Baaghi TV

Category: اسلام

  • زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    ایک ہزار ایک سو پندرہ فٹ بڑا 99942 نامی سیارچہ زمین کے قریب سےگزر گیا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین کے مطابق سیارچہ سطح زمین سے 10.4 ملین میل کے فاصلے سے گزرا جو کہ زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کے 44 بار بنتا ہے –

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 99942 اپوفس نامی سیارچہ پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا یعنی 1115 فٹ کا ہے اور اس کی چوڑائی فٹبال کے 4 گراؤنڈز کے برابر ہے اگر یہ سیارچہ زمین سے ٹکرا جاتا تو 88 کروڑ ٹن بارودی مواد کے بیک وقت دھماکے کے برابر تباہی ہوتی۔

    ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سائز کا اگلا سیارچہ اپریل 2029 میں زمین سے 19000 میل کے فاصلے سے گزرے گا۔

  • سیاحت میں فروغ پر اہم پیشرفت ، وزیر اعظم نے سیاحتی مقام پہ پارکس کا افتتاح کر دیا

    سیاحت میں فروغ پر اہم پیشرفت ، وزیر اعظم نے سیاحتی مقام پہ پارکس کا افتتاح کر دیا

    وزیر اعظم عمران خان نے ٹلہ جوگیاں نیشنل پارک اور سالٹ رینج نیشنل پارک کا افتتاح کیا انہوں نے پدری وائلڈ لائف گیم رزارٹ سوہاوا میں زیتون کا پودا لگایا۔

    وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ انکے ویژن اور قومی ٹوارزم اسٹریٹجی2030 کے تحت ملک بھر میں تاریخی اور قومی ورثہ کے حوالے سے اہم مقامات کی نشاندہی کی جارہی ہے جس سے ماحولیات اور جنگلی حیات کاتحفظ ہماری تاریخ اور قومی ورثہ کو اجاگر کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بریفنگ میں بتایا کہ ٹلہ جوگیاں نیشنل پارک اور سالٹ رینج نیشنل پارکس چھ پروٹیکٹڈ ایریاز میں شامل ہیں۔ چھ پروٹیکٹڈ ایریاز میں ان نیشنل پارکس کے علاوہ خیری مورت نیشنل پارک، چھنجی نیشنل پارک، نمل ویٹ لینڈ اور چشمہ ویٹ لینڈ نیچر ریزروز  شامل ہیں۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سالٹ رینج ایکالوجی اور ہریٹیج پروینشن پلان سات مرحلوں پر مشتمل ہے ان میں سے آج پہلے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے، حکام کی طرف سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ سالٹ رینج ایسا تاریخی قدرتی ثقافتی ورثہ ہے جو ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔بتایا گیا کہ 300 کلو میٹر طویل علاقہ اکالوجیکل،بیالوجیکل کلچرل ہیریٹیج کوریڈور اور مختلف مذاہب کے تاریخی مقامات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔یہ علاقہ قدیم تاریخی ورثہ اور قیمتی جنگلات کا حامل ہے جس میں بڑی تعداد جنگلی زیتون کی ہے۔یہ  خطے میں پری ہندو ازم سے لیکر بدھ مت یونان گھکھڑ اور مغلیہ دور لاتعداد آثار سے مالا مال ہے۔بابا گورونانک سکندر اعظم اور دیگر اہم شخصیات کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے اس علاقے کو عالمی ثقافتی اور قدرتی تاریخی ورثے میں شامل کرنے کیلئے یونیسکو کو بھی کہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے وائلڈ لائف پدری گیم کی ریزرو کی طرف سے جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے اقدامات کو سراہا اور ہدایت کی اس مجوزہ منصوبے کو جلدحتمی شکل دی جائے

  • عالم برزخ کا پہلا دن       بقلم:عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    عالم برزخ کا پہلا دن بقلم:عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    عالم برزخ کا پہلا دن

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
    اے اطمینان والی جان !
    الفجر : 27
    ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً
    اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو راضی ہے، پسند کی ہوئی ہے۔
    الفجر : 28
    فَادْخُلِي فِي عِبَادِي
    پس میرے ( خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔
    الفجر : 29
    وَادْخُلِي جَنَّتِي
    اور میری جنت میں داخل ہو جا ۔
    الفجر : 30

    آج ہم آخرت کے معاملات میں سے ایک معاملہ کا تذکرہ کریں گے جس کے ساتھ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں گے گے اور اس کے ساتھ ہم اللہ ملک الملک کو یاد کریں گے تاکہ اللہ تعالی ہمارے دلوں کو نفع عطا فرمائے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر انگیز گفتگو

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازہ میں گئے، جب قبر پر پہنچے تو دیکھا کہ ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی

    (یعنی قبر کھودی جا چکی تھی مگر ابھی تک اس کی لحد یعنی قبر کے اندر ایک جانب، نہیں نکالی گئی تھی)

    رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے، ایسے لگتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی،اس کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زمین کو کریدنے لگ گئے
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور دو تین بار فرمایا:
    عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔

    مومن آدمی کی موت کا منظر

    خوبصورت چہروں والے فرشتے جنت کی خوشبو اور جنت کے کفن کے ساتھ نیک روح کو لینے آتے ہیں

    اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:

    ” إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ
    مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نظر جاتی ہے

    (اے مسلمانو❗ یہ روح کے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف نکلنے کے وقت کا منظر ہے جب آدمی کی موت کا وقت آجاتا ہے اور اس کی روح اس کے حلق کی طرف چڑھتی ہے تاکہ جسم سے باہر نکل سکے اور یہ دنیا میں اس کے آخری سانس ہوتے ہیں اور وہ ان سب لوگوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو اس کے ارد گرد ہوتے ہیں اور اللہ تعالی جانتا ہے جب اس کی روح نکل رہی ہوتی ہے جب کہ وہ اس چیز سے بے خبر ہوتے ہیں )

    اسی منظر کو اللہ تعالی نے یوں بیان کیا ہے
    فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ
    پھر کیوں نہیں کہ جب وہ (جان) حلق کو پہنچ جاتی ہے۔
    الواقعة : 83
    وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ
    اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔
    الواقعة : 84
    وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ
    اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے۔
    الواقعة : 85
    فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ
    سو اگر تم (کسی کے) محکوم نہیں تو کیوں نہیں۔
    الواقعة : 86
    تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
    تم اسے واپس لے آتے، اگر تم سچے ہو۔
    الواقعة : 87

    ملک الموت نیک روح سے مخاطب ہوتا ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ ".
    اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ روح! اللہ کی بخشش اور رضامندی کی طرف نکل۔

    ( أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ کا مطلب ہے کہ تو پاکیزہ روح ہے کیونکہ تو بڑے بڑے بڑے حرام کاموں کے ساتھ گناہوں میں ملوث نہیں ہوئی
    نہ تو نے زنا کیا
    نہ حرام کی مرتکب ہوئی
    اور نہ ہی کسی کی غیبت کی
    تو ایک پاکیزہ روح ہے
    تو خیر کا کام کیا کرتی تھی اور اسی کی طرف لوگوں کو ابھارا کرتی تھی
    اور تو لوگوں کو شر سے ڈر آیا کرتی تھی تو ایک پاکیزہ روح ہے آج شیطان تیرے اندر وسوسہ پیدا کرنے والی کوشش میں کامیاب نہیں ہوا تو ایک پاکیزہ جسم میں رہتی تھی جس کی ساری کوششیں اللہ سے دعا کرنے،
    نماز پڑھنے، صدقہ کرنے اور نیک کام کرنے میں لگی رہتی تھی
    تیری زبان اللہ تعالی کا ذکر کرنے اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر کرنے میں لگی رہتی تھی اور تیری نظر ہمیشہ حلال کو ہی دیکھتی تھی
    اور تیرا جسم اور پاؤں ہمیشہ مساجد اور جہاد فی سبیل اللہ اور صدقہ اور غریبوں کی مدد کیلئے چل کر جایا کرتے تھے
    سو اے پاکیزہ روح❗ تو ایک پاکیزہ جسم میں تھی اب اپنے رب کی رضوان اور خشنودی کی طرف نکل)

    مومن کی روح اس کے جسم سے نکلنے کی مثال

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ” فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ
    اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔

    (یعنی جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے وہ جو چمڑے کا بنا ہوتا ہے جب اس مشکیزہ کو الٹا کر دیا جائے تو اس سے سارا پانی نکل جاتا ہے وہ قطرہ جو اس کے اوپر والے حصے میں باقی رہ جائے جب اس کا منہ نیچے کی طرف کرکے اسے لٹکا دیا جائے تو وہ کس طرح آہستہ آہستہ نیچے کی طرف آتا ہے اور اس کے منہ سے آسانی کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے
    وہ قطرہ مشکیزے کی اوپر والی جانب سے نیچے والی جانب کی طرف بڑی آسانی کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے بہنا شروع کر دیتا ہے نہ اس میں سختی ہوتی ہے نہ کوئی رکاوٹ ہوتی ہے بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ مشکیزے کے منہ تک آ جاتا ہے پھر اس مشکیزے سے نکل جاتا ہے
    ایسے ہی مومن کی روح اس کے جسم سے بڑی ہی آسانی کے ساتھ اور نرمی کے ساتھ باہر نکل جاتی ہے)

    پاکیزہ روح کے باہر نکلتے ہی دیگر فرشتے اسے حاصل کرنے کے لیے فورا آگے بڑھتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا
    جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر لیتے ہیں

    (یعنی رحمت کے فرشتے جو موت کے فرشتے کے ساتھ جنت سے کفن لے کر نازل ہوئے تھے اور جنت سے خوشبو لے کر نازل ہوئے تھے وہ پسند نہیں کرتے کہ اس مومن بندے کی روح آنکھ جھپکنے کے برابر بھی ملک الموت کے پاس رہے لہذا وہ فوراً ہی اس روح کو ملک الموت سے وصول کر لیتے ہیں)

    پاکیزہ روح کا ادب، اکرام اور احترام

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ
    پھر وہ اسے جنت والے کفن اور اس کی خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں

    وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ
    اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے

    یہ خوشبو اِس چیز کی ہے کہ اس روح نے دنیا میں اپنے جسم کو غلاظتوں سے بچا کر رکھا تھا
    اچھے اخلاق کے ساتھ
    اچھی گفتگو کے ساتھ
    مساجد کی طرف چل کر جانے کے ساتھ
    جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ
    امر بالمعروف کے ساتھ
    نہی عن المنکر کے ساتھ
    لہذا یہ روح عزت واکرام کی مستحق ہے

    آسمان کی طرف سفر

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    : ” فَيَصْعَدُونَ بِهَا
    پھر فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں

    جب روح کو اوپر کی طرف لے جایا جاتا ہے تو وہ جسم سے جدا ہو چکی ہوتی ہے اور فوت ہونے والے کے اہل و عیال پیچھے رو رہے ہوتے ہیں آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہوتے ہیں مال پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کو یقین آ چکا ہوتا ہے کہ وہ ان کے سامنے فوت ہوگیا ہے اس کے گھر والے اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں اور لوگوں میں اس کا اعلان کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ میں شامل ہو سکیں لیکن اس دوران انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ روح کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالی سب کچھ جانتے ہوتے ہیں اور فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں )

    راستے میں ملنے والے دیگر فرشتے پاکیزہ روح کا تعارف کرتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَلَا يَمُرُّونَ – يَعْنِي بِهَا – عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرَّوْحُ الطَّيِّبُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا
    اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے

    مثال کے طور پر، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے
    تو وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ عبدالمنان ہے
    بلکہ کہتے ہیں یہ شیخ الحدیث، استاذ العلماء، حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں

    آسمان کے فرشتے استقبال کرتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں

    پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ
    یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

    فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ
    پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔

    اور وہ اس دوران فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں:
    یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟
    اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے

    سبحان اللہ
    یہ نیک آدمی ہے اسے آسمان کے فرشتے بھی پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ ملاقات کرنے کو پسند کرتے ہیں
    کیسا پاکیزہ انسان اور خوش قسمت ہے کہ آسمان کے فرشتوں کے درمیان بھی اس کا تذکرہ بہت اچھے الفاظ میں کیا جاتا ہے اور دنیا میں بھی اور آسمان میں بھی اس کے لیے قبول لکھ دیا جاتا ہے

    اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس روح کے لیے اعزاز

    فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ :
    پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں
    اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ ؛ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى ".
    میرے بندے کے (نامۂ اعمال والی) کتاب عِلِّیِّیْنَ میں لکھ دو اور اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ، کیونکہ میں نے اس کو اسی سے پیدا کیا ہے، اس لیے میں اس کو اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر اس کو دوسری مرتبہ اسی سے نکالوں گا۔

    روح دوبارہ جسم میں واپس لوٹا دی جاتی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ” فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ
    پھر اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے

    یعنی اتنی دیر میں اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں تو قبر میں اس کی روح اس کے جسم میں داخل کردی جاتی ہے

    منکر نکیر سے ملاقات

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ
    پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ دونوں اسے کہتے ہیں
    مَنْ رَبُّكَ ؟
    : تیرا رب کون ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے
    رَبِّيَ اللَّهُ.
    :میرا رب اللہ ہے۔

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ کہتے ہیں:
    مَا دِينُكَ ؟
    تیرا دین کیا ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے:
    دِينِيَ الْإِسْلَامُ.
    میرا دین اسلام ہے۔

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ کہتے ہیں:
    مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟
    یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوت کیا گیا تھا ، وہ کون ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ جواب دیتا ہے:
    هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
    وہ اللہ کے رسول ہیں

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں
    وَمَا عِلْمُكَ ؟
    تجھے یہ علم کہاں سے حاصل ہوا کس نے تجھے اس کی خبر دی
    کس نے تجھے اس کے متعلق بتایا تجھے اس چیز کی تعلیم کس نے دی

    یہ فقط کوئی کلام نہیں ہے کہ جس کواپنی زندگی میں نافذ کیئے بغیر یا اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائے بغیر یاد کر لیا جائے

    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے:
    قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ، فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ.
    میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور میں نے اس کی تصدیق کی،

    یعنی میں نے کتاب اللہ کو پڑھا اس کو پہچانا اور اس میں جو کچھ لکھا تھا اس کو جانا اس پر عمل کیا

    پھر فرشتے اسے بڑی نرمی محبت اور پیار کے ساتھ کہیں گے کہ تو مطمئن ہو کر سو جا

    قبر میں ملنے والی نعمتیں
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ ".
    اس کے بعد آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے:
    اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دواور اس کے لیے جنت کی طرف سے ایک دروازہ کھول دو۔

    قَالَ :
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
    ” فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ ".
    پس اس کی طرف جنت کی ہوائیں اورخوشبوئیں آنے لگتی ہیں اور تاحدِّ نظر اس کے لیے قبر کو فراخ کر دیا جاتا ہے۔
    اور ایک روایت میں ہے
    وینظر الی مقعدہ من الجنۃ
    وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھتا ہے

    ایک خوبصورت آدمی کی قبر میں تشریف آوری

    قَالَ :
    آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
    ” وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ.
    اس کے پاس ایک انتہائی حسین و جمیل، خوش پوش اور عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور کہتا ہے: تمہیں ہر اس چیز کی بشارت ہو جوتمہیں اچھی لگے، یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ تھا

    فَيَقُولُ لَهُ :
    وہ قبر والا پوچھتا ہے:

    مَنْ أَنْتَ، فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ ؟
    تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ لگتا ہے، جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔

    فَيَقُولُ :
    وہ جواباً کہتا ہے:

    أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ.
    میں تیرا نیک عمل ہوں۔

    میں تیرے لیے کوئی اجنبی نہیں ہوں ہوں
    میں تیری وہ نماز ہوں جو تو اس وقت پڑھا کرتا تھا جب لوگ سوئے ہوتے تھے
    میں تیرا روزہ ہوں جو تو سخت دن میں رکھا کرتا تھا
    میں تیری طرف سے کیا ہوا صدقہ ہوں جبکہ لوگ اپنا مال جمع کر کے رکھتے تھے
    میں تیرا سخت دن میں مسجد کی طرف چل کر جانا ہوں
    میں اللہ کے سامنے تیرے کیئے ہوئے سجدے ہوں

    کیا تو مجھے پہچانتا نہیں ہے❗
    میں تیرا امر بالمعروف ہوں اور نہی عن المنکر ہوں
    میں تیرا وہ عمل ہوں جو تو والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرتا تھا
    میں تیری وہ آزمائش ہوں جو تم پر دین کی وجہ سے آئی تھی
    میں تیرا جہاد فی سبیل اللہ ہوں
    میں تیری طرف سے کی گئی قرآن کی تلاوت ہوں
    میں تیرا وہ عمل ہوں جو تو اپنی اولاد کی بہترین تربیت کیا کرتا تھا اور تو انہیں کہا کرتا تھا کہ قرآن یاد کرو اور اٹھو نماز ادا کرو
    میں تیرا وہ عمل ہوں جو تو اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں کو پردے کا حکم دیا کرتا تھا
    میں تیرے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہوں نہ میں زمین سے اگا ہوں نہ آسمان سے اترا ہوں
    میں تیرا وہی عمل ہوں جو تو دنیا میں کیا کرتا تھا اور جو تو نیکی جمع کیا کرتا تھا
    انا عملک الصالح
    میں تیرا نیک عمل ہوں

    نیک آدمی قبر میں خواہش کرے گا

    فَيَقُولُ :
    پھر وہ کہے گا :
    یارَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي ".
    اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل اور مال کی طرف لوٹ سکوں۔

    اے اللہ میں تیری ملاقات سے خائف نہیں ہوں یقینا تو نے مجھے امن دیا ہے مجھے شوق ہے کہ میں تیرے ساتھ ملاقات کر سکوں میں نے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیا ہے
    وہ ہے میرا محل
    وہ ہیں جنت میں میری بیویاں
    وہ ہے جنت میں میری نعمتیں
    وہ ہیں جنت میں میرے اھل وعیال
    میں انہیں جلدی ملنا چاہتا ہوں
    یارَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ
    اے میرے ربّ! قیامت قائم کر دے

    کافر کی جان نکلنے کا بھیانک منظر

    کالے چہروں والے فرشتے بدبو دار ٹاٹ لے کر کافر کی روح نکالنے آتے ہیں

    پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافر کی روح نکلنے کے متعلق فرمایا:

    ” وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ

    کافر آدمی جب اس دنیا سے رخصت ہو کر آخرت کی طرف جا رہا ہوتاہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں، ان کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں،

    وہ فرشتے مسلسل اس کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور پل بھر کے لئے بھی آنکھ بند نہیں کرتے اور وہ ٹاٹ جو ان کے پاس ہوتا ہے انتہائی بد بو دار گندا اور سخت لباس ہوتا ہے جو اس کو پہنانے کے لیے لایا جاتا ہے اتنا سخت ہوتا ہے کہ جیسے کانٹوں سے بھری کوئی شاخ ہو

    ملک الموت اس سے مخاطب ہوتا ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ ".
    اتنے میں موت کا فرشتہ آ کر اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث روح! اللہ کے غصے اور ناراضگی کی طرف نکل آ

    أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ
    اے خبیث روح! یعنی تو خبیث ہے اور جس جسم میں تھی وہ بھی خبیث ہے ایسے پاؤں جو کبھی بھی مسجد کی طرف اٹھ کر نہیں گئے
    ایسے کان جنہوں نے ہمیشہ محرمات اور فواحش کو سنا
    یہ کیسے ہاتھ اور کیسے پاؤں ہیں جو ہمیشہ اللہ کی معصیت میں لگے رہے اور دعوت اور خیر کے کام سے محروم رہے

    اے خبیث روح تو ہمیشہ اپنے جسم میں محرمات اور شیطان کے وسوسے ڈالتی رہی ہیں
    اے خبیث روح تو خبیث جسم میں تھی پس تو اپنے رب کے غیض و غضب کی طرف نکل اپنے رب کی لعنت کی طرف نکل

    روح گھبراہٹ میں چھپنے لگے گی

    قَالَ :
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ” فَتَفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ،
    وہ روح اس کے جسم میں بکھر جاتی ہے۔

    یعنی رعب کی شدت کی وجہ سے وہ روح اس کے جسم میں چھپتی پھرتی ہے اسے سمجھ نہیں آرہی ہوگی کہ وہ کس طرف بھاگ سکے

    کبھی جسم کے دائیں پاؤں میں جاتی ہے کبھی بائیں پاؤں میں جاتی ہے کبھی ہاتھوں میں آ جاتی ہے کبھی پیٹ میں چلی جاتی ہے یعنی وہ پورے جسم میں متفرق منتشر ہو جاتی ہے

    خبیث روح کے نکلنے کی شدت

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ
    پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔

    جیسے آپ کسی تیز دھار چھری پر گیلی اون لپیٹ دیں پھر اس کو شدت کے ساتھ اس چھوری سے کھینچیں تو کچھ اون چھری کے ساتھ چپکی رہ جائے اور کچھ کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے

    خبیث روح کے ساتھ دیگر فرشتوں کی بے رحمی

    فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ
    جب فرشتہ اسے نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے

    اس دوران
    اس کے گھر والے پیٹ رہے ہیں اس کا مال تقسیم ہو رہا ہے اس کے بچے اس کی چھاتی پر چڑھ کر رو رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس کی موت پر خوش بھی ہو رہے ہیں
    کتنے ہی مظلوم ہیں جو اس ظالم کی موت پر خوش ہو رہے ہیں
    کتنے ہی ستم زدہ ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے اس ظالم کی موت سے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
    اور کتنے ہی وہ ہیں جن کو اس ظالم کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی اور وہ بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے آج وہ بہت خوش ہیں

    کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی موت کی وجہ سے رحمان کا عرش ہلتا ہے اور مسجدوں کے منبر ان کی محبت میں روتے ہیں
    اور کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ مرتے ہیں تو لوگ ان کی موت پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں

    راستے میں ملنے والے فرشتوں کے کمنٹس

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرَّوْحُ الْخَبِيثُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا
    فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف جاتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں:
    یہ خبیث روح کس کی ہے؟
    اس آدمی کو دنیا میں جن برے ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ ان میں سے سب سے برا اور گندا نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے

    (یعنی اس کا وہ بدترین نام لے کر تعارف کروایا جاتا ہے کہ جو اس کا نام دنیا میں اس کی اہانت کے طور پر لیا جاتا تھا اور جس نام سے خود اس کو بہت چڑ اور پریشانی ہوتی تھی)

    فرشتے کہیں گے اے خبیث روح تو کسی بھی قسم کے اکرام اور پروٹوکول کی مستحق نہیں ہے کیونکہ تم نے اپنے جسم کی عزت نہیں کی کہ وہ نماز پڑھنے والا بنتا نہ اپنے ہاتھوں کی عزت کی کہ وہ صدقہ کرنے والے بنتے
    تو نے خود اپنے نفس کی عزت نہیں کی کہ وہ فرشتوں کے ہاں معزز بنتا اور نہ ہی تو نے خود اپنے نفس کی قدر کی آسمان والوں کے ہاں قدر والا بنتا

    آسمان کے فرشتے اس کے ساتھ کیسا رویہ اپناتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” { لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ }
    یہاں تک کہ فرشتے اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور دروازہ کھلوانے کا کہتے ہیں، لیکن اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا
    پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    {لَا تُفَتَّحُ لَہُمْ أَبْوَابُ السَّمَاِؑ ، وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔}
    (سورۂ اعراف:۴۰)
    یعنی: اوپر جانے کی خاطر ان کی روحوں کے لیے آسمان کے درواز ے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک نہ جا سکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے سے نہ گزر جائے۔

    اللہ تعالیٰ کا غضبناک حکم

    فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ :
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ، فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى. فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا ".
    اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو۔ پھر اس کی روح کو زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے

    نیک روح کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا تھا
    اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ
    اس کے نامہ اعمال کی کتاب علیین میں لکھ دو

    اور اب اس بد روح کے متعلق اللہ تعالی فرما رہے ہیں
    اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ، فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى.
    اس کے (نامۂ اعمال) کی کتاب زمین کی زیریں تہ سِجِّیْنٍ میں لکھ دو

    پھر اللہ تعالی فرمائیں گے اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ اسی سے میں نے اس کو پیدا کیا ہے اسی میں اسے لوٹاؤں گا اور پھر اسی سے دوبارہ اس کو نکالوں گا

    خبیث روح کے بلندی سے نیچے گرنے کی منظر کشی

    ثُمَّ قَرَأَ :
    اس موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    ” { وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ }،
    (سورۂ حج:۳۱)
    یعنی: اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ گویا آسمان سے گر پڑا اور اسے پرندوں نے اچک لیا یا ہوا اسے اڑا کر دور دراز لے گئی۔

    خبیث روح واپس اپنے جسم میں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ،
    اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے

    یعنی اتنی دیر میں اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں تو قبر میں اس کی روح اس کے جسم میں داخل کردی جاتی ہے

    منکر نکیر سے سامنا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ
    اور دو فرشتے اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں

    وہ آتے ہی اس کو حرکت دیتے ہیں ہیں لیکن یہ حرکت کوئی شفقت و نرمی، آسانی اور پیار کی نہیں ہوتی بلکہ وہ سختی کے ساتھ اس کو جھنجوڑتے ہیں وہ گھبرا کر اٹھتا ہے

    فَيَقُولَانِ لَهُ :
    اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں:
    مَنْ رَبُّكَ ؟
    تیرا رب کون ہے؟
    فَيَقُولُ :
    وہ کہتا ہے:
    هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي.
    ہائے ہائے! میں تونہیں جانتا

    فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ ؟
    ۔وہ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟
    فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي.
    وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں تو نہیں جانتا

    فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ ؟
    وہ پوچھتے ہیں: یہ جو آدمی تمہارے اندر مبعوث کیا گیا تھا، وہ کون ہے؟

    فَيَقُولُ : هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي.
    ۔وہ کہتا ہے: ہائے ہائے! میں نہیں جانتا

    یعنی تو کس کا بندہ تھا کس کی عبادت کیا کرتا تھا کیا تو ایک اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا یا اپنی شرمگاہ کا غلام تھا
    اپنے مال کا غلام تھا
    اپنی کرسی عہدے کا غلام تھا اپنی خواہش کا غلام تھا ❓

    اور اس آدمی کے بارے میں تو کیا جانتا ہے جس کو تمہارے پاس نبی بنا کر بھیجا گیا تھا
    کیا تو اس کو جانتا ہے
    کیا تو اس کی سیرت کو جانتا ہے
    کیا تو نے اس کے بارے میں پڑھا
    کیا تو اس کی صفات کو جانتا ہے
    کیا تو نے اس کی پیروی کی
    کیا تو نے اس کی عزت کا دفاع کیا

    جب تمام سوالوں کے جوابات دینے میں ناکام ہو جائے گا تو فرشتہ اس کو کہے گا نہ تو نے پڑھا نہ کسی اہل علم کا پیچھا کیا اور نہ سمجھنے کی کوشش کی
    نہ قرآن پڑھتا تھا نہ اس کی تلاوت کرتا تھا نہ سمجھنے کی کوشش کرتا تھا تیرا سارا مقصد خواہشات اور دنیا اکٹھا کرنا تھا
    یا پھر عہدہ، کرسی، بادشاہت اور پروٹوکول تیرا مطمع نظر رہتا تھا
    یہی تیرا ہر وقت مقصد ہوتا تھا اور رہا آخرت کا ڈر تو اس کو تو نے قدموں کے نیچے پھینک دیا تھا

    سوالات میں ناکامی کے بعد عذاب کا سامنا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس کو ہتھوڑے کے ساتھ مارا جائے گا ایسا ہتھوڑا کہ اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دے
    پھر اسے زمین میں ستر ہاتھ نیچے تک دھنسا دیا جائے گا

    وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ
    اور اس پر اس کی قبر اتنی تنگ کردی جائے گی کہ اس کی دونوں طرف کی پسلیاں بھی آپس میں پیوست ہوجائیں گی

    فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوا لَهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ. فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا
    اللہ تعالی کہیں گے اس بندے نے جھوٹ بولا ہے پس اس کے لئے آگ کا بچھونا لگاؤ اور جہنم کی طرف اس کا دروازہ کھول دو
    پھر وہ جہنم کی گرمی محسوس کرے گا جہنمیوں کی چیخ و پکار اور آوازوں کو سنے گا

    ایک بد صورت آدمی کی تشریف آوری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ
    ایک انتہائی بدشکل، بدصورت، گندے لباس والا بدبودار آدمی اس کے پاس آئے گا

    (ایسا بدصورت ہو گا کہ آنکھ اس کی طرف دیکھ نہیں سکے گی اور ایسا بدبودار ہوگا کہ اس کی بد بو سونگھی نہیں جائے گی)

    فَيَقُولُ :
    وہ کہے گا
    أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ
    تجھے ہر اس چیز کی بشارت ہو جو تجھے بری لگتی ہے

    یعنی اس وقت تو جو تکلیف اور عذاب دیکھ رہا ہے اس سے بھی بڑی تکلیف اور برا عذاب تیرے پاس آنے والا ہے

    تجھے قبر میں ہتھوڑا لگا ہے لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے
    تجھے قبر میں دبایا گیا ہے کہ تیری پسلیاں ایک دوسرے میں مل گئی ہیں لیکن یہ کچھ بھی نہیں ہے
    تو نے جہنم دیکھ لی ہے اس کی گرمی بھی محسوس کر لی ہے
    اس کی بد بو بھی تجھ تک پہنچ چکی ہے
    لیکن یہ سب کچھ بھی نہیں ہے تیرے پاس اس سے بھی بڑا عذاب آنے والا ہے
    أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ

    اور یہ وہی دن ہے کہ جس کا تجھ سے وعدہ کا جاتا تھا

    فَيَقُولُ :
    وہ اس کی طرف دیکھ کر کہے گا
    مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ ؟
    تو کون ہے؟ تیرا چہرہ تو ایسا چہرہ ہے جو شرّ کے ساتھ آتا ہے؟

    فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ.
    وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں

    میں تیرے لیے کوئی اجنبی نہیں ہوں تیرے ہی ہاتھوں کا کیا ہوا عمل ہوں

    وہی زنا جو تو کیا کرتا تھا
    وہ شراب جو تو پیا کرتا تھا
    وہی جو تو باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھایا کرتا تھا
    وہی جو تو کمزوروں پر ظلم کیا کرتا تھا
    وہی جو تو اپنے والدین کی نافرمانی کیا کرتا تھا
    وہی جو تو نماز کے وقت سویا رہتا تھا
    وہی جو تو لوگوں کو قتل کیا کرتا تھا
    وہی جو تو شریعت کے خلاف حکم دیا کرتا تھا
    وہی جوتو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے خاموش رہا کرتا تھا
    وہی تیری غیبت
    وہی تیری چغلی
    انا عملک الخبیث
    میں تیرا وہی خبیث عمل ہوں

    قبر میں اس کی خواہش

    فَيَقُولُ :
    ۔ وہ قبر والا کہے گا
    رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ ".
    اے میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا

    یہ بات وہ اس وجہ سے کہے گا کہ وہ وہ جہنم میں اپنا عذاب دیکھ چکا ہوگا

    یہ مکمل واقعہ مسند احمد اور سنن ابی داؤد میں موجود ہے
    حكم الحديث: إسناده صحيح رجاله رجال الصحيح

    اے مسلمانو❗ یہ ہیں لوگوں کے ان کی قبروں میں پیش آنے والے حالات
    اگر مردے بات کریں اور تم ان کی چیخ و پکار کو سن سکو اور اگر تم قبروں کی زیارت کرو اگر آپ بادشاہوں سرداروں اور بڑوں کے جنازے دیکھو جب کہ وہ اپنی زندگی میں بڑی عزت دولت اور شان و شوکت میں رہا کرتے تھے جب کہ اب وہ کیڑوں مکوڑوں اور حشرات الارض کی خوراک بن چکے ہیں

    اگر آج وہ بول سکیں اور اپنی قبروں سے کھڑے ہو سکیں اور اپنے کفن اتار سکیں اور اللہ تعالی ان کو اجازت دے کہ وہ لوگوں کے ساتھ بات کریں
    تو ان میں سے کوئی بھی آپ کو زنا اور شراب خوری کا حکم نہیں دے گا اور نہ ہی یہ کہیں گے کہ اے جوانو موج مستی کرو
    بلکہ وہ نماز پڑھنے کا کہیں گے
    وہ کہیں گے دنیا سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اللہ کی ملاقات کو مت بھولو

    ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہماری ہمارے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی آخرت اور قبر بہتر فرمائے

    عذاب قبر کے متعلق ہمارا عقیدہ

    اے بھائیو❗ عذاب قبر اور اس کی نعمتوں کے متعلق سینکڑوں دلائل کتاب و سنت میں موجود ہیں

    اور آدمی کا ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ عذاب قبر اور اس کی نعمتوں پر یقین نہ کریں

    قبر میں دفن نہ ہونے والا انسان

    رہا وہ انسان کے جس کو دفن نہیں کیا جاتا وہ جل جاتا ہے یا پانی میں غرق ہوجاتا ہے اس کو پانی کی مچھلیاں کھا جاتی ہیں یا حشرات الارض کھاجاتے ہیں یا وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں بکھر جاتا ہے یا اس جیسا کوئی اور حادثہ اس کے ساتھ پیش آ جاتا ہے تو یہ لوگ بھی عذاب قبر یا اس کی نعمتوں کا سامنا کریں گے
    اور یہ اس لیے کہ عذاب قبر اور اس کی نعمتیں روح پر ہوتی ہیں اور جسم اس کے تابع ہوتا ہے

    زندگی کی تین اقسام

    اے مسلمانو❗ جسم اور روح کے باہمی تعلقات کے اعتبار سے زندگی کی تین اقسام ہیں

    نمبرایک یا تو نعمتیں جسم پر ہوتی ہیں اور روح اس کے تابع ہوتی ہے جیسا کہ دنیا میں ہوتا ہے مثال کے طور پر جسم کوئی لذیذ مشروب پیتا ہے تو اس سے اس کی روح بھی خوش ہوتی ہے اور فائدہ اٹھاتی ہے یا جسم کوئی خوشبودار چیز سونگھتا ہے تو اس سے جسم کے ساتھ ساتھ روح بھی فائدہ اٹھاتی ہے لہذا جسم پہلے فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ روح اس کے بعد فائدہ اٹھاتی ہیں

    دوسری زندگی قبر کی زندگی ہے یعنی برزخ والی زندگی جو موت کے بعد سے لے کر قیامت قائم ہونےتک ہے یعنی یہ دنیا اور آخرت کی دونوں زندگیوں کے درمیان کی کیفیت ہے
    یہ وہ زندگی ہے جس میں عذاب اور نعمتیں روح پر ہوتی ہیں اور جسم اس کے تابع ہوتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی کسی نیک آدمی کی قبر کھود دی جائے یا کسی برے آدمی کی قبر کھولی جائے تو اس میں نعمتیں نظر آتی ہیں اور نہ ہی عذاب نظر آتا ہے
    اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ عذاب قبر یا اسکی نعمتیں واقع ضرور ہوتی ہیں لیکن ان کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے
    کیونکہ ہم روح کے اصل کیفیت نہیں سمجھتے اور روح کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے لیکن ہم یقین رکھتے ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قبر میں نعمتیں بھی ہوں گی اور عذاب بھی ہوگا اگرچہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے

    اور زندگی کی تیسری قسم وہ زندگی ہے جو آخرت میں ہوگی یا جنت میں یا جہنم میں اور یہ وہ زندگی ہے جس میں نعمتیں اور روح دونوں پر اکٹھے ہوں گے

    ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ چیزیں برحق ہیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں ان لوگوں میں شامل کر لے کہ جن پر قبر کی نعمتیں ہوں گے اور جو قبر کے عذاب سے محفوظ رہیں گے
    اے اللہ ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہم پر موت کی سختی آسان کردے

    والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

  • اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا    بقلم:جویریہ بتول

    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان عورت…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا…
    وقار اپنا……کردار اپنا……انعام اپنا…

    جب تیرا وجود بھی زمیں پر باعثِ آزار تھا…
    انداز بے رحم تھا بہت،نہ حقوق کا معیار تھا…
    پیدائش پر بیٹی کے باپ سوچتا کئی بار تھا…
    اسلام نے جو آ کر دیا، سمجھ وہ اِکرام اپنا…

    بیٹی ہو بہن ہو تم بیوی اور پھر اک ماں…
    جس صورت میں بھی ہو تم مہکاؤ یہ گلستاں…
    تمہیں عطا رب نے کیا ہے حقوق کا اِک آسماں…
    بہت خاص ہو اب تم ،وجود سمجھو نہ عام اپنا…

    مومنہ ہو تم مسلمہ ہو، قانتہ ہو تم تائبہ ہو…
    عابدہ ہو تم ساجدہ ہو،راکعہ ہو تم خاشعہ ہو…
    تاریخ کے سینے میں سیرتِ خدیجہ و آسیہ ہو…
    کیوں بھولی ہو صفات یہ،بھولا ہے کیوں نام اپنا…؟

    عمارہ کے نقشِ پر میدانِ جنگ میں صف آراء…
    صفیہ کی ہو تم وارث رکھ سکتی ہو دل بڑا…
    ماں عائشہ کی سیرت بنائے تمہیں علم کا دریا…
    راستوں کو پہچان لو اب، گر کرنا ہے کام اپنا…

    جنسِ بازار ہو نہ تہذیبِ مغرب کا معیار تم…
    جن راہوں کی ہیں وہ راہی،ہو گی یقینًا بیزار تم…
    حقوق کے نام پر استحصال کے وار پر رہو بیدار تم…
    آشیاں سے کرکے بغاوت،کھو نہ دو زادِ تمام اپنا…

    حیا کی تم پر چادر ہے،غیرت کا ملا ہے غازہ بھی…
    ہر دَور میں ہے کردار تمہارا،رہے یہ عزمِ تازہ بھی…
    تمہاری حفاظت کا ہے مکان ،نکلنے کا دوازہ بھی…
    حصارِ عظمت گنوا نہ دینا،حصار رکھنا دوام اپنا…!
    ================================

  • زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلموں نے زمین کی ایک ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کو 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمو دیا-

    باغی ٹی وی : ہماری زمین پر ارضیاتی عدسے سے نظر دوڑائیں تو یہ ابلے ہوئے انڈے کی مانند جگہ جگہ سے چٹخی نظر آتی ہے۔ کیونکہ یہاں فالٹ لائنیں ہیں جو خشکی کے بڑے بڑے ٹکروں پر مشتمل ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے۔ اب ٹیکٹونک پلیٹوں کے مکمل ارتقا کو صرف ایک 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمویا گیا ہے –

    ٹیکٹونک ارضیاتی پلیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں ناخن بڑھنے کے رفتار کے تحت اوسط حرکت ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے تمام ٹیکٹونک معلومات کو ایک ہی ویڈیو میں سمودیا ہے جس میں ہرطرح کے حقائق درست ہیں۔ یوں زمین کا ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم مائیکل ٹیٹلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے اگرچہ یہ پلیٹیں سال میں چند سینٹی میٹر سرکتی ہیں لیکن جب اربوں سال تک انہیں نوٹ کیا جائے تو ان میں غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں آج کا انٹارکٹیکا سخت برفیلا ہے اور جب وہ خطِ استوا پر ہوتا تھا تو اس وقت ایک بہت خوبصورت اور تفریحی مقام تھا۔

    اسے سمجھتے ہوئے ہم زمینی موسم، آب و ہوا، ارضیات اور خود ہمارے مستقبل کے بارے مین بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو اب تک دستیاب جدید ارضیاتی ماڈؑل کی بنا پر تیار کی گئی ہے۔

  • مجسمہ اقبال اور افکار اقبال  تحریر: طلحہ عبدالرحمٰن

    مجسمہ اقبال اور افکار اقبال تحریر: طلحہ عبدالرحمٰن

    مجسمہ اقبال اور افکار اقبال
    طلحہ عبدالرحمٰن

    مَحکوم کے حَق مِیں ہے یہی تربِیَت اچھی
     مَوسِیقی و صُورت گری و عِلمِ نَباتات!
    اقبالؒ

    دِل نشین سُریلی آوازوں اور دِل کش باوقار تصاویر کے عاشقوں کے لئے دَسْت بَسْتَہ ایک
    "تَوَجُّہ”

    خدارا۔۔۔سوچئے۔۔سمجھۓ۔۔۔
    اگر نبی پاکﷺ نے کسی شے کو ممنوع کر دیا تو آپ کے لئے اس حد بندی میں حکمت ہی حکمت ہے!
    احادیث کی بلند درجہ کتب میں تصویر کی حرمت پہ روایات ہی نہیں بلکہ پورے پورے ابواب ہیں

    دورِ غلامی میں ان احادیثِ مقدسہ کے ساتھ "تأویلات” و "توضیحات” کے نام پہ بہت کھلواڑ کیا گیا ہے۔۔۔

    بہر حال مجھ خاکسار کی ناقص رائے میں یہ تمام توضیحات اصلاً تماشہ اور کل تأویلات جھانسے بازی ہی ہیں۔۔۔اور ان کا وجود محض حیلۂِ شرعی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔۔۔

    اگر رسولِ خاتمﷺ نے ایک حکم دے دیا ہے تو کسی کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ ایک حرف بھی بکے۔
    القرآن – الحشر۔۔۔آیت 7

    ۔۔۔ وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌ۘ ۞

    ترجمہ:
    ۔۔۔اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
    ۔۔۔

    پُر لطف بات تو یہ ہے کہ شرعیتِ اسلامیہ کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ناہنجاروں کے احوال یہ ہیں کہ جس مغرب سے مرعوب ہو کر یہ شریعتِ اسلامیہ میں نقب زنی کرتے پھر رہے ہیں

    اس ہی مغرب سے پیدا ہوتا جدید علمِ نفسیات اور اسکی رو سے صورت گری و مصوری کے مغلظات پہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔تصویر سازی کا تمام فضلہ اب تو اظہر من الشمس ہے۔۔۔لاکن یہاں خامشی ہی خامشی ہے۔

    ایک طُرفہ تماشہ ہے جو غلام لگاتے ہیں اور دنیا کو اپنی بےمائگی پہ قہقہہ لگانے اور طعنہ زن ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں

    البتہ سب سے بڑا اشکال جو آج پرخلوص اسلامیان کو لاحِق ہے اور تذبذب میں لے جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے بہر حال شہادتِ حق تو ادا کرنا ہی ہے۔۔۔
    اور "کٹر مولویت” کی رو سے جدید ذرائع ابلاغ پہ "الحرام الحرام” کا تمغا سجا ہوا ہے۔

    جو سچ کہیں۔۔۔تو ناچیز بھی ان اشکالات کا ایک زمانہ تلک شکار رہا ہے۔۔۔کیونکہ بہر حال جدید ذرائع ابلاغ سے اسلام تو ہم نے بھی سیکھا ہے۔۔۔خصوصا الاستاذ داکتر اسرا احمد علیہ رحمہ۔۔۔شیخ عمر ابراھیم والیدو حفظہ اللہ ، پیس ٹی وی، نوا سٹوڈیوز وغیرہ سے اسلام کے اسرار اور رموزِ ایمان سمجھے ہیں۔۔۔

    ۔۔۔
    سو بظاہر ایک تناقض و تضاد نظرآتا ہے۔۔۔
    اس اشکال سے کافی عرصہ ہم بھی پریشان رہے ہیں، تنگ آ کر جدید علومِ ابلاغ کا مطالعہ شروع کیا اور تصویر سازی پہ بھی شرعی مؤقف کی تحقیق کا آغاز کیا۔

    حیران کن طور پہ جدید علومِ ابلاغ سے یہ گھتی کھلی کہ ویدیو دروس اور لیکچرز سے کہیں زیادہ حوالاجات و ترواشوں اور انیمیشن پہ مبنی داکومنتریز دل دوز اور پر تأثیر ہیں
    ۔۔۔

    اور شرعیتِ اسلامیہ کی رو سے ذی نفس ،جان دار حضرات کی تصویر سازی تو حرام و ہے
    (صحیح بخاری ، باب :سود کا بیان، ٢٠٨٦ اور ٢٢٣٨)

    البتہ بےجان اشیاء کی مصوری حلال ہے(صحیح بخاری ، باب :بےجان اشیاء کی تصاویر، ٢٢٢٥)

    سو جیسا کہ حکمِ باری ہے
    اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ۔۔۔ انحل ١٢٥
    ترجمہ:
    آپ دعوت دیجیے اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے

    الغرض حضورﷺ کی دعوت پہنچانے، شہادت علی الناس ادا کرنے کا بہترین، ذیرک ترین، با شعور، بابصر، حاذق اور کامل الفن طریق بہر حال وہ ہی ہے جو حضورﷺ کی قائم کردہ پر حکمت حد بدیوں کے اندر رہتے ہوئے داعیانِ ایمان اپنائں۔۔۔ بس ضرورت ہے تو دل جمعی کے ساتھ از حد محنت کی۔

    ڈاکومنتریز بنانا۔۔۔اینیمیشن تیار کرنا اور پرزنٹیشنز پیش کرنا بہر کیف ایک نہایت دقت آمیز کام ہے۔۔۔

    لاکن فرض کی احسن طریق سے ادائگی بہر حال ہم پہ لازم ہے۔۔۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس دورِ غلامی میں ، حریتِ اسلام کا پاسبان بنائے۔۔۔ آمین

  • ا صل خوب صورتی   تحریر:جویریہ بتول

    ا صل خوب صورتی تحریر:جویریہ بتول

    ا صل خوب صورتی…!!!
    (جویریہ بتول).
    پردہ کی اہمیت مسلمہ ہے… وہ غلطیوں کا ہو…رازوں کا ہو… قیمتی اشیاء یا پھر روح و بدن کا ہو…جب پردہ کا حصار ان چیزوں سے اُٹھ جائے تو سب ہلکا ہو جاتا ہے…وزن اور معیار گرنے لگتا ہے…ہم کوئی بھی چیز جب کسی مارکیٹ یا سپر سٹور سے خریدنے جاتے ہیں تو بہترین پیکنگ میں چیز خریدتے ہیں لیکن جب وہی چیز ہم کھول کر گرد سے اَٹی واپس کرنے جائیں تو دکان دار واپس کرنے سے انکار کر دیتا ہے کہ نہیں جناب یہ تو استعمال ہو چکی ہے،اس کی زینت و آرائش مدہم کر دی گئی ہے…
    اللّٰہ تعالٰی نے بنی آدم کے لیے دیگر نعمتوں کے ساتھ ساتھ لباس کی نعمت بھی نازل کی جس کا ذکر اللّٰہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کیا ہے…
    لباس کا مقصد جسم کو بے پردگی سے بچانا…اُس کا تحفظ اور موسم کے گرم و سرد سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے…
    اللّٰہ تعالٰی نے جہاں لباس کو موجبِ زینت قرار دیا وہیں تقویٰ کے لباس کی وضاحت بھی فرما دی…
    اس تقویٰ والے لباس کی مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں…یعنی ایسا لباس جو سادگی و عاجزی پر مشتمل ہو…لباس غرور و تکبر کے اظہار کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور اسلامی آداب و ہدایات کے مطابق لباس زیب تن کرنا وغیرہ…
    حضرت داؤد علیہ السلام کو اللّٰہ تعالٰی نے زرہ جنگی لباس جو لوہے سے تیار کیا جاتا ہے کی صنعت گری سکھائی:
    و علمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم فھل انتم شٰکرون¤
    "ہم نے اُسے تمہارے لیے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو،کیا تم شکر گزار بنو گے…”(الانبیاء).
    مسلمان خواتین کا لباس ایک انتہائی نازک اور حساس معاملہ ہے کہ جب وہ لباس کے آداب سے تہی دست ہو کر گھروں سے نکل کر دفاتر،اداروں،تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر گھومتی نظر آتی ہیں تو یہ چیز بدنگاہی اور بدکاری کے فتنہ کو ہوا دینے کی واضح وجہ بنتی ہے…
    لباس کا مقصد چوں کہ ستر پوشی ہے نہ کہ پہننے کے باوجود عریانی کا اظہار…
    مسلمان عورتوں کو تو حکم ملا تھا:
    "اپنی اوڑھنیاں اوڑھے رکھیں…”
    اُن سے کبھی غافل نہ رہیں…نبیﷺ آپ اپنی مبارک زبان سے اعلان کر دیں…اپنی ازواج کے لیے،بیٹیوں کے لیے اور مسلمانوں کی عورتوں کے لیے…!!!
    مذید فرمایا:
    "اور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرتی پھرو…(الاحزاب).
    یعنی گھروں سے بوقت ضرورت نکلنے کے آداب سکھائے جا رہے ہیں کہ اس انداز میں بناؤ سنگھار کر کے نہ نکلو کہ فتنوں کے دروازے کھلتے چلے جائیں…تمہارا چہرہ،بازو،سینہ لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے یہ تبرج ہے اور یہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم ہے…
    اے مسلمان عورتو…!
    تم ماڈرن ہو…اسلام جدید، آفاقی،ابدی اور ہدایت کی تعلیمات کا سرچشمہ ہے…!!!
    اور اس تبرج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے چاہے اس کا نام کتنا ہی خوش نما اورپُرفریب رکھ لیا جائے…جس چیز کو اللّٰہ اور اُس کا رسول فتنہ قرار دے دیں ہم لاکھوں دلیلوں اور حجتوں کے ذریعے اُسے قطعًا درست ثابت نہیں کر سکتے…
    اسی بے پردگی اور اختلاط مرد و زن نے ہر فورم اور ہر جگہ پر کیا کیا گُل نہیں کھلا رکھے…لیکن ہم سر سے گزرتے پانی سے بالکل غافل رہتے ہیں…
    فطرت سے جنگ کر کے فتح یاب ہونا چاہتے ہیں جو کبھی ممکن ہی نہیں…!!!
    ایک دوست بتا رہی تھیں جو صحت کے شعبہ میں جاب کرتی ہیں کہ میں نے جب سے نوکری شروع کی ہے آج تک با پردہ گئی ہوں…دورانِ ملازمت اور میٹنگز میں حجاب و نقاب میں رہتی ہوں اور میرے اس گھِسے عبایا کی وجہ سے مرد حضرات میری طرف زیادہ توجہ ہی نہیں دیتے…احترامًا کام کی بات سرسری انداز میں نمٹا دیتے ہیں…جب کہ مجھ سے بڑی ایج کی خواتین جو کہ ننگے چہروں پر فل میک اپ…تنگ و نمائش کرتے لباس،ہاتھوں میں تھامے بیگ اور سیل فون انہیں ہمیشہ مردوں کے لیے باعثِ کشش رکھتے ہیں…
    وہ اُن سے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر بات کو طول دیتے اور ہنسی مذاق تک بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں…تو اس وقت مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ تحفظ اسلام دیتا ہے یا دورِ جاہلیت کی رسمیں…؟
    اُن کے بقول یہی چیز اُن کے اطمینان کی وجہ بنتی ہے…!!!
    عورت جب خود کو بے وقعت کر دینے پر آ جاتی ہے تو وہ ہر نوع کی سوچ اور نظر کی تسکین کا باعث بن جاتی ہے…معیار سے گِر جاتی ہے…بے وزن ہو جاتی ہے…
    یہی وجہ ہے کہ کامل و اکمل دین نے حفاظت و حصار کے جو خوب صورت نظام اور طریقے ہمیں فراہم کیے ہیں…انہی میں روحانی و جسمانی سکون کا راز پوشیدہ ہے…
    ہم سب راز ہیں…انمول ہیں…اور مسلمان خواتین کو پردہ کا یہ حکم ذہنی،قلبی اور معاشرتی راحت کے لیے دیا گیا ہے…تاکہ معاشرے سے خرابیوں کا تدارک کیا جائے اور اخلاقی بیماریوں کو پنپنے سے روکا جا سکے اور ہر کوئی اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے مذہبی و ملی…قومی و سماجی…کردار اَدا کر کے معاشرے کی اصلاح میں ممد و معاون ثابت ہو…
    لیکن ماحول کی خرابی اختلافات کو جنم دے کر شبہات کو فروغ دیتی ہے…اِسی لیے اسلام نے ہمیں سسٹم کی اصلاح کے لیے قوانین اور اطلاق کا طریقۂ کار سکھا دیا ہے لیکن اُس سب کو پسِ پشت ڈال کر ہم اخلاقی و تعمیری مدارج طے کرنے کے سفر پر ہیں…؟؟؟
    یہ بیج کیا فصل اُگائے گا…؟کس منزل کا راہی بنائے گا…؟اخلاقیات کی تعمیر کیسے ہمالیہ کو چھوئے گی…؟اور کردار کتنے مضبوط بن کر اُبھریں گے…؟یہ سوال ہنوز اپنی جگہ موجود ہے…!!!
    ایسے سسٹم کے پروردہ معاشروں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں…!!!
    یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ پردہ ایک مسلمان عورت کے لیے اللّٰہ اور رسولﷺ کا حکم اور ایمان کی تکمیل کا راستہ ہے… یہ حُبِّ الٰہی اور حُبِّ رسول کا سوال ہے…!!!
    مسلمان عورت کی اصل خوب صورتی کا سفر اور بد صورت رسم اور جاہلیت سے نجات و اعراض ہے…!!!
    =================================

  • کارواں ہمارا   تحریر: سفیر اقبال

    کارواں ہمارا تحریر: سفیر اقبال

    کارواں_ہمارا

    ترجیحات بدل گئیں
    انداز بدل گئے
    طریقہ کار بدل گیا
    چالیں بدل گئیں…

    سب کچھ بدل گیا… تبدیلی آ گئی…!
    لیکن اسلام نہیں بدلا.

    خلفائے راشدین سے لیکر آج تک ہر موقع پر اسلام کا قافلہ چلتا رہا…! سپہ سالار، شہسوار اور پیادے اپنی اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق ساتھ چلتے رہے. اپنا وقت ختم ہونے پر ساتھ چھوڑتے رہے لیکن قافلہ مسلسل چلتا رہا. تاریخ رقم ہوتی رہی… شکست اور فتوحات لکھی جاتی رہیں. شہدا کو اچھے طریقے سے اور غداروں کو بطور عبرت یاد کیا جاتا رہا.

    قافلے کے سفر میں سفر کی زمین بدلتی رہی… کبھی صحرا…کبھی پہاڑ… کبھی دریا… کبھی سبزہ زار…! کبھی گھوڑے سے اتر کر پیدل چلنا مناسب ہوتا کبھی سبک رفتاری سے گھوڑا دوڑانے میں عافیت ہوتی. کبھی چھوٹے قافلے کو کسی پر امن علاقے یا شہر میں پہنچنے کے لئے بڑے قافلے کا ساتھ دینا پڑتا یعنی "اپنا جھنڈا” لپیٹا پڑتا … اور کبھی دشمن سے خود کو محفوظ کرنے کے لئے کسی گھاٹی میں پناہ لینی پڑتی… اتنے دن تک اور اس وقت تک… جب تک دشمن کو یقین نہ ہو جائے کہ یہ اسلامی قافلہ صفحہِ ہستی سے مٹ چکا ہے.

    کبھی قافلے والوں میں امید پیدا کرنے کے لیے اور دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لیے فتح و نصرت کے ترانے گائے جاتے… اور کبھی قافلے سے غداروں کو سامنے لانے اور قافلے سے نکالنے کے لیے اپنی بہت ساری سرگرمیاں ترک کرنی پڑتیں.

    قافلے چلتے رہے…. وقت بدلتا رہا. دشمن کی چالیں بدلتی رہیں… دشمن کے ہتھیار بدلتے رہے. اور اسی حساب سے قافلے والوں کی ضروریات بدلتی رہیں… ضروریات بدلنے سے ترجیحات بدلتی رہیں….!

    ہر موقع پر جب بھی کسی نے کہا کہ میں گھوڑے پر ہوں تو پیدل نہیں چل سکتا یا میں پیدل ہوں تو گھوڑا نہیں چلا سکتا… وہ قافلے سے پیچھے رہ گیا. جس نے بھی کہا کہ مجھے تیر چلانا تو آتا ہے لیکن میں بارود والی بندوق چلانا نہیں سیکھوں گا یا نیزہ چلانا آتا ہے لیکن منجنیق نہیں چلا سکتا وہ بھی پیچھے رہ گیا. مقصد منزل اسلام کو پانا تھا… منزل مقصود جنت تھی اس لیے منزل کی طرف رخ کر کے، جنت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے باقی ہر چیز بدلتی رہی. قرآن وہی رہا ،رسول کے فرمان وہی رہے… البتہ پڑھنے والے پڑھانے والے … سننے والے سنانے والے بدلتے رہے…!

    اس قافلہ کے راستوں میں جو شہید ہو گئے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے کہ انہیں اور کسی چیز کی طلب نہیں رہی اور جو بچ گئے اور اپنی حالتِ ایمان کو قائم رکھتے ہوئے وہ اپنا اجر اللہ کے ہاں لکھوا چکے اور کوئی ان سے ان کا اجر نہیں چھین سکتا.

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر موقع پر قافلے کا نام بدلتا رہا لیکن اہل قافلہ کے دلوں میں اپنے سابقہ سپاہ سالار کی محبت کم نہیں ہوئی. اسلام کے لیے نور الدین زنگی کی اپنی خدمات تھیں جو اس کے ساتھ منسوب ہیں اور صلاح الدین ایوبی کی اپنی فتوحات جو اس کے ساتھ منسلک ہیں. محمد بن قاسم کی فتوحات محمد بن قاسم کی ہیں لیکن محمود عزنوی کے حملے محمود عزنوی کے نام سے ہی رقم ہیں. سب اسلام کے لیے کوشش کرتے رہے لیکن اپنے اپنے وقت پر. پہلے سپہ سالار کے جانے سے دوسرے کو فرق نہ پڑا اور نہ پڑنا چاہیے اور دوسرے کے آنے سے پہلے کی عزت و تکریم میں کمی نہیں ہوئی اور نہ ہونی چاہیے. ہر ایک نے اپنے اپنے موقع پر اسلام کے لیے اپنی اپنی خدمات سرانجام دیں.

    کبھی ایسا بھی ہوا کہ شاہ اسماعیل شہید اور مجاہدین بالاکوٹ کی طرح سارے کا سارا قافلہ مٹ گیا (بظاہر ) لیکن اسلام پھر بھی زندہ رہا… ان لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں ہوئی. وہ آج بھی اللہ رب العزت کے پاس اور تاریخ کے صفحات میں زندہ ہیں ان شا اللہ.

    فکری اور تبلیغی معاملے کو دیکھیں تو محدثین کرام اور ائمہ عظام نے اپنے اپنے وقت میں، اپنی اپنی علمی قابلیت اور فقاہت سے دین اسلام کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے کوششیں کی اور اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اگر شیخ عبدالقادر جیلانی صاحب کی غنیتہ الطالبین، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حجتہ اللہ البالغۃ ، اور اسی طرح مولانا مودودی صاحب، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تعلیمات و افکار کا جائزہ لیا جائے تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ سب کی کوشش غلبہ اسلام تھی اور اپنی طرف سے بھرپور کوشش تھی. ہم ان کی خوبیوں کو سراہتے ہیں اور انسان ہونے کے ناطے ان سے ہونے والی غلطیوں کو اس لیے یاد رکھتے ہیں تا کہ وہ دوبارہ ہم سے نہ ہوں.

    لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی کوشش غلبہ اسلام کے لیے نہیں تھی یا ان کی وجہ سے آج ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا. وہ ہمارے قافلے کے اسلاف تھےاور اپنی جزا اللہ کے ہاں لازمی پائیں گے … ہمارے دل میں ان سب کی توقیر ہونی چاہیے اور یہ لازم سمجھنا چاہیے کہ پورا دین نہیں تو دین کا کچھ نہ کچھ حصہ یا کافی حصہ ہمارے پاس ان کے ذریعے پہنچا اس لیے وہ بھی ہمارے اجر میں لازمی شامل ہیں. اور ہم ان کے احسانات کا بدلہ کبھی نہیں چکا سکتے.

    یہ قافلے یونہی چلتے رہیں گے. لوگ، مسافر، بدلتے رہیں گے لیکن اسلام وہی رہے گا. تحریکوں کے نام جماعتوں کے نام بدلتے رہیں گے. ہر بندہ رب العزت کی مرضی کے تحت اپنا وقت گزار کر اپنا کام پورا کرے گا. کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ساری زندگی ایک ہی قافلے میں رہے… کچھ ایسے ہوں گے جو ایک زندگی میں دو قافلوں میں سفر کرتے رہے ہوں گے اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے فتنوں کے دور میں آنکھ کھولی ہو گی… سابقہ قافلے کی فتوحات سنی ہوں گی لیکن اگلے قافلے کو ترتیب دیتے دیتے، مستقبل میں اگلے آنے والے قافلوں میں شامل ہونے اور ان کی عظمتیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے.

    لیکن سب سے زیادہ افسوس ان لوگوں پر ہے جو پرانے قافلے پر نکتہ چینی تو کرتے ہیں اور اس کے "ختم ہونے” کی مختلف وجوہات تو بیان کرتے ہیں لیکن نئے قافلے کو ترتیب دینے کی کوشش یا اس کے ساتھ قدم ملانے کی جرات نہیں کرتے.

    عین ممکن ہے کہ کچھ احباب کو قافلوں کی ترتیب و تخریب کے حوالے سے میری "حوصلہ افزا باتیں ” انتہائی تلخ اور حیران کن محسوس ہوں لیکن یقین کریں آنسو چھپا کر مسکرانے اور حوصلہ دینے والے کی مسکراہٹ بھی اتنی ہی حیران کن ہوتی ہے اور اس موقع پر ہر انسان اسی انداز میں اللہ سے ڈر اور امید کے درمیان موجود ہوتا ہے.

    رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ.(آل عمران :08)
    ترجمہ: اے ہمارے رب، ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کجی میں مت ڈال اور ہمیں اپنی طرف سے خاص رحمت عطا فرما۔ بےشک تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔

    تحریر :سفیر اقبال #رنگِ_سفیر

  • جالے بنانے والی مکڑیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جالے بنانے والی مکڑیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    بالغ نر مکڑی جالا نہیں بناتا،

    Reference:- Speeli, Do only female spiders
    build webs, 2019
    "آثار قدیمہ کے ادبی علوم میں یہ متفقہ طور پر قبول کیا گیا ہے کہ مادہ مکڑی عام طرح کے جالے بناتی ہے، جبکہ نر مکڑی جالا نہیں بناتا سوائے صحبت اور نطفہ شامل کرنے کیلئے”

    نر مکڑی جالا نہیں بناتا، اسکی بجائے وہ ریشم کو ملاپ کیلئے محفوظ رکھ لیتے ہیں، یہ مادہ مکڑیاں ہوتی ہیں جو جالے بناتی ہیں۔
    یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکی نشاندہی کردی گئی تھی۔

    Quran 29:41
    مَثَلُ الَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَـبُوْتِۚ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَاِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَـبُوْتِ ۘ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (العنکبوت 41#)

    "ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھے ہیں مکڑی کی سی مثال ہے، جس نے گھر بنایا، اور بے شک سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی کا ہے، کاش وہ جانتے۔”

    عربی میں "اِتَّخَذَ” کا لفظ نر جنس کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ مادہ جنس کیلئے "اِتَّخَذَتْ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مادہ مکڑیاں ہیں جو جالے بناتی ہیں۔

    1400 سال پہ رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ صرف مادہ مکڑیاں ہی جال بناتی ہیں۔۔۔؟؟؟؟؟

    مکڑیاں شکار کو پکڑنے کیلئے جالے بناتی ہیں۔ مگر ہر دفع جب وہ شکار کو پکڑتی ہیں تو جالے کو نقصان پہنچتا ہے یا جالا مکمل ٹوٹ جاتا ہے۔

    Reference:- Discover Wildlife, 14 incredible spider facts, 2019
    "بارش اور ہوا انکے جالے کی ساخت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ جبکہ سرپل دھاگے(پیچ دار) پہ چپکنے والی کوٹنگ جو نزدیک اڑنے والےحشرات کے جالے میں آنے کی وجہ بنتی ہے، مٹی اور دھول کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اکثر جالے ہر رات بنائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا آپریشن ہے جس میں مکڑی کو 20 میٹر ریشم کی ضرورت پڑتی ہے۔”

    یہ ایسی مخلوق ہے جسکا گھر ہر دفعہ تباہ ہوجاتا ہے جب یہ اپنے شکار کو پکڑتی ہے۔ اور یہ جالا تو صرف ہوا کی وجہ سے بھی نقصان اٹھا سکتا ہے۔ "مگر مکڑیوں کا گھر ہی ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے”

    1400 سال پہ رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ کس مخلوق کا گھر سب سے زیادہ کمزور ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سینیٹر رحمان ملک نے  بھارت  داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    سینیٹر رحمان ملک نے بھارت داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش ایک عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
    کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ای اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہے گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔
    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔