Baaghi TV

Category: اسلام

  • سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال پرانے برفانی دور کے گینڈے کی لاش دریافت

    سائبیریا میں ہزاروں سال سے برف میں محفوظ گینڈے کی لاش دریافت-

    باغی ٹی وی : سائبرین ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق برفانی عہد کا یہ گینڈا اگست 2020 میں یوکیتیا کے خطے میں اس وقت دریافت ہوا جب وہاں کی برف پگھل گئی۔

    خیال کیا جارہا ہے کہ یہ گینڈے کا بچہ ہے جس کی عمر 3 سے 4 سال ہوسکتی ہے اور اس کی موت 20 سے 50 ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔

    جب سے اس کا جسم برف میں منجمد ہوکر محفوظ تھا اور اب بھی اس کے بال، نرم ٹشوز، آنتیں، دانت، چربی کے ٹکڑے اور سینگ جسم کا حصہ ہیں یہاں تک کہ اس کا آخری کھانا ابھی بھی برقرار ہے-

    یوکیتیا کے اکیڈمی آف سائنسز کی ڈاکٹر ویلری پیٹونیکوف نے بتایا یہ نوعمر گینڈا 3 سے 4 سال کا تھا اور ممکنہ طور پر ڈوب کر ہلاک ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے ریڈیو کاربن ٹیسٹ سے معلوم ہوگا کہ اس کی موت کب ہوئی مگر امکان ہے یہ 20 سے 50 ہزار سال سے پرانی لاش ہے۔

    اس سے قبل اسی خطے سے 2014 میں ایک ایسے ہی گینڈے کے بچے کے منجمد جسم کو دریافت کیا گیا تھا جو کہ 34 ہزار سال پرانا تھا۔

    ڈاکٹر ویلری نے وضاحت کی کہ اس نو دریافت شدہ گینڈے کا جسم گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا ہے، جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ اس زمانے کے گینڈوں نے کم عمری میں ہی سرد موسم سے مطابقت حاصل کرلی تھی۔

    یہ خطہ قدم عہد کے جانوروں کی دریافت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور اس نئی دریافت کو خطے کے صدر مقام یاتوسک میں بھیجنے کے لیے برف سے بنی سڑکوں کے بننے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

  • لکس اسٹائل ایوارڈ: خلیل الرحمن قمر کا تحریر کردہ ڈرامہ میرے پاس تم ہو بہترین ڈرامہ قرار

    لکس اسٹائل ایوارڈ: خلیل الرحمن قمر کا تحریر کردہ ڈرامہ میرے پاس تم ہو بہترین ڈرامہ قرار

    19 ویں لکس اسٹائل ایوارڈ میں متنازع ترین ڈرامے میرے پاس تم ہو کو بہترین ڈرامہ قراردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے باعث رواں سال لکس اسٹائل ایوارڈ آن لائن منعقد ہوئے۔ 19 ویں لکس اسٹائل ایوارڈ کو آن لائن اگلے ہفتے نشرکیا جائے گا۔

    لکس اسٹائل ایوارڈ میں 2 لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیئے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اداکار، شاعر، مصنف، ٹی وی میزبان انورمقصود دیا گیا جب کہ دوسرا ایوارڈ فوٹوجرنلسٹ ٹپوجویری کو دیا گیا۔

    ڈرامہ سیریل رانجھا رانجھا کر دی نے 4 ایوارڈ اپنے نام کئے جبکہ ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو نے 2 ایوارڈ اور فلم لال کبوتر بھی 2 ایوارد اپنے نا م کرنے میں کامیاب رہی-

    19 ویں لکس اسٹائل ایوارڈ میں اداروں، ماڈلز اورڈراموں کو ایوارڈ دیئے گئے ان میں بہترین فلم اداکارہ: ماہرہ خان (سپر اسٹار)،سال کے بہترین ماڈلز: (حسنین لہری) اور (زارا عابد) ،بہترین گانا: راوی (سجاد علی) کو دیا گیا جبکہ سال کی بہترین گلوکارہ: ہادیہ ہاشمی ( بول ہو)،جبکہ بہترین ٹی وی اداکار (کرٹکس): زاہد احمد (عشق زہے نصیب)،بہترین ٹی وی اداکارہ (کرٹکس): یمنی زیدی (انکار) شامل ہیں-

    فلم لال کبوتر نے دو ایوارڈ اپنے نام کئے جنمیں بہترین فلم : لال کبوتر، بہترین فلم ہدایتکار: کمال خان (لال کبوتر) شامل ہیں-

    ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو نے بھی 2 ایوراڈ اپنے نام کئے جن میں بہترین ایمرجنگ ٹیلینٹ: شیث گل (میرے پاس تم ہو) اوربہترین ڈرامہ: میرے پاس تم ہو شامل ہیں-

    ڈرامہ سیریل رانجھا رانجھا کر دی نے 4 ایوارڈ اپنے نام کئے جن میں بہترین ڈرامہ ہدایتکار: کاشف نثار (رانجھا رانجھا کردی)،بہترین ڈرامہ مصنف: فائزہ افتخار (رانجھا رانجھا کردی)،بہترین ٹی وی اداکارہ (کرٹکس): اقرا عزیز (رانجھا رانجھا کردی)،بہٹرین ٹی وی اداکار(کرٹکس): عمران اشرف (رانجھا رانجھا کردی) شامل ہیں-

  • خادم حسین  سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے

    خادم حسین سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے

    قصور: حضرت علامہ قاری محمد عامر سعیدی کا تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ خادم حسین رضویؒ سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے۔

    باغی ٹی وی : خادم حسین رضویؒ سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے۔ انہوں نے 104بخار ہونے کے باوجود اسلام آباد پہنچ کر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پرفرانس کیخلاف زبردست احتجاج کیا۔ ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ قاری محمد عامر سعیدی نے نواحی گاؤں حویلی پاڈانیاں والی میں علامہ خادم حسین رضویؒ کے ساتویں کے ختم کے موقع پر خطاب کے دوران کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ناموس رسالتؐ کی خاطرخادم حسین رضویؒ نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور انہوں نے تحریک لبیک کے پرچم تلے اکٹھا کرکے ختم نبوتؐ پر پہرہ دیا اور حکومت کے ساتھ مذاکرات ان کی بہت بڑی کامیابی اور طرہ امتیاز ہے۔لاکھوں افراد کی ان کے جنازہ میں شرکت خادم حسین رضویؒ کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے خاص کرم ہے کیونکہ خوش قسمت لوگوں کے جنازے اتنے بڑا ہوا کرتے ہیں جن کی ڈرون کیمرے بھی کوریج نہ کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب ان شاء اللہ اس ملک میں اسلامی دستور آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ محبوب ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔ پیر مہر علی شاہ فرماتے ہیں کہ جو ختم نبوتؐ پر کام کرے گا نبی کریمؐ کا ہاتھ اس کی پشت پر ہوتا ہے۔

    علامہ حافظ غلام مرتضیٰ نے کہا کہ خادم حسین رضویؒ نے نبی پاکؐ کی ناموس کی خاطر دن رات ایک کرکے اپنا لوہا منوایا اور ثابت کیا کہ وہ نبی کریمؐ کے سچے عاشق ہیں اورآج مولانا خادم حسین رضویؒ کا پیغام گھر گھر پہنچ چکا ہے اور اب ہر مسلمان مولانا خادم حسین رضویؒ جیسا عاشق رسول بنے گا۔

    انہوں نے کہا کہ دشمنان اسلام جان لیں کہ عاشقان رسول اتنی تعداد میں موجو د ہیں کہ ناموس رسالتؐ پر کبھی آنچ نہیں آنے دینگے۔آج پورا پاکستان ختم نبوتؐ زندہ باد کے نعرے لگا رہا ہے اوراسلام کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام ہے کہ عاشقان رسول ناموس رسالتؐ کی خاطر اپنی جان کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرینگے۔

  • قلم کارواں کی ادبی نشست    بقلم: ڈاکٹرساجد خاکوانی

    قلم کارواں کی ادبی نشست بقلم: ڈاکٹرساجد خاکوانی

    قلم کارواں کی ادبی نشست
    ڈاکٹر ساجد خاکوانی

    منگل 17نومبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں معروف شاعراوردانشور جناب محمداکرم الوی کامقالہ”مصطفائی کلچرکے بنیادی تصورارت؛فکراقبال کی روشنی میں“طے تھا۔یہ نشست ماہ ربیع الاول اوریوم اقبال کے حوالے پر مبنی تھی۔نوجوان ادیب،شاعر،نقاد اور محقق جناب سیدمظہرمسعودسابق سیکریٹری حلقہ ارباب ذوق اسلام آباداورنائب صدرخواجہ فرید سنگت نے صدارت کی۔ڈاکٹرساجدخاکوانی نے تلاوت قرآن مجید،جناب حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ،اورجناب عالی شعاربنگش نے گزشتہ نشست کی کارروائی پڑھ کرسنائی۔
    صدرمجلس کی اجازت سے جناب اکرم الوری نے اپنا پرمغزمقالہ پڑھ کر سنایا،صاحب مقالہ نے تصورعلم،تصورعبادت،حیات بعد الموت،کائنات کاحرکی تصور،وحدت نسل انسانی اور ختم نبوت پرثقافتی زاویوں سے روشنی ڈالی اور اقبال کے فکروفلسفہ کو بطورثبوت معاون کے پیش کیا،مضمون اگرچہ طویل تھالیکن بہترین مواد کے باعث شرکاء نشست کی دلچسپی اخیرتک موجود رہی۔حاضرین میں سے جناب حبیب الرحمن چترالی،جناب ساجد حسین ملک اور جناب عالی بنگش نے سوالات بھی کیے۔تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرساجدخاکوانی نے کہاکہ اخلاقیات میں زوال کے باعث سیاسی زوال واقع ہوا۔جناب ڈاکٹرمرتضی مغل نے مقالے کی تعریف کی اورکہاکہ مصطفائی کلچردراصل نبی ﷺکے طریقے پر عمل کرتے رہنے کانام ہے،انہوں نے متعددقرآنی آیات اوران کے ہم معنی علامہ اقبال کے اشعارپڑھ کر سنائے۔جناب شاہد منصورنے اپناتحریری تبصرہ پیش کیاجس میں پہلے سیرۃ النبیﷺکاتذکرہ تھا اوربعد میں مختلف شعراکرام کے نعتیہ اشعارپیش کیے گئے تھے۔جناب ساجد حسین ملک نے پہلے قلم کاروان میں وقت کی پابندی پر اپناخوبصورت تبصرہ کیااوربعد میں کہاکہ قرآن مجیدکاکلچرہی مصطفائی کلچرہے،انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا یہ چھوٹی ہجرت تھی اور بڑی ہجرت گناہوں کو ترک کر کرناہے۔جناب عالی بنگش نے کہا کہ مضمون میں علامہ کے اشعارسے بہت کم استفادہ کیاگیاہے۔معمول کے سلسلے میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپنا حاصل مطالعہ پیش کیا۔
    صدرمجلس جناب سیدمظہرمسعودنے اپنے صدارتی کلمات میں پیش کیے گئے مقالے کی تعریف کی اور کہا کہ قومی زبان میں قومی تقاضوں کے مطابق تیارکیاہوانصاب رائج ہونے سے مصطفوی کلچراور علامہ محمداقبال کی تفہیم ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ سیکولرمغربی نظام نے سیرت النبیﷺ کے مقابلے میں بہت سارے نظام فکربناڈالے ہیں جن میں سے کچھ تواپنی موت مرچکے ہیں اور باقی بھی بہت جلد مات کھاجائیں گے۔انہوں نے موجودہ نصابی کتب پر سخت تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ اگر انگریزی ہی پڑھانی ہے تو انگریزی میں علامہ اقبال کے لیکچرزبھی تو پڑھائے جاسکتے ہیں،قرآن مجیدکاانگریزی ترجمہ اور انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت النبیﷺ پر مبنی تحریریں بھی تو پڑھائی جاسکتی ہیں،انہوں نے موجودہ نصابی مواد کے بارے میں کہاکہ یہ مواد پوری نسل کو محض گمراہ کرنے کا باعث بن رہاہے اور اسی نظام تعلیم اور زبان تعلیم کا نتیجہ ہے کہ آج کی پوری نسل قائداعظم ؒ کے افکاراور فکراقبال سے کوسوں دورجاچکی ہے۔صدرمجلس نے حکومتی ذمہ داران سے پرزورمطالبہ کیاکہ مصطفوی کلچراوراقبالیات درسی کتب کاحصہ بناکرقرآن مجیدکی تعلیمات کو نسل نوتک پہنچانے کاانتظام کیاجائے۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

  • گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں محفل میلاد مصطفی کا انعقاد۔

    گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں محفل میلاد مصطفی کا انعقاد۔

    رپورٹ بائے عبدالرحمان یوسف
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ شان رحمت العالمینﷺ کے تحت ضلعی انتطامیہ کی زیر نگرانی گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں محفل میلاد مصطفی کا انعقاد کیا گیااسسٹنٹ کمشنر سانگلہ ہل سارہ لونی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا دامن مصطفی ﷺ کو مظبوطی سے تھاما جائے اور ناموس رسالت کے تحفظکے لیے ہرکوئی اپنا کردارادا کرے۔
    تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان کی خصوصی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سانگلہ ہل میں ہفتہ شان رحمت العالمین کے تحت محفل میلاد مصطفی ﷺ کا انعقاد کیا گیا جس میں قرآن خوانی، حدیہ درودوسلام اور نعت رسول مقبولﷺ کا اہتمام کیا گیا ۔محفل میلاد مصطفی ﷺ میں اسسٹنٹ کمشنر سانگلہ ہل سارا لونی نے خصوصی شرکت کی ۔ ہفتہ شان رحمت العالمین ﷺ کے تحت منعقدہ محفل میلاد مصطفی ﷺ میں کالج ہذا کی طالبات،اساتذہ اکرام سمیت خواتین کی بڑی تعداد نے عقیدت و احترام سے شرکت کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سانگلہ ہل سارا لونی نے محفل میلاد مصطفی ﷺ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے ایک مشعل راہ اور آپﷺ کی تعلیمات پر چلنا ہمارے لیے آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بہتر اصلاح کے لیے تعلیمات نبوی پر عمل کرنا دنیا و آخرت کی سرخروئی کا باعث ہے،دنیا میں امن انسانوں کو انصاف اور حقوق دینے سے ہی آئے گا۔ہفتہ شان رحمت العالمین ﷺ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر سانگلہ ہل سار ا لونی نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کے ہفتہ شان رحمت العالمین کے انعقاد سے طلباءو طالبا ت کو سیر ت مصطفی کی روشنی میں اپنے کردار کو سنوارنے کا موقع ملے گا ،حضور ﷺ کی سیر ت نہ صرف مسلمانوں بلکہ اقوام عالم کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے ۔اس موقع پرپرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سانگلہ ہل و دیگر شرکائے محفل نے خطاب کیے اور نبی کریم ﷺ کے اخلاق ،سیرت النبیﷺ اور اسوہ حسنہ پر روشنی ڈالی۔

  • مولانا خادم رضوی کی لیکڈ ویڈیو اور خام خیالی   از :طہ منیب

    مولانا خادم رضوی کی لیکڈ ویڈیو اور خام خیالی از :طہ منیب

    مولانا خادم رضوی کی لیکڈ ویڈیو اور خام خیالی از طہ منیب

    اذان کی آواز پر تحریک لبیک کے سربراہ مولانا خادم رضوی کے حالیہ لیک ویڈیو کلپ کو لے کر گرما گرم بحث جاری ہے ، بہت سوں کے دل ٹوٹے ، بہت سوں کو افسوس ہوا جو ماضی میں ختم نبوت و ناموس رسالت کے مسئلے پر انکے بولڈ موقف پر بڑی قدر کرتے تھے۔

    گزارش یہ ہے کہ اس تحریک کی بنیاد ممتاز قادری کی پھانسی اور جنازے پر بنی جب انہیں اکثریت کے باوجود اس چیز کا ادراک ہوا کہ ہم تو کچھ بھی نہیں۔ سخت مؤقف کے حامل عوام اور قائدین کے ملنے سے یہ تحریک وجود میں آئی۔ جماعتوں میں سنجیدگی اور سمجھوتے وقت کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔

    دوسرا گزشتہ تین سالوں میں ہوئے ضمنی و جنرل الیکشن میں انکی الیکشن کمپین میں بنیادی بات یہ تھی کہ ہمیں بریلویوں کے علاؤہ کسی ووٹ کی ضرورت نہیں۔ ایک فرقے کے احساس محرومی کی بنیاد پر وجود میں آئی تحریک اور اسکی قیادت سے نوزائدگی میں ہی یہ توقع رکھنا کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بنیاد بنائیں گے یا ایسا کو کوئی کام کریں گے تو یہ خام خیالی ہوگا جبکہ اس فرقے کو اپنی اکثریت کا بھی ادراک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے تحریک کے قیام سے لیکر اب تک انکی قیادت کو کسی کے ساتھ سٹیج شئر کرتے یا کسی اتحاد کا حصہ بنتے نہیں دیکھا ہوگا۔

    دوسری بات سمجھوتے یا دوسروں کیلئے نرمی کیلئے آپکا کوئی قد کاٹھ ہونا اور کچھ داؤ پر لگنے سے بچانا ضروری ہوتا ہے جب آپکے پاس کھونے کیلئے کچھ نا ہو تو موقف میں نرمی ممکن ہی نہیں۔

    مجھے رضوی صاحب کی لیک ویڈیو میں کی گئی بات پر افسوس نہیں بلکہ افسوس ان پر ہے جو انکی اس بات پر افسوس کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر متحد ہونے اور فرقوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  • ترکی زلزے پر تُرک اداکار جلال کا شدید دُکھ کا اظہار

    ترکی زلزے پر تُرک اداکار جلال کا شدید دُکھ کا اظہار

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی دتُرکش سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں بہادر سپاہی عبدالرحمٰن کا کردار نبھانےوالے تُرک اداکار جلال نے ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں آنے والے زلزلے پر شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ترک اداکار جلال نے ازمیر زلزلے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے ترک زبان میں اپنے پیغام میں افسوس کا اظہات کرتے ہوئے لکھا کہ آج یوم یکجہتی ہے آج ہم ازمیر اور اپنے اُن تمام بھائیوں کے ساتھ ہیں جو زلزلےسے متاثر ہوئے ہیں۔

    ترک اداکار جلال نے ریسکیو اہلکاروں کے لیے دُعا کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ تعالیٰ تمام رضاکاروں، امدادی کارکنوں اور میڈیکل اسٹاف کی مدد کرے جو اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر زلزلے سے متاثرہ افراد کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ارطغرل کے بہادر سپاہی عبد الرحمنٰ نے لکھا کہ ’للہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو شفا عطا کرے، آمین۔

    آخر میں اُنہوں نے لکھا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں ازمیر کے ساتھ ہیں۔

    واضح رہے کہ ترکی کے مغربی شہر ازمیر میں 7.0 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق جبکہ 800 سے زائد زخمی ہوگئےجبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    ارطغرل کے علیار بے اور عبدالرحمن کی مداحوں کو عید میلاد النبیﷺ کی مبارک باد دی

  • ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت   از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ۔۔۔۔۔۔ بے مثال اسلامی مملكت

    از قلم عظمی ناصر ہاشمی

    وادی بطحا کے پہاڑوں سے آواز بلند ہو رہی تھی…………
    عرب کے لوگو!
    ” یہ رہا تمہارا نصیب جس کا تم انتظار کر رہے تھے”
    ۔اہل علاقہ کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ لوگ اپنے ہتھیار سجاکر اپنے محبوب کے استقبال کے لیے یثرب کے ٹیلوں کی جانب دوڑ پڑے ۔یہ ایک تاریخی دن تھا ۔جس کی مثال سرزمین مدینہ میں کبھی نہ ملی تھی-

    ۔گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے۔

    چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں خوشی اور مسرت کے نغمے گا رہی تھیں۔

    اشرق البدر علینا من ثنیہ الوداع

    ثنیہ کی پہاڑیوں کی جانب سے ہم پر چودھویں کا چاند ظاہر ہوا

    وجب الشکر علینا ما دعا للہ داعی

    کیا عمدہ دین اور تعلیم ہے جس کی وجہ سے ہم پر اللہ کا شکر لازم ہے

    ایھا المبعوث فینا۔۔۔۔۔جئت بالامرالمطاع

    تیرے حکم کی اطاعت ہم پر فرض ہے ۔اے! ہم میں بھیجے جانے والے ۔

    جی ہاں !
    یہ پرجوش اور پرتکلف استقبال محمد عربی، والی بطحا ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو رہا تھا ۔آپ کا مکہ سے مدینہ أنا ‘ ان مع العسر یسرا ” کی تفسیر ثابت ہوا تھا ۔
    ایسا پروٹوکول کبھی کسی بڑے سے بڑے سیاستدان کو بھی نہیں ملا جو آپ کے نصیب میں رکھ دیا گیا ۔اس شہر میں آ جانے سے ان تمام زخموں پر مرہم لگ گیا جو کفار مکہ کے ہاتھوں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو لگائے گئے تھے ۔یہاں آکر مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا
    "ابن قیم "کے مدینہ پہنچنے کے خوبصورت منظر کو یوں بیان کرتے ہیں۔
    ” بنی عمرو بن عوف قبیلہ ساکنان قبا میں شور بلند ہوا زوردار تکبیر کی آواز سنی گئی مسلمان آپ کی آمد کی خوشی میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے استقبال کے لیے نکل کھڑے ہوئے پھر آپ سے مل کر تحیہ نبوت پیش کیا ۔اور آپ کے اردگرد پروانوں کی طرح کھڑے ہو گئے اس وقت آپ پر سکینت نازل ہوئی اور یہ وحی اتری ۔
    فان اللہ ھو مولاہ وجبریل و صالح المومنین والملئکہ بعد ذلک ظہیرا۔
    پس اللہ آپ کا کارساز ہے اور جبرائیل علیہ السلام اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی آپ کے مددگار ہیں۔”

    مکہ سے مدینہ ہجرت کا دشوار گزار سفر محض ایک تفریحی سفر نہ تھا بلکہ اس سفر نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اور عرب کی سیاسی و تاریخی اہمیت کو یکسر بدل کے رکھ دیا ۔
    ایک اسلامی مملکت کے قیام کے بعد اس کے اندرونی اور بیرونی نظام کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی کرنا ناگزیر ہے ۔

    آئیے ہم اس سیاست پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس شہر کا نام یثرب تھا۔ آپ کے یہاں پہنچنے پر اس کا نام مدینہ الرسول رکھ دیا گیا ۔یہ اسلام کا پہلا گڑھ تھا جہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ رہائش اختیار کر کے پہلی سلطنت اسلامیہ کی بنیاد رکھی ۔

    عزیز قارئین !

    یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں آنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ آپ سکون سے اپنے حجرے میں بیٹھ کر عبادت کرتے اور آرام کرتے کیونکہ یہاں آپ کے حامیوں کی تعداد انصار و مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ تھی لیکن آپ کو یہ گوارا نہ تھا اور ہر دن آپ مسلمانوں کی فلاح اور اسلام کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔

    مدنی دور کو ہم تین ادوار پر تقسیم کر سکتے ہیں ۔

    نمبر (1 )پہلا مرحلہ( سن 1 ہجری سے سن 6ہجری )

    نمبر (2 )دوسرا مرحلہ( 6 ہجری سے آٹھ ہجری تک)

    نمبر( 3) تیسرا مرحلہ( 8 ہجری سے حیات اخیریعنی 11 ہجری تک )

    پہلا مرحلہ

    💫تعمیر مسجد نبوی ۔۔۔۔۔۔۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی مدینہ میں رہائش پذیر ہوئے اور جہاں آپ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہاں آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرنا شروع کی اور یہ ثابت کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مساجد اور مدارس بہت اہمیت کے حامل ہیں اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ آپ نے اینٹ اور پتھر بذات خود ڈھوۓ-

    مسجد نبوی محض نماز ادا کرنے کے لیے ہی نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کا مرکز بھی تھی ۔ اور أپ نے مسجد نبوی سے ملحق ” الصفہ” کے نام سے ایک چبوترہ قائم کیا۔ اس مدرسہ میں صحابہ کرام دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے ۔ اور وہ فقراء و مساکین کا مسکن بھی تھا جن کا نہ کوئی اہل وعیال تھا اور نہ گھر بار۔
    علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی تھی جس میں مجلس شوری اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس ہوا کرتے تھے ۔

    💫محبت و بھائی چارہ

    جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کیا اس طرح آپ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا کر ایک اسلامی ریاست کے لیے اخوت و اتحاد کی فضاء قائم کی اور واضح کیا کہ ایک ریاست کی ترقی اور استحکام کے لیے اتحاد ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتا ہے۔

    جس قوم اور مملکت میں نااتفاقی پیدا ہو جائے وہاں قوت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بیرونی قوتیں اسے کچلنے کے لیے سر اٹھانے لگتی ہیں

    💫غیر مسلم قوتوں سے عہد و پیمان

    آپ نے اسلامی مملکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے یہودیوں سے معاہدے کئے تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور وقت آنے پر ان سے مالی اور جسمانی مدد بھی لی جا سکے یعنی اپنے فائدے کے لیے کفار سے معاہدے کئے جا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر ایسا نہیں ہے کہ ان سے مدد لیتے وقت ہم اپنا دین اور ایمان بھی ان کے ہاتھوں بیچ دیں اس معاہدے کے طے ہو جانے کے بعد مدینہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے وفاقی حکومت بن گئے اور مدینہ ان کا دارالحکومت تھا جس کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔

    💫سرایا اور غزوات

    مدینہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد آپ نے بہت سے سرایا اور غزوات کئے ۔ سرایا اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم صل وسلم نے بذات خود شرکت نہ کی بلکہ کسی صحابی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا ہو اور غزوہ وہ جنگ جس میں بطور جرنیل آپ نے خود شرکت کی ہو۔ جب یہود و نصاریٰ فتنہ اور شر پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے لگے تو باوجود قوت اور مال و اسباب کی کمی کے آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر ان کو بھرپور جواب دیا-

    غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق وغیرہ ان جنگوں کا مقصد کفر پر اسلام کا رعب اور غلبہ طاری کرنا تھا اور اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ کفر و اسلام کی جنگ روز اول تاروز آخر جاری رہنے والی ہے اور اہل اسلام کو اپنے مذہب کے دفاع کے لیے غیر مسلموں پر کڑی نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان سے جنگ کرنا ناگزیر ہے ۔

    💫بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط
    6ہجری میں جب حضور صل وسلم حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لیکر انہیں اسلام کی دعوت دی اور اس مقصد کے لیے آپ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کرام کو بطور قا صد منتخب فرمایا اور انہیں بادشا ہو ں کے پاس خطوط دے کر روانہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے نامور شہنشاہوں جیسا کہ نجاشی شاہ حبش، مقوقس شاہ مصر، قیصر شاہ روم ، حارث حاکم دمشق، شاہ عمان کو خطوط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ ان خطوط کے ذریعے نبی صل وسلم نے اپنی دعوت روۓ زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچادی اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا-

    💫فتح مکہ

    17 رمضان 8 ہجری کو رسول اسلم مراؤ ا لظہران سے مکہ روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ دس ہزار صحابہ کرام تھے اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ابوسفیان پکار اٹھا ۔
    اے قریش کے لوگو !
    محمد ہمارے پاس بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ جس کی تم تاب نہیں لا سکتے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باآسانی مکہ کو فتح کرلیا اور انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجد حرام تشریف لے گئے اور بیت اللہ کے گرد 360 بتوں کو کمان کی ٹھوکر مار کر ان کے چہروں کے بل گرا دیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے۔
    جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا
    ” حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے”
    أپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفتح مکہ کی خوشی میں ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر آٹھ نوافل شکرانے کے پڑھے۔
    حاصل کلام یہ کہ ریاست مدینہ کے حکمران نے اپنی حکمرانی کے دوران جہد مسلسل کی اور اس بنیادی اسلامی سلطنت کو مزید مستحکم اورمضبوط بنانے میں دن رات ایک کر دیا ۔

    💫مکارم اخلا ق پر عمل درأمد

    علاوہ ازیں اپنے معاشرے کو ہر سماجی برائی سے پاک کر دیا کفر و شرک و بت پرستی قمارباز ی ،شراب نوشی، رشوت ستانی ,سودخوری ,چوری چکاری ,ذخیرہ اندوزی, زنا کاری اور فحاشی کا خاتمہ کیا آپ نے احتر ام انسانیت کا درس دیتے ہوئے انسان کو حیوانیت سے دور رہنا سکھایا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کوشاں رہتے۔ انہوں نے آداب و اخلاق، بھائی چارگی ، محبت و اطاعت کے گر سکھا ئے ۔
    آپ نے فرمایا”
    اے لوگو !
    سلام پھلاؤ ،کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، صدقہ خیرات کرو، نماز روزے کی پابندی کرو ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں مقرر کرتے ہوئے تحفظ نسواں کا پرچار کیا ۔
    عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔
    اور شرعی حدود پر سختی سے عمل کروایا ۔
    اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا کہ ایک اسلامی حکومت کے حکمران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ کی بناۓ ہوۓ قوانین و عبادات پر عوام کو عمل کروائے۔ تاکہ معاشرہ بہتر ا قداروکردار کا مجسمہ بن جائے ۔
    پہلی اسلامی ریاست کا یہ حکمران اول بنی نوع انسان کے لئے رحمت للعالمین کا لقب لے کر دنیا میں تشریف لائے۔
    اور ہاں اسلامی اصلاحات کرنے سے پہلے ذاتی اسوہ حسنہ پیش کیا ۔۔۔جو کہا کر کے دکھایا ۔
    دنیا کا یہ عظیم تر حکمران آنے والے حکمرانوں کے لئے قیمتی قوانین اور اصطلاحات وضع کرکے اس دار فانی سے 63 سال کی عمر میں رخصت ہو گیا جو قیامت تک آنے والوں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔

    سوچنے کے لائق بات تو یہ ہے کہ ہم کس منہ سے ریاست مدینہ کی بات کر سکتے ہیں جبکہ ہم سے کسی ایک اسلامی قانون کی پاسداری بھی بہت دشوار ہے۔ دعا ہے کہا للہ پاک ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو ریاست مدینہ کے تصور کا پاس رکھ سکیں اور اسلام کو سر بلندی عطا کر سکیں۔ ( آمین)

  • فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار     بقلم انجینئر محمد ابرار

    فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار بقلم انجینئر محمد ابرار

    عنوان. فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار
    انجینئر محمد ابرار

    اللہ تعالی نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ہے.آپ کی ذات رحمت للعالمین ہے اور زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ یے. آپ کی زندگی میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام قتل کے واقعات بھی ملتے ہیں. حالیہ دنوں میں فرانس کی عمارت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے گئے.یہ واقع اس وقت پیش آیا جب فرانس کے ایک سکول میں سیموئل پارٹی نامی ہسٹری کے استاد نے اپنی ایک کلاس میں آزادی اظہارِ رائے پر طلباء کو لیکچر دیتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون معاذ اللہ پروجیکٹر پر دکھائے. سیموئل کو ایک طالب علم نے واصل جہنم کیا جس کے بعد فرانس کے صدر نے سرکاری عمارت پر ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے آویزاں کئے. ایک خاکے میں ٹوائلٹ پیپر کے تین رول دکھا کر ان کو بالترتیب بائبل، قرآن اور زبور کا نام دیا گیا. اس واقعہ کے بعد پورے عالم اسلام میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور کئی اسلامی ممالک میں عوام نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے محبت کا ثبوت دیا. سلطلنت عثمانیہ کے دور میں اگر کسی جگہ مسلمانوں کے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا تو وہ حملہ پورے عالم اسلام پر تصور کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ اس کا جواب دیتی تھی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد یورپ نے پھر پرانی روش پر چلتے ہوئے گستاخی کی ناپاک جسارت کی ہے.ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہ دماغی مریض ہے اسے دماغی علاج کی ضرورت ہے. اس بیان کے بعد فرانسیسی صدر نے رد عمل دیتے ہوئے ترکی میں موجود سفیر کو واپس طلب کر لیا. کویت سمیت کئی ممالک نے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا اور اپنے سپر سٹورز سے فرانس کی تیار کردہ مصنوعات ہٹا دیں. دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے فقط فرانس کے صدر کو لوگوں کو تقسیم نہ کرنے اور انتہاپسندی کو ہوا نہ دینے کا کہہ کر نیلسن منڈیلا کی مثال دے کر اسی پر اکتفا کیا. وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین منافی ہے اور لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے. وزیر اعظم صاحب اپنے سیاسی مخالفین کو تو منہ ہر ہاتھ پھیر پھیر کر واپس لانے اور احستاب کی دھمکیاں دیتے رہے مگر وجہ تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر ایک مردانہ بیان نہ دے سکے جو ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر اب بھی موصوف ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں. وزیر اعظم کی شان میں توہین پر تو ایکشن لیا جاتا ہے مگر عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد فوراً جلد صحتیابی کی دعائیں دیتے تو نظر آتے ہیں مگر گستاخی کے رد عمل میں تین دن گزر جانے کے بعد اتنا مصلحت پسندانہ رد عمل کیوں دیتے ہیں؟ پالیمنٹ کا اجلاس اس معاملے پر طلب کیا جاتا ہے جس میں بھی مقتدر ارکان و اپوزیشن سیاست کرتی نظر آتی ہے جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس 10 منٹ کے لئے موخر کرنا پڑتا یے بعد ازاں فقط ایک قرار داد منظور کر لی جاتی ہے جس کی یورپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں.کیا ہماری غیرت ایمانی ختم ہو چکی یے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے حساس مسئلہ پر بھی ہمارے حکمران ایک پیج پر نظر نہیں آتے. بجائے عالم کفر کو للکارنے کے وہ فقط اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں. اس ساری صورت حال میں علامہ خادم حسین رضوی کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ ایٹم بم باہر نکالیں دشمن کو للکاریں یہ کس لئے ہم نے رکھا ہوا یے. ساتھ ہی انہوں نے حکومت وقت کو وارننگ دیتے ہوئے مجلس شورہ کا اجلاس بلوا پر فرانس کے مسئلہ پر اگلا لاحہ عمل طے کرنے کا عندیہ دیا. یادرہے کہ ہالینڈ میں بھی گستاخانہ کارٹونز کے خلاف علامہ خادم حسین رضوی نے ہالینڈ ایمبیسی کو بند کرنے کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا تھا جس نے نتیجے میں ہالینڈ کو گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنا پڑا اور گیرٹ ولڈر نامی گستاخ سیاست دان علامہ صاحب کا نام لے لے کر ٹویٹ کرتا رہا کہ انہوں نے میرے خلاف قتل کا فتوہ دیا ہے. اس معاملہ پر بھی حکومتی ٹولہ بغلیں بجاتا اور کریڈٹ لیتا نظر آیا.حالانکہ علامہ صاحب کی جانب سے لانگ مارچ کا فیصلہ حکومتی سستی و نا اہلی کو دیکھتے ہوئے کیا گیا اور اسی مارچ کی بدولت عین اسی وقت جب ہزاروں کارکنان راستے میں مختلف شہروں میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کر کے علامہ خادم رضوی کی قیادت میں اسلام آباد داخل ہوئے ہالینڈ کی جانب سے فیصلہ منسوخی کی خبر نشر کی گئی. دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی فتح مکہ والے دن رسول اللہ نے تمام لوگوں کی عام معافی کا اعلان فرمایا مگر گستاخ شخص کعبہ کے غلاف میں بھی لپٹا ہوا نہ بچ سکا. حضرت علی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس نے کسی نبی جو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو آپ نے فرمایا "جس نے اللہ کو یا انبیائے اکرام میں سے کسی جو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے” امام مالک کا فرمان ہے "اگر رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو اور امت اس کا بدلہ نہ لے سکے تو ساری امت مر جائے”. حکومت وقت پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومتی سطح پر فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرے. فرانسیسی سفیر کو مملکت پاکستان سے نکالنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی سفیر کو واپس بلوایا جائے۔
    (انجینئر محمد ابرار ایم فل سٹرکچرل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ شعبہ صحافت سے وابسطہ ہیں اور روزنامہ لاہور پوسٹ کے ڈسٹرکٹ رپورٹر ہیں۔ کافی عرصہ سے حالات حاضرہ ،مذہبی، سیاسی، سماجی اور اصلاحی موضوعات پر مختلف ویب پیجز پر لکھتے ہیں۔ باغی ٹی وی کے لئے بطور خاص لکھ رہے ہیں۔)

  • فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود

    فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود

    فرانس کی جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات کے بعد تین ملین سے زائد فیسبک صارفین کی جانب سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود کے گلدستے بھیجے گئے-

    باغی ٹی وی : فرانس کے بعد جانب سے گستاخی کے حالیہ واقعات اور فرانس کے صدر کے بیانات نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے فرانس کی جانب سے کی جانے والی اس حرکت پوری مسلم امہ شدید غم و غصے کی کیفیت میں ہے اور فرانس حکومت کے خلاف ریلیوں کی صورت میں اور سوشل میڈیا پلیت فارمز پر احتجاج کیا جا رہا ہے اور یہاں تک کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں فرانس کی تمام قسم کی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کیا جا چُکا ہے-

    جہاں فرانس کی اس گستاخی پر فرانس کی بھر پور مذمت کی جا رہی ہے اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں فیس بُک صارفین کی جانب سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھنےکا انعقاد کیا گیا ہے اور صارفین اپنی پوسٹ مین نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھ رہے ہیں-

    اور اب تک اس ٹرینڈ میں تین ملین سے زائد لوگ شامل ہو چُکے ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد پاک کے گلدستے نچھاور کر تے ہوئے اپنے پیارے نبی اور اللہ کے محبوب نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں-

    چیلنج کا حصہ بننے کے لئے یہاں کلک کریں

    فرانس کی اسلام دشمنی،پنجاب اور کے پی اسمبلی میں قرارداد مذمت جمع

    پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک فرانس کا بائیکاٹ کریں،چودھری پرویز الہیٰ کا بڑا مطالبہ

    گستاخانہ خاکوں اورفرانسیسی صدر کے معاملے پر پاکستان کا فرانس سے شدید احتجاج

    پاکستان پہلا ملک جس نے فرانسیسی سفیرکو طلب کیا، گساخانہ خاکوں کا مسئلہ کہاں کہاں اٹھائیں گے، طاہر اشرفی نے بتا دیا

    وزیراعظم کافیس بک کے بانی مارک زکربرگ سے اسلام مخالف مواد پر فوری پابندی کا مطالبہ

    فرانس کے اسلام مخالف بیان پر پاکستان کا بڑا فیصلہ، وزیر خارجہ نے بتا دیا

    فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، مولانا فضل الرحمان نے بڑے احتجاج کا اعلان کردیا