Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ہندوستانی جمہوریت کی پسپائی: بین الاقوامی میڈیا نے مودی کو آئینہ دکھا دیا

    ہندوستانی جمہوریت کی پسپائی: بین الاقوامی میڈیا نے مودی کو آئینہ دکھا دیا

    امریکی میگزین "فارن پالیسی” نے اپنے حالیہ شمارے میں ہندوستانی جمہوریت کی حالت کو بے نقاب کیا ہے، جس کے مطابق نریندر مودی کے دوسرے دور اقتدار کے آغاز کے بعد سے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ہندوستان کی جمہوری درجہ بندی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں جیسے کہ فریڈم ہاؤس، وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ، اور اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے ہندوستان کی جمہوری حیثیت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارے ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے، اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے دباؤ، اور حکومتی کنٹرول کی سیاست کی نشاندہی کر رہے ہیں۔"فارن پالیسی” کے مطابق، مودی کی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تیز کر دیا ہے، خاص طور پر اقلیتوں کے خلاف۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مودی نے ہندوستان کو ایک ہندو قوم پرست معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں غیر ہندو آبادی کو پسماندہ کر دیا گیا ہے۔مودی کی حکومت میں پریس کانفرنسوں سے گریز کرنے کی روش بھی اپنائی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف اپنے ریڈیو شو نے ذریعے عوامی رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کی بدولت میڈیا کے ساتھ براہ راست رابطہ محدود ہو گیا ہے، جس سے عوام کو حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں جاننے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    رپورٹ میں مودی کی ابتدائی زندگی اور سیاسی کیریئر کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خاص طور پر 2002 کےگجرات فسادات کے تناظر میں، جہاں ہزاروں مسلمان ہلاک ہوئے، مودی کی حکمرانی پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ مودی کی حکومت نے اس وقت تشدد کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔گجرات میں مودی کی حکومت کے دوران مذہبی تقسیم، اداروں کی تباہی، آمرانہ طرز حکمرانی، اور سیاسی مخالفین کی نگرانی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان کے دور میں متعدد ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔”فارن پالیسی” کی رپورٹ کے مطابق، مودی کی انتظامیہ نے مخالفین کے خلاف سخت قوانین کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی سیاسی مخالفین کو بغیر کسی مقدمے کے سالوں تک جیلوں میں رہنا پڑا۔ اس صورتحال نے ہندوستان میں اختلاف رائے کو ایک جرم بنا دیا ہے، جہاں بدعنوانی اور بے روزگاری کے مسائل نے مودی کی حکومت کی معاشی کامیابیوں کو متاثر کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے مودی کی حکومت پر لگائے جانے والے الزامات اور ہندوستان کی جمہوری درجہ بندی میں کمی ایک نیا سوالیہ نشان ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ہندوستانی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کو اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • شہباز شریف کی پاکستان کے  معاشی چیلنجز اور عالمی مسائل ترجیح ،  لندن میں پریس کانفرنس

    شہباز شریف کی پاکستان کے معاشی چیلنجز اور عالمی مسائل ترجیح ، لندن میں پریس کانفرنس

    لندن: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے داخلی اور بین الاقوامی چیلنجز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے برادر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور چین کی مدد کے بغیر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام حاصل کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے ترقی کے لئے ذاتی طور پر اہم کردار ادا کیا اور برادر ممالک کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ کہ پاکستان گزشتہ 16 ماہ میں ڈیفالٹ کی حالت سے بچنے میں کامیاب رہا ہے، اور انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات میں بہتری کے حوالے سے عالمی اداروں کی گواہی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی ترقی کے لیے ٹیکس نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اور نئے ٹیکسوں کے بوجھ کے بغیر موجودہ ٹیکس دہندگان کے لیے سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
    لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے 9 مئی کے واقعات کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو معافی تب ملے گی جب وہ دل سے معافی مانگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات نے قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اور جو لوگ سوشل میڈیا پر پاک فوج اور شہداء کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ملکی مفاد کے اہم ادارے، جیسے پی آئی اے، کو بند کروانے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری یا انہیں آؤٹ سورس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔وزیرِاعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نقصان میں چلنے والے اداروں کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ان اداروں کو یا تو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا یا ان کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔
    یہ بیان لندن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا جہاں وزیرِاعظم شہباز شریف نے میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مختلف اہم امور پر بات چیت کی۔ انہوں نے ملکی معیشت اور بیرونی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے۔وزیر اعظم نے 9 مئی کے واقعات کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گھٹیا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے گزشتہ حکومت کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات میں نقصانات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم، بنگلہ دیش کے عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس، اور ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے مفید گفتگو ہوئی۔شہباز شریف نے عالمی مسائل خاص طور پر فلسطین کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا، جہاں انہوں نے 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطین میں جاری مظالم کا فوری خاتمہ کریں اور وہاں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
    کشمیر کے مسئلے پر بھی شہباز شریف نے تفصیل سے بات کی، اور کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ ایک صدی سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اقدام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی جانب توجہ دے۔
    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی معاشی ترقی کے حوالے سے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے، شہباز شریف نے یقین دلایا کہ یہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے لیے آخری پروگرام ہوگا، جس سے ملک کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوششیں پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گی۔اس موقع پر انہوں نے عالمی برادری سے امید ظاہر کی کہ وہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کو سمجھیں گے اور اس کی مدد کریں گے تاکہ ملک کی ترقی کا سفر جاری رہے۔

  • امریکہ کی اسرائیل کے حق دفاع کی بھرپور حمایت

    امریکہ کی اسرائیل کے حق دفاع کی بھرپور حمایت

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف اسرائیل کے حق دفاع کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ پنٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، آستین نے اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں لبنان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آسٹن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اسرائیل کے دفاع کے اپنے عزم پر قائم ہے اور وہ خطے میں امریکی افواج اور تنصیبات کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ پراکسیز کو صورتحال بگاڑنے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ اس کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • بیروت میں فوجی تعیناتی، حزب اللّٰہ سربراہ حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کے بعد کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

    بیروت میں فوجی تعیناتی، حزب اللّٰہ سربراہ حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کے بعد کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

    بیروت: لبنانی فوج نے دارالحکومت بیروت میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے پیش نظر اہم مقامات پر فوجی تعیناتی شروع کردی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق فوج کی بکتر بند گاڑیاں بیروت کے برج الغزال پل کے قریب تعینات کردی گئی ہیں۔ یہ اقدام علاقے میں بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ جھڑپوں کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔یہ پیشرفت اسرائیلی حملے میں حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس میں 700 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ بیروت کے جنوبی علاقے میں کیے جانے والے ایک حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔
    برج الغزال پل، جو مسلم اکثریتی علاقے خندق الغمیق اور عیسائی اکثریتی علاقے اشرفیہ کو تقسیم کرتا ہے، ماضی میں بھی جھڑپوں کا گڑھ رہا ہے۔ دونوں علاقوں کے رہائشیوں کے درمیان سیاسی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر کئی مرتبہ کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر ان علاقوں میں مزید تناؤ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔حزب اللّٰہ نے نصر اللّٰہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، اسرائیلی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں کشمیر و فلسطین کا بھرپور مقدمہ لڑا،وزیر دفاع

    وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں کشمیر و فلسطین کا بھرپور مقدمہ لڑا،وزیر دفاع

    نیویارک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا اور بھارت کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کا پیغام دے کر پوری قوم کی ترجمانی کی ہے۔نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو شان دار انداز میں اُجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جارحیت کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس سے وزیراعظم نے قوم کے موقف کو واضح اور مضبوط انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔اس ملاقات کا اہتمام پاکستانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے کیا گیا تھا، جہاں وزیر دفاع نے کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے امریکا میں ایک نیا معاشرہ قائم کیا اور پاکستان کا نام روشن کیا۔
    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جیسا کہ وزیراعظم نے بیرون ملک موجود سفارت خانوں کو اس حوالے سے ہدایات دے رکھی ہیں۔خواجہ آصف نے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور پاکستان سے محبت دیکھ کر خوشی ہوئی ہے اور یہ اجتماع پاکستانی قوم کی عظمت اور ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کی ملاقات: نیک خواہشات کا تبادلہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جوبائیڈن کی ملاقات: نیک خواہشات کا تبادلہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ یہ ملاقات گزشتہ شب اس عشائیے کے دوران ہوئی، جو امریکی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک سربراہان حکومت کے اعزاز میں دیا تھا.وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عشائیے میں دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان مملکت بھی موجود تھے، جو عالمی سطح پر موجودہ مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔شہباز شریف اور جو بائیڈن کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔ یہ ملاقات پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مثبت قدم تصور کی جا رہی ہے۔

  • امریکی صدر جوبائیڈن کا مشرق وسطٰی میں موجود فوج کو تیار رہنے کا حکم

    امریکی صدر جوبائیڈن کا مشرق وسطٰی میں موجود فوج کو تیار رہنے کا حکم

    امریکی صدر جو بائیڈن نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد مشرق وسطٰی میں موجود امریکی فوج کو تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشرق وسطٰی میں موجود امریکی فورسز کی پوزیشنز کا جائزہ لے اور انہیں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ اور تیار رکھے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج اور امریکی مقاصد کے تحفظ کو یقینی بنانا اہم ہے۔ یہ اقدام اس خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورت حال کے درمیان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں امریکی موجودگی اور ان کے مفادات کی حفاظت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

  • حزب اللہ نے نعیم قاسم کو عبوری سربراہ مقرر کر دیا

    حزب اللہ نے نعیم قاسم کو عبوری سربراہ مقرر کر دیا

    لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے سینیئر رہنما نعیم قاسم کو عبوری سربراہ کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، نعیم قاسم نئے سربراہ کے انتخاب تک حزب اللہ کے امور کی نگرانی کریں گے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کا مستقل سربراہ منتخب کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ہاشم صفی الدین، حسن نصراللہ شہید کے خالہ زاد بھائی اور داماد ہیں۔نعیم قاسم حزب اللہ کی شوریٰ کمیٹی کے مسلسل تین مرتبہ رکن رہ چکے ہیں۔ یہ تبدیلی اس وقت ہوئی ہے جب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق حزب اللہ نے خود کی ہے۔
    حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھے گی اور غزہ و فلسطین کی حمایت کے ساتھ ساتھ لبنان کے دفاع کے لیے اپنا جہاد جاری رکھے گی۔ حسن نصراللہ کی شہادت کا اعلان حزب اللہ کے لبنانی چینل المنار پر بھی کیا گیا۔حزب اللہ کی قیادت میں یہ تبدیلی ایک اہم موڑ ہے، جس کے اثرات خطے کی سیاسی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تنظیم نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور اپنے رہنما کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہے۔

  • حزب اللہ کے اہم کمانڈروں کی شہادت ،آیت اللہ علی خامنہ ای محفوظ مقام پر منتقل

    حزب اللہ کے اہم کمانڈروں کی شہادت ،آیت اللہ علی خامنہ ای محفوظ مقام پر منتقل

    تہران: لبنان پر اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے اہم کمانڈروں کی شہادت کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد ایران اگلے لائحہ عمل کے لیے حزب اللہ سے مسلسل رابطے میں ہے۔

    واضح رہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہفتے کے دوران 700 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی آرمی چیف نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بھی بیروت پر حملے میں شہید ہونے کا دعویٰ کیا ہے،سرائیل کے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر گزشتہ روز کیے گئے حملے میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینب نصراللہ کے شہید ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں تاہم ان کی بھی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اسرائیل کے حملے میں 6 افراد شہید اور 91 زخمی ہوئے تھے۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ گزشتہ روز بیروت حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ کے اہم کمانڈر علی کرکی بھی حملے میں شہید ہوئے۔ حزب اللہ یا لبنانی حکام نے حسن نصر اللہ کی شہادت کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    اسرائیلی فورسز کا مزید کہنا ہے کہ بیروت میں حزب اللہ کے راکٹ لانچر اور اسلحہ رکھنے والے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے گئے ہیں۔ لبنان سے فائر کیے گئے راکٹ مغربی کنارے میں فضا میں پھٹ گئے۔ راکٹ حملوں کے بعد مغربی کنارے میں سائرن بجائے گئے۔

  • لبنان پیجر بم دھماکوں میں ملوث انڈین نژاد نارویجن شخص کے بین الاقوامی سرچ وارنٹ جاری

    لبنان پیجر بم دھماکوں میں ملوث انڈین نژاد نارویجن شخص کے بین الاقوامی سرچ وارنٹ جاری

    ناروے میں پولیس نے لبنانی گروپ حزب اللہ کو پیجرز فروخت کرنے کے الزام میں ایک نارویجن ہندوستانی شخص کے لیے بین الاقوامی سرچ وارنٹ جاری کیا ہے –

    باغی ٹی وی:اس مہینے کے وسط میں لبنان میں پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں سے 38 افراد ہلاک اور 3000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، خیال کیا جاتا ہے کہ ان پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا تاہم اسرائیل نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی، ان دھماکوں کے بعد رنسن ہوزے لاپتہ ہیں اور ناروے کی پولیس نے ان کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری کیا ہے۔
    jose
    ناروے کی پولیس ایک انڈین نژاد نارویجین شہری رنسن ہوزے کی تلاش میں ہے ان کی کمپنی نے مبینہ طور پر گروپ حزب اللہ کو وہ پیجر سپلائی کیے تھے، جن میں بم نصب تھے۔

    بی بی سی کے مطابق رنسن ہوزے کام کے سلسلے میں امریکہ کے شہر بوسٹن گئے تھے اور تب سے وہ لاپتہ ہیں۔ وہ اس بلغاریائی کمپنی کے بانی ہیں جس نے مبینہ طور پر یہ پیجرز لبنان میں حزب اللہ گروپ کو فروخت کیے تھے۔

    ناروے کی پولیس نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’اوسلو کی پولیس کو بدھ کے دن پیجر دھماکے سے متعلقہ ایک شخص کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ ملی گمشدگی کے ایک کیس کی تفتیش شروع کر دی گئی اور ان کی تلاش کا انٹرنیشنل وارنٹ جاری کیا گیا۔‘

    ناروے میں بین الاقوامی معاملات کی تفتیش کرنے والی پولیس کی شاخ کیرپوس کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اگر کوئی شخص دوسرے ممالک میں لاپتہ ہوا ہو تو عموماً کیرپوس ایک بین الاقوامی الرٹ یا ’ییلو نوٹس‘ جاری کرتی ہے لیکن کچھ مخصوص حالات میں غیر ملکی محکموں سے بھی براہ راست رابطہ قائم کر سکتی ہے۔‘

    انٹرپول نے ابھی تک اس کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا،گذشتہ بدھ کو روئٹڑز نے رنسن ہوزے سے جب فون پر پیجر میں دھماکوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دوبارہ فون کیے جانے پر انھوں نے فون کال کاٹ دی۔

    "دی گارڈین” کے مطابق بلغاریہ کی ایک کمپنی کے بانی 39 سالہ رنسن ہوزے جو مبینہ طور پر پیجر سپلائی چین کا حصہ ہیں، گزشتہ ہفتے امریکہ کے ایک ورک ٹرپ کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔

    جمعرات کو، اوسلو پولیس نے کہا: "کل، اوسلو پولیس ڈسٹرکٹ کو پیجر کیس کے سلسلے میں لاپتہ شخص کی رپورٹ موصول ہوئی۔ لاپتہ افراد کا کیس کھولا گیا ہے اور ہم نے اس شخص کے لیے بین الاقوامی وارنٹ بھیجا ہے۔ ہوز نے پیجرز پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جب ان سے 18 ستمبر کو رائٹرز نے رابطہ کیا اور بلغاریہ کے کاروبار کے بارے میں پوچھے جانے کے بعد بند کر دیا۔ اس کے بعد وہ متعدد کالوں اور پیغامات کا جواب دینے میں ناکام رہا۔