Baaghi TV

Category: اسلام

  • فکری یلغار، سلو پوائزننگ  تحریر: عشاء نعیم

    فکری یلغار، سلو پوائزننگ تحریر: عشاء نعیم

    فکری یلغار، سلو پوائزننگ
    تحریر عشاء نعیم

    رفتہ رفتہ زمانہ بدل جاتا ہے ایک دم سے کچھ نہیں ہوتا ۔اور زمانہ بدلنے کا مطلب انسان بدلنا بلکہ انسانوں کی سوچ بدلنے کا نام دنیا یا زمانہ بدلنا ہے ۔
    کسی بھی انسان کی سوچ آپ ایک دم نہیں بدل سکتے رفتہ رفتہ بدل سکتی ہے ۔ہاں کچھ نظریات ضرور ایسے ہوتے ہیں جو یک دم کسی واقعہ، کسی حادثہ ،کسی تجربہ یا کسی دلیل کے سامنے ایک دم بدل جاتے ہیں لیکن مجموعی سوچ نہیں۔
    اس کے ویسے تو کئی ثبوت ہیں لیکن آپ کے سامنے سب سے بڑا ثبوت آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس سال میں دین مکمل ہونا ہے ۔
    اس کاملیت میں صرف دین کے احکامات و مسائل ہی شامل نہ تھے بلکہ لوگوں کی سوچ بھی شامل تھی جو بتوں کی پوجا ،اور کردار کی جہالت سے مکمل بدل چکی تھی اور اب وہ لوگ بت پرست نہیں بلکہ بت شکن تھے اور دنیا کے مہذب ترین لوگ تھے ۔جنھوں نے آگے بڑھ کر دنیا کی امامت سنبھال لی اور پھر روتی سسکتی، تڑپتی انسانیت کو جو جہالت میں گھر چکی تھی، کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئی اور رفتہ رفتہ یہ دنیا سکون کا سانس لینے لگی ۔
    لیکن انسانیت کے دشمن کہاں یہ برداشت کر سکتے تھے ،جن کا مقصد انسانوں کو غلام بنا کر ان پہ حکومت کرنا اور انھیں آگ و خون میں نہلا کر شیطانی دماغوں کو سکون دینا تھا ۔۔
    انھوں نے جب دیکھا یہ عرب کے صحرائی دنیا کو ایسی روشنی میں لا رہے ہیں جہاں سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہوتا نظر آنے لگا تو انھوں نے رفتہ رفتہ اس دنیا کی سوچ پھر بدلنی شروع کردی ۔
    جہاد ،تلوار اور گھوڑا ،تین خوبصورت نام تھے جو کسی بھی بہادر انسان کا زیور سمجھا جاتا تھا اسے گالی بنانے لگے ۔جس تلوار سے ظلم کا سر قلم کیا جاتا تھا اس کو ظالم اور انسانوں کے لیے دہشت گردی قرار دیا جانے لگا ۔
    مظلوم کو آواز اٹھانے پہ غدار اور ظالم کو انسان کا نام دیا جانے لگا ۔
    جرم کو فطری قرار دیا جانے لگا اور مجرم کو قابل ہمدردی اور جرم اس کا حق قرار دیا جانے لگا ۔
    مجرم کے لیے سزا کا مقصد تھا کہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور جرم سے باز رہیں لیکن یہاں کہا جانے لگا کہ وہ بھی انسان ہے ۔یوں اس کی ہمدردی میں لوگوں کو کھڑا کر کے اس کی حفاظت کی جانے لگی ۔نتیجتہ رفتہ رفتہ مسلمان کی سوچ بھی بدلنے لگی جرائم بڑھنے لگے ۔انسانیت سسکنےلگی ۔
    مسلمان انسانیت کے نام پہ عملی طور پر اٹھے، دنیا کو سکون ملا اور چھا گئے ۔
    پھر مسلمانوں کو انسانیت کے نام پہ انھیں ان کے مذہب سے عملی طور پہ دور کیا جانے لگا اور وہ دنیا میں دبنے لگا جس سے انسانیت خون میں نہلانے لگی۔
    آج سے سو سال پہلے تک اسلامی خلافت موجود تھی جس کی نگرانی میں کئی ممالک تھے تو اس وقت تک کچھ حد تک انسانیت کو سکون تھا لیکن شیطان نے اپنی چال چلی خلافت ختم ہو گئی اور پھر اس وقت سے آج تک ہر جگہ انسان آگ و خون میں نہا رہا ہے (جس میں مسلمان ہی ہیں کیونکہ اگر مسلمانوں کو نہ مارا گیا تو یہ باقی انسانوں کے لیے بھی غلامی سے نکلنے کے راستے ڈھونڈنے لگتے ہیں اور دنیا میں رب واحد کی واحدانیت کو ہی تسلیم کرتے ہوئے انصاف کا بول بالا کرتے ہیں )
    یوں رفتہ رفتہ دنیا جو روشنیوں میں آئی تھی پھر سے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے ۔
    اور ہماری زندگی کے ہر معاملے میں یہی صورت حال ہے ۔
    دنیا نے ٹیکنالوجی میں ترقی کی تو کئی چیزیں ایسی آئیں کہ مسلمان حلال اورحرام کے فرق کو نہ جان پائے اور اس چیز سے بچتے رہے (کیوں کہ رفتہ رفتہ مسلمانوں نے علم سے دوری اختیار کی اور بہت ساری احادیث و قرآن کی تفسیر سے بے بہرہ رہے۔)
    وہی چیز جو ایک وقت میں حرام تھی رفتہ رفتہ وہ کچھ مقدار میں جائز سمجھی جانے لگی اور پھر رفتہ رفتہ وہ چیز مکمل طور پہ ہماری زندگی کا حصہ ہوں بنی کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ یہ حرام ہے یا حلال ؟
    اس کی مثال ایک ایپ جو وٹس ایپ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے، میں آنے والے اموجیز کی بھی ہے ۔
    "ایموجی ” لفظ شاید پہلے کئی لوگوں نے نہ سنا ہو لیکن وٹس ایپ کی وجہ سے ہر بندے کو ایموجی کا پتہ چل گیا ہے ۔
    ایموجی دراصل چند لائنز سے بننے والا ایسا خاکہ ہے جس میں مکمل تصویر نہیں ہوتی آنکھوں کی جگہ نقطے اور ہونٹوں کی جگہ لائنز یوں لگاتے ہیں جس سے ہنسنا،رونا ،اداسی اور پریشانی کے ساتھ بہت سارے جذبات کا اظہار ہوتا ہے ۔
    لیکن یہ مکمل شکل نہیں ہوتی ۔
    پہلے پہل مذہبی طبقے نے اس سے پرہیز کیا رفتہ رفتہ غور کرنے پہ پتہ چلا یہ تو مکمل تصویر نہیں ہے سو استعمال میں حرج نہیں اور رفتہ رفتہ یہ بڑے بڑے مذہبی لوگ بھی استعمال کرنے لگے۔
    پھر یہ سٹیکرز مزید ترقی کر گئے اور ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی اصل تصاویر نے لے لی ۔معصوم سی پیاری پیاری من موہنی شکلوں نے دلوں کو موہ لیا اور ہر کوئی نہ صرف استعمال کرنے لگا بلکہ اپنے اپنے بچوں کے سٹیکرز بھی بنانے لگا ۔
    رفتہ رفتہ ذہن کھلے اور اب یہ سٹیکرز اداکاروں کے بننے لگے ۔
    جو میں مذہبی خیالات کی لڑکیاں جو غیر محرم کی تصاویر سے پرہیز کرتی ہیں وہ بھی ان سٹیکرز خو استعمال بے دھڑک کرنے لگیں۔
    بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اب ینگ لڑکیوں کے کچھ اداکاروں کے ایسے سٹیکرز بھی آ گئے جن میں ان کا لباس غیر مناسب ہوتا ہے لیکن یہاں تو کوئی مسلہ نہیں کیونکہ رفتہ رفتہ ذہن بن چکے ہیں کہ یہ تو سٹیکرز ہیں ۔
    ان میں سلیو لیس یا نیک لیس شرٹ ہو یا فضول اشارہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟
    رفتہ رفتہ دل دماغ اور سوچ سب بدل چکا ہے ۔ ذہن ان چیزوں کو قبول کر چکا ہے ۔جو چیز پہلی بار ہوتی ہے وہ حیرت انگیز، دوسری بار ،حیرت اور تیسری بار معمول کی بات ہوتی ہے ۔
    کیونکہ رفتہ رفتہ ذہن بدل جاتے ہیں زمانے بدل جاتے ہیں۔
    لیکن میری دعا ہے ہم رفتہ رفتہ واپس اسلام کی طرف لوٹ جائیں اور اچھائی برائی میں فرق کو سمجھتے ہوئے دنیا کو رفتہ رفتہ پھر سے عافیت میں لے آئیں ۔
    پیاری بہنوں اور بھائیو آپ ان سٹیکرز میں جو آج کل بے ہودگی ہے خاص طور پہ سمجھ جائیں اور ان کو پھیلانے سے باز رہیں ۔یقینا ان بےہودہ سٹیکرز پہ جب دوسرے بندے کی نظر پڑے گی تو ذمہ دار آپ بھی ہوں گے ۔جواب دہ آپ بھی ہوں گے ۔
    اس لیے اپنے آپ کو بچائیں دوسروں کو بھی بچائیں
    وما علینا الالبلاغ

  • اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں  تحریر: اخت طلحہ

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں تحریر: اخت طلحہ

    اخت طلحہ……

    میں کبھی کسی کو برا نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔
    نہ میں کسی سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔۔۔

    نہ کسی کے لئے دل میں بغض و کینہ رکھتی ہوں۔۔۔۔۔

    بس کبھی کبھی وقتی طور پہ غصہ ہوجاتی ہوں۔۔۔۔۔

    لیکن کبھی کبھی تو بلکل ہی ہمت ہار جاتی ہوں کہ میں ہی کیوں تھی اس آزمائش کے لیئے…..پھر آنسوؤں میں بے بسی بہا دیتی ہوں ۔۔۔۔اور پھر قرآن کی یہ آیت مجھے پرسکون کر دیتی ہے ،،،،وما کان ربک نسیا،،،،،، سورہ19 :آیت 64

    پھر یہ سوچ کے چپ کرجاتی ہوں کہ اس انسان کا اتنا ہی ظرف تھا۔۔۔۔

    میں اکثر ہی سچے جھوٹے وعدوں پہ یقین کرلیتی ہوں۔۔۔۔میں دوسروں کی جھوٹی ہمدردیوں پر یقین کر لیتی ہوں۔۔۔۔
    کیونکہ میں انسان کے اندر جھانک نہیں سکتی اس کا من نہیں پڑھ سکتی۔۔۔۔

    مجھے بہت لوگ ایسے ملے ہیں جنھوں نے ظاہری طور پر میری خیرخواہی کی لیکن حقیقت میں مجھ سے حسد کرتے تھے۔۔۔۔۔

    بہت لوگ ایسے بھی ملے جنھوں نے ظاہری طور پر میرا ساتھ دیا لیکن حقیقت میں مجھ سے بہت دور تھے۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی ملے جنھیں میری خوشی اور کامیابی سے مسکراہٹ ملتی تھی لیکن حقیقت میں وہ میری تکلیفوں میں مسکرایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ ایسے بھی تھے جنھیں میرے آنسو سے تکلیفوں ہوتی تھی لیکن حقیقت میں تو وہ میری مسکراہٹ پر رویا کرتے تھے۔۔۔۔۔

    میں کچھ لوگوں کی بے وفاٸی کا بدلہ ہر کسی سے نہیں لے سکتی۔۔۔۔
    ۔
    میرا بھی دل چاہتا ہے کہ ان سے بدلہ لیا جائے ان کو بتا دیا جائے کہ کسی انسان کے جذبات اس کے مخلص ہونے کا فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے سارا کا سارا غصہ جھاگ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔۔۔۔۔

    پھر یہی سوچ کر چپ کر جاتی ہوں کہ یہ دنیا تو مکافات عمل ہے اگر میں کچھ نا بھی کروں تو یہ دنیا انھیں اسی جگہ پھر لا کر کھڑا کردے گی۔۔۔۔۔۔۔

    اور اگر اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں میرے اللہ سبحان و تعالی ہیں نا۔۔۔۔۔

    وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾

    اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو ۔ ( ٤ )

    کیونکہ ہم جیسے لوگ بس اپنی ذات کو ختم تو کرسکتے ہیں لیکن کسی اور کی ذات کو نہیں ۔۔۔۔۔

    یہ نہیں کہ ہم اچھے ہوتے ہیں بلکہ ہماری براٸی اپنی ذات تک محدود ہوتی ہے کسی اور کو تکلیف دینا عادت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

    اور بے شک ہماری تمام تکلیفوں اور پریشانیوں کے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہیں۔۔۔۔۔

    اللہ تعالی ہمیں ایسے لوگوں کی شر سے محفوظ فرمائیں آمین یا رب العالمین۔۔۔۔!!!

  • عید اور کچھ یادیں  تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں تحریر:جویریہ بتول

    عید اور کچھ یادیں…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    عید رشتہ داروں کے ملنے کا بھی ایک موقع فراہم کرتی ہے…
    آپس میں مل بیٹھنے اور پیاری پیاری یادیں شیئر کرنے کا بھی نام ہے…
    میرے بڑے ماموں عید ملنے آئے تو ان کے ساتھ دوستانہ گپ شپ ہونے کی وجہ سے میں زیادہ دیر اُن کے پاس بیٹھتی ہوں…
    ویسے بھی مجھے اپنی عمر کی نسبت بڑے بزرگوں کی مجلس کرنا بہت پسند ہے،اور عمومًا ایسا ہی ہوتا ہے،اس سے آپ کے اندر حسِ مشاہدہ،خود اعتمادی اور اُن کے تجربات سے بہت کُچھ سیکھنے کو ملتا ہے…
    گھر میں بھی والدین کے پاس بیٹھ کر ماضی کے تجربات کو کریدنا بہت اچھا لگتا ہے،یہی وجہ ہے کہ بھائی اور بہن کی نسبت خاندانی معلومات میرے پاس زیادہ ہوتی ہیں…
    آج بھی بات یونہی نکلی کہ پہلے وقت کے لوگ پر سکون،سادہ مزاج اور مخلصی پر مبنی تعلق رکھتے تھے…
    اُن میں ریا،بناوٹ اور دھوکہ دہی کم تھی جو کہ آج اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ایک گھر کے افراد بھی ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے نہیں چوکتے…
    میرے نانا میرے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے لیکن اُن کو یاد کرنا،دعائے مغفرت اور اُن کے انداز و کردار کی کہانیاں سننا مجھے آج بھی بہت پسند ہیں…
    بچپن میں نانا نانی کے ہاں جانا اور اُن کی آنکھوں میں پیار کی چمک کبھی نہیں بھولتی…
    نانا مرحوم کی دوستی اور اخلاص کے تعلق کے واقعات اکثر امی بھی سناتی ہیں اور آج بھی دل کھول کر شیئر کیئے گئے…
    واقعی انسان کی اصل قیمت اس کا کردار ہوتا ہے نہ کہ مال و دولت کے انبار…اور ظاہری ٹیپ ٹاپ۔
    ماموں بتا رہے تھے کہ نانا جی ایک دفعہ کسی کام سے فیصل آباد گئے تو واپسی پر ضلع کے تحصیلدار نے کہا کہ بزرگو میری بیوی اور بچے بھی اسی گاڑی میں آپ کے شہر جا رہے ہیں جہاں وہ رہتے تھے تو ان کا بھی سفر میں خیال رکھیئے گا.
    تو نانا جی نے نہ صرف پورے رستہ میں بچوں کو اُس وقت کے مطابق ٹافی،بسکٹ خرید کر دیا بلکہ ان سب کا کرایہ بھی ادا کیا…
    انہیں منزل پر پہنچا کر گھر کا رُخ کر لیا…
    تحصیلدار کی بیوی نے کہا کہ بابا جی آپ رات ہمارے یہاں گزاریں اور خدمت کا موقع دیں ہماری بیٹھک خالی ہے…
    مگر وہ نہ مانے،وقت گزر گیا کافی وقت بعد تحصیلدار نے کسی مجلس میں نانا جی کا تذکرہ کیا کہ اس نام کے شخص کو کوئی جانتا ہے تو ایک شخص نے ہاں کہی…
    اس سے کہا گیا کہ جاؤ انہیں بلا کے لاؤ میں تو اُن سے ملنا چاہتا ہوں پھر مجھے وہ نظر نہیں آئے…!!!
    جب نانا جی گئے تو خوب خاطر مدارت کے بعد علاقہ کے دو جھگڑوں کا فیصلہ بھی اُن کی رائے کے مطابق کر کے عزت افزائی کی…!!!
    اُن کے تعلقات دور دور تک تھے اور ارد گرد کے دیہات میں ہر جگہ ان کے دوست تھے جو اپنی اولادوں کو بھی اچھے رویے اور حسن سلوک کی تلقین کرکے گئے جن کے فوائد ماموں کے بقول وہ آج بھی اُٹھاتے ہیں…!!!
    بات کو بہت خوب صورتی سے ناقابلِ تردید انداز میں کرنے کا ملکہ حاصل تھا…
    ایک دفعہ کی بات ہے کہ اپنے ننھیال گئے تو وہاں ایک رشتہ دار سے راستے میں ملاقات ہوئی،ان کے گھر جانے کا وقت میسر نہیں تھا،
    سب گھر والوں کی خیریت وہیں دریافت کر لی رشتہ دار نے کہا والد صاحب کی طبیعت ناساز رہتی ہے…
    نانا جی چونکہ ان پڑھ تھے لیکن بہت زیرک انسان،سمجھ گئے کہ بہانے کا یہ بہترین موقع ہے کیونکہ وہ پڑھے لکھے کزن تو شاید اسے معصومیت ہی سمجھیں گے اور شکوہ بھی باقی نہیں رہے گا…
    جھٹ بولے "اچھا ناساز ہیں وہ الحمدللہ…”
    رشتہ دار سٹپٹایا…
    کہ جی ناساز کا مطلب خراب طبیعت ہوتی ہے…!!!
    نانا جی مسکراتے ہوئے بولے:
    اچھا اچھا میں سمجھا ناساز بہتر طبیعت کو کہتے ہیں…
    اتنی گہری لغت کو پڑھا جو نہیں ہے،
    میرا پوچھنا کیجیئے گا پھر کبھی چکر لگاؤں گا…!!!
    ان کے ایک دوست ایک دفعہ اُن سے ملنے آئے تو ایک بزرگ نے اعتراض کیا کہ آپ اُن کے گھر آتے ہیں ہمارے گھر نہیں،حالانکہ واقفیت تو ہماری بھی ہے آپس میں…!!!
    نانا جی کا وہ دوست بولا یہ سچ ہے کہ ہماری واقفیت ضرور ہے مگر اتنی ہی کہ ہم اکھٹے نوکری کرتے رہے دس سال تک بس منافع بانٹنے تک بات ہوتی تھی باقی کبھی کچھ نہیں پوچھا دُکھ سکھ…
    جبکہ اُس شخص نے مجھے کرایہ پر مکان نہ ملنے تک زمینوں پر بنے ڈیرے میں رہائش دینے کے ساتھ ساتھ تین وقت کی روٹی بھی فراہم کی،دوستی مفاد پر نہیں بنتی،دوستی اخلاص اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر بنتی ہے۔
    وہ بزرگ خاموش رہ گئے…
    اسی طرح ایک دفعہ ایک کمرے کی چھت کا سامان خریدنے گئے دوسرے شہر میں،
    پرانے وقتوں میں لوگ مختلف چیزوں کی چھتیں ڈالتے تھے،
    وہ اس سامان کو سر پر اٹھائے ہوئے گزر رہے تھے کہ ایک دوست کے بچوں اور بیوی نے دیکھ لیا وہ قریب پہنچ کر سلام دعا کرنے لگے…
    نانا جی نے وہ سامان سر سے اُتارا اور پگڑی سے منہ صاف کر کے انہیں ملے اور پھر گاڑی پر بٹھا کر کرایہ بھی دیا اور بچوں کو کچھ نقدی بھی…
    یعنی بناوٹ اور تکلف سے کوسوں دور حقیقت کے رنگ میں ڈھلی ہوئی زندگیاں کتنی خوب صورت ہوتی تھیں…
    اُن کے تعلقات ہر شعبہ کے لوگوں سے رہتے تھے تیس سال پہلے ایک دفعہ ان کے خاندان سے کوئی شخص علاقے کی ایک سیاسی شخصیت کے پاس گئے تو اس وقت تقریبًا دو ہزار روپے میں جو آج کی بہت بڑی قیمت کے برابر تھے فورًا کھانے کا آرڈر دیا اور پھر بعد میں بتایا کہ یہ صرف نانا جی کے تعلق کی بنیاد پر تھا…!!!
    اُن کے دوستی دیرپا اور گھاٹے کھانے اور قربانی والی ہوتی تھی یہ نہیں کہ صبح ادھر،شام ادھر…
    اور اسی بات کی سب کو قدر بھی تھی…
    گھمبیر مسائل کو اپنی قوتِ فیصلہ اور بہترین حکمتِ عملی سے طے کر لیتے تھے…
    کسی کا ذہن بنانا اور آمادہ کرنا پرانے وقتوں کے جھگڑوں اور مسائل میں مشکل بات تھی جس سے وہ مالا مال تھے…واقعات تو بہت زیادہ ہیں لیکن
    یہ چند مخلصانہ یادیں اچھی لگیں تو ضبطِ تحریر میں لے آئی…
    واقعی وہ لوگ دور اندیش،زیرک اور مخلص لوگ تھے،ایک دوسرے کے غم اور خوشیاں شیئر کرنے والے لوگ تھے۔
    آج کے تعلقات سرخی پاؤڈر تعلقات ہیں…جب پسینہ انہیں بہا لے جاتا ہے تو نیچے سے اصلی اور کھرے چہرے نکل کر اپنی اصلیت اور حقیقت دکھا دیتے ہیں…
    حسد،برائی،چغل خوری عام ہو چکی ہے اور لوگ اچھے وقت تک ساتھی بنتے ہیں اور مشکل وقت میں پھنسا دیکھ کر منہ موڑ جاتے ہیں جبکہ ماضی میں لوگ مشکل اوقات میں بھی کندھوں سے کندھے ملا کر کھڑے رہتے تھے…
    یہی اصل دوستی اور دوستی کا مقام ہے جس میں بناوٹ،ریا اور جھوٹ نہیں ہوتے…!!!
    آج نانا جی کے گھر کی جگہ بہترین گھر اور دنیا کی ہر آسائش موجود ہے مگر اُن کی یادیں، باتیں اور تربیت آج بھی مشعلِ راہ اور بہترین زادِ سفر ہیں جنہوں نے اُس وقت میں کم وسائل کے ساتھ خوب صورت اور سادہ زندگی گزاری اور آج یقینًا یہ سب انہی کی دعاؤں کا ثمر ہے…!!!
    اللّٰہ میرے آباء کو بخش دے،
    اور انہیں جنتوں کا مستحق بنا دینا…!!!آمین ثم آمین…!!!
    یہ سچ ہے کہ آنے والے آتے رہتے ہیں مگر جانے والوں کی کمی کبھی پورا نہیں ہوا کرتی…!!!
    ہر رشتے کا ایک مقام اور وقار ہے،اللہ ہمیں رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ زندگی کا حُسن ہیں…!!!
    ===============================

  • سائنس اور مذہب  تحریر: عمر یوسف

    سائنس اور مذہب تحریر: عمر یوسف

    سائنس اور مذہب

    عمر یوسف

    فلسفہ ہو یا منطق ، سائنس ہو یا دیگر عقلی علوم ان سے وابستہ اکثر لوگ خدا کے وجود کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔

    اب کیا وجہ ہے کہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کو حقیر سی عقل کے تابع ہو کر جھٹلا دیا جاتا ہے ،؟۔

    حالانکہ فلسفہ و منظق و سائنس کی چوٹی پر پہنچ کر لوگ یہ حقیقت ماننے پر مجبور ہوئے کہ اس سے آگے خدا ہے ۔۔۔

    جنہوں نے انتہاء دیکھی انہوں نے وجود باری تعالی کا اعتراف کیا ۔۔۔۔

    یہاں پر میں انسانی فطرت کے پہلو کو اجاگر کروں تو انکار خدا کی ایک پیچیدہ وجہ سمجھ میں آجاتی ہے ۔۔۔

    دماغ جس چیز پر مسلسل کام کرتا ہے وہ اسی کے تحت سوچنا اور عمل کرنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔

    اب سائنس و فلسفہ یا دیگر علوم ٹھوس عقلی ، مشاہداتی اور تجرباتی علوم ہیں ۔۔۔۔

    جو بندہ زندگی کا ایک عرصہ ایسی حالت میں گزارے کہ جس میں سائنسی تجربات کرکے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا وجود بھی اسی صورت مانا جائے گا جب اس کا مشاہدہ کیا جائے گا ۔۔۔۔

    سائنس کو ہی دیکھ لیں کسی بھی چیز کا دعوی وہ۔اسی صورت مانے گی جب اس کا مشاہدہ کرے گی ۔۔۔بصورت دیگر آپ منوا کے دکھائیں !!!

    مسلسل عقل کے تابع ہونا انسان سے ایمان کی سمجھ چھین لیتا ہے وہ ان دیکھی ، ناقابل مشاہدہ چیزوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے ۔۔۔

    یوں مسلسل عقلیات کی پیروی خدا کے وجود پر ایمان لانے کے راستے میں حائل دیوارہے

    خفیف سی مثال اس کی تائید کرے گی کہ آپ مسلسل روشنی میں کام کرنے کے بعد ایک دم اندھیرے میں آئیں گے تو چیزوں کا مشاہدہ کرنا کچھ وقت کے لیے ممکن نہ ہوگا ۔۔۔۔

    اسی طرح مسلسل عقلیات کے تابع ہونے والے کو ایمانیات کی سمجھ مشکل سے آتی ہے ۔۔۔
    اس مسلمہ حقیقت کے بعد مسلمانوں کے کرنے کے کام دو ہیں ایک ذاتی لحاظ سے ایک اجتماعی لحاظ سے ۔۔

    ذاتی لحاظ سے سائنس سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا تعلق مذہب سے مضبوطی سے بنائے رکھے قرآن و حدیث کا مطالعہ ہی ایمان و سلامتی کا واحد ذریعہ ہے ۔۔۔
    اور اجتماعی لحاظ سے جو لوگ سائنس پسندی کی وجہ سے دین بیزاری کا شکار ہیں ان سے درست رویہ اپنائے نہ کہ تعصب و انتہاء پسندی کا ۔۔۔
    اور ان کی عقلیات سے استدلال کرتے ہوئے ایمانیات ثابت کرے جیسے کہ عصر حاضر کے ممتاز علماء اسی پیٹرن کو فالو کرتے ہیں اور ان کی تصانیف و خطبات سے دیکھا جاسکتا ہے ۔۔۔

    سائنس کے حوالے سے مذہبی لوگوں کو نرم گوشہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جہاں سائنس کی طرف سے مذہب خلاف عمل در آمد ہوتا ہے وہیں پر لوگ پوری کی پوری سائنس کو کفر کی فیکٹری مان لیتے ہیں ۔۔۔
    سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ جو چیز مذہب کے خلاف ہے صرف اسے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جانا چاہیے اور اسے ہی رد کرنا چاہیے نہ کہ پوری سائنس کو ہی ۔۔۔

    کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی خلاف ورزی پر سائنس کو کفر عظیم سمجھنے کا ہی تاثر دیا جاتا ہے ۔۔۔

    بات کا اختتام اسی پہ کرتے ہیں کے مذہب کے بغیر سائنس کی دنیا جہنم کا راستہ ہے کیونکہ عقلیات کی پیروی سے ایمان کی سلامتی ممکن نہیں ۔۔۔۔۔
    اور سائنس کے حوالے سے مذہب میں درست نظریہ رائج ہونا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جو چیز سائنسی مشاہدے میں نہیں وہ ان کے نزدیک ناقابل قبول ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس کا انکار سائنس کررہی ہے وہ واقعی موجود نہیں ۔۔۔۔۔
    اور یہ بھی ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ اب سائنس کو کفر کی فیکٹری سمجھ لیا جائے

  • دنیا کی خوش قسمت ترین خاتون

    دنیا کی خوش قسمت ترین خاتون

    باغی ٹی وی : چین کے شہر ووہان سے پوری دنیا میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا تمام تعلیمی مذہبی ،ثقافتی ، تفیرحی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی اس عالمی وبا سے محفوظ رہنے کے لئےسماجی دوری اختیار کرنے اور غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا جہاں دوسری تمام سرگرمیاں بند ہوئیں وہیں تمام مذہبوں کی مذہبی سرگرمیاں بھی بند ہو گئیں مساجد ،گرجا گھر ، چرچ وغیرہ بند کر دیئے گئے یہاں تک کہ مسلمانوں کا مقدس ترین مقام خانہ کعبہ حرمین شریفین اور مسجد بنبوی کو بھی کوبند کر دیا گیا-

    لیکن پھر بھی جس خوش قسمت کی قسمت میں اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر بُلاوا لکھا ہو اُسے کون روک سکتا ہے کچھ ایسی ہی خوش قسمت ترین خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جو اللہ کے گھر کعبہ کے سامنے حرمین شریفین میں اکیلی کھڑی دعا مانگ رہی ہے-
    https://twitter.com/Jinnah_Club/status/1288392971486994434?s=08
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیتھرین نامی صارف نے ایک تصویر شئیر کی جس میں ایک خاتون حرمین شریفین میں کعبہ کے سامنے بالکل اکیلی کھڑی اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائے دُعا مانگ رہی ہے-

    کیتھرین نامی صارف نے اس خاتون کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ دُنیا کی خوش قسمت ترین عورت ہیں جو کعبہ کےے سامنے بالکل اکیلی کھڑی اللہ سے مناجات میں مصروف ہے-

    کیتھرین نامی صارف کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین بھی اس عورت کو خوش قسمت قرار دیتے ہوئے اس کی دعاؤں کی قبولیت کی دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں-

  • کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد  از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق
    {کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد}

    از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے
    پھر اپنے گھر میں ہمیں تو بلا لے

    حاجیوں کے لئے کھول دے اپنے گھر کو
    سجدوں سے روشن کریں تیرے در کو

    توں حاجت روا ہے تو ہی مشکل کشا ہے
    دو عالم کا تو اکیلا ہی شہنشاہ ہے

    اس موذی مرض سے ہماری جاں تو چھڑا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    آہ،چھن گئیں کتنی نعمتیں ہم سے
    آہ،اٹھ گئیں کتنی برکتیں ہم سے

    نہ کعبے کی زیارت،نہ زم زم کا پینا
    حجر اسود کے بوسے سےگناہوں کا دھونا

    لے جا ہمیں وہاں اور سوئی قسمت جگا دے
    یا الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    غلاف کعبہ سے چمٹنے کو جی چاہتا ہے
    تیری بارگاہ میں غم ہلکانے کو جی چاہتا ہے

    کرے خوب حاجی عبادت اور نیکیاں کمالے
    الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    ہم خطاکار ہیں،ہم گناہ گار ہیں
    مانا کہ بہت ہی سیاہ کار ہیں

    مگر تیرے نبی کے بھی پیروکار ہیں
    خدایا!تیری رحمت کے طلبگار ہیں

    اس عاصی کو مدینے کی گلیاں دکھا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

  • راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    قبیلہ دوس میں پیدا ہونے والے ابو ہریرہ بکریاں چراتے اور تنگی میں گزر اوقات کرتے تھے،بلیوں سے محبّت کی وجہ ابو ہریرہ کہلائے،
    قبیلہ دوس کے شاعر طفیل دوسی اسلام کے ظہور کے بعد مکہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اسلام قبول کر لیا۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے بھی جب یہ بات سنی تو وہ بھی بے تاب ہو گئے اور چاہا کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں…
    مدینہ پہنچ کر 7ہجری میں تیس سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا اور صفہ کے تاریخ ساز اور عہد ساز چبوترے کے مکین بن گئے…کہ جن کے کردار پر تاریخ نازاں ہے اور پھر کبھی اس راہ سے جدا نہ ہوئے۔
    اصحابِ صفہ وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کے مہمان تھے،
    ان کا گھر تھا نہ اسباب…
    مال و دولت تھی نہ دوست آشنا…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ کے پاس جو صدقہ کا مال آتا آپ وہ انہیں بھیج دیتے،
    کوئی تحفہ آتا تو خود بھی کھاتے،انہیں بھی کھلاتے…
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کا شرف پایا جن کی تعداد 5375 ہے ،آپ نے جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کم حافظے کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھ کوئی بات کروں تو تم اپنی چادر پھیلا دینا اور جب بات مکمل ہو جائے تو چادر اپنے گرد لپیٹ لینا…ابو ہریرہ کے بقول پھر کوئی حدیث وہ نہ بھولے…!!!
    ان کے پاس کمائی کا کوئی زریعہ نہیں تھا شدید فقر وفاقہ میں علم حاصل کیا…
    صحیح بخاری میں ہے کہ:
    ابو ہریرہ کہا کرتے تھے کہ قسم پروردگار کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں،
    میں بھوک کے مارے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا۔
    ایک دن ایسی ہی جگہ پر جہاں سے لوگ گزرتے ہیں لیٹا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت پوچھی،میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ میری بات سمجھ نہ سکے،
    پھر عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ بھی بات نہ سمجھ سکے…
    پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ میرا مدعا سمجھ گئے…مسکرا دیئےاور مجھے ساتھ چلنے کو کہا،
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اباہر…!!!
    میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ!
    میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا…
    گھر پہنچ کر آپ اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی داخلے کی اجازت دی…
    گھر والوں سے پوچھا گیا کہ کوئی چیز موجود ہے؟
    بتایا گیا کہ دودھ کا ایک پیالہ ہےجو آپ کے لیئے ہدیہ بھیجا گیا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابا ہر…!!!
    جا سائبان(صفہ)والوں کو بلا لا…
    میں نے دل میں سوچا کہ ایک پیالہ دودھ اتنے لوگوں کو کیسے کفایت کرے گا؟
    اصحابِ صفہ کو بلایا گیا وہ آن کر بیٹھ گئے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کو حکم دیا کہ سب کو دودھ پلاتے جاؤ…
    آپ پیالہ ایک ایک صحابی کو دیتے جاتے اور وہ سیر ہو کر پیتا جاتا اور پھر پیالہ واپس ابو ہریرہ کو پکڑا دیتا…
    جب سب لوگ جی بھر کر دودھ پی چکے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیالہ ہاتھ میں لے کر ابو ہریرہ کو دیکھا اور مسکرائے…
    اور فرمایا:
    اقعد فاشرب…
    ابو ہریرہ بیٹھ جا اور دودھ پی لے…
    میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے جاتے اور پی…
    میں پیتا رہا آپ پھر فرماتے:
    ابو ہریرہ اور پی لے…
    یہاں تک کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قسم اس پروردگار کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب میرے پیٹ میں جگہ نہیں رہی کہ اس دودھ کو اُتاروں…
    تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اچھا ابو ہریرہ اب پیالہ مجھے دے دے…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے شکر ادا کیا اور بسم اللہ پڑھ کر وہ بچا ہوا دودھ پی لیا…(صلی اللہ علیہ وسلم)۔
    وہ جو نبیوں میں رحمت لقب پانے والے…
    وہ جو اپنے پرائے کا غم کھانے والے…
    وہ جو مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے…
    وہ جو ضعیفوں کے مددگار،یتیموں کے والی تھے…!!!
    زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو ہریرہ بھی ہمارے ساتھ تھے…سب نے اپنی دعا مانگی،
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا:
    اے اللہ مجھے وہ بھی دے جو میرے ساتھیوں نے مانگا اور مجھے ایسا علم دے جو بھلایا نہ جا سکے…
    تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا آمین۔
    آپ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے اور احادیث جمع کرتے رہتے تھے۔
    آپ کے اس علم کے آگے ہر فن کی روشنی ماند ہے…
    ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللّٰہ عنھما کے دور میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت نوازا مالی استحکام نصیب ہوا…
    لیکن یہ سچ ہے کہ بلندیوں پر جگمگانے کے لیئے خونِ جگر جلانا پڑتا ہے…
    راہ کی مشکلات اور کانٹے چننا پڑتے ہیں…
    سحر ہمیشہ گھپ اندھیرے سے پھوٹتی ہے…
    اور سچائی اور سیدھی راہیں قربانی مانگتی ہیں…
    بڑے منصب پر فائز ہونے کے لیئے شارٹ کٹ نہیں بلکہ جہدِ مسلسل اور تلخیوں کا سامنا لازم ہوتا ہے…
    آپ کی والدہ اسلام کی سخت دشمن تھیں آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روتے ہوئے دعا کی درخواست کی
    جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماں قبولِ اسلام کے لیئے بصد رضا تیار ہو گئیں…!!!
    (رضی اللہ عنہ)۔
    اللّٰہ ہمیں بھی حقیقی علم کی روشنی سے سینے منور کرنے اور اس روشنی کو ہر طرف پھیلانے اور ظلمتوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ انسانیت کا درد اور دفاع و احترام ہمارے معاشرے کی پہچان بن جائے،ہمدردی و غمگساری کے جذبات ہمارا شعار ہوں آمین ثم آمین۔
    =============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ماضی کی چند بڑی مساجد جنہیں چرچوں اور مندروں میں تبدیل کر دیا گیا

    ماضی کی چند بڑی مساجد جنہیں چرچوں اور مندروں میں تبدیل کر دیا گیا

    دس جولائی کو ترکی کی سب سے اعلیٰ انتظامی عدالت کونسل آف اسٹیٹ نے چھٹی صدی میں تعمیر کی گئی عمارت آیا صوفیہ کو سلطان محمد فاتح فاؤنڈیشن کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے1934 کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اسے مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی : تُرک صدر طیب اردگان کے آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے پر روسی اہلکاروں اور کلیساؤں کے وفاق نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استنبول میں واقع پرانے گرجا گھر اور یونیسکو کی جانب سے تاریخی ورثہ قرار دیے جانے والی عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے سے متعلق احتیاط برتے۔

    تُرک صدر کے صوفیا کو مسجد بنانے کے خلاف سب اکٹھے ہوگئے ، اس وقت جب آیا صوفیا کو مسجد بنانے کے خلاف عیسائی دنیا کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے وہاں کچھ اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں-

    سوشل میڈیا پر آیآ صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کے خلاف آوازیں اٹھائی گئیں لیکن جب ماضی میں بڑی مسجد کو گرجا گھروں اور چرچوں میں تبدیل کیا گیا تو نہ تو کسی نے اس کے خلاف ایکشن لیا اور نہ ہی آواز بُلند کی-

    ماضی کی چند مساجد درج زیل ہیں جنہیں چرچوں اور گرجا گھروں میں تبدیل کر دیا گیا تھا-

    1:مسجد امیہ ، اموی مسجد (عربی: الجامع الأموي) دمشق کی عظیم مسجد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے جو دمشق کے پرانے شہر میں واقع ہے ، دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم مساجد میں سے ایک ہے

    اس مسجد کو چوتھی صدی کے آخرمیں 391 میں ، عیسائی شہنشاہ تھیوڈوسیس اول ( 379–395) نے گرجا کیتھڈرل میں تبدیل کیا گیا۔

    2:کرڈوبا کی مسجد ہسپانوی علاقے اندلس میں واقع ہے اسلامی عبادت گاہ کے طور پر اس کی حیثیت کی بناء پر ، یہ قرطبہ کی عظیم مسجد میزکیٹا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے – اس ڈھانچے کو یورپی ماؤس کے ذریعہ تعمیر کردہ مورش فن تعمیر کی سب سے کامیاب یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔


    مسجد کرڈوبا کوبازیافت کے دوران 1236 میں عیسائی حکمران نے دوبارہ کیتھولک چرچ میں تبدیل کردیا گیا ، جس کا اختتام سولہویں صدی میں رینینسنس گرجا گھر سے ہوا۔

    3: سپین میں موجود گرجا گھر کسی زمانے میں مسجد کے زیر قبضہ تھا۔ جین مسجد کے کھنڈرات کے اوپر 1249 میں کیتھڈرل چرچ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔



    یہ گرجا گھر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کی عارضی فہرست میں ہے۔

    4: ماضی میں ایک اور تاریخی مسجد سیویلا کو کیتھڈرل چرچ میں تبدیل کر دیا گیا تھا-سینٹ مریم آف دی دی کیتھیڈرل جسے سیویلا کیتیڈرل کے نام سے جانا جاتا ہے ، سپین کے شہر ، اندلس میں ایک رومن کیتھولک گرجا ہے۔

    اسے 1987 میں یونیسکو نے ملحقہ الیزار محل کمپلیکس اور انڈیز کے جنرل آرکائیو کے ساتھ مل کر عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر رجسٹر کیا تھا۔ یعنی بشپ کا کلیسیائی دائرہ اختیار ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا چرچ ہے (اس کا سائز اب بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے) نیز گوتھک کا سب سے بڑا چرچ ہے۔

    5: اسپین میں ایک اور مسجد مرسیا کو سینٹ میری کا کیتھیڈرل چرچ میں تبدیل کر دیا گیا تھا-

    مسیحی بادشاہ جیم اول فاتح نے 1264–66 کے مد جار بغاوت کے دوران یہ شہر فتح کیا۔ اس شہر کے مسلمانوں کے ساتھ ایک موجودہ معاہدے کے باوجود اس نے مساجد کو تباہ کر دیا تھا ، جیم اول نے عظیم مسجد یا الجامعہ کو ورجن مریم کے لئے مخصوص کرنے کے لئے لیا۔ کسی بھی بستی کو فتح کرنے پر اس نے اپنی مرضی کا رواج قائم کیا۔ تاہم ، یہ چودہویں صدی تک گرجا گھر کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ 1385 میں بنیادوں پر کام شروع ہوا اور 1388 میں پہلا پتھر رکھا گیا۔ مزید چھ سال گزر گئے جب تک کہ تعمیرات کا سلسلہ رُکا رہا گرجا گھر اکتوبر 1467 میں ختم ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، 18 ویں صدی تک گرجا گھر کا ارتقا جاری رہا-

    6:ٌ بوسینیا میں سلطان سلیمان کی مسجد کی جگہ سینٹ مریم چرچ بنایا گیا یہ بوسنیا اور ہرزیگوینا کی قومی یادگار ہے۔ عمارتیں قلعے کے دامن میں ، شہر جازے کے تاریخی مرکز میں واقع ہیں۔

    1459 میں عثمانیوں سے سربیا کے ہار جانے کے بعد ، کنگ تھامس کا بیٹا اسٹیفن اپنی بیوی ماریہ اور اپنے کنبہ کے ساتھ بوسنیا واپس آیا۔ ماریہ لیوک ایوینجلسٹ کو ساتھ لے کر آئیں ، اور ایک گھنٹی ٹاور چرچ کے قریب کھڑا کیا گیا تھا۔ 17 نومبر 1461 کو ، چرچ نے بادشاہ اسٹیفن کی تاجپوشی کی جگہ کا کام کیا۔ یہ بوسنیا میں آخری تاجپوشی تھی بوسنیا پر عثمانی فتح صدیوں سے جاری عثمانی حکومت کے آغاز سے دو سال بعد ہوئی۔ اس عمل میں شاہ اسٹیفن کو پھانسی دے دی گئی ، جبکہ ملکہ ماریہ بچوں کو لیکر جمہوریہ وینس کو واپس چلی گئیں-

    1582 میں ، سینٹ میری چرچ کو ایک مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نام عثمانی سلطان سلیمان کے نام سے موسوم تھا۔ عمارت متعدد مواقع پر جل گئی۔ سب سے زیادہ تباہ کن آگ 1658 میں لگی۔ آخری آگ ، 1832 میں ، دیواروں کے سوا کچھ نہیں بچا تھا ، اور اس وقت سے اس عمارت کا استعمال نہیں ہوا ہے۔

    7: پرتگال میں مارٹولا کی جامع مسجد جو بعد میں نوسا سینہورا دا کے چرچ میں تبدیل کردی گئی تھی .

    8: آٹھویں صدی میں مورش کے حملوں کے وقت تک ، لولی ایک متحرک تجارتی مرکز تھا ، اور اس نے ماؤس کے نیچے ترقی کی منازل طے کیا۔ .

    مذاہب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی افراد تھے ، اور انہوں نے ایک مسجد بنائی ، جسے بعد میں پرتگال نے کیتھولک مذہب میں تبدیل ہونے پر ایگریجا ڈی ساؤ کلیمنٹے چرچ میں تبدیل کردیا۔

    9: تاویرا ایک پرتگالی شہر اور میونسپلٹی ہے ، کوسٹا ڈو ایکنٹیلاڈو کے دارالحکومت میں واقع ہے با لسا ایک بڑا شہر بن گیا ، حقیقت میں یہ تاویرا سے بہت بڑا تھا قیصر کے زمانے میں ، رومیوں نے ایک نئی بندرگاہ بنائی ، تاویرا سے 7 کلومیٹر (4 میل) دور ، جس کا نام بلسا تھا۔ بالسا ایک بڑا شہر بن گیا ، حقیقت میں یہ تاویرا سے بہت بڑا تھا ، جو رومی سلطنت کے متوازی طور پر ترقی ، خوشحالی اور زوال پذیر تھا۔ جب موریس نے آبیریہ کو فتح کیا تو ، آٹھویں صدی میں ، بالسا پہلے ہی بستی کے طور پر ناپید ہوگیا تھا۔

    پڑوسی ملک اسپین کے برعکس جہاں ان مساجد اور مذہبی ڈھانچے کی ایک قابل ذکر تعداد ابھی بھی کھڑی ہے ، وہ پورے ملک میں کم و بیش بکھر رہی ہے۔ پرتگال میں کوئی غیر ترمیم شدہ قدیم مسجد نہیں ہے ، جس کی سب سے بہترین محفوظ مثال مورٹولا کی نظر ثانی شدہ سابقہ ​​مسجد (12 ویں صدی میں سانتا ماریا کے گرجا گھر کاسٹیلو ، چرچ میں تبدیل ہوگئی) اور ملک کے جنوب میں کچھ اور ڈھانچے ہیں-

    10: تیرہویں صدی میں بنائی گئی اسرائیل تاریخی مسجد الاحمر کو نائٹ کلب، بار اور ایونٹس ہال میں تبدیل کر دیا گیا تھا-

    11: 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کا انہدام ایودھیا تنازعہ کے سلسلے میں وشوا ہندو پریشاد اور اس سے وابستہ تنظیموں کے کارکنوں کے ایک بڑے گروپ نے غیر قانونی طور پر کیا تھا۔ اترپردیش کے شہر ایودھیا میں 16 ویں صدی کی بابری مسجد کو ہندو قوم پرست تنظیموں کے ذریعہ منعقدہ ایک سیاسی ریلی کے پرتشدد واقع ہونے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔

    ہندوؤں کی روایت میں ، ایودھیا شہر رام کی جائے پیدائش ہے۔ سولہویں صدی میں ایک مغل جرنیل ، میر باقی نے ایک ایسی مسجد تعمیر کی تھی ، جسے بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا تھا ، جس کی شناخت کچھ ہندوؤں نے رام جنم بھومی ، یا رام کی جائے پیدائش کے نام سے کی تھی۔ ہندوستان کے آثار قدیمہ کے سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ مسجد ایسی سرزمین پر تعمیر کی گئی تھی جہاں پہلے غیر اسلامی ڈھانچہ موجود تھا۔ 1980 کی دہائی میں ، وشوا ہندو پریشاد (وی ایچ پی) نے اس جگہ پر رام کے لئے وقف کردہ ایک ہیکل کی تعمیر کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا ، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اس کی سیاسی آواز بنایا گیا تھا۔ اس تحریک کے ایک حصے کے طور پر متعدد ریلیاں اور مارچ ہوئے ، جن میں ایل کے اڈوانی کی سربراہی میں رام رتھ یاترا بھی شامل ہے۔

    12: بیوزڈ ورجن مریم کا ڈاون ٹاؤن کینڈلماس چرچ جو پہلے پاشا قاسم کی مسجد کے نام سے جانا جاتا تھا رومی کیتھک میں ایک رومی چرچ ہے۔ ہنگری ، جو عثمانی فتح کی وجہ سے 16۔17 ویں صدی میں ایک مسجد تھی۔ یہ شہر کی علامتوں میں سے ایک ہے ، جو مرکزی چوک (شہرچینی چوک) پر شہر کے وسط میں واقع ہے کو پاشا قاسم وکٹوریئس نے 1543 اور 1546 کے درمیان تعمیر کیا تھا۔

    ہیبس ہنگری کی فوج نے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد ، 1702 میں ، مسجد کو چرچ میں تبدیل کردیا گیا تھا ہنگری میں عثمانی تعمیراتی کاموں میں سے ایک بڑی تعمیر ، مینار 1766 میں جیسوئٹ کے ذریعہ تباہ کردی گئی تھی ، اس عمارت میں اب بھی ترکی کی متعدد تعمیراتی خصوصیات برقرار ہیں-

    13: مسجد کا مینار کالے گرینائٹ سے بننے کے بعد اس مسجد کو اپنا زیادہ مشہور نام ، بلیک مسجد موصول ہوا۔ یہ مینار 19 ویں صدی میں ایک زلزلے کے دوران منہدم ہوگئی اور عثمانیوں نے 1878 میں بلغاریہ کی آزادی کے بعد فوجی گودام اور جیل کے طور پر استعمال ہونے کے بعد اس مسجد کو ترک کردیا تھا۔

    سویتی سیڈموچیسلنیتسی چرچ بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں واقع ایک بلغاریائی آرتھوڈوکس چرچ ہے۔ یہ 1901 سے 1902 کے درمیان ایک ترک شدہ عثمانی مسجد کی جگہ بنایاگیا تھا اور اس کا افتتاح 27 جولائی 1903 کو ہوا تھا۔ چرچ کا نام سیریل اور میتھوڈیس اور ان کے پانچ شاگردوں کے نام پر رکھا گیا ہے ، جو آرتھوڈوکس چرچ میں اجتماعی طور پر سیڈموچیسلنیتسی کے نام سے مشہور ہیں۔

    14: سینٹ نیکولوس کے چرچ کی عمارت 16 ویں صدی کے وسط میں ابراہیم پاشا مسجد کی جگہ تعمیر کی گئی تھی-

    15 : پاکستان بننے کے بعد جب مسلمان پاکستان ہجرت کر گئے تو ہریانہ میں موجود ہندوؤں نے 19 ویں صدی میں بنائی گئی جمعہ مسجد کی جگہ میں درگاہ مندر تعمیر کیا گیا-

    16:حصار میں ایک بار بڑی تعداد میں مسلمان آبادی تھی اس شہر میں متعدد اسلامی یادگاریں آباد ہیں جن میں سے کچھ قدیم تاریخیں فیروز شاہ تغلق (1351 سے 1388 ء) کی حکمرانی کی تھیں۔ جیسا کہ سنتوں کے مقبروں کا رواج ہے ، ان کی قبروں کے ساتھ ہی مساجد بھی تعمیر کی گئیں۔

    دانا شیر مسجد اس سے مختلف نہیں ہے کیونکہ یہ دانا شیر بہلول شاہ کے مقبرے کے ساتھ ہی تعمیر کی گئی تھی۔برصغیر کی تقسیم کے بعد اس مسجد کی جگہ بھی مندر بنا دیا گیا تھا-

    17: علاؤالدین خلجی کے بیٹے قطب الدین مبارک خلجی نے دولت آباد کے شاہی قلعے میں 14 ویں صدی کے اوائل میں ایک وسیع مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ اس کی سلطنت جنوب کی طرف بڑھتی گئی۔ یہ سائز میں اتنا بڑا تھا کہ یہ ایک بار خلجی سلطنت کی وسیع سلطنت کے دائروں میں واقع سب سے بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔

    اس مسجد کی تعمیر کے بعد صدیوں تک اس کا استعمال جاری ہے۔ اس کے بارے میں ابھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ، لیکن مسجد کے محراب (نماز طاق) میں ایک بت نصب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے وہاں پوجا شروع کی اور عظیم الشان مسجد کو ہندوستان ماتا مندر کہا جانے لگا۔

    18: ضلع گروگرام کے فرخ نگر قصبے کی بنیاد مغل گورنر فوجدار خان نے 1732 ء میں رکھی تھی۔ اس کا نام مغل بادشاہ فرخ سیار کے نام پر رکھا گیا تھا۔ قصبے کی بانی کے فورا. بعد ، فوجدار خان کو فرخ نگر کا نواب قرار دیا گیا اور شہر کی حدود میں اس کے ڈھانچے لگنے لگے۔

    ان ڈھانچوں میں سے ایک جامع مسجد تھی۔ یہ شہر کی مرکزی جمعہ مسجد تھی جہاں تمام مسلمان باشندے جمع ہوتے اور جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔ مورخ رانا صفوی لکھتے ہیں کہ پاکستان سے مہاجرین کی آمد کے بعد اس مسجد کو ایک ہیکل اور گرودوارہ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ مسجد کے میناروں میں سے ایک مینار آج بھی خراب حالت میں اونچی کھڑی ہے –

  • دلوں کو فتح  کرنے کا راز  تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز
    حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    حسن سلوک کیا ہے؟
    حسن سلوک ایک ایسی چیز ہے جس سے دشمن کوبھی اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔
    آج کی دنیا میں 90 فیصد لوگ حسن سلوک کو بھول چکے ہیں،صرف 10 فیصد لوگ حسن سلوک کے معنی سے آشنا ہیں اور دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں ، وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے ،پھر وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    وہ جانتے ہیں کہ وہ کون سے الفاظ ہیں جو بولنے ہیں اور جو نہیں بولنے، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا سلوک ہے جس سے لوگ ان سے محبت کریں اور پیار اور خلوص سے پیش آئیں گے اور اچھے انداز سے بات چیت سمجھیں گے ۔
    جبکہ 90 فیصد لوگ دوسروں کے ساتھ اپنے ہوں یا پرائے ،بڑے یا چھوٹے ہوں سب کے ساتھ ایک ہی رویے سے پیش آتے ہیں۔ وہ نہیں خیال کرتے کہ ان کو کیا بات بری لگ سکتی ہے۔
    ان کی عادت ہوتی ہے طنز کرتے رہنا، بات بات پر ٹوکنا دوسروں پر ہنسنا۔
    حسن سلوک صرف اسی چیز کا نام ہی نہیں کہ کہ دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں ،خلوص سے،محبت سے۔ بلکہ حسن سلوک تو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو کوئی بدسلوکی کرے، یا زیادتی کرے تو آپ اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں اسے معاف کریں اس کو سمجھائیں ، اس سے بدلہ نہ لیں۔
    آخرحسن سلوک سے پیش آنے سے کیا ہوتا ہے؟

    سب سے بڑی بات یہ کہ حسن سلوک سے پیش آنے پر اللہ تعالی ہم سے خوش ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی مسلمان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ حسن سلوک میں معاف کرنا دوسروں کے ساتھ خلوص سے پیش آنا سب شامل ہے۔
    حسن سلوک تو ہو گیا ہے ہر ایک کے ساتھ اچھے انداز،اور خلوص سے پیش آنا اب بات آتی ہے معاف کرنے اور بدلہ لینے یا نہ لینے کی۔

    جب کسی سے کوئی غلطی ہو یا اس کے ہاتھ، زبان سے ہمیں تکلیف پہنچے تو ہم اسے معاف کر دیں تو اللہ تو خوش ہو گا ہی اس کے ساتھ اگلے بندے کے ذہن میں بھی خیال آئے گا کہ میں نے اس کو برا بھلا کہا اس کو تکلیف دی یا مارا پیٹا،لیکن اس نے تو مجھے معاف کر دیا۔
    ہو سکتا ہے وہ آپ کو ایک بار تکلیف پہنچائے ،دو بار، تین بار بالآخر وہ دیکھے گا کہ یہ ایک اچھا انسان ہے اور اگلی بار آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اور برا سلوک چھوڑ دے گا۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ دوسروں کو معاف کرنا لوگوں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے نہیں یا یہ سوچ کر دوسروں کو معاف کریں کہ لوگ واہ واہ کریں گے میرا نام ہوگا جب بھی معاف کریں ثواب کی نیت سے کریں اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔

    اگر ہر کوئی ایک دوسرے سے اچھے طریقے سے پیش آئے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو معاف کردے تو معاشرہ کتنا اچھا ہو گا۔
    جب ایک انسان دوسرےانسان
    کو معاف کرے گا تو وہ اس سے متاثر ہوکر خود بھی دوسروں کے ساتھ ایسے ہی پیش آئے گا
    اس طرح سب ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں گے۔ اور یہ معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گا اور اگر ہم کسی کے ساتھ برا سلوک کریں گے تو اس کے ذہن میں بھی شیطان بدلے کی آگ کو بھڑکائے گا اور وہ مسلسل ذہنی اذیت میں رہتے ہوئے آپ کے ساتھ برا سلوک کرنے کے ساتھ اسی غصے میں دوسروں سے بھی بد سلوکی سے پیش آئے گا۔
    یوں لا شعوری طور پر سب ایک دوسرے کے ساتھ برا کریں گے اور معاشرے میں برائی پھیل جائے گی۔ ویسے بھی جہاں ہم نے ایک نیکی کی تو ایک بدعت اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ اگر ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سے پیش آئیں گے تو کوئی ایک دوسرے کے ساتھ برا نہیں کرے گا اور برائی اپنے آپ ختم ہو جائے۔
    (بدلہ لینا یا نہ لینا)
    بہت سے انسانوں کی فطرت ہوتی ہے ان کے ساتھ کوئی برا کرے یا زیادتی کرے تو وہ فورا بدلہ لینے پہ اتر جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب کیسے بدلہ لیا جائے؟
    اور بعض اوقات تو وہ بدلہ لیتے وقت انسانیت سے ہی گر جاتے ہیں۔

    جبکہ اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا: ‘کان کے بدلے کان،آنکھ کے بدلے آنکھ،اور ناک کے بدلے ناک۔
    یعنی کہ اگر ہم ناانصافی کیے بغیر زیادتی کیے بغیر جتنی اگلے بندے نے آپ کو اذیت دی ہے اتنی دے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے تو آپ کو گناہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ثواب۔لیکن معاف کرنا افضل عمل ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو بدلہ لینے کا حق دیا ہے۔مگر اللہ تعالی معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے فرمایا: تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
    اور ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اللہ کےاسی فرمان کو ایک شعر کی صورت میں کچھ یوں بیان کیا ہے۔

    ‘کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
    خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

    جو لوگ بدلہ نہیں لیتے،دوسروں کو معاف کردیتے ہیں۔
    اللہ سبحان و تعالی ان لوگوں سے بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کو معاف کرنا زیادہ پسند ہے۔ اور اللہ خود بھی تو بہت مہربان ہے،رحیم و کریم ہے۔
    اور ایک بات یہ بھی کہ جو انسان بدلہ نہیں لیتا تو دوسرا انسان یہ دیکھ کر کہ اس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا یا زیادتی کی اور آپ نے بدلہ نہیں لیا۔ تو وہ یہ دیکھ کر آپ سے معافی بھی مانگے گا۔کیونکہ اس کو احساس ہو گا کہ یہ ایک اچھا آدمی ہے اور میں نے اس کے ساتھ برا کیا۔
    سب سے بڑی مثال تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام کافروں کو معاف کردیا۔ حالانکہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کیا کیا اذیتیں نہیں دیں۔

    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں معاف کرنے،بدلہ نہ لینے اور حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
    آمین!ثم آمین!

  • کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا   از قلم : غنی محمود قصوری

    کیا حقوق اللہ اور حقوقِ العباد کے علاوہ بھی حساب ہو گا از قلم : غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ دنیا بنائی اور اس دنیا میں مختلف مذاہب، مکتبہ فکر،رنگ،نسل اور عقائد کے لوگ بسائے
    ہر کسی کا طرز زندگی اس کے عقائد کے مطابق ہے
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہمارا ایک اللہ اور ایک آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے اسی لئے ہم زندگی گزارنے کیلئے قدم قدم پر قرآن وسنت کے محتاج ہیں اور اسی میں ہماری نجات بھی ہے
    یقیناً ہمیں علم ہے کہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور اس کی طرف سے جاری کردہ احکامات کا حساب قیامت کے دن دینا ہوگا جن میں حقوق اللہ میں نماز،روزہ،جہاد،اولاد،حج اور حقوق العباد میں صدقہ خیرات،صلح رحمی، بول چال میں عاجزی اور مخلوق الہیٰ سے پیار کرنا وغیرہ شامل ہیں مگر اس کے علاوہ بھی ایک ایسی بھی چیز ہے جس کا حساب اللہ نے لینا ہے اور ہم اسے برباد کئے جا رہے ہیں وہ ہے ہماری صحت و جوانی کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتے ہیں
    اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔ البقرہ 155
    اس سورہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو آزمانے کا وعدہ کیا ہے اور جہاں مال سے آزمانے کا بتایا گیا ہے وہیں جان سے بھی آزمانے کا بتایا گیا ہے مال سے آزمانا راہ خدا میں خرچ کرنا،غریبوں یتیموں کی مدد وغیرہ جبکہ جان سے آزمانے کا مطلب رب کے دین کی خاطر راہ جہاد پر نکلنا اپنی جان پر شرع اللہ نافذ کرکے لوگوں کو اس پر عمل پیرا کروانا ہے اور دین کی خاطر دیگر تکالیف اپنی جان پر جھیلنا بھی جان سے آزمانے کا نام ہے اور صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری سے مراد جنت ہے
    یعنی جہاں اللہ تعالی نے بندے کے مال کا حساب لینا ہے وہاں اس کی جان کا بھی حساب ہوگا اور جان ہوتی ہی تندرستی سے ہے اسی لئے تندرستی کے متعلق بھی جواب دہ ہونا پڑے گا اس جوانی اور تندرستی کا اللہ تعالی حساب بھی لے گا
    ہماری اسی جان و جوانی کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالی نے شراب حرام کی تاکہ ہماری صحت اچھی رہے اور جب صحت اچھی ہو گی تب ہی ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر سکینگے ورنہ بستر پر لیٹ کر حقوق العباد تو بہت کم ادا ہو سکینگے مگر حقوق العباد کا ادا ہونا ناممکن سا ہو جاتا ہے
    اسی لئے جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز خمر (شراب کی قسم) ہے اور خمر حرام ہے اب آپ جدید میڈیکل سائنس کا مطالعہ کریں وہ بھی بتائے گی کہ شراب کا نشہ انسان کو ذہنی و جسمانی بیمار کرتا ہے اور جوان بندے کو بہت جلد موت کے قریب لیجاتا ہے اور ہر نشہ آور چیز کو خمر اس لئے کہا گیا ہے کہ ایسی چیزیں شراب سے ملتی جلتی ہیں جیسے گھٹکا،پان،سپاری وغیرہ یہ سب چیزیں آج بطور فیشن استعمال ہو رہی ہیں جس سے جگر کا کینسر،امراض معدہ،دل کی بیماریاں اور ذہنی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس کے مریض حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں
    تو جو بندہ ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے اسے چاہئیے اوپر بیان کئے گئے فرمان رب تعالی فرمان محمد کریم کا مطالعہ کرے اور سمجھ جائے کہ ہم سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرح ہماری جوانی و صحت کا بھی اللہ تعالی خوب حساب لے گا لہذہ اپنی صحت کا خیال رکھیں چاہیے وہ نشہ آور چیزوں کے استعمال کے علاوہ چیزوں جیسے کولڈ ڈرنکس،بازاری کھانوں کی بکثرت عادت سے ہماری صحت بگڑ رہی ہو تو ہمیں فوری ان کو ترک کرکے اپنی صحت کا لیول اپ کرنا ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں عطا کی گئی ہر نعمت کا حساب لینا ہے اور وہ اللہ ہمیں آزمائے گا صحت دے کر اور بیماری دے کر وہ ہمیں آزمائے گا دولت دے کر اور دولت لے کر بھی کیونکہ وہ ہمارا صبر کا لیول چیک کرے گا جو صبر کرکے ناجائز خواہشات کے پیچھے نا چلا وہ کامیاب ہوگا اور جو ناجائز خواہشات کے تابع ہو گیا وہ ناکام ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ رب العزت ہم سب کو فرمان مصطفیٰ اور فرمان الہٰی کے تابع رہ کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین