Baaghi TV

Category: اسلام

  • تجدیدِ عہد کا دن   تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    تجدیدِ عہد کا دن تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    تجدیدِ عہد کا دن
    تحریر ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    زندگی کے نظام میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جنہیں اگر سونے کے پانی سے بھی لکھا جائے تو ان کی اہمیت پوری نہیں ہوتی. مثلا اگر انسان امتحان میں کامیاب ہوجائے یا کاروبار ترقی کرنا شروع کردے، یا پھر اللہ تعالیٰ سالوں بعد کسی پیارے سے ملادے یا پھر اولاد جیسی نعمت حاصل ہو تو انسان ان دنوں کو کبھی نہیں بھولتا، اس کی یادوں میں وہ دن خوشیوں کے انمول دن ہوتے ہیں.
    ان سے کہیں زیادہ وہ عظیم ہے جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی گئی اور یقیناً وہ دن بھی بڑا ہی خوشی کا دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہوگا "اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، اور جو اس کے علاوہ دین لے کر آئے گا، قبول نہیں کیا جائے گا(مفہوم)” اسی طرح وہ دن بھی مسلمانوں کے نزدیک بڑا ہی خوبصورت دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس دین حنیف کی تکمیل کا اعلان کیا تھا.
    پاکستانی مسلمانوں کے لیے 6 ستمبر کے بعد 7 ستمبر بھی بڑا ہی جوش و جذبے سے بھرپور دن ہے جس دن انگریز کے لگائے گئے تھوہر کے درخت قادیانیت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا.
    عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے جس کا انکاری واجب القتل ہے، اور یہ کام مسلمان حکمرانوں کا اولین کام ہونا چاہیے. اگر اس عقیدے کے عقلی و نقلی دلائل کا جائزہ لیا جائے تو بے شمار ہیں، جنہیں اصطلاحی طور پر متواتر کہا جاتا ہے. اللہ تعالیٰ نے معنوی طور پر بھی توحید و رسالت اور قرآن مجید کو آفاقی اور عالمگیر قرار دیا ہے.
    جیسے قرآن مجید کی پہلی سورت سورۃ الفاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے لیے رب العالمين اور سورۃ الانبیاء میں آقائے دو جہاں کے لیے رحمۃ للعالمین اور خود قرآن مجید کو سورہ بقرہ میں ھدی للناس کہا گیا ہے. جس طرح اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی رب نہیں، قرآن کے بعد کوئی کتاب نہیں ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا. یہ آپ کی ساری دنیا کے لیے نبوت کا اعلان ہے.دیکھا جائے تو ارکان اسلام میں پہلا رکن شہادتین ختم نبوت کی دلیل ہے.
    کل شہداء صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ (جنگ یمامہ) کے شہداء کا جائزہ لیا جائے تو ختم نبوت کے لیے لڑی جانے والی اس جنگ میں 1200 صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم نے جام شہادت نوش کیا.جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی عقیدہ ختم نبوت سے محبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے.
    برصغیر میں جب انگریز نے مسلمانوں کو لڑانے کے لیے مختلف فتنے کھڑے کیے، ان میں قادیانیت کا فتنہ بھی تھا. اس وقت کے تمام علماء سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ثناء اللہ امرتسری، انور شاہ کشمیری، پیر جماعت علی شاہ وغیرہ نے متفقہ طور پر اس فتنے کو ختم کرنے لیے جدوجہد کی، یہاں تک مرتد مرزا مردود لعنۃ اللہ علیہ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مباہلے کی صورت میں اس دنیا سے اپنے ابدی ٹھکانے کی طرف روانہ ہوا اور مجاہد ختم نبوت ثناء اللہ امرتسری چالیس بعد تک بقید حیات رہے.اس کے علاوہ اب تک تمام مکاتب فکر کے علماء اپنی اپنی جگہ پر ختم نبوت کا دفاع کرتے چلے آرہے ہیں.
    آج کا دن 7 ستمبر 1974 کی یاد کا دن ہے، جب عقیدہ ختم نبوت کے انکاری اس فتنے کو غیر قانونی اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا. اس جدوجہد میں جہاں حکومت نے اپنا کردار ادا کیا وہیں اس میں علماء کا بھی بہت ہی شاندار کردار ہے.
    ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فتنے کا تعاقب کیا جائے، اور حکومت وقت بھی آئین کا پاس رکھتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرے. ختم نبوت میں نقب لگانے والوں کے لیے سخت سے سخت سزا متعین کی جائے اور ان کے بیرونی آقاؤں کو بھی منہ توڑ جواب دیا جائے.

  • گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    گاؤں کَمہَرِیا کی مسجد ،مُغَلیہ فَن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار

    یہ تینوں خوبصورت اور مضبوط گُنبد مسجد کے ہیں، یہ مسجد اُتّرپردیش کے ضلع سِدّھارتھ نگر، تھانہ ڈومریا گنج کے ایک گاؤں "کَمہَرِیا” میں ہے، آج میں حافظ یحیٰ صاحب سے ملاقات کے لئے اُن کے گھر گیا، اُن سے خوشگوار ملاقات ہوئی اور بڑی محبّت سے پیش آۓ، حافظ یحییٰ صاحب کے گھر سے مُتّصِل ہی یہ مسجد ہے، مسجد کو دیکھنے کے بعد لگا کہ یہ تو مُغَل فَنِّ تعمیر کی مسجد ہے، مسجد کی تعمیر کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ اِس کی تعمیر کا پتہ نہیں، یعنی یہ بہت ہی قدیم مسجد ہے، اِس طرح کی مسجدیں ہندوستان میں کئی جگہوں پر موجود ہیں، اِس طرح کی مسجدیں ٹھنڈ ہوتی ہیں، مسجد میں قدرتی ہوا کے لئے بہترین انتظام ہوتا ہے، چَھت کا پانی نیچے گِرنے کے لئے بھی تکنیکی اِنتظام ہوتا ہے، دیواریں کافی موٹی ہوتی ہیں، بابری مسجد کے طرز پر اِس مسجد کے بھی گُنبد ہیں، خاص بات یہ ہے کہ سالوں گزرنے کے بعد بھی دیواروں میں دراڑیں نہیں آئی ہیں اور نہ ہی کہیں سوراخ ہوا ہے کہ جس سے مسجد کے اندر پانی آۓ، مُغَل بادشاہوں نے پورے ہندوستان میں مسجدوں کی تعمیر کروائی، جن میں سے اِس طرح کی مسجدیں بھی شامل ہیں جو کئی گاؤں میں پائی جاتی ہیں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • صحابہ اکرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بولنے والوں پر لعنت نہ بھیجی جائے تو کیا کیا جائے؟  تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بولنے والوں پر لعنت نہ بھیجی جائے تو کیا کیا جائے؟ تحریر:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    وزیراعظم کے ٹویٹ پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلاف بکواس کرنے والے کو تو گرفتار نہ کیا گیا البتہ ایک محب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کو ملعون کہا تو اس کے خلاف پرچہ درج کردیا گیا۔ اب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خلاف بھونکنے والے کو کتا نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟؟

    اس وقت ملک میں سنی اکثریت پر زلفی بخاری، علی زیدی، شاہ محمود قریشی کی صورت میں رافضی مسلط ہیں جس کے نتیجے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف ملک بھر میں کھل کر بدزبانی کی جارہی ہے۔ حتی کہ کراچی میں یوم عاشورہ کے موقع پر ایک دریدہ دہن نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابوسفیان رضی اللہ عنہ پر برسرِ عام لعنت کی اور ٹی وی چینل پر لائیو نشر کیا گیا۔ نہ وہ ذاکر گرفتار ہوا اور نہ ہی وہ ٹی وی چینل بند ہوا۔

    ملک بھر کے بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کو مل کر سوچنا اور ناموس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے آگے آنا ہوگا۔
    اس موقع پر میں تحریک انصاف میں موجود اہل ایمان اور تحریک انصاف کا دفاع کرنے والے احباب سے سوال کرنے کی جرات کروں گا کہ کیا آپ تحریک انصاف کی حمایت اور دفاع اس لیے کیا تھا کہ وطن عزیز میں ایک گروہ کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانیاں کرتے رہیں اور انہیں روکنے والا کوئی بھی نہ ہو۔

    قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے بصد ادب و احترام گزارش کروں گا کہ ایسے لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اور وطن عزیز کے امن وامان کو تباہ کرنے اور فرقہ واریت پھیلا کر ملک کی سلامتی سے کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔

    ۔۔۔۔۔ عبدالرحمن ثاقب سکھر

  • انتہائی قدیم شہر کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انتہائی قدیم شہر کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پیٹرا (ایک کھویا ہوا شہر)

    Reference:- National Geographic, Petra, 2019
    "تیزی سے لرزنے والے رنگ سرخ ، سفید ، گلابی ، اور ریت کے پتھروں کے چٹانوں پر بنی ہوئی نقش و نگار والا اردن کا ایک قبل از تاریخ شہر "پیٹرا” جو سینکڑوں سالوں سے مغربی دنیا سے "کھو گیا” تھا۔
    یہ اردن کی ہاشم مملکت کے جنوب مغربی کونے میں اب تک ناہموار صحرائی گھاٹیوں اور پہاڑوں کے درمیان واقع ہے،

    پیٹرا ایک زمانے میں ایک ترقی پزیر تجارتی مرکز تھا اور 400 بی-سی(قبل از مسیح) اور 106 سن عیسوی کے درمیان نباطینی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔

    یہ شہر صدیوں سے ویران ہوا پڑا ہے اور برباد شدہ ہے۔
    1800 کی دہائی کے شروع میں ایک یورپی سیاح نے اپنا بھیس ایک بدو میں بدلا اور اس پراسرار مقام میں خفیہ طور پر داخل ہوگیا۔”

    پیٹرا پہلے پتھر کے دور میں آباد تھا۔

    Reference:- Wikipedia, Petra, 2019
    ” اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ پیٹرا 9000 بی-سی (قبل از مسیح) کے شروع میں ہی آباد ہو گیا تھا۔ اور یہ ممکنہ طور پر چوتھی صدی بی-سی (قبل از مسیح) میں نباطینی سلطنت کے دارالحکومت کے طور پر قیام پذیر ہوا۔ نباطینی خانہ بدوش عرب ہوا کرتے تھے جنہوں نے پیٹرا کے نزدیکی تجارتی راستوں میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اسے ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر قائم کیا۔ اس شہر تک رسائی 1.2 کلو میٹر لمبی گھاٹی کے ذریعے کی جاتی ہے جسکا نام سک(Siq) ہے، جو سیدھے خزانے کی طرف جاتی ہے۔ یہ پتھر کو کاٹنے کے فن تعمیر اور پانی کے نل کے نظام کی وجہ سے مشہور ہے۔”

    یہ شہر پتھر کو کاٹنے کے فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہے۔ سب سے مشہور عمارت خزانے کی ہے جو پہلی صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔ درج ذیل تصویر دیکھیں۔

    یہ بہت ہی جدید قسم کے ڈیزائن ہیں اور پانی کے نل کا نظام بھی جو ظاہری بات ہے کہ انکی پہلی عمارت نہیں ہوگی جو انہوں نے بنائی ہو، ان سے پچھلی نسلوں نے ان سے بھی بھاری حیران کر دینے والے گھر تعمیر کیے۔
    اور پانی کے نل کے نظام کی تصویر بھی درج ذیل ہے۔

    پیٹرا میں قدیم مکانات بھی بغیر کسی جادو کے پتھر میں بنے ہوئے تھے۔

    جبکہ آثار قدیمہ کے ماہرین جہاں پیٹرا کی خوبصورت نقش و نگار تلاش کر رہے تھے وہاں انہیں ایک سیدھی سل(پتھر کی پلیٹ) ملی جس پہ اللہ لکھا ہوا تھا۔

    Reference:- Wikipedia, Petra, 2019
    "نباطینیوں نے اسلام سے پہلے کے دور کے عرب کے ماننے والے خداوں اور ساتھ ہی معزز بادشاہوں کی پوجا کی۔
    لفظ Qosmilk(جسکا مطلب بادشاہ ہے) کے ذریعے نکلنے والا لفظ قوس-اللہ جسکا مطلب ” قوس اللہ ہے” یا "قوس خدا ہے” کے نام سے منسوب ایک پتھر کی پلیٹ پیٹرا میں پائی گئی۔ لفظ Qos جو ہے وہ Kaush, Qaush جسکا مطلب ہے "پرانے ادومیوں(عیسی کے قبیلے یا نسل کے لوگوں) کا خدا” کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ سل(اسٹیل) سینگدار ہے اور پیٹرا کے قریب واقعہ Edomite Tawilan (غالبا کوئی علاقہ ہے) سے مہر شدہ ایک ستارہ اور ہلال دکھاتا ہے۔ دونوں چاند دیوتا کے مطابق ہیں۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ اسکے ذکر میں دیر حاران(ترکی کے شہر) کے ساتھ تجارت کے نتیجے میں ہوسکتی ہے۔ Qos کی نوعیت کے بارے میں تاحال بحث جاری ہے جسکی شناخت شکار کرنے والا خدا اور قوس و قزاح (موسم کا خدا) کے ساتھ کی جاتی ہے حالانکہ اسٹیل کے اوپر کا ہلال بھی ایک خدا ہے(ان کے نزدیک)۔
    سینائی اور دوسری جگہوں میں نباطینی تحریروں میں وسیع حوالاجات کے ساتھ نام پیش کیے گئے ہیں جن میں اللہ، EI اور الات(خدا اور خدائی) اور علاقی حوالہ جات کے ساتھ العزہ، بعل اور منات لکھے گئے تھے۔ سینائی میں الات کا نام بھی پایا گیا تھا جو جنوبی عربی کی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ لفظ Allah خاص طور پر Garm-Allahi یعنی God Decided(یونانی گیرامیلوس) اور Aush-Allahi یعنی God Convenant(یونانی اوسلوس) سے لیا گیا ہے۔ ہمیں Shalm-lahi جسکا مطلب "اللہ امن ہے” اور Shalm-Allat جسکا مطلب "دیوی کا امن” ہے دونوں ملے ہیں۔ ہمیں یہ دونوں الفاظ Amat-Allahi جسکا مطلب "خدا کا ملازم” اور Halaf-Alahi جسکا مطلب "اللہ کا جانشین” بھی ملے ہیں۔”

    ان الفاظ میں لفظ Allah بھی پایا گیا تھا جسکا مطلب ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے خبردار کیے گئے تھے جبکہ انہوں نے اللہ کے علاوہ غیر اللہ کی پوجا رکھنا جاری رکھا۔
    تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پتھروں میں اپنے گھر بنائے، اللہ کی طرف سے خبردار کیے گئے لیکن انہوں نے اپنے خدا کے پیغام کو نظر انداز کیا اور یہ صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے۔
    مگر اس تحقیق کی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ

    Quran 15:80-83

    "اور بے شک پتھر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔
    اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں بھی دی تھیں پر وہ ان سے روگردانی کرتے تھے۔
    اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں۔
    پھر انہیں صبح کے وقت سخت آواز نے آ پکڑا۔
    پھر ان کے دنیاوی ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔”

    پتھر والے لوگ وہ تھے جو پہاڑوں اور چٹانوں میں اپنے گھر بنایا کرتے تھے، یہ خبردار کیے گئے لیکن انہوں نے خدا کے پیغام کو نظر انداز کیا، تو فرشتوں نے اپنی چیخ سے انہیں ہلاک کر دیا، اسکا مطلب ہوا کہ انکے گھر تباہ نہیں ہوئے۔

    بلکل یہی بات ہمیں اس شہر پیٹرا میں ملی۔
    پتھروں کے دور کا شہر جس میں ابھی بھی لوگ پتھروں میں گھر تراش رہے ہیں اور وہ لوگ خبردار کیے گئے تھے۔

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے پتھروں کے دور کا شہر پیٹرا کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • نبی کا یارِ غار  بقلم:جویریہ بتول

    نبی کا یارِ غار بقلم:جویریہ بتول

    نبی کا یارِ غار…
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    نبی کو جس سے پیار تھا…
    سب سے پہلے قبول کر کے…
    جو اسلام کا وفادار تھا…
    لقب صدیق کا تھا پایا…
    سچائی کو ہرسو پھیلایا…
    حلقۂ اسلام میں جس نے…
    کئی معتبر لوگوں کو لایا…
    صداقت جس کا شعار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    ہر اک ستم کے سامنے…
    جو ڈٹا ہوا اک پہاڑ تھا…
    سفر،حضر میں ساتھ رہا…
    نہ ادھر گیا، نہ اُدھر گیا…
    ہجرت کی راہوں پر بھی…
    ساتھ ساتھ چلا تھا جو…
    جسم پہ ڈنگ کھا کر بھی.
    ذرا بھی نہ ہلا تھا جو…
    وفا کا جو شہ سوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…!!!
    جو مصلٰی امامت پہ رہا…
    نبی کی زندگی میں کھڑا…
    جنت کے ہر دروازے سے جائے گا بلایا…
    صدیق کے بارے نبی نے یہ فرمایا…
    ہر لمحہ جو غم خوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    بند کر دو ساری کھڑکیاں…
    ایک مگر کھُلی رہے…
    صدیق کے گھر کی طرف سے…
    وفاؤں کی خوشبو گھُلی رہے…
    فتنۂ اتداد پر جو ننگی تلوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    ہر ایک کا بدلہ چکا دیا ہے…
    احسانات کا بار اتار دیا ہے…
    مگر اک صدیق کا ہے باقی…
    جو بہت جزاؤں کا حقدار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    جو واسطے شجرِ اسلام کے…
    تا قیامت رہتی فصلِ دوام کے…
    لا الہ الا اللہ کے پھیلتے پیام کے…
    کیاخوب صداقت کی بہار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…!!!
    نبی کو جس سے پیار تھا…!!!
    (رضی اللّٰہ عنہ)۔
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • قوت اسلام حضرت عمر فاروق   از قلم:  مسز ناصر ہاشمی

    قوت اسلام حضرت عمر فاروق از قلم: مسز ناصر ہاشمی

    قوت اسلام۔۔۔۔۔حضرت عمر فاروق
    از قلم: مسز ناصر ہاشمی

    مبارک تھی وہ گھڑی جب عمر ابن خطاب آۓ
    خوش ہو اٹھے نبی مکرّمﷺ،صحابہ بھی کھلکھلاۓ

    اسلام کے دائرے میں رہنے کا اعلان جو کیا
    صحابہ نے جوش محبّت میں لگا نعرہ دیا

    گونج اٹھی ہر سو نعرہ اللہ‎ اکبر کی صدا
    صفا و مروہ کی پہاڑیوں سے ٹکرائ یہ ادا

    خدا نے اپنے نبی سے وعدہ وفا کیا
    دعاؤں کے اس بدل میں عمر کو عطا کیا

    جری، جواں، بہادر سے ملی تقویت اسلام کو
    ہوۓ حوصلے سر بلند ملی حمیت اسلام کو

    بلال کو دیا حکم با آواز بلند ازاں کہیں
    وحدہ لاشریک وہی، رب کے سوا ہم نا ڈریں

    طواف کعبہ کرتے کرتے بولے عمر لحیم و شحیم
    سامنے آۓ میرے جو کروانا چاہے بچے یتیم

    رعب کا یہ عالَم کہ شیطاں ان سے بھاگے
    عمر پیچھے پیچھے وہ دوڑے آگے آگے

    اسلام کی سلطنت کو وسعت دی آپ نے
    ۲۲۰۰ مربع میل پر حکومت بنائی آپ نے

    فاروق کے لقب کی بھی سمجھ آئ اب
    عدل و انصاف کے کٹہرے میں امیر غریب سب

    حق و باطل کو أ پ نےممتاز کر کے دکھایا
    کفر کو کیا زیر،دین محمدی کا علم لہرایا

    یا الہیﷻ،پیدا کر دے فاروق جیسے، خوف کفرپہ طاری ہو
    دب جائیں ساری قومیں اور اسلام کا سکہ جاری ہو
    (آمین)

  • لہو سے رنگیں چند اوراق  اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے  ازقلم:عظمیٰ ناصر ہاشمی

    لہو سے رنگیں چند اوراق اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے ازقلم:عظمیٰ ناصر ہاشمی

    لہو سے رنگیں چند اوراق
    اسلامی تاریخ کے جھروکوں سے

    از قلم :عظمیٰ ناصر ہاشمی

    اوائل نبوت کا زمانہ ہے۔میرے آقا رسالت پر فائز کیے جا چکے ہیں۔خفیہ تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری ہے آغاز وحی کے ساتھ ہی کفر و شرک اور حق و باطل کی کشمکش شروع ہوگئی۔
    کفّار قریش نے مکہ کے ان تمام قبائل کو تکلیف دینا شروع کر دیں جو آپ ﷺپر ایمان لا رہے تھے پہلے پہل اسلام کا اظہار کرنے والوں میں پہلے سات افراد ابوبکر ،عمار ان کی والدہ سمیہ، صہیب ، بلال اور مقداد تھے
    ⚡حضرت بلال کا یہ حال تھا کہ ان کے مالک نے انہیں اپنے دو بیٹوں کے سپرد کردیا جو انہیں مکے کی سڑکوں پر ہر طرف گھسیٹنے پھرتے تھے انہیں تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھے گئے۔لیکن وہ خدا کے عشق میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ ان کی زبان سے سوائے احد احد کے سوا کچھ نہیں نکلتا تھا۔
    ⚡ آغاز اسلام کے پیروکاروں کو بارہا زنجیریں پہنا کر تپتی زمین پر کھڑا رکھا گیا لیکن ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی ایک دن دوپہر میں مشرکین نے انہیں عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا آپ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے جب ان کے قریب آۓ تو فرمایا الیاس صبر کرو اللہ تعالی نے تم سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسلام میں شہیدہونے والی سب سے پہلی خاتون ام عمار یعنی سمیہ رضی اللہ تعالی عنہا تھی جن کو ابوجہل نے ان کے دل میں تیز دھار خنجر جیسا ہتھیار مار کر ہلاک کردیا ۔
    ⚡ایک بار اڑتیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھما جن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ شامل تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار اسلام کی اجازت طلب کی آپ ﷺ نے اجازت دے دی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ مسلمانوں کو لے کر مسجد میں گئے اور تقریر کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تقریر سنتے ہیں کفار نے مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ سب سے زیادہ چوٹیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو آئیں چہرے پر اتنی ضربات تھیں کہ پہچان مشکل ہوگئ ان کے جانبر ہونے کی امید نہ تھی ان کی یہ حالت دیکھ کر نبی کریمﷺ آبدیدہ ہوگئے۔
    ⚡شعب ابی طالب میں جس کی مدت تقریبا تین سال تھی اس میں محصور مسلمانوں پر کفار نے ظلم کی انتہا کردی مسلمانوں کے کمسن بچوں کی بھوک پیاس سے بلکنے کی آوازیں وہاں سے دور تک سنائی دیتی تھی ۔

    ⚡ہجرت حبشہ کے وقت آپ کی بیٹی زینب کو برے طریقے سے شہید کر دیا گیا وہ چٹان پر گریں اور ان کا حمل ساقط ہوگیا۔پھر مسلسل تکلیف میں رہنے کے بعد فوت ہو گئی

    ⚡منظر بدلتا ہے اسلام کو کچھ قوت حاصل ہوتی ہے۔آپ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آچکے ہیں مسلمانوں کی تعداد بڑھتے ہی جہاد کا حکم نازل ہو گیا ۔چار بڑے غزوات اور سریا میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ آپ کے رشتہ دار بھی شہید کر دیئے گئے جنگ بدر میں مسلمانوں پر اللہ کا خاص کرم تھا نشاندہی فرشتوں کے ساتھ انہیں نصرت دی گئی اور فتح و کامرانی ان کا مقدر بنیں لیکن

    ⚡جنگ احد میں مسلمانوں کے لئے آزمائش بن گئی اس جنگ میں نبی کریمﷺکا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا اور سامنے کے دندان مبارک ٹوٹ گئے۔
    ⚡ آپ کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک وحشی حبشی نے شہید کر دیا۔ہندہ بنت عتبہ حضرت حمزہ کی شہادت کی خبر سن کر وحشیوں کی طرح دوڑتی ہوئی آئی اور ان کا سینہ چاک کرکے کلیجہ نکالا اور جب چبانے لگی جب نہ نکالا گیا تو اسے چبا کر تھوک دیا حضرت محمدﷺ حمزہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر کھڑے ہوگئے اور آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ ایسی مصیبت جیسی حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ پر پڑی دنیا میں کسی پر نا پڑی ہو گی۔حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش کی حالت دیکھ کر حضرت رضی اللہ تعالی عنہا صفیہ جوحضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن تھیں فطرتا زاروقطار رونے لگیں لیکن انہوں نے بھی اسے رضائے الہی کہہ کر بڑے صبر کا ثبوت دیا۔
    ⚡ غزوہ موتہ میں جس روز جعفر بن ابی طالب شہید ہوئے اسی روز ان حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جعفر کو بلا کر اپنی گود میں بٹھایا ان کی پیشانی اور آنکھوں پر بوسے دیے جبکہ آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
    ⚡نبی اکرمﷺ کے بیٹے ابراہیم جو ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے تھے بچپن میں ہی فوت ہو گئے آپﷺ ان پر جھک کر روۓ یہاں تک کہ آپ کے دونوں جبڑے اور دونوں پہلو ہلنے لگے اور پھر فرمایا آنکھیں روتی ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم وہ بات نہیں کرتے جو رب کو ناراض کر دے۔
    یہ تو چند واقعات ہیں جب کہ نبیﷺ کی زندگی غم و الم سے ہی عبارت تھی آپ کی آنکھیں ہنجو برساتیں کیونکہ آپﷺ جیسا نرم دل انسان دنیا میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جنہیں رحمت اللعالمین کا خطاب دیا گیا اپنے بیٹے ابراہیم جو چھ ماہ کے تھے ان کی وفات پر آپﷺ رونے لگے تو ایک صحابی نے کہا یا نبی یہ آنسو کیسے آپﷺ نے فرمایا آنسو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں لیکن زبان سے ہم وہی کہیں گے جو اللہ چاہے گا یعنی کہ آپ نے زبان سے کبھی کفریہ کلمات نہیں کہے اور نہ ہی ہاتھوں کو سینے پر مارا۔
    ⚡مزید تاریخ میں آگے بڑھیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بڑے افہام و تفہیم اور طاقت کے وار سے ختم کیے
    ⚡۔سن 13 ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا دور خلافت ہمیں یاد ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنی جرات و بہادری اور طاقت سے بیت المقدس کے علاوہ 22 لاکھ مربع میل پر اسلامی سلطنت کو وسعت دی اور بہت سی اصلاحات کی آپ کو رومی گرامی گھرانے کے ایک مجوسی ابو لؤلؤہ فیروز نے 26 ذی الحجہ کو آپ پر دو دھارے خنجر سے وار کیے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو مسجد سے اٹھا کر گھر لایا گیا تین دن کے بعد آپ وفات پا گئے اور آپ کو حجرہ نبویہ میں یکم محرم کو دفن کیا گیا اگر شریعت اسلامیہ میں ماتم کی اجازت ہوتی تو دنیا اس بے باک اور نڈر شخصیت پرصدیوں نوحہ کرتی۔
    ⚡سن 24 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی گئی آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے 24 تا 35 تک نظام خلافت احسن انداز سے چلا یا پھر کچھ شر پسند لوگوں نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت سے بغاوت کر دی اور عوام کو بھی اس بات پر اکسایا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو چالیس دن کے لیے گھر میں قید کر دیا گیا آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا کھانا اور پانی بند کر دیا گیا ذوالقعدہ کے آخر سے لے کر آٹھ ذوالحجہ تک مسلسل محاصرہ رہا۔ انصار و مہاجرین میں سے 700 کے قریب لوگ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے لیکن آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے سب کو واپس بھیج دیا اور انہیں قسم دی کہ وہ اپنے ہاتھ کو روکے رکھیں گے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺ نے فرمایا اے عثمان ہمارے پاس افطاری کرنا بس آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی دن روزہ رکھا اور باغی لوگ دروازوں اور دیواروں سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر داخل ہو گئے اور اسی روز آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا گیا۔اسود بن حمران نامی شخص نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سینے پر برچھا مارا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کر دیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت قرآن کی تلاوت کر رہے تھے
    حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے آخر کا زمانہ فتنے سے بھر گیا اور بہت سے کبار صحابہ اس فتنے سے الگ رہے کیونکہ اس دور خوارج کی جماعت نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا گہراؤ کر لیا تھا۔18 ذی الحجہ کو جمعہ کے روز عثمان رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوگئے اور ذوالحجہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مسند خلافت پر فائز ہوگئے۔

    ⚡ خوارج کے بارے میں متفق علیہ کی حدیث ہے کہ لوگوں کے انتشار کے وقت خوارج نکلیں گے اور انہیں دو فرقوں میں سے بہتر فرقہ قتل کرے گا۔ان خوارجیوں میں سے ہی ایک شخص ابن ملجم تھا جب سترہ رمضان کی صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ باہر نکلے تو اس نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سر پر تلوار ماری تو آپ کے سر سے خون آپ کی داڑھی پر بہنے لگا ۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو گھر لایا گیا۔حتی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہا 17 رمضان 40 ہجری کو شہید ہو گئے۔

    ⚡تاریخ پر مزید نظر دوڑائیں تو 61 ہجری کا واقعہ یاد آ جاتا ہےجب امیر معاویہ کی وفات ہوگئی تو یزید بن معاویہ نے خلافت سنبھالی اس نے تمام امراءاور کبار صحابہ کو اپنی بیعت کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت امام حسین نے اسے قبول نہ کیا اور ایسا آپ نے عراقی عوام کی طرف سے آنے والے خطوط کی وجہ سے کیا جو آپ کو وہاں بلا رہے تھے آپ اپنے اہل و عیال اور مکہ سے لے کر روانہ ہوگئے جب جب آپ کربلا کے مقام پر پہنچے تو ابن زیاد نے چار ہزار فوج کے ساتھ آپ کو گھیر لیا اس نے نہ صرف آپ کے خیموں کو آگ لگا دی بلکہ ایک ایک کر کے اہل بیت کو بھی شہید کر ڈالا آپ کو شہیدکر کے آپ کا سر یزید کے پاس لے آیا اسلام کی تاریخ میں ایسا اندوہناک واقعہ دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔اور ظالم کے حوصلے پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے جس نے اپنی فوج بالخصوص شمر کے ساتھ مل کر نواسہ رسول کے نانا کی بھی لاج نہ رکھی۔

    ⚡73 ہجری میں میں حجاج بن یوسف (اللہ اس کا بھلا نہ کرے) ذوالحجہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا ۔پانچ ماہ 17 راتوں تک محاصرہ کیے رکھا اور جمادی الاول میں انہیں قتل کردیا گیا اور آپ کے جسم کو ایک گھاٹی پر لٹکا دیا ۔

    مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور تعصب نے اسلامی حکومت کو بہت نقصان پہنچایا ۔ اور ہم نے اس راہ میں بہت سے نایاب ہیرے بھی کھو دیے۔ آپس میں مسلمانوں کے انتشار و افتراق کی وجہ سے چنگیز خان’ ہلاکو خان ‘فرنگیوں اور تاتاریوں کو مسلمانوں پر چڑھنے کا موقع ملا ۔بقول اس شعر کے ۔
    دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
    لوگوں نے میرے گھر میں رستے بنا لیے
    ⚡617 میں چنگیز خان نے اپنے ساتھی تاتاریوں کے ساتھ مل کر چین کے دور دراز علاقوں سے لے کر بلا د عراق اور بہت سے مسلم ممالک پر قبضہ کرلیا وہ جس شہر میں داخل ہوتے سب کو قتل کر دیتے تھے سامان لوٹ کر اسے تلف کر دیتے مسلمانوں کے خزانے سے ریشم اکٹھا کر لیتے اور جب ان سے نہ اٹھایا جاتا تو اسے آگ لگاتے اور پھر تماشا دیکھتے ۔
    ⚡656ھ میں تاتاریوں نے بغداد سے جنگ کی مسلسل چالیس روز تک ان کی تلوار مسلمانوں پر چلتی رہی اس معرکہ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کیا گیا حتیٰ کہ گلیوں میں خون کے نالے جاری ہوگئے اور دریا سرخ ہوگیا اس طرح تاتاریوں نے بنو عباس کی شاندار حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔
    ⚡مزید آگے بڑھتے جائیں تو1857 میں بھی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور
    ⚡ 1947 میں ہجرت پاکستان کے وقت مسلمانوں کی خون میں لتھڑی ہوئی لاشیں آزادی کا تحفہ بنا کر پاکستان میں بھیجی گئیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ تاریخ کے یہ لہو لہو اوراق ہمارے لئے عبرت کا باعث ہیں نہ کہ تعصب اور انتشار کا۔ اگرہم ماتم کی بات کریں (جو کہ اسلام میں ممنوع ہے )تو پھر ہم سارا سال ہی ماتم کرتے رہیں کیوں کہ اسلامی تاریخ میں کوئی مہینہ بھی ظلم و جور سے خالی نہیں تو تاریخ سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ۔ساتھ ہی ساتھ صبر و تحمل اور اللہ سے استعانت مانگنے کی ضرورت ہے ان تمام حالات میں ہماری نظر اللہ اور اس کے رسول پر ہونی چاہیے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول
    اور ایک آیت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔
    غور و تدبر کرنے کے لئے قرآن کی یہ آیت ہی کافی ہے
    ⚡واستعینوا بالصبر والصلوہ اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو
    اور اگلی ایک اور آیت میں ہے کہ البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف بھوک مال اور ثمرا ت کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے سورۃ (البقرہ )

    دورے حاضر میں تفرقہ بازی سے زیادہ کفر کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم غلام مسلمانوں کو پنجہ غلامی سے چھڑا سکیں۔
    جب ہم اللہ تعالی کے حکم پر چلیں گے تو وہ ہماری مدد ضرور کرے گا اور غیبی مدد سے حق پر چلنے والوں کو باطل پر فتح دے گا ۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور صحیح سنت رسول زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
    *******

  • خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے  تحریر:بلال شوکت آزاد

    خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے تحریر:بلال شوکت آزاد

    خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔”

    آپ نے خلافت و ملوکیت پڑھ لی, آپ نے سانحہ کربلا پڑھ لی, آپ نے مرزا جہلمی اور مولوی اسحاق جہالوی کو سن لیا اور آپ نے فیسبک پر مختلف بزعم خویش ذاکرین و قصہ خوانوں کی کہانیاں سن لیں تو کیا آپ کے پاس لائسنس آگیا ہے کہ آپ عدالت لگا کر قاضی بن جائیں اور گڑے مردے اکھاڑ کر چودہ سو سال سے دہکتی بلکہ صاف کہوں تو دہکائی جانے والی آگ میں تیل ڈالنے کی ذمہ داری ادا کرنا شروع کردیں؟

    کتب میں دونوں نہیں بلکہ تینوں جانب کی کہانیاں اور قصے درج ہیں لیکن ہر ایک کے لیے دو جانب کی کہانیاں اور قصے دیوانے کا خواب اور من گھڑت ہے (یہ فیکٹ ہے)۔

    لہذا ایسے میں ہمیں مشترکات پر اکھٹا ہونا اور لوگوں کو جمع کرنا چاہیے نا کہ متفرقات میں الجھ اور الجھا کر فساد فی الارض کی وجہ بننا چاہیے۔

    ہمیں ان دس دنوں میں اگر کچھ نہ کچھ لازمی کرنا ہی ہے تو حضرت حسین رض بن علی رض کی تعلیمات (جو کہ وہی ہیں جو آنحضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ہیں) اور سیرت کا مطالعہ اور بیان کرنا چاہیئے۔

    واللہ یہ تو کسی کتاب میں نہیں پڑھا یا کسی معلم سے نہیں سنا کہ قبر میں اہلبیت رض اور صحابہ رض کی بابت سوال ہونگے البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بابت عدالت لگے گی یہ ضرور بارہا پڑھا اور سنا ہے لہذا ایک ایسے غیر حل شدہ مسئلے بلکہ یہ کہوں کہ معمے کے حل میں دس دن یا پورا سال ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے سے بہتر ہے کہ مشترکات پر متحد ہوکر صدیقی, عمری, عثمانی, علوی, حسنی, حسینی اور اموی تقسیم سے بچ بچا کر نکلا جائے اور صرف محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم بننے اور بنانے پر اکتفاء کیا جائے۔

    آپ میں سے کسی کو 80 سال قبل کے واقعات کا کامل علم یا تصدیق نہیں ہوگی اور نہ ہوسکتی ہے جبکہ دنیا تب صنعتی اور جدید انقلاب کے دروازے میں داخل ہوچکی تھی, ایسے میں آپ اور میں چودہ سو سال پہلے کے واقعات کا کامل علم یا تصدیق رکھنے کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں اور یہ کیونکر ممکن ہو جبکہ یہاں احادیث کی سند اور صحت تک پر سوال اور اعتراضات موجود ہیں تو وہاں تاریخ کیونکر مستند اور مکمل ہوگی اور ہوسکتی ہے؟

    بہرکیف کربلا میں حق و باطل کا معرکہ بپا ہوا تھا, نہتوں پر ظلم و ستم ہوا تھا, خانوادہ رسول اللہ کا بہیمانہ قتل ہوا تھا, سرزمین اسلام پر قیمتی لہو گرا تھا اور اسلام و امت مسلمہ میں تاقیامت تفرقہ اور نفرت پر مبنی گروہوں کے جنم کا آغاز ہوا تھا۔ ۔ ۔ یہ وہ سچائیاں ہیں جن کا انکار ممکن نہیں لیکن معاملات اور حقائق کیا تھے, کیا ہیں اور کیا دریافت ہونگے ان پر ہم کاملیت اور مصدقہ کی مہر غلو اور جانبداری کا مظاہرہ کرکے ثبت کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں پر حقیقتاً ایسا ممکن نظر نہیں آتا کہ ہماری ثبت شدہ مہر سے معاملات حل ہوسکیں یا ختم ہوسکیں۔

    جو مسئلہ یا معمہ چودہ سو سال سے حل نہیں ہوسکا اس پر دانشوری بگھارنا اور "تو کافر میں مومن” والے بحث و مباحث کا سراسر کوئی فائدہ اور ضرورت نہیں۔

    آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایک مرد مومن کا قول ہے کہ

    "خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔”

    لہذا خاموش رہ لیں اور اللہ پر اس مسئلے یا معمے کا حل چھوڑ دیں۔ ۔ ۔ واللہ روز قیامت صرف قیامت کا ہی دن نہیں ہوگا بلکہ ایک سرپرائز ڈے ہوگا جہاں ایسے ایسے سرپرائز ملیں گے کہ زمین پر موجود ہر تیس مار خاں اس دن انگشتِ بدنداں ہوگا۔

    بندے بن جاؤ فیسبکی مومنوں بندے بن جاؤ۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • انسان کا آسمان میں پہنچنے کے متعلق قرآن میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان کا آسمان میں پہنچنے کے متعلق قرآن میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان کا آسمان پہ پہنچنا۔

    1400 سال پہلے انسان اتنی اونچائی تک ہی پہنچ سکتا تھا جتنا وہ اچھل سکتا تھا۔ مگر قرآن نے تبھی بتا دیا تھا کہ ایک دن انسان آسمان پہ پہنچ جائے گا۔

    Quran 29:22

    اور تم زمین اور "آسمان میں” (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے، اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

    یعنی تم زمین کے ساتھ ساتھ آسمان میں بھی پہنچ جاو گے لیکن وہاں پہنچ کر بھی تم اللہ کی قدرت سے نہیں بچ پاو گے۔

    ایک اور جگہ فرمایا
    Quran 84:19

    کہ تم ایک تہہ سے دوسری تہہ کی سواری کرو گے۔

    یہ "Tabak طَبَقٍ” ایک اسم ہے جس کے معنی "پرت یا تہہ” ہے، اور یہ لفظ اڑنے والے قالینوں کے افسانوں سے اخذ کیا گیا ہے،

    اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ اڑنے والے ہوائی جہاذ کے متعلق ہے۔ کیونکہ حقیقت میں ایسے قالین موجود ہی نہیں ہیں۔

    اس ایک لفظ کے کئی مطلب ہیں
    ناون میں اسے لیئر کہا جاتا ہے
    جسکا مطلب ہوتا ہے پرت یا تہہ،

    اسے اڑتے قالینوں کے افسانوں سے اخذ کیا جاتا ہے،
    اس لحاظ سے اسکا اشارہ جہازوں کی اڑتی پرت کی طرف ہوا۔
    کیونکہ حقیقت میں اڑنے والے قالین موجود نہیں ہیں
    بلکہ جہاز موجود ہیں۔

    یہاں اڑتی تہہ کی طرف اشارہ ہے

    وہ جہاز بھی ہو سکتے،اآ

    اڑتی گاڑیاں بھی ہو سکتیں کیونکہ کہا جاتا ہے کچھ سالوں سے اڑتی گاڑیاں موجود ہوں گی۔

    اسکا تیسرا مطلب خلائی جہاز ہیں جو آسمانوں کو چیرتے چلے گئے سپیس میں،
    واللہ اعلم

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا تھا کہ انسان آسمانوں پہ پہنچ جائے گا؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    فنگر پرنٹس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہر ایک کے انگلیوں کے نشانات مختلف ہوتے ہیں۔

    ہم سب کے انگلیوں کے نشانات ہیں جو مختلف ہیں۔ حتی کہ یکساں جڑواں بچوں کے نشانات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ جبکہ 1400 سال پہلے کوئی بھی یہ بات نہیں جانتا تھا۔ مگر قرآن میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ اللہ قیامت کے دن انسانوں کو دوبارہ سے صحیح سالم زندہ کرے گا یہاں تک کے انکی انگلیوں کے نشانات بھی پورے ہوں گے۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ یہ وہ نشانات ہیں جو ہر ایک انسان کے مختلف ہوتے ہیں۔

    Quran 75:04

     (القیامہ 4#)
    ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور پور(نشانات) درست کر دیں۔

    قیامت کے دن اللہ ہمارے جسموں کو پورا پورا دوبارہ بنا دے گا یہاں تک کہ ہماری انگلیوں کے نشانات کو بھی۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ انگلیوں پہ کچھ انوکھی(یونیک) چیز بھی موجود ہے؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!