس حملے میں شراکت دار نہیں ہے،امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے اختتام سے انصاف کا عمل پورا ہوا، اب غزہ اور لبنان میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔