Baaghi TV

Category: اسلام

  • جنت مرزا نے دل فروخت کرنے کی قیمت بتا دی

    جنت مرزا نے دل فروخت کرنے کی قیمت بتا دی

    ایک کروڑ سے زائد فالوورز رکھنے والی پاکستان کی نمبر ون ٹک ٹاک اسٹار جنت مرزا نے اپنے مداحوں کو دل فروخت کرنے کی قیمت بتا دی-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر جنت مرزا نے تصاویر شئیر کی ہیں جن میں وہ بیڈمنٹن کھیلتی نظر آرہی ہیں جبکہ ایک تصویر وہ اپنی جیت کا جشن بھی مناتی دکھائی دی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CGxO1n_ALvC/?igshid=17z135qoag72p
    جنت مرزا نے انسٹاگرام پر تصویریں شئیرکرتے ہوئے لکھا کہ دل برائے فروخت ہے جس کی قیمت صرف ایک مسکراہٹ ہے۔

    ٹک ٹاک اسٹار نے مداحوں کی رائے پوچھتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ بیڈمنٹن یا ٹینس؟

    جنت مرزا کی پوسٹ پر صارفین نے تعریفی کمنٹس کرنے کے ساتھ ساتھ تبصرے بھی کئے اور اپنی پسندیدہ ٹک ٹاک اسٹار سے سوالات بھی کئے جن کے جنت مرزا نے جوب دیئے-

    جنت مرزا کے سوال پر حرا شیخ نامی صارف نے بیڈمنٹن کا انتخاب کرتے ہوئے ٹک ٹاک اسٹار سے سوال کیا کہ آپ کا کیا کھیلتی ہو؟ جس پر جنت مرزا نے جواب دیا کھیلتی ہو اور کھیل رہی ہو میں فرق نظر آتا ہے کوئی برو؟

    عابدہ صارف نے پوچھا کہ سُنا ہے آپ پہلے 20 منٹ میں کمنٹس کے جواب دیتی ہیں جس پر جنت مرزا نے کہا ہاں جی-

    ایک صارف نے جنت مرزا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ کرکٹ سب سے اچھی ہے۔ جس پر جنت مرزا نے کہا کہ تیراکی کرکٹ سے بھی اچھی ہے۔

    ایک صارف نے کہا کہ وہسے آپ ٹینس کھیل رہی ہیں یا بیڈمنٹن ؟ ٹک ٹاکر نے جواب دیا بیڈمنٹن-

    ایک صارف نے کہا کہ علیشبہ اور عمر میں سے کسی ایک کو چنیں صارف نے کہا کہ سوال تھوڑا مشکل ہے مین کرائی نہیں ڈلوانا چاہتا ، صارف کے سوال پر جنت مرزا نے کہا کہ آپکا ارادہ ہی لڑائی ڈلوانے کا ہے-

    ایک صارف نے ٹک ٹاک اسٹار سے پوچھا کہ آپ کو کرکٹ اور تیراکی میں سے کیا پسند ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے جنت مرزا نے کہا کہ تیراکی۔

    ایک صرف نے کہا کہ اب آپ پاکستان آ جائیں جس پر جنت مرزا نے کہا کہ آپ نے بلایا ہمیں سمجھیں ہم آ گئے-

    خیال رہے کہ فیصل آباد کی رہائشی جنت مرزا پاکستان کی مقبول ٹک ٹاکر ہیں جن کے ٹک ٹاک پر ایک کروڑ سے زائد فالوورز ہیں جبکہ گزشتہ دنوں ہی اُن کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بھی تصدیق شدہ ہوچکا ہے۔

    جنت مرزا کی اپنے نام سے منسوب جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ کی تردید

    جنت مرزا نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    یا تو اگلے بندے کو شہرت نہ دیں یا پھر ذہنی مریض نہ بنائیں جنت مرزا کی سوشل میڈیا صارفین سے درخواست

    جنت مرزا کی وقار ذکا پر ٹک ٹاکرز کے خلاف بولنے پر شدید تنقید

    جنت مرزا ایک کروڑ فالوورز رکھنے والی پہلی پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار بن گئیں

    ایک کروڑ فالوورز مکمل ہونے کی خوشی میں جاپان میں جنت مرزا اور اُن کی فیملی کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا انعقاد

    پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد جنت مرزا کا سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل

    جنت مرزا پی ٹی اے ( پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی) کی شکر گزار کیوں؟

    جنت مرزا کا ٹک ٹاکرز کو اہم مشورہ

  • نبیﷺ محترم ہمارے   بقلم:جویریہ بتول

    نبیﷺ محترم ہمارے بقلم:جویریہ بتول

    نبیﷺ محترم ہمارے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمیں جاں سے بھی پیارے…
    ہیں نبیﷺ محترم ہمارے…
    یہ جو مال و منال سارے…
    اور خواہشات و خیال سارے…
    سب اُن پہ فدا ہوں گے…
    اب عہد یہ وفا ہوں گے…
    کھولیں گے جو زبانیں اپنی…
    لہرائیں گی یہ بانہیں آہنی…
    ہم تن من یہ واریں گے…
    سرِ عام یہ پکاریں گے…
    فداک ابی و امی و جسدی…
    پیارے نبی اے پیارے نبیﷺ…
    قدرت کا کوڑا برسے گا اِن پر…
    ہو جائے سر یہ بوجھل تن پر…
    نہ کم روشنی مہ کی ہو گی…
    نہ دمک رستوں کی کھو گی…
    یہ نامِ ارفع رفعت پہ رہے گا…
    ہر اک شاتم خود ہی کہے گا…
    میں ذلیل تھا، بے دلیل تھا…
    یہ نامِ محمد کتنا جمیل تھا…!!!
    وہ جو اپنے اور پرائے کے…
    سب بے سہارا و سرائے کے…
    جو عارفوں اور منکروں کے…
    سب دوستوں اور دشمنوں کے…
    یکساں ہی محافظ و رہبر ہیں…
    وہ بہاروں کے ہی پیام بر ہیں…!!!
    (ﷺ،ﷺ،ﷺ،ﷺ ،ﷺ)۔

  • یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم   بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمارے لیئے تو کافی ہے بس بات آپ کی…
    ہماری چاہتوں کا مدعا ہے ذات آپ کی…
    ہمارے سفر کی ہر روشنی آپ کے نام سے ہے…
    ہماری فلاح تو آپ کے لائے نظام سے ہے…
    ہمارے شکستہ دلوں کا سکوں آپ کے ذکر میں ہے…
    ہمارا جینا اُمَّت میں آپ کی،ہمارے فخر میں ہے…
    آرامِ جاں ہمارا اس نام کی بدولت ہے…
    کرےجو توہین اس کی سدا اس سے عداوت ہے…
    دشمن آپ کا ہر دور میں بے نام ہی رہے گا…
    ذلتوں سے دوچار وہ ہر گام ہی رہے گا…
    یہ نام تو روشنی ہے،اسے روکو گے کہاں تک؟
    کرے گی پیچھا تمہارا تم پہنچو گے جہاں تک…
    رب کی پکڑ کا کوڑا برسے گا ہر گستاخ پر…
    یہ وعدۂ ربی ہے، ہو گا پورا ہر نفاق پر…
    تمہاری سیاہ کاریوں سے پردہ اُٹھتا ہی رہے گا…
    یہ نامِ محمد تا قیامت اُبھرتا ہی رہے گا…!!!!

  • توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری  تحریر:جویریہ بتول

    توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری تحریر:جویریہ بتول

    توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    27 اکتوبر 2020.
    نائن الیون کے بعد جس فتنے نے سر اُٹھایا…وہ توہینِ قرآن اور توہینِ رسالتﷺ ہے…

    افغانستان کی سر زمین پر شکست سے دوچار ہونے کے بعد جس چیز کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور اشتعال دلانے کی جو مذموم کوششیں کی گئیں وہ توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت پر مبنی تھیں…

    یورپی میڈیا میں بارہا ان مذموم سرگرمیوں کو آزمایا گیا،مقابلے کروائے گئے اور باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیک وقت بھی اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا گیا…

    فرانس میں بھی کبھی مسلمان خواتین سکارف اوڑھنے کے جرم میں اذیت و جرمانے کے عمل سے گزرتی ہیں تو کبھی آزادئ اظہار کی آڑ میں گستاخانہ خاکے چھاپ کر مسلم امہ کو چیلنج کیا جاتا ہے…

    2011،2006 اور 2013ء میں بھی فرانسیسی جریدے نے یہ مذموم فعل سر انجام دیا اور بطورِ سرِ ورق شائع کیا گیا…
    اُس وقت بھی ایسے تنگ نظر اور فتنہ پردازوں کی سرپرستی فرانس کی حکومت کر رہی تھی…
    اور تب بھی یہ تاثر دیا گیا کہ یہ اقدام اسلام کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندی کے خلاف ہے…
    تو سوال یہ ہے کہ کیا اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے جسے معتدل اور جس امت کو امت وسط کہا گیا ہے…؟
    جو مسلمان اخلاق و اطوار کے اعتبار سے آج بھی دنیا کی بہترین قوم ہیں…
    اور کیا یہ مذموم افعال امن پسندی کا پیام ہیں…؟؟؟

    آسمانی مذاہب پر یقین رکھنے والوں کے لیئے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے اور انہیں جو اسلامو فوبیا کا مرض لاحق ہو چکا ہے یہ دنیا کے امن کے لیئے ہر گز موزوں نہیں ہے…

    ہر اسلام کش اقدام کو آزادئ اظہار کا نام دینا یورپ و مغرب کی فطرت میں رچ بس گیا ہے اور اس چیز نے دنیا کو تقسیم کیا ہے…
    اب حالیہ اقدامات جن میں فرانس کےصدر میکرون کی جانب سے باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں یہ رذیل ترین قدم اُٹھا کر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے…

    ماضی میں فرانس کے جس جریدے نے یہ قدم اُٹھایا تھا اسی صحافی نے جب ایک بار فرانس کے صدر کو مذاق کا نشانہ بنایا تو کئی ماہ تک اسے بندش کا سامنا کرنا پڑا…

    یعنی فرانس کے صدر کی توہین قابلِ سزا جرم ہے لیکن مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین آزادئ اظہار رائے ہے…؟؟؟
    تو سوال یہ ہے کہ کیا مسلم امہ کی جانب سے صرف مذمتی بیانات اور ریلیاں نکال لینے سے یہ سلسلہ رک جائے گا…؟
    صرف ان اقدامات سے ناموسِ رسالت کا تحفظ ہم سے ممکن ہو پائے گا…؟

    اسلامی ممالک کے سربراہان پر یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ سخت معاشی بائیکاٹ کے علاوہ توہینِ رسالت پر سخت سے سخت سزا کا عالمی سطح پر قانون منظور کروائیں…

    تمام اختلافات بھلا کر مذہبی،سیاسی،سفارتی اور عملی اقدامات کے حوالے سے ایک ہو جائیں…
    سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے گروپس میں منقسم ہونے کی بجائے ایک آواز ہو کر دنیا تک اپنا واضح پیغام پہنچائیں…
    علمائے امت اس سازش کو فتنہ ڈکلیئر کریں اور دنیا پر اس حوالے سے اپنا مؤقف صاف بیان اور واضح کر دیں…

    ورنہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اگر صرف بیانات سے کام چلتا تو یہ سلسلہ تھم چکا ہوتا اور آئے روز نت نئے فساد سر نہ اُٹھاتے،اور مسلم آبادیاں راکھ کا ڈھیر نہ بنتیں…!!!

    مشرق اور مغرب کے درمیان آج بھی ادب و اخلاق میں جو واضح تفاوت ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے…
    ایسی آزادی پر عالمی قدغن لگنی چاہیئے جو نفرت،اور مجرمانہ ذہنیت سے جنم لیتی ہے اور دنیائے امن کے لیئے سنگین خطرہ بن جاتی ہے…!!!

    کوئی بھی شخصیت چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی اسے چاہنے والوں کی تعداد سینکڑوں،ہزاروں اور لاکھوں،کروڑوں تک بھی پہنچ سکتی ہے لیکن اس پہ جان نچھاور کرنے والوں کی تعداد چند ایک سے بڑھ نہیں سکے گی…

    نبیﷺ وہ واحد شخصیت ہیں جن سے اربوں لوگوں کی عقیدت یہ ہے کہ وہ اس نامِ نامی پر اپنی جانیں بھی نچھار کر دینا اعزاز اور ایمان کی تکمیل سمجھتے ہیں…

    گبن کے الفاظ میں:
    عیسائی اگر اس بات کو سمجھیں تو اچھا ہے کہ محمدﷺ کے پیروکاروں نے جو قربانیاں دی ہیں انہیں عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں میں ڈھونڈنا مشکل ہے…!!!

    آغازِ سفر سے ہی اس کارواں کا ہر مسافر میرِ کارواں پر جان نچھاور کرنے کے لیئے تیار رہا ہے…
    ابو لہب، ابو جہل،امیہ بن خلف اور ابو رافع کے جانشین تاریخ کے کسی دور میں بھی ان اوچھی حرکات سے باز نہیں آئے اور پھر ان کا انجام بھی تاریخ ہی لکھا کرتی ہے…

    رب اپنے محبوب پیغمبرﷺ کی توہین کرنے والوں کا بدلہ اپنے نادیدہ لشکروں سے لینے پر بھی قادر ہے…
    مگر ہمیں سوچنا یہ ہے کہ من حیث امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا کردار کیا تھا،کیا ہے اور کیا ہو گا…؟؟؟
    یہ منصب،روٹی اور مال و منال سب یہاں ثانویت اختیار کر جانے چاہیئیں…!!!

    مؤرخ عشروں سے انگشت بدنداں یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ ہم نے اب تک اس سلسلہ میں کیا حاصل کیا اور دنیا کو حقائق کا قائل کروانے میں کتنے کامیاب رہے…؟؟؟
    کہ محمدﷺ ہیں متاعِ عالم ایجاد سے پیارے…!!!!!
    ===============================

  • جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم    بقلم: عبیرعطا ء الرحمن علوی،لاہور

    جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم بقلم: عبیرعطا ء الرحمن علوی،لاہور

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    جشن میلاد النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہم…

    عبیرعطا ء الرحمن علوی،لاہور

    ڈھول کی تھاپ پر زوروشور سے بھنگڑڈالا جا رہا ہے…جلوس نکالے جارہے ہیں، جھنڈیاں لگ رہی ہیں، چراغاں کیا جارہا ہے، غرض کہ ہر طرح سے بازاروں کو سجایا جا رہا ہے… کیوں جی ہم یہ سب اہتمام کیوں کررہے ہیں… کریں بھی کیوں نہ؟کہ آج تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت ہے ا ور ہم اس کو زوروشور سے سیلیبریٹ کریں گے ناں!… یکم ربیع الاول سے ہی گلی اور محلے کے ہمارے بچے ٹوپیاں پہنے اور برتن ٹھائے راستوں میں کھڑے ہیں اور ہر آنے جانے والے سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کو سیلیبریٹ کرنے کے لئے اس کو بھر پور انداز سے انجوائے کرنے کے لئے پانچ پانچ یا دس دس روپے مانگتے ہیں۔ پھر ۱۲ ربیع الاول کو ہم اس جمع شدہ رقم سے آپ کا میلاد مناتے ہیں۔ راستہ روک کر ہم یہ بھیک نما چندہ مانگتے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے کی سخت وعید فرمائی: آپ نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے بلا ضرورت سوال کیا قیامت کے دن اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک لوتھڑا بھی نہیں رہے گا‘‘۔ پھر فرمایا: ’’مانگ کر کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہا ہے‘ خواہ تھوڑے سے بھر لے یا زیادہ سے‘‘۔

    لیکن اس بات کی پرواہ کیۓ بغیرہم جلوس نکالتے ہیں ، محفلیں منعقد کرواتے ہیں، سبیلیں لگاتے ہیں، جانوروں کی سہرا بندی کرتے ہیں، ناچ گانا کرتے ہیں، آتش بازی ،ہلڑ بازی،منہ کے میٹھے کے لئے شیرینی بھی بانٹتے ہیں، منچلے نوجوان دن کے وقت پگڑیاں باندھ کر نقلی داڑھی مونچھیں لگائے، گلی محلوں میں باجے اور شہنائیاں بجاتے ہیں۔ جب اندھیرا پھیلنے لگتا ہے تو محفلیں اور ناچ گانے شروع کردیتے ہیں اور روضۃا لرسول کے ماڈل، کھلونے ااور پہاڑوں کی نمائش لگتی ہے جسے مرد اور عورتیں بلا امتیاز دیکھتے ہیں ۔ اور ان خرافات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں…

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سیرت کا گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی ذکر ہے ، کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں میں شور کرنے والے نہیں، لیکن آج ہم آمد رسول کا جشن اور بازاروں میں ہلڑ بازی، آتش بازی، ناچ گانا، گھوڑوں اورٹرالیوں پر جلوس، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا… ! ہم اس کو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں! یہ خیر الانام کی آمد کی خوشی ہے!

    پھر ہم گلیوں،گھروں کو مختلف طریقوں سے آراستہ و مزین کرتے ہیں… ادھر نظارہ کیجیئے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے گھر سے واپس لوٹ آئے ، کیوں؟ ابو داؤد میں حدیث موجود ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے داماد حضرت علی بن ابی طالب کے گھر تشریف لائے، اور دروازے سے ہی پلٹ گئے، حضرت علی جب گھر پہنچے ،حضرت فاطمہ نے اس بات کا ذکر کیا(کہ ابا جان گھر آئے تھے اوردروازے سے ہی واپس تشریف لے گئے ہیں) حضرت علی رضی اللہ عنہ فورا دربار نبوت میں پہنچتے ہیں اور واپسی کا سبب پوچھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دروازے پہ(قیمتی) ریشمی پردہ دیکھا ہے تو میں نے کہا: ’’میرا دنیا کی (سجاوٹوں اور آرائشوں ) سے کیا تعلق ہے‘‘؟اس لیئے میں پلٹ آیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بابت حضرت فاطمہ کو والد گرامی کی واپسی کا سبب معلوم ہوا تو آپ پیارے ابا جان کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کرتی ہیں: آپ اس پردے کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قیمتی ریشمی پردہ مدینے کے فلاں گھر والوں کو دے آئو (تا کہ وہ سے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کریں)۔

    غورکریں! وہ پیغمبر جو ایک قیمتی کپڑاریشمی پردہ دیکھ کر اپنے پیارے داماد اور پیاری لخت جگر کے دروازے سے پلٹ آئے، وہ ہمارے سجے ہوئے بازاروں اور گھروں میں کیسے آئیں گے …!!

    میوزک‘ موسیقی‘ بے پردگی اور مردوزن کاآزادانہ اختلاط …!! آہ ! کس قدراسلام سے دور ہیں ہم …؟
    اور اس اتنے بڑے ظلم کو کہتے ہیں کہ بھئی یہ پیغمبر کی آمد کا جشن ہے…، سارا دن ڈیک بجتے ہیں‘ اور میوزک موسیقی کی گندی آواز کے ساتھ ناچتے ہیں ، مصنوعی پہاڑیاں سجائی ہوتی ہیں اور وہاں رات گئے تک بے پردہ عورتوں اور بے غیرت نوجوانوں کا ہجوم رہتا ہے ، یہ تمام شرمناک کام ہم اپنے پیارے پیغمبر کی آمد کی خوشی میں کرتے ہیں جو اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھا جس کے چہرے کو کبھی آسمان نے بھی نہ دیکھا ہو۔

    مشعل برادر جلوس بھی ہمارے ہاں پورے آب و تاب کے ساتھ جاری ہوتے ہیں ۔یہ آتش پرستوں کی مشابہت ہے ۔ آتش پرست(مجوسی) وہ بد ترین کافر ہیں جنہوں نے ہمارے پیارے نبیﷺ کا خط مبارک شہید کر دیا تھا، آج ہم پیغمبر کی آمد کی خوشی میں ان گستاخان رسالت کی مشابہت کرتے ہیں اور مشعل برادر جلوس نکالتے ہیں’ جبکہ ہمارے پیارے پیغمبر نے کفار کی مشابہت سے تاکیدًا منع فرمایا ہے اور یہ وعید بھی سنائی: ’’جو کسی قوم کی مشابہت کرے گاوہ انہی میں سے ہوگا‘‘۔(ابو داؤد)۔

    یہ سب کیا ہے، تو یہ ہمارا ا پنے پیارے پیغمبر سے محبت کا ثبوت ہے ۔۔۔۔!!!!! ہم ان خرافات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں اور اس لئے جو ان فضولیات میں حصہ نہ لے ہم اسے کہتے ہیں ’’گستاخ‘‘ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم اور کہتے ہیں کہ اسے اپنے نبی کی پیدائش پر کوئی خوشی ہی نہیں ہے۔

    یہ سب باتیں ایک طرف ۔۔۔ ہمیں اپنے جشن کا طریقہ دیکھنا چاہیئے کہ دن پیغمبر کی پیدائش کااور سارے کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت والے، بغاوت اور نافرمانی والے…!!

    امام الانبیاء خاتم النبین جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دین اسلام کی روح ہے‘ آپ کی محبت کے بغیر کوئی شخص مسلمان اور مومن نہیں ہوسکتا‘ اور صرف محبت ہی نہیں بلکہ ایسی محبت جواپنی جان ‘ماں باپ اور آل اولاد اور دنیا جہاں کے سارے انسانوں کی محبت سے زیادہ ہو ۔ صحیح البخاری میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کے نزدیک اس کے ماں اور باپ ‘ آل اولاد ور ساری دنیا سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘۔

    ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص میں تین خصلتیں پیدا ہو جائیں وہ ایمان کی حلاوت‘ مٹھاس اور شیرینی محسوس کرے گا ۔ پھر تین خصلتوں میں سے سب سے پہلی خصلت یہ بتائی کہ :
    ’’ جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول کائنات کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں‘‘۔

    یہ محبّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان اور اسلام کی روح ہے۔ لیکن آج ہم نے اس بات پر غور کرنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کیا ہے۔ اور اس کا اظہار کیسے ہے اور اس کی علامتیں کیا ہیں…!!

    کیونکہ آج ہم لوگوں نے من گھڑت بدعات وخرافات کو رسول اللہ ﷺ کی محبت کا نام دے دیا ہے اور ۱۲ ربیع لاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش کا جشن سلیبریٹ کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ محبت رسول کا یہ انداز قرآن و سنت اور صحابہ و تابعین سے ثابت ہے …یا نہیں؟

    حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اس تیسری عید اور جشن کا ثبوت تو کہیں بھی نہیں ہے ، اگر یہ عید قرآن و سنت سے ثابت ہوتی یا حبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معیار ہوتی تو اس کا فرمان خود نبی مکرم ضرور ارشاد فرماتے ۔ جبکہ نبی مکرم ﷺنے یہ ضرور ارشادفرمایا: ’’جس نے ہمارے دین میں نئی بات پیدا کی وہ بات مردود ہے‘‘۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں نہ کبھی اپنا یوم پیدائش منایا اور نہ ہی صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا تھا۔ نیز یہ کام نہ تو خلفائے راشدین نے انجام دیا اور نہ ہی عام صحابہ کرام نے۔ لہذا معلوم ہوا کہ یہ کام بدعت ہے…

    تو کیا ان صحابہ کو اپنے پیارے پیغمبر سے محبت نہیں تھی کیا!! پھر انہوں نے یہ دن کیوں نہ ہماری طرح سیلیبریٹ کیا…!! انہوں نے ہماری طرح محبت کا ثبوت دیتے ہوئے کیوں نہ بازار سجائے…! بیسیوں کپڑے کے قیمتی تھان لٹکائے…! جھنڈیاں کیوں نہ لگائیں…؟شیرینی کیوں نہ بانٹی…؟؟ صحابہ کرام کی جانثاری کے نزدیک ہماری محبت کچھ بھی معنی نہیں رکھتی۔
    محبت کامعیار نعرہ بازی نہیں اور نہ ہی اس کا تقاضا ریاکاری اور دکھلاوا ہے۔ محبت و الفت دائمی تعلق کانام ہے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ لگانا تو آسان ہے، لیکن محب بننا مشکل۔محبت موسمی چیز تھوڑی ہے جو ربیع الاول میں سیلاب بن کر آئے اور باقی سارا سال ہمیں احساس تک نہ ہو کہ ہمارا کوئی رسول بھی ہے…!!

    آیئے! اگر ہمیں محب بننا ہی ہے اور سچی محبت بھی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلا جائے، صحابہ کرام مہاجرین انصار مدینہ، شہدائے احد، مجاہدین بدر اور خصوصی مکی زندگی میں اسلام قبول کرنے والے فرشتہ سیرت لوگوں کی شفتگی اور والہانہ عقیدت اور سراپا جاں نثاری سے سبق لیا جائے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اور صحیح معنوں میں اطاعت و پیروی کی جائے، آپ کا دین دنیا میں غالب کیا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالا جائے۔

    دعا کیجیئے ! کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت و توفیق کے ساتھ ساتھ ، ہمیں سنت پر گامزن رہنے اور بدعت سے دود رہنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔

  • بے مثل لاجواب میرا  کملی والا صلی اللہ علیہ وسلم    از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    بے مثل لاجواب میرا کملی والا صلی اللہ علیہ وسلم از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    بے مثل۔۔۔۔لاجواب ۔۔۔۔میرا
    کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم )

    از قلم عظمی ناصر ہاشمی

    میرے آقا جیسا جگ میں آ سکتا نہیں
    آپ کی صفات جیسا خلقت میں سما سکتا نہیں

    رب کے بعد رتبہ میرے مصطفی کا تو ہے
    جو نام ہے خدا کے بعد صل علی کا تو ہے

    میرے نبی نے ساری خصلتیں پائیں انبیاء کی
    میرے نبی نے کل خوبیاں پائیں انبیاء کی

    خوب اپنی ذات میں سب سے وہ نرالا
    بے مثل ۔۔۔۔لاجواب۔۔۔۔ میرا کملی والا

    توحید سکھائی ہم کو یہ کہ اک رب کو پکارو
    صراط مستقیم پہ چلو زندگی سنوارو

    کفر کے بتوں کو کر دیا آپ نے پاش پاش
    عرب و عجم پہ چھاکر بدل دی بودوباش

    ہر پارے میں دیتاہے قرآن گواہیاں آپ کی
    مبشر،نزیر ،سراج منیر ہیں صفا ئیاں آپ کی

    مدثر، مزمل، یاسین کیسےپیارے نام ہیں
    خاتم الانبیاء ، امام الانبیاء خاص الخاص کام ہیں

    اپنی امت کا خیال ہر جہاں انہوں نے رکھا
    ہماری خاطر طائف کے پتھروں کا دکھ سہا

    مسلم امہ کی بخشش واسطے روتے تھے رات بھر
    رب سے مغفرت کے طلبگار سوتے نہ تھے رات بھر

    یا الہی! پیارے نبی کے نقش قدم پر ہم کو چلا
    آ بڑی مشکل سے پایا ہے دین اس کشتی کو پار لگا

  • نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم    بقلم:جویریہ بتول

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    نعت…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    آپ رحمتِ عالم بن کر آئے…
    ہر خلق و بشر کے لیئے…
    آپ نصابِ ہدایت وہ لائے…
    جو سلیقہ بنا سفر کے لیئے…
    دیا وہ کامِل نظام ہم کو…
    سدا جو اثاثہ فخر کے لیئے…
    شبِ تیرگی کی سب حدیں…
    مِٹ گئیں روشن سَحر کے لیئے…
    ہر رِستا زخم مندمل ہو گیا…
    کہ قانون تھا بحر و بر کے لیئے…
    چُن لیئے آپ نےجتنے تھے کانٹے…
    کھِلے پھول ہر رہ گزر کے لیئے…
    وہ آئے تاجِ ختمِ نبوت سجائے…
    ہے دلیل یہ ہر اہلِ نظر کے لیئے…
    آپ کی تعلیم ہے وہ مینارۂ نور…
    بنے روشنی جو ہر رہبر کے لیئے…
    کوئی کون ہے،کہاں ہے اور کہیں…؟
    فیضِ عام ہے ہر طالبِ ثمر کے لیئے…
    میرے دل کا سکون و قرار ہیں وہ…
    جن کا اسوہ کامِل تا حشر کے لیئے…!!!

  • آپ کیا سیکھیں گے  بقلم:عمر یوسف

    آپ کیا سیکھیں گے بقلم:عمر یوسف

    آپ کیا سیکھیں گے ۔

    عمر یوسف۔۔۔

    عربوں کی شاعری پڑھنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ یہ عربی شعراء انسان کو اپنی باتوں میں جکڑنے کا ایسا فن رکھتے تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی ان کے جال میں پھنس جاتے ۔۔۔۔ حتی کے انہیں اپنا قریبی بنا لیتے ۔۔۔ درہم و دینار ۔۔۔ اور مال و دولت سے نوازتے ۔۔۔ اپنے دربار میں انہیں خاص مقام عطا کرتے ۔۔۔

    تو شعراء خوب فائدے اٹھاتے ۔۔۔ اور زندگی کی تمام نعمتیں حاصل کرتے ۔۔

    جبکہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو آپ پڑھیں گے تو یہ پائیں گے کہ آپ ص بھی ایک بادشاہ کی تعریف و تمجید میں اپنا وقت گزارتے تھے ۔۔ وہ بادشاہ ان تمام بادشاہوں کا بادشاہ اللہ رب العزت ہے ۔۔۔

    آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے عارضی بادشاہوں کی خوشامد میں اپنی زندگیاں گزاریں ان کو عارضی فائدے ملے ۔۔۔ لیکن جس نبی ص نے خدائے لازوال کی تعریف و تمجید میں وقت گزارا اس نبی کو اللہ نے دنیا میں بھی سرخرو کیا اور آخرت کے حقیقی اور دائمی فائدوں کا بھی مالک بنایا ۔۔۔

    آپ نے فن سیکھنا ہے تو یا تو آپ عربوں کی شاعری سے لوگوں کو راضی کرنے کا فن سیکھ لیں یا آپ نبی ص کی سیرت پڑھ کے ملک الملک رب ذوالجلال کو راضی کرنے کا فن سیکھ لیں اور دائمی فائدے حاصل کرلیں ۔۔۔

    نوٹ
    یہاں پر عربوں کی شاعری پر تنقید ہرگز مقصود نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ اس شاعری کی بات کی جائے تو یہ ایک بہترین شاعری ہے ۔۔۔
    یہاں پر زہد و ورع کو اپنانے کی ترغیب دینا مقصود ہے کہ دنیا کو راضی نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ ہاں لیکن اللہ کو راضی کیا جاسکتا ہے اور دونوں جہاں کی عزتیں صرف اس اللہ کی رضا سے حاصل ہوں گی ۔

  • نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم    بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
    محمد نعیم شہزاد

    درود اس پر (یہ) بزمِ ہستی سجائی جس نے
    یادِ باری قلبِ غافل میں بسائی جس نے

    راہ دکھلا کر بھٹکے ہوئے عدم کے راہی کو
    زندگی کیا ہے؟ کٹے کیسے؟ یہ بات سکھائی جس نے

    بے مثل وصف ہیں جس کے وہ ذات گرامی اس کی
    امت وسط کی ہر (اک) شان بڑھائی جس نے

    خُلق قرآں کا مجسم، صدق و صفا کا پیکر
    حسن دنیا کی وہ تمثیل دکھائی جس نے

    پر تبسم ہی رہے جھیل کے ہر ظلم و جفا
    وہ سراپائے رحمت کہ دعا دی جس نے

    ان کی الفت ہی ایماں کا پیمانہ ٹھہری
    زندگی مرضئ مالک پہ بیتائی جس نے

    کیوں نہ خائف ہو ابلیس اس کے چرچے پر
    اس کی تلبیس سے بچنے کی راہ سجھائی جس نے

    عین لازم ہے توقیر اس کی ہر کس و نا کس پر
    بندہ و آقا کی تفریق مٹائی جس نے

    اس کی ناموس پہ اک حرف نہ آنے دیں گےنہ
    بھلایا کسی بھی حال میں ہم کو جس نے

    امتی اس پہ فدا ہوں دل و جاں سے نعیم
    دہر سے نام مٹا دیں گے کی جسارت جس نے

  • ایمان کی طاقت:جہاں آپ کا رزق لکھا ہو کو مل کر ہی رہے گا   بقلم:عمر یوسف

    ایمان کی طاقت:جہاں آپ کا رزق لکھا ہو کو مل کر ہی رہے گا بقلم:عمر یوسف

    ایمان کی طاقت

    عمر یوسف

    وہ میرے سامنا بیٹھا تھا ۔۔۔ ادارے میں اسے نکالے جانے کی چہ مگوئیاں ہورہی تھیں ۔۔۔ اسے وقتا فوقتا اس کے دوست بتاتے ۔۔۔ کہ آج تمہارے بارے میں یہ بات ہوئی ۔۔۔ آج یہ ہوا ۔۔۔ مختلف باتیں سن سن کر اسے یقین ہوگیا کہ وہ زیادہ دیر یہاں نہیں ٹھہرنے والا ۔۔۔ جاب چلی جانے کا غم ۔۔۔ عموما انسان کو اذیت و کرب میں مبتلاء کردیتا ہے ۔۔۔ اور انسان نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ۔۔۔ سوچ منتشر ہوجاتی ہے ۔۔۔ اور مستقبل کے خدشے آگھیرتے ہیں ۔۔۔ نئی جاب کیسے حاصل کی جائے یہ فکر بھی دامن گیر ہوتی ہے ۔۔۔ مختلف وسوسے جنم لیتے ہیں اور انسان کے چہرے سے رونق غائب ہوجاتی ہے ۔۔۔ اس کی کیفیت بھی ایسے ہی بنی ہوئی تھی ۔۔۔ میں خود پریشان تھا ۔۔۔ اور دعا گو تھا کہ معاملات زیادہ نہ بگڑیں ۔۔۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوا ۔۔۔ اور پرعزم آواز کے ساتھ بولا ۔۔۔

    عمر صاحب ۔۔۔ میرا ایمان ہے کہ جہاں آپ کا رزق لکھا ہوا ۔۔۔ وہ آپ کو مل کر ہی رہے گا ۔۔۔ کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا ۔۔۔ اور جہاں سے نہیں ملنا وہاں سے کبھی نہیں ملے گا ۔۔ کسی کا باپ بھی نہیں لے کے دے سکتا ۔۔۔

    یہ الفاظ ادا کرنے کے بعد وہ پرسکون دکھائی دیا ۔۔۔ جیسے ہی اس کے ضمیر نے اس کے اندر موجود ایمانی طاقت کے ہونے کا احساس دلایا ۔۔۔ اس کے وساوس جاتے رہے ۔۔۔ ذہنی انتشار تھم گیا ۔۔۔ مستقبل کے خدشے اور فکریں دم توڑ گئیں ۔۔۔ خدا کے ہونے کے احساس نے اسے فرحت بخشی ۔۔۔ اللہ پر توکل نے اس چہرے کو ترو تازہ کردیا ۔۔۔

    بعد میں جو بھی حالات پیش آئے میرے سامنے تھے ۔۔۔ اس کے معاملات بگڑتے گئے اور بالآخر اسے مستعفی ہونا پڑا ۔۔۔ اپنے استعفی کو روکنے کے لیے اس نے کافی ہاتھ پاوں مارے لیکن بے سود تھے ۔۔۔ وہاں اس کا رزق نہیں تھا ۔۔۔ تو بڑے بڑے باپوں کی سفارش نہیں چلی ۔۔۔ لیکن چند ہی ہفتوں کے بعد اسے معمولی تگ و دو کے بعد پہلے سے بہتر جاب ملی ۔۔۔ اور تنگی کے بعد آسانی آگئی ۔۔۔

    یہ سب کچھ سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاملات تو بعد میں درست ہو ہی جاتے ہیں لیکن خدا پر عدم توکل کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو شروع میں بھی کافی ذہنی صدمے کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ جو بلا شبہ انتہائی کربناک دورانیہ ہے ۔۔۔ لیکن خدا پر یقین کامل انسان کو اس ابتدائی صدمے سے بچاتے ہوئے حیات جاوداں بخشتا ہے ۔۔۔

    ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوس