Baaghi TV

Category: اسلام

  • ایمان کی طاقت  بقلم: عمر یوسف

    ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوسف

    ایمان کی طاقت
    عمر یوسف

    وہ زارو قطار آنسو بہاتے ہوئے اپنی داستان غم سنا رہی تھی ۔۔۔ اس کے الفاظ میں اتنا دکھ بھرا تھا کہ اردگرد کا سارا ماحول بھی غم میں ڈوب گیا ۔۔۔ پاس بیٹھے تمام لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔۔۔۔
    ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے اس نے اپنے بھائی کو خوب یاد کیا ۔۔۔ اور یاد ماضی میں کھوئے ہوئے اس نے دل کی کیفیت بیان کرنا شروع کی ۔۔۔

    اس کا بھائی کالج میں پڑھنے والا طالب علم تھا ۔۔۔ ایک دن اچانک کمر میں درد شروع ہوئی تو معمولی درد سمجھتے ہوئے اس پر توجہ نہ دی گئی ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ جب دکھ بڑھنا شروع ہوا تو چیک اپ کے لیے ہاسپٹل لے جایا گیا ۔۔۔ رپورٹ آئی تو سب کے اوسان خطا ہوگئے ۔۔۔ ان سب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی یہ جان کر کہ اس نوجوان کو بلڈ کینسر تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے کینسر کے سپیشل ہاسپٹل میں رہفر کیا ۔۔۔ دن بدن کمزوری بڑھتی گئی ۔۔۔ کینسر اس کے جسم کو یوں کھا رہا تھا جیسے سوکھی لکڑی کو آگ کھاتی ہے ۔۔۔

    ماں روز اپنے لعل کو دیکھ کر آنسو بہاتی اور اس کے ساتھ بندھی ہوئی امیدوں کو یاد کرکے روتی ۔۔۔۔ وہ تو اس کی شادی کے اپنے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ تو اس مان میں تھی کہ کب اپنے لعل کی منگنی کروں اس کی دلہن کے لہے کپڑے خریدوں ۔۔۔۔

    گھر کے صحن میں جواں سالہ بیٹے کو چلتے دیکھ کر باپ کا سینا فخر سے چوڑا ہوجاتا ۔۔۔ بہنیں اپنے گھبرو جوان بھائی کو دیکھتی تو یوں محسوس کرتیں کہ اس کے ہوتے ہوئے ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔۔۔

    پھر آزمائش آئی اور مرض بڑھتا چلا گیا ۔۔۔ اور وہ وقت بھی آیا جب کینسر نے اپنا آخری حملہ کیا ۔۔۔ پہلے اس کے گردے فیل ہوئے ۔۔۔ پھر جگر نے کام کرنا شروع کیا ۔۔۔ آہستہ آہستہ حملہ دل کی طرف منتقل ہوا اور پھر دل نے دھڑکنا بند کردیا ۔۔۔ ایک کے بعد ایک ۔۔۔ جسم کے تمام اعضاء کام کرنا چھوڑ گئے ۔۔

    اور پھر ماں کی آنکھوں کا تارا غروب ہوگیا ۔۔۔ باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک ختم ہوگئی اور جلن نے ڈھیرے ڈال دیے ۔۔۔ بہنیں جیسے بے یارو مددگار ہوگئیں ۔۔۔

    ماں دنیا و ما فیھا سے بے خبر بے سدھ پڑی صدمے کی حالت میں چلی گئی ۔۔۔ باپ کی کمر ٹوٹی اور چارپائی سے دوستی ہوگئی ۔۔۔ بہنیں دیواروں کے ساتھ لگی اپنے بھائی کے کیے گئے وعدے یاد کرتیں اور یوں لگتا جیسے دل ڈوب سا گیا ہے ۔۔۔

    اس دن میرے سامنے بیٹھے ہوئے اس نے کہا کہ جی کرتا ہے زور زور سے چلاوں دھارے مار مار کر بھائی کو واپس بلاوں ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد اب بھی جب اسے یاد کرتی ہوں تو پھر غم اسی شدت سے حملہ آور ہوتا ہے ۔۔۔
    اس کے کالج کے سامنے سے گزروں تو بے ہوش ہوجاتی ہوں ۔۔۔ مجبورا وہ شہر چھوڑنا پڑا ۔۔۔

    اب بھی جب غم کی شدت ہوجائے ۔۔۔ دل بے قابو ہوجائے ۔۔۔ اوسان خطا ہوجائیں ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے ۔۔۔ تو پھر وہ اللہ یاد آتا ہے ۔۔۔ جسے یاد کرنے سے غم کی شدت ہلکی ہوجاتی ہے ۔۔۔ بے قابو دل قابو میں آجاتا ہے ۔۔۔ دل کو چین اور روح کو تسلی ملتی ہے ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے چھایا اندھیرا روشنی میں بدلنا شروع ہوجاتا ۔۔۔

    پھر میں یہی کہتی ہوں کہ جو میرے اللہ کو منظور تھا وہی ہونا تھا ۔۔۔ اور یقینا ہم اس کی حکمتوں سے بے خبر ہیں ۔۔۔ وہ جو بھی ہمارے لیے کرتا ہے ۔۔۔ ہمارے فائدے کے لیے ہوتا ہے ۔۔۔ اے اللہ میں تجھ پہ راضی ہوئی ۔۔۔

    قارئین ایمان کی طاقت جتنا بندے کو سکون عطا کرتی ہے اتنا دنیا کے کسی بھی ماہر نفسیات کے پاس نہیں ۔۔۔
    اگر یہی مسئلہ کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آتا تو یقینا وہ کسی ماہر نفسیات کے کلینک کی زینت ہوتی ہے ۔۔۔

    اگر تم مسلمان ہو ۔۔۔ مومن ہو ۔۔۔ تو تم دنیا کی سب سے عظیم نعمت رکھتے ہو ۔۔۔

    اس نعمت کے حاصل ہونے پر لازم ہے کہ تم کہو الحمد للہ

  • ایک تیر سے دو شکار  بقلم:عمر یوسف

    ایک تیر سے دو شکار بقلم:عمر یوسف

    ایک تیر سے دو شکار

    عمر یوسف

    خیالات کتنی طاقت رکھتے ہیں ۔۔۔ اچھے ہوں تو زندگی اچھی بنا دیتے ہیں برے ہوں تو زندگی اجیرن کردیتے ہیں ۔۔۔ دماغ کا کام تو بس یہی ہے کہ وہ ہر وقت خیالات میں مگن رہے گا ۔۔۔ اس لیے انسان تو خیالات سے الگ ہو نئی سکتا ۔۔۔ ہاں ایک کام انسان کرسکتا ہے کہ وہ اپنے خیالات پہ قابو پالے ۔۔۔ جب دماغ قابو میں ہوتا ہے تو بندہ بادشاہوں جیسی زندگی گزارتا ہے ۔۔۔ خلیفہ متوکل باللہ کو اداس دیکھ کر وزیر فتح خاقان نے پوچھا ۔۔۔ حضور پریشان کیوں بیٹھے ہیں ۔۔۔ جبکہ آپ تو دنیا کہ خوش نصیب ترین انسان ہیں ۔۔۔ خلیفہ متوکل باللہ نے وزیر کو فورا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سے بہتر انسان تو وہ جو عام ہے اور معمولی زندگی بسر کرتا ہے ۔۔۔

    سوچ کا زاویہ غلط ہو تو بادشاہ بھی غلاموں جیسی زندگی گزارتا ہے ۔۔۔ خلیفہ کی زندگی سے خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔۔۔

    جب دماغ میں خیالات کا طوفان بپا ہو ۔۔۔ اور منفی خیالات انسان کی کمر توڑ دیں تو نفسیات کے ماہر میڈیٹیشن یعنی مراقبہ کرنے کو کہتے ہیں ۔۔۔ مراقبہ میں انسان آنکھیں بند کرتا ہے اور صرف ایک نقطے پر سوچ کو مرکوز کرتے ہوئے لمبے لمبے سانس لیتا ہے ۔۔۔ یوں دماغ کئی طرفہ سوچنے کی بجائے ایک طرفہ سوچنے لگتا ہے اور ساری کی ساری منفیت غائب ہوجاتی ہے ۔۔۔۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مراقبہ کے نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔۔۔ اور ڈپریشن کے مریض خوب اچھا محسوس کرتے ہیں ۔۔۔

    لیکن میں چاہتاہوں کہ آپ ایک تیر سے دو شکار کریں ۔۔۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ نماز سب سے بڑا مراقبہ ہے ۔۔۔ ایک مسلمان جب نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی ساری کی ساری توجہ اس کے رب کی طرف ہوتی ہے ۔۔۔ وہ بس اپنے رب کو سوچتا ہے ۔۔۔ وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ اس کی طرف دیکھا جارہا ہے ۔۔۔ پھر اس کا خشوع و خضوع اور بڑھ جاتا ہے ۔۔۔ جب عذاب قبر یاد آتا ہے تو دنیاوی مصائب ہیچ نظر آنے لگتے ہیں ۔۔۔ حشر کے طویل اور پر مشقت منظر کو یاد کرکے اسے دنیا انتہائی حقیر معلوم ہوتی ہے ۔۔۔ دنیا کی حقیقت جان لینے کے بعد وہ انتہائی مطمئن ہوجاتا ہے ۔۔۔ اللہ سے دعائیں کرتے ہوئے اس کی امید بندھ جاتی ہے کہ اس کے سارے کام ٹھیک ہوجائیں گے ۔۔۔

    یوں جب نماز ختم ہوتی ہے تو منفیت کا طوفان تھم چکا ہوتا ہے ، بری سوچوں کے سیلاب کو جیسے روک دیا جاتا یے ۔۔۔ دماغ کے باغ سے خزاں رخصت ہوجاتا ہے اور بہار آجاتی ہے ۔۔۔ خوشبو سے معطر پھول لہلہانے لگتے ہیں اور انسان عمل کے میدان میں کودنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوجاتا ہے ۔۔۔

    یوں نماز جیسے عبادت نما مراقبے سے انسان نے ثواب بھی کما لیا اور مراقبہ بھی کرلیا ۔۔۔

    بلا شبہ اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں ۔۔۔

  • دفاع ناموس صحابہ پر قربان   بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    دفاع ناموس صحابہ پر قربان بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    دفاع ناموس صحابہ پر قربان

    بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    اسلام کی شان و شوکت اور عظمت سے خائف ہوکر یہودیوں نے اسلام کی پھیلتی ہوئی دعوت روکنے کے لئے ابن سبا یہودی کو مسلمانوں میں داخل کیا جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر حب اہل بیت کا نعرہ لگایا اور اس کے بعد اہل ایمان کو جن حالات سے گزرنا پڑا وہ تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔ سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی، سیدنا علی، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کی شہادت کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس قتل و غارت گری اور فساد فی الارض کے پیچھے فارسی و النسل شیاطین نہیں نظر آئیں گے۔

    امیرالمومنین خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر فاروق کی شہادت مدینہ منورہ میں ہوتی ہے اور قاتل ابولولو فیروز مجوسی سے کی لاش ایران میں لا کر دفن کر دی جاتی ہے اور آج بھی اس پر ایک عظیم الشان عمارت ایستادہ ہے جو اس قتل کے محرکین کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس مجوسی اور فارسی نسل نے ہمیشہ سے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام اور اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھا جو کہ معیار ایمان اور معیار حق ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالی نے کلمہ تقوی کو لازم قرار دیا تھا اور ان کی جانی و مالی قربانیاں دیکھ کر، ان کے جذبہ ایثار اور اسلام کے لیے مرمٹنے کے عزم کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے جنت کے سرٹیفیکیٹ عطا فرما دیے تھے۔

    ان مجوسیوں کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح سے سے اصحاب رسول کی ذات اور شخصیات کو نشانہ بنا کر درمیان سے نکال دیا جائے تاکہ اسلام کے روشن اور چمکدار چہرے کو کو نہ صرف داغ دار کیا جاسکے بلکہ اسلام کی عمارت ہی گرا دی جائے لیکن اہل ایمان نے ہمیشہ سے ان کا مقابلہ کیا۔ ان کی بد زبانی اور گستاخیِ کا جواب متانت و سنجیدگی سے باوقار انداز میں علمی طور پر دیا اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کا دفاع کیا اور تا قیامت کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ

    روافض کا گروہ سمجھتا ہے کہ ہر اس شخص کو راستے سے ہٹا دیا جائے جو دنیا کے افضل ترین لوگوں یعنی صحابہ کرام کی عظمت کا پھریرا لہراتا ہے اور تحریری و تقریری یا کسی بھی طرح سے صحابہ کے دفاع کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

    ہم ماضی قریب میں جا کر دیکھتے ہیں تو مولانا حکیم فیض عالم صدیقی، شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی اور ان کے رفقاء، مولانا حق نواز ، مولانا ایثار الحق قاسمی، مولانا اعظم طارق شہید رحمہم اللہ علیہم اجمعین کو چن چن کر شہید کیا گیا اور دفاع ناموس صحابہ کی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گذشتہ روز مولانا ڈاکٹر عادل خان کو شاہ فیصل کالونی کراچی میں ان کے ڈرائیور سمیت قتل کر کے شہید کر دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اسلام آباد میں حکومتی سرپرستی میں افضل الناس بعد الانبیاء سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے بدزبانی کرنے والے ذاکر آصف رضا علوی اور دس محرم کو کراچی کی مشہور شاہراہ بند روڈ پر کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ اور خسر رسول سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے بارے بدزبانی اور گستاخی کرنے والوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کے لیے علمائے کرام، مشائخ عظام اور دینی تنظیمات کے ذمہ داران کو بہت متحرک کیا اور اس کے لیے تحریک کھڑی کی۔

    کراچی میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث نے عظمت صحابہ کرام ریلیاں نکالیں پھر اس تحریک نے ملک کے دیگر بڑے شہروں اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد ودیگر شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے اور ریلیاں نکالیں۔ 13 اکتوبر 2020 کو قائد علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی قیادت میں گوجرانوالہ میں عظیم الشان عظمت صحابہ کرام ریلی نکالی جارہی ہے۔

    حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ملکی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور ان کے لیے مناسب سکیورٹی کا انتظام کرے لیکن یہ حکومت فرقہ واریت کو ہوا دے کر اور ملک میں فرقہ وارانہ قتل اور غارت گری کروا کر اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے۔حکومتی وزرا سیکیورٹی یا دیگر مسائل پر توجہ دینے کے بجائے پہلے سے ہی قتل و غارت کی پیشین گوئیاں کر رہے ہیں اور اپنی نااہلی اور نالائقی پر تصدیق کی مہر ثبت کر رہے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری بغیر کسی تحقیق یا تفتیش کیے پڑوسی ملک پر ڈال دیتے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران نیازی نے اس قتل کی ذمہ داری بھارت پر ڈال دی ہے۔ حالانکہ اس بارے نہ کوئی تحقیق اور تفتیش ہوئی اور نہ ہی قاتل پکڑے گئے۔

    بلکہ اس کیس سے جان چھڑانے کے لئے اپنے پیش رو حکمرانوں کا وطیرہ اپناتے ہوئے بھارت پر قتل کی ذمہ داری ڈال دی دنیا جانتی ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے ہمیشہ سے ایران کا ہاتھ رہا ہے۔ وہ اپنے غلط نظریات کو پھیلانے کے لئے فرقہ وارانہ لٹریچر بھیجنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کو تربیت دیکر پاکستان بھیجتا رہا ہے اور ان کی مالی مدد بھی کرتا ہے۔ ایران کی پاکستان دشمنی کی مثال بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو بھی پاکستان میں موجود ہے جو کہ ایران کے ویزے پر پاکستان آکر دہشت گردی کرواتا رہا اور اس کو ایران کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔

    ہمارا صوبائی و وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں سے مطالبہ ہے ہے کہ پاکستان کی واضح سنی اکثریت کے مطالبات پر فوری توجہ دی جائے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

    ڈاکٹر عادل خان شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور غیرجانبدارانہ تحقیق کر کے ان کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ ملک میں فرقہ واریت کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکا جاسکے۔ کیونکہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کو دوسرا ملک شام بنا دیا جائے۔ لیکن ملک کے پرامن مسلمان شہری ہر صورت میں ملک میں امن و امان اور سکون چاہتے ہیں تاکہ پاکستان جنت نظیر رہے۔

  • رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں   زرتاج گُل

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے ہیں زرتاج گُل

    موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت ، زرتاج گل نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں رنگ گورا کرنے کی 57 مصنوعات جن میں کچھ بین الاقوامی برانڈز شامل ہیں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پرو پاکستا نی نیوز ویب سائٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزارت کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 59 میں سے 57 کریم میں مرکری کی سطح 1pbm سے زیادہ ہے جو تشویش کی بات ہے۔

    گل نے کہا کہ رنگت گورا کرنے والی مصنوعات کے تیار کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سال 2020 کے آخر تک مصنوعات سے پارہ یعنی مرکری کی سطح کو 1pbm تک کم کرے۔

    زرتاج گُل نے بتایا کہ حکومت جلد کی مصنوعات میں پارے اور دیگر نقصان دہ مادوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات سے متعلق گمراہ کن اشتہاروں کی حوصلہ شکنی کریں۔

    پروپاکستانی سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حکومت صنعتوں کو مرکری فری مصنوعات بنانے کی ترغیب دے رہی ہے اور مرکری کے استعمال سے متعلق قانون سازی کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصا سفید رنگ کی کریم بنانے والوں کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔

    زرتاج گل نے کہا "ہم نے رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کے بہت سے مینوفیکچررز کے سی ای اوز سے ملاقات کی اور ان سے مصنوعات سے مرکری ختم کرنے کو کہا۔”

    زرتاج گل نے مزید کہا کہ رنگ گورا والی کریموں میں پارے کی ضرورت سے زیادہ مقدار خطرناک ہے۔

    گل نے یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی برانڈ ‘فیئر اینڈ لولی’ نے وزارت کی سفارش پر اپنا نام تبدیل کرکے ‘گلو اینڈ لولی’ رکھ دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف) حکومت کو مالی اعانت فراہم کررہی ہے تاکہ انسانی صحت اور ماحولیات کو مرکری اورمرکری کےمرکبات سے بچایا جاسکے۔


    دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اپنے ٹوئٹ میں زرتاج گُل نے بتایا کہ رنگ چٹا کرنے والی ہر وہ کریم جس میں پارے کی مقدار خطرناک شرح تک ہے، اس کے خلاف میری وزارت ایکشن لے رہی ہے، لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہے۔ ایسی ہر کریم کا غیر مناسب پرچار نہ صرف معاشرتی گراوٹ اور کم خود اعتمادی کا باعث ہے، بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ہے۔

    حریم شاہ کا خوبصورتی سے متعلق خصوصی پیغام

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام

    سہانا خان کو رنگ پر تنقید کا سامنا ، سوشل میڈیا صارفین نے کالی چڑیل کہہ دیا

     

  • پردہ تو مسلمہ عورت کا وقار ہے    بقلم:جویریہ بتول

    پردہ تو مسلمہ عورت کا وقار ہے بقلم:جویریہ بتول

    پردہ…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مسلمہ عورت کا یہ وقار ہے…
    پردہ تو اسلام کا شعار ہے…
    نکلی جاہلیت کی رسموں سے…
    اُس بنتِ حوّا کا یہ معیار ہے…
    کئی لوگوں کی تھی ملکیت…
    یہ زندگی بھی تھی اک اذیت…
    اُس درد بھری فضا سے نکل کر…
    ملا یہ پردے کا حصار ہے…
    یہ تنگ نظری سے تحفظ ہے…
    یہ ہوس پرستی پر ضرب ہے…
    ہر ایک میلی نظر سے سدا…
    بچتے رہنے کا دل سے اقرار ہے…
    کردار کی ہے یہ پاکیزگی …
    شر سے حفاظت ہے یہ پیشگی …
    حیا کی ترویج کا ہے سامان…
    اخلاقیات کا یہ معمار ہے…
    نہیں یہاں کوئی بے وقعتی…
    نہ ہر اک سے ہے بے تکلفی…
    نہ جھوٹے عہد و بیانِ حلفی…
    سیدھی راہ ہی یہاں گُلزار ہے…
    سدا کرے عطا یہ شان بُلند…
    ہر برائی کے آگے ہے اک بند…
    حدود و قیود ہیں یاں ارجمند…
    یاں ہر گھٹیا سوچ مسمار ہے…!!!
    جو دل سے اس کا کرے احترام…
    فرض سمجھ کر اس کا اہتمام…
    ہو اسی پہ زندگی اور اختتام…
    وہ عظمت کاچمکتا اک مینار ہے…!!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • اک ذرا سے جھٹکے سے  بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اک ذرا سے جھٹکے سے…
    جب دھرتی کاسینہ شق ہوا…
    کئی چاند چہرے چُھپ گئے…
    اور زندگی کا رنگ فق ہوا…
    سب موج میلوں میں گُم تھے…
    کہیں خوشیاں،کہیں غم تھے…
    دلوں میں لیئے کئی ارمان…
    آنکھوں میں کُچھ خواب نم تھے…
    کہ قدرت کے اک اشارے سے…
    کیا خوفناک تھا وہ اُفق ہوا…؟
    سورج کی اُن کرنوں میں …
    گردش کرتی خبروں میں …
    موت کا ہی رنگ نِکھرا…
    ہر سو اک غم بِکھرا…
    اس دنیا کی بے ثباتی کا…
    اور دولت آتی جاتی کا…
    سب پختہ گھر،عمارتوں کا…
    منصب اور وزارتوں کا…
    زعم زمیں بوس ہوا…
    یہ اک جھٹکے کا حال تھا…
    جب بگڑا حسن و جمال تھا…
    وہ بھاری چیز پھر کیا ہوگی؟
    ہیں جس سے غفلت میں سبھی…
    جب پردہ اُٹھے گا رازوں سے…
    نکلیں گے سب حجابوں سے…
    سب گزریں گے حسابوں سے…
    اُس سختی کا عالم کیا ہو گا…؟
    ہر غاصب،ظالم کھڑا ہو گا…!!!
    اُس وقت کو ہر دَم یاد رکھو…
    آخرت کا توشہ آباد رکھو…
    موت کے لیئے ہم تیار رہیں…
    کسی موڑ بھی نہ غدار رہیں…!!!!!
    (8 اکتوبر 2005)۔

  • وزیراعظم عمران خان کاجنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے  حیاتیاتی تنوع پرخطاب کہا میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے

    وزیراعظم عمران خان کاجنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے حیاتیاتی تنوع پرخطاب کہا میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا75واں اجلاس،پہلاورچوئل سیشن جاری وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سے حیاتیاتی تنوع پرخطاب میں کہا کہ میری حکومت بائیوڈائیورسٹی کےتحفظ کےلیے اقدامات کررہی ہے-

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی کےورچوئل سیشن سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اقوام متحدہ کا جاندار تنوع سے متعلق رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جو شمال سے جنوب ، مشرق سے مغرب تک ماحولیاتی لحاظ سے متوع ہے۔

    وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں12موسمیاتی زونز ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس عمودی ڈھلوان موجود ہے پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے پہلے 10ملکوں میں ہوتاہے-

    شمال میں پاکستان کا سب سے اونچا پہاڑ دنیا کا دوسرا بلند پہاڑ ، K2 بھی ہوتا ہے۔ وہاں سے سمندر تک 2000 کلومیٹر کی دوری ہے۔ لہذا ہم الپائن آب و ہوا زون سے دائیں مدارینی علاقوں تک جاتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میری حکومت نے پودوں اور حیوانات کے تحفظ کے لئے اس قدر قدرتی حیوانی تنوع کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ اور اس کے لئے ہم حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور آب و ہوا میں تبدیلی لچک دونوں کے لئے مقامی کمیونٹیز کی مدد کی فہرست میں شامل ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ چونکہ پاکستان آب و ہوا کی تبدیلی کا شکار ہے ، لہذا ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں ہیں۔ اور اس کے لئے ہم نے 10 بلین درخت لگانے اور ان 10 ارب درختوں کو لگانے کا چیلنج اٹھایا ہے-

    وزیراعظم عمران خآن نے کہا کہ ہم نے مقامی کمیونٹیز کی مدد کو فہرست میں شامل کیا ہے۔ لہذا انہیں ملازمتیں دی جائیں گی جو جنگل کی حفاظت کریں نیز نرسریوں کو اگائیں گے تاکہ ہم اپنے 10 ارب درختوں کا ہدف حاصل کرسکیں۔

    وزیراعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ ہم نے CoVID دور میں شروع کردہ اپنے "پروٹیکٹڈ ایریاس انیشی ایٹو” کے حصے کے طور پر اپنے 2سالہ دورحکومت میں 9نیشنل پارکس کااضافہ کیا جن کی تعداد 30 سے 39 ہو گئی ہے ہماری حکومت کے 2 سالوں کے نتیجے میں ، ہم نے قومی پارک میں 9 یا 25٪ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ سب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے ہمارے مضبوط عزم کو ظاہر کرتا ہے-

  • حرمین شریفین کے فضائل  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حرمین شریفین کے فضائل بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حرمین شریفین کے فضائل

    عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مکہ مکرمہ ہمارے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش اور نزول وحی کی جگہ ہے۔ یہاں پر مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ ہر مسلمان کی دلی تمنا اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہاں کے مقدس سفر پر بار بار جائے اور بیت اللہ کا طواف کرے اور دنیا کی سب سے پہلی مسجد، مسجد حرام میں نمازیں ادا کرے جہاں پر ایک نماز کا اجر لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

    بیت اللہ کا پاکیزہ اور معطر و منور ماحول ہو اور پھر امام کعبہ فضیلۃ الشیخ معالی الدکتور عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس صاحب حفظہ اللہ چیئرمین امور حرمین شریفین ہوں تو حجاج کرام اور معتمرین حضرات کے چہروں کی خوشی قابل دید ہوتی ہے اور جب وہ اپنی پیاری سی آواز سے صفیں درست کرنے کا کہتے ہیں تو لوگ کے دل خوش ہوجاتے ہیں اور پھر جب اپنی مترنم اور کھنکتی ہوئی آواز میں تلاوت قرآن مجید کرتے ہیں تو قرآن مجید کو نہ سمجھنے والے یہ تلاوت سن کر یوں محسوس کرتے ہیں کہ گویا وہ قرآن مجید کو حرف بحرف سمجھ رہے ہیں۔ اسی طرح آپ کے خطبات جمعہ بڑے ہی قیمتی اور معلوماتی ہوتے ہیں۔

    کویت کے مشہور عالم دین ڈاکٹر محمد العوضی صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شیخ عبدالرحمن السدیس صاحب حفظہ اللہ کویت کے دورے پر تھے تو شیخ محترم نے انہیں بتایا کہ جب حرم شریف کے لیے جمعہ کے خطبہ کی تیاری کرتا ہوں تو ہر خطبے کو ایک مشن سمجھ کر اس کی تیاری کرتا ہوں۔ جو بھی خطبہ دینا ہوتا ہے اس سے ایک دو روز پہلے لوگوں سے ملاقاتیں بند کردیا ہوں تاکہ پوری توجہ اور انہماک سے اپنے موضوع کا حق ادا کرسکوں۔ اور اس کے لیے مستند معلومات جمع کرسکوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ وہ عظیم مقام ہے جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مقام نہیں۔ یہ وہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جہاں سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پوری دنیا کے لوگوں تک پہنچتا ہے۔( خطبات امام حرمین شریفین صفحہ نمبر 9)

    پیغام ٹی وی چینل نے اپنے آغاز سے ہی حرمین شریفین کے خطبات جمعہ کو اردو داں طبقہ کے لیے نشر کرنے کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ اسی طرح سے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے آرگن مجلہ ” ہفت روزہ اہل حدیث” لاہور میں تسلسل سے آئمہ حرمین شریفین کے خطبات جمعہ کو اردو زبان میں ترجمہ کرکے شائع کیا جاتا ہے۔ اب حال ہی میں پیغام ٹی وی چینل کی منیجمنٹ نے شیخ عبدالرحمن السدیس صاحب کے 2012 سے لے اہم 57 خطبات کو اُردو زبان میں شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ جس کے لیے باقاعدہ ایک تقریب رونمائی بھی منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی عزت مآب جناب نواف سعید المالکی صاحب سفیر سعودی عرب تھے۔ جبکہ تقریب کی صدارت قائد اہل حدیث سینیٹر علامہ پروفیسر ساجد میر صاحب حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان تھے اور خطبہ استقبالیہ محسن جماعت سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب حفظہ اللہ ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے پیش کیا۔

    اس کتاب کی اشاعت پر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی قیادت اور پیغام ٹی وی چینل کی منیجمنٹ اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے بڑی خوبصورت کتاب پیش کی یہ کتاب اس وقت تحفہ میں احباب کو پیش کی گئی اور اس کے ساتھ بلبل اہل حدیث قاری القرآن محترم جناب قاری صہیب احمد میر محمدی صاحب حفظہ اللہ کی کتاب پیاری سی کتاب ” حرمین شریفین کے فضائل” بھی پیش کی گئی۔ جس پر میں قاری صہیب احمد میر محمدی صاحب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کتب سے ہمیں مستفید ہونے کی توفیق عطاء فرمائے اور عقیدہ توحید کی محبت اور حرمین شریفین کی خدمت کرنے والے اور وہاں پر امامت وخطابت کے فرائض ادا کرنے آئمہ حرمین شریفین سے اپنی رضا کے لیے محبت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے۔ آمین
    طالب دعا:-
    عبدالرحمن ثاقب سکھر

  • مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مجلہ "اسوہ حسنہ” کا خصوصی نمبر

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عالم قیام کرنے والے روزہ دار اور مجاہد سے افضل ہے۔ جب عالم فوت ہو جاتا ہے تو اسلام میں ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے کہ اس جیسا جانشین ہیں اسے پر کرسکتا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا سیرت صحابہ کرام 1/398)
    بلا ریب علماء ہی انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں جو دین کی دعوت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور اس مشن پیغمبرانہ کی ادائیگی میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ اور اپنی درویشانہ زندگی میں "ان اجری الا علی اللہ” کے مصداق نظر آتے ہیں. یہ علماء و مشائخ کرام دنیا کے ذہین ترین انسان ہوتے ہیں لیکن ان کی جستجو و طلب دنیا نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی و کامرانی کی طرف مرکوز رہتی ہے۔ مدارس و جامعات کی چٹائیوں پر بیٹھ کر طلب علم میں مصروف رہنے والے طلبہ کی علمی رہنمائی کر کے انہیں ہیرے کی طرح تراش کر ملت کو بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ ایک ایک عالم دین اور شیخ الحدیث اپنی اپنی جگہ ایک تحریک ہوتا ہے جو معاشرے کی نہ صرف دینی رہنمائی کرتا ہے بلکہ معاشرے کے بیگاڑ کو روکنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتاہے۔
    کسی عالم دین کا اس دنیا فانی سے جانا محض کسی شخصیت، شکل و صورت یا دم ولحم کا فقدان نہیں ہوتا بلکہ اس کے سینے میں محفوظ و مامون میراث نبوت کا فقدان ہوتا ہے۔ اور علماء کے جانا علامات قیامت ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی وسلم کا فرمان ہے۔
    سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: کیا تم جانتے ہو کہ علم کس طرح سے ختم ہوگا؟ ہم نے کہا کہ نہیں! انہوں نے فرمایا کہ علماء کے اٹھ جانے سے (سنن دارمی)
    گذشتہ چند ماہ میں بہت سی علمی شخصیات ہم سے رخصت ہوگئیں جن کا خلا پر ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ یہ علمی شخصیات یکے بعد دیگرے ہمیں داغ مفارقت دیتی رہیں۔ علماء کی وفات پر جماعت کا ہر فرد مغموم و محزون نظر آیا اور علماء کی جماعت کے ساتھ ساتھ عام انسان بھی ان علماء کرام و مشائخ عظام کی وفات کواپنا ذاتی نقصان سمجھ رہا تھا اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے نظر آرہا تھا۔
    حقیقت یہ ہے کہ امسال اس قدر علماء و مشائخ عظام کی پے در پے وفات سے ایسا خلا پیدا ہو چکا ہے جس کا پر ہونا ناممکن ہے کیونکہ جو مسند خالی ہو جاتی ہے بظاہر اس مسند پر جانشین اجاتا ہے لیکن علمی و عملی طور پر وہ اس مقام کا حامل نہیں ہوتا جس قدر اس مسند کو چھوڑ جانے والا تھا۔
    جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی صرف ایک عالمی علمی دانشگاہ ہی نہیں بلکہ تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ دینی و فکری رہنمائی کرنے والی ایک تحریک ہے جہاں سے قرآن و سنت کے چشمہ صافی سے دنیا کو سیراب کیا جاتا ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق عامۃ الناس کی رہنمائی کی جاتی ہے۔
    بانی جامعہ ہمارے مربی و محسن فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلی تمنا تھی کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کا ایک علمی مجلہ ہونا چاہیے۔ بحمد اللہ پندرہ سال قبل جامعہ کی انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا اور فضیلت الشیخ ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ذمہ داری لگائی جنہوں نے احسن انداز میں اس ذمہ داری کو نبھایا اور مجلہ کو معنوی اور صوری طور پر خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی معیار کو بھی بلند رکھا اور مختلف مواقع پر مجلہ اسوہ حسنہ کے خصوصی نمبر بھی شائع کئے۔ جن میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
    تحفظ ناموس رسالت نمبر 2005
    قرآن نمبر 2006
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2012
    پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ نمبر 2012
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2013
    سعودی عرب نمبر 2013
    سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم نمبر 2014
    دفاع بلاد حرمین نمبر 2015
    بےدینی، دہریت اور الحاد نمبر 2020
    اور اب سال 2020 میں وفات پا جانے والے جید علماء کرام کی سوانح حیات پر خصوصی نمبر” گلستان علم و عرفان کے انمول موتی جو ہم سے بچھڑ گئے نمبر 2020
    اس خاص نمبر میں الشیخ قاضی محمد عیاض، محدث العصر مولانا عبدالحمید ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا عبد الرشید ہزاروی، پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، شیخ الحدیث مولانا محمد یونس بٹ، پروفیسر حافظ ثناء اللہ خان، بابائے قرآت قاری محمد یحیی رسول نگری، حافظ صلاح الدین یوسف، محدث العصر مولانا ضیاء الرحمن الاعظمی مدنی، مولانا انیس الحق افغانی رحمھم اللہ علیہم پر اہل علم و قلم کے مضامین شائع کئے ہیں۔ 124 صفحات پر یہ علماء کرام کی سوانح حیات پر مشتمل دستاویز ہے۔ جو کہ اصحاب علم وفضل سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے لحاظ اور علماء کرام کی زندگیوں اور علمی جد و جہد سے آگاھ کرنے کے لیے ” مجلہ اسوہ حسنہ” کی انتظامیہ نے بہت ہی احسن قدم اٹھایا ہے۔ اور طالبان علوم نبوت کے اشتیاق کو بڑھانے کے لیے یہ خصوصی نمبر شائع کرکے ہم طلاب علم کے لیے علماء کرام و مشائخ عظام کے حالات کو جاننے کا سامان مہیا کیا ہے۔
    مجلہ اسوہ حسنہ کی تسلسل سے اشاعت کے لیے خصوصی دلچسپی لینے پر فضیلة الشیخ ضیاء الرحمن مدنی صاحب حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ اور جامعہ کے اساتذہ کرام جو کہ مجلہ کے قلمی معاونین بھی ہیں لائق صد تحسین ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
    اس اشاعت خاص پر میں مدیر مجلہ محترم ڈاکٹر مقبول احمد مکی صاحب حفظہ اللہ کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دوست و احباب سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ اس خصوصی نمبر کو ضرور حاصل کریں۔ خود بھی اس کا مطالعہ کریں اور اپنے بچوں کو بھی مجلہ پڑھنے کےلئے دیں تاکہ ان کے دلوں میں بھی دین اسلام کے داعی بننے کا جذبہ اور لگن بڑھے۔
    ملنے کا پتہ:
    دفتر مجلہ اسوہ حسنہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی

  • 7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت  ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    7 ستمبر 1974 کا دن یوم تحفظ ختم نبوت
    ازقلم :-
    محمد عبداللہ گِل
    اللہ تبارک و تعالی انسانیت کی فلاح کے لیے ان کو آگ سے بچانے کے لیے،ان تک حق بات کو پہنچانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔یہ انبیاء کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور سرور دو عالم،رحمت العلمین،شافعی روز محشر،محبوب رب العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آ کر ختم ہوا۔
    اللہ تبارک و تعالی نے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا اور اسلام کو اپنا پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا
    رب کریم قرآن میں سورہ عمران میں ارشاد فرماتے ہیں:-

     إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ  
    بے شک اللہ کے نزدیک(معتبر)دین اسلام ہے

    اللہ تبارک و تعالی نے اپنے حبیب کو آخری نبی بھی بنا کر بھیجا اس کے ساتھ ساتھ اسلام کو پسندیدہ اور معتبر دین بھی قرار دے دیا۔اور اپنے حبیب خاتم الانبیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی دین اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان کر دیا۔
    قرآن میں سورہ المائدہ آیت نمبر 3 میں رب کریم ارشاد فرماتے ہیں:-

    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا [المائدة:3] 

    آج کے دن ہم نے تمھارے لیے(اسلام)دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو مکمل کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

    سورہ المائدہ کی آیت میں دین کے مکمل ہو جانے سے مراد اسلام کو ابدی دین قرار دینا ھے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور پر وحی کا نزول نہیں ہو گا۔اس کے بعد اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا اور اس کا اظہار اپنے کلام پاک میں یوں فرمایا:-

    مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا(سورہ احزاب 40)

    مسلمانو ! ) محمد ( صلی۔اللہ۔علیہ۔وآلہ۔وسلم ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں ۔ ( ٣٥ ) اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
    • جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق جھوٹے مدعیان نبوت سر اٹھا لگے۔جن میں مسیلمہ کذاب سر فہرست تھا۔ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کی سرپرستی میں ان جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جنگ یمامہ لڑی جس میں مسیلمہ کذاب تو جہنم واصل ہوا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر پہرہ دینے کے لیے بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو گے۔ان کا شہادتوں سے گزر جانے کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ آقا نامدار کی ختم نبوت پر جو انگلی اٹھے گی وہ کاٹ کے رکھ دے گے۔
    • در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے، پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے،مثلاً حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس طرح پانچ نمازیں فرض تھیں آج بھی وہی ہیں، رمضان المبارک کے روزے، نصاب زکوٰۃ، حج وعمرہ کے ارکان، صدقہ فطر وعشر کانصاب، قربانی کا طریقہ، ایام عیدین سب اسی طرح ہے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا، یہ سب عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہے ورنہ اسلامی عقائد وارکان سلامت نہ رہتے، اسلامی عقائد وارکان کی سلامتی کا سب سے بڑا سبب عقیدہ ختم نبوت ہے چونکہ یہ عقیدہ اسلام کی عالمگیریت اور حفاظت کا ذریعہ ہے اس لیے دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے، ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوت میں سلیمہ کذاب سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا لیکن ہر دور میں قدرت نے ان سازشوں کو ناکام کیا ہے اور ان شاء اللہ العزیز قیامت تک یہ سازشیں ناکام ہوتی رہیں گی اور دین اسلام اور ختم نبوت کا پرچم سدا بلند رہے گا۔
    قادیانیت کا فتنہ انگریز نے مسلمانان برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے ہٹانے کے لیے مسلط کیا تھا۔1891میں جب مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعو ی کیا تو سب سے پہلے مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور سید نذیر حسین محدث دہلوی ؒ سمیت دو سو علماء کے دستخطوں سے متفقہ طور پر مرزا غلام قادیانی کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فتوی جاری کیا۔مرزاقادیانی سے سب سے پہلا مباہلہ جون 1893میں عید گاہ اہل حدیث امر تسر میں مولانا عبد الحق غزنوی ؒ نے کیا۔ حیات مسیح پر پہلا تحریری مناظرہ مونا بشیر احمد شہسوانی ؒ نے دہلی میں1894 میں کیا جہاں مرزا ملعون فرار اختیار کر گیا اس کے بعد سب سے پہلا کتابچہ مولانا اسماعیل علی گڑھی ؒ نے تحریر کیا سب سے پہلے کتاب کم عمری میں علامہ قاضی سلیمان منصور پوری ؒ نے لکھی جو کہ بعد میں شہرہ آفاق سیرت نگار کے طور پر مشہور ہوئے سب سے پہلے قادیان پہنچ کر مرزا غلام قادیانی اور مرزائیت کی دھجیاں اُڑانے والی عظیم شخصیت شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ کی تھی جن کو تمام مکاتب فکر فاتح قادیان کے لقب سے یاد کرتے ہیں یہی وہ مولانا ثناء اللہ امر تسری ؒ ہیں جن کے ساتھ مباہلہ کی دعا میں مرزا قادیانی ہلاک ہوکر جہنم واصل ہوا۔علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒ کی ’’القادیانیت ‘‘، ’’مرزائیت اور اسلام‘‘،عربی ،اُردو میں شائع کرکے عظیم کارنامہ سر انجام دیاعلمائے اہلحدیث، دیوبند ، بریلوی مکتب فکر کے مشائخ نے تحریک ختم نبوت میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جن کو بیان کیا جائے تو مکمل کتابچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔پاکستان وجود کے بعد 22 فروری 1974ء کو نشتر کالج کے ًطلبہ کا ایک گروپ ’’شمالی علاقہ جات‘‘ کی سیروتفریح کی غرض سے ملتان سے پشاور جانے والی گاڑی چناب ایکسپریس کے ذریعہ روانہ ہوا جب گاڑی ربوہ (چناب نگر) پہنچی تو مرزائیوں نے گاڑی میں مرزا قادیانی کا کفر والحاد پر مشتمل لٹریچر تقسیم کرنا شروع کردیا جس سے طلبہ اور قادیانیوں میں جھڑپ ہوتے ہوتے رہ گئی، 29 مئی 1974ء کو طلبہ چناب ایکسپریس کے ذریعے واپس آرہے تھے کہ گاڑی ربوہ ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے طلبہ پر حملہ کردیا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ خون میں نہا گئے جب گاڑی فیصل آباد پہنچی اور عوام نے نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوائوں کو اس زخمی حالت میں دیکھا تو وہ برداشت نہ کرسکے اور قادیانیت کے خلاف تحریک کا آغاز ہوگیا، یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ہر شخص ختم نبوت کا وکیل نظر آیا اور پورے ملک میں احتجاجی ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں کا سیلاب امڈ آیا، ختم نبوت کی برکت سے تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور اتفاق رائے سے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا صدر محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ اور سیکرٹری جنرل علامہ محمود احمد رضویؒ کو منتخب کرلیا گیا، علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک چلی اس تحریک میں آپ کے ہمراہ مفتی محمودؒ، مولاناغلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا سید ابو ذر بخاریؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا خواجہ خان محمدؒ، مولانا عبیداللہ انور، آغا شورش کشمیریؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، سید مودودیؒ، مولانا عبدالقادر روہڑیؒ، نوابزادہ نصراللہؒ، مظفر علی شمسیؒ اور دیگر اہم راہنما شامل تھے، حکومت تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگئی، قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی نمایندگی مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور دیگر کررہے تھے، مذکورہ حضرات نے شب و روز کی کوششوں سے وہ تمام لٹریچر جمع کیا جو خصوصی کمیٹی کے لیے ضروری تھا، شہداء ختم نبوت کا مقدس خون اور قائدین تحریک تحفظ ختم نبوت کی بے لوث قربانیاں رنگ لے آئیں، قومی اسمبلی نے مرزا ناصر پر 11 دن اور مرزائیت کی لاہوری شاخ کے امیر پر 7 گھنٹے مسلسل بحث کی، 7 ستمبر 1974ء کو وہ مبارک دن آ پہنچا جب قومی اسمبلی نے متفقہ طورپر دن 4بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قائدایوان کی حیثیت سے خصوصی خطاب کیا، عبدالحفیظ پیرزادہ نے اس سلسلے میں آئینی ترمیم کا تاریخی بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور اس عظیم کامیابی پر حزب اقتدار وحزب اختلاف خوشی ومسرت سے آپس میں بغل گیر ہوگئے، آغا شورش کشمیریؒ، علامہ محمود احمد رضویؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، اور علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کہا کرتے تھے کہ مولیٰ ’’تیری ادا پر قربان جائیں کہ تونے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا فیصلہ کسی چوک اور چوراہے میں نہیں کرایا بلکہ پارلیمنٹ میں کروایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے وہ دائرہ ا سلام سے خارج ہے۔آخر میں یہ ہی کہوں گا
    کون للکارے گا باطل کو تیرے لہجے میں