Baaghi TV

Category: اسلام

  • ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی  تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی
    تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو نظریے کی بنیاد پہ قائم ہوئی ہے اور وہ نظریہ اسلام کا نظریہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نازل فرمایا ہے. اسلام کی سچائی یا نظریہ پاکستان کی سچائی اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتی جب تک آپ اس کے تعمیری کرداروں کو دل سے سچا، امانت دار اور مخلص قبول نہیں کرلیتے. ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی چیز کے وجود کا تو آپ اقرار کریں اور اس کے بنانے والے یا اس پر محنت کرنے والے کا انکار کردیں.
    اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے، جس طرح اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے اس دین کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والوں کے بھی بے شمار فضائل بیان کیے ہیں. بلکہ ان کو تسلیم کرنا اور ان کی طرح ایمان لانا ہی قابل قبول ہے ورنہ آپ کے قول و عمل کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے. لیکن کچھ بدبخت حرمت والے عظیم مہینے میں بھی ان ہستیوں کی توہین، تذلیل کررہے ہیں حتی کہ ان کی توہین کو اپنی مذہبی عبادت بنا رکھا ہے اور یہ عمل ان لوگوں کے ساتھ کیا جارہا ہے جنہوں نے اپنا مال، جان، خون اور اولاد بھی اسلام کی تعمیر و ترقی لٹادی.
    بقول شاعر
    لٹا دے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہیے.
    انہوں نے تو اپنے آپ کو کچھ سمجھا ہی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی میں سب کچھ قربان کردیا. اس مہینے کی تعظیم میں یہودی، مشرک بھی قتل و غارت، لوٹ مار اور ایسا کو کوئی کام نہیں کرتے تھے کرتے تھے جو حرمت والے مہینوں کی شان کے خلاف ہو.
    لیکن ملکِ پاکستان جو نظریہ اسلام کی بنیاد پہ بنا اس کے دارالحکومت میں کھڑا ایک چوڑا، چمار خبیث النفس تمام حدیں پار کرتے ہوئے وہ کلمات کہتا ہے جسے نہ قلم لکھ سکتا ہے، نہ زبان ادا کرسکتی ہے اور نہ کانوں کو سننے کی ہمت ہے اور آنکھیں وہ منظر دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں. وہ شخص بھری مجلس میں کہتا بھی ہے اور کہہ کر بڑے پرسکون انداز میں گھومتا پھرتا بھی ہے، اہل اقتدار کی نہ نیندیں اڑتی ہیں اور نہ ان کے آرام میں خلل پڑتا ہے لیکن جب کوئی دیوانہ گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،گستاخِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کے انجام تک پہنچا دیتا ہے تو تمام ادارے، سیاست دان، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی لونڈی اقوام متحدہ سب کے سب دہائیاں دینے شروع کردیتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو آزاد خیال کہنے والے بھی میدان خالی دیکھ کر کود پڑتے ہیں.
    کیا حکومتی وزیروں، مشیروں، عدالت، پولیس، فوج کی توہین کرنے والا بھی ایسے ہی سینہ چوڑا کیے گھومتا پھرتا ہے یا پھر حضور صلی الله عليه وسلم اور ان کے جانثار ساتھیوں کی تمہارے نزدیک اپنے اداروں جتنی بھی عزت نہیں؟
    ریاست ملکی امن و سلامتی کی سب سے زیادہ ذمے دار ہے پھر کیوں ایسے بدبختوں کے خلاف از خود نوٹس نہیں لیے جاتے؟
    کیوں انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک نہیں ہوتی؟
    جب کوئی دیوانہ اپنا کردار ادا کردے تو مقامی ادارے ایسے پھرتی دکھائی دیتے ہیں جیسے کتا ہڈی کے پیچھے دوڑتا ہے. پوچھنے والا ہو بھیا! اس وقت آپ کونسی بے غیرتی کی گولی کھا کر سورہے تھے جب یہ کالے کھٹمل سرعام حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے تھے؟
    امریکن لونڈی اقوام متحدہ کے پیٹ میں اچانک مروڑ کیوں اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں؟
    انسانی حقوق کی طوائفیں جو اس سے پہلے ستو پی کر سورہی تھیں کیوں شور مچانا شروع کردیتی ہیں کیا ان کی بہن کی بارات آرہی ہے یا پھر اپنے باپوں کو خوش کرکے ڈالر سمیٹنے کا سنہرا موقع مل گیا ہے؟
    عوام کبھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برداشت نہیں کریں گے، اقتدار کے مزے لوٹتے حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ فوراً ایسے تمام واقعات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کریں نہیں تو پھر علم دین، عامر چیمہ جیسے غازی تو اپنا کام کرتے رہیں گے.
    قوانین پاس کرنا اگرچہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن یہ خوشی اس وقت زیادہ ہوگی جب ان پر عمل شروع ہوگا اور اس کے فائدے ملنا شروع ہوں گے. عوام بھی جہاں کہیں گستاخی کا کوئی واقعہ ہو فورا انفرادی و اجتماعی طور پر مقامی اداروں کو رپورٹ کریں تاکہ ملک خداد جو مختلف بحرانوں میں جکڑا ہوا ہے نئی افراتفری کا شکار نہ ہو۔

  • اپنے سے بڑی ، مطلقہ لڑکی کے ساتھ سادگی سے نکاح کر کے اس نوجوان نے اچھی روایت رکھی ہے

    اپنے سے بڑی ، مطلقہ لڑکی کے ساتھ سادگی سے نکاح کر کے اس نوجوان نے اچھی روایت رکھی ہے

    شہباز نے اپنی شادی کو ایک مثال بنایا بہت اچھا لگا ہمارے نوجوان کچھ الگ سوچ لیکر آریے ہیں سدا خوش کامیاب رہو لڑکے بہت ساری دعاٸیں
    معاشرہ ہم جیسے لوگوں نے ہی تبدیل کرنا ہے۔
    میں نے
    1. جہیز کا بائیکاٹ کیا
    2. سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادگی سے رسومات کیں۔
    3. طلاق یافتہ لڑکی سے نکاح کیا
    4. خود سے بارہ سال بڑی عمر کی لڑکی سے نکاح کیا۔

    یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کو ہمارے معاشرے میں کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی ہے۔ کیونکہ ہمارا معاشرہ طلاق یافتہ لڑکی کو قبول نہیں کرتا۔ جہیز کا بہت بڑا بوجھ لڑکی کے والدین کے سر پہ لاد دیا جاتا ہے۔ جب آپ اچھا کما رہے ہوں اور سادگی سے رسومات کریں تب بھی معاشرے کے بہت سارے طعنے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ اور خود سے بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے پہ بہت ساری باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ "لوگ کیا کہیں گے” میں اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب میرے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا تو مجھے یہ سب کرنے پہ روحانی سکون ملا۔
    معاشرے میں مثالیں ہم جیسے لوگ بنائیں گے تبھی تو اور بھی لوگ دیکھا دیکھی قدم اٹھائیں گے ۔
    قیصر ناز

  • تذکرہ علماءاہلحدیث سندھ ،ڈاکٹرحافظ اکرم حسین علی پھل رحمةالله_عليه  تحریر: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    تذکرہ علماءاہلحدیث سندھ ،ڈاکٹرحافظ اکرم حسین علی پھل رحمةالله_عليه تحریر: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    تذکرہ علماءاہلحدیث سندھ

    ڈاکٹرحافظ اکرم حسین علی پھل رحمةالله_عليه

    جمع و ترتیب:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    ڈاکٹر حافظ اکرم حسین علی پھل حسین علی پھل کے گھر 1947 بمطابق 1367ھ دوسرے قول کے مطابق 1943 بمطابق 1363 کو گوٹھ ” حبیب جی وانڈھ ” میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق خالص سندھی بولنے والے نسبتا غیرمعروف قبیلہ پھل سے ہے۔اس قبیلہ کے زیادہ تر افراد ضلع نوشہروفیروز اور ضلع خیرپور میں قیام پذیر ہیں۔
    تعلیم:-
    حافظ اکرم حسین صاحب کا گھر چوں کہ مدرسہ کے پڑوس میں تھا چنانچہ شعور کی عمر کو پہنچتے ہی قرآن مجید ناظرہ کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی اور ساتھ ساتھ گاؤں کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے سندھی اور مروجہ عصری تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی پرائمری میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان کے نام ماسٹر محمد اسماعیل اور ماسٹر ابراہیم نمایاں ہیں۔
    حجاز کا پہلا سفر:-
    جب آپ کی عمر تقریبا آٹھ سال ہوئی تو آپ کے والد گرامی نے پورے خاندان کے ساتھ حجاز مقدس چلے جانے کا فیصلہ کیا آپ نے یہ سفر اپنے والد، والدہ، دادی، بھائی اور بہنوں کے ساتھ خشکی کے راستے طے کیا دیگر رفقاء کار جن میں حاجی یونس پھل اور حاجی اللہ بخش سومرو شامل تھے۔ یہ قافلہ سندھ سے بلوچستان ایران، عراق سے ہوتا ہوا سعودی عرب میں شمال کے راستے سے داخل ہوا آگے حجاز تک سفر میں بڑی صعوبتیں جھیلیں۔ کیونکہ سفر کا بہت سارا حصہ پیدل طے کرنا پڑا۔ راستے میں میں کئی مقامات پر پانی کی شدید کمی واقع ہوئی جس سے قافلہ میں موجود کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی کچھ راستے میں ہی وفات پا گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون )
    آخر کار یہ قافلہ حجاز مقدس میں داخل ہوا عمرہ کی ادائیگی کے بعد یہ قافلہ مدینہ پہنچا اور پھر آپ نے اپنے خاندان کے ساتھ تقریبا دو سال تک مدینہ منورہ میں قیام کیا۔ اس قیام میں آپ کے لیے سب سے زیادہ دکھ دینے والا واقعہ یہ پیش آیا کہ آپ نہ صرف والدہ محترمہ کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے بلکہ ساتھ ہی آپ کی دادی جان بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ان دنوں مدینہ منورہ میں ہیضہ کی وبا پھوٹی جس میں یہ دونوں خواتین مبتلا ہوگئیں جبکہ ان ایام میں سعودی عرب میں علاج ومعالجہ کی خاطر خواہ سہولیات نہیں تھیں۔انتقال کے بعد ان دونوں خواتین کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کی بڑی بہن اور پھوپھی پر آگئی۔
    قیام مدینہ میں تعلیم:-
    حافظ اکرم حسین صاحب نے عربی زبان سے عدم واقفیت کے باوجود ان دو سالوں میں مدینہ منورہ کے متعدد مدارس کئی اساتذہ سے قرآن مجید اور عربی زبان کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔
    مدارس کے نام یہ ہیں:-
    مدرسة العلوم الشرعية
    مدرسة الشؤون لتحفيظ القرآن
    مدرسة تحفيظ القرآن لابى بن كعب
    ان مدارس میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان کے نام یہ ہیں۔
    قاری عباس بخاری
    قاری عبد الواحد ہندی
    قاری محمد علی سندھی
    قاری قادرجان بخاری
    وطن واپسی:-
    تقریباً دو سال مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہنے کے بعد آپ کے والد نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ1373 ھ بمطابق 1953 میں یہ خاندان واپس وطن آگیا اس وقت آپ کی عمر تقریباً دس برس کے لگ بھگ تھی۔
    مدرسہ شمس العلوم میں داخلہ:-
    مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ نے مکمل قرآن مجید ناظرہ مع التجوید کی تعلیم ماہر اساتذہ سے مکمل کرنے کے بعد حفظ القرآن کا بھی آغاز کر دیا تھا۔ وطن واپسی کے بعد قرآن مجید کے حفظ کے لئے گاؤں کے معروف مدرسہ شمس العلوم میں باقاعدہ داخلہ لے لیا اور حافظ عبدالخالق سے تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ اور دو سال میں پندرہ پارے حفظ کرلیے لیکن اساتذہ کی بےجا سختی کی وجہ سے آپ نے پڑھائی میں دلچسپی کم کر دی جس پر آپ کے والد محترم نے خیرپور شہر کے مشہور مدرسہ تحفیظ القرآن کا انتخاب کرکے آپ کو یہاں داخل کروا دیا۔ اس مدرسہ میں آپ نے 1376ھ تا 1377ھ بمطابق 1956 تا 1958 قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا اور گردان بھی نکال لی۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا تیرہ سال ہو چکی تھی۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں۔
    حافظ اللہ ڈنو منگریو، حافظ محمد، حافظ عبدالمجید۔
    جامعہ شمس العلوم کھرڑا میں داخلہ:-
    حافظ اکرم حسین صاحب حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد اپنے گاؤں واپس آگئے اور علوم عربیہ و فارسیہ کے حصول کے لیے اپنے آبائی گاؤں کے مدرسہ شمس العلوم عربیہ کھرڑا میں داخلہ لے لیا اور تقریبا دو سال 1379ھ بمطابق 1959 تک زیر تعلیم رہے۔ یہاں پر تعلیم کے دوران اپ کے ساتھیوں میں میں عین الحق قریشی اور معروف دیوبندی خطیب مولانا خادم حسین شر صاحب تھے۔ جب کہ آپ کے اساتذہ میں مولوی در محمد اور مولوی رشید احمد سومرو کے نام نمایاں ہیں۔کچھ سالوں بعد مولوی رشید احمد اس مدرسہ کے شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوگئے اور تاحیات اسی منصب پر رہے۔
    مدینہ منورہ میں قیام کا دور ثانی:-
    1960 تا 1989 بمطابق 26/8/1380 ہجری تا 18/02/1410 ہجری
    ترک وطن کا سبب:-
    حجاز مقدس میں دو سالہ قیام کے دوران آپ کی والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد وطن واپس آکر آپ کے والد نے اپنے قرابت داروں میں سے ایک خاتون "مسماۃ حواء” سے نکاح کیا لیکن اس سے نبھاہ نہ ہو سکا اور نوبت طلاق تک جاپہنچی۔ دونوں خاندانوں میں اختلاف اس حد تک بڑھ گئے کہ ناحق خون بہنے کا خدشہ لاحق ہو گیا آپ کے والد نے خاندان سمیت وطن چھوڑنے اور مدینہ منورہ میں مستقل سکونت کا فیصلہ کیا یہ سفر 1960 بمطابق 1380ھ میں ہوا۔ اس سفر میں آپ کے خاندان کے بہت سے افراد شامل تھے جو عازم سفر ہوئے۔
    تقریبا سترہ سال کی عمر میں آپ قافلہ سمیت سفر پر روانہ ہوئے یہ سفر بحری جہاز کے ذریعے طے ہوا۔ کراچی سے روانہ ہوکر بحرین کی بندر گاہ” منامہ” پر لنگر انداز ہوا پھر وہاں سے روانہ ہو کر سعودی عرب کی بندرگاہ "الخبر” میں لنگر انداز ہوا. کسٹم کاروائی کے بعد یہ قافلہ خشکی کے راستے حجاز مقدس کی طرف روانہ ہوا۔ ریگستانی علاقہ کا سفر ہونے کی بنا پر بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر یہ قافلہ 26/8/1380 کو مدینہ منورہ پہنچ گیا اور کچھ تگ و دو کے بعد تمام افراد اقامہ کے حصول میں کامیاب ہو گئے۔
    خاندان کا ذریعہ روزگار:-
    ان ایام میں مدینہ منورہ میں روزگار کے زیادہ مواقع نہ تھے۔ غربت عروج پر تھی شہری سہولتیں ناپید تھیں۔ چنانچہ بڑی جدوجہد کے بعد خاندان کے تمام افراد کو لیدر کے جوتوں کی سلائی کا کام مل گیا جس سے تمام افراد وابستہ ہوگئے۔ عورتیں مردوں کے اس کام میں ہاتھ بٹاتی تھیں۔ آپ بھی ابتدائی مہینوں میں اس کام سے منسلک رہے۔
    حصول علم کے لیے کوشش:-
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب مدینہ منورہ میں قیام کے دوران روز اول سے ہی حصول علم کے لیے مصروف ہوگئے اور 30 سال کے عرصہ میں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک تمام مراحل کامیابی سے طے کیے۔
    تعلیمی مراحل
    الشهادة الابتدائية:-
    یہ سند آپ نے مدرسہ دارالعلوم السلفیہ سے 1383ھ بمطابق 1963 کو دو سال زیر تعلیم رہنے کے بعد حاصل کی۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ کرام کے نام درج ذیل ہیں۔
    الشیخ نور الدین آپ اس ادارے
    کے منتظم بھی تھے۔
    الشیخ الدکتور عبد القادر حبیب اللہ السندھی۔
    الشیخ محمد عطاء اللہ
    الشیخ محمد علی السلفی
    الشهادة المتوسطة:-
    یہ سند آپ نے مدینہ منورہ کے معروف دینی ادارے "مدرسہ دارالحدیث "میں تین سال تک زیر تعلیم رہنے کے بعد 1987_86 بمطابق 1967 کو حاصل کی۔ اس مدرسہ میں آپ کے ساتھ آپ کے والد گرامی حاجی حسین علی آپ کے سسر حاجی راوت پھل آپ کے بھائی حافظ محمد علی بھی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے مدرسہ دارالحدیث میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔
    الشیخ محمد عمر فلاتہ مدیر مدرسہ دار الحدیث ، مدرس جامعہ اسلامیہ، واعظ مسجد نبوی
    الشیخ عمار المطری
    الشیخ عمار الاخضر
    الشیخ محمد یوسف
    الشیخ محمد صدیق
    الشیخ عبدالکریم الزہرانی
    الشیخ علی تکرونی
    الشیخ محمد شریف اشرف
    الشیخ سیف الرحمن
    الشیخ علی سنان مدرس مدرسہ دارالحدیث حدیث و جامعہ اسلامیہ، واعظ مسجد نبوی شیخ عمار المختار بن ناصر الاخضری
    اس عرصہ میں آپ عظیم محدث الشیخ عبدالحق نزیل مکۃ المکرمہ کی صحبت میں رہے اور ان سے استفادہ کیا۔
    الشھادة المتوسطة کے بعد آپ نے تمام تعلیمی مراحل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں طے کیے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
    الشهادة الثانوية:-
    تین سال کی تعلیم کے بعد آپ نے 1392-92 ھ بمطابق 1971-72 میں الشهادة الثانوية حاصل کی۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا 28 سال تھی۔
    الشهادة الليانس:-
    ” گریجویشن”
    الشهادة الثانوية کے حصول کے بعد آپ نے ” کلیةالدعوہ و اصول الدین” کا انتخاب کیا۔ اور چار سال کی تعلیم کے بعد گریجویشن مکمل کی اور کلیہ کی طرف سے کامیابی کی سند 1395_96 ھ بمطابق 1975_ 76 میں حاصل کی۔ اس سند میں آپ کی تقدیر (گریڈ ) جیدجدا ہے۔
    شھادة الماجستیر:-
    جامعہ اسلامیہ سے کلیہ کی سند حاصل کرنے کے بعد بعد زیادہ تر طلبہ وطن واپس آ جاتے ہیں۔ چونکہ آپ کو حصول علم کا بے حد شوق تھا چنانچہ آپ نے پوسٹ گریجویشن کے لئے کوشش کی۔ آپ اس میں کامیاب ہوئے آپ کو ایم فل / ماجستیر میں داخلہ مل گیا۔ جس میں آپ نے اپنےمشرف فضیلۃ الشیخ اکرم ضیاء العمری کی زیر نگرانی مقالہ بنام "تاریخ یہود المدینہ” لکھا اور سند کے حصول کے لیے پیش کیا. آپ کو1980 میں "شہادة العالمیہ الماجستیر” کا حق دار قرار دیا گیا اس سند میں بھی آپ کا گریڈ جید جدا تھا۔ اس سند کے حصول کے وقت آپ کی عمر تقریبا 32 سال تھی۔
    شھادة الدکتورا ” پی ایچ ڈی”
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب کو علم کے مزید حصول کی تڑپ نے ماجستیر کی سند پر اتفاق نہ کرنے دیا بلکہ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور دنیا کی سب سے بڑی سند حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔اللہ رب العالمین نے فضل فرمایا۔اور آپ کو اس مرحلہ کے لیے اہل قرار دیا گیا پھر آپ نے دن رات محنت کی اور کبھی بھی سردی یا گرمی کی پرواہ نہ کی مسلسل پانچ سال تک جدوجہد جاری رکھی۔ ڈاکٹریٹ کی سند کے لیے آپ کے مقالے کا عنوان” الفوائد المستخرج علی صحیح مسلم بن حجاج لابی العباس السراج” تھا. اس مقالہ کے آپ کے مشرف فضیلۃ الشیخ اکرم ضیاءالعمری ہی تھے۔ مشرف نے آپ کا بھرپور ساتھ دیا اور ہدایات دینے کےلئے بارہا آپ کے گھر تشریف لائے۔ آپ نے مقالہ مکمل کرکے پیش کیا۔اکابر علماء کے روبرو پیش ہوئے۔کئی گھنٹوں پر محیط سوالات کے جوابات دیے۔ اور پھر اللہ کے فضل و احسان سے آپ کو اس مقالہ کی بنیاد پر ڈاکٹریٹ "دکتوراہ” کی سند دی گئی۔ جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا۔ یہ اعزاز نہ صرف آپ کی ذات تک محدود تھا بلکہ پورے خاندان، پھل قبیلہ اور صوبہ سندھ کے لئے اعزاز تھا کیونکہ آپ سے قبل صوبہ سندھ سے کسی نے بھی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے یہ سند حاصل نہیں کی تھی آپ نے 1986 بمطابق 1406/3/27ھ کو حاصل کی۔
    سند کا نام "العالمیہ العالیہ الدکتورا ہ” ہے اور اس سند میں آپ کا گریڈ ” مرتبة الشرف الثانيه” ہے.
    ذریعہ معاش:-
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لینے کے بعد جامعہ کی طرف سے جو وظیفہ ملتا تھا وہ امور خانہ داری چلانے کے لیے ناکافی تھا۔ ایک حافظ قرآن اور طالب علم کے لئے سب سے بہترین مشغلہ امامت و تدریس ہوتا ہے چنانچہ یہ دونوں کام سرانجام دیئے جس سے آپ کو مناسب رقم مل جاتی اور گھر کا نظام اچھے طریقے سے چل جاتا۔
    قبولیت مسلک اہل حدیث:-
    بچپن سے والدین کی تربیت اور متعدد دیوبندی مدارس میں زیر تعلیم رہنے کے بعد آپ جوانی میں ایک سخت گیر حنفی عالم تھے ہر محاذ پر حنفی مسلک کا دفاع کیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد جب والد کے زیر سایہ رہنے سے الگ ہو گئے تو آپ کا تعلق دو بزرگ اہل حدیث شخصیات سے ہوا محترم فضیلتہ الشیخ حبیب اللہ موروجو آف دریاخان مری اور فضیلت الشیخ عبدالرحمن خاصخیلی آف ماتلی ان دونوں شخصیات سے تعلق کے بعد اکثر ان سے مسائل پر بحث و مباحثہ چلتا رہتا تھا۔ کئی دفعہ دلائل کے سامنے آپ لاجواب ہو جایا کرتے تھے۔ پھر جامعہ اسلامیہ میں داخلہ کے بعد آپ کا تعلق کئی سلفی اساتذہ کرام سے رہا آخر کار ان بزرگوں کی محنت رنگ لے آئی اور آپ نے اللہ کے فضل و کرم سے مسلک اہلحدیث اختیار کرلیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب آپ یہ "کلیة الدعوہ و اصول الدین” میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ اور سسر نے بھی مسلک اہل حدیث اختیار کر لیا۔ جب آپ کے والد گرامی کو علم ہوا تو وہ آپ سے قدرے ناراض ہوئے اور بالخصوص مذکورہ بالا بزرگوں سے سخت غصہ کا اظہار کیا کرتے تھے۔
    اساتذہ کرام:-
    فضیلۃ الشیخ اکرم ضیاءالعمری رئیس قسم الدراسات العلیا، فضیلۃ الشیخ د/ عبد اللہ بن محمد الغنیمان، د/ صالح بن عبدالمحیسن نائب رئیس الجامعہ سابقا، د/ عبد المحسن بن حمد العباد، د/ امان بن علی الجامی, د/ محمد امین ۔ مصر رئیس قسم الدراسات العلیا سابقا، د/ عبدالعظیم الفیاض مصری, د/ رمضان ابوالعز، د/ محمود میری, د/ محمود الطحان, الشیخ عبدالسلام کیلانی، الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ، د/ محمد المجزوم، د/ محمد الامین محمد بن المختار الشنقیطی، د/ ربیع بن الھادی المدخلی، د/ حماد بن محمد الانصاری, د/ السید الحکیم مصری، د/ محمد الفائت مصری، د/ ابو زہرہ المصری، د/ علی بن محمد ناصر الفقیھی، الشیخ علی مشرف، الشیخ ابراہیم سقا، د/ عبدالصمد ملیباری، الشیخ د/ احمد عبداللہ ھاشم مصری، الشیخ د/ علی بن محمد سنان،الشیخ سعدالدین ملیباری، الشیخ محمد شریف الزئیق، الشیخ المتولی المصری،الشیخ عبدالکریم مراد، الشیخ عبدالرحیم ہندی۔
    اساتذہ مسجد نبوی شریف:-
    الشیخ عبد اللہ بن احمد خربوش الامام فی المسجد النبوی، الشیخ عمر محمد فلاتہ، الشیخ محمد امین شنقیطی، الشیخ عطیہ محمد سالم، الشیخ عبدالقادر شیبۃ الحمد، الشیخ ابو بکر جابر الجزائری، الشیخ عبدالمحسن العباد، سماحة الوالد الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز, الشیخ ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی سندھی۔
    تدریسی و تبلیغی خدمات:-
    مدرسہ دارالعلوم السلفیہ اور مدرسہ دار الحدیث الخیریۃ کے تعلیمی دورانیے میں آپ نے قرآن مجید حفظ و ناظرہ کی تدریس کا آغاز کیا۔ آغاز میں آپ نے شام کے اوقات میں مدرسہ دارالعلوم السلفیہ میں ہی تدریس کا آغازکیا۔ کچھ سال اس ادارے میں خدمات سرانجام دینے کے بعد مسجد نبوی کے صحن میں کلاس لگائی اور پھر کئی سال تک یہاں یہاں پر پڑھاتے رہے۔ بچوں کے والدین کی طرف سے کچھ معاوضہ مل جاتا جس سے آپ کے گھر کا گذر بسر چلتا تھا۔ اس دورانیے میں آپ سے متعدد طلبہ نے تعلیم حاصل کی جن میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:-
    د/ محمد عمر فلاتہ مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، د/عبدالرحمن عمر فلاتہ مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، الشیخ عبدالرب فیض اللہ مدرس دار الحدیث الخیریۃ مکہ مکرمہ، د/ عبدالرب نواب الدین مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، ابراہیم العجلانی مدرسہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، قاری عبدالظاہر محمد شریف اشرف فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، محمد طاہر محمد شریف اشرف فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، ھارون محمد شریف اشرف فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، داؤد محمد شریف اشرف, عبداللہ الیمانی ماجستیر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، حسن بکر سندھی، مختار بن عمار الاخضری۔
    مدرسہ دار الحدیث الخیریۃ کو خیرآباد کہنا:-
    مدرسہ دار الحدیث الخیریۃ میں دوران تعلیم آپ کا اور آپ کے خاندان کے دیگر افراد کا اقامہ ایک سعودی کفیل کے نام تھا وہ بھی تجدید اقامہ کے عوض کچھ رقم کا تقاضا کیا کرتا تھا۔ باقی افراد مجبوری کی حالت میں ادا کر دیتے تھے لیکن آپ کو اس غیر قانونی و غیر شرعی عمل سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ نے مذکورہ ناجائز رقم ادا نہ کرنے اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ دارالحدیث کو خیر آباد کہنے اور جامعہ اسلامیہ میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ان دنوں جامعہ اسلامیہ میں میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کے لئے داخلہ کی دیگر شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ جامعہ اسلامیہ کے نام کا اقامہ بنائیں۔ اور داخلہ کے لئے اپنے آبائی وطن آنے کی شرط لاگو تھی۔ ان شرائط کی تکمیل کے لیے آپ کو مجبوراً مختصر عرصہ کے لئے آبائی وطن پاکستان آنا پڑا اور دو مہینوں کے بعد آپ دوبارہ جامعہ اسلامیہ کی کفالت میں میں مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔
    جامعہ اسلامیہ میں داخلہ کے لیے روانگی اور واپسی:-
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب 1389/7/12ھ کو آبائی وطن پاکستان کے لئے روانہ ہوئے۔1389/9/5ھ کو تقریبا پچیس سال کی عمر میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے مزید تعلیم کے حصول کے لیے داخل ہوئے اور پھر بفضل اللہ تمام تعلیمی مراحل مکمل کیے۔
    پاکستان کے اس دورے میں آپ کے دوست و احباب اور عزیزواقارب نے آپ سے بے پناہ محبت کا اظہار کیا۔ سب کی طرف سے دعوتوں کا اہتمام کیا گیا۔ خوب خاطر تواضع ہوئی۔ اس وقت تک آپ دیوبندی حنفی مسلک سے وابستہ تھے اس کا خوب پرچار کرتے رہے اور اس کے دفاع میں تقریریں کیں مولانا عبد الحمید پھل رحمہ اللہ ان دنوں پورے علاقے میں واحد اہل حدیث شخصیت تھے۔ چنانچہ ان سے بھی بڑا بحث و مباحثہ چلتا رہا الغرض یہ دورہ مکمل کر کے دو ماہ بعد دوبارہ مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہو گئے۔
    تبلیغی و تدریسی خدمات:-
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ملنے کے بعد اللہ تعالی نے ڈاکٹر اکرم حسین پر اپنا خاص کرم کیا اور مسجد نبوی کے قریب محلہ باب التمار میں مسجد عبدالعزیز الرشید میں نائب امام کا منصب آپ کو مل گیا۔ اس مسجد کے امام فضیلۃ الشیخ عمر الجلعود تھے ان کا گھر مسجد سے کافی دور تھا جس کی وجہ سے سب نمازوں کے لئے آنا ان کے لئے مشکل کام تھا۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو نائب امام مقرر کیا۔ شروع میں آپ کا گھر محلہ الاجابہ میں مسجد الاجابہ کے قریب تھا اور مسجد سے ڈیڑھ کلو میٹر دور تھا اس کے باوجود آپ تمام نمازوں کے لئے وقت سے قبل ہی پہنچ جایا کرتے تھے خود اذان دیتے اور خود ہی امامت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ فجر کی نماز کے لیے آپ کی روٹین یہ تھی کہ آپ اذان سے دوگھنٹے پہلے اٹھ جایا کرتے نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد گھر کے لیے پانی بھرتے اور پھر نماز فجر کی ادائیگی کے لیے چلے جاتے۔ آپ پابندی کے ساتھ مسجد جایا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک نماز بھی جماعت سے فوت نہیں ہوتی تھی۔اس مسجد میں آپ صرف امامت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ شام کے وقت قرب و جوار کے بچوں کو قرآن مجید حفظ و ناظرہ کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ آپ کے بڑے صاحبزادے مولانا حافظ خالد اکرم مدنی صاحب نے بھی آپ کے پاس اسی مسجد میں بیٹھ کر قرآن مجید حفظ کیا۔ کئی علماء و مشائخ کی رہائش اس مسجد کے بالکل قریب تھی۔ چنانچہ ان کے بچے بھی آپ کے پاس حفظ کیا کرتے تھے۔ جن طلبہ نے آپ سے "مسجد عبدالعزیز الرشید” اور "مسجد الامیرہ منیرہ” میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی ان کے نام درج ذیل ہیں:-
    احمد محمد امان بن علی الجامی، عبدالسلام محمد امان بن علی الجامی، عمر بن محمد امان بن علی الجامی، عبدالکریم بن محمد الزھرانی،محمد بن د/ عبدالرحمن صالح محی الدین، عبداللہ بن د/عبدالرحمن صالح محی الدین، احمد سومار سندھی ، حمد بن دکتور عبد القادر حبیب اللہ سندھی، محمود بن د/ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی, ولید محمد الجربوع، یاسر محمد الجربوع، عبداللہ بن عبداللطیف الحناکیہ، عبد الملک بن عبد الرحمان
    رمضان المبارک میں بالخصوص نماز عصر کے بعد بڑے اہتمام سے درس ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ زیادہ تر حدیث کی کتاب ریاض الصالحین سے وعظ فرماتے تھے۔ اور پھر نماز عشاء کے بعد نماز تراویح پڑھایا کرتے تھے۔ نماز تراویح پڑھانے کے بعد مسجد نبوی جا کر وہاں کے امام کی اقتدا میں تراویح پڑھا کرتے تھے۔ تقریبا 1404ھ تک اسی مسجد میں خدمات سر انجام دیتے رہے اور اس کے اس کے قریب ایک اور مسجد بنام "الامیرہ منیرہ” میں پانچ سال تک یہی فرائض سرانجام دیتے رہے. اس مسجد میں آپ فضیلت د/ عبدالرحمن صالح محی الدین کی نیابت میں خدمات سرانجام دیا کرتے تھے۔ اس مسجد میں بھی قرآن مجید کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور مدینہ منورہ چھوڑنے تک آپ اسی سے وابستہ رہے۔
    بڑا اعزاز:-
    مسجد عبدالعزیز الرشید میں آپ کو ایک بڑا اعزاز یہ حاصل ہوا کہ مفتی اعظم سعودی عرب فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن باز (رحمہ اللہ) کی مدینہ منورہ میں رہائش اس مسجد کے بالکل قریب تھی چنانچہ جب بھی آپ کو کسی کام سے مدینہ منورہ آنا ہوتا تو وہ اس مسجد میں آپ کی اقتدا میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔
    آپ نے یہ واقعہ اپنے بیٹے مولانا خالد اکرم پھل صاحب کو بڑی مسرت کے ساتھ سنایا کہ ایک موقع پر آپ کو کسی کام کی غرض سے شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ اور فضیلۃ الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ رحمت اللہ علیہ کی معیت میں طائف جانا پڑا۔ یہ دونوں مشائخ آپ کے استاد تھے اور وقت کے بڑے امام تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو تینوں نے باجماعت نماز ادا کی اور دونوں مشائخ نے اپنے امامت کے لئے آپ کو آگے کیا اور دونوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اسی طرح سے آپ جب محلہ الاجابہ میں مقیم تھے آپ کے پڑوس میں فضیلت الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی بھی بمع اہل وعیال رہائش پذیر تھے ان کے پاس گاہے بگائے شیخ العرب والعجم تشریف لایا کرتے تھے اور جتنے دن مدینہ منورہ میں قیام فرماتے تو اسی مکان میں رہتے تھے۔ آپ دونوں مشائخ کی مجلس میں حاضر ہوتے اور ان کے علوم و معارف سے استفادہ کرتے۔
    آبائی علاقہ میں دینی خدمات:-
    مسلک اہل حدیث اختیار کرنے کے بعد ڈاکٹر اکرام حسین صاحب کو کی فکر لاحق ہوئی کہ حق کا پیغام کس طرح سے اپنی قوم، برادری اور اہل علاقہ تک پہنچایا جائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے بذریعہ خط و کتابت حضرت مولانا عبد الحمید پھل رحمۃ اللہ علیہ سے رابطہ کیا اور انہیں بڑے ادارے کی تعمیر کے لئے آمادہ کیا۔ حسن اتفاق سے اس قسم کی تڑپ مولانا عبدالحمید پھل صاحب کے دل میں بھی موجود تھی۔ عدم وسائل کی وجہ سے وہ بھی خاموش تھے۔ آپ کی ترغیب سے انہوں نے کوششیں شروع کر دیں جس کے نتیجے میں ان کے چچا تقی محمد نے گوٹھ” حبیب جی وانڈھ” سے متصل مہران نیشنل ہائی وے پر تقریبا ڈیڑھ ایکڑ زمین اس مقصد کے لیے مولانا عبدالحمید کے سپرد کر دی۔ زمین کا بندوبست ہونے کے بعد دونوں بزرگوں کا برابر رابطہ جاری رہا۔ اور اتفاق رائے سے پہلے مدرسہ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ مدرسہ کا نام "مدرسہ اتباع القرآن والحدیث” رکھا گیا تعمیرات کے لئے چوں کہ بھاری رقوم درکار تھیں۔ چنانچہ آپ نے نہ صرف ذاتی رقم سے تعاون فرمایا بلکہ اپنے تمام دوست و احباب کو مطلع فرمایا اور ان سے تعاون کی درخواست کی۔ جن احباب کے تعاون سے مدرسہ کا تعمیراتی کام پایہ تکمیل کو پہنچا ان کے نام درج ذیل ہیں ہیں۔
    الشیخ عبدالغفور الہندی رحمہ اللہ، الشیخ عبدالرحمن خاصخیلی رحمہ اللہ، شیخ حبیب اللہ موروجو، الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی رحمت اللہ علیہ، ڈاکٹر امیر بخش چنا حفظہ اللہ،
    مدرسہ کی تعمیر کے بعد ایک بڑی جامع مسجد بھی ان اصحاب خیر کے تعاون سے تعمیر کی گئی۔
    مولانا عبدالحمید صاحب صاحب کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کا عمل شروع کیا گیا۔ حفظ ناظرہ کی تعلیم کے لئے مدرس کس تقرر کیا گیا۔ اور خود مولانا صاحب نے علوم فارسیہ و عربیہ کا آغاز کیا اور اس ادارے سے کئی طلبہ فیضیاب ہوئے۔ جن میں سے سرفہرست درج ذیل ہیں۔
    ماسٹر محمد اسماعیل پھل، مولانا قادر بخش پھل، اللہ ورایو پھل
    علاقہ میں مسلک اہل حدیث کو متعارف کروانے میں ادارے نے اہم کردار ادا کیا گوٹھ حبیب جی وانڈ کے کثیر تعداد میں لوگوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا۔ اس وقت اس گاؤں میں اہل حدیث کی چار مساجد ہیں۔
    مدرسہ کی تعمیر ثانی:-
    وقت گزرنے کے ساتھ کمرے پرانے اور بوسیدہ ہو گئے۔ سندھ کے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا افتخار احمد الازہری صاحب حفظہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ بحرالعلوم السلفیہ میرپورخاص نے مدرسہ کی نئی عمارت تعمیر کروا دی ہے۔جزاہ اللہ خیرا۔
    دیار حبیب میں رہنے کی خواہش اور پھر وطن واپسی:-
    1986 بمطابق 1406ھ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے دکتورہ مکمل کرنے کے بعد اور مدینہ منورہ میں تقریبا پچیس سال بمع اہل و عیال قیام کے بعد آپ کی شدید خواہش تھی کہ آپ بمع اہل و عیال دیار حبیب مدینہ منورہ میں رہیں آپ اپنی لئے کوشش کرتے رہے آپ نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے تین سال تک کوشش کرتے رہے۔اپ نے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے سفارش بھی کروائی اور الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ نے بھی کوشش کی کہ ان کی کفالت میں آپ کو کسی طرح سے ویزا مل جائے اس دوران آپ مالی طور طور پر بھی پریشان رہے جامعہ اسلامیہ سے ملنے والا وظیفہ بھی بند ہوگیا تھا اور مسجد الا میرہ منیرہ میں امامت سے معمولی وظیفہ ملتا تھا جس سے بمشکل گزر بسر ہوتی تھی آپ کی اہلیہ اور بیٹیاں گھر میں سلائی کڑھائی کرکے آپ کا سہارا بنیں اور گھر کے اخراجات میں آپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔اپ نہ چاہتے ہوئے شکستہ دل کے ساتھ پاکستان جانے کی تیاری کرنے لگے جامعہ اسلامیہ کی طرف سے آپ کو اپنے لیے اور اہلیہ کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے مفت سفر کی پیشکش ہوئی لیکن آپ کو سب سے زیادہ فکر کر اپنی لائبریری کی تھی کہ کسی بھی طرح سے جمع کردہ تمام کتب ساتھ لائی جائیں بھائی اس مقصد کے لیے آپ نے بمع اہل و عیال بذریعہ بحری جہاز سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ کی معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ آخری بحری جہاز بنام نام سفینہ عرب چند دنوں میں جدہ سے کراچی روانہ ہونے والا ہے۔ آپ نے بچوں سمیت اس کے ٹکٹ حاصل کرلئے۔ پھر کتابوں سمیت سامان کی پیکنگ مکمل کرنے کے بعد تمام احباب اور عزیز و اقارب سے الوداعی ملاقات کے بعد آنسو بہاتے ہوئے مدینة الرسول کو اللہ حافظ کہہ کر مکہ مکرمہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوگئے۔اس سفر میں جدہ تک چھوڑنے کے لیے آپ کا بھانجا حاجی محمد خان بھی بمع اہل و عیال آپ کے ساتھ تھا۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد آپ جدہ کے لئے روانہ ہوگئے کتب اور سامان کی ترسیل کے بعد آپ نے اپنے بھانجے کو الوداع کیا اور تڑپتے دل کے ساتھ ‘سفینہ عرب "میں سوار ہو کر 1789/9/18 بمطابق 1410/02/18ھ کو وطن واپس جانے کے لیے روانہ ہوگئے۔
    مسلسل سات دن کے سفر کے بعد جہاز کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا آپ کے استقبال کے لئے آپ کے عزیز و اقارب بڑی تعداد میں موجود تھے تمام عزیز و اقارب بڑے خوش دکھائی دے رہے تھے البتہ آپ خود مدینہ منورہ چھوڑنے پر غمزدہ تھے۔ کسٹم اور امیگریشن کی تمام کارروائی کے بعد آپ نے سامان میں سے کتابیں اور بعض چیزیں ٹنڈو غلام علی گوٹھ مولوی سلطان احمد کی طرف بھیجی ہوئی گاڑی میں روانہ کر دیں۔ کیونکہ شیخ عبدالقادر حبیب اللہ صاحب نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ آپ ٹنڈو غلام علی جا کر وہاں مدرسہ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیں۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی طرف سے آپ کو وہیں مبعوث کیے جانے کی نوید سنائی جس کے لیے انہوں نے کوششیں بھی کیں۔
    باقی سامان اپنے ساتھ لے کر اپنے ننھیالی گاؤں گوٹھ حبیب جی وانڈھ بذریعہ بس پہنچے۔ گاؤں پہنچنے پر آپ کے عزیز و اقارب نے آپ کا بڑا والہانہ استقبال کیا پھر آپ جب تک گوٹھ میں رہے لوگ مسلسل آپ سے ملاقات کے لیے آتے رہے آپ ہمیشہ ان ملاقاتوں کو غنیمت جانتے ہوئے دین کی تبلیغ کرتے اور قرآن وحدیث پر مشتمل مسائل بیان کرتے ہیں آپ کے والد صاحب نے آپ کی آمد سے قبل ہی آپ کے لیے اوطاق ( بیٹھک ) کے برابر ایک کمرے کا مکان تیار کروا رکھا تھا جہاں پر آپ نے تقریباً آٹھ ماہ قیام کیا۔
    آپ نے گوٹھ میں میں آٹھ ماہ قیام کے دوران روزانہ نماز فجر کے بعد جامع مسجد میں تقریبا ایک گھنٹہ درس قرآن ارشاد فرماتے جس میں گوٹھ کے افراد بڑے ذوق وشوق سے حاضر ہوتے۔ آپ دروس میں قرآن و حدیث سے نصیحت آموز واقعات بیان کرتے آپ کا بیان سندھی زبان میں بڑا سادہ اور پر تاثیر ہوتا۔
    ان ایام میں مسجد میں کوئی بھی امام مسجد مقرر نہ تھا آپ نے فوری طور پر مولانا قادر بخش جو کہ اہل حدیث تھے انہیں مسجد کا امام مقرر کیا اور وہ کئی سال تک اس مسجد میں خدمت سرانجام دیتے رہے۔ امام مسجد کا وظیفہ ڈاکٹر اکرم حسین مدنی صاحب اپنی جیب سے دیتے تھے تھے۔
    مدرسہ اتباع القرآن و الحدیث میں ان ایام میں حافظ محمد دین شر صاحب تدریس کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ کسی وجہ سے وہ چھوڑ کر چلے گئے تو ڈاکٹر اکرم حسین صاحب نے اپنے بڑے صاحبزادے محترم حافظ خالد اکرم صاحب کو طلبہ کو تعلیم دینے پر مامور کر دیا اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی۔ آپ ہر ماہ طلباء کا امتحان لیتے اور تمام طلباء کو انعامات سے نوازتے اور حافظ خالد اکرم صاحب کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے جس کے نتیجہ میں مدرسہ میں طلبہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا۔
    ٹنڈو غلام علی آمد:-
    گوٹھ میں آمد اور عزیزواقارب سے ملاقاتوں کے بعد آپ مدرسہ محمدیہ گوٹھ مولوی سلطان احمد تحصیل ٹنڈو غلام علی ضلع بدین مدرسہ دیکھنے کے لیے تشریف لےگئے۔ مدینہ سے آنے سے قبل ہی شیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی صاحب نے اس مدرسہ میں تدریس کے لئے آپ کو آمادہ کیا تھا۔ آپ نے کراچی سے ہی اپنی کتب یہاں بھیج دی تھیں۔ یہاں پہنچ کر مولوی سلطان احمد صاحب سے ملے اور ان سے فیملی کے لئے مکان کی تعمیر پر بات چیت ہوئی۔ ادارے کا جائزہ لیا اور تدریسی ماحول دے کر مطمئن دکھائی دیے۔اور مکان کی تکمیل کے بعد بعد بچوں سمیت آنے کا مصم عزم کرلیا۔ لیکن واپس گوٹھ پہنچنے کے کچھ ہی دنوں بعد آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے خط موصول ہوا کہ آپ کو اس ادارے میں مبعوث نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا معادلہ جامعہ اسلامیہ کے ساتھ نہیں ہے البتہ اس کے بجائے آپ کو چار بڑے اداروں کا اختیار دیا گیا۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی
    الجامعۃ السلفیہ فیصل آباد الجامعۃالاثریہ پشاور
    اور جامعہ الاثریہ جہلم
    آپ نے اپنے احباب سے مشورہ کے بعد بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا انتخاب کیا اور مولوی سلطان احمد صاحب سے معذرت کر لی اور ٹنڈو غلام علی دوبارہ جا کر اپنا سامان اور کتب لا کر گھر میں رکھ دیں۔
    فیصل آباد روانگی:-.1410/5/23ھ آپ فیصل آباد روانہ ہوگئے مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ محمد یاسین ظفر صاحب حفظہ اللہ سے ملاقات کے بعد آپ نے جامعہ میں حاضری دی اور شعبان کے مہینے میں چھٹیوں تک یہاں تدریسی فرائض سر سر انجام دیے۔ فیصل آباد میں جامعہ سلفیہ محلہ رحمت آباد میں ایک مکان کرائے پر لے لیا تاکہ بچوں سمیت اس میں سکونت اختیار کریں۔
    ماہ رمضان المبارک کی چھٹیوں میں آپ اپنے گاؤں آگے اور گوٹھ حبیب جی وانڈھ کی مسجد میں مکمل قرآن مجید سنایا۔ پہلی چار رکعات میں آپ خود مکمل سپارہ پڑھتے اور آپ کا سامع آپ کا برخوردار حافظ خالد اکرم ہوتا اور پھر وہی پارہ حافظ خالد اکرم پڑھتا تو آپ اس کے سامع بن کر کھڑے ہوتے۔ اس طرح سے ایک ہی نماز تراویح میں دو بار قرآن مجید کی تکمیل کی گئی۔
    رمضان المبارک کے بعد عید کی خوشیاں عزیزواقارب میں بانٹنے کے بعد آپ اپنے اہل و عیال سمیت فیصل آباد جانے کی تیاری میں لگ گئے سامان پیک کرنے کے بعد تمام اقارب کو الوداع کہا ہاں اور 10 شوال کو روہڑی اسٹیشن سے علامہ اقبال ایکسپریس پر سوار ہو کر اپنے اہل و عیال سمیت فیصل آباد پہنچ کر کر اپنے گھر تشریف لے گئے گئے۔ اس دن سے آپ کی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوگیا جو 19 سال تک جاری رہا۔
    جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریس:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب نے 1989 سے لے کر 2008 تک جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں بطور مدرس خدمات سرانجام دیں۔
    آپ جس وقت جامعہ سلفیہ تشریف لائے تو دو شعبوں کی کمی محسوس کی۔
    شعبہ تجوید
    شعبہ اصول تخریج
    آپ نے جامعہ سلفیہ کی انتظامیہ کی ان دونوں شعبوں کی طرف مبذول کروائی۔ آپ چونکہ ان دونوں شعبوں میں مہارت تامہ رکھتے تھے چنانچہ دونوں شعبوں کی ذمہ داری آپ نے خود اٹھائی۔ اور ان میں پائی جانے والی کمی کو احسن انداز میں دور کیا۔
    آپ ہر روز بعد نماز مغرب سے سے لے کر نماز عشاء تک ک شعبہ حفظ کے کمرے ھال چلے جاتے اور طلبہ کو تجوید کے اصولوں کے مطابق قرآن مجید کی تعلیم دیتے۔ کتے شعبہ حفظ و درس نظامی کے بیسیوں طلبہ آپ سے اس شعبہ میں مستفید ہوئے اور آپ کو آج بھی دعائیں دیتے ہیں۔ ہیں اس دور میں کئی اساتذہ نے بھی آپ سے فن تجوید سیکھا۔ اپ کی زندگی میں ہی جامعہ سلفیہ میں شعبہ قرات و تجوید کو بڑے احسن انداز میں میں منظم کیا گیا۔
    اصول تخریج کے حوالے سے آپ اپنے استاد فضیلت الشیخ محمود الطحان کی کتاب اصول التخریج و دراسة الاسانید کو نصاب میں شامل کروایا۔ اور الصف السابع کے طلبہ کے لئے لازم کیا گیا کہ وہ اس کتاب کو لازمی پڑھیں اور پھر ہر طالب علم پر لازم ہوتا تھا کہ وہ دس احادیث کی تخریج کرے۔ عموما وہ احادیث آپ اپنی طرف سے سے طلباء کو تفویض کرتے تھے اور پھر تمام طلبہ مکتبہ میں جا کر ان احادیث کی تخریج کرنے کے بعد آپ کو واپس جمع کروا دیتے۔ آپ طلبہ کو ان کی محنت کے مطابق نمبر دیتے آپ کے بعد بھی یہ سلسلہ اب تک جاری ہے جو کہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
    اس کے علاوہ آپ اصول حدیث، تاریخ السنة ومکانتها فی الاسلام وغیرہ جیسے مضامین کی تدریس بھی کرتے رہے۔
    جامعہ سلفیہ کی مسجد کی امامت:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب کو ابتدا میں جہری نمازوں کی کی امامت کی ذمہ داری دی گئی۔ اس ذمہ داری کو نبھانے میں آپ نے کبھی سردی یا گرمی نہ دیکھی، اور نہ بارش کی پرواہ کی۔ پابندی کے ساتھ امامت کے لئے حاضر ہوتے۔
    فیصل آباد میں میں قیام کے پانچ سال کے بعد آپ نے محلہ صدیق آباد میں اپنا ذاتی گھر تعمیر کروایا جو کہ جامعہ سلفیہ کے قریب تھا اور کچھ ویرانے میں تھا بالخصوص نماز فجر میں کبھی کبھار کتے آپ کے پیچھے پڑ جاتے لیکن آپ نے کبھی ان کی پرواہ نہ کی بلکہ جب کہ برسات کے دنوں میں میں آپ کے گھر کے چاروں طرف پانی بھر جاتا تھا۔ تین تین فٹ پانی سے گزر کر بھی آپ وقت پر نماز اور تدریس کے لئے پہنچ جایا کرتے تھے۔
    قیام فیصل آباد کے دوران آبائی علاقہ میں دینی خدمات:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب کو فیصل آباد آنے کے بعد مسلسل فکر لاحق رہتی تھی کہ کس طریقے سے مسلک اہل حدیث کی دعوت کو اپنی قوم اور برادری میں عام کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد امور سرانجام دیئے۔
    آپ نے اپنے گاؤں اور عزیز و اقارب کے کئی بچوں کو لاکر جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخل کروایا تاکہ یہاں سے خالص قرآن و حدیث کا علم حاصل کر کے اپنے آبائی علاقے میں جا کر اس کی تبلیغ کریں۔ ان طلباء میں مولانا عبدالحمید پھل صاحب کے تین بیٹے شامل تھے۔
    آپ نے اپنی بڑی بیٹیوں کے نکاح مولانا عبدالحمید کے تینوں بیٹوں سے کیے تاکہ یہ بھی وہاں جا کر دین کی ترویج و اشاعت کر کے آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔ بحمداللہ آپ کی بیٹیاں دین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ مدرسہ اتباع القرآن والحدیث کو مزید فعال بنانے کے لیے مسلسل مولانا عبد الحمید پھل اور ان کے بڑے بیٹے ماسٹر محمد اسماعیل پھل سے رابطہ میں رہتے اور انہیں ہدایت جاری کرتے اور مالی اعانت بھی کرتے رہتے تھے۔
    1996 میں آپ نے اپنے سسر کے پلاٹ و گھر سے متصل ودھیلی گاؤں کھرڑا میں ایک پلاٹ جس کا رقبہ 16 گھنٹے تھا خریدا اور اس کا چوتھا حصہ مسجد کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے یہاں پر مسجد دارالسلام اہل حدیث تعمیر کروائی کسی سے کوئی فنڈ نہ لیا بلکہ اپنی تنخواہ میں سے رقم بچا بچا مسجد پر لگاتے رہے ہیں۔
    2000 میں اس مسجد کا افتتاح سندھ کے مشہور مبلغ مولانا حاجی علی محمد سیال صاحب نے خطبہ جمعہ سے کیا۔ آپ بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے۔ اس موقع پر جامعہ شمس العلوم کے دیوبندی اساتذہ نے بڑی مخالفت کی اور اس حد تک آگے نکل گئے کہ مسجد کو مسجد ضرار کہہ ڈالا اور اہل حدیث کو قادیانی سے تشبیہ دے ڈالی۔ لیکن بحمداللہ مخالفت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا مسجد قائم ہے اور مسلک اہل حدیث کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ ہے۔ والحمدللہ علی ذلک
    جامعہ سلفیہ میں آپ کے تلامذہ:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب سے جامعہ سلفیہ میں 19 سالہ دور تدریس میں علمی اکتساب کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے۔ جو کہ ملک کے طول و عرض اور بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی ڈائری میں جن خاص طلبہ کے نام لکھے ہیں ان کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے:
    جناب غلام سرور،جناب ضیاء الرحمن بٹ، جناب محمد سرور عاصم آف مکتبہ اسلامیہ لاہور، مولانا حفیظ الرحمن سندھی آف بھریا روڈ حال مقیم اسلام آباد، حافظ محمد خالد سیف، مولانا محمد سلیم شاہد، جناب احمد سلیم حسین مالدیپی، جناب عبداللہ قاسم مالدیپی، مولانا سیف الحق بنگالی، قاری محمد رفیق، مولانا محمد عمران سلفی بن عبدالرحیم، استاذ القراء قاری نوید الحسن لکھوی، مولانا محمد جمیل چنہ آف سکھر، مولانا محمد زمان ربانی سندھی، مولانا محمد خان محمدی آف ملکانہ شریف، مولانا رضاءاللہ، مولانا خلیل الرحمن رنگپوری، مولانا عزیز الرحمن بن عبد الرحمان، شیخ الحدیث مولانا افتخار احمد الازہری آف میرپور خاص، مولانا محمد جمیل عاجز آف میرواہ گورچانی، مولانا محمد امتیاز بن رفیع الدین، مولانا عبداللہ زبیر۔ مولوی سلیم اللہ، مولانا محبوب اللہ افغانی
    ان کے علاوہ چند معروف طلبہ کے نام یہ ہیں
    حافظ مسعود عبد الرشید اظہر، مولانا پروفیسر عبدالرزاق ساجد، پروفیسر حافظ منیر اظہر، مولانا زبیر ناصر آف مکتبہ ناصریہ، مولانا عبدالرشید شورش آف فیصل آباد، مولانا محمد یوسف ربانی سرگودھا، مولانا محمد یعقوب ربانی جرانوالہ، مولانا سرفراز صاحب اف سرگودھا، مولانا رانا یا سین شاہین آف جرانوالہ، مفتی عبدالخالق حقانی آف چک جھمرہ فیصل آباد، مولانا عبدالحق حقانی نائب ناظم تبلیغ مرکزیہ پنجاب، مولانا سیف اللہ ساجد قصوری ناظم تبلیغ مرکزیہ قصور، مولانا محمد زمان جونیجو آف تھرپارکر۔
    تصنیف و تالیف:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب نے تین عمدہ مقالاجات، چند مضامین اور متعدد خطوط تحریر کیے۔
    فتوح الاسلام:-
    یہ ایک مقالہ ہے جو کہ تقریبا پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ مقالہ جامعہ اسلامیہ کے درجہ "اللیانس” گریجویشن کی ڈگری کے حصول کے لیے لکھا تھا.
    تاریخ یہود المدینة:-
    یہ اہم ترین مقالہ آپ نے شہادة الماجستير (ایم اے )کے حصول کے لیے فضیلۃ الشیخ ضیاء العمری کے اشراف میں ترتیب دیا تھا۔ اس مقالہ کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ ضیاءالعمری نے اپنی کتاب "السیرۃ النبویة الصحیحة” میں 1/99 کے حاشیہ پر لکھا کے بنی قینقاع کے یہودیوں کی جلاوطنی کے متعلق جملہ روایات کو دیکھنے اور ان میں سے صحیح کے انتخاب میں، میں نے ایک مقالہ سے استفادہ کیا ہے جو کہ میری زیرنگرانی میرے ایک شاگرد اکرم حسین علی نے بنام "مرویات تاریخ یہود المدینة”ماجستیر کی ڈگری کے حصول کے لیے جامعہ اسلامیہ قسم الدراسات العلیا میں پیش کیا۔ یہ ایک انتہائی نافع مقالہ ہے کاش کہ اسے زیور طبع سے آراستہ کر دیا جائے۔
    الفوائد فی المستخرج لابی العباس السراج علی صحیح مسلم بن الحجاج:-
    یہ آپ کی اہم ترین تصنیف ہے جو کہ دکتورا (پی ایچ ڈی) کی ڈگری کے حصول کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے قسم الدراسات العلیا میں مقالہ کے طور پر پیش کی گئی۔ یہ درحقیقت ایک مخطوطہ کی احادیث کی تخریج ہے جو کہ امام ابو العباس محمد بن اسحاق السراج کی تحریر کردہ ہیں۔ اس کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ امام سراج وہ شخصیت اور محدث ہیں جن کی ثقاہت پر تمام محدثین متفق ہیں امام ابن خزیمہ کے ہم عصر اور ان کے قریب و پائے کے محدث ہیں۔ امام بخاری و میں مسلم کے شاگرد ہونے کے باوجود شیخین نے آپ سے کئی روایات لی ہیں صحیح مسلم میں ایک روایت امام سراج کی مذکور ہے۔ جبکہ کہ التاریخ الکبیر میں متعدد روایات و اقوال امام بخاری نے امام سراج سے نقل کئے ہیں۔
    اس کے علاوہ جامعہ سلفیہ میں تدریس کے دوران مکتب الدعوہ اسلام آباد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے چند ایک مضامین جو کہ عربی زبان میں ہیں اور دعوت کے اصول و ضوابط کے موضوع پر ہیں وہ آپ نے تحریر فرمائے ہیں۔
    بیماری کی ابتداء:-
    سعودی عرب میں قیام پذیر ہوتے ہوئے دکتوراہ کے مرحلہ میں آپ کو گردن اور کندھوں کے پٹھوں میں شدید درد کی شکایت رہنے لگی۔ تکلیف کی شدت کو کم کرنے کے لیے آپ ٹیبلٹ استعمال کیا کرتے تھے۔
    فیصل آباد آنے کے بعد تکلیف کی شدت وقتاً فوقتاً بڑھ جاتی آپ نے کئی ڈاکٹروں سے علاج کروایا۔ ٹیبلیٹ کھانے اور انجکشن لگوانے سے درد کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔آپ کو بسا اوقات اس قدر تکلیف ہوتی ہے پوری پوری رات آرام نہ کرپاتے اور گردن پر تکیہ رکھ کر اور اس پر ٹیک لگا کر گھنٹوں بیٹھے رہتے۔ مسلسل آرام کی کمی کی وجہ سے ڈپریشن و دیگر امراض لاحق ہو گئے جس کی وجہ سے جامعہ جانس بھی کم کر دیا۔ پروفیسر چوہدری محمد یاسین ظفر صاحب نے آپ کی ذمہ داریاں بالکل کم کر دی تھیں۔ آپ صرف ایک سبق پڑھانے جاتے اور صرف نماز مغرب کی امامت کراتے تھے۔ شعبہ حفظ کی ذمہ داری بھی ترک کر دی تھی۔
    ڈاکٹر اکرم کے والد کی وفات:-
    2007 کے آخری ایام میں آپ کے والد گرامی میں حاجی حسین علی شدید بیمار ہو گئے اس وقت ان کی عمر سو سال سے زائد تھی۔ بیماری کی شدت کی وجہ سے چار پائی سے اٹھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ اپنی بیماری کے باوجود ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے کچھ دن گزارنے کے بعد واپس چلے گئے۔ جنوری 2008 عیدالاضحیٰ کے دوسرے دن آپ کے والد گرامی فوت ہوگے۔ آپ کو اطلاع ملی تو آپ اپنے بیٹے سالم کے ساتھ کھرڑا تشریف لائے آئیے نماز جنازہ کے بارے میں آپ کو اطلاع دی گئی کہ آپ کے والد نے وصیت کی ہے کہ ان کی نماز جنازہ مدرسہ شمس العلوم کھرڑا کے شیخ الحدیث مولوی رشید احمد پڑھائیں۔ چنانچہ آپ نے کسی قسم کا تعرض نہ کیا۔ جب جنازہ قبرستان لایا گیا تو آپ نے اپنے بڑے بیٹے مولانا حافظ خالد اکرم مدنی صاحب کو دوبارہ نماز جنازہ پڑھانے کے لئے آگے کیا کسی کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ دوبارہ نماز جنازہ پڑھانے کے بعد آپ نے اپنے ہاتھوں سے تدفین کی لوگ آپ کے پاس تعزیت کے لیے آتے رہے۔
    آپ نے اس موقع پر جامع مسجد دارالسلام دیکھی اور اللہ کی بارگاہ میں خوب دعائیں بھی کیں۔
    ان ہی ایام میں آپ کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی آپ کے ہاتھ اور پاؤں میں سوزش شروع ہوگی آپ کے ایک عزیز ڈاکٹر نے مشورہ دیا کیا کہ آپ کی بیماری بہت سیریس ہے لہذا آپ حیدرآباد جاکر کر کسی اچھے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں لیکن آپ نے اس کی بات پر توجہ نہ دی اور فیصل آباد فوری واپسی کا ارادہ کرلیا۔ حافظ خالد اکرم مدنی صاحب نے آپ کو روہڑی اسٹیشن سے سے ریل گاڑی میں بٹھایا اور آپ فیصل آباد روانہ ہوگئے گئے۔
    مرض الموت:-
    یکم فروری 2008 کو حافظ خالد المدنی صاحب کو ان کی والدہ محترمہ کا فون آیا کہ آپ کے والد کی طبیعت زیادہ خراب ہے آپ فوراً پہنچیں اور آپ کا چیک کروائیں آپ اپنے ماموں محمد اسماعیل کے ساتھ فوری فیصل آباد روانہ ہوگئے۔ آپ کی حالت دیکھ کر کر آپ کو فورا ساحل ہسپتال میں میں نیورو سرجن ڈاکٹر مرزا اکمل شریف کے پاس چیک اپ کے لئے لے آئے جنہوں نے آپ کو فورا ہسپتال داخل داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق راٹھور ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔ تقریبا چار دن تک آپ یہاں ایڈمٹ رہے اس دوران ان شاید کہ آپ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ آپ کی زندگی کے ایام مکمل ہونے والے ہیں اور دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آچکا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے کو متعدد وصیتیں کیں اور یہ بھی بتایا کہ ان پر پر کسی کا بھی کوئی قرض نہیں ہے۔
    آپ کی وصیتوں میں سے کچھ یہ تھیں۔
    آپ کے مقالہ و کتب کی تکمیل و طبع
    مسجد دارالسلام کی تکمیل اور انتظام و انصرام
    آپ کے مکتبہ کی کتب کا خیال رکھنا
    چھوٹے بیٹے یاسر کا خیال رکھنا اور اسے دینی تعلیم دینا
    آیات وراثت کے بار بار تلاوت کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنے کی تلقین کرنا
    اس دوران جامعہ سلفیہ کے کبار اساتذہ کرام و مشائخ بالخصوص پروفیسر محمد یاسین ظفر صاحب، فضیلۃ الشیخ شیخ محمد یونس بٹ صاحب صاحب، شیخ الحدیث عبدالعزیز علوی صاحب آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔
    اس موقع پر پروفیسر یاسین ظفر صاحب نے آپ کے فرزند حافظ خالد اکرم صاحب کے روبرو آپ کی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک جملہ ارشاد فرمایا:
    ” یہ وہ شخصیت ہے جو آج کے دور کی نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے کی شخصیت ہے جنہیں اللہ تعالی نے اس دور میں بھیجا ہے”
    یہ تبصرہ اس شخصیت کا ہے جن کے ساتھ آپ نے بیس سال کا عرصہ گزارا اور وہ آپ کی ہر ادا سے واقف تھے۔
    چار دن ہسپتال میں رہنے اور علاج معالجہ کے بعد آپ کی طبیعت سنبھل گئی تو تمام اہل خانہ کے مشورہ سے آپ کو کچھ دن آرام کی غرض اور بچوں سے ملاقات کے لیے حیدرآباد لایاگیا حیدرآباد آنے پر جملہ عزیز و اقارب آپ سے ملنے ائے۔ کچھ دن گزرنے کے بعد آپ کی طبیعت خراب رہنے لگی اور آپ شدید بخار میں مبتلا ہوگئے۔ ڈاکٹرز کو چیک کرانے کے بعد آپ کو گردن توڑ بخار تشخیص ہوا جو کہ جان لیوا مرض ہے۔ کچھ دن علاج کے بعد آپ کومہ میں چلے گئے۔ مسلسل سات دن کومہ میں رہنے کے بعد ڈاکٹرز نے آخری حل کے طور پر دماغ کا آپریشن کرنے کی تجویز دی جس میں بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں پھر بھی رسک لے کر اسراء یونیورسٹی ہسپتال میں یہ آپریشن بھی کر دیا گیا۔ آپریشن کے بعد آپ کو آئی سی یو میں لے جایا گیا کچھ گھنٹوں کے بعد سانس اکھڑنے لگی لگی تمام ورثاء اور مدیر جامعہ سلفیہ کو آپ کی طبیعت کے بارے میں مطلع کردیا گیا۔
    بالآخر دین سے وابستہ رہنے اور دین کی خدمت کرنے والا یہ انسان 7 مارچ 2008 بمطابق 28صفر 1429ھ جمعۃ المبارک کے دن اس دنیا فانی کو چھوڑ کر دار البقا کی طرف روانہ ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
    آپ کی عمر 65 یا 66برس تھی۔
    آپ کو غسل آپ کے بڑے داماد عبدالقادر پھل صاحب نے دیا مدرسہ تعلیم القران والحدیث گھمن آباد حیدرآباد میں آپ کی نماز جنازہ محترم حافظ عبد الصمد صاحب خطیب جامع مسجد دارالسلام حیدرآباد نے پڑھائی تدفین کے لئے آپ کی میت آبائی گاؤں لائی گئی جہاں پر دوبارہ آپ کی نماز جنازہ حافظ خالد اکرم مدنی صاحب نے پڑھائی۔ جس میں عزیز و اقارب اور قرب و جوار کے جماعتی دوست و احباب نے شرکت کی۔
    جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں آپ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے کبار اساتذہ کا وفد پروفیسر محمد یاسین ظفر صاحب کی قیادت میں تعزیت کے لیے تشریف لایا ورثاء سے تعزیت کرنے کے بعد قبرستان جاکر استاذ العلماء فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھائی اور گڑگڑا کر دعائیں۔
    یہ وہ بندہ خدا تھا جو ضلع خیرپور میرس کے ایک غیر معروف گاؤں سے اٹھا مدینہ منورہ میں جاکر جور رسول میں تعلیم حاصل کی اور عرصہ بیس سال تک طالبان علوم نبوت کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے بعد اپنے رب کے حضور چلا گیا اللہ تعالی انہیں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین
    شادی و اولاد:-
    ڈاکٹر اکرم حسین علی پھل صاحب نے ایک شادی کی جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو 4 بیٹے اور 6 بیٹیاں عطا کیں۔

  • الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں  تحریر: ابوارحام محمد الازہری

    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں تحریر: ابوارحام محمد الازہری

    عنوان
    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین اور اہل ایمان کی ذمہ داریاں

    کچھ روز قبل مجھے اپنے مادر علمی میں جانے کا شرف حاصل ہوا۔ کورونا کے باعث تمام تعلیمی اداروں کی طرح دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں بھی گذشتہ چند ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں . مگر حالیہ ایام میں دورہ حدیث شریف کے طلباء کے امتحانات کے باعث ادارے کو جزوی طور پہ کھولا گیا۔ اساتذہ کرام سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا تو میری ملاقات قبلہ علامہ حافظ نعیم الدین صاحب الازہری سے ہوئی۔ آپ سے جامعہ الازہر الشریف کے احوال پہ تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ اور باتیں بھی ہوئیں جو خالصتاً علمی نوعیت کی تھیں کچھ کتب پر تبصرے بھی ہوئے۔ باتوں باتوں میں الحاد و ملحدین کا ذکر ہوا تو قبلہ فرمانے لگے کہ کاشف صاحب ہم نے ایک 3 روزہ سیشن شروع کیا ہے آپ بھی اس میں شامل ہو جائیے۔ آمنا کہتے ہوئے استاذی المکرم کے حکم پہ اس کلاس کا حصہ بنا جو زوم ایپ پہ رد الحاد و ملحدین کے حوالے سے انعقاد پذیر تھی۔ کلاس کیا تھی گویا علم کا ایک بحر بے کنار تھا اور مجھ جیسے ناکارہ خلائق کو ایک بار پھر گلستان ضیاءالامت سے خوشہ چینی کا شرف مل رہا تھا۔

    اس سیشن کا عنوان:
    الحاد، عصر حاضر کے ملحدین کے اعتراضات کا علمی محاکمہ اور نسل نو کی الحاد پر فکری بالیدگی کے ذرائع

    اس سیشن کے ابتدائیے میں جامعہ الازہر الشریف کے فارغ التحصیل عظیم مذہبی سکالر جناب ثاقب شریف الازھری نے ایک اہم ترین موضوع کی طرف توجہ دلائی جو اس دور کی اہم ضرورت بھی ہے اور ملحدین کے رد کے لیے نوجوان طبقہ کے لیے نسخہ اکسیر بھی۔

    ثاقب صاحب نے فرمایا کہ آج کے دور میں ملحدین کا رد کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آپ دلیل کے ساتھ نرمی سے بات کریں قرآن کریم تو فرعونِ موسیٰ سے بھی کلام کرنے کے لیے قول لینا کی ترغیب دیتا ہے۔ ان اصول اختلاف کو سکھانے کے بعد الحاد کے مادہ اشتقاق کو زیر بحث لایا گیا اور اس کی لغوی و اصطلاحی تعریف بیان کی گئی۔ الحاد اپنے لغوی معنیٰ کے اعتبار سے ظلم کا مترادف ہے اور راہ حق سے اعراض کرنے والے کو اسلام ملحد کہتا ہے۔ لغت کی کتابوں کے ساتھ ساتھ یہی معنیٰ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے اللہ رب العزت نے الحاد کے صریح لفظ کو سورۃ الحج میں ذکر فرماتے ہوئے اس سے مراد "راہ حق سے روگردانی” ہی لی ہے۔ عہد جدید و قدیم ہر زمانے کے ملحدین کے اعتراضات کا اگر علمی محاکمہ کیا جائے تو درحقیقت یہ حقیقت سے اعراض ہی ہے کیونکہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللّٰه رب العزت کی ذات بابرکات ہے اور ملحدین کا بنیادی اعتراض ہی وجود باری تعالیٰ پر ہے۔ ملحدین اپنے عقائد کی بنیاد بھی انکار وجود باری تعالیٰ پہ رکھتے ہیں۔ اور یہ نظریہ جدید دور کی پیداوار نہیں بلکہ زمانہ قدیم اور عہد صحابہ و تابعین سے چلا آ رہا ہے۔ اللّٰه کریم کی ذات کا انکار وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر یہ طبقہ آج بھی قائم ہے امام اعظم رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد میں ان بدطینت لوگوں کے نظریات کی عقلی و نقلی دونوں طرق سے نفی فرمائی اور مناظرہ بھی کیا۔ لیکن یہ نظریہ ازمنہ قدیم میں محدود پیرائے پر محدود طبقے تک ہی رہا۔ زمانہ جوں جوں ترقی کرتا گیا علمانیین(سیکولر طبقات) اور دیگر صیہونی و صلیبی طاقتوں کو جب عروج ملنے لگا تو ڈارونائز لوگ پیدا ہونے لگے اور ڈارون (جو الحادی نظریات کا موجد تھا) نے الحادی نظریات کو سائنٹیفک بنیاد پر فروغ دیا۔ جس سبب الحاد کو ایک نئی فکر ملی جو فکر آج بھی ڈارون ازم کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ لیکن یہ ساری فکر عالم کفر تک ہی محدود رہی اسلامی ممالک اپنے نظریات میں خالص تھے کہ اچانک خلافت عثمانیہ ٹوٹ گئی خلافت کے منتشر ہونے کی دیر تھی مصطفیٰ کمال اتاترک اور اس جیسے کئی لبرلز نے اسلامک معاشروں میں ماڈرنزم کے نام سے الحاد کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ ڈاروانائز اور لبرل طبقے نے ہر دور میں سادہ لوح مسلمانوں کو عقلی ادلہ اور سائنسی نظریات سے مات دینے کی کوشش کی۔ مگر امت مسلمہ پر اللّٰه کریم کا یہ احسان ہے کہ الله کریم نے اپنے ہی کلام قرآن مجید سے مسلمانوں کو عقلی ادلہ بھی سکھائے اور ان سے استدلال کا طریقہ کار بھی سمجھا دیا۔ قبلہ ثاقب صاحب نے چند ایک امثلہ سے قرآن کریم کے عقلی ادلہ کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو مکمل فرمایا۔

    یوں سیشن کا ابتدائیہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پہلے سیشن کا پہلا حصہ مکمل ہوا دوسرا حصہ نماز عشاء کے لیے تقریباً 25 منٹ کے توقف کے بعد دوبارا شروع ہوا۔ جس میں محترم المقام حضرت علامہ نعیم الدین الازہری صاحب نے الحاد اور دیگر فتن کو موضوع بحث بنایا۔

    قبلہ نے ابتداء میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے فتنوں کی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے امت مسلمہ کو تنبیہ فرمائی۔ آپ نے بتایا کہ رسول پاک صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایسا پرفتن دور بھی آئے گا کہ انسان صبح کے وقت تو مومن ہو گا مگر شام تک کافر ہو جائے گا اور اگر شام کو مومن تھا تو صبح تک کفر کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ آپ نے عہد قدیم و جدید کے متعدد فتنوں کا ذکر فرمایا جن میں سے آج الحاد، قادیانیت، غامدیت اور جہلمی فتنہ بڑی سرعت سے ہماری رگ و پے میں سرایت کرتا نظر آتا ہے۔ آپ نے طلباء کو ان جدید فتنوں سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ ان کے تدارک کا بھی مختصراً طریقہ کار سمجھایا۔ علامہ نعیم الدین الازھری نے فرمایا کہ اسلام نے انسانیت کے سدھارنے کے 3 طریق بتائے ہیں۔ جنھیں قرآن کریم کی سورۃ النحل کی 125 ویں آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللّٰه رب العزت نے واعظین، خطباء و مشائخ کو یہ درس دیا ہے کہ حکمت و دانائی اور فراست کے ساتھ لوگوں کو اللّٰه کریم کے طریق رحمت کی دعوت دی جائے۔
    انسانیت میں ڈھٹائی کے بھی تو درجے ہیں اگر کسی کو حکمت کی سمجھ نہ آئے تو رب کعبہ نے عمدہ نصیحت کا حکم دیا بحث کو تیسرے درجے میں رکھا ساتھ فرما بھی دیا کہ مجادلہ(بحث) تو کرو مگر مجادلہ ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے مطابق احسن انداز میں کرو ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے بھاگ جائیں۔ آج مجموعی طور پر ہمارے واعظین و خطباء کا حال یہ ہو چکا ہے کہ ہر فرد دوسرے فرد پر ہر گروہ دوسرے گروہ پر ذاتی و مسلکی و گروہی تعصب کی بنا پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے۔ فروعی اختلافات کی وہ گتھیاں جو اہل خانہ نے اپنی چاردیواری میں سلجھانا تھیں انھیں اسٹیجز کی بحث بنا کر تشدد کو ہوا دی گئی۔ اور ہم اتنے حصوں میں بٹ گئے کہ ہم نے مجتمع ہو کر جن بین الاقوامی عصبیتوں کا خاتمہ کرنا تھا وہ جوں کی توں ہی رہیں مگر ہم منتشر ہو گئے نتیجتاً علم، عمل اور علماء سب کچھ ہم سے عنقاء ہو گیا۔ معاً بعد آپ نے ملحدین کے اسلوب اعتراض کو مفصل انداز میں ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ حیرت انگیز بات سننے کو ملی کہ ہماری نئی جنریشن اور نوجوان نسل اس فتنے کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔ جس کا سبب دین سے عدم واقفیت اور علماء سے دوری ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بھی اس حوالے سے انتہائی ناقص ہے طلباء کی ذہنی و فکری بالیدگی کو اس نظام اور نصاب نے آسودگی سے بدل دیا ہے نتیجتاً آج کا جدید ذہن الحاد کی زد میں آ رہا ہے۔ قبلہ استاذی المکرم نے آخر میں طلباء و علماء کو یہ نصیحت فرمائی کہ آج کے اس پرفتن دور میں ان مسائل کو موضوع بحث بنانے کی قطعاً حاجت نہیں جو ختم ہو چکے ہیں جن کا ماحصل کچھ نہیں۔ بلکہ ان فتنوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کو تباہی کی دہانے تک پہنچانے کو پر تول رہے ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کی روشنی میں یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ رب العزت کااہل اسلام کو حکم ہے کہ جہاں دین اور مقدساتِ دین کا انکار کیا جا رہا ہو ایسی مجلس میں نہ بیٹھیں اور ایسی صحبتوں سے گریز کریں وگرنہ ان کے عقائد بھی خراب ہو جائیں گے . ہاں اگر فتنہ کی سرکوبی کے لیے تیاری اور علمی پختگی ہو تو تب اصلاح کی نیت سے ضرور معترضین سے بات کرنی چاہیے .

    ان دونوں نشستوں میں علامہ ثاقب شریف صاحب الازہری اور قبلہ نعیم الدین صاحب الازہری نے نا صرف سیر حاصل گفتگو و راہنمائی فرمائی بلکہ چیدہ چیدہ مگر انتہائی اہم کتابوں اور ان کے مصنفین کا بھی ذکر فرمایا۔ تاکہ طلباء خود سے اپنے مطالعہ کو وسعت دیں۔ اور ان موضوعات پر تیاری کریں۔ یہ دونوں لیکچرز تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھے مگر دونوں اپنی جامعیت کے اعتبار سے کئی دنوں کی محنت کا ثمر تھے۔ مالک کریم آستان ضیاءالامت اور آپ کے تمام متوسلین و خدام کو تاابد علم دوست رکھے اور اس گلستان کو ہمیشہ ثمر بار رکھے آمین یارب العالمین

    ابوارحام محمد الازہری
    03414738300
    mohammadkashifnoor7860@gmail.com
    تحصیل و ضلع جھنگ

  • مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ  کی اسلام کے لئے خدمات  بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی اسلام کے لئے خدمات بقلم:عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کتاب ” #حجیت_حدیث”

    بقلم:- #عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلی بعد ازاں امیر منتخب ہوئے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ آپ بیک وقت منتظم، مدرس، کہنہ مشق صحافی، بےمثال ادیب، مناظر، مصنف اور بلند پایہ خطیب اور عظیم قائد تھے۔
    آپ نے مدرسہ نذیریہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الجبار عمر پوری،مدرسہ غزنویہ امرتسر میں مولانا عبد الغفار غزنوی، مولانا عبد الرحیم غزنوی، قیام امرتسر میں ہی مولانا مفتی محمد حسن ( دیوبندی) بانی جامعہ اشرفیہ لاہور اور سیالکوٹ میں مولائے میر مفسر قرآن علامہ محمد ابرہیم میرسیالکوٹی سے علمی اکتساب کیا۔ فراغت کے بعد آپ نے گوجرانولہ کو اپنا مرکز بنایا اور گوجرانولہ کی جامع مسجد اہل حدیث میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی۔
    آپ کی علمی شخصیت کو دیکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں پڑھانے کے لیے بلوا بھیجا لیکن آپ نے گوجرانولہ میں رہ کر پاکستان میں خدمت دین کو ترجیح دی۔
    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ پانچ وقت نمازیں بھی پڑھاتے، تدریس بھی کرتے، تبلیغی و تنظیمی اسفار بھی جاری رہتے، آپ نے کثیرالاشتغال زندگی گذاری۔ سب کاموں کے باوجود قلم و قرطاس سے ناطہ جوڑے رکھا۔ آپ نے بہت زیادہ تو نہیں لکھا لیکن جو لکھا وہ خوب لکھا۔ آپ کی تحریر میں روانی، سلاست بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ان کا برمحل استعمال اور شیفتگی بدرجہ اتم موجود ہوتی تھی۔ آپ کو اردو زبان وادب، اور انشا پردازی کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور اس کے لب و لہجہ کے اس کی لطافتوں اور نزاکتوں پر بھی عبور کامل حاصل تھا۔
    مولانا سلفی صاحب کا قرآن مجید کے بعد پسندیدہ موضوع حدیث،حجیت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین کے کارنامے تھا۔ال پاکستان اہل حدیث کانفرنس کے موقع پر آپ کی عموماً گفتگو حجیت حدیث، مقام حدیث، مسلک اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث اور خدمات اہل حدیث کے موضوع پر ہوا کرتی تھی۔
    برصغیر میں فتنہ انکار حدیث نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مقام رسالت اور احادیث مبارکہ سے راج فرار کی کوشش کی۔ انہیں دراصل دشمنان اسلام مستشرقین کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ تحقیق و جستجو کے نام پر مقام رسالت، حفاظت حدیث، تدوین حدیث اور محدثین عظام کی کوششوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کرکے اسلام کا تشخص ختم کرنے پر درپے ہے۔ عبداللہ چکڑالوی سے لےکر جاوید غامدی تک کی یہی کوشش اور چاہت رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے اسلام کا حلیہ بگاڑ دیا جائے۔لیکن عاملین بالحدیث کی جماعت نے ہمیشہ سے ان کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اور عملی میدان میں تحریری و تقریری ان کا علمی محاسبہ کیا اور جواب دیاہے۔ اس میں بہت سے علماء اہل حدیث کی کوششیں شامل ہیں۔
    زیرنظر کتاب ” حجیت حدیث” مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب کی ہے جس میں چار رسائل موجود ہیں۔ جس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت، تشریعی حیثیت، حدیث کی حجت، درایت حدیث کے ساتھ ساتھ منکرین حدیث، مولانا مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی وغیرہ کے شبہات اور اعتراضات کا بڑے عمدہ اور دلنشین انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے جو طنز و تشنیع سے ہٹ کر خالص علمی انداز میں لکھی ہے۔ مولانا سلفی صاحب کی کتب فرقہ واریت کے حبس میں ہوا کا تازہ جھونکا کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جن میں آپ کا محدثانہ رنگ نظر آتا ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف رکھنے والے اور جس کے دل میں حدیث کے بارے معمولی سا بھی شائبہ ہو وہ ضرور اس کا مطالعہ کرے۔ مبتدی طلباء سے لے کر علماء کرام اور عام بندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔
    اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے محترم جناب حافظ شاہد محمود صاحب حفظہ اللہ کو جنہوں نے مولانا اسماعیل سلفی صاحب کے علاوہ نواب جاہ والا حضرت نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمت اللہ علیہ و دیگر علماء کی کتابوں کو پردہ عدم سے نکال کر ایک نئے انداز اور جدید تقاضوں کے مطابق منظر عام پر لائے ہیں اور ہم جیسے طلبہ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • تنہائی  کہیں ہمیں شیطان کا ساتھی نہ بنا دے  از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    تنہائی کہیں ہمیں شیطان کا ساتھی نہ بنا دے از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    تنہائی، کہیں ہمیں شیطان ک ساتھی نہ بنا دے!!!
    از قلم عاقب شاہین پلوامہ

    ہے گِلہ مجھ کو تِری لذّتِ پیدائی کا
    تُو ہُوا فاش تو ہیں اب مرے اَسرار بھی فاش

    شُعلے سے ٹُوٹ کے مثلِ شرَر آوارہ نہ رہ
    کر کسی سِینۂ پُر سوز میں خلوَت کی تلاش

    اگر ہم غور کریں تو دیکھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے انسان زیادہ خلوت میں رہ گیا ہے…۔ اس وبا کے جہاں بے شمار مثبت پہلو ہیں وہیں کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ وہ زندگی جہاں ہر کسی پر کوئی نہ کوئی مسلط ہے اس وبا نے ملاقاتوں سے اجتناب کے مواقع فراہم کردیے ہیں۔ تنہائی، خلوت اور گوشہ نشینی کے دن اور رات فراہم کردیے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ روابط، تعلقات، رشتے، خواہش، جذبات، محبت اور دوستی انسان کو مطمئن اور آسودہ رکھتی ہے لیکن ساتھ ہی مضطرب، بے چین، پریشان اور پر ملال بھی۔۔۔ جبکہ خلوت اور گوشہ نشینی روح کا وہ سفر ہے جو آگہی، تفکر، صبر، شکر اور بندگی کی کشش سے آگاہ کرتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا :

    شعلے سے ٹوٹ کے مثل شرر آوارہ نہ رہ
    کر کسی سینہ پر سوز میں خلوت کی تلاش..!!

    اس شعر کی تشریح میں شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کے خیالات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ فرماتے ہیں ’’تنہائی میں خیالات کی یکسوئی کے سبب باطن صاف ہو جاتا ہے اگر باطن کی صفائی مذہبی رہنمائی اور رسول اللہؐ کی سچی پیروی کا نتیجہ ہے تو اس سے روشن ضمیری، دنیا سے بے تعلقی، ذکر الٰہی کی حلاوت اور مخلصانہ عبادت کا ظہور ہوگا اور اگر مذہبی ہدایت اور رسول کریمؐ کا اتباع مقصود نہیں تو محض نفس کی صفائی ہوگی‘‘۔
    لیکن خلوت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ خلوت میں انسان شیطان کا سب سے آسان ہدف ہوتا ہے۔ شیطان جو رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے خلوت میں زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔۔۔۔
    آج ہمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے آزمایا جارہا ہے، جہاں ایک کلک کر کے آپ وہ کچھ دیکھ سکتے ہیں
    جس سے ہمارے ایمان کا ایک منٹ میں خاتمہ ہوسکتا ہے۔۔۔
    ہم اپنے دوستوں سے مل کر ایسی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتے ہیں جس سے شیطان بھی شرماتا ہے ،ہم خفیہ گروپس بنا کر رات دن شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔۔۔ ہمیں لگتا ہے شاید ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا ، الگ کمرے میں سب سے چھپ کر گناہ کرتے رہتے ہیں
    (یستخفون من الناس) لوگوں سے تو چھپا لیتے ھیں (ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم) مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ھے ،
    ہمارا لکھا اور دیکھا ہوا سب ہمارے نامہ اعمال میں محفوظ ہو رہا ھے ،جہاں سے صرف اسے سچی توبہ ہی مٹا سکتی ہے۔۔۔۔

    یہ سب امتحان اس لئے ہیں تاکہ (لیعلم اللہ من یخافه بالغیب) اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔
    یہ لکھنے والے ہاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواہی دیں گے ،،
    : { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ) (یسن – 65)
    ” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔‘
    اس لیے میرے عزیزو !!!
    ایسے کام کرو کہ ہمارے ہاتھ محشر میں گواہی دیں ، اس نے ہمارے ذریعے کبھی کسی ایسی ویب سائٹ پر کلک نہیں کیا جس سے ایمان کا خاتمہ ممکن ہو….ہماری آنکھیں یہ گواہی دیں کہ اس انسان نے مجھ سے کوئی ایسی تصویر یا ویڈیو نہیں دیکھی جس سے اس کے ایمان پر برا اثر پڑا ہو ۔۔۔۔

    ’’ ہم اپنے احباب و اقارب سے چھپ کے گناہ کرتے ہیں ، ڈرتے ہیں کہ اگر کوئی دیکھ لے گا تو رسوائی ہوگی ..مگر وہ دن یاد نہیں.. جب ہماری بیوی، بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رہے ہوں گے اور دوست واحباب بھی موجود ہوں گے ،، زمانہ دیکھ رہا ہو گا اور تھرڈ ایمپائر کی طرح کلپ روک روک کر اور ریورس کر کے دکھایا جا رہا ہو گا ،، ہائے ، اُس رسوائی کا کیا عالَم ہو گا ،،،،،،،،،،،،،،،،

    آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرہیز کا عزم ہمارے پچھلے کیے ہوئے کو صاف کر سکتا ہے. اور ہمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ھے ،،

    خلوت کے گناہ انسان کے عزم وارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ہیں. یوں وہ خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ھے.
    (اِتَّقِ الله حيث ما كنت) جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو.
    اللّہ تعالٰی ہم سب کی حفاظت فرمائے.
    آمِین…”.

    ايک دن آپ تمام دوست مجھے Off line پائيں گے۔۔!
    فرينڈ ريكوسٹ بھيجيں گے ليكن ايكسیپٹ نہيں ہوگى، ميسنجر پہ پيغام بھيجيں گے اور رپلائى كا گھنٹوں انتظار كرتے رہيں گے،
    ليكن جواب نہيں ملے گا۔ ۔۔!

    میں آپ كو مستقل Off line نظر آؤں گا۔۔۔
    ميرى پوسٹيں بھى آنا بند ہوجائيں گى،
    كيونكہ ميں اس دنيا سے رخصت ہوچكا ہوں گا،
    پھر آپ ميرے ساتھ كسى قسم كا كوئى رابطہ نہيں كر سكيں گے، ميرے كمنٹس كا رپلائى نہيں دے سكيں گے، ايكسكيوز نہيں كر سكيں گے، معذرت نہيں كر سكيں گے ۔۔!

    كيونكہ ميں اس وقت آپ كے ساتھ نہيں ہوں گا۔۔
    قبر كے تنگ و تاريك گڑھے ميں ابدى نيند سويا ہوں گا۔۔۔

    وہاں ميں ٹائم پاس اور تنہائى كو دور كرنے كے ليے كسى سے چيٹ نہيں كر سكوں گا۔۔
    وہاں ميرے اعمال ہى ميرے ليے حسرت اور خوشى كا سامان ہوں گے۔۔۔

    آپ بھى اس بات كى حرص كيجيے اور ميں بھى حرص كرتا ہوں، كہ ہمارى لكھى گئى پوسٹيں ہمیں قبر کے عذاب سے بچانے کا ذریعہ اور ہمارے ليے صدقہ جاريہ بن جائيں۔۔۔

    تو جلدى كيجيے !

    اپنى ٹائم لائن كا جائزہ ليں غير ضرورى پوسٹوں كو ڈيليٹ كريں، اور آئندہ ايسى پوسٹيں كرنے سے گريز كريں۔

    ابھى آپ كے پاس فرصت اور وقت ہے۔۔!

    كيونكہ ابھى تو آپ دنيا ميں wattssUp یا facebookپر online ہيں۔۔ ۔!

    ميں اپنے نفس كو اور آپ كو عربى كے اس شعر كى ياددہانى كروانا چاہتا ہوں:

    يلوح الخط في القرطاس
    دهرا وكاتبه رميم في التراب

    "ہمارا لكھا ہوا زمانہ بھر باقى رہے گا، جبكہ ہم مٹى ميں دھول بن جائيں گے۔”

    خرجت من التراب بغير ذنب
    *وعدت مع الذنوب إلى التراب

    ” ہم مٹى سے تو بغير گناہ كے نكلے تھے، ليكن مٹى ميں گناہ لے كر جارہے ہيں۔”
    جزاکم اللہ خیر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • جانوروں کی کالونیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی کالونیوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Colonies
    جانور کالونیوں میں اکٹھے رہتے ہیں۔

    Reference:- Wikipedia,Colony(biology), 2019
    "سماجی کالونیاں
    چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی طرح Eusocial نامی ایسے حشرات جو ملٹی سیلولر یعنی کثیر الجہتی(ایک سے زیادہ سیلز پہ مشتمل) ہوتے ہیں، ایک بڑی منظم سماجی ساخت کی طرح کالونیوں میں رہتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ سماجی کالونیاں سپر آرگینیزمز یعنی حیوانی جسم کی ساخت پہ مشتمل ہوتی ہیں۔
    جانور، انسانوں کی طرح اور کترنے والے جانوروں کی طرح، نشل کشی یا گھونسلا تشکیل دیتے ہیں، ممکنہ طور پر زیادہ کامیاب ملن کیلئے اور اولاد کی بہتر حفاظت کیلئے۔”

    آج ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ جانور برادریوں(کمیونیٹیز) میں رہتے ہیں اور ان کی اپنی زبانیں ہوتی ہیں۔
    جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ کہہ دیا گیا تھا۔

    Quran 6:38

    "اور ایسا کوئی زمین پر چلنے والا نہیں اور نہ کوئی دو بازوؤں سے اڑنے والا پرندہ ہے مگر ہاں یہ کہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں(برادریاں جانوروں کی) ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔”

    جانوروں کی بھی جماعتیں ہیں انسانوں کی جماعتوں کی طرح۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ جانوروں کی یہ جماعتیں کالونیوں میں رہتی ہیں۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ جانور کالونیوں میں رہتے ہیں؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گہرے حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Dead Sea
    بحیرہ مردار،
    زمین کا سب سے گہرا حصہ

    فارسیوں سے رومیوں کی شکست کے بعد قرآن نے بلکل ٹھیک پیشین گوئی کی کہ وہ دوبارہ فاتح ہوں گے۔ یہ جنگ ڈیڈ سی(بحیرہ مردار) کے قریب لڑی گئی۔

    Quran 30:2-3

    روم مغلوب ہو گئے۔(2)
    سب سے کم(نچلی، گہری) زمین میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔(3)

    اَدْنَى کے عربی میں دو مطلب ہیں، ایک ”نزدیک” اور دوسرا ”کم یعنی گہرا”. آج ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار(Dead Sea) زمین پر سب سے کم(گہرا) ترین پوائنٹ ہے۔ (سطح سمندر سے 423 میٹرز یا 1388 فٹ نیچے ہے۔)

    1400 پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے زمین کے سب سے گہرے مقام کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    بریسٹ فیڈنگ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    دودھ پلانا اور اسکا معاشرتی تعلق،

    بچے کو دودھ پلانے کی دو سال تک ہدایت کی گئی ہے۔

    Reference:- World Health Organization, Breastfeeding, 2018.
    "چھاتی کا دودھ بچے کیلئے پہلی قدرتی غذا ہوتی ہے، یہ وہ تمام غذائی اجزاء اور طاقت مہیا کرتا ہے جو ایک نوزائیدہ بچے کو پہلے مہینے کیلئے ضروری ہوتے ہیں، اور یہ آدھی یا اس سے زیادہ کی غذائیت پہلے سال کے دوسرے حصے تک مہیا کرتا رہتا ہے، اور ایک تہائی غذائیت زندگی کے دوسرے سال کے دوران مہیا کرتا رہتا ہے۔ ”

    جیسے جیسے بچہ بھاری ہوتا جائے گا، ماں کا دودھ اسے ناکافی ہوتا جائے گا۔ دوسرے سال میں ماں بچے کو اسکی ضرورت کے تحت صرف ایک تہائی حصہ مہیا کرتی ہے جو بچے کی غذائیت کیلئے کافی ہوتا ہے، اور اس دوران بچے کو دوسرے کھانے پھل وغیرہ دینا بہتر رہتا ہے۔

    Quran 2:233

    "اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت کو پورا کرنا چاہے،”

    قرآن میں چھاتی کا دودھ پلانے کی حد دو سال مقرر کر دی گئی تھی۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ چھاتی کا دودھ کتنی دیر تک پلانا صحت بخش ہے؟؟؟؟؟؟

    بچے اور ماں کے درمیان چھاتی کا دودھ پینے کی وجہ سے مضبوط رشتے کا ایک اور فائدہ جو بہت کم جانا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ

    Reference:- Time, Is Breast Milk the Key to Mother-Baby Bounding?, 2011
    "ماں اور بچے کے اچھے تعلقات کا راز چھاتی کا دودھ ہوسکتا ہے، نئی تحقیق کے مطابق یہ مانا جاتا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے کچھ مہینے بعد چھاتی کا دودھ پلانے والی ماں کا فارمولہ دودھ پلانے والی ماں کی بہ نسبت زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق قائم ہوتا ہے۔ جب وہ(چھاتی کا دودھ پلانے والی مائیں) اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی ہیں تو وہ مضبوط حاضر دماغی کے ساتھ جواب دینے کا مظاہرہ کرتی ہیں
    (مئی کے مہینے میں بچے کی سائیکالوجی اور سائیکیٹری کی ساخت کے مضمون پہ پبلش ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق)۔
    جبکہ ریسرچ میں شریک ماؤں کو سکینر میں لٹایا گیا اور انہیں اپنے بچے اور نامعلوم بچے کے رونے کے کلپس سنائے گئے، محققین نے سوراخ لگایا کہ انکے دماغوں کے کونسے حصے روشن ہوتے ہیں۔ تمام ماؤں کے دماغ زیادہ متحرک ہوتے تھے جب وہ اپنے بچے کے رونے کی آواز سنتی تھیں۔ لیکن دماغی حصے کے متعلق دودھ پلانے والی ماؤں میں ہونے والی تبدیلیاں کہیں زیادہ نمایاں تھیں۔

    دودھ پلانا ماں اور بچے کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے، ایک بہت مضبوط تعلق۔
    یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے یہ بات دریافت کردی گئی تھی کہ آخری لمحات میں یہ مضبوط ترین تعلق بھی ٹوٹ جائے گا۔

    Quran 22:2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (2)

    "جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔”

    آخری وقتوں میں یہ مضبوط تعلق بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ دودھ پلانا ماں اور بچے کے درمیان مضبوط تعلق بنا دیتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • رنگیلے پہاڑ کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    رنگیلے پہاڑ کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    معدنیات مختلف رنگوں پر مشتمل ہیں۔

    مختلف معدنیات مختلف رنگ کے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا بہت ہی شاذ و نادر ہوتا ہے کہ ایک ہی پہاڑ مختلف رنگوں پہ مشتمل ہو۔ مندرجہ ذیل تصویر پیرو(جنوبی امریکہ) کی ہے۔

    مگر قرآن میں یہ چودہ سو سال پہلے درج تھا۔

    Quran 35:27

     (الفاطر 27)

    کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر ہم اس کے ذریعے سے پھل نکالتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اور پہاڑ بھی مختلف رنگتوں کے کچھ تو سفید اور کچھ سرخ اور بہت سیاہ بھی ہیں۔

    پہاڑ مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مگر عرب کے صحرا میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ تصویر پیرو(جنوبی امریکہ) کی ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے مختلف رنگوں پہ مشتمل پہاڑ کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟ جبکہ تب امریکہ ابھی دریافت ہی نہیں ہوا تھا!!!

    بقلم سلطان سکندر!!!